تعارف فیض الحکمت ترجمہ ہدایت الحکمت

تعارف ِکتاب

فیض الحکمۃ، ترجمہ ھدایۃ الحکمۃ
از محقق دوراں، صدرالعلما، حضرت علامہ محمد احمد مصباحی، دامت برکاتہم العالیہ
ناظم تعلیمات، الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ ، یوپی، ہند
باسمہٖ وحمدہٖ تعالیٰ وتقدس

ہماری کتب کلامیہ میں مباحث فلسفہ کارد بلیغ کیاگیاہے، دیکھیں شرح مواقف، شرح مقاصد وغیرہ۔ اس لیے یہ جاننے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ فلسفہ کے اصول ومبادی کیاہیں؟ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ” تَہافُتُ الفلاسفہ “ لکھنے سے پہلے ”مقاصد الفلاسفہ“ تحریرفرمائی تاکہ ان کے مقاصد جان لینے کے بعد ان کا رد آسانی سے سمجھاجاسکے۔
اسی فائدے کے پیش نظر ہدایۃ الحکمۃ،ہدیہ سعیدیہ وغیرہ درس نظامی کےنصاب میں اب بھی داخل ہیں،جب کہ صدرا،شمس بازغہ،میبذی وغیرہ خارج ہوچکی ہیں۔
ہدایۃ الحکمۃ میں بیان شدہ مقاصدِ فلاسفہ کی مزید تسہیل کےلیے مولانااحمدالقادری زید مجدہ نے اس کاسلیس اردو ترجمہ کردیا، تاکہ جوطلبہ براہ راست اصل کتاب سے استفادہ نہ کرسکیں وہ ترجمے کی مدد سے مستفیدہوں۔
اس کےعلاوہ ایک مختصر اوروقیع مقدمہ لکھ کرفلسفہ کی تاریخ اور اس کی شرعی حیثیت پرروشنی ڈالی،
اول (فلسفہ کی تاریخ)سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ فلسفہ یونان اور یونانی زبان سے عرب اور عربی زبان میں کیسے منتقل ہوا؟
دوم (فلسفہ کی شرعی حیثیت)سے یہ معلوم ہوتاہے کہ فلسفہ کے سارے مباحث نہ قابل قبول ہیں، نہ سب کے سب قابل رد —قدرے تفصیل سے یہ بتایاکہ ان میں کیااصولِ اسلام سے، متصادم اور مردودہے؟ اورکیامتصادم نہیں اور قابل قبول ہے؟
اس مقدمہ کو پڑھ لینے کےبعد متعلم کوایک بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ اندھیرے کامسافر نہیں رہتا۔ ساتھ ہی معلم کویہ ہدایت ملتی ہے کہ فلسفہ کی تعلیم کےساتھ اس کے غلط مباحث کےرد پر قدرت بھی ہونی چاہیے، اس کے لیے امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ کی ”الکلمۃ الملھَمہ لِوَ ہاءِ فلسفۃ المشْئمہ“کامطالعہ ضروری ہے۔
مشہور محقق شبیر احمدخان غوری سابق رجسٹرارمدارس عربیہ اترپردیش نےاپنے ایک مضمون(مطبوعہ معارف اعظم گڑھ) میں اس کتاب کو عہد حاضر کا ”تَہافُتُ الفلاسفہ“ قرار دیاہے۔
ترجمۂ ہدایۃ الحکمۃ کانام فیض الحکمۃ ہے جو المجمع الاسلامی سے کئی بار شائع ہوچکاہے۔ان شاءالمولی تعالیٰ جلد ہی اس کی نئی اشاعت بھی عمل میں آئے گی۔

محمداحمدمصباحی
ناظم المجمع الاسلامی مبارک پور
۲۵؍محرم۱۴۴۳ھ مطابق۴؍ستمبر۲۰۲۱ء

عیدِ میلاد کا ثبوت، قرآن و حدیث کی روشنی میں

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
عید میلاد النبی ﷺ کاثبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں

ہرمسرت ہرخوشی کی جان میلاد النبی
عید کیاہے عید کی بھی شان میلاد النبی
ساعت اعلیٰ واکرم عیدمیلاد النبی
لمحۂ انوار پیہم عید میلادالنبی(ﷺ)

دنیابھر کے مسلمانوں کے لیے یہ عظیم خوشی کادن ہے۔ اسی دن محسنِ انسانیت ،خاتم پیغمبراں، رحمتِ ہرجہاں، انیسِ بیکراں، چارہ ساز درد منداں آقائے کائنات فخر موجودات نبی اکرم، نورمجسم،سرکاردوعالم ﷺ خاکدان گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔
آپ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے جس کامقابلہ دنیاکی کوئی نعمت اوربڑی سے بڑی حکومت بھی نہیں کرسکتی۔ آپ قاسم نعمت ہیں، ساری عطائیں آپ کے صدقے میں ملتی ہیں۔حدیث پاک میں ہے:
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللہُ یُعْطِیْ
میں بانٹتاہوں اور اللہ دیتاہے(بخاری ومسلم)
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی بعثت پراپنا احسان جتایا ۔ارشاد ہوتاہے:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا
بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (کنزالایمان ، سورہ بقرہ:۳،آیت:۱۶۴)
انبیا ومرسلین علیہم السلام کی ولادت کادن سلامتی کادن ہوتاہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کےلئے باری تعالیٰ کاارشاد ہے:
وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ
اورسلامتی ہے ان پر،جس دن پیداہوئے۔(قرآن کریم، سورہ مریم ۱۹،آیت:۱۵)
دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان منقول ہے:
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ
اور وہی سلامتی مجھ پر، جس دن میں پیداہوا۔(سورہ مریم ۱۹،آیت:۳۳)
ہمارے سرکار تو امام الانبیاوسید المرسلین اورساری کائنات سے افضل نبی ہیں۔(ﷺ) پھر آپ کایوم میلاد کیوں نہ سلامتی اورخوشی کادن ہوگا بلکہ پیر کےدن روزہ رکھ کراپنی ولادت کی خوشی توخود سرکار دوجہاں ﷺ نے منائی اوران کی اتباع ،صحابہ کرام، تابعین،تبع تابعین، اولیاےکاملین رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے آئے اورآج تک اہل محبت کرتے آرہے ہیں۔
حدیث پاک میں ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصوم الاثنین والخمیس،
نبی اکرم ﷺ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔(ترمذی شریف)
دوسری حدیث میں ہے:
عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه، أنّ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سئل عن صوم يوم الاثنين؟ قال: (ذاك يوم ولدت فيه، ويوم بعثت -أو أنزل علي فيه -)
رسول اللہ ﷺ سے پیر کےدن روزے کاسبب پوچھا گیا،
فرمایا: اسی دن میری ولادت ہوئی اوراسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔(مسلم شریف)
نبی کریم ﷺ کی پیدائش کےوقت ابولہب کی لونڈی حضرت ثُوَیْبَہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نےآکر ابولہب کوولادتِ نبی کریم ﷺ کی خبر دی۔ ابولہب سن کر اتناخوش ہوا کہ انگلی سے اشارہ کرکے کہنےلگا ثویبہ ! جا آج سے توآزاد ہے۔
ابولہب جس کی مذمت میں پوری سورہ لہب نازل ہوئی ایسے بدبخت کافر کومیلادِ نبی(ﷺ) کےموقع پرخوشی منانے کاکیافائدہ حاصل ہوا ۔امام بخاری کی زبانی سنیے:
جب ابولہب مرا تواس کے گھر والوں (میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نےاس کوخواب میں بہت برے حال میں دیکھا۔ پوچھا کیاگزری؟ ابولہب نےکہاتم سے َعلاحدہ ہوکر مجھے خیر نصیب نہیں ہوئی۔ ہاں مجھے(اس کلمے کی) انگلی سے پانی ملتاہے جس سے میرے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے کیوں کہ میں نے(اس انگلی کے اشارے) ثویبہ کوآزاد کیاتھا۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ(۹۵۸ھ متوفی ۱۰۵۲ھ) جواکبر اور جہاں گیر بادشاہ کےزمانے کےعظیم محقق ہیں ۔ ارشاد فرماتے ہیں:
اس واقعہ میں میلاد شریف کرنے والوں کے لیے روشن دلیل ہے جوسرورعالم ﷺ کی شبِ ولادت خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ابولہب جوکافر تھا، جب آں حضرت ﷺ کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کےدودھ پلانے کی وجہ سے اس کوانعام دیاگیاتواس مسلمان کا کیاحال ہوگا جو سرور عالم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں محبت سے بھر پور ہوکر مال خرچ کرتاہے اور میلاد شریف کرتاہے(مدارج النبوۃ،دوم ص:۲۶)
نبی اکرم ﷺ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی رحمت بن کردنیا میں تشریف لائے:
وَمَآاَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ (کنزالایمان،سورہ:۲۱،آیت:۱۰۷)
اور رحمت الٰہی پرخوشی منانے کاحکم توقرآن مقدس نےہمیں دیاہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا
تم فرماؤ اللّٰہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیےکہ خوشی کریں۔ (کنزالایمان ،سورہ:۱۰، آیت:۵۸)
لہٰذا میلادُالنبی ﷺ کے موقع پر جتنی بھی جائز خوشی ومسرت اورجشن منایاجائے، قرآن وحدیث کےمنشاکے عین مطابق ہے، بلکہ ایسا اچھا اورعمدہ طریقہ ہے، جس پرثواب کاوعدہ ہے۔
حدیث پاک میں ہے:
مَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةًحَسَنَۃٌ فَلَہٗ اَجْرُھَاوَاجرُ مَنْ عمِلَ بها من بَّعْدِه مِنْ غَيْرِ أن يَنقُصَ من اُجُوْرِهِم شيءٌ۔
جواسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا تواُسے اُس کاثواب ملے گا اوراُن کاثواب بھی اُسے ملے گا جواس کے بعد اس نئے طریقہ پرعمل کریں گے اوراُن عمل کرنےوالوں کےثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی۔(مسلم شریف)

احمدالقادری مصباحی
الاسلامی.نیٹ

www.al islami.net

ثبوت ایصال ثواب از احمد القادری مصباحی

ثبوت ِایصالِ ثواب
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ وَعَلیٰ اٰ لِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن

اپنے کسی عملِ غیر کےذریعہ مسلمان میت کونفع پہنچانےکانام ایصال ثواب ہے، ایصال ثواب حق ہے۔ قرآن وحدیث اورصحابہ کرام کےاقوال وافعال سے اس کاثبوت ملتاہے۔

(۱) رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ

(نوح علیہ السلام نے کہا)اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مَردوں اور سب مسلمان عورتوں کو ۔ (سورہ نوح۷۱، آیت:۲۸،پارہ:۲۹)
اس آیت سے معلوم ہواکہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ماں باپ کےلیے جومسلمان تھے اوردیگر مسلمانوں کےلیے بخشش کی دعا مانگ کران کونفع پہنچایا۔

(۲) وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْ ۢ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوٰنِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ۔

اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے ۔
( سورہ حشر:۵۹،آیت:۱۰،پارہ:۲۸)
اس آیت میں مہاجرین وانصار کےبعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں کواپنے سے پہلے کے مسلمانوں کے لیے مغفرت اور بخشش چاہنے کی دعاتعلیم فرمائی گئی اس سے معلوم ہوا کہ زندوں کی دعا اوراُن کاعمل میت کےلیے نفع بخش ہے۔
(۳) نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا الخ

اے اللہ ہمارے زندہ کوبخش دے اور ہمارے مُردہ کو۔
یہ دعا اورنماز جنازہ خود میت کے لیے ایک طرح کا ایصالِ ثواب ہے اوراس کاحکم بھی دیاگیاہے۔ ہاں کفار ومنافقین اگرچہ کلمہ گو،ہوںان کےلیے ایصال ِثواب نہیں کیاجائےگا۔اورنہ ان کی نماز ِجنازہ پڑھی جائےگی۔
خداوند کریم ارشاد فرماتاہے:

وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ۔

اور ان میں سے کسی کی میّت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ (سورہ توبہ:۹،آیت:۸۴،پارہ:۱۰)
لیکن میت اگربدمذہب ،گم راہ،بےدین نہ ہو بلکہ مسلمان ہویابزرگان دین میں سے ہوتواس کےلیے دعاےمغفرت، ایصالِ ثواب اورنمازِ جنازہ پڑھنے کی کہیں سے کوئی ممانعت نہیں ۔

احادیث سے بھی اِس کا،کافی ثبوت ملتاہے:

(۴)ابوداؤدشریف میں ہے: عاص بن وائل نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے ۱۰۰غلام آزاد کیےجائیں اوراس کے بیٹے ہشام نے۵۰ غلام آزاد کردیے اس کےدوسرے بیٹے عمرو رضی اللہ عنہ نے باقی ۵۰کوآزاد کرناچاہا تو کہا ،پہلے میں رسول اللہ ﷺسے دریافت کرلوں تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی یارسول اللہﷺ! میرے ماں باپ نے ۱۰۰غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی اور ہشام نے پچاس آزاد کردیے اور پچاس باقی ہیں کیا میں آزاد کردوں؟
رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا: اگر وہ مسلمان ہوتا توتم اس کی طرف سے آزاد کرتے یاصدقہ کرتے یاحج کرتے تو اسے پہنچتا۔
(۵) امام ترمذی اور ابوداؤد ،حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ایک خاتون نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میری ماں مرگئی ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیاہے کیا میں اُن کی طرف سے حج کروں؟
فرمایا: ہاں اُس کی طرف سے حج کرو۔
(۶) امام نسائی ابن زبیر رضی اللہ سے روایت کرتے ہیں،
نبی ﷺ نےایک صاحب سے فرمایا: تم اپنے باپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہو، تم ان کی طرف سے حج کرو۔
(۷) امام نسائی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ایک عورت نےنبی ﷺ سے پوچھا میرے باپ مرگئے اورانھوں نے حج نہیں کیا۔
فرمایا: اپنے باپ کی طرف سے حج کرو۔
(۸)ابن ماجہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ سے مروی ہے ایک صاحب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورپوچھا میں اپنے باپ کی طرف سے حج کروں؟
فرمایا: ہاں اپنے باپ کی طرف سے حج کرو۔
(۹)امام ابوداؤدوحضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا،یارسول اللہ ﷺ ! میری ماں کاانتقال ہوگیا توان کے لیے کون ساصدقہ افضل ہے؟۔
فرمایا: پانی۔ توانھوں نے کنواں کھدوادیا اورکہہ دیا کہ یہ سعد کی ماں کےلیے ہے یعنی اس کاثواب سعد کی ماں کوپہنچے۔
(۱۰) امام بخاری اپنی صحیح میں، امام نسائی اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں، سعد بن عبادہ نبی ﷺکےساتھ بعض غزوات میں گئے اور مدینہ میں ان کی والدہ موت کے قریب پہنچ گئیں۔ان سے کہا گیاوصیت کرجاؤ۔ انھوں نے کہا کس چیز میں وصیت کرجاؤں سب مال سعد کاہے، حضرت سعد کے واپس ہونے سے پہلے ان کاانتقال ہوگیا۔ جب حضرت سعد آئے توان سے اس کاتذکرہ کیاگیا توانھوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا کہ یارسول اللہ!ﷺمیں ان کی طرف سے صدقہ کروں ،توکیاان کو نفع پہنچے گا؟
حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں ، توانھوں نے نام لے کر کہا، فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔
(۱۱) مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک صاحب نے نبی ﷺ سے عرض کیامیرے والد کاانتقال ہوگیا، انھوں نے مال چھوڑا اور وصیت نہیں کی ہے اگر میں صدقہ کروں توان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہوگا؟
فرمایا: ہاں۔
(۱۲) اُسی مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے: ایک شخص نبی ﷺ کےپاس آئےاور انھوں نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ! میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور وہ کسی بات کی وصیت نہ کر سکیں۔ میرا گمان ہے کہ انتقال کے وقت اگر کچھ کہنے سننے کا موقع ملتا تووہ صدقہ کرتیں ،تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر وں تو کیا ان کو ملے گا۔
فرمایا:ہاں ۔ (صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب وصول ثواب الصدقۃ۔۔۔الخ)
اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر میت کی طرف سے صدقہ دیا جائے تو میت کواس کا فائدہ اور ثواب پہنچتا ہے اسی پر علما کا اتفاق ہے۔
(۱۳)بخاری ومسلم میں یہ حدیث مروی ہے: نبی ﷺ نےدومینڈھے کی قربانی کی ،ایک اپنی طرف سے اور دوسرا ،اپنی امت کی طرف سے۔ امت میں زندہ اورمُردہ دونوں داخل ہیں۔
(۱۴)امام ترمذی نےیہ حدیث روایت کی ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےوہ دومینڈھے کی قربانی کرتے تھے ایک نبی ﷺ کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے۔
(۱۵)طبرانی اوردارقطنی میں ہے: نبی ﷺ نےفرمایا جومقابر(قبروں) پرگزرے اور(سورہ اخلاص) قل ہواللہ احد گیارہ بار پڑھ کراس کاثواب اموات کوبخشے ،توبخشنے والے کوتمام مُردوں کی تعداد کےبرابر ثواب ملے گا۔
(۱۶)طبرانی اوسط میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
نبی ﷺ نے فرمایا : تم میں کوئی شخص کسی صدقۂ نافلہ کاارادہ کرے توکیاحرج ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی نیت سےدے، کہ انھیں اس کاثواب پہنچے گا ،اور دینے والے کو دونوں کےاجروں کےبرابرثواب ملے گا۔
(۱۷)امام دارقطنی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
حضورﷺ نےفرمایا: جب آدمی اپنے والدین کی طرف سے حج کرے، وہ حج، اس حج کرنے والے اورماں باپ، تینوں کی طرف سے قبول کیاجائےگا۔ اوران کی روحیں خوش ہوں گی۔ اور اللہ کےنزدیک ماں باپ کےساتھ اچھا سلوک کرنے والا لکھاجائےگا۔
احادیث بالا سے آفتاب کی طرح روشن ہوگیاکہ مسلمان میت کےلیے ایصالِ ثواب جائز ومستحسن ہے۔ اور اس کاثواب مسلمان میت کو پہنچتاہے۔
حدیث سے حج،قربانی، پانی، کنواں، صدقہ، قرآن شریف کی تلاوت وغیرہ ہرایک کا ثواب پہنچنا ثابت ہے۔
اورحدیث نمبر ۶،۷ میں تو ایصالِ ثواب کاحکم دیاگیاہے، بلکہ حدیث میں تو یہاں تک گزرا کہ جس نے مسلمان اموات کےلیے کوئی نیک عمل کیاتو تمام اموات(مُردوں) کوبرابر برابر ثواب ملےگا اورکسی کےثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اوربخشنے والے کوسب کی تعداد کے مجموعے کے برابر ثواب ملےگا۔ مثلاً کسی نےایک بارسورۂ اخلاص پڑھ کر ۱۰۰ لوگوںکوایصالِ ثواب کیا توہرایک کوایک ایک بارسورۂ اخلاص پڑھنے کاثواب ملے گا اورایصالِ ثواب کرنے والے کےلیے سو۱۰۰بار سورۂ اخلاص پڑھنے کاثواب بڑھادیاجائےگا جیساکہ حدیث ۱۵،۱۶،۱۷، سے ظاہر ہوتاہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ پروردگار عالم جس کودیناچاہے توایک نیکی کاثواب بےشمار بڑھاکردے سکتاہے۔ اس کے خزانۂ قدرت ورحمت میں کوئی کمی نہیں ۔ارشاد ہوتاہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَن یَّشَآءُ۔

ان کی کہاوت جو اپنے مال اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ،ہر بال میں سو دانے، اور اللّٰہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے۔ ( سورہ بقرہ:۲،آیت:۲۶۱،پارہ :۳)
(۱۸) بظاہر بھی ایصالِ ثواب نیک اور بہترین کام ہے۔مشکوٰۃ شریف میں ہے:
جس نے اسلام میں کوئی نیاطریقہ ایجاد کیا اسے اس کاثواب ملے گا اوراس کے بعد اس پرجتنے لوگ عمل کریں گے سب کےبرابر ایجاد کرنے والے کوثواب ملےگا اورعمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائےگی۔ جب مطلقاً ایصالِ ثواب ثابت ہےتواسی سے یہ بھی ثابت ہوگیاکہ خاص خاص مواقع پریہ جوبہت سے غربا ومساکین اورمستحقین کوجمع کرکے کھانا کھلایا جاتاہے، اورایصالِ ثواب کیاجاتاہے یہ بھی درست ہے۔ چاہے تنہا ایصالِ ثواب کیاجائے ،یاجمع ہوکر ، ہرطریقہ سے جائز ہوگا۔
خداوند کریم کاارشاد ہے:

لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا۔

تم پر کوئی الزام نہیں کہ مِل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ ( سورہ نور:۲۴،آیت:۶۱،پارہ:۱۸)
واللہ تعالیٰ اعلم

احمدالقادری غفرلہ
۲؍ربیع الآخر۱۴۰۷ھ
۵ ؍ دسمبر ۱۹۸۶ ء

ہمارے نبی ﷺ کے عظیم اخلاق – احمد القادری مصباحی
بسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

ہمارے نبی ﷺ کےعظیم اَخلا ق

ترے خُلق کو، حق نے عظیم کہا     ترے خلق کو، حق نے جمیل کیا
تجھ سا کوئی ہوا ہے نہ ہوگاشہا      ترے خالقِ حسن و ادا کی قسم

(۱) خالقِ کائنات خود اپنے برگزیدہ رسول ﷺ کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے۔ ارشادِ رب تعالیٰ ہے۔
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
اور بیشک تمہاری خُوبو بڑی شان کی ہے۔ (کنزالایمان، سورۂ قلم آیت۴)
(۲) رسولِ عربی ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں۔
بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ۔
(قد رواه مالك في ” الموطأ ،رواه البخاري في ” الأدب المفرد ،أخرجه البيهقى ، والبزار فى المسند )
میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا۔
(۳) جلیل القدر صحابی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی ﷺ کے اخلاق حسنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
خَدَمتُ النَّبِیَّ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عَشْرَ سِنِیْنَ، فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ وَّلاَ لِمَ صَنَعْتَ وَلاَ اَلَّا صَنَعْتَ۔
میں نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ نے کبھی مجھ سے اف تک نہ کہا۔ نہ یہ کہ ، کیوں کیا اور کیوں نہ کیا۔ (بخاری و مسلم)
یہ معمولی اخلاق کی بات نہیں کہ اپنے ادنیٰ خادم سے بھی، دس سال کے طویل عرصے میں کسی کام کے بگڑ جانے یا ناموافق ہونے پر اف تک نہ کہا جائے۔ اور مزاج کے خلاف کام سرزد ہوجانے پر اتنا معمولی سوال ’’کیوں ایسا کیا‘‘ سننے کی زحمت اپنے خادم کو بھی نہ دی جائے۔ یا اطاعت میں تاخیر یا بھول پر اتنا ٹوکنا بھی ’’کیوں نہیں ایسا کیا‘‘ اخلاق ومروت کے خلاف سمجھا جائے۔ یہ عظیم اخلاق کا بے مثال نمونہ ہے۔
(۴) حِلْم: عرب کے دیہاتوں میں ایسے بہت سے اشخاص رہتے تھے جو آدابِ نبوت سے آشنا نہ تھے۔ ان کے مزاج میں حد درجہ شدت تھی، کسی معاملہ کو نرمی اور بُردباری سے کہنا سننا جانتے ہی نہ تھے۔ آج بھی وہاں کے بعض بدؤوں کی درشتی اور بے اخلاقی امتحان کن ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی قسم کے ایک اعرابی (عرب کے دیہاتی) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
کُنْتُ أَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وَعَلَیْہِ بُرْدٌ نَجْرَاِنِیٌّ غَلِیْظُ الْحَاشِیَۃِ فَاَدْرَکَہٗ اَعْرَابِیٌّ فَجَبَذَہٗ بِرِدَائِہٖ جَبْذَہً شَدِیْدَۃً وَرَجَعَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فِیْ نَحْرِ الْاَعْرَابِیِّ حَتّٰی نَظَرْتُ اِلٰی صَفْحَۃِ عَاتِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قَدْ اَثَّرَتْ بِھَا حَاشِیَۃُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّۃِ جَبْذَتِہٖ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ مُرْ لِیْ مِنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ثُمَّ ضَحِکَ ثُمَّ اَمَرَلَہٗ بِعَطَائٍ۔
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ کے اوپر گہرے حاشیہ والی نجرانی چادر تھی۔ ایک اعرابی آپ کے پاس آئے، اور ا نھوں نے آپ کی چادر پکڑ کر پوری شدت سے، اسے کھینچا۔ نبی کریم ﷺ ، اس اعرابی کی تہ تک پہونچ گئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی گردن پر چادر کے شدت کے ساتھ کھینچنے کے باعث حاشیہ کے نشانات دیکھے۔ پھرانھوں نے کہا: اے محمد! ( ﷺ) میرے لئے مال کا حکم فرمائیے۔ اللہ کے اس مال سے جو آپ کے پاس ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے ، پھر انھیں دینے کا حکم فرمایا۔ (مشکوٰۃ ، بخاری و مسلم)
اس واقعہ میں سرکار دوعالم ﷺ کے اخلاق ، حلم وبردباری کا کیسا نادر نمونہ ملتا ہے۔ ایک دیہاتی بجائے منت سماجت سے مانگنے کے، سختی پر اترآئے۔ آپ کی چادر مبارک کھینچ کر گردن مبارک اپنی طرف جھکاتے ہوئے بے باکی کے ساتھ عطیے کا سوال کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے بجائے اس درشتی پر تنبیہ اور سخت سست فرمانے کے، مسکراتے ہوئے عطایا اوربخشش وانعامات کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ سلطانِ دوجہاں، شہنشاہ کون ومکاں کے ایسے اخلاق عظیمہ کی مثال دنیا کے کس بادشاہ اور حاکم میں مل سکتی ہے۔
(۵) شجاعت : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ حسین، تمام لوگوں سے زیادہ سخی، اور سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے۔ مدینہ منورہ میں ایک بار کسی طرف سے، کوئی خوفناک آواز آئی ، لوگ اس سے گھبرا گئے۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔
وَلَقَدْ فَزِعَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَھُمُ النَّبیُّ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قَدْ سَبَقَ النَّاسَ اِلٰی الصَّوتِ وھُو یَقُوْلُ لَمْ تُرَاعُوْا لَمْ تُرَاعُوْا۔
ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔ تو لوگ آواز کی جانب چلے ۔ راستہ میں انھیں نبی کریم ﷺ سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ وہ آواز کی طرف، سب سے پہلے چلے گئے اور فرمارہے تھے نہ گھبراؤ۔ نہ گھبراؤ۔(مشکوٰۃ ، بخاری و مسلم)
آج کل کے بادشاہ و وزراء اور حکام، اپنے باڈی گارڈ اور محافظ دستے کے جھرمٹ میں بھی، کسی خوفناک موقع پر، رات کے سناٹے میں تو کجا، دن کے اجالے میں بھی جانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ بلکہ وہ تو مارے ڈر کے، اپنے بنگلہ، مکان میں محافظ دستوں کی نگرانی میں ، محصور ہوجاتے ہیں، وہ خود اپنی جان کی حفاظت نہیں کرپاتے اور دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں، پھر وہ کسی غیر کی جان کی کیا حفاظت کرسکتے ہیں۔ لیکن آپ سارے حاکموں کے حاکم، بادشاہوں کے بادشاہ، سلطانوں کے سلطان ﷺ کی ذات مبارکہ پر نگاہ ڈالیں ۔ مدینہ منورہ میں ڈراؤنی خوفناک آواز رات کے سنسان سناٹے میں آتی ہے۔ کسی کو ساتھ لئے بغیر سب سے پہلے خود نکل پڑتے ہیں اور جائے واردات پر، سب سے پہلے پہونچ کر پتہ لگاتے ہیں تا کہ اہل مدینہ پریشان نہ ہوں۔ پھر پتہ لگاکر انھیں اطمینان دلاتے ہیں۔ ہزاروں جاں نثار غلاموں کے ہوتے ہوئے خود نکلنا اور کسی خادم کی تکلیف گوارا نہ کرنا کس قدر بلند اخلاق کا پتہ دیتا ہے۔
(۶) سخاوت: آنحضرت ﷺ سے جب بھی کسی نے سوال کیا کبھی ’’نہیں ‘‘سننے کا موقع اسے نہیں ملا۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں:
مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شَیْئاً قَطُّ فَقَالَ لَا
رسول اللہ ﷺ سے ایسا کبھی ثابت نہیں کہ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور آپ نے ’’نہیں‘‘ فرمایا ہو۔ (مشکوٰۃ ، بخاری و مسلم)
اسی حدیث پاک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایشیا کے عظیم محقق ، اپنے وقت کے مجدد اعظم، قطب الاقطاب ، حضرت امام احمد رضا قادری ، محدثِ ہند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

واہ کیا جودو کرم ہے، شہِ بطحا تیرا       ’’نہیں‘‘ سنتا ہی نہیں، مانگنے والا تیرا

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کھلتے ہیں سخا کے، وہ ہے ذرہ تیرا
( ۷)سماحت: عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ فَاَتٰی قَوْمَہُ فَقَالَ اَیْ قَوْمِ اَسْلِمُوْا فَوَاللّٰہِ اِنَّ مَحَمَّداً لَیُعْطِیْ اِعْطَائً مَا یَخَافُ الْفَقْرَ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہ ایک آدمی نے، نبی کریم ﷺ سے دو پہاڑیوں کے درمیان پھیلی ہوئی بکریاں مانگیں، تو آپ نے اسے عطا فرمادیں، وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہا اے لوگو! مسلم بن جاؤ! قسم خدا کی ، محمد ﷺ اتنا دیتے ہیں کہ فقر سے نہیں ڈرتے ۔ (مشکوٰۃ ، مسلم)
آپ نے سرکار دو جہاں ﷺ کی داد ودہش کا حال دیکھا، کہ ایک آدمی کے سوال پر دو پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ساری کی ساری بکریاں، عطا فرمادیں۔

ہاتھ جس سمت اٹھا غنی کردیا       موج بحر سماحت پہ لاکھوں سلام

(۸) عَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی الْغَدَاۃَ جَائَ خَدَمُ الْمَدِیْنَۃِ بِاٰنِیَتِھِمْ فِیْھَا الْمَائُ فَمَا یَأتُوْنَ بِاِنَائٍ اِلَّاغَمَسَ یَدَہٗ فِیْھَا فَرُبَّمَا جَائَ ہُ بِالْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ فَیَغْمِسُ یَدَہُ فِیْھَا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب فجر کی نماز ادا کرلیتے تو مدینہ منورہ کے خدام برتنوں میں پانی لے کر حاضر بارگاہ ہوجاتے۔ وہ اس لئے برتن لاتے کہ آپ ان میں دست پاک ڈبودیں۔ تو جب سردی کی صبح کو آتے تب بھی آپ ان میں دست مبارک ڈبوتے۔ (مشکوٰۃ ، مسلم)
جاڑے کے دنوں میں صبح صبح ٹھنڈے ٹھنڈے پانی لے کر بارگاہ رسالت ماٰب ﷺ میں لوگ حاضری دیتے اور یہ چاہتے کہ سرکار دو جہاں ﷺ پانی میں اپنا دست مبارک ڈالدیں تا کہ سارا پانی متبرک ہوجائے۔ ہمارے آقا ومولیٰ ﷺ ان عقیدت مندوں کی دلجوئی کی خاطر کبھی انکار نہ فرماتے اور سخت ٹھنڈک کے باوجود بھی ان کی درخواست قبول فرمالیتے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام کا یہ عقیدہ تھا کہ جس پانی سے نبی اکرم ﷺ کا دست مبارک چھوجائے وہ متبرک بن جائے گا۔ اس تبرک کے حصول کی خاطر وہ روزانہ اپنے خادمین کو بھیجتے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ نبی اکرم ﷺ کا بھی یہی عقیدہ تھا۔معلوم ہوا کہ جس چیز سے سرکاردوعالم ﷺ سے نسبت، تعلق ہوجائے یا آپ سے صرف چھوجائے اس کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ مبارک شئی بن جاتی ہے۔ ورنہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی درخواست قبول کرنے کے بجائے انھیں ایسا کرنے سے روک دیتے۔ اور فرما دیتے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں یہ عبث کام ہے۔ لیکن اس کے برخلاف ہمیشہ اس پر عمل کرکے اپنے عقیدتمندوں کے واسطے ہمیشہ کے لئے جواز وسنت کی راہ پیدا فرمادی۔
(۹)خاکساری ، تواضع اور نرمی کا حال یہ تھا کہ غریب سے غریب ، مفلس سے مفلس، حتیٰ کہ لونڈی غلام بھی جب نبی اکرم ﷺ کو کہیں چلنے کی دعوت دیتے تو وہ قبول ہوتی اور وہ جہاں چاہتے یا جتنی دور چاہتے بے تکلف لے جاتے۔ نبی اکرم ﷺ کبھی انکار نہ فرماتے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کَانَتْ اَمَۃٌ مِنْ اِمَائِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ تَاخُذُ بِیَدِرَسُوْلِ اللّٰہِ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فَتَنْطَلِقُ بِہِ حَیْثُ  شائت۔
ترجمہ: مدینہ کی کوئی باندی رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر جہاں لے جانا چاہتی لے جاتی۔ (بخاری، مشکوٰۃ)
(۱۰) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں۔
وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لِنَفْسِہِ فِیْ شَیئ قَطُّ۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیا۔(بخاری ومسلم)
مسلم شریف میں ہے۔
(۱۱) مَاضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قَطُّ بِیَدِہٖ وَلاَ اِمْرَأَۃً وَّلاَ خَادِماً۔
رسو ل اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو، نہ کسی خادم کو۔ (مسلم)
(۱۲) یہ مشہور واقعہ ہے جب سرکار دو جہاں ﷺ اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے طائف کی وادی میں تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ کے اوپر پتھر برسائے ۔ اور بڑی ہی سنگدلی اور بد اخلاقی کا ثبوت دیا۔ طائف کے غنڈوں اور بدمعاشوں نے آپ کے جسم مبارک کو خون سے لت پت اور لہو لہان کردیا۔ ایسی حالت میں پہاڑوں کے فرشتہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کی۔ یا رسول اللہ ! (ﷺ) آپ مجھے حکم فرمائیں میں اخشین نامی پہاڑوں کو ان نافرمانوں اور بے ادب لوگوں پر گرادوں۔ مگر نثار جائیے خُلْقِ عظیم کے پیکر ﷺ پر ارشاد فرماتے ہیں نہیں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اس کی عبادت کریں گے اور شرک سے محفوظ رہیں گے۔ (بخاری ومسلم، شان حبیب الباری من روایات البخاری ص۲۷)
فرشتہ خود حاضر ہے۔ آپ پر ظلم وستم ڈھانے والوں کے عتاب وسزا کے لئے ان کے اوپر پہاڑوںکو گرا کر نیست ونابود کرنے کے لئے محض ادنیٰ اشارے کی حاجت ہے۔ مگر رحمت عالم ﷺ نے ظلم وستم خود برداشت کرلئے مگر ان پر آنچ نہ آنے دی۔
(۱۳) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فَاحِشاً وَّلاَ لَعَّاناً وَّلاَ سَبَّاباً کَانَ یَقُوْلُ عِنْدَالْمَعْتِبَۃِ مَالَہ تَرِبَ جَبِیْنُہُ۔
رسول اللہ ﷺ فحش گو، لعنت کرنے والے اور بدکلام نہیں تھے۔ جلال کے وقت صرف اتنا ارشاد فرماتے۔ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ (بخاری)
(۱۴) مسلم شریف میں ہے:
اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ لَعَّاناً وَّاِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَۃً۔
میں لعنت کرنے والا نہیں بلکہ محض رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔
یقینا ، بلا شبہ ہمارے نبی ﷺ سراپا رحمت ہیں۔ انسان ، فرشتے، جن ، حیوان ، زمین، آسمان، چاند ، سورج، ستارے، دنیا، آخرت، سارے جہان اور پوری کائنات کے لئے رحمت ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے۔
وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِلْعٰلَمِیْن۔
اے محبوب ہم نے تمہیں ساری دنیا کے لئے رحمت ہی بناکر بھیجا۔ (سورۂ انبیا آیت ۱۰۷)

وہ ہر عالم کی رحمت ہیں کسی عالم میں رہ جاتے    یہ ان کی مہربانی ہے کہ یہ عالم پسند آیا

احادیث وتاریخ کے انمٹ نقوش نبی کریم ﷺ کے عظیم اخلاق پر شاہد وگواہ ہیں۔ اشاعتِ اسلام کی برق رفتاری میں سرکار دوجہاں ﷺ کے بلند اخلاق کا بڑا دخل ہے۔ فسق وفجور اور انتقامی جذبہ سے سرشار، اس جنونی اور مشرکانہ ماحول میں جیسا بلند
وبالا اَخلاق آپ نے پیش فرمایا اس کی نظیر دنیا کے کسی قائدورہنما میں نہیں ملتی۔ بلکہ ایسی نظیر ملنا محال ونا ممکن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مقدس ببانگ دُہَل اعلان فرماتا ہے۔
اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم
یا رسول اللہ !آپ تو خُلقِ عظیم کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں۔

فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں      خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھر یرا تیرا

(حدائق بخشش از اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ، قدس سرہ)

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

طالبان علوم اسلامیہ اور علمائے کرام مولانا محمد افتخار حسین رضوی

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم
طالبان علوم اسلامیہ اور علمائے کرام: اسلام کی مقدس جماعت

علم دین حاصل کرنا اور باصلاحیت عالم بننا بہت بڑی سعادت ہے، اس کے بےشمار فضائل و برکات اور فوائد ہیں ۔ عالم دین بہت ہی خوش نصیب ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اسلام کی تعلیمات کو عام کرکے دین کی خدمت اور پاسبانی کا مقدس ترین فریضہ انجام دیتا ہے، اس لئے اگر آپ عالمِ دین ہیں تو آپ کو اپنی پاکیزہ قسمت پر ناز کرنا چاہیے اور دنیا کی مشکلات اور سختیوں سے گھبرا کر دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے، دین کی خدمت کرنا اور مسلمانوں کو راہ راست پر لانا بہت مشکل اور چیلنج والا کام ہے، اس لئے علمائے کرام کو اور خاص کر علمائے اہل سنت کو قدم قدم پر بہت سی سخت ترین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک عالم دین کے لیے سب سے بڑا چیلنج شریعت پر قائم رہنا اور شریعت کے دائرے میں رہ کر اور پورے طور پر اسلام میں داخل ہوکر زندگی گزارنا ہے، تاکہ وہ خود دین کا کامل عامل بن کر دوسروں کے لیے نمونہ عمل بن سکے، اور ایسا عالم باعمل ہی دین کی دعوت وتبلیغ اور نشر واشاعت کا کام عمدہ اور مؤثر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔
در اصل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جس کامیاب اور مطلوبہ عالم دین کا تصور ہمارے ذہن وفکرمیں ابھر کر سامنے آتا ہے،وہ عالم باعمل ہی ہے، جو ضروری علوم دینیہ و شرعیہ سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ متقی، پرہیزگار اور عامل شریعت ہو، ایسا عالم دین خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے عین مطابق خدمت دین اور اشاعت سنت میں مشغول و مصروف رہتا ہے اور دنیا کی لذتوں، آرام و آسائش اور راحت وسکون کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقی اور شریعت کے عین مطابق عالم بننا کوئی آسان بات نہیں، کسی درسگاہ سے سند حاصل کرنا اوربعض علومِ اسلامیہ پر دسترس حاصل کرلینا آسان ہے ،مگر بحیثیت عالم دین شریعت کے تمام تقاضوں پر مکمل طور پر کھرا اترنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور خاص کر تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود شریعت کے احکامات کو عام کرنا اور حق بات کہنا سب سے مشکل ترین کام بن جاتا ہے، مگر سچا اور حق گو عالم دین اللہ تعالیٰ اور پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہو کر اللہ ورسول کی مدد کے بھروسے پر سماج کی تمامتر مخالفتوں اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بحسن وخوبی منزل تک پہنچ جاتا ہے، اور دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے،لہذا عالم دین اور عالم ربانی کے فضائل ،اور بشارتوں اور حقوق و فرائض پر مشتمل قرآن و احادیث کے ارشادات و احکامات اہل سنّت کے تمام طالبان علوم دینیہ وشرعیہ کے پیشِ نظر رہنا چاہیے اور علمائے کرام کے تعلق سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اہم ترین فرمان [ العلماء ورثة الأنبياء] کوہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور انبیائے کرام کی مقدس وراثت کے سچے وارث اور محافظ و امین بن کر آخرت میں انعاماتِ الہیہ کا مستحق بننا چاہیے، تاکہ آپ حضرات کو جس عظیم الشان اور مقدس منصب پر فائز کرنے کے لئے تیار کیا جارہا ہے اسکا وقار مجروح نہ ہو سکے۔
اے جماعت طالبان علوم اسلامیہ! آپ کی جماعت اس روئے زمین پر وہ مقدس ترین جماعت ہے، جن کے لئے فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں، آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے آپ پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے ہیں، سبحان اللہ آپ سب کی عظمتوں کو سلام۔
آپ سب گلستان اسلام کے ایسے مہکتے ہوئے پھول ہیں جنکی نکہتوں سے مشام جاں معطر ہوجاتے ہیں۔
آپ سب حصول ِعلم کے بعد ،ایسی مقدس ترین جماعت میں شامل ہونے والے ہیں جنکے لئے دریا کی مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں، اس لیے اگر آپ عالم دین بننا چاہتے ہیں، تو اخلاصِ نیت کے ساتھ دین کا سچا خادم، اور محافظ اور مسلمانوں کا بہترین وفادار رہنما بننے کے لیے عالم دین بنیں، دنیا کمانے کے لئے نہیں ورنہ عالم دین بننے کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا،آپ ایسے عالم دین بنیں کہ آپ کی طرز زندگی کو دیکھ کر بزرگانِ دین اور اسلاف کی یاد تازہ ہو جائے۔
یاد رہے عالم دین پر بہت سی ذمےداریاں عائد ہوتی ہیں، اسلامی سماج اور معاشرہ اور مسلمانوں کی ہمہ جہت تعمیر وترقی اور مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھنے میں علمائے کرام کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔ عوام ، علمائے کرام کی اتباع و پیروی کرتے ہیں، وہ علمائے کرام کو دیکھ کر سدھرتے اور بگڑتے ہیں،وہ دین کے معاملے میں مکمل طور پر علماء کے قول و فعل کو ہی اپنے لیے مشعل راہ مانتے ہیں، لہذا اگر علمائے کرام اور تمام دینی ومذہبی رہنماؤں سے ذرا بھی لغزش ہوتی ہے، شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عوام بھی غلطی کرنے لگتی ہے، اگر قوم وملت کا کوئی بھی ذمےدار عالم اور مذہبی رہنما ،گمراہ ہوجائے، تو ان کی پیروی کرنے والی قوم بھی گمراہ اور بےدین ہوجاتی ہے۔
امتِ مسلمہ کے ایک عظیم ذمےدار عالم ربانی، امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کا ایک تاریخی قول ہے، کہ قوم گمراہ ہوئی بےعمل مولویوں اور جاہل صوفیوں کی وجہ سے۔
اللہ تعالی اپنے محبوب داناے غیوب پیارے آقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں، طالبان علوم اسلامیہ کو بہترین، عمدہ، عالم باعمل اور دین متین کا سچا خادم، محافظ اور پاسبان بنائے۔
وماعلینا الا البلاغ
ازقلم
محمد افتخار حسین رضوی
ٹھاکر گنج، کشن گنج ،بہار
۳؍ اگست ۲۰۲۱

قربانی کی دعا

{قربانی کا طریقہ}

مسئلہ۲۱ : قربانی کا جانور بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ،اوراپنا دایاں پاؤں ،اس کے پہلو پر رکھیں ۔ اورذبح سے پہلے یہ دعا پڑھیں۔

{قربانی کی دعا}

اِنِّیّ وَجَّھَتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ حَنِیْفاًوَّمَا اَنَامِنَ المُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ ،لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَلِکَ اُمِرْ تُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔
پھر اَ للّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ پڑھتے ہوئےتیز چھری سے ذبح کریں ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو، توذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی کَماَ تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَ اھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔
اگردوسرے کی طرف سے ذبح کرنا ہے تو مِنِّی کی جگہ مِنْ کے بعداس کا نام لے۔

مسئلہ: اگر وہ جانور مشترک ہے تو اس طرح لکھ کر ذبح کے بعد پڑھ لیں ۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ
(۱)……………ابن……………
(۲)……………ابن……………
(۳)……………ابن……………
(۴)……………ابن……………
(۵)……………ابن……………
(۶)……………ابن……………
(۷)……………ابن……………
کَمَاتقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔

اَلاسلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

نماز عید الاضحیٰ کا طریقہ

{عید الاضحی }

مسئلہ۱: عیدالاضحی کے دن غسل کرنا ، اچھے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا، ایک راستہ سے عیدگاہ جانا، دوسرے سے واپس آنا ، راستہ میںبلند آواز سے تکبیر کہتے ہوئے جانا مستحب ہے ۔ اور صبح سے قربانی کرنے تک کچھ نہ کھانا پینا، مستحب ہے ۔
مسئلہ۲:عید الاضحی کی نماز ’’دو رکعت ‘ ‘ واجب ہے۔ اور اس میں اذان و اقامت نہیں ہے۔

{عید الاضحی کی نماز کا طریقہ}

مسئلہ۳: پہلے یوں نیت کریں، دورکعت نمازواجب، عیدالاضحی کی میں نے نیت کی ، چھ زائد تکبیروں کے ساتھ، منھ میرا کعبہ شریف کی طرف، اللہ کے واسطے، اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ باندھ لیں۔
امام ثنا پڑھیں گے، پھر تین زائد تکبیر کہیں گے۔پہلی دو تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئےہاتھ چھوڑ دیں، تیسری تکبیر میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ باندھ لیں۔ ایک رکعت پوری کر کے دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہیںگے۔ تینوں میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ چھوڑدیں۔ چوتھی تکبیر رکوع کی ہوگی۔ اس میں ہاتھ نہ اٹھائیں۔ ہاتھ اٹھائے بغیر رکو ع میں جائیں اور نماز مکمل کریں۔
سلام کے بعد امام خطبہ پڑھیں گے، سامعین متوجہ ہوکرخطبہ سنیں ۔ خطبہ کے بعد دعا ، مصافحہ اور معانقہ مستحب ہے ۔

{ تکبیـر تـشریق }

مسئلہ۴: نویںذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک جو نماز جماعت کے ساتھ ادا کی گئی ہو ہر نماز کے بعد ایک بار کہنا واجب اور تین بار افضل ہے ، تکبیر یہ ہے۔اَللہُ اَکْبَرْاَللہُ اَکْبَرْ،لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَرْ،اَللّٰہُ اَکْبَر، وَلِلّٰہِ الْحَمْدْo

قربانی کے مسائل

بسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۵
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

احمد القادری مصباحی

{فضائل ومَسائلِ قربانی}

قربانی:
مخصوص جانور کا ایام ِنحر میں ،بہ نیت ِتَقَرُّبْ، ذبح کرنا قربانی ہے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ مسلمانوں کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ خدا وند کریم کا ارشاد ہے
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر
اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔(سورۃ ۱۱۰: آیت ۲)

{احادیث وآثار }

حد یث۱ } حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے نے فرمایا یہ تمھارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے، صحابہ نے عرض کیا یارسو ل اللہ! ہمیں اس میں کیا ثواب ملے گا ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔(احمد ،ابن ماجہ)
حد یث۲} حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ قربانی کے دنوں میں ابن آدم کا ،کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے ) سے زیادہ پیارا نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں، کھروں کے ساتھ آئے گا ،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقامِ قبول میں پہنچ جاتا ہے۔
(ترمذی،ابن ماجہ)
حد یث۳ } حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب ہرگز نہ آئے ۔ (ابن ماجہ)
حد یث۴} حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جومال عید کے دن قربانی میں خرچ کیاگیا اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں ۔ (طبرانی)
حد یث۵} امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افضل قربانی وہ ہے جو باعتبارِ قیمت اعلیٰ اور خوب فربہ ہو ۔ (امام احمد)
حد یث۶} حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا ۔
حدیث۷} حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں کا کوئی قربانی کرنا چاہے تو اس کوچاہئے کہ بال منڈانے، یا ترشوانے، اور ناخن کٹانے سے رکا رہے ۔ (مسلم)

{چند اہم مسائل}

مسئلہ ۱ : قربانی کے مسئلے میں صاحبِ نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولے، ( 612.412گرام ،یا 19.755 اونس) چاندی یا ساڑھے سات تولے،( 87.487گرام، 2.822 اونس) سونے کا مالک ہو ۔ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کا، سامانِ تجارت یا سامانِ غیر تجارت ، یا اتنے نقد روپیوں کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوں۔
مسئلہ۲: حاجتِ اصلیہ یعنی جس کی زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ، نہ اس میں زکوٰۃ واجب ہے جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے ، خانہ داری کے سامان ، سواری کے جانور یا گاڑیاں ، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ۔
مسئلہ۳: مسافر پر قربانی واجب نہیں، اگرچہ مالدار ہو ۔ ہاں نفل کے طور پر چاہے تو کرسکتا ہے ۔
مسئلہ۴: عورت کے پاس باپ کا دیا ہوازیور ،یا کوئی اور سامان، جو اس کی ملک ہے، اگر وہ نصاب کی قیمت کے برابر ہو، تو عورت پر بھی قربانی واجب ہے ۔
مسئلہ۵ : جو مالک ِنصاب، اپنے نام سے ایک بار قربانی کرچکا ہے اور دوسرے سال بھی وہ صاحب ِنصاب ہے، تو اس پر اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے ۔ یہی حکم ہر سال کا ہے ۔
حدیث میں ہے۔
اِنَّ عَلیٰ کُلِّ اھْلِ بَیْتٍ فِی کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَّۃً
بیشک ہر سال گھر کے ہر(صاحب نصاب) فرد پر قربانی ہے۔ (ترمذی)
مسئلہ۶: اگر کوئی صاحب ِنصاب، اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے ، دوسرے کی طرف سے کردے ، اور اپنے نام سے نہ کرے، تو سخت گنہ گار ہوگا۔اِس لئےاگر دوسرے کی طرف سے کرنا چاہتا ہے، تو اُس کے لیے، ایک دوسری قربانی کا انتظام کرے۔

{ایام قربانی}

مسئلہ۷: قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے، بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے، یعنی تین دن، دو راتیں۔
مسئلہ۸: قربانی کے لیے دسویں تاریخ، سب میں افضل ہے، پھر گیارہویں ، پھر بارہویں ۔
مسئلہ ۹: شہر میں نماز عید سے پہلے، قربانی کرنا جائز نہیں ۔

{گوشت کے احکام }

مسئلہ۱۰ : قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے، اوردوسرے شخص، غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے یا کھلا سکتا ہے، بلکہ اس میں سے کچھ کھالینا ، قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے ۔
مسئلہ۱۱ : قربانی کرنے والے کے لیے افضل یہ ہے کہ دسویں ذی الحجہ کو صبح سے کچھ نہ کھائے پیئے، جب قربانی ہوجائے تو اسی کے گوشت سے افطار کرے۔
مسئلہ۱۲: بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے، ایک حصہ فقرا ء ومساکین کے لیے ، ایک حصہ احباب ورشتہ دار کے لیے، ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے ، اگر اہل وعیال زیادہ ہوں تو کل گوشت بھی گھروالوں کو کھلا سکتا ہے ۔
مسئلہ۱۳ : قربانی کا گوشت کا فر کو دینا جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۴ : قربانی کا چمڑا یاگوشت یا اس کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اجرت میں دینا جائز نہیں ۔

{ذبح کا طریقہ}

مسئلہ۱۵: ذبح میں چار رگیں کاٹی جاتی ہیں ۔ چاروںرگوں میں سے تین کٹ گئیں یا ہر ایک کا اکثر حصہ تو ذبیحہ حلال ہے ۔
مسئلہ۱۶ : ذبح کرنے میں قصداً بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ کہا (یعنی اللہ کا نام نہ لیا ) توجانور حرام ہے ۔ اور بھول کر ایسا ہو اتو حلال ہے۔
مسئلہ۱۷: اگر پور اذبح کرنے سے پہلے قصاب کے حوالے کیا ،تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ، کہہ کر ہی ہاتھ لگائے۔
مسئلہ۱۸: اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سرکٹ کر جداہوجائے مکر وہ ہے، مگروہ ذبیحہ کھایا جائے گا ۔ یعنی کراہت اس فعل میں ہے، ذبیحہ میں نہیں ۔
مسئلہ۱۹ : ذبح میں عورت کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی دونوں کا ذبیحہ جائز ہے۔
مسئلہ۲۰: مشرک اور مرتد کا ذبیحہ مردار اور حرام ہے ۔

{قربانی کا طریقہ}

مسئلہ۲۱ : قربانی کا جانور بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ،اوراپنا دایاں پاؤں ،اس کے پہلو پر رکھیں ۔ اورذبح سے پہلے یہ دعا پڑھیں۔
اِنِّیّ وَجَّھَتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ حَنِیْفاًوَّمَا اَنَامِنَ المُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ ،لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَلِکَ اُمِرْ تُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔
پھر اَ للّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ پڑھتے ہوئےتیز چھری سے ذبح کرے ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو، توذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی کَماَ تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَ اھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔
اگردوسرے کی طرف سے ذبح کرنا ہے تو
مِنِّی کی جگہ
مِنْ کے بعداس کا نام لے۔
مسئلہ۲۲: اگر وہ جانور مشترک ہے تو اس طرح لکھ کر ذبح کے بعد پڑھ لیں ۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ
(۱)……………ابن……………
(۲)……………ابن……………
(۳)……………ابن……………
(۴)……………ابن……………
(۵)……………ابن……………
(۶)……………ابن……………
(۷)……………ابن……………
کَمَاتقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔

مآ خذ و مراجع

(۱) قرآن کریم
(۲) کنز الایمان، امام احمد رضا قادری، رحمۃ اللہ علیہ(۱۲۷۲۔۱۳۴۰ھ)
(۳) صحیح مسلم، امام ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری ،رحمۃاللہ علیہ (متوفی۲۶۱ھ)
(۴) جامع ترمذی، امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی ،رحمۃاللہ علیہ (متوفی ۲۷۹ ھ)
(۵) ابن ماجہ،امام محمدبن یزید ابن ماجہ، رحمۃاللہ علیہ(متوفی ۲۷۳ھ)
(۶) طبرانی، امام حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد ایوب اللخمی الطبرانی ، رحمۃاللہ علیہ (متوفی۳۶۰ھ)
(۷) مشکوۃ، شیخ ولی الدین تبریزی ،رحمۃاللہ علیہ( متوفی۷۴۲ھ)
(۸) بہار شریعت، صدرالشریعہ،مولانا امجدعلی اعظمی، رحمۃ اللہ علیہ (۱۲۹۶۔۱۳۶۷ھ)
(۹) قانونِ شریعت ، شمس العلما ، مولانا قاضی شمس الدین ، جون پوری، رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۲۲ ھ ۔ ۱۴۱۰ ھ)
(۱۰) انوارُالحدیث، فقیہ ملت، مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی ، رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۵۲ ھ۔ ۱۴۲۲ ھ)

احمد القادری مصباحی

اَلاسلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

عقیقہ کی دعا

{ عقیقہ کا طریقہ}

مسئلہ۱۲: عقیقہ کے جانور کو بائیں پہلو پر اسی طرح لٹا ئیں کہ اس کا رخ قبلہ کی جانب ہو اور ذبح سے پہلے یہ دعا پڑئیں۔

{ عقیقہ کی دعا}

لڑکے کی دعا
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہِ الْعَقِیْقَۃُ لِا ِبْنِیْ (لڑکے کا نام لیں ) دَمُھَابِدَمِہٖ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہٖ وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُ ھَا بِجِلْدِہٖ وَشَعْرُ ھَا بِشَعْرِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لِّا بْنِیْ مِنَ الْنَّارo اِنِیّ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰواتِ وَالارضَ حَنِیْفاًوَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَا یَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَo لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo

لڑکی کی دعا
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہِ الْعَقِیْقَۃُ لِبِنْتِیْ (لڑکی کا نام لیں ) دَمُھَابِدَمِھَا وَلَحْمُھَا بِلَحْمِھَا وَعَظْمُھَا بِعَظْمِھَا وَجِلْدُ ھَا بِجِلْدِھَا وَشَعْرُ ھَا بِشَعْرِھَا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لِّبِنْتِیْ مِنَ الْنَّارِo اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذیْ فَطَرَالسَّمٰواتِ وَالارضَ حَنِیْفاًوَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَا یَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَo لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo
پھر اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ ۔ پڑھ کرتیزی چھری سے ذبح کردیں ۔
نوٹ: عقیقہ کی دعا ،اپنا لڑکا یا لڑکی ہو تو مندرجہ بالا طریقہ پر پڑھیں، لیکن اگر دوسرے کا لڑکا ہو تو لِا ِبْنِیْ میں لِ کے بعد اِبْنِی ہٹا کر لڑکے اور اس کے باپ کا نام لے ۔ مثلاً لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْز اسی طرح دوسرے کی لڑکی ہو تو لِبِنْتِیْ میں لِ کے بعد بِنْتِی ہٹا کر لڑکی اور اس کے باپ کا نام لے۔(مثلاً لِفَاطِمَۃ بِنْتِ خَالِد ) اس کے علاوہ اور کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔

اَلْاِسْلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

مینو