قربانی کی دعا

{قربانی کا طریقہ}

مسئلہ۲۱ : قربانی کا جانور بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ،اوراپنا دایاں پاؤں ،اس کے پہلو پر رکھیں ۔ اورذبح سے پہلے یہ دعا پڑھیں۔

{قربانی کی دعا}

اِنِّیّ وَجَّھَتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ حَنِیْفاًوَّمَا اَنَامِنَ المُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ ،لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَلِکَ اُمِرْ تُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔
پھر اَ للّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ پڑھتے ہوئےتیز چھری سے ذبح کریں ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو، توذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی کَماَ تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَ اھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔
اگردوسرے کی طرف سے ذبح کرنا ہے تو مِنِّی کی جگہ مِنْ کے بعداس کا نام لے۔

مسئلہ: اگر وہ جانور مشترک ہے تو اس طرح لکھ کر ذبح کے بعد پڑھ لیں ۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ
(۱)……………ابن……………
(۲)……………ابن……………
(۳)……………ابن……………
(۴)……………ابن……………
(۵)……………ابن……………
(۶)……………ابن……………
(۷)……………ابن……………
کَمَاتقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔

اَلاسلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

نماز عید الاضحیٰ کا طریقہ

{عید الاضحی }

مسئلہ۱: عیدالاضحی کے دن غسل کرنا ، اچھے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا، ایک راستہ سے عیدگاہ جانا، دوسرے سے واپس آنا ، راستہ میںبلند آواز سے تکبیر کہتے ہوئے جانا مستحب ہے ۔ اور صبح سے قربانی کرنے تک کچھ نہ کھانا پینا، مستحب ہے ۔
مسئلہ۲:عید الاضحی کی نماز ’’دو رکعت ‘ ‘ واجب ہے۔ اور اس میں اذان و اقامت نہیں ہے۔

{عید الاضحی کی نماز کا طریقہ}

مسئلہ۳: پہلے یوں نیت کریں، دورکعت نمازواجب، عیدالاضحی کی میں نے نیت کی ، چھ زائد تکبیروں کے ساتھ، منھ میرا کعبہ شریف کی طرف، اللہ کے واسطے، اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ باندھ لیں۔
امام ثنا پڑھیں گے، پھر تین زائد تکبیر کہیں گے۔پہلی دو تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئےہاتھ چھوڑ دیں، تیسری تکبیر میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ باندھ لیں۔ ایک رکعت پوری کر کے دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہیںگے۔ تینوں میں کانوں تک ہاتھ لے جائیں اور اَللہُ اکْبَر کہتے ہوئے ہاتھ چھوڑدیں۔ چوتھی تکبیر رکوع کی ہوگی۔ اس میں ہاتھ نہ اٹھائیں۔ ہاتھ اٹھائے بغیر رکو ع میں جائیں اور نماز مکمل کریں۔
سلام کے بعد امام خطبہ پڑھیں گے، سامعین متوجہ ہوکرخطبہ سنیں ۔ خطبہ کے بعد دعا ، مصافحہ اور معانقہ مستحب ہے ۔

{ تکبیـر تـشریق }

مسئلہ۴: نویںذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک جو نماز جماعت کے ساتھ ادا کی گئی ہو ہر نماز کے بعد ایک بار کہنا واجب اور تین بار افضل ہے ، تکبیر یہ ہے۔اَللہُ اَکْبَرْاَللہُ اَکْبَرْ،لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَرْ،اَللّٰہُ اَکْبَر، وَلِلّٰہِ الْحَمْدْo

قربانی کے مسائل

بسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۵
نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

احمد القادری مصباحی

{فضائل ومَسائلِ قربانی}

قربانی:
مخصوص جانور کا ایام ِنحر میں ،بہ نیت ِتَقَرُّبْ، ذبح کرنا قربانی ہے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ مسلمانوں کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ خدا وند کریم کا ارشاد ہے
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر
اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔(سورۃ ۱۱۰: آیت ۲)

{احادیث وآثار }

حد یث۱ } حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے نے فرمایا یہ تمھارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے، صحابہ نے عرض کیا یارسو ل اللہ! ہمیں اس میں کیا ثواب ملے گا ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔(احمد ،ابن ماجہ)
حد یث۲} حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ قربانی کے دنوں میں ابن آدم کا ،کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے ) سے زیادہ پیارا نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں، کھروں کے ساتھ آئے گا ،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقامِ قبول میں پہنچ جاتا ہے۔
(ترمذی،ابن ماجہ)
حد یث۳ } حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب ہرگز نہ آئے ۔ (ابن ماجہ)
حد یث۴} حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جومال عید کے دن قربانی میں خرچ کیاگیا اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں ۔ (طبرانی)
حد یث۵} امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افضل قربانی وہ ہے جو باعتبارِ قیمت اعلیٰ اور خوب فربہ ہو ۔ (امام احمد)
حد یث۶} حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا ۔
حدیث۷} حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں کا کوئی قربانی کرنا چاہے تو اس کوچاہئے کہ بال منڈانے، یا ترشوانے، اور ناخن کٹانے سے رکا رہے ۔ (مسلم)

{چند اہم مسائل}

مسئلہ ۱ : قربانی کے مسئلے میں صاحبِ نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولے، ( 612.412گرام ،یا 19.755 اونس) چاندی یا ساڑھے سات تولے،( 87.487گرام، 2.822 اونس) سونے کا مالک ہو ۔ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کا، سامانِ تجارت یا سامانِ غیر تجارت ، یا اتنے نقد روپیوں کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوں۔
مسئلہ۲: حاجتِ اصلیہ یعنی جس کی زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ، نہ اس میں زکوٰۃ واجب ہے جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے ، خانہ داری کے سامان ، سواری کے جانور یا گاڑیاں ، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ۔
مسئلہ۳: مسافر پر قربانی واجب نہیں، اگرچہ مالدار ہو ۔ ہاں نفل کے طور پر چاہے تو کرسکتا ہے ۔
مسئلہ۴: عورت کے پاس باپ کا دیا ہوازیور ،یا کوئی اور سامان، جو اس کی ملک ہے، اگر وہ نصاب کی قیمت کے برابر ہو، تو عورت پر بھی قربانی واجب ہے ۔
مسئلہ۵ : جو مالک ِنصاب، اپنے نام سے ایک بار قربانی کرچکا ہے اور دوسرے سال بھی وہ صاحب ِنصاب ہے، تو اس پر اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے ۔ یہی حکم ہر سال کا ہے ۔
حدیث میں ہے۔
اِنَّ عَلیٰ کُلِّ اھْلِ بَیْتٍ فِی کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَّۃً
بیشک ہر سال گھر کے ہر(صاحب نصاب) فرد پر قربانی ہے۔ (ترمذی)
مسئلہ۶: اگر کوئی صاحب ِنصاب، اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے ، دوسرے کی طرف سے کردے ، اور اپنے نام سے نہ کرے، تو سخت گنہ گار ہوگا۔اِس لئےاگر دوسرے کی طرف سے کرنا چاہتا ہے، تو اُس کے لیے، ایک دوسری قربانی کا انتظام کرے۔

{ایام قربانی}

مسئلہ۷: قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے، بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے، یعنی تین دن، دو راتیں۔
مسئلہ۸: قربانی کے لیے دسویں تاریخ، سب میں افضل ہے، پھر گیارہویں ، پھر بارہویں ۔
مسئلہ ۹: شہر میں نماز عید سے پہلے، قربانی کرنا جائز نہیں ۔

{گوشت کے احکام }

مسئلہ۱۰ : قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے، اوردوسرے شخص، غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے یا کھلا سکتا ہے، بلکہ اس میں سے کچھ کھالینا ، قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے ۔
مسئلہ۱۱ : قربانی کرنے والے کے لیے افضل یہ ہے کہ دسویں ذی الحجہ کو صبح سے کچھ نہ کھائے پیئے، جب قربانی ہوجائے تو اسی کے گوشت سے افطار کرے۔
مسئلہ۱۲: بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے، ایک حصہ فقرا ء ومساکین کے لیے ، ایک حصہ احباب ورشتہ دار کے لیے، ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے ، اگر اہل وعیال زیادہ ہوں تو کل گوشت بھی گھروالوں کو کھلا سکتا ہے ۔
مسئلہ۱۳ : قربانی کا گوشت کا فر کو دینا جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۴ : قربانی کا چمڑا یاگوشت یا اس کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اجرت میں دینا جائز نہیں ۔

{ذبح کا طریقہ}

مسئلہ۱۵: ذبح میں چار رگیں کاٹی جاتی ہیں ۔ چاروںرگوں میں سے تین کٹ گئیں یا ہر ایک کا اکثر حصہ تو ذبیحہ حلال ہے ۔
مسئلہ۱۶ : ذبح کرنے میں قصداً بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ کہا (یعنی اللہ کا نام نہ لیا ) توجانور حرام ہے ۔ اور بھول کر ایسا ہو اتو حلال ہے۔
مسئلہ۱۷: اگر پور اذبح کرنے سے پہلے قصاب کے حوالے کیا ،تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ، کہہ کر ہی ہاتھ لگائے۔
مسئلہ۱۸: اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سرکٹ کر جداہوجائے مکر وہ ہے، مگروہ ذبیحہ کھایا جائے گا ۔ یعنی کراہت اس فعل میں ہے، ذبیحہ میں نہیں ۔
مسئلہ۱۹ : ذبح میں عورت کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی دونوں کا ذبیحہ جائز ہے۔
مسئلہ۲۰: مشرک اور مرتد کا ذبیحہ مردار اور حرام ہے ۔

{قربانی کا طریقہ}

مسئلہ۲۱ : قربانی کا جانور بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو ،اوراپنا دایاں پاؤں ،اس کے پہلو پر رکھیں ۔ اورذبح سے پہلے یہ دعا پڑھیں۔
اِنِّیّ وَجَّھَتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ حَنِیْفاًوَّمَا اَنَامِنَ المُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ ،لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَلِکَ اُمِرْ تُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔
پھر اَ للّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ پڑھتے ہوئےتیز چھری سے ذبح کرے ۔ قربانی اپنی طرف سے ہو، توذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی کَماَ تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَ اھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔
اگردوسرے کی طرف سے ذبح کرنا ہے تو
مِنِّی کی جگہ
مِنْ کے بعداس کا نام لے۔
مسئلہ۲۲: اگر وہ جانور مشترک ہے تو اس طرح لکھ کر ذبح کے بعد پڑھ لیں ۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ
(۱)……………ابن……………
(۲)……………ابن……………
(۳)……………ابن……………
(۴)……………ابن……………
(۵)……………ابن……………
(۶)……………ابن……………
(۷)……………ابن……………
کَمَاتقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمَاالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ ۔

مآ خذ و مراجع

(۱) قرآن کریم
(۲) کنز الایمان، امام احمد رضا قادری، رحمۃ اللہ علیہ(۱۲۷۲۔۱۳۴۰ھ)
(۳) صحیح مسلم، امام ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری ،رحمۃاللہ علیہ (متوفی۲۶۱ھ)
(۴) جامع ترمذی، امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی ،رحمۃاللہ علیہ (متوفی ۲۷۹ ھ)
(۵) ابن ماجہ،امام محمدبن یزید ابن ماجہ، رحمۃاللہ علیہ(متوفی ۲۷۳ھ)
(۶) طبرانی، امام حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد ایوب اللخمی الطبرانی ، رحمۃاللہ علیہ (متوفی۳۶۰ھ)
(۷) مشکوۃ، شیخ ولی الدین تبریزی ،رحمۃاللہ علیہ( متوفی۷۴۲ھ)
(۸) بہار شریعت، صدرالشریعہ،مولانا امجدعلی اعظمی، رحمۃ اللہ علیہ (۱۲۹۶۔۱۳۶۷ھ)
(۹) قانونِ شریعت ، شمس العلما ، مولانا قاضی شمس الدین ، جون پوری، رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۲۲ ھ ۔ ۱۴۱۰ ھ)
(۱۰) انوارُالحدیث، فقیہ ملت، مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی ، رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۵۲ ھ۔ ۱۴۲۲ ھ)

احمد القادری مصباحی

اَلاسلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

عقیقہ کی دعا

{ عقیقہ کا طریقہ}

مسئلہ۱۲: عقیقہ کے جانور کو بائیں پہلو پر اسی طرح لٹا ئیں کہ اس کا رخ قبلہ کی جانب ہو اور ذبح سے پہلے یہ دعا پڑئیں۔

{ عقیقہ کی دعا}

لڑکے کی دعا
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہِ الْعَقِیْقَۃُ لِا ِبْنِیْ (لڑکے کا نام لیں ) دَمُھَابِدَمِہٖ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہٖ وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُ ھَا بِجِلْدِہٖ وَشَعْرُ ھَا بِشَعْرِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لِّا بْنِیْ مِنَ الْنَّارo اِنِیّ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰواتِ وَالارضَ حَنِیْفاًوَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَا یَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَo لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo

لڑکی کی دعا
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہِ الْعَقِیْقَۃُ لِبِنْتِیْ (لڑکی کا نام لیں ) دَمُھَابِدَمِھَا وَلَحْمُھَا بِلَحْمِھَا وَعَظْمُھَا بِعَظْمِھَا وَجِلْدُ ھَا بِجِلْدِھَا وَشَعْرُ ھَا بِشَعْرِھَا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لِّبِنْتِیْ مِنَ الْنَّارِo اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذیْ فَطَرَالسَّمٰواتِ وَالارضَ حَنِیْفاًوَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَا یَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَo لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo
پھر اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ ۔ پڑھ کرتیزی چھری سے ذبح کردیں ۔
نوٹ: عقیقہ کی دعا ،اپنا لڑکا یا لڑکی ہو تو مندرجہ بالا طریقہ پر پڑھیں، لیکن اگر دوسرے کا لڑکا ہو تو لِا ِبْنِیْ میں لِ کے بعد اِبْنِی ہٹا کر لڑکے اور اس کے باپ کا نام لے ۔ مثلاً لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْز اسی طرح دوسرے کی لڑکی ہو تو لِبِنْتِیْ میں لِ کے بعد بِنْتِی ہٹا کر لڑکی اور اس کے باپ کا نام لے۔(مثلاً لِفَاطِمَۃ بِنْتِ خَالِد ) اس کے علاوہ اور کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔

اَلْاِسْلامی.نیٹ
www.al islami.net (AL-ISLAMI)

حالات بنارس، از احمد القادری مصباحی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
احمد القادری مصباحی
بھیرہ، ولیدپور ، مئو ، یوپی، ہند

حالات بنارس

بنارس صوبہ اترپردیش کاایک مشہورصنعتی اورقدیم شہر ہے اس کا طولُ البلد ۸۳؍درجہ،۱؍دقیقہ اور عرض البلد۲۵؍ درجہ، ۱۹؍دقیقہ ہے۔
اس کے آباد ہونے کی صحیح تاریخ نہیں بتائی جاسکتی البتہ سارے مؤرخین کااس پر اتفاق ہے کہ دنیا کی قدیم ترین آبادیوں میں سے ایک بنارس بھی ہے۔
بعض مؤرخین نےاس کی آبادی کی نسبت حضرت نوح علیہ السلام کےبیٹےکی جانب کی ہے۔ یہ ممکن بھی ہے ،کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام خلیفۂ ارض بن کر زمینِ ہند پر تشریف لائے اورسراندیپ میں قیام فرمایاتھا، تو یہ ہوسکتاہے کہ اولاً ان کی اولاد ہند ہی میں پھیلی ہو اور ہندوستان دنیا میں سب سے پہلا ملک اور اس کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک بنارس بھی ہو۔
کاشی کھنداورہندوؤں کی دوسری دھارمک کتابوں میں اس کومتبر ک بتایاگیا ہے اوراس سلسلے میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے گئےہیں۔ لیکن اس میں بنارس کی کوئی تاریخ نہیں لکھی ہے۔
تاریخِ بنارس میں سب سے مستند تاریخ ”صنم کدۂ بنارس“ ہے ۔ تاریخ فرشتہ(فارسی) میں بھی کچھ تذکرہ ہے۔ ان دونوں تاریخوں میں ہزاروں سال قبلِ مسیح کی قدیم آبادیوں میں بنارس کوشمار کیاہے۔
بنارس کے چند نام
[۱] کاشی: بنارس کاقدیم نام کاشی ہے۔ یہ سنسکرت لفظ کاش سے بناہے جس کے معنی درخشاں اورروشن کےہیں۔ ہنود کے عقیدہ میں کاشی سچی معرفت حاصل کرنے کی جگہ ہے جیسا کہ ان کے وَیدوں میں ہے۔
کاشی نام پڑنے کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ راجہ دیوداس کے خاندان میں کاش نام کاایک راجہ ہوا تھا جس نے اس مقام کوبڑی ترقی دی اس لیے اس کے نام پر مشہور ہوگیا۔
[۲] بارانسی یابنارس: دریاےگنگا کےکنارے برناندی کےسنگم اوراسی گھاٹ کےدرمیان واقع ہے اس وجہ سے اس کانام برنااَسی سے بارانسی ہوا پھر بگڑکربنارس ہوگیا۔
[۳]ایک زمانہ میں اس کانام محمدآبادبھی رہاہے جیساکہ شاہی فرامین اورقدیم دستاویزوں میں اب بھی ملتاہے۔
[۴]وارانسی: اب موجودہ حکومت نےقدامت کی طرف پلٹتے ہوئے دوبارہ بارانسی رکھ دیاجو ہندی تلفظ میں وارانسی کہلاتاہے۔
ہند میں اسلام
ہندوستان میں اسلام حضور نبی اکرم ﷺ کے زمانۂ مبارکہ ہی میں آچکاتھا۔ اس وقت یہاں اسلام پہنچنے کاایک بڑا سبب معجزۂ شق القمر کاظہور تھا ہندوستان کےراجاؤں کےتذکرے میں اس کاذکر ملتاہے۔
تاریخ فرشتہ میں ہے کہ ہندوستان میں مہاراجہ ملیبار کےاسلام لانے کا سبب یہی چاند کےدوٹکرے ہونےکامعجزہ تھا۔ انھوں نے معجزۂ شق القمر کی رات اپنے محل سے چاند کے دوٹکڑے دیکھے۔تحقیق کے بعد نبی آخرالزماں ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر اوراس رات کے معجزے کی تفصیل معلوم ہوئی اورانھوں نے اسلام قبول کرلیا۔
علم توقیت سے پتا چلتا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں رات کے ۱۲؍بج کر ۵۰؍منٹ ہورہے تھے۔
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فاتحانہ طور سے ہند کی سرحد میں مسلمان داخل ہوگئے تھے۔آج سے ۱۳۱۴؍سال قبل ۹۲ھ میں محمدبن قاسم کی سپہ سالاری میں ہندوستان کاایک بہت بڑا حصہ فتح ہوکر خلافتِ اسلامیہ میں شامل ہوگیاتھا۔اس کے بعد تواولیاےکرام ونیک دل انصاف پروَرمسلم بادشاہوں نے ہندوستان کے چپہ چپہ پر رشدوہدایت اورعدل وانصاف کی کرن بکھیردیںاوروہ ہندوستان جوجہالت وگمراہی ،چھوت چھات، ظلم وستم اور بربریت کے پنجوں میں کسا ہواتھا اور بھارت کی قدیم رعایا دسیون(اچھوت) پربر ہمنوں اور راج پوت راجاؤں کی طرف سے جومظالم کےپہاڑ توڑے جارہے تھے انھیں پاش پاش کردیا۔ صدیوں کے بعد بھارت کےقدیم باشندوں نےچین وسکون کاسانس لیا اور مسلمانوں کی آمد کواپنے لیے غیبی تائید سمجھا۔ ہزار سال سے زائد عرصہ تک مسلم بادشاہوں کےزیر سایہ خوش وخرم اورچین وسکون کی زندگی گزارتے رہے۔ اس بیچ کبھی بھی عوام کی طرف سے مسلمان بادشاہوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی بلکہ وہ مسلمان بادشاہوں کی حکومت برقرار رکھنے ہی کی ہمیشہ کوشش کرتے رہے حتی کہ ۱۸۵۷ء میں ظالم انگریزوں کےخلاف مسلمانوں کےدوش بدوش ہندؤں نےبھی جان توڑ کوشش کی اوربہادر شاہ ظفر کی حکومت میں ہی اپنی خیر جانی۔
بنارس میں اسلام:
تاریخی حیثیت سے صنم کدۂ بنارس میں مسلمانوں کاسب سے پہلا قافلہ حضرت سید سالار مسعودغازی علیہ الرحمہ (متوفی۴۲۴ھ) کےرفقا کا اترا، اورجہاد کےبعد ان کایہ جتھا یہیں قیام پذیر ہوگیا اس طرح بنارس میں پہلی مسلم نوآبادی قائم ہوگئی۔ اس سے قبل بنارس میں مسلمانوں کی آمد کا کوئی حال اب تک دست یاب نہ ہوسکا۔(۱)
چوں کہ بنارس ہندوستان کاقدیم مذہبی شہرتھااس لیے مذہب کےسچے، مسلم بادشاہوں نے بھی اس مذہبی شہراوراس کے باشندوں پرزیادہ توجہ دی اورانھیں آرام پہنچانے کی ہرممکن سعی کی یہی وجہ ہے کہ بنارس کی مساجد کےعلاوہ قدیم مندروں پربعض بادشاہوں کی بخشی ہوئی جائدادوں کےفرامین اب تک ان کے متولیوں کےپاس موجود ہیں۔ رام مندر اور دھرہراگھاٹ پر بخشی ہوئی جائدادوں کے فرامین اب تک موجود ہیں۔
علماے کرام اور اولیاےعظام نے بھی بنارس پرخصوصی توجہ صرف کی اوراطراف عالم سے اہل بنارس کی رشد وہدایت کےلیے یہاں تشریف لائے ہزاروں انسانوں کوضلالت وگمراہی کےعمیق گڑھوں سے نکال کررشدوہدایت کی عظیم بلندیوں پر پہنچادیا ان میں اکثراولیاےکرام جوہزار سال پہلے بنارس میں تشریف لائے تھے ابھی تک یہاں سے واپس نہیں گئے۔ اور اپنی قبروں سےفیوض وبرکات تقسیم فرمارہے ہیں۔
چند مشاہیر بزرگان دین
[۱]حضرت ملک افضل علوی علیہ الرحمہ سیدسالار مسعود غازی علیہ الرحمہ(متوفی ۴۲۴ھ) کے خادم خاص ہیں۔علوی پورہ آپ ہی کےنام سے موسوم ہے۔ سالار پورہ میں علوی شہیدکےنام سے آپ کامقبرہ مشہور ہے۔
[۲]حضرت فخرالدین شہید علوی علیہ الرحمہ حضرت ملک افضل علوی کی فوج کےایک عہدیدار تھے آپ کاروضہ مسجد سالار پورہ میں زیارت گاہِ خلائق ہے۔ ہرسال ۱۴؍جمادی الاولیٰ کوعرس ہوتاہے۔
[۳]حضرت ملک محمدباقر علیہ الرحمہ آپ کے نام سے سالار پورہ میں ایک محلہ باقر کنڈ(بکریاکنڈ) ہے وہیں آپ کاروضہ مبارک ہے۔ حضرت مسعود غازی علیہ الرحمہ آپ کی بڑی تعظیم کرتے تھے ۔ کہاجاتاہے کہ راجہ بنارس کاقلعہ آپ ہی کی دعاؤں سے فتح ہوا تھا۔
[۴]حضرت خواجہ نعیم احمد کابلی علیہ الرحمہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ(متوفی۶۳۳ھ) کےخلیفۂ خاص تھے۔ بنارس میں ۳۱؍سال رشدوہدایت کاکام انجام دے کر۵؍محرم ۵۹۷ھ کو ہمیشہ کےلیےبنارس کی گود میں سوگئے۔ محلہ قاضی پورہ متصل بڑی بازار میں آپ کامزار پر انوار ہے۔ ہرسال ۷؍محرم کوعرس ہوتاہے۔
[۵]حضرت مولانا شاہ سعید بنارسی علیہ الرحمہ حضرت سید مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی علیہ الرحمہ (متوفی ۸۰۸ھ) کے خلیفہ ہیں آپ کا مزار جلالی پورہ ریلوے لائن کےکنارے واقع ہے۔ہرسال ۱۱؍۱۲؍رجب کوعرس ہوتاہے۔
[۶]شیخ الاسلام حضرت مولاناخواجہ مبارک شاہ علیہ الرحمہ حضرت خواجہ محمدعیسیٰ تاج جون پوری قدس سرہ( متوفی ۸۷۵ھ) کےخلیفۂ خاص اورصاحبِ کرامت بزرگ تھے حضرت مخدوم شاہ طیب بنارسی آپ ہی کےسلسلے میں آتے ہیں۔ شان استغنا کے ساتھ فقر وفاقہ کی کامیاب زندگی گزاری۔۱۰؍شوال کووصال ہوا۔ محلہ بھدؤں متصل کاشی اسٹیشن ایک احاطہ کےاندر آپ کامزار مبارک ہے۔ ہرسال عرس ہوتاہے اورحضرت شاہ طیب بنارسی علیہ الرحمہ کےسجادہ نشیں اورخدام خصوصی طورپر شرکت کرتے بلکہ عرس کااہتمام بھی کرتے ہیں۔
[۷]حضرت مخدوم شاہ طیب فاروقی قدس سرہ یہ بڑے پایہ کے بزرگ ہیں۔ انھوں نے برنا اورگن گا کےسنگم پر پرانا قلعہ کےقریب کھنڈرات میں اپنا حجرۂ عبادت بنایاتھا اوراس جگہ کانام شریعت آباد رکھا تھااب بھی اس مقام سے کچھ فاصلےپر ایک گاؤں اسی نام سے موسوم ہے۔ آخرشوال۱۰۴۲ھ روز ِدوشنبہ محبوب حقیقی سے جاملے۔ منڈواڈیہ میں آپ کامزار مبارک ہے۔ عارف باللہ حضرت مولاناعبدالعلیم آسی غازی پوری علیہ الرحمہ (متوفی ۱۳۳۵ھ) اس آستانہ کےسجادہ نشین تھے۔ اوراب اس وقت جامع معقول ومنقول حضرت علامہ مفتی عبیدالرحمٰن صاحب قبلہ مصباحی رشیدی پورنوی اس آستانہ کےسجادہ نشین ہیں، جن کے اہتمام سے ہرسال ۷؍شوال کو منڈواڈیہ آستانہ شاہ طیب بنارسی علیہ الرحمہ پر بڑے پیمانے پرعرس ہوتاہے۔
[۸]حضرت قطب زماں مولانا شاہ سید محمدوارث، رسول نما بنارسی علیہ الرحمہ۔ آپ سچے عاشق رسول گزرے ہیں۔ سرکار دوجہاں ﷺ کی محبت میں خود رفتہ رہتے تھے۔ بڑی بڑی کرامتیں آپ سے ظہور میں آئیں آپ کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ بحالت بیداری نبی اکرم ﷺ کادیدار نہ صرف یہ کہ خود کرتے تھے، بلکہ جب چاہتے دوسروں کوبھی زیارت رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے مشرف فرمادیتے اسی وجہ سے آپ کالقب رسول نما ہوا۔
آپ کےبدن سے ہمیشہ مشک کی خوش بو نکلتی حتیٰ کہ جسے آپ ہاتھ لگادیتے وہ بھی مہک اٹھتا۔ ۱۱؍ربیع الآخر ۱۱۶۶ھ میں اس دار فانی کوخیر باد کہا۔ محلہ کوئلہ بازار، مولوی جی کاباڑا(متصل مچھودری پارک) میں مرقد انور مرجع خلائق ہے۔
[۹]حضرت مولاناشاہ رضا علی قطب بنارس علیہ الرحمہ ۱۶؍صفر ۱۲۴۶ھ بروز یک شنبہ آپ کی ولادت ہوئی۔ لکھنؤسے علوم وفنون کی تکمیل فرمائی۔ بڑے عابد وزاہد اورعلم دین میں بڑا عظیم مرتبہ رکھتے تھے دور دور سے استفتاکےلیے بارگاہ میں حاضری دیتے میلاد پاک کے جوازپر مظاہرالحق عربی تالیف فرمائی۔ آپ کے فتاوے کا ایک حصہ” فیوض الرضاء“ کے نام سے مطبوع ہے۔ بعض فتاویٰ فارسی زبان میں ہیں باقی اردو میں۔ آپ کےفتاؤں سے آپ کےمسلک پرروشنی پڑتی ہے۔ آپ کےتعلقات اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی قدس سرہ سے بھی تھے آپ نے اپنے بعض فتاویٰ کواعلیٰ حضرت کےپاس تصدیق کےلیے بھی بھیجا۔
۱۳۰۸ھ میں مشہور فتنہ انگیز کتاب تقویۃ الایمان کےرد میں ایک مبسوط فتویٰ بھی تحریر فرمایا جوعلاحدہ سے چھپ چکاہے۔ ۲۱؍شعبان ۱۳۱۲ھ بروز یک شنبہ عصرومغرب کے درمیان اس جہان فانی سے کوچ کیا۔ لاٹ کی مسجد سے متصل پورب جانب مزار پر انوار ہے اور ہرسال عرس منعقد ہوتاہے۔
[۱۰] مولاناشاہ عبدالسبحان مچھلی شہری قدس سرہ، ۱۱؍ذی الحجہ ۱۲۳۳ھ جمعہ کوولادت ہوئی۔ درس نظامیہ میں مہارت حاصل کی حضرت شاہ گلزار کشنوی علیہ الرحمہ سے بیعت وارادت حاصل تھی۔ مطالعہ کتب کا بڑا شوق تھا۔۲۷؍ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ کووصال ہوا مزار پاک شکر تالاب کے قریب بلندی پر واقع ہے جسے اونچواں کہتے ہیں اورہرسال مذکورہ تاریخ میں عرس ہوتاہے۔
[۱۱]حضرت شاہ قطب علی بنارسی علیہ الرحمہ، آپ کا قدیم وطن اعظم گڑھ ہے عرصۂ دراز تک ریاضت ومجاہدہ میں مشغول رہے اس زمانہ میں صرف گھاس کھاکر گزارہ کرتے۔ جنگل کےشیرآپ کے تابع فرمان رہتے ۔
پر بھونارائن مہاراجہ بنارس نے ملاقات کا اشتیاق ظاہر کیاتو چار شرطوں پراپنے پاس آنے کی اجازت دی۔(۱)میں تعظیم نہیں کروں گا۔(۲) جس چٹائی پر میرے مریدین بیٹھتے ہیں اسی پر بیٹھنا ہوگا۔(۳) مجھے کچھ نہ دے۔ (۴) مجھ سے کچھ نہ مانگے۔ مہاراجہ نے سب شرطیں قبول کرکے ملاقات کافخر حاصل کیا۔ ۲۶؍رجب ۱۳۱۹ھ بروز دوشنبہ ۸؍بجےشب کوانتقال فرمایا۔ سنگ مرمر کاعالی شان قبہ جواجمیر شریف کاایک نمونہ ہے باقر کنڈ(بکریاکنڈ) کے کنارے کافی بلندی پر ہے۔
[۱۲]حضرت مولانا اسمٰعیل علیہ الرحمہ، قطب بنارس مولانا رضا علی علیہ الرحمہ کےشاگرد خاص اورباکرامت بزرگ تھے کئی علمی کتابیں بھی آپ نے تصنیف فرمائیں۔ ۱۸؍رمضان المبارک بروز پنجشنبہ ۱۲۹۴ھ استاذ محترم ہی کی زندگی میں انتقال فرمایا۔ بٹاؤشہید (کچی باغ) میں مزار مبارک ہے۔ مشہور عالم مولانا خلیل الرحمٰن صاحب آپ ہی کے صاحب زادے تھے۔ آپ کےعہد ہی سے مسجد لاٹ، سریاں میں عیدین کی امامت آپ ہی کےخاندان سے ہوتی ہے۔ آپ کا خاندان آج بھی علم وفضل کا گہوارہ ہے اورشہر میں اعتماد کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ آپ کے یہاں حضرت حجۃ الاسلام مولاناحامد رضا خاں اورمشہور سنی بزرگ حضرت شاہ یار علی صاحب علیہ الرحمہ براؤں شریف بھی تشریف لاچکے ہیں۔
[۱۳]استاذ الحفاظ حافظ عبدالمجید عرف حافظ جمن علیہ الرحمہ، ایک عرب شیخ سے(جنھوں نے قطبن شہید میں ایک مدرسہ قائم کیاتھا) حفظ قرآن کی تکمیل کی اورپوری زندگی حفظ قرآن کےدرس میں گزار دی زہدوتقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔۱۵؍رجب ۱۳۲۷ھ کووصال ہوا۔اور لاٹ کی مسجد میں قطب بنارس کے مزار کے قریب میں مدفون ہیں۔ ہرسال عرس ہوتاہے اورکثیر حفاظ شریک ہوتے ہیں۔ ایک خاندانی روایت سے معلوم ہوا ہے کہ آپ مشہور مفسر قرآن حضرت صدرالافاضل مولاناشاہ حافظ سید محمدنعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ مصنف خزائن العرفان فی تفسیر القرآن کےحفظ میں استاذ تھے۔ اورحضرت صدرالافاضل نے جب تفسیر لکھی تواس کانسخہ خود لاکر اپنے استاذ زادگان کو ہدیہ کیا وہ نسخہ خاندان میں اب بھی موجود ہے اور نہایت خستہ ہے۔
[۱۴]حضرت مولاناشاہ عبدالحمید فریدی فاروقی پانی پتی علیہ الرحمہ کی ولادت پانی پت میں ہوئی۔ وہیں تعلیم بھی حاصل کی۔ وہاں سے پھر ہجرت کرکے بنارس تشریف لائے پہلے ہی قطب بنارس مولانا رضا علی علیہ الرحمہ نےآپ کی آمد کی پیشین گوئی کردی تھی۔ ۲۰؍شوال ۱۳۳۹ھ کومحبوب حقیقی سے جاملے۔ وفات کےبعد غسل دیتے وقت کثیر افراد نے انگلیوں پروظیفہ پڑھتے دیکھا۔ مزار پرُانوار شکر تالاب میں ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی(۲) قدس سرہ نےقطعۂ تاریخ وفات تحریر فرمایا:

لِلہِ لَبی عَبْدُالْـحَمِیْدِ           قَالَ الرِّضَا فِی اِرْخِ السَّعِیْد
عَبْدُالْـحَمِیْدُ عِنْدَالْـحَمِیْد         فِیْ نَھْرِ قُرْبٍ رَاجِی الْمَزِیْد 

 

ترجمہ: عبدالحمید بارگاہ خدا میں پہنچے رضانے اس مرد سعید کی تاریخ میں کہا: حمید کابندہ حمید کے یہاں قرب کےدربار میں مزید کاامیدوار ہواہے۔
تذکرۃ الحمید میں آپ کے حالات درج ہیںآپ کے صاحب زادےمولانا عبدالرشید صاحب اورپوتے مولاناعبدالشہید صاحب ،مولانا عبدالوحید شاہ صاحب کےمزارات بھی اسی جگہ ہیں بلکہ مولانا عبدالوحید شاہ صاحب کی قبر توخاص اسی قبے میں ہے جس میں مولانا کامزار ہے۔
[۱۵]حضرت مولاناشاہ محمدنعمت اللہ قادری علیہ الرحمہ آپ نے مختلف اساتذہ سےدرس نظامیہ کی تکمیل کےبعد دو سال مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری علیہ الرحمہ(متوفی۱۳۲۶ھ) سےدرس حاصل کیا، غوث الوقت چراغ ربانی مولانامحمدکامل نعمانی علیہ الرحمہ(۳) کی روحانی بشارت پران کے خلیفۂ خاص حضرت صوفی محمدجان رحمۃ اللہ علیہ نے ولیدپور درگاہ شریف میں برسر عام دستار خلافت اورتبرکات ولایت سے سرفراز فرمایا،خلق کثیرکواپنے فیوض وبرکات سے مالامال کرکے ۴؍رجب ۱۳۶۱ھ بروز یک شنبہ بوقت اشراق داعیٔ اجل کولبیک کہا محلہ اورنگ آباد میں مزار شریف ہے۔
بنارس کے چند تاریخی مقامات
ڈھائی کنگرہ کی مسجد:
۴۰۵ھ میں تعمیر ہوئی شہر کی بڑی ممتازسنگین عمارت ہے۔ تاریخی نام” مسجددونیم کنگرہ“ ہے کاشی اسٹیشن کےپورب تقریباً ایک فرلانگ پرمحلہ ایشور میں واقع ہے۔ یہ پوری مسجد پتھروں سے بنی ہوئی ہے لہذا بہت عالی شان ہے۔
مسجد گنج شہیداں:
یہ انگریزوں کےدور حکومت میں کاشی اسٹیشن کی تعمیر ہوتے وقت کھنڈرات کی تہ سے برآمد ہوئی ہے اس کی قدامت سے پتا چلتا ہے کہ ہزار سال سے کم کی نہیں ہوگی لیکن ابھی تک اس کاسراغ نہ لگ سکا کہ اتنی عالی شان مسجد کب اورکیسے دفن ہوگئی تھی۔ پوری مسجد صرف پتھروں سے بنی ہے اورچھت نیچی ہے۔
جامع مسجد گیان واپی:
مشہور یہ ہے کہ اورنگ زیب عالم گیرعلیہ الرحمہ (متوفی ۱۰۱۷ھ) نےاس کی تعمیر کرائی اورمسجد میں منبر کےاوپر جوکتبہ سید میراث علی متولی مسجد نے ۱۲۰۷ھ (انگریزی حکومت کےزمانہ میں) نصب کرایا ہے اس میں بھی اسی شہرت کی بنیاد پر عالم گیرعلیہ الرحمہ کی طرف نسبت کردی ہے لیکن تحقیق کے بعد پتا چلتاہے کہ عالم گیر علیہ الرحمہ کے دادا ہمایوں( م ۹۶۳ھ) سے بھی پہلے یہ مسجد سلطان ابراہیم شاہ شرقی (م ۸۴۴ھ) کےزمانہ میں بنی ہے۔ شاہ جہاں (م ۱۰۶۷ھ) نے اس مسجد میں ایک مدرسہ قائم کیاتھا اوراس کاتاریخی نام ”ایوان شریعت“ رکھاتھا یہ نام ایک مثلث پتھر پرکندہ کیا ہوا، اب تک اس مسجد کے دفترانتطامیہ میں موجود ہے۔ حضرت عالم گیر علیہ الرحمہ کوبدنام کرنے کےلیے متعصبین نےاس مسجد کی تعمیر کےسلسلے میں اس قدر غلط پروپیگنڈا کیاکہ لوگ جھوٹ کوسچ سمجھ گئے اور اصل حقیقت پرلوگوں کو شبہہ ہونے لگا ۔ جب اسلام مسلمانوں کوصرف حلال وپاکیزہ کمائی کے پیسے مسجد میں لگانے کی اجازت دیتاہے تواس کی شریعت کاپابند ایک متقی بادشاہ غیروں کی رقم سے بنی ہوئی مندر کے کسی پتھر یاجائداد کوظلماً کسی مسجد کی تعمیر میںکیسے لگاسکتاہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آج کے گئے گزرے زمانے میں بھی اگر کوئی جبراً کسی مندر کویاکسی بھی زمین پر ناجائز قبضہ کرکےمسجد بنائے، توکوئی جاہل سے جاہل مسلمان بھی اس میں نماز پڑھنا پسند نہ کرےگا بلکہ اس کے خلاف ہنگامے ہی ہوں گے۔ تو، کل اگرایسا کسی نے کیاہو تا، توضرور اس کے خلاف ہنگامہ ہوتا، اور اس کاکچھ ذکر تاریخ میں ضرور ملتا۔ لہٰذا محض گمان کوتاریخ کادرجہ نہیں دیاجاسکتا۔
مسجد دھرہرہ:
شہنشاہ عالم گیرعلیہ الرحمہ کےدور حکومت میں اس مسجد کی تعمیر ہوئی اس میں دوبلند مینارے تھے جس پرچڑھ جانے سے پورے بنارس کامنظر دکھائی دیتا تھا، مگرافسوس کہ ایک مینارہ ناگہانی طورپر منہدم ہوگیا اوردوسرا بھی محکمۂ آثار قدیمہ نے ٘مخدوش ہونے کےسبب اتاردیا یہ مسجد دریائےگنگا کےکنارے ہے۔
مسجد عالم گیری:
(فوارہ) ۱۰۷۷ھ شہنشاہ عالم گیرعلیہ الرحمہ کے زمانہ میں اس کی تعمیر ہوئی فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ  محراب پرکندہ ہے، اوراس سے سن تعمیر نکلتا ہے۔ محلہ بشیشور گنج سبزی منڈی کے پچھم واقع ہے، افسوس کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہونے کی وجہ سے غیر آباد ہے۔
عیدگاہ لاٹ بھیرو:
یہ جلالی پورہ سے متصل ایک قدیم تاریخی عیدگاہ ہے، اس کے چاروں طرف شہرخموشاں آباد ہے۔عید گاہ کےبیچ میں پتھر کاایک ستون قائم تھا، ہندواسے متبرک سمجھ کرپوجاکرنے لگے وہی ستون لاٹ بھیرو کےنام سے مشہور ہے موجودہ عیدگاہ کی تعمیر ۱۲۵۹ھ میں ہوئی ہے۔ اس کے پچھم متصل ہی ایک بزرگ کامزار ہے جنھیں مخدوم صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ عیدگاہ کے پورب پتھر کی ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے اوراس کے متصل قطب بنارس مولانا رضا علی صاحب علیہ الرحمہ کامزار ہے اوراس کےدکھن تالاب ہے۔
جلالی پورہ:
وارانسی سیٹی(علوی پورہ) ریلوے اسٹیشن اوربڑی ریلوے لائن کے درمیان آباد ہے۔ شہنشاہ غیاث الدین تغلق(م ۷۲۵ھ) نے اپنے زمانے میں جلال الدین احمد کو بنارس کاحاکم مقرر کیاتھا انھیں کے نام پرمحلہ جلالی پورہ مشہورہے۔
اسی محلہ میں بنارس کاقومی وملی ادارہ، مدرسہ مدینۃ العلوم اپنی شان وشوکت کےساتھ قائم ہے۔
عربی مدارس:
بنارس میں تمام ہی مکاتب فکر کے عربی مدارس بڑی تعداد میں موجود ہیں،خاص اہل سنت وجماعت کے مشہور مدارس کےنام یہ ہیں :
جامعہ حمیدیہ رضویہ ، مدن پورہ، جامعہ فاروقیہ مدن پورہ، جامعہ حمیدیہ رشیدیہ شکرتالاب، جامعہ حنفیہ غوثیہ بجرڈیہہ، دارالعلوم امام احمدرضا لوہتہ، مدرسہ مدینۃ العلوم، جلالی پورہ۔وغیرہ

حواشی:
[(۱) مسجد ڈھائی کنگرہ جس کااصل تاریخی نام ہے مسجد ”دونیم کنگرہ“سے اس کاسال تعمیر ۴۰۵ھ نکلتاہے جس سے پتا چلتاہے کہ مسلمان ۴۰۵ھ سے قبل بنارس میں آچکے تھے۔
(۲)امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ نے۱۰؍شوال ۱۲۷۲ھ کوخاک دان گیتی پرقدم رکھا چودہ سال سے کم عمر میں تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کے عالم ہوکر مسند افتا پررونق افروز ہوئے۔پوری دنیا میں آپ کادارالافتا منفرد حیثیت کاحامل رہا۔ فی سبیل اللہ پوری عمر فتویٰ نویسی ،تصنیف وتالیف، دین حق کی حمایت اورابطال باطل میں وقف فرمادی بے پناہ عشق رسول کریم علیہ السلام آپ کےدل میں موجزن تھا، جواکثر آپ کی تحریروں اورنعتوں کی شکل میں بطور شاہد ہے۔ تقریباً ہزار تصنیفات امت مرحومہ کو عنایت فرماکر ۲۵؍صفر۱۳۴۰ھ بروز جمعہ اپنے حبیب علیہ الصلاۃ والتسلیم کی زیارت کے شوق میں فرحاں وخنداں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جہان فانی سے تشریف لے گئے۔ بریلی شریف میں ہرسال مذکورہ تاریخ میں عرس مبارک منعقد ہوتاہے۔
(۳) حضرت مولانامحمدکامل نعمانی علیہ الرحمہ کی جاےپیدائش ولیدپور(اعظم گڑھ) ہے بچپن ہی میں یتیم ہوگئے مولاناعبدالحلیم فرنگی محلی (م ۱۲۸۵ھ) محشی نورالانوار ومصنف نورالایمان وکتب کثیرہ سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ بہت دنوں تک جج کے عہدہ پر فائز رہے راہ طریقت میں عظیم مجاہدہ کیا۔ قیام جون پور کے زمانے میں شاہی مسجد کی تعمیر کراتے وقت جب ایک مزدور چھت سے گر کر مرگیا توآپ ہی کی دعاسے زندہ ہوا۔ یہ کرامت دیکھ کر بہت سے مسلمان آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوگئے اوربہت سےغیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا۔ آخر کار بے شمار خلفا ومریدین کومخلوق کی رہنمائی کےلیے جانشین چھوڑ کر ۷؍جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ کواس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ ولیدپور میں ہرسال عرس ہوتاہے۔ مزید معلومات کے لیے راقم الحروف کی کتاب ”حالات کامل“ کامطالعہ کریں جوابھی حال میں اسلامی اکیڈمی بنارس کےزیراہتمام مکتبہ غوثیہ بجر ڈیہہ سے عمدہ کتابت وطباعت کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔

مآخذ
۱۔مرقع بنارس، چودھری (غلام) نبی احمد سندیلوی، مطبوعہ ۱۹۳۹سلطان برقی پریس نظیرآباد، لکھنو
۲۔ آثاربنارس، مطبوعہ ۱۹۶۸ ، از مفتی عبد السلام نعمانی مجددی
۳۔مشائخ بنارس، از مفتی عبد السلام نعمانی مجددی
۴۔تذکرۃ الحمید (علیہ الرحمہ)
۵۔تاریخ بنارس، حکیم سید مظہر حسن
۶۔ صنم کدۂ بنارس
۷۔ تاریخ فرشتہ، از محمد قاسم فرشتہ (متوفی۱۰۳۳ھ ، ۱۶۲۰)
۸۔ مظاہر الحق عربی، قطب بنارس، مولانا شاہ رضا علی علیہ الرحمہ
۹۔ فیوض الرضا، از قطب بنارس، مولانا شاہ رضا علی علیہ الرحمہ
۱۰۔ مدینۃ العلوم کا ماضی اور حال، مطبوعہ ۱۹۸۶ شعبۂ اشاعت، مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم بنارس
۱۱۔سوانح اعلی حضرت ، مولانا بدرالدین احمد قادری علیہ الرحمہ
۱۲۔حالات کامل، از احمد القادری مصباحی، مطبوعہ مکتبہ غوثیہ بجر ڈیہہ، بنارس
۱۳۔ذاتی مشاہدات
۱۴۔ انفرادی معلومات
۱۵۔ کتبات ، وغیرہ

بقلم احمد القادری مصباحی غفرلہ
(پرنسپل، مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم ، جلالی پورہ ، بنارس)
یکم جمادی الاولی ۱۴۰۶ ھ دوشنبہ
مطابق ۱۳ جنوری ۱۹۸۶

بابا قاسم سلیمانی علیہ الرحمہ، مفتی سید محمد فاروق رضوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
از مولانا سیدمحمدفاروق رضوی
استاذ و مفتی- جامعہ حنفیہ غوثیہ ، بجرڈیہہ،بنارس
ناظم اعلی(جنرل سکریٹری) اسلامی اکیڈمی ، بنارس

مختصرحالات بابا قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ

ولادت: ۹۵۶ھ – وفات ۱۰۱۶ھ

حضرت بابا قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ بہت مشہور بزرگ ہیں، بنارس کےمسلمان آپ کے بہت معتقد ہیں اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ” حالات بنارس “میں آپ کا ذکر جمیل کردیاجائےتاکہ قارئین کرام کے لیے حصولِ فیض کاذریعہ ہو۔

ولادت:
حضرت شیخ قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ قدم قندھاری رحمۃ اللہ علیہ پیشاوری کے فرزند ارجمند ہیں ۔ وطن شریف آپ کاپیشاور تھا، آپ کی ولادت باسعادت ۹۵۶ھ موسم بہار میں، نماز اشراق کےوقت ہوئی، پیدائش سے پہلے بہت سے اولیاےکرام ومشائخ زمانہ نے آپ کےپیداہونے کی خبردی اورمبارک بادی سے نوازا، آپ کی پرورش آپ کی والدہ محترمہ بی بی نیک بخت اور دادی شہیدی نےکی اورشیخ محمد کر زئی نے قرآن عظیم اوردیگر مذہبی کتابیں پڑھائیں۔

شرف بیعت اورابتدائی حالات سفر:
آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ جس مقام پرآپ قیام فرماتے اس مقام میں ذکرالٰہی کی برکت سے یہ کیفیت رونماہوتی کہ کسی قوم کا کوئی شخص بھی اس مقام سے گزرتا توبے اختیار ہوکر نعرۂ الااللہ کی ضرب لگا تا۔ ۹۸۳ھ میں مقام دوآبہ(اپنی سسرال) سے رخصت ہوکر حضرت نے غیبی الہام کے مطابق ۵؍فقیروںکوہمراہ لے کرپیشاور کاقصد فرمایا، پھر وہاں سے جلال آباد، کابل ، کوہ ہندوکش، خنجان، غورنامی جگہوں سے ہوتے ہوئے مولاعلی کرم اللہ وجہہ کےقبرانور کی زیارت فرماکرشہر بلخ تشریف لے آئے، پھر وہاں سے سرغان اور دوسرے مقامات کی سیاحت کرتے ہوئے بربو میں حضرت خواجہ عبداللہ انصاری کی زیارت فرمائی۔الغرض آپ مختلف مقامات اورشہروں سے گزرتے ہوئے مشہد مقدس پہنچے وہاں سے خراسان، غزنی، نیشاپور، گیلان شریف اورتبریز ہوکرامیدیہ میں تشریف فرماہوئے۔ اس طویل سفر میں آپ کے چاروں درویش رفقا انتقال کرگئے پھر بھی حضرت باباقاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنامبارک سفر جاری رکھا۔ جنجیرہ اوردوسرے مقامات سے گزرتے ہوئے شہر حلب اوروہاں سے شہر حمہ حضرت شیخ عفیف الدین سید حسین(سجادہ نشین حضرت قطب الکونین غوث الثقلین سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوکرشرف بیعت سے مشرف ہوئے۔

شہنشاہ جہانگیر اور بابا قاسم سلیمانی
اکبر کی وفات کےبعد جب شہنشاہ جہاں گیر تخت نشین ہوئے اورشہزادہ خسرونے لاہور آکر لاہور کو اپنے قبضے میں کرلیا توشہنشاہ جہاں گیر نے حملہ کرکے خسرو کو شکست دے کر قید کردیا ،کچھ لوگوں نے جہاں گیر کوخبر دی کہ بعض درویشوں نےبھی خسروکےلیے فتح وکامرانی کی دعائیں کی تھیں، جن میں نمایاں طورپرحضرت بابا قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کاذکر کیاگیا اوربادشاہ کوبتلایا گیاکہ حضور باباقاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کےبہت کافی مرید ہیں اورآپ کا سلسلہ ارادت بہت وسیع ہے۔جس سے حکومت کےلیے کبھی بھی خطرہ ہوسکتاہے۔ بادشاہ نے بتاریخ ۲۸؍ربیع الآخر ۱۰۱۵ھ کوباباقاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کوبلایا اوراس سلسلے میں گفتگوکی، حضرت بابا قاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: خلق خدا کی رشدوہدایت کےلیے لوگوں کومرید کرنا کوئی گناہ نہیں، کچھ دیر بعد آپ کورخصت کردیا اورشہزادۂ پرویز کےیہاں قیام کرنے کی گزارش کی۔ ایک روز کاواقعہ ہے کہ بادشاہ نے ایک طشت میں زنجیر اورشمشیر(تلوار) رکھ کر حضرت کی خدمت میں بھیجوایا، آپ نے فرمایا: فقیروں کوشمشیر کی ضرورت نہیں اور زنجیر قبول فرمائی۔ گویایہ اشارہ تھاکہ بادشاہ کی جانب سے کہ آپ قیدہونا قبول کریں یا جنگ کےلیے تیار ہوجائیں۔ حضرت باباقاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ نےیہ پسند نہ فرمایا کہ دو مسلمان آپس میں لڑیں اورمخلوق خدا کا ناحق خون بہے، اسی لیے آپ نے زنجیر پسند فرمائی۔۸؍جمادی الاولیٰ ۱۰۱۵ھ کوبادشاہ نے خلیفہ باقی خاں کوچنار کاگورنر بناکر روانہ کیا اورحضرت کوبھی چنار کے قلعے میں رکھے جانے کا حکم دیا۔ حضرت باباقاسم سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ باقی خاں کے ساتھ چنار کی جانب روانہ ہوئے اور ۲۵؍رجب ۱۰۱۵ھ کوداخل قلعہ ہوکر خان اعظم کے محل میں تشریف فرماہوئے اورنظر بند کردیے گئے۔

کراماتِ حضرت باباقاسم سلیمانی
اللہ تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ بندے جن کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ خداکے ہوجاتے ہیں اورخدا ان کاہوجاتاہے ان کاعالم کچھ اورہوتاہے، یہی وجہ تھی کہ باوجود قیدوبند ہونے اور ہرطرح کی نگرانی کےجب آپ کی مرضی ہوتی محل کے باہر تشریف لاتے، پہاڑوں کی سیر کرتے اورپوری آزادی کےساتھ نمازیں ادافرماتے اورجب چاہتے محل سرا میں پہونچ کراپنی سابقہ حالت میں موجود نظرآتے۔جب محافظین نے آپ کی یہ کھلی ہوئی کرامتیں دیکھیں تودل میں خوف پیدا ہواکہ کہیں آپ باہرتشریف لے گئے اور واپس تشریف نہ لائے توہم سب عتاب کیے جائیں گے، انھوں نے فوراً یہ کیفیت لکھ کربادشاہ کے حضور پیش کی ، جواب آیاکہ:
[۱]میری طرف سے حضرت کو ہرطرح کی آزادی ہے جہاں چاہیں بلا روک ٹوک آجاسکتے ہیں۔
[۲]آپ کی مرضی کےمطابق جہاں آپ چاہیں تاحد نظر زمین معاف ہے۔
[۳] میں عن قریب زیارت سے مشرف ہونے کی تمنا رکھتاہوں ۔
آپ نے جواب میں بادشاہ کوفرمایا:
[۱]مجھے تیری بخشی ہوئی آزادی کی ضرورت نہیں ،حق تعالیٰ عن قریب میرے طائرروح کوقفص عنصری سے آزاد کردےگا۔
[۲] بھلا تیرا یہ مقدور کہاں کہ تومجھے تاحد نظر زمین معافی میں دے، جب کہ میری نگاہیں عرش الٰہی تک پہنچاکرتی ہیں۔
[۳]میں کبھی تیری ملاقات پسند نہیں کرتا۔
یہی وجہ ہے کہ خاندان تیموریہ کےکسی فرد کواب تک درگاہ معلیٰ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی۔
اس کے بعد چنار کےقلعے دار باقی خان نے عرض کی حضور کوئی مکان اپنی ابدی آرام گاہ کےلیے تجویز فرمالیں، چناں چہ ایک مرتبہ قلعے کی مغربی سمت تیر وکمان لے کر کھڑے ہوئے،تیر چھوڑا توکچھ دور پہنچ کرگرنے لگا، آپ نےفرمایا: ٹک اور ،یعنی کچھ اور دور پھر وہ تیراپنی جگہ سے اٹھا، آگے بڑھ کر ایک مقام پرگرگیا، آپ نے اسی مقام کواپنی آرام گاہ قرار دی، آپ کے لفظ”ٹک اور“ فرمانے کی وجہ سے اس جگہ کانام محلہ ”ٹکور“ ہواجوآج تک مشہور ہے۔

اولیا راہست قدرت از الٰہ
تیر جستہ باز گردانند زراہ

۱۹؍جمادی الاولیٰ ۱۰۱۶ھ کوآپ نے اس دارفنا سے کوچ فرمایا، نوراللہ مرقدہ(۱)

تاج داری کے لیے ان کی گدائی کیجیے
جھولیاں بھرجائیں توفرماں روائی کیجیے

منقبت سلیمانی

(۵) باباقاسم سلیمانی علیہ الرحمہ کاتذکرہ مرتبہ مولاناذکی اللہ اسدالقادری اورمذکورہ منقبت حضرت مولاناحافظ معین الدین صاحب بنارسی کےذریعے دست یاب ہوئیں، اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیردے۔۱۲ناشر]
سیدمحمدفاروق رضوی
خادم تدریس وافتا- جامعہ حنفیہ بجرڈیہ،بنارس
متولی مدرسہ حسامیہ رضویہ، رسول پور قاضی،کوشامبی (الہ آباد)

نماز میں آہستہ آمین کہنے کاثبوت، احمد القادری مصباحی

نماز میں آہستہ آمین کہنے کا ثبوت
ازاحمد القادری مصباحی

نماز میں آہستہ آمین کہنا سنت، اوررسول ﷲ ﷺ کے حکم کے مطابق ہے۔ آہستہ آمین کہنے کے سلسلے میں، متعدد احادیث آئی ہیں۔
{۱} حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔
عن وائل ابن حجر( رضی اللہ تعالٰی عنہ )انہ صلے مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلما بلغ غیر المغضوب علیھم ولا الضالین قال اٰمین و اخفیٰ بھا صوتہ۔
(۱۔امام احمد، ۲۔ابوداؤدطیالسی، ۳۔ابویعلی موصلی، ۴۔طبرانی،۵۔ دارقطنی، ۶۔مستدرک للحاکم )
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب حضور (ﷺ ) غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ، پر پہنچے تو آپ نے آمین کہا،اور آمین میں ،اپنی آواز آہستہ رکھی۔
{۲} حضرت وائل ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دوسری روایت ہے۔
قال سمعت رسول اللہ ﷺ قرا غیر المغضوب علیہم ولا الضالین فقال اٰمین و خفض بہٖ صو تہٗ ،
(۷۔ابوداؤد، ۷۔ترمذی،۸۔ ابن ابی شیبہ )
فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھاتو آمین کہا ، اور آواز آہستہ رکھی۔
ان دونوں حدیثوں سےمعلوم ہوا ،کہ آمین، آہستہ کہنا ، رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
{۳} حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے ۔
قال رسول اللہ ﷺ اذا امن الامام فامنوا، فانہ ما وافق تا مینہ تامین الملٰئکۃ،غفر لہٗ ما تقدم من ذنبہ ۔
(۹۔بخاری،۱۰۔مسلم،۱۱۔احمد،۱۲۔مالک، ۱۳۔ابوداؤ، ۱۴۔ترمذی، ۱۵۔نسائی، ۱۶۔ابن ماجہ )
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ،کہ جب امام آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگی ، اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ کی معافی ،اس نمازی کے لئے ہے جس کی آمین فرشتوں کی آمین کی طرح ہو ۔ فرشتے آمین آہستہ کہتے ہیں اور ہم نے ان کی آ مین آج تک نہیں سنی، تو چاہئے کہ ہماری آمین بھی آہستہ ہو، تاکہ فرشتوں کی موافقت اور گناہوںکی معافی ہو۔
{۴} حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دوسری روایت ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ اذا قال الا مام غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآ لِّیْنَ ، {فقولوا اٰمِیْن } فانہٗ من وافق قولہٗ ،قول الملٰئکۃ ،غفر لہٗ ما تقدم من ذنبہ،
(۱۷۔بخاری، ۱۸۔شافعی، ۱۹۔مالک، ۲۰۔ابوداؤد، ۲۱۔نسائی )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،کہ جب امام ،
غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْن۔
کہے تو تم اٰمِیْن کہو، کیونکہ جس کا یہ اٰمِیْن کہنا فرشتوں کی اٰمِیْن کہنے کے مطابق ہوگا، اس کے گناہ بخش دیئے جا ئیں گے۔
اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔ ایک یہ کہ مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ ہر گز نہ پڑھے۔ اگر مقتدی کا پڑھنا صحیح ہو تا، تو ہمارے پیارے نبی، رؤف و رحیم ﷺ یوں فرماتے ،کہ جب تم وَلَا الضَّالِّیْن کہو، تو آمین کہو۔معلوم ہوا کہ مقتدی صرف آمین کہیں گے۔سورہ فاتحہ پڑھنا،اور وَلَا الضَّالِّیْن کہنا امام کا کام ہے، مقتدی کا نہیں، بلکہ مقتدی پر قرآن کا سننا اور چپ رہنا واجب ہے۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے۔
وَاِذَاقُرِیَٔ الْقُرْ اٰ نُ فَا سْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگاکر سنو اور خاموش رہوکہ تم پر رحم ہو۔
( کنز الایمان، سورہ اعراف، آیت۲۰۴)
دوسرامسئلہ اس حدیث سے یہ معلوم ہو ا کہ اٰمِیْن آہستہ ہونی چاہئے کیونکہ فرشتوں کی اٰمِیْن آہستہ ہی ہوتی ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔
{۵} حضرت وائل ابن حجر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نے فرمایا۔
لم یکن عمر و علی رضی اللہ عنھما یجھر ان ببسم اللہ الرحمٰن الرحیم ولا باٰمین۔
(۲۲۔ تہذیب الآثارللطبرانی ،۲۳۔ طحاوی )
حضرت عمر و علی رضی اللہ تعالٰی عنہما نہ تو بِسْمِ ﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ اونچی آواز سے پڑھتے تھے، نہ آمین۔
{۶} حضرت ابو معمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ۔
عن عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ قال یخفی الامام اربعاً ، التعوذ و بسم اللہ و اٰمین و ربنا لک الحمد۔
(۲۴۔عینی)
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا امام چار چیزیں آہستہ کہے۔ اَعُوْذُ بِاللہ، بِسْمِ اللہ،آمِیْن اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد۔
معلوم ہوا کہ آمین آہستہ کہنا ،سنت ِصحابہ اور سنت ِخلفاء راشدین بھی ہے۔
{۷} امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ،اپنے استاذ، حضرت حماد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، انھوں نے اپنے استاذ،حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
قال اربع یخفیھن الامام، التعوذ، و بسم اللہ، و سبحنک اللھم، و اٰمین ،
(۲۵۔ رواہ محمد فی الا ثار، ۲۶۔ وعبد الرزاق فی مصنفہ)
آپ نے فرمایا، کہ امام چار چیزیں آہستہ کہے ،
اَعُوْذُ بِاللّٰہ، بِسْمِ اللّٰہ، سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ اور آمِیْن۔
(یہ حدیث امام محمد نے آثار میں، اورامام عبد الرزاق نے اپنی مُصَنَّفْ میں بیان کی)
معلوم ہواکہ جیسے ثنا، اعوذ باﷲ، بسم اﷲ، رکوع اور سجدے کی تسبیحات، التحیات، درود ابراہیمی، دعائِ ماثورہ وغیرہ سب آہستہ پڑھی جاتی ہیں ایسے ہی آمین بھی آہستہ پڑھنا سنت ہے ۔یہی احادیث ِصحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اعمال واقوال سے ثابت ہے۔
یہی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاﷲ علیہ کا بھی قول ہے ۔
امام اعظم ا بو حنیفہ رحمۃﷲ علیہ، جلیل القدر امام، تا بعی،فقیہ، عالم، محقق،مدقق، متقی،محدث ، مفسر،مجتہد،صالح،صاحب کشف اور ولی کامل ہیں،نہ ان کے زمانہ میں ان کے برابر کوئی فقیہ تھا نہ اُن کے بعد اب تک اُ ن کے مثل پیدا ہوا۔ بلا شبہ آپ اِمَامُ الْمُتَّقِیْنْ اور اَمِیْرُ الْمُسْلِمِیْنْ ہیں۔ آپ کی پیروی فرمان ِالٰہی کے مطابق ہے۔
ﷲ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا ۔
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ،
( سورہ نسا آیت ۵۹)
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطا عت کرو اور اپنے امیرکی۔
اس مختصر رسالے میں آہستہ اٰمین کہنے پر حدیث وفقہ کی ۲۶ مشہور ومعروف اورمستند کتا بوں کے حوالہ سے ،سات احادیث کریمہ پیش کردی گئی ہیں، جو اہل حق کوقبول کرنے کے لئے کا فی ہیں……مزید تفصیل کے لئے حضرت مولانا ظفر الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح البہاری شریف، اور حضرت مولانا احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور ومعروف کتاب ْجاء الحقْ کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللّٰہُ الْھَادِی وَالمُعِیْنُ ، نِعمَ المَولٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ، وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰ لِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ ، بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔

 

احمدالقادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
۵؍ صفر۱۴۲۳ھ ۲۱؍اپریل ۲۰۰۲ء

رفع یدین کے احکام، احمد القادری مصباحی
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ۝
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝

رفع یدین کے احکام
ازاحمد القادری مصباحی

نمازپنجگانہ اور جمعہ میں، صرف پہلی تکبیر کے وقت ہی ہاتھ اٹھا نا سنت ہے ،اس کے بعد نہیں۔ اس مسئلہ کے ثبوت میں بکثرت احادیث آئیں ہیں۔ چند حدیثیںملاحظہ فرمائیں۔
{۱} حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ
کان النبی ﷺ اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ ثم لا یرفعھما حتی یفرغ۔
(۱۔ترمذی،۲۔ ابن شیبہ)
نبی ﷺ جب نماز شروع فرماتے ،تو اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہونے تک نہ اٹھاتے۔
{۲} حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔
کان النبی ﷺ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔
(۳)طحاوی شریف، ۴۔فتح القدیر، ۵۔مرقاۃ شرح مشکوۃ)
نبی ﷺ پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے، پھر نہ اٹھاتے۔
{۳}حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرما یا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاــ۔
ترفع الایدی فی سبع مواطن عند افتتا ح الصلوۃ و استقبال البیت والصفا والمروۃ والمو قفین والجمرتین.
(۶۔حاکم، ۷۔بیہقی)
صرف ساتھ جگہ ہاتھ اٹھائیں جائیں۔
(۱) نماز شروع کرتے وقت
(۲) کعبہ کے سامنے منہ کرتے وقت
(۳) صفا،مروہ پہاڑی پر
(۴،۵) دونوں موقف( مِنَی اور مُزْدَلِفَہ) میں۔
(۶،۷)دونوں جمروں کے سامنے ۔
اس حدیث میں صرف نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے، بعد میں نہیں۔
ان کے علاوہ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے ۔
(۸)کتاب المفرد ؔمیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ۔
(۹) بزارؔ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ۔
(۱۰)ابن شیبہؔ اورطبرانی ؔنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، کچھ فرق سے بیان کیا۔
{۴} حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، کہ میں نے صحا بہ کی ایک جماعت سے کہا، کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز، سب سے زیا دہ یا د ہے۔
رأیتہ ﷺاذا کبر جعل یدیہ حذاء منکبیہ ،واذارکع امکن یدیہ من رکبتیہ، ثم ھصر ظھرہ، فاذا رفع راسہ استوی، حتی یعود کل فقار مکانہ، فاذا سجد وضع یدیہ غیر مفترش ولا قابضھما واستقبل باطراف اصبع رجلیہ القبلۃ، فاذا جلس فی الرکعتین ،جلس علی رجلہ الیسری ونصب الیمنی۔
(۱۱۔ بخاری،۱۲۔ابو داؤد،۱۳۔مشکوۃ،)
میں نے دیکھا ،کہ جب نبی ﷺ تکبیر تحریمہ کہتے، تو ہاتھوں کو کندھے تک اٹھاتے۔ اور جب رکوع کرتے، تو گھٹنوں کو ہا تھوں سے پکڑتے اور کمرسیدھی کرتے، جب سجدہ سے سر اٹھا تے ،تو اس طرح سیدھے کھڑے ہوتے ،کہ کمر کی ہڈی کے تمام مہرے اپنی جگہ آجا تے، اور جب سجدہ کرتے، تو ہاتھوں کو زمین پر رکھتے، نہ ان کو سُکڑ تے، اورنہ کہنیوں کو زمین پر بچھاتے، اور پیروں کی انگلیوں کا رخ، قبلہ کی طرف رکھتے، اور دو رکعت کے بعد بائیں پاؤں پر بیٹھ کر سیدھا پیر کھڑا کرتے۔
اس حدیث میں، حضور ﷺ کی نماز کی ،پوری کیفیت بیان کی گئی ،جس میں صرف ایک بار، تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھا نے کا ذکر ہے، اس کے بعدہاتھ اٹھا نے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر رکوع کے بعد بھی رفع یدین ،نبی اکرم ﷺ کرتے ہوتے، یا اس کا حکم ہوتا ،تو حضرت ابو حمید سا عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا ذکر کیوں نہ کرتے؟
{۵} حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ ہم سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما یا ۔
الا اصلی بکم صلاۃ رسول ﷲ ﷺ، فصلی ولم یرفع یدیہ۔ الا مرۃ واحدۃ مع تکبیرۃ الا فتتاح۔
(۱۴۔مجمع الزوائد،۱۵۔ ترمذی، ۱۶۔ابوداؤد، ۱۷۔نسائی، ۱۸۔ابن ابی شیبہ، ۱۹۔طحاوی، ۲۰۔عبدالرزاق)
کیا میں تمھارے سامنے رسول اللہ ﷺکی نماز نہ پڑھوں؟ تو آپ نے نماز پڑھی۔ اس میں سوائے تکبیر تحریمہ کے، کسی موقع پہ ہاتھ نہ اٹھائے۔
{۶}حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،
انہ رأالنبیﷺ حین افتتح الصلوۃ، رفع یدیہ حتی حاذی بھما اذنیہ، ثم لم یعد الی شیئی من ذالک، حتی فرغ من صلاتہ
(۲۱۔دار قطنی)
کہ انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ،کہ جب حضور ﷺ نے نماز شروع کی تو ہاتھ اتنے اٹھا ئے کہ کانوں کے مقابل کردئے، پھر نماز سے فارغ ہونے تک کسی جگہ ہاتھ نہ اٹھائے۔
{۷} حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دوسری روایت ہے ، فرمایا۔
ان رسول ﷲ ﷺ کان اذاافتتح الصلوۃ رفع یدیی الی قریب من اذنیہ، ثم لایعود۔
(۲۲۔ ابوداؤد)
بے شک رسول ﷲ ﷺ جب نماز شروع کرتے، تو کانوں کے قریب تک ہاتھ اٹھاتے تھے۔ پھردوبارہ ایسا نہ کرتے۔
{۸}امام بخاری اور امام مسلم کے استاذ، امام حمیدی نے اپنی مسند میں ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، کہ نبی ﷺ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت، رفع یدین کرتے تھے، اور رکوع کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (۲۳۔مسند حمیدی)
{۹} حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔
صلیت مع النبی ﷺ مع ابی بکر ومع عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فلم یرفعوا ایدیھم الا عند التکبیرۃ الاولی فی افتتاح الصلوۃ۔
(۲۴۔ دار قطنی)
میں نے نبی ﷺ حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نمازپڑھی یہ لوگ نماز کے شروع میں صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے۔
یہاں تک تو نبی اکرم ﷺ سے، مرفوع حدیثیں تھیں۔ اب صحا بۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی احادیث ملاحظہ فرمائیں ،اس لئے کہ صحابۂ کرام کا قول و فعل بھی مسلمانوںکےلئے دلیل ہے۔ اور صحابہ کی حدیث کو بھی، حدیث کہتے ہیں، اور صحابہ کی بکثرت احادیث، بخاری، مسلم اور دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
اَصْحَابِیْ کَا لنُّجُوْمِ، بِاَ یِّھِم اِقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُم ۔
(مشکوۃ)
میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں، ان میں جن کی پیروی کروگے، ہدایت یاب ہوجاؤگے۔
{۹}حضرت مجاہد سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا۔
صلیت خلف ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما، فلم یکن یرفع یدیہ الافی التکبیرۃ الاولی من الصلوۃ ۔
(۲۵۔طحاوی،۲۶۔ ابن ابی شیبہ )
میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پیجھے نماز پڑھی ،آپ نماز میں پہلی تکبیر کے سوا کسی وقت ہا تھ نہ اٹھاتے۔
{۱۱} حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔
انہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرۃ الاولی من الصلوۃ، ثم لایرفع فی شیئی منھا۔
(۲۷۔بیہقی،۲۸۔ طحاوی،۲۹۔ مؤطا )
کہ آپ نماز کی پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے ،پھر کسی حالت میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔
{۱۲}حضرت اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رأیت عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود ۔
( ۳۰۔طحاوی شریف)
میں نے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ،کہ آپ نے پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھائے ،پھر نہ اٹھا ئے۔
{۱۳} حضرت سفیا ن (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں کہ
فرفع یدیہ (عبدﷲبن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فی اول مرۃ وقال بعضھم مرۃواحدۃ ۔
(۳۱۔ ابوداؤد شریف، ۳۲۔مؤطا)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی بار ہی ہاتھ اٹھاتے۔ بعض راویوں نے فرما یا کہ ایک ہی دفعہ ہا تھ اٹھاتے۔
{۱۴} حضرت عبدالعزیز بن حکیم (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے کہا کہ
رأیت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما، یرفع یدیہ حذاء اذنیہ فی اول تکبیرۃ افتتاح الصلوۃ، ولم یرفعھما فی ما سوی ذلک ۔
(۳۳۔ مؤطا شریف )
میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نماز کے شروع میں تکبیر اولی کے وقت اپنے ہا تھ، کانوں کی لو تک اٹھاتے دیکھا۔ اور اس کے علاوہ وہ ہاتھ نہیںاٹھاتے تھے۔
{۱۵}حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرما یا ۔
ان العشرۃ الذین شھد لھم رسول اﷲ ﷺ بالجنۃ، ماکانوا یرفعون ایدیھم الا افتتاح الصلوۃ ۔
( ۳۴۔فتح القدیر،بدائع الصنائع،اعلاء السنن)
وہ دس( عشرہ مبشرہ )صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جن کے جنتی ہو نے کی رسول اﷲ ﷺ نے گواہی دی ان میں سے کوئی بھی تکبیر تحریمہ کے علاوہ، رفع یدین نہیں کرتا تھا۔

رَفع یدین کی حدیث بھی آئی ہے مگر وہ منسوخ ہے

{۱۶} حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے
انہ رأی رجلا یرفع یدیہ فی الصلوۃ عند الرکوع وعند رفع راسہ من الرکوع ،فقال لہ لا تفعل فانہ شیئی فعلہ رسول اﷲ ﷺ ثم ترکہ ۔
(۳۵۔عینی شرح بخاری)
کہ آپ نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھاتے دیکھا ،تو اس سے فرمایا کہ، ایسا نہ کرو۔ کیونکہ یہ وہ کام ہے جو رسول اللہ ﷺ نے پہلے کیا تھا،پھر چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، کہ رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت، رفع یدین (ہاتھ اٹھانے) کی حدیث منسوخ ہے۔
{۱۶} بعض صحابہ کرام تکبیراولیٰ کے علاوہ، رکوع میں جاتے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے ،اس سے منع کیا گیا ۔ حدیث یہ ہے۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ۔
مالی اراکم رافعی ایدیکم، کانھا اذناب خیل شمس، اسکنوا فی الصلوۃ۔
(۳۶۔ صحیح مسلم،۳۷۔ مسند امام احمد بن حنبل،۳۸۔ابو داؤد، ۳۹۔نسائی،۴۰۔بیہقی، بہار شریعت)
یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو (بار بار) ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں ،جیسے چنچل گھو ڑے کی دُمیں،نماز میں سکون کے سا تھ رہو۔
بار بار ہاتھ اٹھا نا، گرانا، یہ سکون و اطمینا ن کے خلاف حرکت ہے، اس لئے اس سے روکا گیا۔ اورنبی اکرم ﷺ نے خود اس سے منع فرمادیا۔
اس حدیثِ مرفوع سےبھی معلوم ہوا، کہ بار بار ، رفع یدین کرنا(ہاتھ اٹھانا) منسوخ ہے۔
چند اکابر صحابہ کرام کے نام، جو صرف پہلی تکبیر کے وقت ہا تھ اٹھاتے تھے۔
حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت زبیر بن العوام، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔یہ تو عشرہ مبشرہ ہیں جنھیں جیتے جی، دنیا ہی میں نبی اکرم ﷺ نے جنت کی بشارت سنادی تھی۔
ان کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت براء بن عازب، حضرت جابر بن سمرہ، حضرت ابو سعید خدری، حضرت عبد اللہ بن زبیر وغیرہم، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین،یہ وہ اکابر صحابہ ہیں جن کے بارے میں روایت موجود ہے کہ وہ تکبیرتحریمہ کے علاوہ اور کسی موقع پر رفع یدین نہیں کر تے تھے۔ (نزھتہ القاری شرح بخاری جلد ۳ ص۲۰۰)

خلاصۂ کلام

مذکورہ بالااحادیث اور دلائل وبراہین سے دن کے اجالے کی طرح یہ واضح ہوگیا کہ پنجگانہ نماز کے شروع میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا سنت ہے۔ رکوع سے پہلے اوررکوع کے بعدرفع یدین کی حدیث منسوخ ہے۔ یہی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاﷲ علیہ کا فتوی ہے،جو بکثرت احادیث و سنن سے ثابت ہے ، ان کا کوئی فتوی سنت کے خلاف نہیں ہوتا،جو ان کے فتوی کو خلاف سنت بتائے وہ یاتو ان کا حاسدہوگا یا دشمن۔
اس مختصر رسالے میںصرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھا نے پر حدیث وفقہ کی۴۰ مشہور ومعروف اورمستند کتا بوں کے حوالہ سے سترہ احادیث کریمہ پیش کردی گئی ہیں، جو حق پسند کو ، حق قبول کرنے کے لئے کا فی ہیں…مزید تفصیل کے لئے حضرت مولانا ظفر الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح البہاری شریف، اور حضرت مولانا احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور ومعروف کتاب ْجاء الحقْ کا مطالعہ فرمائیں۔
وَاللّٰہُ الْھَادِی وَالمُعِیْنُ ، نِعمَ المَولٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ، وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰ لِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ ، بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
۵؍ صفر۱۴۲۳ھ ۲۱؍ اپریل ۲۰۰۲ء

مینو