حافظ ملت کی سیاسی بصیرت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْم
’’حافظ ملت کی سیاسی بصیرت‘‘

سیاست کا لغوی معنی انتظام ،معاملات کی نگہداشت ،تدبیرملکی ،سربراہی ،پالیسی، حکمتِ عملی ۔
سیاسی :سیاست داں ، سیاست میں حصہ لینے والا۔
حافظِ ملت علیہ الرحمہ: اس بزرگ، وجلیل القدرشخصیت کا نام ہے ، جن کے بچپن ، جوانی، بڑھاپا، طالبِ علمی اور زمانۂ تعلیم وتدریس جس دَور کوبھی دیکھاجائے درخشاں وتابندہ نظر آتا ہے ۔
’’حافظِ ملت‘‘ اس درد مندِ قوم کا نام ہے، جس نے اپنی زندگی کی ساری توانائیاں قومِ مسلم کیلئے وقف فرمادیں ۔
’’حافظِ ملت‘‘ علم وشعور کے اس عاشق صادق کا نام ہے ،جس نے علم وفن کے حصول اوراس کی تر ویج واشاعت میں اپناتن من دھن سب قربان کردیا۔
’’حافظِ ملت‘‘ اس محبِّ رسول( ﷺ) کانام ہے، جو اپنے رسول( ﷺ)کی ہرہراداپہ جان قربان کرنے کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہے ۔حکم ِرسول (ﷺ )کے آگے ہمیشہ ان کی پیشانی خم رہی۔ طاعتِ رسول (ﷺ ) سے ، بال برابر، تجاوزوانحراف کرتے ہوئے انہیں، نہیں دیکھاگیا۔
’’حافظِ ملت‘‘ اس رہنمائے قوم کا نام ہے جس نے ہمیشہ اپنی قوم کو سر بلند دیکھنے کے لئے مخلصانہ جِدُّوجَہد میں عمرعزیزصرف کردی ۔
’’حافظِ ملت‘‘ بے شمار خوبیوں کے مالک، بے پناہ صفات کے جامع، بے شمار خصوصیات کے حا مل ہیں، ان کی ہر خوبی، ہر صفت، اس لائق ہے کہ اس پر بہت کچھ لکھا جائے۔
’’حافظِ ملت‘‘ کی زندگی کا جو گوشہ، میں زیرِعنوان لاناچاہتا ہوں وہ حافظ ملت کا سیاسی تدبرہے ۔
’’حافظ ملت‘‘ کو اس صفت کے ساتھ کم لوگ پہچانتے ہیں ۔کچھ لوگ توسیاست کو مذہب سے جداتصور کرتے ہیں۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اہل مذہب کو، سیاست سے الگ رہناچاہئے۔آج کل کے کچھ سیاسی افراد سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مذہب کو دور ہی سلام کرتے ہیں ۔اور مذہب پر ثابت قدمی کو سیاست کادشمن سمجھتے ہیں ۔
ایک اخبار میں اپنے کو سیاست کا ٹھیکیدار سمجھنے والے ایک لیڈر کا بیان جب میری نظر سے گزراتو میں متحیررہ گیا۔ وہ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سیاست ہے مذہبی رہنمااور مولویوں کو اس سے کیا کام ،انہیں قطعاًسیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے ، نہ انہیں اس سلسلے میںکوئی مشورہ دیناچاہئے۔
اس طرح کا خیال رکھنے والے افراد کو میںباور کراناچاہتا ہوں کہ قطعاًمذہبِ اسلام سے، سیاست وحکومت جدانہیں،کسی اور مذہب سے جداہوتوہو۔اسلام ہر گزاپنے ماننے والوںکو سیاست وحکومت سے الگ نہیں کرتا۔
بے شمار قرآنی آیات ،احادیث کریمہ ،اقوالِ صحابہ وتابعین، فرموداتِ سلَف وخلَف ،سیاست وحکومت کی جانب رہنمائی کرتے ہیں، اور اپنے متبعین کو اس کے صحیح طریقۂ کار سے روشناس کراتے ہیں ۔
خود نبی اکرم تاجداردوعالم ﷺنے حکومتِ اسلامی کی داغ بیل ڈالی اور سیاست وحکومت کا سچاطریقہ سکھایا۔سرکاردوعالم ﷺکے جانشین صحا بۂ کرام (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)نے دورِخلافتِ راشدہ میں اسلامی سیاست وحکومت کو کہاں سے کہاں تک پہونچادیا۔
امیر المؤمنین ،حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف مثال میں لے لیجئے۔ان کی سیاست سے دنیاکی بڑی بڑی حکومتیںتھرا اٹھیں۔اسلام کاجھنڈا ،عرب کے صحراسے نکل کر قیصروکسریٰ کے محلات پرلہرانے لگا۔
حضرت عمر بن عبد العزیزاموی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ،ایک جلیل القدرعا لم اور محدث ہونے کے باوجودخلافت کی باگ ڈوراپنے ہاتھوں میںلے کراپنی بے مثال اصلاحات، دنیاکے سامنے پیش کرکے یہ ثابت کردیاکہ درحقیقت اسلامی سیاست ہی انسان کو اطمینان وسکون دلاسکتی ہے ۔
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے خلیفۂ خاص حضرت قطب الدین بختیارکا کی، کی خانقاہ کے ایک تربیت یافتہ سلطان شمس الدین التمش نے سرزمینِ ہند پر سلطانی کرکے، کیا یہ یقین نہیں دلایا؟کہ کسی خانقاہ کاتربیت یافتہ ادنی غلام بھی ،جہاں بانی کے وہ جوہر دکھاسکتاہے جہاں بڑے بڑے مذہب بیزار لیڈران، پہنچنے کاخواب بھی نہیں دیکھ سکتے ۔
اسلام اور سیاست ، ایک مستقل عنوان ہے، جس پر کوئی قلمکار اپنے قلم کو جنبش دے توبے شمار مواد،اکٹھاہوسکتے ہیں ۔
میں اس وقت صرف حافظِ ملت کی سیاسی بصیرت پرگفتگو کرناچاہتاہوں اور اس خیالِ خام کی تردیدکرتاہوں جومذہبی رہنماکوسیاست سے الگ کرنے کا حامی ہے ۔
قوم مسلم کو جب بھی جس قسم کی ضرورت پیش آئی، حافظ ملت نے ان کی دستگیری فرمائی ،اسی طرح سیاست میں بھی اپنی قوم کوراہ راست پرلگانے سے دلچسپی لی اور مستقل سیاست میںحصہ لیا۔بلکہ حافظِ ملت نے ہندوستانی سیاست پرایک مستقل رسالہ’’الارشاد‘‘کے نام سے تصنیف فرمایا۔
میں اِس وقت آپ کو ہندوستان کی سیاست کے اس موڑ پرلے جاناچاہتاہوں جوحصولِ آزادی کے نام سے جاناجاتاہے ۔ ۱۹۴۷ءسے قبل ہندوستان نے سیاست کے بڑے بڑے کھیل دیکھے ہیں ۔کہیں تحریکِ خلافت تھی، توکہیں ترکِ موالات ،کبھی کانگریس ، تنہا ہندومسلمان دونوںکی نمائندگی کادعوٰ ی کرتی تھی، توکبھی مسلم لیگ صرف مسلمانوںکی قیادت کادم بھرتی تھی ۔ غرض کہ اس موڑ پر ہر فن کارِسیاست، مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی فکر میں تھا۔اس موقع پرحافظِ ملت نے کس طرح قوم کی رہنمائی کی ،اس کا ایک عکس آپ کے سامنے پیش کررہاہوں ۔
حصول ِآزادی کی کوشش اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے ’’آل انڈیاسنی کا نفر نس ‘‘ کاانعقادعمل میںآیا۔اس تنظیم نے سیاست اور حصول آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔اس سے متعلق اپنی جدوجہدکے بارے میں حافظِ ملت یوں رقمطراز ہیں :
’’یہ خادم ،اپنے عقیدتمندانہ جذبات کے ساتھ، سنی کانفرنس کی خدمت کے لئے تیارہوا ۔ حسب الحکم حضوروالا(محدث اعظم حضرت مولانا سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ) مبارک پورمیںضلع سنی کانفرنس قائم کی ۔اطراف میںاس کی شاخیں پھیلائیں نہایت جدوجہدسے کام ہوا۔چنانچہ ڈھائی ہزارسنی مسلمان باضابطہ اس کے ممبربنائے۔ (الارشاد ص۱۶)
اس وقت ہندوستان میں دو عظیم سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں ’’انڈین نیشنل کانگریس ‘‘ اور ’’مسلم لیگ ‘‘ باقی سبھی چھوٹی جماعتیں ان میں سے کسی کے ساتھ ضم ہو گئیں ۔
کانگریس کا دعویٰ ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے چھڑا کر ہندو ، مسلم ،سکھ ، عیسائی ، سبھی ہندوستانیوں کی ملی جلی جمہوری حکومت کاقیام تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ ہندو مسلمان مل کرانگریزوں کو بھگائیں، انھیں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیں ۔اورملک کوان کی غلامی سے نجات دلائیں۔
انگریزوں کو ہٹانا تنہا کانگریس کے بس کی بات نہ تھی ،نہ وہ اپنے اند ر سکت ہی پارہے تھے، اس لئے مسلمانوں کا سہارا لیا۔
ادھر مسلم لیڈر ان نے مسلم لیگ کے نام سے الگ ایک تنظیم بنائی ۔بہت سے مسلمان تو پہلے ہی سے کانگریس کے خلاف تھے، ان کی دو رخی پالیسی کا پہلے ہی سے تجربہ حاصل ہوچکا تھا، مگر کوئی سیاسی تنظیم ابھرکر سامنے نہیں آئی تھی ،لیگ کی آواز بلند ہوتے ہی مسلمان لیگ میں، فوج در فوج داخل ہونے لگے، لیگ میں مسلمانوں کی شمولیت کا اندازہ ذیل کی تحریر سے لگایا جاسکتاہے۔
حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اُس وقت کی عکاسی اپنے الفاظ میں یو ں کرتے ہیں :’’ وہ مسلمان جو کانگریس کے خلاف مصروف ِعمل ہونے کے لئے بے چین تھے ،مسلم لیگ کی طرف ٹوٹ پڑے اور انتہائی جوش و خروش کے ساتھ اس کی تائید و تقویت کرنے لگے ، تھوڑے ہی عرصہ میں ہندوستان کے طول وعرض میں لیگ پھیل گئی اور اس شان سے پھیلی کہ بہیتری خانقاہوں سے مشائخِ کرام تسبیح ومصلّٰی، پھینک پھانک کر اس کی صف میں آنے لگے ۔ بہتیرے مدرسوں سے علماء بغلوں میں قرآن و حدیث دبائے ہوئے د و ڑ پڑے ۔ (اشک رواں ص۲۰)
لیگ کی جانب اس دوڑ میں سنی کانگریس کے نمائندے بھی شامل ہوئے ۔ انہوں نے اپنی تحریر و تقریر ، تدبیر و تجویز جان و مال ، ہر طرح سے لیگ کی حمایت کی ۔لیکن بھلا ہو سنی کانفرنس کے ضلعی نمائندے حافظ ملت علیہ الرحمہ کا اُن کی دور بیں نگاہوں نے لیگ کو فوراً بھانپ لیا ۔کہ لیگ، کانگریس سے جدا کوئی نظر یہ نہیں رکھتی ۔ اسلامی حکومت کا قیام ، ان کا مقصد بھی نہیں، جو فرق ہے وہ صرف دکھاوے کاہے۔
کانگریس اور لیگ میں یکسانیت : کانگریس کاخیا ل تھا کہ تمام ہند و ستا نیو ں کی ملی جلی ایک جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آئے جس میں مذہب ، ذات ، رنگ و نسل کا کو ئی امتیاز نہ ہو ۔
لیگ کاخیال تھاکہ ہندوستان سے الگ، بنام پاکستان ایک جمہوری حکومت وجود میں آئے ،
جس کی تشریح ، مسڑ محمد علی جناح صاحب نےیو ں کی ۔
’’پاکستان میں حکومت الٰہیہ ہر گز قائم نہیں ہو سکتی ــ، پاکستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہو گا ۔ جس میںغیر مسلموں کا بھی حصہ ہو گا ۔ پاکستان میں کٹھ ملائوں کی حکومت نہیں ہوگی ۔
(الارشادص۱۷)
دونوں نظریات پر غور کیا جائے ۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟ دونوں جمہوری اسٹیٹ، اورلادینی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں ، دونوں سیکولرازم کے خواستگار ہیں ۔ دونوں میںکوئی بھی اسلامی نظامِ حکومت کاخواہش مند نہیں ۔
حافظِ ملت کی دور بیں نگاہیں اسی وقت دیکھ رہی تھیں اور قیام پاکستان کےمنصوبے کو بخوبی سمجھ رہی تھیں ۔ کہ یہ صرف سیاسی قیادت کی جنگ ہے ۔ نہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہوگی نہ ہندوستان میں ۔ کانگریسی کھل کر جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور اہل لیگ اسلام کالیبل چسپاں کرکے جمہوری اسٹیٹ قائم کرنے کی فکر میں ہیں۔
اسلامی نظام اورجمہوری نظام میں کتنا عظیم فرق ہے۔ اہل علم پرمخفی نہیں ۔
بانیان پاکستان نے بڑے زور و شور سے اسلام اور مسلمان کا نعرہ بلند کیا، جس کے نتیجے میں یقیناً پاکستان بن گیا۔ مگر یہ بتایا جائے کہ کیا وہاں اسلامی حکومت قائم ہوگئی ؟ کیا وہاں کے مسلمان مطمئن ہو گئے ؟ کیا وہاں احکامِ اسلا م جاری ہوگئے ؟ وہاں نظام مصطفیٰ نافذ ہوگیا؟ کیا وہاں اسلامی احکام بر سر عام پامال نہیں ہورہے ہیں ؟
اسلام کے نام پر لیگیوں کی حمایت ان کے ہر کردارو عمل کی حمایت تھی ۔ جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جان قربان کردی مگر یزید کی حمایت کے لئے تیار نہ ہوسکے تو انہیں کا ایک شیدائی و فرما ںبردار عاشق ، ملت کا نگہبان کیسے ان کی حمایت کرتا؟
سنی کانفرنس کے نمائندوں نے لیگ کی بھر پور حمایت و تائید کی ،اُس دور میں لیگ کے نیتائوں کو اسلام کا نمائندہ تصور کیا جاتا تھا ۔
حافظ ملت بھی سنی کانفرنس کے خصوصی نمائندہ تھے ،اگر سنی کانفرنس خود خالص مسلمانوں کانمائندہ بن کر اسلامی اسٹیٹ کی کوشش کرتی توحافظِ ملت یقیناً ان کے شانہ بشانہ نظر آتے جیسا کہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہے ۔ لیکن اس وقت لیگ کے ساتھ لوگوں کا اعتقاد راسخ تھا، حافظ ملت کی باتوں پر کیوںکر کوئی کان دھرتا۔
سنی کانفرنس نے بھی لیگ کی پرزور حمایت کی ۔ لیکن خود لیگ نے اس کو بالکل نظر انداز کردیا۔ سنی علماء و مشائخ کو کہیں بھی نمائندگی نہیں دی گئی ۔ لیگ میں سنیوں کی حیثیت کیا تھی اس کانقشہ ایک مقام پر حافظ ملت نے یوں کھینچا ہےـ:
سنیوں کاکام یہ ہے کہ لیگ کے جھنڈے اٹھائیں ، لیگی لیڈروں کاشاندار استقبال کریں،مسلم لیگ زندہ باد ، قائد اعظم زندہ باد کے نعرے لگائیں ۔ لیگ کے جلسوںکا پنڈال سجائیں ۔ کمر بستہ ہو کر جگہ صاف کریں ۔ فرش بچھائیں ، لیگ کے جلسوں کو خو ب کامیاب بنائیں ۔ الکشن میںلیگ کا ورک کریں ۔ خوب دوڑ دھوپ کریں ، بڑی جد و جہد کے ساتھ سنی مسلمانوں سے لیگ کے لئے بڑے بڑے چندے کریں ، لیگی نمائندوں کی کامیابی کے لئے گراں قدر رقمیں صرف کریں ۔ ہر امکانی کوشش ختم کرکے لیگ کو کامیاب بنائیں ۔ اور بس ۔ (الارشاد ص ۸)
غیر سنیوں کا حال یہ ہے کہ : ’’ وہ لیگ میں فرماں رواہیں ۔ حاکم ہیں ، مخدوم ہیں ، سنی اکثریت کی تمام خدمات انہیں کے اعزاز و اقتدار کی نذ ر ہیں ، وہ مختار ہیں، سیاہ سفید کے مالک ہیں ۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ۔ (الارشاد ص۱۴)
جس وقت لیگی لیڈروں کو عام مسلمان مذہبی اور روحانی مسیحا خیال کرتے تھے اور ان سے اسلامی حکومت کی خام توقع وابستہ کئے تھے اس موقع پر حافظ ملت کی سیاسی بصیرت کا ایک ایمان افروز بیان ملاحظہ فرما یئے:
’’جب الکشن کا دور شروع ہوا ۔ کارکنان سنی کانفرنس نے لیگ کی حمایت شروع کردی ، منفرد اً مجتمعا ہر طرح لیگ کی تائید کرتے رہے۔ بڑے بڑے عمائد کانفرنس نے، پوری طاقت سے لیگ کا ورک کیا ، چنانچہ ان کی محنتوں کا نتیجہ یہ شائع ہوا کہ لیگ کی نوے فیصد کامیابی کا سہرا سنی کانفرنس کے سر ہے ۔ کارکنان سنی کانفرنس کی اس لیگ نوازی سے خادم متاثر ضرور تھا ،تاہم اس کی تاویل کرتا تھا اور اس کو ان حضرات کی شخصی اور مقامی خصوصیت پر محمول کرتا تھا ۔ یہ خیال کرتا تھا کہ سنی کانفرنس بنارس کے اجلاس میں اس کی تلافی ہو جائیگی مگر بنارس کے اجلاس کا دعوت نامہ آیا تو اس میں مقاصد سنی کانفرنس میں پاکستان اور لیگ شامل ہے۔
اگر چہ پاکستان کی تفسیر بایں الفاظ ہے‘‘۔
’’آئین شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فقہی اصول پر ایک آزاد بااختیا ر حکومت کا مطالبہ ‘‘ لیکن سنی کانفرنس کی طرف سے یہ الفاظ پاکستان کے لئے صرف دعائیہ ہو سکتے ہیں بطور مطالبہ ہرگز نہیں ۔اس لئے کہ پاکستان لیگ کا مطالبہ ہے جو تمام مسلمانوں کی واحد نمائندگی کی مدعی ہے۔ اور سنی کانفرنس نے اپنی تائید سے لیگ کے اس دعوے کو حکومت برطانیہ سے منوا دیا ہے، لہذا اگر سنی کانفرنس کی تائید و حمایت سے بالفرض پاکستان ملا بھی تو لیگ کو ملے گا اور وہ لیگی پاکستان ہوگا ۔ جس کی تشریح مسٹر جناح نے بارہا کی ہے پاکستان مین حکومت الٰہیہ ہرگز قائم نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔پاکستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہو گا ۔ جس میں غیر مسلموں کا بھی حکومت میں حصہ ہوگا ۔
لیگی اخبار تنویر ۱۲؍اپریل (۱۹۳۹ء) میں ہے ۔ قائد اعظم نے کہا، پاکستان میں کٹھ ملائوں کی حکومت نہیں ہو گی ، لہذا اب پاکستان کی وہ تفسیر جو سنی کانفرنس کر رہی ہے کیا معنی رکھتاہے ؟ اگر کوئی معنی ہو سکتاہے تو یہ کہ اس تفسیر سے مسلمان متاثر ہو کر حمایت پاکستان میں زیادہ سے زیادہ قربانیاں پیش کریں ۔ اور بس۔ (الارشادص ۱۶،۱۷)
لیگیوں کے ایک پرانے لیڈر راجا محمود آباد نے اپنے بیان میں یوں کہا ۔۔۔’’افسوس ہے کہ آج چالاکی سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے کے سوالات اٹھاکر مسلمان میں نااتفاقی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اسلام میںکوئی اختلاف نہیں ۔ مگر ہاں سیاست میں ہے، آج مذہب کے نام سے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔۔۔ہمارے مولوی مولانا کہلانے والے ہم کو ملیا میٹ کررہے ہیں ۔انہوں نے مذہبی دوکانیں کھول رکھی ہیں ۔ ان سے ہم کو بچنا چاہئے۔
(روز نامہ اخبار انصاف بمبئی مورخہ ۱۳؍جولائی ۳۹ ۱۹ ء نمبر ۱۱۰حاشیہ الارشاد ص ۱۷ ، از علامہ مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی )
سنی کانفرنس نے جب پاکستان کے لئے ’’آئینِ شریعت اسلامیہ کے مطابق فقہی اصول پرایک آزاد بااختیار حکومت کے مطالبہ ‘‘ کا اعلان کیا تو حافظ ملت نے اسی وقت کتنا صاف صاف بیان کردیا کہ سنی کانفرنس کی طرف سے یہ الفا ظ پاکستان کے لئے صرف دعائیہ ہو سکتے ہیں بطور مطالبہ ہرگز نہیں ۔ پھر آنے والے وقت نے یہ ظاہر کردیا کہ یقینا ًپاکستان اسلامی حکومت نہیں بلکہ لیگی حکومت ہے اور ساڑھے تیرہ سو برس پہلے کی حدیثیں اور صحابہ کرام و ائمہ مجتہدین کے اقوال پیش کرنے والے شخص کو نا اتفاقی پھیلانے والا ، اختلاف کرنے والا کہہ کر اس طرح نظر انداز کیاگیا، کہ سنی کانفرنس کے ارکان بھی دنگ رہ گئے ۔
لیگ نے مسلمانانِ اہلِ سنت کے عقائد و نظریات پر کس قد ر برا ، اثر ڈالااس کا ایک مقام پر حافظ ملت نے یوں ذکر کیا۔
’’جس کے زہر یلے نتائج مذہب پر،اس قدر اثر انداز ہوئے کہ تصلب فی الدین کا خاتمہ ہوگیا۔ اور اس کی خوش عقیدگی ،لیگ سے اس قدر بڑھی کہ خواہ قادیانی ہو یا رافضی ، دیوبندی ہو یا خارجی اگر وہ لیگی ہے سنی مسلمان اس کی تعظیم و توقیر کے لئے تیار ہیں ۔
مبارکپور کے سنی اپنی مذہبی خصوصیت میں ممتاز تھے مگر لیگ کی خوش عقیدگی نے ان سےاشرف علی تھانوی کے خلیفہ ظفر احمد تھانوی (دیوبندی)کا استقبال کرایا اس کالکچر سنوایا ۔ اس کے پیچھے نماز پڑھوائی ، اس کے پیر کے موزے دھلوائے ۔ غرضیکہ بڑی دھوم سے اس کی تعظیم و تکریم کرائی ۔۔۔۔ اگر مسلمانان مبار ک پورپر لیگ کابھوت سوار نہ ہوتا تووہ ہرگز ایسانہ کرتے ۔(الارشاد ص۱۸)
لیگ کے اِن سیکولر اثرات سے متاثر ہونے اور اس کے عواقب و انجام پر غور وفکر کرنے کے بعد آخر کار حافظ ملت نے ۱۳؍جمادی الاولیٰ۱۳۶۵ھ مطابق ۱۶؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو سنی کانفرس کی لیگ نوازی کی بنیاد پراس کی نمائندگی سے استعفا ء پیش کردیا۔ تقریر اً و تحریر اً ہرطرح، ناراضگی اور برأت کا اظہار فرمایا ۔
حافظ ملت میں دور اندیشی ، معاملہ فہمی ، نکتہ سنجی ،انجام رسی ، قوت فکر ، مستقبل پرنظر حد درجہ تھی ۔ بعض پیش گوئیوں کو توآپ اِس اذعان و یقین سے بیان کرتے کہ گویا لوح محفوظ پر دیکھ لیاہے ۔ معاصرین میں سے کسی کی جہاں گہرائی و گیرائی تک سوچ بھی نہیں پہونچ سکتی حافظ ملت کی نظریں وہاں جمی رہتیں ۔
آج کل کی سیاست، مذہب بیزاری ، دروغ گوئی ، کذب بیانی ، وعدہ خلافی ، مکروفریب ، ظلم وستم ، جبر واستبداد ، ناانصافی ، رشوت ستانی ، غرضیکہ بیشمار برائیوں کا پیش خیمہ ہے اور سیاست کی خوبیاں ان برائیوں کے ساتھ اس طرح حلول کرگئی ہیں کہ اچھے اور برے سیاسی نیتائوں کو پہچاننا دشوارہی نہیں بلکہ نا ممکن ساہوگیا ہے۔ جس کو لوگ رہبر سمجھتے ہیں رہزن نکل جاتاہے ۔ لیکن ۔ حافظ ملت ان نیتائوں کی خوبیوںاور خامیوں کے پرکھنے میں ید ِطولیٰ رکھتے تھے اور دودھ کادودھ ، پانی کاپانی الگ کردینے پر انھیںبے پناہ قدرت حاصل تھی۔
حافظ ملت کاخیال تھا کہ سنی کانفرنس تمام سنیوں کی حمایت سے خود اپنے طور پر اسلامی حکومت کا مطالبہ کرے ۔ لیگ میں ہرگز شامل نہ ہو، نہ اس کی حمایت کرے ۔ یہ کوئی مشکل نہ تھا یہ فیصلہ کثرت تعداد کی بنیاد پر مبنی تھا اور سنیوں کی کافی اکثریت موجود تھی، اس وقت سنیوں کی اکثریت کا اندازہ ذیل کے جملوں سے لگایاجا سکتاہے۔
’’مسلمانانِ اہل سنت کی اتنی اکثریت ہے کہ اگر ایک دم سارے سنی مسلمان خلافت کمیٹی ( یا مسلم لیگ ) سے نکل جائیں تو کوئی مجھے بتادے کہ خلافت کمیٹی ( یا لیگ ) کسے کہا جائے گا ؟ اس کادفتر کہاں رہے گا ؟ اس کا جھنڈا سارے ملک میں کو ن اٹھائے گا ؟ ان حقائق میں کیا اس دعویٰ کی روشنی نہیں کہ خلافت (اور حکومت ) صرف سنیوں کو قائم کرنا ہے۔ ( الارشاد ص۷)
غرضیکہ حافظ ملت جہاں دیگر علوم وفنون میں کافی مہارت اور دستگاہ رکھتے تھے ،سیاست میں بھی ان کی بصیرت و بصارت ممتاز نظر آتی ہے۔
سیاسی رہنمائی کا ایک اہم واقعہ جو مندرجہ بالا ۱۹۴۷ءسے قبل کےواقعات ہی کا ایک جز ہے ملاحظہ فرمائیں ۔
والد گرامی علیہ الرحمہ (جو بڑے متصلب فی الدین اور سیدی اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے بڑے شیدائی تھے، اپنی ذاتی ہمت و جرأت کی وجہ سے کبھی کسی باطل سے دبتے نہ تھے) بیان کرتے ہیں :
جب خوب لیگ، کانگریس کی سیاسی جنگ چھڑی ہوئی تھی ہرایک شخص کسی نہ کسی پارٹی سے جڑا ہو ا تھااور اپنی پارٹی کی حمایت اور مقابل پارٹی کی مخالفت میں جان کی بازی لگانے کے لئے تیارتھا ۔
انھوں نے اہل سنت کے بعض مقتدر علماء کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔ سے اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا ۔ انھوںنے لیگ کو ترجیح دی ، اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی۔
اسی درمیان حافظ ملت علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی عرض حال کیا، عین موقع پہ حافظ ملت نے رہنمائی کی ۔ فرمایا ۔ لیگ اور کانگریس یہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔ (د ونوں سیکولر ہیں )۔۔۔۔۔۔مخالفت مول لینا بے سود ہے ۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ ہی کی یہ دستگیری تھی کہ جو تصلب، مذہب کے بجائے، لادینی سیاست کے لئے استعمال ہو رہا تھا، پھر مذہب کی طرف مڑ گیا ۔
یہ حافظ ملت علیہ الرحمہ کی سیاسی و دینی بصیرت کے چند گوشے تھے ۔ اسی طرح اگر دیگر مواقع کے گوشے یکجا کئے جائیں، تو نہ معلوم کتنے اہم سیا سی واقعات حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ کے دامن سے وابستہ ملیں گے۔

احمد القادری مصباحی
بھیرہ، ولید پور، مئو، یوپی، ہند
۱۴۰۷ ھ ؍ ۱۹۸۵ء

 

الإفادات العلمية لحافظ الملّة

الإفادات العلمية لحافظ الملّة

كتب المقال بالأردية الأستاذ محمد أحمد المصباحي، ونقله إلى العربية محمد مقبول المصباحي، المجمع الإسلامي مبارك فور أعظم جره ، يوپي، الهند.

 

حامدًا ومصليًا ومسلمًا

قضى حافظ الملة حياته كلّها في الدرس والتدريس والدعوة والتبليغ، كانتْ له أشغالٌ وفيرة، ولمّا شرّف ’’مبارك فور‘‘ بقدومه، كان يدرّس كل يوم ثلاثة عشر درسًا، وكان أدنى الدروس درس شرح الجامي، فأخذ المولوي شكر الله المبارك فوري الديوبندي، يبدأ المجادلة المذهبية بالخطبات، ثمّ أخذ يلقي الطرفان الخطبات المنافسية، يخطب حافظ الملة يومًا، والمولوي شكرالله يومًا، وفي تلك الظروف كان طلاب حافظ الملة أيضًا يساعدونه بجهد كامل ونشاط وافر، حتّى كان يقول حافظ الملة: ’’أولئك الطلاب كانوا قوة عضدي‘‘. إنهم يقيّدون بالكتابة الخطبة الكاملة للخطيب المخالف، ويلقونها على حافظ الملة عندما يفرغ من مسؤولياته كلها، أي يبذل ما بين العصر والمغرب من الفرصة في سماع خطبة المخالف وإعداد الطلاب لجواب الجواب، دارتْ هذه المعاملة إلى أربع ونصف من الأشهر متتابعًا، ولكن الشيخ كان يؤدي سواه مسؤولياتٍ كثيرةً من التدريس في أوقاتها وغير أوقاتها ومُداراة الزُوّار وأصحاب الحارة، وغيرها من الأمور الهامّة.

قدم الشيخ ذات مرة إلى ’’جمشيد فور‘‘ قابلًا دعوة الجمعية الأمجدية العزيزية (الموجودة بحارة ’’جگ سلائي‘‘ بمدينة ’’جمشيدفور‘‘) زهاء سنة ألف وثلاث مائة وأربع وتسعين من الهجرة، وفي تلك الأيّام كنتُ أستاذًا في ’’فيض العلوم‘‘، فقدمتُ للّقاء، وبعدَه صلّيتُ المغربَ في المسجد الجامع بـــ’’جگ سلائي‘‘ خلفَ الشيخ، وبعدما قُضيت الصلاة، دخل الشيخ في مقرّه، وأخذتُ أتكلّم مع إمام المسجد الجامع، الشيخ محمد حسين الأعظمي حول أحوال الشيخ حافظ الملة، وفي خلاله قلتُ: ’’إنّ الشيخ لم يترك ثروةً خاصّة في صور التصنيفات، لذا يمكن أن يحرم الجيل القادم من علومه وإفاداته‘‘.

العوائق عن كثرة التصنيف:

ثم أنا أيضًا دخلتُ في مقرّ الشيخ، فقال الشيخ: ’’بفضله تعالىٰ حصّلتُ بالتأكيد على القدرة على الكتابة، وأيضًا على قوة القلم‘‘، ثم قال: ’’ماذا أقول؟، على كل حال كنتُ قادرًا على الكتابة، ونموذجه ’’العذاب الشديد‘‘ كتبتُه ردًّا على ’’مقامع الحديد‘‘ في بضعة أيام، لٰكني كنتُ عجلتُ في كتابته لذا لم يخرج إلى حيز الوجود كما كنتُ أُحبّ، فنسبتُه إلى اسم تلميذي العزيز الفاضل محمد محبوب، نظر الشيخ صدر الشريعة (أستاذ الشيخ، الشيخ أمجد علي رحمه الله تعالىٰ، المتوفّى سنة ألف وثلاث مائة وسبع وستين من الهجرة) ذلك الكتاب وقال: ’’إن الكتاب محكم ومتين، كان ينبغي للحافظ المحترم أن ينشره باسمه‘‘، وقال أرشد (رئيس القلم الشيخ أرشد القادري): ’’إن هذا الكتاب علّمني المناظرة‘‘.

ولم يمكن لي أن أكتب شيئًا بعروض العوائق والموانع وإغراق المسؤوليات مع إني كنتُ قادرًا عليه‘‘. تلميذ (كان الشيخ ذكر اسمه ولكني نسيته) بدأ علىّ قراءة شرح المرقاة (للشيخ عبد الحق الخيرآبادي،وإنه مساوٍ لشرح سلّم العلوم للقاضي مبارك) فبدأتُ التعليق على شرح المرقاة مراعاة لإصرار ذاك التلميذ عليه ولكنه لم يكتمل، لأن التلميذ تخرّج من المعهد وذهب، ثم لم أجد مثل ذاك طالبًا شائقًا لقراءة الكتاب المذكور ليمكن تكميل الحاشية‘‘.

وليس هناك شك في أن جميع الكتابات والمقالات والخطبات للشيخ هي أفضل أمثلة على الكتابة، وأصحابه أيضًا يعرفون مسؤولياته، وإلا لترك لنا ثروة عظيمة بشكل التصنيفات، ولكن الحقيقة هي أن حافظ الملّة لم يترك الكثير من المؤلفات إلا أنه بالتأكيد أخرج العديد من الكتّاب، وكان له دور كبير دائمًا في إلقاء ذوق الكتابة في الطلاب، وخاصة الطالب الذي رأى فيه القدرة على الكتابة والنزوع إليها يضعه في نفس الاتجاه ولذا يمكن للمرء اليوم أن يرى في طلاب حافظ الملّة أفضل كتّاب اللّغة الأردية والعربية والفارسية، ونسأل الله تعالىٰ أن يوفّق لنشر جهود جميع التلاميذ نشرًا عامًا، وأن يجزيهم أجر الخدمة العامة، وهو الموفق وخير معين.

الإفادات الدرسية:

كان تعليم الشيخ أيضًا نادرًا يجمع كمال التفهيم وحسن الإيجاز كليهما مثل خطبته وكتابته وتكلمه، وأحيانًا يبسطه ويفصّله، ولو ألقي النظر إلى ألفاظ ذاك البسط ومعانيها يقال له أيضًا إيجازًا، فالحاصل أن إيجازه وإطنابه كلاهما يكون محكمًا وحاملًا لتحقيقات دقيقة، لٰكن من إهمالنا وتقصيرنا أنّا لم نقيّد بالكتابة هذه الإفادات أيضًا للشيخ مثل خطباته وملفوظاته ووقائعه، فمن ثمراته أني بعد الكثير من الخوض والضغط على الذاكرة لم أتمكن من جمع الإفادات إلا قليلًا، وأعتقد أن الذين يملكون ذاكرات قوية لا تكون أوضاعهم مختلفة جدًا، وأظن أنهم أيضًا لم يتمكّنوا من جمع أكثر من مائة أو مائة وخمسين من الإفادات. بالجملة إن حاول العديد من الطلاب يمكن تكوين مجموعة كبيرة من الإفادات.

 

يمكن الإجابة أكثر من السؤال:

هناك حديث للبخاري: ’’عن ابن عمر عن النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم أن رجلاً سأل ما يلبس المحرم فقال لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسّه الورس والزعفران فإن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا تحت الكعبين‘‘ (ج: 1، ص: 25).

ذكر الشيخ الإفادات الأخرى والكلام التام لهذا الحديث وقال أيضًا: إن الجزء الأخير ’’فإن لم يجد النعلين‘‘ لم يسأل عنه السائل، بل إنه عليه السلام ذكر لتعلم هذه القضية أيضًا.

وقال على ما ذُكر: أُرسل من ’’محمد آباد‘‘ (هي قرية من القرى) استفتاء ’’هل تجوز الصلاة على الرافضي؟‘‘ كتبتُ إجابة مع المباحث الأخرى: إن الصلاة على الرافضي والقادياني والوهابي والديوبندي كلهم حرام أشدّ حرام.

وتبيّن فيما بعد أن ذاك الاستفتاء أرسله بعض أهل المذهب الديوبندي، كان هدفهم إثارة فتنة بين السنيين والشيعة، ولكن لهذا الردّ فشل مخططهم برمّته.

ضابطة أصول الفقه:

  ذُكر هذا الحديث في البخاري من عدة طرق في عدة مواضع مع فرق الإجمال والتفصيل: ’’عن أنس أن النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم أتي بلحم تصدّق به على بريرة فقال هو عليها صدقة وهو لنا هدية‘‘ (ج: 1، ص: 202).

ألقى الشيخ قاعدة فقهية لأجل تفهيم الحديث المذكور بدلًا من إلقاء خطبة طويلة، وهي باقية في الأذهان حتى اليوم، وأثبتت فائدتها في مناسبات عديدة، قال: ’’بتبدل الملك يصير تبدل العين حكمًا‘‘.

لمّا وصل ذلك اللحم إلى ملك بريرة كان صدقة، ولمّا قدّمه بريرة إلى حضرة النبي صلّى الله تعالىٰ عليه وسلّم فلم يبق صدقة، بل صار هدية. لذا جاز أكله لهاشمي، لذا قال الفقهاء ناظرين إلى هذا الحديث بتبدل الملك يتبدل أصل الحقيقة حكمًا، وكثير من القضايا الفقهية مبنية على هذا الأصل والقانون.

الردّ البليغ على تأويل:

وفيما بين ندرُس جامع الترمذي جاء هذا الحديث ’’أبردوا بالظهر، فإنّ شدة الحرّ من فيح جهنم‘‘، ونحن قد سمعنا من أحد تأويلَ هذا الحديث بحيث لو كانت شدة الحر من فيح جهنم لكان الحر في كل مكان، والوضع أن في ’’كشمير‘‘ و’’نينی تال‘‘ يوجد الشتاء، لذا ذكر هذا الحديث تمثيلًا وتأويلًا كما يقال: ’’يتنسم النسيم من الجنة‘‘ لما تهب الرياح اللطيفة. فقدّم مولانا فضل حق الغازي فوري وعدة زملائي هذا التأويل إلى حضرة حافظ الملة، واستصوبوا منه فأجاب ’’تلك نيشرية‘‘ (إنه من أوضاع النيشريين أنهم يصرفون النصوص الصحيحة عن الظاهر، ويمهدون لتأويلات لاغية)، وردَّ عليه ردًّا بالغًا. وفي العام القادم، لمّا جاء هذا الحديث في صحيح البخاري، سمعت بنفسي أنّ حافظ الملة ذكر التأويل المذكور، وقال: ’’لا صحة في هذا التأويل، لأن البرد لا يوجد في الصيف في ’’كشمير‘‘ و’’نينی تال‘‘ أيضًا، مثل ما يوجد فيهما في الشتاء، بل يوجد هنا أيضًا فرقٌ كما يوجد في بلادنا في أيّام الصيف والشتاء، وإنه أمر آخر أن بسبب بعض العوائق لا يوجد هناك فصل يوجد في بلادنا، وصرف الحديث عن ظاهره بدون حجة ليس بصحيح قطعًا.‘‘

يجوز التفاخر بنفسه في بعض الأحيان:

كان الشيخ أفاد مرة حول هذه القضية في الفصل، وكنتُ كتبتُه نفس ذاك اليوم، وبالسعادة وجدتُ ذاك المكتوب اليوم، والآن أنقله: قال حافظ الملة خلال درس البخاري في الخامس عشر من جمادي الآخرة سنة ألف وثلاث مائة وتسع وثمانين من الهجرة المصادف الثلاثين من أغسطس سنة ألف وتسع مائة وتسع وستين من الميلاد يوم الاثنين: لا يمكن للمؤمن أن يحظى بالاحترام إلا أن يُذلّ أعداء الدين، ويثبتهم أذلّاء عند المخاصمة، ولو تصرّف أمامهم بالتواضع والخضوع ففيه ذلّ له، ذكر المحدث الأعظم في الهند رحمه الله تعالىٰ (العلامة السيد محمد الكجوجوي، المتوفى سنة ألف وثلاث مائة واحدى وثمانين من الهجرة) قامت المناظرة بيني وبين عبد الشكور الكاكوروي فقال لي في خلالها طاعنًا عليّ مناقشًا في قضية صرفية: إنك لم تقرأ شرح مائة، فذلّلتُه على ذاك وحقّرته وتعلّيتُ نفسي عنه كثيرًا حتى خزى وانهزم، وإني فزتُ في المناظرة، لكن قلبي شعر بانقباض بسبب تلك الجمل التي قلتُها في علوّي، وأنني مذنب بالفخر والعجب وهو أمر مستهجن بالتأكيد، وكنتُ أواجه تعكّرًا في نفسي، لذا أردتُ أن أرجع إلى الشيخ الكبير الإمام أحمد رضا البريلوي، وحضرتُ إلى حضرته، هناك تشاهد نبضات القلب وتلاحظ الاعتراضات الصاعدة في سطح العقل ببصيرة، حين وصلتُ إليه أخذ الشيخ يقول: ’’الفقير لا يحبّ الكبر عوض، ولا يفتخر شيئًا بما عنده بفضل الله تعالىٰ، إن العجب والكبر شيئان مذمومان، ولا يليق للمرء أن يفتخر ولو وصل إلى مكانة مرتفعة‘‘، يذكر المحدث الأعظم: ’’بعد سماع هذه الجمل انقطعتْ أنفاسي ولم تعد لدي همة لسؤال أيّ شيء، وبدأتُ ألوم نفسي كثيرًا، ولكن بعد ذلك قال الشيخ الكبير: ’’ولكن  لاينبغي أن يختار التواضع أبدًا أمام أعداء الرسول صلى الله تعالىٰ عليه وسلم فهناك هذا المرء ممثّل ومسؤول عن الدين الحق وعليه أن يثبت الدين عاليًا وعليًا، ومن واجبه أن يظهر عظمته في نصرة الرسول صلى الله تعالىٰ عليه وسلم، وهناك لايحصّل على ذاك المرام بالتواضع، فيجوز أن يطلق على نفسه رجلًا عاليًا وكبيرًا أمامهم وذاك نصرة الدين‘‘، ثم يذكر المحدث الأعظم: ’’ففرحتُ بسمع ذاك، واندفع تعكّر الخاطر والانقباض عن قلبي، وانشرح صدري، فالحمد لله على ذلك.

الحلواء والحلويات:

ذُكر في صحيح البخاري (الجزء الثاني والعشرين) حديث عائشة رضي الله تعالىٰ عنها: ’’كان رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم يحب الحلواء والعسل‘‘، يذكر الرفيق والزميل مولانا عبد الستار الپرولياوي: ’’قال الشيخ حين إلقاء الدرس حول هذا الحديث (سنة ألف وثلاث مائة واحدى وتسعين من الميلاد): ’’ثبت به أن الحلواء مما يُرغب فيها ويشتهيها النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم‘‘ فاستفسر مولانا عبد الرحمن الپورنوي: ’’إن معنى الحلواء مطلق (شيء حلو) لا هذه الحلواء المعروفة‘‘ فأجاب الشيخ: ’’في ذاك الوضع أيضًا ثابت استحبابها والرغبة إليها، لأنها أيضًا فرد من ذلك المطلق ويستلزم استحباب فرد خاص باستحباب المطلق بدون تخصيص‘‘.

الإفادات الأخرى

الأذان الثاني للجمعة، والبصيرة الفقهية للشيخ:

ذات مرة قال الشيخ في الفصل: ’’جاء رجال من ’’بنارس‘‘ وقالوا: ’’قال الإمام الأعظم لأهل البلد ’’لا تمشوا حين يؤذّن بين يدي الخطيب، وامشوا حين يؤذّن أول مرة‘‘ فيه لفظ ’’بين يدي الخطيب‘‘ يشعر أن الأذان الثاني كان يؤذّن قرب الخطيب عند الإمام الأعظم، قلتُ: ’’يثبت به أن الأذان الثاني كان يؤذّن خارج المسجد، وكان أصحاب البلد مثل الكوفة يمشون من بيوتهم إلى المسجد بعد سمع الأذان الثاني، وما كان يمكن لهم أن يسمعوا الأذان الثاني إلا حين يؤذّن من خارج المسجد، وكيف يصل أذان داخل المسجد إلى بيوت الناس بالبلد الوسيع مثل الكوفة حتى يسمعوه‘‘.

ترجمة القرآن للشيخ الكبير الإمام أحمد رضا:

إن من معتقدات النيشرية أن ’’رام‘‘ و’’كرشن‘‘ وغيرهما كانوا من الأنبياء وهم يستدلون بقوله تعالىٰ ’’ولكل قوم هاد‘‘ ويقولون لكل قوم هاد ورسول فلا جرم أن يكون لقوم الهندوس أيضًا هاد ورسول وهو هؤلاء كلهم، يتمسكون لدعوى نبوة المذكورين بمثل هذا القول، لكن الأصل أنه لا بد من نصٍّ قطعي لاعتبار أحد نبيًا، ولا يثبت وجود خارجي أيضًا لكرشن وغيره بحجة اسلامية، أما كتب الهندوس فهي غير معتبرة وغير اسلامية يعرف بها وجودهم، وبنفس تلك الكتب يعرف سوء أحوالهم أيضًا، ما لا يكون في أيّ نبي حتى في أيّ مؤمن على كل حال. قال حافظ الملة ذات مرة: إن بناء كل التمسك للنيشرية على قوله تعالىٰ ’’لكل قوم هاد‘‘ لكن الشيخ الكبير الإمام أحمد رضا هدم قصر استدلالهم كاملًا بترجمته فقط، ورد في القرآن ’’اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠‘‘  (الرعد، الآية: 7) نقلها الشيخ الكبير إلى الأردية بحيث ’’ تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی‘‘ (إنما أنت منذر وهاد لكل قوم) أي القول ’’اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠‘‘  يتعلق بنبينا صلى الله تعالىٰ عليه وسلم، والآن لم يبق للنيشرية مساغًا للاستدلال بــــــ’’ولكل قوم هاد‘‘.

ألقى ذات مرة حضرة الشيخ عبد المنان دام ظله خطبة حول الآية: ’’اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا‘‘ (الأحزاب، الآية: 45) في الحفلة للجمعية الأمجدية بـــــ’’بہیرہ ولید پور‘‘ بــــــ’’أعظم جره‘‘، إن معنى الشاهد حاضر، ويثبت بدعاء صلاة الجنازة الذي فيه ’’لشاهدنا وغائبنا‘‘ أن الشاهد يستعمل بمعنى الحاضر، فثبت بالآية أن الله تعالىٰ أرسل النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم حاضرًا وناظرًا، ثم خطب حافظ الملة فشجّع ومدح المفتي المحترم وقال للحاضرين: ’’سلِّموا أن معنى الشاهد ’’گواه‘‘ (شاهد) فمن يكون شاهدًا؟ هل يمكن لأحد لم يكن حاضرًا عند الحادثة أن يشهد، ولو كان موجودًا لكنه لم يشاهد بعينه، فهل يمكن له الشهادة؟ لن يكون مثل ذاك، إنما الشاهد من يكون حاضرًا وناظرًا أيضًا عند الحادثة، لذا ثبت كون النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم حاضرًا وناظرًا وإن يعتبر معنى الشاهد ’’گواه‘‘ (شاهدًا) في ’’اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا‘‘، ولله الحمد.

صلاة نصف شعبان:

كان الخلاف في ليلة البراءة سنة ألف وثلاث مائة وثلاث وتسعين من الهجرة، وقد كان وقعتْ رؤية هلال شعبان في التاسع والعشرين من رجب في بعض المديريات ولم يوجد ثبوت شرعي في ’’جمشيد فور‘‘ لذا كان هناك ليلة البراءة بإتمام الثلاثين.

وخطب حافظ الملة على فضائل ليلة البراءة في الحفلة التي عقدتْ في الخامس عشر من شعبان بـــــــ’’جمشيدفور‘‘ وذكر هناك هذا الحديث عازيًا إلى حاشية الجلالين للعلامة أحمد الصاوي المالكي رحمه الله تعالىٰ: ’’من صلى فيها مائة ركعة أرسل الله تعالىٰ إليه مائة ملك ثلاثون يبشرونه بالجنة وثلاثون يؤمنونه من عذاب النار وثلاثون يدفعون عنه آفات الدنيا وعشرة يدفعون عنه مكائد الشيطان، (الصاوي، سورة االدخان، الآية: 25).

وقال حافظ الملة: ’’ينبغي أن تصلى هذه الصلاة في ليلة البراءة نظرًا إلى هذه الثمرات العظيمة، لا يغرق الوقت الكثير في أداء مائة ركعة إلا ساعة ونصف، وإني ملتزم بهذه الصلاة، وفي هذه السنة قد اشتبه الأمر في ليلة البراءة فصليتُ مائة ركعة أمس ومائة ركعة اليوم أيضًا.

وكان حافظ الملة يقضى ليلة البراءة بــــــ’’جمشيدفور‘‘ مذ سنوات بدون فترة، وكانت في تلك الليلة تعقد حفلة إناطة العمائم لـــــ’’فيض العلوم‘‘ وتعتبر مشاركة الشيخ فيها لازمة. شاهدتُ بنفسي أربع سنوات أنه يصلي تلك الصلاة التزامًا بعد المغرب توّا أو بعد فترة قليلة قبل الذهاب إلى مكان الحفلة، وفي السنة الاخيرة سنة ألف وثلاث مائة وخمس وتسعين من الهجرة كان طبعه منحرفًا قليلًا ولحقه الضعف مع ذاك لم تفته تلك الصلاة في تلك السنة أيضًا، من يحب أن يرى تعبيرًا صحيحًا لحديث: ’’أفضل الأعمال أدومها‘‘ (صحيح البخاري، كتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل، رقم الحديث:6464) فلينظر إلى أعمال الحياة الصبورة المليئة بالمتاعب لحافظ الملة.

في نفس العام لمّا كان حافظ الملة مقيمًا في ’’فيض العلوم‘‘ في الرابع عشر من شعبان حكى له العلامة أرشد القادري حكاية امرءٍ بأنه لا يداوم على الصلاة لكنه أحدث وصمة بارزة على جبهته، فقال الشيخ: ذاك شيء قبيح جدا، اُستحسن في القرآن علامة السجدة التي تبرز في الوجه، ورد في القرآن: ’’ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ‘‘ (الفتح، الآية: 29) لم يرد فيه ’’في جباههم‘‘ وكان على جنبه تفسير الصاوي فقال: ’’ذُكر في هذا الصاوي حديث في ذم وصمة السجدة‘‘ فنظرتُ بالفور ذاك الجزء من الصاوي ’’(سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْد) وهو نور وبياض يعرفون به في الآخرة أنهم سجدوا في الدنيا،(جلالين).

ويقول العلامة أحمد الصاوي: اختلف في تلك السيما فقيل: إن مواضع سجودهم يوم القيامة ترى كالقمر ليلة البدر، وقيل هو صفرة الوجوه من سهر الليل، وقيل: الخشوع الذي يظهر على الأعضاء حتى يتراءى أنهم مرضى وليسوا بمرضى وليس المراد به ما يصنعه بعض الجهلة المرائين من العلامة في الجبهة، فإنه من فعل الخوارج، وفي الحديث ’’إني لأبغض الرجل وأكرهه إذا رأيتُ بين عينيه أثر السجود‘‘ (الصاوي، سورة فتح، ج: 26).

فانشرحت صدورنا بتوجيه حافظ الملة وتصريح العلامة أحمد الصاوي وبذاك الحديث، فقال الشيخ أرشد القادري: ’’قد كان يقع في نفسي تعكّر بأن القرآن يستحسن علامة السجدة ونحن نذمها، يلوح في بادي النظر أن القرآن استحسن وصمة سجودهم، لكن اليوم انشرح الصدر أن وصمة السجدة لم تذكر في القرآن بل استُحسن فيه نور الوجه.

ما هو الموت؟:

أشار إليه حافظ الملة مرارًا في خطبه، قال: ’’إن الإنسان مجموع الجسم والروح، حين يقال إن فلانا قد مات فقولوا أيّ من الجسم والروح قد مات وفنى، هل مات الروح؟ لا، لا والله، لا المسلمون فقط بل الفلاسفة أيضًا يعتقدون أن الروح لا يموت، فهل مات الجسم؟ لا، لم يمت الجسم أيضًا، أنتم تشاهدونه بالعيون وتلمسونه بالأيدي، كل عضو على وضعه لم يفن عضو، فما هو الموت؟ إني أقول: ’’إن الموت اسم لاختلاف الجسم والروح وافتراقهما، مادام الروح والجسم كانا متفقين ومتصلين كان الإنسان حيًّا، ولمّا اختلفا وتباينا قيل قد مات الإنسان.

فعُلم أن الاتفاق حياة والاختلاف موت، اختلاف جسم وروح موت شخص، واختلاف أهل أسرة موت البيت، واختلاف حارة وقرية ومدينة أو قطر موت تلك الحارة والقرية والمدينة أو القطر.

المدرسة والمسجد:

كان الشيخ شغوفًا بالمدرسة والتدريس طوال حياته، إنه وضع حجر الأساس لعدّة من المدارس، ولا يرفض دعوة تأسيس مدرسة إلى حد ما يمكن، ويخطب في تلك المناسبة حول فضائل المدرسة، وأثناء وصف الفرق بين المنفعة العامة للمدرسة والمسجد سمعنا من الشيخ مرارًا أنه يقول: ’’إذا شارك أحد في بناء مسجد فإنه يحصّل على أجر كل شخص يصلي في ذلك المسجد، ولكن إذا صلى نفس الشخص في مسجد آخر أو مكان آخر لا يدفع ثواب صلاته لمن بنى المسجد الأول، وإن شارك شخص في بناء مدرسة يحصّل على أجر كل خير من أداء الصلاة والصوم والقيام بأمر آخر لكل طالب تخرج من تلك المدرسة بعد تعلّم الصلاة والصوم والأحكام الشرعية والعلوم الدينية سواء كان ذاك الطالب في تلك المدرسة أو في مكان آخر، ويكون ثواب التعلّم والتدريس والعمل الصالح للمعلمين والطلاب أو غيرهم من الناس داخل هذه المدرسة نفسها إضافة على ما ذكر.

هذه الجمل المفيدة لحافظ الملة هي كنز المعاني الكثيرة، وخير مثال لحسن الإيجاز ودقة النظر الفقهي ومثال رائع لبصيرته، إن فصّلتْ هذه الجمل الموجزة يمكن أن تكون خطبة مبسوطة.

متاركة عصاة الله تعالىٰ، ودعاء القنوت:

يقول حافظ الملة: ’’كنتُ قد تدربتُ في زمن تعلّمي على إلقاء الخُطب وكان يمكن لي إلقاء الخطبة لمدة ساعة حول أيّ موضوع، قلتُ للناس مرة اقترحوا لي أيّ موضوع فإني أستطيع أن أخطب عليه ساعة، فاقترح الناس دعاء القنوت المعروف موضوعًا لخطبتي، فخطبتُ عليه مرتجلًا ساعة.

يوجد في هذا القنوت موضوعات التوكل والشكر وكفران النعمة والعبادة والصلاة وغيرها، لكني ألقيتُ الضوء خاصة على ’’ونخلع ونترك من يفجرك‘‘ وقلتُ: يُقرّ المرء كل يوم أمام الله سبحانه وتعالىٰ ’’ونخلع ونترك من يفجرك‘‘ ولكن متى يوجَد العمل وفق الإقرار، وذاك إقرار لقطع العلاقة من كل فاجر وعاصٍ لله عز وجل، ومن أعاظم الفجار والعصاة الكافر والمرتد، فكيف يمكن أن يصح التعلق بهما؟‘‘.

قد نقلتُ هذه عدة إفادات مذكورة بتعجل.

وقد تم التهيئات لعدد خاص للأشرفية حول حافظ الملة، ومن المؤسف أني لم أبدأ هذا العمل مبكرًا، وإلا لديّ المزيد من هذه الإفادات في ذهني، مكّنَني الله تعالىٰ أن أكتبها وأعرضها في مكان ما قريبًا.

الملفوظات والوقائع

الشيخ عبد الحق الخيرآبادي:

يصل نسب تتلمذ حافظ الملة في المعقولات إلى العلامة فضل حق الخيرآبادي (المتوفى 1278ھ) بطريق صدر الشريعة (م 1367ھ) والشيخ هداية الله خان الرام فوري (م 1326ھ)، قال حافظ الملة في الشيخ عبد الحق الخيرآبادي ابن العلامة فضل حق الخيرآبادي: ’’إنه وصل إلى جامعة الأزهر بــــــ’’مصر‘‘ هناك في مكان ما كان يُدرس كتاب صعب من المنطق مسمى بــــــ’’الأفق المبين‘‘ فدخل الشيخ عبد الحق في ذاك الفصل وجلس مع الطلاب، والأستاذ لايعرفه شيئًا، في خلال التدريس ألقى الأستاذ تقريرًا، فاعترض عليه الشيخ، فأجاب عنه الأستاذ، فقدّم الشيخ سبعة إيرادات على ذاك الجواب، فأخذ الأستاذ يد الشيخ وأجلسه بجنبه قائلًا أنت الشيخ عبد الحق الخيرآبادي، لا يمكن لأحد في العالم كله أن يقيم سبعة إيرادات على جواب أجبتُه عن إيرادك على الأفق المبين إلا الشيخ عبد الحق الخيرآبادي.

أسلوب الإصلاح وظرافة الطبع:

(1) ذات مرة قرأ طالب عبارة هداية النحو مثل ما يأتي ’’من حيث الإعراب والبَناء‘‘ فقال حافظ الملة: ’’ماذا بنيتَ؟ قد أفسدتَ، ينبغي أن يكون ’’والبِناء‘‘.‘‘

(2) وإن في المدارك عبارة لــــ’’سورة الكهف‘‘ في الصفحة الثانية في المجلد الثالث، وهي: ’’يعني أن قولهم هذا لم يصدر عن علم ولكن عن جَهل مفرط‘‘ فقرأتُه ’’عن جِهل‘‘ فقال حافظ الملة: ’’إن الجِهل أيضًا جَهل‘‘ فصحَّحتُها وقرأتُ ’’عن جَهل مفرط‘‘.

(3) صلى الحافظ الملة ذات مرة في مكان، وكان الإمام يسعل في تلك الصلاة كثيرًا بل لم يزل يسعل، فبعد الصلاة قال حافظ الملة: ’’إن سعال الإمام المحترم إمام السعال‘‘ (رواه الشيخ يسين أختر المصباحي).

العيادة:

الحافظ إبراهيم المباركفوري اخو أبي في الصلة، كان يشرّف بيتنا كثيرًا بقدومه ويحبنا، ذات مرة مرض أبي فقال للحافظ إبراهيم  أن يذهب إلى مباركفور ويلتمس من حافظ الملة أن يدعو لشفائي وإن أمكن أخذ منه عوذة ويُرسلَها، فقدّم الموصوف تلك الكلمات إلى حافظ الملة وأخذ منه عوذة وأرسلها، ثم بعد أيام قدِم حافظ الملة إلى ’’محمدآباد گوهنه‘‘ للمشاركة في حفلة (يوجد قبل ’’خيرآباد‘‘ ’’دهريرا گهاٹ‘‘ في السبيل بين ’’مباركفور‘‘ و ’’محمد آباد‘‘ بطريق إبراهيم فور، من يريد أن يصل إلى موطني ’’بهيره‘‘ فعليه أن ينزل في ذلك المورد للماء ’’دهريرا‘‘ يعبر النهر ’’تونس‘‘ بزَورق والمسافة بين النهر و’’بهيره‘‘ تستغرق عشرين دقيقة مشيًا بالأرجل) ذاك اليوم وصل حافظ الملة والشيخ السيد حامد أشرف إلى بيتي مصادفةً، وفي تلك الأيام كنتُ أتعلّم في المدرسة ’’ضياء العلوم‘‘ بـــــ’’خيرآباد‘‘، إنهما ناديا من خارج البيت فخرجتُ بعجلة بدون القلنسوة وتحيّرتُ حين نظرتُ الشيخ بغتة، فلقيتُه ودخل الشيخ في البيت ولقيه أبي أيضًا، نظر الشيخ إلى أبي وقال: ’’فرحتُ بأنك قد شُفيتَ من المرض، تركتُ العربة السارية إلى ’’محمدآباد‘‘ وجئتُ ههنا للعيادة.

البساطة وقيمة الجهد:

دعا أبي بحلوات وقدّمها إلى الشيخ حافظ الملة، وكانت الساعة حوالي الساعة الثالثة من النهار، وخرجتُ لشراء اللبن للشاى، وما كان فندق للشاى في تلك الأيام في ’’بهيره‘‘ فأسرعتُ من الحارة الشرقية إلى الغربية والجنوبية حتى وجدتُ اللبن بعد صعوبة عند ’’لعل محمد‘‘ في الحارة الجنوبية، وذاك اللبن أيضًا قد وضع للإراب، أخرج منه ابن الموصوف ’’محمد رفيق‘‘ ربع كيلو وأعطاني، فلمّا رجعتُ نظرتُ الشاى الساذج قد وضع أمام الشيخ بعد ترقب طويل، وقال الشيخ: ’’لا حاجة إلى اللبن يمكن أن يشرب الشاى الساذج‘‘، فقال أبي: ’’ وصل اللبن إلينا بعد جهد كثير‘‘ فقال الشيخ: ’’لمّا بُذل فيه الجهد فأت به‘‘، أي يجب أن يشجّع الجهد ولا ينبغي أن يُترك الجهد ليذهب سدىٰ.

وبعد ذلك وقف دقائق ودعا لنا والتمس من الشيخ السيد حامد أشرف أيضًا للدعاء لنا، ثم ارتحلا مرتجلين إلى ’’محمد آباد‘‘ وشايعتُهما إلى ’’محمد آباد گهاٹ‘‘ أستعجب من هذه السنّة للعيادة لأن الانتقال من المورد للماء ’’دهريرا‘‘ إلى ’’بهيره‘‘ مشيًا بالأقدام ثم الارتحال مثل ذاك من هنا إلى ’’محمد آباد‘‘ فعل شاقّ، إني مواطن هناك لكني في شبابي أيضًا أحتاج إلى عزيمة عظيمة للذهاب إلى ’’بهيرا‘‘، ذات مرة سار زميلي الشيخ بدر القادري معي من ’’محمد آباد‘‘ ووصلنا إلى ’’بهيرا‘‘ فقال: ’’لو لم يكن هذا موطنك لعلك لا تتحمل هذه الصعوبة للمشي بالرجل‘‘ فقلتُ: ’’صحيح‘‘، لكن الشيخ حافظ الملة تحمل هذه الصعوبات كلها لأداء سنة العيادة فقط، وفي الواقع كان عنده قيمة كبيرة لكل شحص لديه تعاطف حقيقي مع السنّية وهو خادم حقيقي للدين، وهذا الشعور بالتقدير والحب يحرضه على تحمل مثل تلك الصعوبات لفرحة قلوب خدامه.

الحفاوة والضيافة للضيف لأنه ضيف:

إن مئات وآلاف شخص قد حظوا بشرف الورود بمقر حافظ الملة في المدرسة القديمة، كان الشيخ يوقد الموقد بنفسه للضيوف ويصنع لهم الشاى ويسقيهم ويهيّأ المشروب في أيام الصيف ولو كان القادم مريده أو تلميذه، والحسن الزائد إن يرد الضيف أن يساعده في العمل أو يخدمه لا يرضى به قطعًا، ذات مرة قدم أبو المولوي عبد الحليم البهيروي ومريد الشيخ حافظ الملة، عبد الشكور البهيروي إلى حضرة حافظ الملة وأراد أن يحرك المروحة فلم يحبه الشيخ وقال: ’’أنت ضيف‘‘.

يحكي زميلي المولوي عبد الستار الپرولياوي أن الطلاب الذين لايغادرون المدرسة في عطلة عيد الأضحى يدعو جميعهم الشيخ بعد صلاة عيد الأضحى ويضيفهم بالخميصة والشاى ثم يعطيهم هدية العيد قبل اتمام الدعوة، وذاك كان له طبيعة وسجِيّة لازمة، وإني من القرية ’’بهيرا‘‘ لذا لم أجد فرصة لقضاء العيد في ’’مبارك فور‘‘، (المسافة بين ’’مبارك فور‘‘ و’’بهيرا‘‘ ستة أميال) كنتُ أصل كل أسبوع غالبًا إلى البيت فلا صورة للوقوف في عطلة عيد الأضحى، لذا لم يمكن لي أن أشاهد هذا المنظر بعينيّ، ويقول الأخ عبد الستار: ’’كان الشيخ يقّدم الأقداح وما حضر بأيديه إلى حضرة الطلاب، ذات مرة أردتُ أن أمدّ يدي لأساعد بتقديم الأقداح إلى الطلاب، فقال الشيخ: ’’إجلس، إنما المضيف اَنا‘‘ فبتلك الألفاظ العالية طرأ علىّ خوف لم أستطع بعد ذاك شيئًا وجلستُ‘‘.

كنا قرأنا في الكتب لمّا حضر الإمام الشافعي حضرة الإمام مالك أنه أنزل الإمام الشافعي منزلة الضيف وخدمه مضيفًا، يقول الإمام الشافعي: ’’خجلتُ كثيرًا حين قدّم الأستاذ الإمام مالك بأيديه ماء الوضوء وقت صلاة الفجر‘‘، ولكننا نشاهد نموذجه العملي بعد ألف ومأتي سنة في حافظ الملة، هذا هو العمل بسنة النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم واتباع طريق الأسلاف، ونظيره صعب جدًا في الوضع الراهن. يجامل بعض الناس مع الأعزاء والأقرباء والأحباب والرفقاء لكن خدمة الطلاب والمريدين الذين يدأبون وضع ركبة التتلمذ ويشتاقون إلى لثم الأيدي وتقبيل الأقدام وإلى الإكرام والتعظيم نادرة جدًا بل مفقودة، والأمر الأصعب التزامه ودوامه، يمكن أن يعمل شخص مثل ذاك مع عشرة رجال أو عشرين رجلًا أحيانًا، ولكن العمل به طول الحياة مع الالتزام والشدة سلوك ممتاز وبارز لحافظ الملة لا يوجد نظيره بعد التفقد أيضًا.

أكتفي على هذا لوجود عدم توسع في الوقت، إن يوفّقني الله تعالىٰ سأقّدم الوقائع إلى حضرات القراء في مجلة قادمة، والله الموفق لكل خير وهو المستعان وعليه التكلان.

المكتوبات

(1)تخرّجتُ من الأشرفية في العاشر من شعبان سنة ألف وثلاث مائة وتسع وثمانين من الهجرة المصادف الثالث والعشرين من أكتوبر سنة ألف وتسع مائة وتسع وستين من الميلاد، وبعد العطلة السنوية قدم إلىّ رجال من ’’خالص فور أدري‘‘ بمديرية ’’أعظم جره‘‘ في العشرين من شوال سنة ألف وثلاث مائة وتسع وثمانين من الهجرة، يريدون أن يذهبوا بي أستاذًا لمدرستهم ’’بيت العلوم‘‘ بــــــ’’خالص فور‘‘، وأذن لي أبي على إصرارهم، لكني كتبتُ إلى حافظ الملة مكتوبًا مستاذنًا وفيه التمستُ منه العفو عن التقصيرات والخطايا، فكتب حافظ الملة إلىّ ردًّا عليه ما يلي من المكتوب:

786

من دار العلوم الأشرفية بــــــ’’مبارك فور‘‘

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ـــــــــــــــــــ الدعاء للخير والسلام المسنون

وجدتُ مكتوبك، إن حياتك السعيدة ومعاملتك الخالصة ذات الودّ والحب على مكانة لا يخطر ببالي شيء من الخطاء والسخط، وأنا الداعي المخلص لك أن يمنحك الله تعالىٰ الصحة والسلام والفرح والسرور دائمًا ويوفّقك للخدمات البارزة والممتازة للدين المتين، آمين.

ورأيي فيك أنك إذا أعطيتَ الأشرفية المزيد من الوقت الآن، فسوف تصبح أكثر قيمة، كما أخبرتُ والدك.

ومهما كان رأيك ورأي أقاربك إن كنتَ تحب الوظيفة في ’’خالص فور‘‘ فلك الإذن منّي، أقرِء السلام منّي على أبيك.

                                                                                  فقط، عبد العزيز عفي عنه، 21/ شوال 89ھ.

٭٭٭

ثم وصلتُ إلى الأشرفية في الحادي والعشرين من شوال لمواصلة التعليم، وقد صدر نفس ذاك الأمر إلى زميلي مولانا بدر عالم بدر القادري زيد مجده، فوصل قبل أيام منّي، نحن حضرنا حضرة الشيخ فقال: ’’جئتما‘‘ قلتُ: ’’نعم‘‘ فقال: ’’إنني أيضًا أعربتُ ذات مرة عن نيتي في ترك التعليم، فأمرني صدر الشريعة عليك أن تتعلم المزيد، فامتثلتُ أمره، وأنتما أيضًا امتثلتما أمري.

قبل ذاك، ذات مرة ذكر الشيخ: ’’أردتُ للشئون الداخلية أن أتعلم في صف الحديث قبل تعلّم الكتب الكثيرة، فقال صدر الشريعة: ’’أكمِل تعليمك، والله محافظ‘‘. فأعانني ربي حتى قضيتُ ثلاث سنوات زائدة في ’’أجمير‘‘ ثم لمّا انتقل الشيخ إلى ’’بريلي‘‘ قدمتُ إلى حضرته وتعلّمتُ هنا سنة، فالحمد لله على ذلك.

(2) خرجتُ من الأشرفية على ما أمر حافظ الملة في السابع عشر من أغسطس سنة ألف وتسع مائة وستين من الميلاد المصادف الرابع عشر من جمادى الآخرة سنة ألف وثلاث مائة وتسعين من الهجرة وقدمتُ مع الأستاذين الحافظ الشيخ عبد الرؤف والمقرئ محمد يحيى إلى دار العلوم الفيضية النظامية بـــــــــ’’ باراہاٹ، اِشی پور ‘‘ بمديرية ’’بہاگل پور‘‘  للتدريس، ثم بعد يومين أو ثلاثة أيام رجع الشيخ الحافظ، والمقرئ المحترم كلاهما إلى الأشرفية، ثم كتبتُ إلى حافظ الملة رسالة مشتملة على الإخبار بالصحة والعافية، ونِلتُ جوابها كما يلي من المكتوب:

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ـــــــــــــــــــــــــــ الدعاء الكثير والسلام المسنون!

وجدتُ مكتوبك، لديّ مسؤوليات كثيرة لذا وُجد التأخر في الجواب، هناك أمل قوي بسعادتك وصحتك وتديّنك أن تخدم الدين وفق الإمكان إن شاء الله تعالىٰ، وأدعو الله تعالىٰ أن يبارك لك في حياتك، ويوسع في علمك وفضلك، آمين بجاه حبيبك سيد المرسلين.

                                                         والدعاء. عبد العزيز عفي عنه، 24/ جمادى الآخرة 1390ھ.

٭٭٭

(3) قدمتُ إلى الأشرفية للقاء الشيخ في العاشر من شوال سنة ألف وثلاث مائة وتسعين من الهجرة، لكنه كان يوم الجمعة، لذا لم يتيسّر لي اللقاء، ووصلتُ إلى دار العلوم الفيضية النظامية صباح الحادي عشر من شوال، وقدم الشيخ إلى ’’مبارك فور‘‘ في ذاك التاريخ، ولذا لم يمكن لي اللقاء، فكتبتُ للشيخ رسالة إعلامية، ووجدتُ جوابها بصورة ما يلي من المكتوب:

من الأشرفية بمبارك فور، 22/ شوال، 90ھ

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ـــــــــــــــــــــــــــ الدعاء الكثير والسلام المسنون!

وجدتُ مكتوبك، لم يمكن اللقاء، لكني مسرور جدّا بأنك وصلت إلى المدرسة على موعدها، أتمنى أن يديم عليك المولى الكريم الصحة والسعادة، وأن يوفقك للمزيد من الخدمات الدينية، الخدمة الدينية المخلصة هي استثمار عظيم للآخرة، وأهم شيء هو الشعور بالمسؤولية، ومن يدرك مسؤوليته سيكون ناجحًا دائمًا، دعائي معك، بارك الله فيك. آمين. والدعاء والسلام لكل من المحب الفاضل الشاهدي والحاج المحترم وغيرهما من الأحباب.

                                                                                                                    فقط، عبد العزيز عفي عنه.

٭٭٭

(4) وصلتُ إلى بيتي في العطلة السنوية في شعبان سنة ألف وثلاث مائة وإحدى وتسعين من الهجرة، وفي تلك الأيام شاهدتُ أوضاع دار العلوم الفيضية النظامية،و لم أستحسن القيام هناك بعد، وقدم حافظ الملة إلى ’’محمد آباد گوهنه‘‘ لحفلة، فقلتُ له كل ما جرى هنا وأظهرتُ ما كان في خاطري، ثم كتبتُ رسالة محتوية على ذاك الموضوع وأرسلتُه إلى عنوان موطن الشيخ ’’بهوجپور‘‘ بمديرية ’’مرادآباد‘‘ فوجدتُ المكتوب الآتي جوابًا منه:

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ــــــــــــــــــــــــــ الدعاء الوفير والسلام المسنون!

وجدتُ مكتوبك طلبتَ فيه إذن الاستقالة من المدرسة الفيضية، فأكتب مجيبًا كنتَ ذكرتَ أوضاعها وأظهرتَ تقدير الزيادة في المستقبل فقلتُ لك الخيار، مثل ذاك أقول الآن أيضًا بأنك مختار.

إني أعيّن المدرس، لا أنَحِّيه عن منصب التدريس، وللمدرس خيار إن شاء ترك، ودعائي معك، وقدّم على أبيك السلام منّي، والدعاء والسلام.

                                                                                                                    فقط، عبد العزيز عفي عنه.

٭٭٭

(5)كان الفاضل فضل حق الغازي فوري أيضًا أستاذًا معي في ’’بهاگل پور‘‘ وهو يذهب إلى ’’جمشيد پور‘‘ في رمضان للصلاة بالناس التراويح، وإنه تكلم لتدريسي مع الشيخ أرشد القادري، وذهب بي إلى ’’جمشيد پور‘‘ مصرًّا، فبعد أيام أتى تلغراف من حافظ الملة بأن الحافظ عبد الرؤف قد توفي، ولمّا وجد الشيخ أرشد القادري إعلام هذه الحادثة وصل إلى ’’مبارك فور‘‘ في خلال يومين أو ثلاثة أيام، وعلى ما أظنّ وجدتُ هذا المكتوب الآتي بوسيلته:

المحب المحترم المولوي زيد مجدكم ــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!

قدم إلينا العلامة أرشد القادري، وذكر أنه قد عيّن المولوي محمد أحمد والمولوي عبد الستار معلّمين في فيض العلوم، فسررتُ كثيرًا بالعلم به، إن فيض العلوم أيضًا معهدنا، وينبغي أن تؤدي المسؤوليات اعتبارًا بأنه معهدنا، وإنما تبدّل المدرس والمدرسة مرة بعد مرة مضر، يذهب الاعتبار والثقة ولا يكتمل العمل أيضًا، قال الأسلاف: ’’يك در گير محكم گير‘‘ (اختر مكانًا واحدًا وخذ به محكمًا)، على كل حال عليك أن تشتغل مجتهدًا ثابتًا، دعائي معك دائمًا، والسلام والدعاء للعزيز المولوي عبد الستار مع مضمون واحد.

                                                                                                                  فقط، عبد العزيز، عفي عنه.

٭٭٭

(6) كنتُ أرسلتُ إلى حافظ الملة خبر استلام وظيفة التدريس في فيض العلوم بالبريد، وذكرتُ فيه أن الفاضل عبد الستار الپرولياوي أيضًا ههنا، والحافظ الفاضل فضل حق الغازي فوري أيضًا مدرس في نفس البلد بمدرسة دار القرآن بــــــ’’ذاكر نگر‘‘، فوجدتُّ ردًّا عليه هذا المكتوب:

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ـــــــــــــــــــــ السلام عليكم ورحمة الله!

وجدتُ مكتوبك، كتبتُ جوابه أيضًا ما كان يمكن لي، وعلى كل حال إني أدعو لك وللمولوي الحافظ فضل حق وللمولوي عبد الستار أن يوفقكم الله تعالىٰ لخدمة الدين، ويرتقي فيض العلوم بخدماتكم المقبولة ويرتفع. آمين. السلام والدعاء لكل واحد.

                                                                                                                  فقط، عبد العزيز، عفي عنه.

٭٭٭

(7) كتبتُ ذات مرة رسالة لحافظ الملة حول شوقي في الأدب وتحصيل العربي الجديد، فوصل إليّ جوابه ما يلي:

8/ ذي القعدة 1392ھ

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ــــــــــــــــــــــــــــــــــ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!

وجدتُ مكتوب حبك وسررتُ به كثيرًا، وفرحتُ كثيرًا بشغفك بالعلم وحصول البراعة، أتمّ الله عز وجل وأعطى البراعة في كل فن، وعليك أن تجتهد بنفسك في الأدب العربي، وسيتم اتخاذ الترتيبات اللازمة للخروج إلى البلاد الأخرى، وعلى الأقل يمكنك إتقان اللغة العربية القديمة بجهودك الخاصة، وبعد ذلك سيظهر دليل للعربية الحديثة أيضًا، والتحية والدعاء للمعلمين والطلاب والعلامة أرشد القادري.

                                                                                                                  فقط، عبد العزيز، عفي عنه.

٭٭٭

 (8) كانت صحة ابني محمد أحمد المرحوم الملقب غلام جيلانی شميم رضا سيئة منذ فترة طويلة، ولهذا طلبتُ التميمة من الشيخ في رمضان سنة ألف وثلاث مائة وثلاث وتسعين من الهجرة، وذكرتُ في ذاك المكتوب مشاركتي العلمية وجهدي وسعيي الجاد من أجل تحصيل الكمال، فوجدتُ ردًا عليه عوذات وما يلي من المكتوب:

24/ رمضان، 1393ھ

المحب المحترم المولوي محمد أحمد زيد مجدكم ـــــــــــــــــــــــــــــ السلام عليكم ورحمة الله!

كانت هذه الجملة لطيفة جدًا لدرجة بأنني أحاول الوصول إلى الكمال، بارك الله تعالىٰ وجعلك بارعًا وبارك الله في عمرك ووسع الله في علمك وفضلك. آمين. أرسلتُ إليك عوذة للشرب وعوذة للصبي فيها خيط.

وعلة تأخير الإجابة علالتي ومسؤوليتي.

                                                                                                                  فقط، عبد العزيز، عفي عنه.

 

—٭٭٭

([1]) انتشر المقال الأردي أولاً في المجلة الشهرية للأشرفية ليونيو، ويوليو، واغسطس سنة 1978ء، ثم انتشر في مجموعة ’’مقالات المصباحي‘‘ سنة 2022م من المجمع الإسلامي، مبارك فور، مديرية أعظم جره، يوپي، الهند.

مینو