اسلامی مہینوں کے نام

اسلامی مہینوں کے نام

  • محرم
  • صفر
  • ربیع الاول
  • ربیع الآخِر
  • جُمادَی الاولٰی
  • جُمادَی الآخِرہ
  • رجب
  • شعبان
  • رمَضان
  • شوال
  • ذِی القَعدہ
  • ذِی الحِجَّہ
انجمن امجدیہ اہل سنت بھیرہ، ولیدپور، مئو، یوپی، ہند

انجمن امجدیہ اہل سنت بھیرہ
ولید پور، مئو، یوپی، ہند

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الـحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ

الحمدللہ! ۱۸؍جمادی الاولیٰ ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۸؍اکتوبر ۱۹۶۱ء جمعہ کی مبارک تاریخ تھی جس روز حافظ ملت علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں نوجوانان اہل سنت بھیرہ کی ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا نام انجمن اہل سنت والجماعت رکھا گیا۔
۱۳۸۱ھ سے ۱۳۹۷ھ کےدرمیان اس انجمن نےکئی نمایاں کام انجام دیے اس کے چند متحرک افراد کے نام یہ ہیں:
(۱)جناب حکیم مولوی نذیر احمدصاحب بھیروی
(۲)جناب صوفی محمدصابر صاحب اشرفی
(۳)جناب حافظ و قاری محمدامین صاحب
(۴)جناب عبدالشکور صاحب قادری
(۵)جناب ماسٹر محمدیونس صاحب
(۶)جناب الحاج عبدالشکور صاحب دکھن پورہ
(۷) جناب محمدیٰسین صاحب
(۸)جناب عبدالغنی صاحب
(۹) جناب الحاج عبدالحفیظ صاحب، وغیرہم
۱۲؍ذی الحجہ ۱۳۹۷ھ مطابق ۲۳؍نومبر۱۹۷۷ء شب پنج شنبہ مسلمانان بھیرہ کی ایک جنرل مٹنگ ہوئی جس میں جدید انتخاب عمل میں آیا۔صدرالشریعہ حضرت مولاناامجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (متوفیٰ۱۳۶۷ھ) کی طرف نسبت کرتے ہوئے انجمن کانام ”انجمن امجدیہ اہل سنت“ بھیرہ متعین ہوا۔
یہاں ایک دینی درس گاہ کی شدید ضرورت تھی جہاں نونہالان اسلام کو خاطر خواہ دینی تعلیم وتربیت دی جاسکے، اس کی ضرورت کااحساس سبھی کوتھا، خاص طورسے انجمن مذکور نےاس کااحساس کیا اوراپنے اغراض ومقاصد کےساتھ دینی درس گاہ کی تعمیر کامنصوبہ بنایا۔
وہیں سے انجمن کی نشا ٔۃ ثانیہ اوراس کی پیہم جدوجہد کاآغاز ہوتا ہے۔ حسب تجویز ۶؍رجب ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۳؍جون ۱۹۷۸ء سہ شنبہ کوایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں :
(۱)محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب شہزادۂ صدرالشریعہ علیہ الرحمہ
(۲)عزیزملت حضرت مولاناعبدالحفیظ صاحب جانشینِ حافظِ ملت علیہ الرحمہ
(۳) فقیہ اجل حضرت علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی نائب مفتی اعظم ہند
(۴)بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان صاحب شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور
(۵)خطیبِ مشرق حضرت مولانا قمرالزماں صاحب مصباحی سکریٹری جنرل، ورلڈاسلامک مشن انگلینڈ
(۶)فاضلِ جلیل حضرت مولانامحمداحمدصاحب مصباحی بھیروی صدرالمدرسین مدرسہ عربیہ فیض العلوم ،محمدآبادگوہنہ
(۷)فاضلِ نوجوان حضرت مولاناعبدالمبین صاحب نعمانی صدرالمدرسین دارالعلوم قادریہ چریاکوٹ اعظم گڑھ
(۸) شارح سراجی حضرت مولانا نصراللہ صاحب رضوی ، استاذ مدرسہ عربیہ فیض العلوم ، محمدآبادگوہنہ
(۹)یادگار چراغ ربانی، جناب شاہ ارشاداحمدصاحب سجادہ نشین خانقاہ ،کاملیہ ولیدپور، وغیرہم شریک تھے اوران کے مبارک ہاتھوں سے ایک دینی علمی ادارے کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔ حافظ ملت حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی بانی عربی یونیورسٹی مبارک پور (۱۳۱۲ھ/م۱۳۹۶ھ) اوربھیرہ کےمشہور زمانہ بزرگ حضرت مولانا شاہ ابوالخیر فاروقی بھیروی رحمۃ اللہ علیہما کی یاد میں اس کانام ”مدرسہ عزیزیہ خیرالعلوم “ رکھاگیا۔
تعمیر کے بعد بتاریخ ۲۷؍ربیع الآخر ۱۴۰۰ھ مطابق ۱۴؍مارچ ۱۹۸۰ء شب شنبہ بعد مغرب علماومشائخ کے مبارک ہاتھوں سے اس کاافتتاح ہوا۔ اس وقت سے یہ مدرسہ مصروفِ تعلیم ہے۔
الحمد للہ! راقم الحروف ، احمد القادری کو سنگ بنیاد اور افتتاح دونوں تقریبات میں شرکت کا شرف حاصل ہوا، اور قریب سے اس روحانی منظر کے دیکھنے کا موقع ملا۔
اللہ تعالیٰ اس کو خوب ترقی عطا فرمائےاور مسلک اہل سنت کی نشر واشاعت کی زیادہ سے زیادہ توفیق بخشے۔
آمین، یا رب العٰلمین، بجاہ حبیبک سید المرسلین، علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسليم۔

احمد القادری مصباحی

الاسلامی.نیٹ
WWW.ALISLAMI.NET

روز مرہ کی دعائیں

روز مرہ کی دعائیں

بِسْمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ

(۱)جب کسی مسلمان سے ملیں تو پہلے سلام کریں،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔
جب کوئی آپ کو سلام کرے، تو اس طرح جواب دیں،
وَعَلَیْکُمُ السَّلاَم ۔

(۲) جب کوئی خیریت پوچھے، تو اس کے جواب میں کہیں،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔

(۳)جب کو ئی کچھ دے تو کہیں،
جَزَاکَ ﷲ۔

(۴)جب کوئی اچھی چیز دیکھیں یا سنیں، تو کہیں۔
سُبْحَانَ ﷲ ۔ مَاشَآءَ ﷲ۔

(۵)جب چھینک آئے تو کہیں۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ۔
سننے والے کہیں،
یَرْحَمُکَ اللہ۔
پھر چھینکنے والا کہے،
یَغْفِرُاللہ لَنَا وَلَکُم ۔

(۶)تسبیح فاطمہ،
سُبْحَانَ ﷲ۳۳ بار
اَلْحَمْدُلِلّٰہ ۳۳ بار،
اللہُ اَکْبَر ۳۴ بار

(۷)کھانے سے پہلے کی دعا،
بِسْمِﷲِ وَعَلٰی بَرَکَۃِﷲ ِ ۔ بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم۔

(۸)کھانے سے پہلے کی بڑی دعا،
بِسْمِﷲِ الَّذِیْ لاَیَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الاْ رْضِ وَلاَ فِی السَّمَآء ِ، وَھُوَالسَّمِیْع الْعَلِیْم،
بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم۔

(۹) اگرکھانے سے پہلے دعا پڑھنا بھو ل جا ئیں، تو درمیان میں جب یاد آئے، یہ دعا پڑھ لیں،
بِسْمِ ﷲِ اَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ۔

(۱۰)کھانے کے بعد کی دعا،
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ا لَّذِیْٓ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَاوَجَعَلَنَامِنَ الْمُسْلِمِیْن۔

(۱۱)کسی کے گھر دعوت کھا ئیں،تو میزبان کے لئے یہ دعا کریں،
اَللّٰھُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ۔

(۱۲) دودھ پینے کی دعا ،
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَ زِدْنَا مِنْہُ۔

(۱۳) نیا کپڑا پہنتے وقت یہ دعا پڑھیں،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَا نِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَا تِیْ۔

(۱۴) مسجد میں آنے کی دعا،
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْٓ اَبْوَا بَ رَحْمَتِکَ۔

(۱۵) مسجد سے نکلنے کی دعا،
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔

(۱۶) بَیْتُ الْخَلا(ریسٹ روم ؍ٹوئیلیٹ)میں جانے کی دعا،
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔

(۱۷) بَیْتُ الْخَلاسے نکلنے کے بعد کی دعا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْ ھَبَ عَنِّیْ الاَذَی وَعَافَانِیْ۔

(۱۸) اذان کے بعد کی دعا،
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہٖ الدَّ عْوَۃِ التَّآ مَّۃِ وَالصَّلٰو ۃِالْقَآئِمَۃِ، آتِ سَیِّدَنَا مُحَمَّدَ نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّ فِیْعَۃَ، وَابْعَثْہُ مَقَامًامَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدتَّہ، وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔

(۱۹) وضو کے بعد کی دعا،
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّا بِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِ یْنَ۔

(۲۰) سو نے سے پہلے کی دعا،
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْ تُ وَاَحْیَا۔

(۲۱) سوکر اٹھنے کے بعد کی دعا ،
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْر۔

(۲۲) سواری کی دعا،
سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَ ۔وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْ نَ۔

(۲۳) بازار میں جانے کی دعا،
لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہ لاَ شَرِیْکَ لَہ‘ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لاَّیَمُوْتُ بِیِدِہِ الْخَیْرِ۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر۔

(۲۴)علم کی دعا،
اَللّٰھُمَّ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔

(۲۵)کشتی پر سوار ہونے کی دعا،
بِسْمِ ﷲِ مَجْرِھَا وَمُرْسٰھَا، اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْ رٌ رَّحِیْم۔

(۲۶) جب کو ئی مصیبت آئے تو پڑ ھیں،
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْ ن۔

الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net (AL-ISLAMI.NET)

خلفائے راشدین اور نظام اخلاق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ

 

نام کتاب :               خلفاےراشدین اور اسلامی نظام اخلاق

تصنیف:                مولانامحمداحمدمصباحی

تزئین وپروف:           فیضان رضا مصباحی،مصباحی پبلی کیشن محمدآبادگوہنہ

اشاعت اول:            ۱۴۲۴ھ/۲۰۰۴ء-﷕الاسلامی مبارک پور

اشاعت دوم:            ۱۴۳۲ھ/۲۰۱۱ء-﷕الاسلامی مبارک پور

اشاعت سوم:            ۱۴۳۵ھ/۲۰۱۴ء-﷕الاسلامی مبارک پور

اشاعت چہارم:          ۱۴۳۶ھ/۲۰۱۵ء مصباحی پبلی کیشن محمدآبادگوہنہ

اشاعت پنجم:             ذی الحجہ۱۴۴۲ھ/جولائی۲۰۲۱ء-الاسلامی.نیٹ

صفحات:                 ۳۹

ناشر

مصباحی پبلی کیشن،مہروپور، محمدآبادگوہنہ،مئو،یوپی

 

 

موبائل نمبر ۸۱۸۸۸۱۸۴۶۵

حرف آغاز

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ـــــــــــ حامدا ومصلیا

یہ مقالہ ”اہل سنت کی آواز“ کےلیے لکھا گیاتھا۔”اہل سنت کی آواز“ تاج العلما حضرت مولاناسید اولادرسول محمدمیاں برکاتی قدس سرہ کی ادارت میں مارہرہ شریف سے ماہانہ شائع ہوتا تھا دورِ طالب علمی میں اس کے چند شمارے حضرت مولاناشاہ سراج الہدیٰ مصباحی ﷓بیت الانوار، گیاکے کتب خانےسے ان کے فرزند، رفیق گرامی مولانا مبین الہدیٰ نورانی مصباحی کے ذریعہ حاصل کرکے میں نے پڑھے تھے۔ غالباً حضرت تاج العلما قدس سرہ کےآخری دور حیات میں اس کاسلسلۂاشاعت موقوف ہوگیا۔ احسن العلما حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں ﷓کے وصال کے بعد پروفیسر سید جمال الدین اسلم کی ادارت میں بطور سال نامہ اس کی نشأۃ ثانیہ عمل میں آئی۔ اکتوبر میں عرس قاسمی کےموقع پراس کااجرا ہوا کرتاہے۔

ایک خاص منصوبے کےتحت ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء کےحادثے کے بعد مغربی میڈیا نے عالمی پیمانے پراسلام کے ساتھ دہشت گردی کاپروپیگنڈہ پہلے سے زیادہ زور وشور کے ساتھ کرناشروع کیا۔اسی کے ردِّ عمل میں خانقاہ برکاتیہ مارہرہ کےاہل بصیرت ارباب  حل وعقد نے یہ طے کیا کہ اکتوبر۲۰۰۲ء کا سال نامہ ”اسلامی نظام اخلاق“ کے عنوان سے شائع ہو۔اس سے قبل اکتوبر ۲۰۰۱ء کاشمارہ”اسلام اورتصوف“ کےعنوان سے شائع ہوچکاتھا۔

جولائی ۲۰۰۲ء میں سید جمال الدین اسلم صاحب اورسید محمداشرف میاں کاحکم نامہ موصول ہوا، جس میں میرے لیے”خلفاےراشدین اوراسلامی نظام اخلاق“ کا عنوان منتخب ہواتھا جب کہ برادرگرامی مولانا محمدعبدالمبین نعمانی رکن ﷕الاسلامی کےلیے ”احادیث کریمہ اور اسلامی نظام اخلاق“ کاعنوان متعین تھا۔

کثرت کار اور ہجوم افکار کےباعث اب میں خود کم ہی لکھ پاتاہوں بلکہ بعض اوقات تویہ حال ہوتاہے کہ لکھنے والوں کوخاطر خواہ مشورے بھی نہیں دے پاتا۔ لیکن میں نے سوچاکہ مذکورہ گرامی نامہـــــــــــــــ پھر ایک موقع سےحضرت امین ملت ڈاکٹر سیدمحمدامین میاں زیب سجادۂعالیہ مارہرہ مطہرہ کی تاکید مزید ــــــــــــــ میرے جمود کوتوڑنے کےلیے ایک تازیانہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے تحریری کام بھی جاری رہنا چاہیے ـــــــــــــ الحاصل اس طرف متوجہ ہوا۔

میں نے محسوس کیا کہ خلافت راشدہ کے دور میں تمام اخلاقی محاسن کااحاطہ توایک ضخیم کتاب کاطالب ہے، خاص خاص اخلاق جن کاتعلق نظام حکومت سے ہوتاہے ان ہی کے ذکر پراکتفا کیاجائے اسی لحاظ سے اہم اور معتمد ومستند کتابوں کی مراجعت شروع کرکے ایک خاکہ تیار کیا اوراشارات نوٹ کرلیے، مگر لکھنے کےلیے نہ فرصت ملتی نہ یکسوئی حاصل ہوتی۔مقالہ بھیجنے کی مقررہ تاریخ بھی شاید گزرگئی، تقاضا بھی آگیا، لامحالہ اخیر دسمبر میں سب کام چھوڑ کر دو تین دن اسی مضمون پر لگ گیا۔ فل سکیپ بیس صفحات ہوگئے اور بہت سے عنوانات باقی رہ گئے۔۳۰؍ستمبر کی تاریخ آگئی۔مسودہ جس حال میں تھا ارسال کردیا۔ مدیر محترم نے کافی رعایت اور چشم پوشی کےساتھ شریک اشاعت کرلیا، ان کاممنون وشکر گزار ہوں۔

مولانامحمدعبدالمبین نعمانی کامضمون غالباً پچاس صفحات تک پہنچ گیا جب کہ بطور تمہید ابھی وہ آیات کریمہ اور اخلاق حسنہ کے تذکرے میں تھے۔ باقاعدہ احادیث کی روشنی میں بحث نہ آسکی تھی، وہ بھی اسی قدر شائع ہوگیا، وہ بہت اہم اور قابل مطالعہ ہے۔

بعد اشاعت بعض احباب کی خواہش ہوئی کہ ان دونوں مقالوں کوالگ الگ کتابی شکل میں شائع کردیاجائے۔ مولانا سعید الرحمٰن منیجر﷕الاسلامی نے کمپوزنگ کےلیے دے دیا۔مولانانعمانی صاحب نے اپنے مضمون پرنظر ثانی کرکے ضروری اضافہ بھی کردیا مگر مجھے نہ اس کی فرصت ملی،نہ آئندہ ہی ایسی توقع نظرآئی،اس لیے وہ جیسا تھا ویساہی نذرقارئین ہے۔تاہم امیدہے کہ افادیت سے خالی نہ ہوگا۔ خاص احباب اوربزرگوں سے استدعاہے کہ میرے لیے علم وعمل اوروقت میں برکت واستقامت کی دعا فرمائیں تو کرم ہوگا۔

والصلاۃ والسلام علیٰ رسولہ خاتم النبیین وعلیٰ آلہ وصحبہٖ اجمعین۔

     ﷕الاسلامی مبارک پور                               محمداحمدمصباحی

۲۵؍رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ              صدرالمدرسین الجامعۃ الاشرفیہ

۲۰؍نومبر۲۰۰۳ء-شب جمعہ               مبارک پور- اعظم گڑھ-یوپی

 

 

 

 

خلفائے راشدین اور اسلامی نظام اخلاق

اصل موضوع پر گفتگو سے پہلے مناسب ہوگا کہ اخلاق، نظام اخلاق اور اسلامی نظام اخلاق کی قدرے وضاحت کردی جائے۔

اَخلاق، خُلق کی جمع ہے اس کی اصل خَلق ہے جس کے معنی ٹھیک اندازے پر بنانا ہے۔ پھر طبعی شکل و صورت کو خَلق اور عادت و خصلت کو خُلق کہا جاتا ہے۔ یہ عادت اچھی بھی ہوتی ہے بری بھی۔ اسی لحاظ سے اخلاق حسنہ اور اخلاق قبیحہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اردو کے بعض محاورات میں "اخلاق” بول کر اخلاق حسنہ مراد لیتے ہیں۔

ہر قوم یا مذہب یا قانون میں کچھ خاص اوصاف ہوتے ہیں جن کی پابندی انسان کے لیے باعث تعریف ہوتی ہے اور ایسے ہی کچھ دیگر اوصاف ہوتے ہیں جن سے بچنا ضروری ہوتا ہے کسی فرد یا خاندان یا سماج اور قوم کے لیے ان طے شدہ اوصاف حسنہ کو اپنانے یا برے اوصاف سے بچنے کی پابندی کو "نظام اخلاق” کہا جاتا ہے۔

اور "اسلامی نظام اخلاق” وہ ہے جو خالق کائنات اور اس کے رسول اکرم ﷺ نے بیان کر کے دنیا کو اس کی پابندی کی ہدایت کی ہے اور اس کے اپنانے پر آخرت میں انعام کی بشارت دی ہے اور خلاف ورزی پر سزا کی وعید سنائی ہے۔

اس لیے اسلامی نظام اخلاق کا رشتہ خدا و رسول اور آخرت پر ایمان سے استوار ہوتا ہے اور مومن اچھے اخلاق کو اپناتا ہے تو صرف اس لیے نہیں کہ اس سے دنیاوی منفعت یا نگاہ خلق میں عزت حاصل ہوگی بلکہ اس لیے کہ وہ خدا و رسول کے نزدیک مطلوب اور ان کی خوشنودی کا ذریعہ ہیں اسی لیے وہ خلوت و جلوت ہر حال میں نیک اخلاق کی پابندی کو ضرور جانتا ہے اگرچہ بعض صورتوں میں اسے دنیاوی نقصان سے دوچارہونا پڑے۔

بہت سے اخلاق وہ ہیں جو گزشتہ قوموں میں اچھے شمار ہوتے تھے اور اسلام نے بھی ان کو برقرار رکھا مثلاً امانت، سخاوت، عفّت، عدل وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو کسی قوم میں عمدہ شمار ہوتے مگر اسلام نے انھیں برا قرار دیا۔مثلاً عرب زمانۂ جاہلیت میں کہا کرتے انصر اخاک ظالماً کان او مظلوماً۔ اپنے بھائی کی حمایت کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان میں خاندان یا قبیلہ کی عصبیت کا جذبہ بھر پور ہونا چاہیے خواہ عدل و انصاف کا خون ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اسلام نے اس خیال کو یکسر بدل دیا اور ظلم و نا انصافی کی حمایت کو کسی حال میں روا نہ رکھا یہاں تک کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصر اخاک ظالماً او مظلوماً (اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم) تو صحابۂ کرام پکار اٹھے یا رسول اللہ! ہمارا بھائی اگر ظالم ہے تو ہم اس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ سرکار نے ارشاد فرمایا: اس کی مدد یہ ہے کہ ظلم سے اس کا ہاتھ روک دو۔ (بخاری و مسلم)

آج بھی خاندان، قوم یا ملک کے لیے عصبیت کے جذبات کو برانگیختہ کرکے اس سے بہت سے ناجائز فائدے اٹھائے جاتے ہیں اور اسے اچھا سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ ان قوموں کا اصل مذہب "نفع اندوزی” ہے خواہ وہ کسی طرح بھی حاصل ہو اور خواہ وہ امر عقل سلیم اور مذہب کی رو سے کتنا ہی مذموم ہو مگر ان کے نزدیک اچھا ہے۔

اس تمہید کے بعد ان اخلاق و عادات کی تفصیل و توضیح ہونی چاہیے جو خدا و رسول کے نزدیک مطلوب ہیں، یا جن سے بچنا ضروری ہے۔ لیکن یہ تفصیل خود ایک مستقل مضمون کی طالب ہے۔ اس لیے یہاں صرف چند اخلاق حسنہ اور اخلاق قبیحہ کی فہرست دینے کے بعد اصل عنوان پر گفتگو کی جائے گی۔

اخلاق حسنہ:

(۱) ایمان         (۲) اخلاص              (۳) تدبّر                (۴) تفکر

(۵) تامل          (۶) اطاعت             (۷) استقامت           (۸) خوف خدا

(۹) رَجا           (۱۰) نماز                        (۱۱) روزہ                       (۱۲) حج

(۱۳) زکوۃ        (۱۴) پاکیزگی             (۱۵) عفّت              (۱۶) حسن سلوک

(۱۷) انفاق فی الخیر  (۱۸) ذکر                        (۱۹) دعا                 (۲۰) استعانت

(۲۱) دعوت خیر    (۲۲) ارشاد حق           (۲۳) موعظت           (۲۴) بشارت

 (۲۵) انذار        (۲۶) شکر               (۲۷) تواضع             (۲۸) صبر

(۲۹) احتساب     (۳۰) یقین              (۳۱) توکل              (۳۲) قوت ارادہ

(۳۳) ہمت       (۳۴) عزم              (۳۵) ثَبات              (۳۶) توبہ

(۳۷) استعاذہ      (۳۸) استغفار            (۳۹) استخارہ             (۴۰) فراست

(۴۱) زیرکی               (۴۲) عتاب             (۴۳) انصاف            (۴۴) احتیاط

(۴۵) امانت       (۴۶) راست بازی                (۴۷) عبرت پذیری      (۴۸) قبول نصیحت

(۴۹) حیا          (۵۰) بیدار مغزی وغیرہا

 

اخلاق قبیحہ:

(۱) الحاد           (۲) بدمذہبی             (۳) نافرمانی              (۴) گمراہ گری

(۵) سحر          (۶) سرکشی              (۷) سخت دلی            (۸) فریب نفسی

(۹) تکبر          (۱۰) بخل                        (۱۱) بزدلی               (۱۲) اسراف

(۱۳) زنا          (۱۴) فحش گوئی           (۱۵) تکاثُر               (۱۶) غفلت

(۱۷) طمع         (۱۸) غضب             (۱۹) قتل ناحق           (۲۰) ظلم و زیادتی

(۲۱) بدکاری      (۲۲) رشوت            (۲۳) خیانت            (۲۴) نفاق

(۲۵) احسان نا شناسی(۲۶) سرقہ              (۲۷) والدین کی نافرمانی    (۲۸) کذب

(۲۹) غیبت       (۳۰) بہتان             (۳۱) چغل خوری         (۳۲) حرام خوری

(۳۳) سود         (۳۴) سوے معاملات     (۳۵) ریاکاری           (۳۶) بد سلوکی

(۳۷) کینہ پروری  (۳۸) حسد              (۳۹) بد عہدی           (۴۰)تعاون علی الاثم وغیرہا

اس فہرست میں احاطہ مقصود نہیں، چند کے شمار پر اکتفا ہے۔

صحابۂ کرام کی جماعت وہ عظیم المرتبت جماعت تھی جس کی تربیت رسول اکرم ﷺ نے فرمائی تھی، اس لیے یہ نفوس قدسیہ، اخلاق عالیہ کا نمونہ تھے۔ ان میں اُن حضرات کا حصہ زیادہ تھا جن کو فیض صحبت اور تربیت سرکارِ رسالت سے حظِّ وافر ملا تھا۔ اور ان میں بھی خلفائے راشدین کا درجہ سب سے زیادہ بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ تھا۔اس لیے جب ان حضرات نے زمامِ خلافت سنبھالی ہے تو پوری امت میں وہی روح جاری و ساری رکھنے کی کوشش کی جو زمانۂ رسالت سے انھیں حاصل ہوئی تھی۔ ان حضرات نے خوفِ خدا، امانت و دیانت، پاس عہد، احساسِ ذمہ داری، انسانی ہمدردی، زہد و قناعت، ایثار و تواضع اور عدل و انصاف وغیرہ اخلاق عالیہ کا وہ ریکارڈ قائم کیا ہے جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم میں نہیں مل سکتی۔ اس کے چند نمونے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

زہد و قناعت:

امارت و حکومت ملنے کے بعد ہوتا یہ ہے کہ آدمی بڑے عیش و عشرت کی زندگی اپنا لیتا ہے۔ خورد و نوش، لباس و پوشاک، ظروف و سامان، مکان و جائداد، خدم و خشم سب میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ آجاتا ہے اور سارا حساب قومی ملکیت سے چکایا جاتا ہے۔ صرف وُزَرا اور حکام کی ذات پر آنے والے مصارف کا تخمینہ لگایا جائے تو ملک بھر کی رعایا، یا اکثر رعایا کے مجموعی مصارف کے برابر پہنچ جائے مگر اس سلسلے میں خلفائے راشدین طرز عمل ساری دنیا کے مال داروں اور ساری حکومتوں کے سلاطین و حکام کے طرز عمل سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ ان حضرات میں سے جس کے پاس وسعت ہوئی بیت المال سے ایک حَبّہ بھی اپنی ذات پر صرف نہ کیا اور جو حضرات لینے پر مجبور ہوئے انھوں نے اتنا ہی لیا جس سے ایک عام شہری کی گزر بسر ہو سکے۔ ذیل کے واقعات دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے قابل ہیں۔

(۱) حضرت ابو بکر صدیق ﷛ کپڑوں کی تجارت کیا کرتے تھے، اسی سے اپنے اہل و عیال کی پرورش کرتے۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ بار خلافت سر پر آنے کے بعد بھی چھ ماہ تک اپنی تجارت ہی سے گھر کے مصارف کا انتظام کرتے۔ اور ابن سعد نے عطا ابن سائب سے یہ روایت کی ہے کہ خلافت کی صبح ہاتھوں میں کپڑے لے کر حضرت ابو بکر بازار کی طرف چلے تو راستے میں حضرت عمر ملے اور عرض کیا: اب آپ کے اوپر خلافت کی ذمہ داری آچکی ہے تو تجارت کی مشغولیت کے ساتھ خلافت کا کام کیسے سر انجام ہوگا؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: پھر میرے اہل و عیال کی گزر بسر کا ذریعہ کیا ہوگا؟ حضرت عمر نے کہا: اس کا انتظام حکومت کی طرف سے ہوگا۔ چلیے ابو عبیدہ ابن الجراح آپ کے لیے وظیفہ مقرر کریں گے۔ حضرت ابو عبیدہ نے مہاجرین میں سے ایک متوسط آدمی کے برابر خوراک اور لباس مقرر کیا۔([1])

(۲) یہی اسلامی حکومت کے سب سے بڑے فرمانروا کا سامان معیشت تھا جس پر وہ تا حیات قائم رہے۔ آخری وقت میں ان کے پاس ایک اونٹنی رہ گئی تھی جس کا دودھ پیتے تھے، ایک لگن جس میں کھانا کھاتے اور ایک بوسیدہ چادر جو اوڑھنے کے کام آتی۔ ان کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ﷝ سے فرمایا: دیکھو ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا ہمیں اسی وقت تک حق تھا جب تک ہم مسلمانوں کا کام انجام دیتے تھے۔ میرے مرنے کے بعد یہ سب عمر کے پاس بھیج دینا۔ بعد وصال حضرت صدیقہ نے بھیجا تو حضرت عمر نے فرمایا: ابو بکر! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال دیا۔([2])

(۳) ایک بار حضرت صدیق کی اہلیہ نے کسی میٹھی چیز کی فرمائش کی، صدیق اکبر نے فرمایا ہمارے پاس اسے خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اہلیہ نے کہا: میں چند دن کے اندر مصارف سے بچا کر اتنا جمع کر دوں گی جس سے اس کا انتظام ہو جائے۔ فرمایا: ایسا کر سکتی ہو تو کرو۔ بہت دنوں کے بعد وہ تھوڑے سے پیسے جمع کر سکیں اور حضرت صدیق کو بتایا کہ اب انتظام ہو جائے گا۔ صدیق اکبر نے وہ رقم ان سے لے کر بیت المال میں داخل کر دی اور آئندہ مصارف سے اتنی مقدار کم کردی اور سابقہ مصارف میں سے اتنی مقدار کا تاوان بیت المال میں جمع کیااور فرمایا: اتنا ہم اپنے خرچ سے زیادہ لیا کرتے تھے۔([3])

اس احساس اور ورع و تقویٰ کی مثال کسی دوسری قوم کے فرماں روا میں کیا ملے گی۔ خلفائے راشدین کے بعد کسی مسلمان حکمراں کی تاریخ میں بھی نہیں مل سکتی۔

(۴) اسی پر بس نہیں، مرض وفات میں صدیق اکبر نے یہ بھی وصیت فرمائی کہ میری فلاں زمین بیچ دی جائے اور اب تک قومی ملکیت سے جتنا کچھ میں لے چکا ہوں اس زمین کی قیمت سے ادا کر دیا جائے۔([4])

(۵) حضرت عمر ﷛ کا دور خلافت آیا تو انھوں نے مسلمانوں سے فرمایا: میں ایک تاجر آدمی تھا، میری تجارت سے میرے اہل و عیال کو فراخی حاصل تھی ، اب آپ لوگوں نے مجھ کو خلافت کے کام میں لگا دیا تو یہ بتائیے کہ مال مسلمین سے کس قدر لینے کی مجھے اجازت ہے؟ حضرت علی بھی موجود تھے، انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اکثر حضرات نے کہا: علی آپ کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: عمر آپ کو اتنا ہی لینے کا حق ہے جس سے دستور کے مطابق آپ کا اور آپ کے اہل و عیال کا کام چل سکے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دیگر حضرات نے اس کی تائید کی۔

حضرت عمر بس خرچ بھر لیتے تھے، بعد میں ضرورت زیادہ ہو گئی اور بہت مشقت میں پڑے۔ یہ دیکھ کر حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، سربرآوردہ صحابۂ کرام ﷡ کی راے ہوئی کہ اب عمر کے وظیفہ میں اضافہ کر دینا چاہیے۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اس بارے میں کسی طرح خود حضرت عمر کی راے معلوم کرنی چاہیے۔ ان حضرات نے ام المومنین حضرت حفصہ بنت فاروق ﷠ کو واسطہ بنایا اس طرح کہ حضرت عمر کو یہ نہ معلوم ہو کہ کچھ صحابہ ان کی راے جاننا چاہتے ہیں۔ ام المومنین نے آکر فرمایا کہ اس سخت حالات میں اپنے وظیفہ میں کچھ اضافہ کرا لینا چاہیے۔ اس پر حضرت عمر غضب ناک ہو گئے۔ فرمایا: بتاؤ تمھارے گھر میں رسول اللہ ﷺ کا سب سے عمدہ لباس کیا تھا؟ انھوں نے کہا گیروئے رنگ کے دو کپڑے، جنھیں جمعہ و عیدین میں اور وفود کے سامنے پہن کر تشریف لاتے۔ فرمایا: سب سے عمدہ کون سی غذا ہے جو تمھارے یہاں سرکار نے تناول فرمائی ہو؟ کہا: جو کی گرم روٹی جس پر میں نے شہد ڈال کر اسے چکنی اور میٹھی بنا دیا تھا۔ فرمایا: تمھارے یہاں سب سے عمدہ اور نرم گداز بچھونا کیا تھا؟ کہا: اون کی موٹی چادر، جسے گرمی میں چار تہ کر دیا جاتا اور جاڑے میں پوری پھیلا کرآدھی بچھا دی جاتی اور آدھی اوڑھ لی جاتی۔ فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے قدرت ہوتے ہوئے زائد کو ترک کر دیا اور قدر کفایت پر گزر بسر کیا، میں بھی اسی طرز عمل کی پیروی کروں گا۔([5])

عکرمہ بن خالد وغیرہ کا بیان ہے کہ حضرت حفصہ اور عبد اللہ وغیرھما نے حضرت عمر سے کہا: اگر آپ عمدہ غذا کھاتے تو یہ حق کی ادائیگی کی راہ آپ کے لیے زیادہ قوت کا باعث ہوتا، فرمایا: کیا تم سب کی یہی رائے ہے؟ انھوں نے کہا ہاں، فرمایا: تمھاری خیر خواہی کا مجھے اعتراف ہے لیکن مجھ سے پہلے دونوں حضرات جس راہ پر گامزن رہ چکے ہیں اگر میں نے وہ راہ چھوڑ دی تو ان کی منزل تک میری رسائی نہ ہو سکے گی۔([6])

(۶) حضرت عمر ﷛ نے ایک لڑکی کو دیکھاکہ لاغری کے باعث اس کے قدم سیدھے نہیں پڑتے۔ فرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت عبد اللہ نے عرض کیا: آپ کی بیٹی ہے، فرمایا: یہ میری کون بیٹی ہے؟ عرض کیا: میری بیٹی ہے۔ فرمایا: اسے اتنی لاغری کیوں پہنچی؟ عرض کیا: آپ کے کار خلافت نے اس کا یہ حال بنا دیا ہے۔ خرچ آپ دیتے نہیں۔ فرمایا: عبد اللہ! خدا کی قسم میں تمھاری اولاد کی کفالت نہیں کر سکتا، تم خود ان کا انتظام کرو۔([7])

(۷) حضرت عمر کی سسرال کے ایک صاحب آئے اور چاہا کہ بیت المال سے کچھ دے دیا جائے۔ حضرت عمر نے انھیں ڈانٹا اور فرمایا تم یہ چاہتے ہو کہ میں خیانت کار بادشاہ کے روپ میں خدا کے یہاں پہنچوں؟ پھر اپنے ذاتی مال سے انھیں دس ہزار درہم عطا کیے۔([8])

(۸) حضرت عمر ﷛ اپنے دور خلافت میں اون کا جبہ پہنتے جس میں پیوند لگے ہوتے بعض پیوند چمڑے کے بھی ہوتے، اسی حالت میں دُرّہ لیے بازاروں میں گشت کرتے، لوگوں کو غلطیوں پر سزا دیتے۔ راستے میں ٹوٹے ہوئے دھاگے اور گٹھلیاں پاتے تو چن کے لوگوں کے گھروں میں ڈال دیتے کہ لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

(۹) عبد اللہ بن عامر بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک حج میں حضرت عمر کے ہمراہ تھا۔ کہیں بھی انھوں نے منزل کی تو کوئی شامیانہ یا خیمہ نہ لگایا، اون کی چادر یا چمڑے کا دسترخوان کسی درخت پر ڈال دیتے اور اسی کے سایے میں آرام کر لیتے۔

(۱۰) کسی شخص کو گورنر بنا کر بھیجتے تو اس سے یہ شرط لیتے کہ ترکی گھوڑے پر سواری نہ کرنا، عمدہ عمدہ غذا نہ کھانا، نرم نرم لباس نہ پہننا، حاجت مندوں کےلیے دروازہ بند نہ رکھنا، اگر ایسا کیا تو سزا کے مستحق ہوگے۔([9])

خلفائے راشدین کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں۔ سب کو جمع کیا جائے تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔ مگر آج جب کہ معمولی اور متوسط آدمی بھی ہر طرح کے عش و تنعّم میں سرگرداں ہے۔ ان واقعات سے فائدہ اٹھانے والا کون ہوگا؟

تواضع:

کوئی معمولی عہدہ اور منصب ملنے کے بعد اپنے کو سابقہ روش پر برقرار رکھنا اور عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔گورنر یا سلطان یا خلیفہ کا منصب تو بہت اونچا ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد عام ملنے والوں کو تو درکنار خاص قرابت داروں اور اخص دوستوں کا پاس و لحاظ انتہائی نادر ہے۔ کسی کے سامنے ذمہ داریوں اور مصروفیتوں کا انبار حائل ہوتا ہے تو کسی کے سر میں اس کے ساتھ امیرانہ نخوست و پندار کا نشہ بھی سمایا ہوتا ہے۔ لیکن قربان جائیے خلفائے راشدین کی سیرت پر کہ اتنی عظیم و وسیع سلطنت کی فرماں روائی کے باوجود اس طرح زندگی گزار دی کہ ناآشنا آدمی فرق نہیں کر سکتا کہ کون خلیفہ ہے اور کون عام انسان۔ قیصر و کسریٰ کے سفیر آتے اور ان کی معمولی اور خاکسارانہ زندگی دیکھ کر دنگ رہ جاتے۔

(۱) قبل خلافت حضرت صدیق اکبر کا معمول تھا کہ کمزوروں اور ناداروں کا کام کر دیا کرتے، محلّہ کی لڑکیاں اپنی بکریاں لے کر آتیں تو ان کا دودھ دوہ دیتے۔ جب خلیفہ ہو گئے تو ایک لڑکی نے کہا اب ہماری بکریوں کا دودھ نہ دوہیں گے۔ حضرت ابو بکر نے سنا تو فرمایا: کیوں نہیں، بقسم میرا اب بھی وہی معمول رہے گا۔ مجھے امید ہے کہ منصب خلافت میری سابقہ خدمت گزاری میں فرق نہ لا سکے گا۔([10])

(۲) حضرت عمر ﷛ اطراف مدینہ میں رہنے والی ایک نابینا سن رسیدہ بڑھیا کی دیکھ بھال کے لیے جایا کرتے، اس کے لیے پانی بھر کر لاتے اور دوسرے کام کر دیا کرتے۔ کچھ دنوں بعد دیکھا کہ کوئی دوسرا شخص ان سے پہلے آکر سارے کام کر جاتا ہے، بہت کوشش فرمائی کہ خود پہلے پہنچیں مگر نہ ہو سکا۔ ایک بار گھات میں بیٹھے کہ دیکھیں کون آتا ہے۔ دیکھا کہ حضرت ابو بکر ہیں جو ان سے پہلے آجاتے ہیں۔ اس وقت حضرت ابو بکر خلیفہ ہو چکے تھے۔([11])

(۳) ایک مرتبہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ نکلا، حضرت عمر اس کی تلاش میں نکلے عین اسی وقت ایک رئیس احنف بن قیس آپ سے ملنے کے لیے آئے۔ دیکھا تو حضرت عمر دامن چڑھائے ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ احنف کودیکھ کر فرمایا: آؤ تم بھی میرا ساتھ دو۔ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے۔ ایک اونٹ میں جانتے ہو کتنے غریبوں کا حق ہوگا۔ کسی نے کہا امیر المومنین! خود کیوں زحمت اٹھاتے ہیں کسی غلام سے فرمائیے، وہ خود ڈھونڈھ لائے گا۔ فرمایا: مجھ سے بڑھ کر غلام کون ہوگا؟

(۴) حضرت علی مرتضیٰ ﷛ کھجوروں کا بوجھ اپنی چادر میں لیے بازار سے آ رہے تھے۔ لوگوں نے دیکھا تو عرض کیا: امیر المومنین! یہ بوجھ ہم پہنچائے دیتے ہیں۔ فرمایا: صاحب عیال کو اپنا بوجھ اٹھانے کا زیادہ حق ہے۔([12])

رعایا کی خبر گیری اور خدمت گزاری:

ارباب حکومت اپنی شاندار کوٹھیوں میں داد عیش دیتے ہیں،رعیت کے افراد کس مصیبت میں گرفتار ہیں انھیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ حکومت کے کارندے بالعموم انھیں یہی خبر دیتے ہیں کہ ہر جگہ خوش حالی اور امن و امان ہے۔ یہ حکام اگر خود پبلک سے ملیں، ناداروں اور پریشان حالوں کی مزاج پرسی کریں تو انھیں قوم کی ضرورتوں اور رعایا کے مسائل کا اندازہ ہو۔ اگر کسی کو صحیح صورت حال معلوم بھی ہے تو اسے اپنے آرام سے فرصت نہیں۔ فکر ہے تو صرف یہ کہ میرا بینک بیلنس اور میری املاک و جائداد زیادہ سے زیادہ کیسے ہوں، میں رشوت ستانی اور ذخیرہ اندوزی میں دوسروں پر سبقت کیسے لے جاؤں۔ حکام کے اس انداز نے اچھے اچھے ملکوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، قومی املاک اور قوم دونوں کی بربادی میں ہر صبح و شام اضافہ ہو رہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا سیلاب بلا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔

مگر خلفائے راشدین عام پبلک میں اٹھتے بیٹھتے، ان کے دکھ درد سنتے اور اس کا مداوا پیش کرتے، عیش و عشرت اور ذخیرہ اندوزی کا ان کے یہاں تصور بھی نہیں تھا۔ ایک عظیم سلطنت کی باگ ڈور ہاتھ میں رکھنے کے باوجود کمزوروں کی خدمت، بیماروں کی مزاج پرسی، پریشان حالوں کی خبر گیری اور غمزدوں کی غم خواری ان کی زندگی کا معمول تھا۔

(۱) ایک بار بازار مدینہ کے قریب کوئی قافلہ رات کے وقت آیا۔ حضرت فاروق اعظم کا دور خلافت تھا۔ فاروق اعظم کو فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں اس قافلہ پر چوروں کی دست درازی نہ ہو۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ﷛ کے یہاں آئے، وہ رات کی تنہائی میں مشغول نماز تھے۔ نماز پوری کر کے پوچھا عمر! اس وقت کیوں آئے؟ فاروق اعظم نے سبب بتایا اور فرمایا: آؤ آج کی رات اس قافلہ کی پاسبانی میں گزاریں، دونوں حضرات تشریف لائے اور قافلہ سے تھوڑی دور ایک ٹیلے پر بیٹھے باتوں میں رات گزاری۔

(۲) اپنے دور خلافت میں راتوں کو گشت کرنا اور رعایا کی نگرانی حضرت فاروق کا معمول تھا۔ ان کے غلام اسلم کا بیان ہے کہ ایک رات حضرت عمر ” حَرّہ واقم” کی طرف نکلے۔ ساتھ میں، میں بھی تھا۔ جب ہم "صرار” میں پہنچے تو ایک جگہ جلتی ہوئی آگ نظر آئی، فاروق نے فرمایا: چلو دیکھیں وہاں کون لوگ ہیں۔ قریب آئے تو دیکھا ایک عورت ہے جس کے ساتھ چند بچے ہیں۔ آگ پر دیگچی چڑھی ہوئی ہے اور بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: "السلام علیکم یا اھل الضوء” (یا اہل النار کہنا مناسب نہ سمجھا) عورت نے سلام کا جواب دیا: پوچھا یہ دیگچی کیوں رکھی ہوئی ہے اور بچے کیوں رو رہے ہیں، جواب دیا یہ بھوک سے رو رہے ہیں اور دیگچی میں نے انھیں بہلانے کے لیے رکھی ہے تاکہ سمجھیں کہ کچھ پک رہا ہے اور روتے روتے سو جائیں۔ خدا ہمارے اور عمر کے درمیان فیصلہ کرے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے۔ عمر کو تمھاری کیا خبر؟ عورت نے کہا: وہ ہمارا والی ہے تو ہم سے غافل اور بے خبر کیوں ہے؟ مجھ سے فرمایا: واپس چلو، ہم تیزی سے لوٹے۔ حضرت فاروق غلہ کے گودام تک پہنچے ایک بورا لیا جس میں آٹا، گھی، چربی، کھجوریں، کپڑے اور دراہم رکھے یہاں تک کہ بورا بھر گیا فرمایا: اسلم! میری پیٹھ پر لاد دو، میں نے عرض کیا: یہ بوجھ لے جانا تو میرا کام ہے، مگر انھوں نے انکار کیا، میں نے اصرار کیا تو تیسری یا چوتھی بار یہ فرمایا: قیامت کے دن بھی میرے گناہوں کا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟ یہ سن کر بورا میں نے ان کی پشت پر رکھ دیا اور ہم تیزی سے اس عورت کے پاس پھر واپس آئے۔ امیر المومنین نے بورا اس عورت کے پاس رکھ دیا۔ اور دیگچی لے کر اس میں آٹا اور کچھ چربی اور کھجوریں ڈال دیں اور پکانے لگے۔ دیگچی کے نیچے آگ تیز کرنے کے لیے خود ہی پھونکتے۔ میں نے دیکھا کہ دھواں ان کی داڑھی کے نیچے سے نکلتا جا رہا ہے اور وہ پکاتے جا رہے ہیں، کھانا تیار ہو گیا تو عورت ایک طبق لائی جس میں کھانا انڈیل دیا گیا، فرمایا: بچوں کو کھلاؤ، وہ کھاتے کھاتے آسودہ ہو گئے۔ جو بچ رہا عورت کے پاس چھوڑ کر اٹھ گئے۔ ان کے ساتھ میں بھی اٹھ گیا۔ عورت نے کہا خدا تمھیں جزائے خیر دے۔ خلافت کے حق دار تم ہو نہ کہ عمر۔ فرمایا: اچھی بات کہو، جب تم امیر المومنین کے یہاں جاؤگی تو ان شاء اللہ مجھے وہاں پاؤگی۔ یہاں تک کہ دیکھا بچے خوش ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہوئے سو گئے اور انھیں سکون ہو گیا۔ تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھے اور مجھ سے فرمایا: اسلم! بھوک کی وجہ سے یہ رو رہے تھےاور ان کی نیند اڑ گئی تھی۔ میں نے چاہا کہ ان کی خوشی اور آرام سے سونے کی حالت بھی دیکھ لوں تو چلوں۔([13])

(۳) حضرت سعید بن مسیَب سید التابعین فرماتے ہیں؛ حضرت عمر ان کے گھروں پر جاتے جن کے مرد باہر کہیں جا چکے ہیں اور عورتوں کے پاس خبر بھیجتے کہ اگر تمھیں سودا سلف لانے کی ضرورت ہو تو بتاؤ میں لا دوں، ورنہ تم لوگ دھوکے اور گھاٹے میں پڑ سکتی ہو۔ وہ اپنی کنیزوں کو بھیجتیں، حضرت عمر بازار جاتے تو ان کے پیچھے غلاموں اور کنیزوں کی ایک جماعت ہوتیں جن کے گھروں کے لیے وہ ضروریات خریدتے۔ جن کے پاس پیسے نہ ہوتے ان کے لیے اپنے پاس سے خریددیتے۔([14])

 (۴) حضرت عمر اپنے دور خلافت میں شام گئے تو واپسی میں رعایا کی خبر گیری کے لیے لوگوں سے کچھ دیر جدا ہو گئے۔ اس درمیان ایک بُڑھیا کے خیمے کے پاس سے گزرے فرمایا: عمر کی کچھ خبر ہے؟ اس نے کہا: ہاں شام سے بخیریت روانہ ہو چکے ہیں، خدا اس کو میری جانب سے جزائے خیر نہ دے۔ فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا جب سے اس نے خلافت المسلمین کی ذمہ داری سنبھالی ہے مجھے اس کے یہاں سے ایک حَبہ نہ ملا۔ فرمایا: تم اتنے دور مقام میں ہو عمر کو تمھاری کیا خبر؟ کہا: سبحان اللہ! خدا کی قسم میں یہ نہیں سمجھتی کہ کوئی شخص لوگوں پر حکمراں ہو اور اسے اپنی حکومت کے مشرق و مغرب کی خبر نہ ہو۔ یہ سن کر حضرت عمر اشک بار ہو گئے۔ کہنے لگے عمر! بوڑھیاں بھی تم سے زیادہ فقیہہ ہیں۔ پھر بڑھیا سے فرمایا: اے خدا کی بندی! عمر کی جانب سے تم پر جو زیادتی ہوئی ہے وہ کتنے میں فروخت کروگی، اس پر مجھے جہنم کی تکلیف سے ترس آرہا ہے۔ اس نے کہا: خدا تم پر رحم کرے، مجھ سے مذاق نہ کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں مذاق نہیں کرتا۔ اس سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس سے پچیس دینار کے عوض خرید لیا۔ اسی درمیان حضرت علی اور عبد اللہ بن مسعود آگئے اور کہا السلام علیک یا امیر المومنین! یہ سن کر بڑھیا نے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ہائے بربادی! امیر المومنین کے سامنے ہی میں نے ان کو برا بھلا کہہ دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: ڈرو نہیں، تم پر خدا رحم فرمائے، پھر لکھنے کے لیے کاغذ طلب کیا، مگر نہ ملا، پھر اپنی گدڑی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس پر لکھا۔

” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ اس کی دستاویز ہے کہ جب سے عمر کو خلافت ملی ہے اس وقت سے فلاں وقت تک ، فلاں عورت کے ظلم کی شکایت عمر نے اس سے پچیس دینار میں خرید لی ہے۔ اب یہ اگر محشر میں رب العالمین کے حضور عمر کی حاضری کے وقت اس کے خلاف دعویٰ کرے تو عمر اس سے بری ہے۔ اس پر علی بن ابو طالب اور ابن مسعود گواہ ہیں۔﷡”

پھر یہ تحریر اپنے فرزند کو دے دی اور فرمایا: میرے مرنے کے بعد اسے میرےکفن میں رکھ دینا۔([15])

(۵) حضرت طلحہ ﷛ ایک بار رات کی تاریکی میں نکلے۔ دیکھا کہ حضرت عمر ایک گھر میں داخل ہوئے پھر کچھ دیر بعد باہر آئے۔ صبح کو حضرت طلحہ اس گھر میں گئے تو دیکھا کہ ایک نابینا اپاہج بڑھیا اس میں ہے۔ فرمایا: یہ شخص تمھارے یہاں کس لیے آتا ہے؟ اس نے کہا: ارے وہ تو اتنے سال سے میری دیکھ بھال کے لیے آتا رہتا ہے۔ میری ضرورت کی چیزیں فراہم کرتا ہے اور گندگی دور کرتا ہے۔ یہ سن کر حضرت طلحہ سیدنا فاروق کی خدمت گزاری پر دنگ رہ گئے۔ کہنے لگے طلحہ تیری ماں تجھ پر روئے تو عمر کی لغزشیں ڈھونڈھنے آیا تھا۔([16])

(۶) دور فاروقی میں ایک بار سخت قحط پڑا۔ ہر طرف خاک اڑتی تھی۔ اس لیے اس سال کا نام ہی ” عام الرّمادہ” ہو گیا۔ اس زمانے میں رعایا کے لیے فاروق اعظم کی بے چینی قابل دید تھی۔ گوشت، چربی، گھی سب ترک کر دیا۔ محض روغنِ زیتون اور بے چھنے آٹے کی روٹی پر گزر بسر تھی۔ خشکی کی وجہ سے پیٹ بجنے لگا۔ مگر حضرت فاروق فرماتے بجتا رہ، تیرے لیے ہمارے پاس روغنِ زیتون کے سوا کچھ نہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں کی حالت درست ہو جائے۔ ان کے غلام اسلم کا بیان ہے کہ ہمیں ایسا لگتا تھا کہ اگر قحط دور نہ ہو تو مسلمانوں کے غم میں حضرت عمر کی موت واقع ہو جائے گی۔

اسی زمانے میں اپنے ایک چھوٹے بچے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھ لیا، فرمایا: ارے امیر المومنین کے بیٹے! تو پھل کھا رہا ہے اور امت محمد ﷺ بھوک سے لاغر ہوئی جا رہی ہے۔ بچہ روتا ہوا بھاگا۔ بعد میں حضرت عمر کو بتایا گیا کہ اس نے کھجوروں کی گٹھلیاں جمع کر کے ایک مٹھی گٹھلیوں کے عوض کسی طرح یہ کھانے کی چیز حاصل کی ہے۔ یہ معلوم ہوا تو خاموش ہوئے۔([17])

اس باب میں واقعات بے شمار ہیں۔ سب کو جمع کرنا ممکن نہیں۔ نہ ہی ایسے احساس ذمہ داری، رعایا کے لیے امیر کی بے تابی اور رعایا کی خاطر خود ہر لذت و راحت سے کنارہ کشی کی مثال ممکن ہے۔

 عمال کی خبر گیری:

حکومت و سلطنت کے باب میں ماتحت حکام کو راہ راست پر رکھنے کی ذمہ داری شاید سارے کاموں سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔ اگر خلیفہ یا سلطان بذات خود بہت امانت دار، قوم اور ملک کا سچا ہم درد، ملک کی ترقی اور قوم کی خوش حالی کے لیے شب و روز سرگرداں ہے مگر زیر دست حکام عیش و عشرت کے رسیا، رشوت ستانی کے خوگر، قومی ملکیت کو ذاتی ملکیت میں تبدیل کرنے کی ترکیبوں کے ماہر، اپنے فرائض سے بے پروا، صرف اپنے لوگوں کی خوش حالی کے جویا، دوسروں پر ظلم و ستم اور ان کی حق تلفی کے عادی، ملک و قوم کی ترقی اور بھلائی کے لیے ہمدردانہ سوچ اور جفا کشانہ عمل سے خالی ہوں تو صرف ایک سلطان یا چند خاص وزراء کی امانت داری کوئی رنگ نہیں لا سکتی۔ اور اگر سلطان اور امرا سبھی بگڑ چکے ہوں تو پھر حق، انصاف، احساس ذمہ داری اور فرض کی ادائیگی نام کی کوئی چیز ملک بھر میں ملنا بہت مشکل ہے۔

اس باب میں خلفائے راشدین کا عمل ساری دنیا کے لیے رہ نما اور تازیانۂ عبرت ہے۔ آئیے دیکھیں اس سلسلے میں ان کے اخلا ق کی پختگی اور کردار و عمل کی مضبوطی کہاں تک پہنچی ہوئی ہے:

(۱) مصر کا ایک شخص حضرت عمر ﷛ کے پاس مدینہ آیا۔ عرض کیا ’’ امیر المومنین میں ظلم کی فریاد لے کر آپ کے یہاں پناہ لینے آیا ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’تم نے جائے پناہ کی پناہ لی۔‘‘ اس نے بیان کیا کہ میں نے مصر کے گورنر عمرو بن عاص کے بیٹے سے اسپ سواری میں مقابلہ کیا اور اس پر سبقت لے گیا تو وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہنے لگا میں اشراف کا بیٹا ہوں۔ اس پر حضرت عمر نے عمرو بن عاص کو لکھا کہ اپنے بیٹے کو لے کر مدینہ حاضر ہوں۔ آنے پر معاملہ پیش ہوا۔ حضرت عمر نے مستغیث سے فرمایا: یہ کوڑا لے اور اس کو ضرب لگا۔ وہ مارنے لگا اور حضرت بولتے جا رہے تھے کہ ’’اضرب ابن الامین‘‘ اشراف کے بیٹے کو ضرب لگا۔ حضرت انس فرماتے ہیں وہ مار رہا تھا اور ہمیں اس کا مارنا پسند تھا۔ وہ اس وقت رکا جب ہماری آرزو ہوئی کہ اب بس کر دے۔ پھر مصری سے حضرت عمر نے فرمایا: کوڑا عمرو کی چندیا پر رکھ دے۔ مصری نے عرض کیا ’’امیر المومنین ان کے بیٹے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔‘‘ فاروق اعظم نے حضرت عمرو سے فرمایا: ’’ تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنا لیا کہ یہ اپنی ماؤوں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: امیر المومنین اس قصے کا نہ مجھے علم ہوا نہ یہ میرے پاس فریاد لایا۔([18])

(۲) ملیح بن عوف سُلمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو خبر ملی کہ کوفہ کے گورنر سعد بن ابی وقاص نے اپنا شاندار پھاٹک بنوایا ہے اور ڈیوڑھی بھی بنوائی ہے۔ اس پر انھوں نے محمد بن مُسلمہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ مجھے بھی جانے کا حکم دیا کیوں کہ شہروں اور راستوں کی رہ نمائی میں ہی کرتا تھا۔ امیر المومنین نے حکم دیا تھا کہ پھاٹک اور ڈیوڑھی میں آگ لگا دینا، محمد بن مسلمہ نے کوفہ پہنچ کر اس کی تعمیل کی۔

دوسری شکایت یہ پہنچی تھی کہ خمس کا مال فروخت کرنے میں سعد نے کچھ جانب داری سے کام لیا ہے۔ اس پر یہ حکم تھا کہ سعد کو اہل کوفہ کے سامنے مسجد میں کھڑا کر کے اس معاملہ کی تفتیش کرو۔ انھوں نے اس کی بھی تعمیل کی مگر کسی شخص نے اس طرح کی کوئی بات نہ بتائی بلکہ سب نے حضرت سعد کی تعریف کی۔([19])

 (۳) حضرت عمر کا حکم تھا کہ تمام حکام موسم حج میں مکہ آئیں، اس موقع سے حضرت عمر سب کے سامنے اعلان کرتے کہ کسی کو اپنے حاکم سے کوئی شکایت ہو تو پیش کرے۔ میں اس کا انصاف کروں گا۔ میں نے عمال کو اس لیے مقرر نہیں کیا کہ تمھیں زد و کوب کریں یا تمھارے مال و آبرو پر دست درازی کریں۔ میں نے ان کو اس لیے بھیجا ہے کہ تمھیں دین کی تعلیم دیں اور نبی کی سنت سکھائیں۔ جس کے ساتھ اس کے خلاف سلوک ہو وہ پیش کرے میں بدلہ دلاؤں گا۔

ایک بار یہ اعلان فرمایا تو پورے مجمع حج سے صرف ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ میرے عامل (عمرو بن عاص) نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمر نے تفتیش کی اور فریادی سے فرمایا اٹھ اپنے گورنر سے بدلہ لے۔ حضرت عمرو نے کہا: امیر المومنین اگر آپ نے عمال کے خلاف قصاص کا دروازہ کھولا تو ان پر بہت گراں ہوگا اور آپ کے بعد بھی یہ ہوتا رہے گا۔ فرمایا: میں عامل سے قصاص کیوں نہ دلاؤں جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ اپنی ذات سے قصاص دلاتے۔ اٹھو فریادی! تم بدلہ لو۔ عمرو نے کہا: اجازت دیجیے ہم اسے راضی کر لیتے ہیں۔ امیر المومنین نے فرمایا: وہ معاف کر دے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ گورنر نے اسے دو سو دینار دے کر راضی کیا، ہر کوڑے کے بدلے دو اشرفی۔([20])

(۴) حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر کی زوجہ عاتکہ بنت زید بن عمر و بن نُفیل کو ایک دوپٹہ ہدیہ میں بھیجا۔ حضرت عمر نے دیکھا تو اہلیہ سے پوچھا یہ کہاں سے آیا؟ عرض کیا ابو موسیٰ نے ہدیہ کیا ہے۔ حضرت عمر نے دوپٹہ لیا اور ان کے سر پر مارا، ان کی ساری خوشی جاتی رہی۔ پھر حکم دیا کہ ابو موسیٰ کو حاضر کیا جائے۔ لوگوں نے حاضر کیا وہ بالکل تھک گئے تھے۔ آتے ہی بولے امیر المومنین جلدی نہ کیجیے گا۔ فرمایا: عمر کی عورتوں کے پاس ہدیہ بھیجنے کا باعث کیا ہے؟ وہ جواب نہ دے سکے۔ حضرت عمر نے دوپٹہ اٹھایا اور ان کے سر پر مارا، فرمایا اسے لے جاؤ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔([21])

 اس طرح کی مثالیں دیگر خلفائے راشدین کی سیرت کا بھی درخشاں باب ہیں۔ اور فاروق اعظم کے یہاں تو اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صوبوں کے گورنر اپنی ساری طاقت کے باوجود حکم فاروقی کے خلاف سیکڑوں میل دور رہ کر بھی دم نہیں مار سکتے تھے۔

عدل و مساوت:

ہر حکومت اور ہر حاکم کی جانب سے عدل و مساوت کا چرچا ہوتا ہے۔ مگر عدل ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ معاملات کو قریب سے دیکھنے والے جانتے ہیں۔ جہاں کوئی طاقت ور، مال دار، قرابت دار، دوست یا تعلقاتی ہوا فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے۔ فریقین میں کوئی اگر ایسا نہیں ہے تو رشوت ہر انصاف کا خون کرنے کے لیے کافی ہے۔ حکام کی طمع و حرص کے سامنے مظلوموں، ناداروں اور کمزوروں کی ہر تدبیر رائیگاں ہے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ اپنی تدابیر، اپنی چرب زبانی اور اپنے ذرائع ابلاغ سے مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم باور کرا دینا ان کا روزانہ کا معمول ہے۔ جب آقاؤں کا یہ حال ہو تو ماتحتوں کا نمبر ان سے کچھ زیادہ ہی ہوگا۔ کسی کے پاس ضمیر نہیں کہ اپنا محاسبہ کرے اور اپنے کردار میں کوئی تبدیلی لائے۔ خوف خدا سے تو انھیں کوئی واسطہ نہیں، رہ گئی شرم خلق تو اس کا ازالہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور بے حیائی جب حد سے سوا ہو جاتی ہے تو ہر طرح کی شرم بھی رخصت ہو جاتی ہے۔

مگر خلفائے راشدین نے جو ریکارڈ قائم کیا ہے وہ رہتی دنیا تک کے لیے درس عبرت ہے۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ عزیزوں، قرابت داروں اور زور دستوں سے انصاف دلایا ہے بلکہ اپنی ذات سے بھی انصاف دلایا ہے۔ دیکھیے یہ ان کی سیرت کے کیسے زریں اور فقید المثال واقعات ہیں:

(۱) اَہواز کے قریب واقع سرزمینِ بَیْرُوز کی فتح کے بعد بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری نے مال خمس ایک وفد کے ساتھ دار الخلافہ مدینہ بھیجا۔ ضَبَّہ بن مِحصَن عَنَزِی نے مطالبہ کیا کہ وفد میں مجھے بھی شامل کر دیجیے۔ ابو موسیٰ نے فرمایا: میں نے تم سے بہتر لوگوں کو اس کام کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ اس پر ضبَّہ خفا ہو گیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس کا قصہ بھی لکھ کر وفد کے ساتھ امیر المومنین کے پاس بھیج دیا۔ وفد کے بعد ضبَّہ نے پہنچ کر حضرت ابو موسیٰ کی شکایت درج کرائی کہ انھوں نے زمین داروں کی اولاد سے ساٹھ غلام خود لے لیے۔ عقیلہ نامی ان کی ایک باندی ہے جس کی خوارک دونوں وقت لگن بھر کر کھانا ہے۔ ناپ کے دو پیمانے رکھتے ہیں۔ زیاد بن ابو سفیان کو بصرہ کے امور سپرد کر دیے ہیں۔ مشہور ہجو گر شاعر حُطْیٔہ کو انعام میں ایک ہزار دیا ہے۔

امیر المومنین نے عامل بصرہ کو طلب کیا اور ضبّہ کو بھی سامنے بلایا۔ اس نے اپنی شکایت بتائی کہ انھوں نے ساٹھ غلام خود لیے۔ ابو موسیٰ نے جواب دیا: ان غلاموں کے ذمہ فدیہ تھا۔ لوگوں کی راہ نمائی پر میں نے ان کا فدیہ ادا کر دیا اور فدیہ کا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ اس طرح یہ غلام میرے قبضہ میں آگئے۔ ضبّہ نے کہا: ابو موسیٰ نے جھوٹ نہ کہا اور میں بھی جھوٹ نہ بولا۔ دوسری شکایت یہ کہ دو پیمانے رکھتے ہیں۔ اس پر ابو موسیٰ نے فرمایا: ایک قفیز میرے گھر والوں کے لیے ہے جس سے ان کو غلّہ دیا جاتا ہے اور ایک قفیز مسلمانوں کا ان کے قبضے میں ہے وہ اس سے اپنا غلہ لیا کرتے ہیں۔ ضبّہ نے کہا: سچ ہے اور میں بھی جھوٹ نہ بولا۔ عقیلہ کا ذکر آیا تو ابو موسیٰ خاموش رہے۔ حضرت عمر نے سمجھ لیا کہ اس سے متعلق شکایت درست ہے۔ زیاد کو افسر بنانے کا ذکر آیا تو ابو موسیٰ نے کہا میں نے اس کے اندر کمال و شرف اور اصابت رائے دیکھی اس لیے اس کو کام سُپرد کیا۔ حطیٔہ کو ایک ہزار انعام دینے کی شکایت پر انھوں نے کہاکہ وہ اپنی ہجو سے شرفا کی آبرو ریزی کرتا ہے میں نے مال دے کر اس کا منہ بند کیا ہے۔ یہ سب سننے کے بعد حضرت عمر نے ابو موسیٰ کو بصرہ واپس کر دیا اور حکم دیا کہ زیاد اور عقیلہ کو مدینہ بھیجیں۔

عقیلہ زیاد سے ایک دن پہلے آئی، اسے مدینہ میں روک دیا۔ زیاد آیا تو دروازے پر رہا۔ حضرت عمر نکلے تو زیاد کو دروازے پر کھڑا پایا۔ حضرت عمر نے کچھ سوالات کیے زیاد کی حالت، تنخواہ، فرائض، سنن، قرآن سے متعلق امور پوچھے جوابات سے حضرت عمر نے دیکھا یہ شخص فقیہ اور صاحب رائے ہے۔ اس لیے اسے اس کے کام پر بحال رکھا اور بصرہ کے امراء کو فرمان لکھا کہ اس سے مشورہ لیا کریں۔

ضبّہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابو موسیٰ پر اس لیے خفا ہوا کہ ایک دنیاوی امر اس کو سُپرد نہ ہوا۔ اس نے ابو موسیٰ کے خلاف جھوٹ اور سچ دونوں بیان کیے۔ اس کے جھوٹ نے سچ کو بھی خراب کر دیا۔ تم لوگ جھوٹ سے بچو اس لیے کہ وہ جہنم میں لے جانے والا ہے۔([22])

(۲) جنگ صفین میں جاتے وقت حضرت علی ﷛ کی زرہ کھو گئی جنگ کے بعد کوفہ واپس آئے تو ایک یہودی کے ہاتھ میں زرہ پائی۔ یہودی سے فرمایا یہ میری زرہ ہے جو میں نے نہ بیچی نہ ہبہ کی۔ یہودی نے کہا کہ میری زرہ ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ امیر المومنین نے کہا کہ قاضی کے یہاں چلو۔ قاضی شریح نے معاملہ پوچھا، امیر المومنین نے بیان کیا۔ یہودی سے پوچھا تو اس نے کہا زرہ میری ہے اور میرے قبضے میں ہے۔ قاضی شریح نے پوچھا: امیر المومنین آپ کے پاس گواہ ہیں؟ فرمایا: ہاں حسن اور قنبر گواہ ہیں کہ زرہ میری ہے۔ قاضی نے کہا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی مقبول نہیں۔ زرہ یہودی کے ہاتھ میں رہ گئی۔ وہ لے کر چلتا بنا۔ کچھ دور جانے کے بعد واپس آیا اور کہا یہ تو انبیا کا طرز عمل ہے۔ امیر المومنین ہو کر وہ خود اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لائے۔ قاضی بھی ان کا ہے مگر اس نے ان ہی کے خلاف فیصلہ دیا۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ صفین جاتے ہوئے علی کے ہاتھ سے یہ زرہ گر گئی تھی اور میں نے اٹھا لی۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کا دین سچا ہے۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ لیجیے یہ زرہ آپ کی ہے۔ امیر المومنین کو اس کے اسلام لانے سے اتنی خوشی ہوئی کہ اسے زرہ بھی دے دی اور ایک گھوڑا بھی دیا۔([23])

(۳) حضرت عبد اللہ بن عمر ﷠ نے کچھ اونٹ خریدے اور سرکاری چراگاہ میں چرنے کے لیے بھیج دیے۔ فربہ ہوگئے تو فروخت کرنے کے لیے بازار لے گئے۔ فاروق اعظم نے بازار میں دیکھا تو دریافت کیا: یہ فربہ اونٹ کس کے ہیں؟ بتایا گیا عبد اللہ بن عمر کے ہیں۔ امیر المومنین نے انھیں طلب کیا اور کیفیت معلوم کی، انھوں نے عرض کیا: میں نے انھیں خریدا اور چراگاہ میں بھیج دیا، اس سے جس طرح دیگر مسلمانوں کو فائدہ اٹھانے کا حق ہے میں نے بھی وہی فائدہ اٹھانا چاہا۔ فرمایا: امیر المومنین کا بیٹا ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازموں نے تمھارے اونٹوں کی نگہ داشت کی، خود تم نے اس پر ملازم نہ رکھا۔ اس لیے انصاف یہ ہے کہ اونٹ بیچ کر اپنا راس المال لے لو اور باقی رقم سرکاری خزانے میں داخل کرو۔([24])

(۴) بنی مخزوم کا ایک شخص امیر معاویہ کے باپ حضرت ابو سفیان کے خلاف فاروق اعظم کے پاس فریاد لایا کہ انھوں نے میری زمین کی حد کے بارے میں مجھ پر ظلم کیا ہے۔ امیر المومنین نے فرمایا میں اس حد کو جانتا ہوں بارہا ہم اور مکہ کے لڑکے وہاں کھیلا کرتے تھے۔ جب میں مکہ آؤں تب تم مجھ سے ملنا۔ جب فاروق اعظم مکہ پہنچے تو وہ مخزومی حضرت ابو سفیان کو لے کر آیا۔ حضرت عمر اس حد تک پہنچے اور دیکھنے کے بعد فرمایا:ـ ابو سفیان تم نے حد میں تبدیلی کر دی، یہ پتھر یہاں سے اٹھاؤ اور وہاں رکھو۔ انھوں نے انکار کیا تو درّہ لگایا اور فرمایا تعمیل کرو، تمھاری ماں نہ ہو۔ ابو سفیان نے پتھر اٹھایا اور وہیں رکھا جہاں فاروق نے حکم دیا۔ حضرت عمر نے قبلہ رو ہو کر کہا اللہ! شکر ہے تیرا کہ میں ابوسفیان کی خواہش نفس پر غالب آیا اور اسے حکم اسلام کی تابعداری پر مجبور کیا۔ ابو سفیان نے بھی کعبہ کی طرف رخ کیا اور کہا یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ موت سے پہلے اسلام کی یہ وقعت میرے دل کو نصیب ہوئی کہ حکم اسلام کی خاطر میں نے عمر کی تابعداری کی۔([25])

 (۵) عبد اللہ بن عمر ﷠ فرماتے ہیں میں جَلُولاء کی جنگ میں شریک تھا۔ غنیمت آئی تو چالیس ہزار کا سامان اس میں سے میں نے خرید لیا۔ حضرت عمر کے پاس آیا تو انھوں نے فرمایا: بیٹا! اگر مجھے آگ میں ڈالنے کا حکم ہو اور تم سے کہا جائے کہ فدیہ دے کراسے چھڑا لو تو کیا تم فدیہ دے کر مجھے آزاد کرا سکتے ہو۔ میں نے عرض کیا: خدا کی قسم آپ کو جس چیز سے بھی اذیت ہو اس سے رہائی کے لیے فدیہ دینے کو تیار ہوں۔ فرمایا: گویا میں اپنی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں کہ مال غنیمت کا جب تم سودا کر رہے ہوتو لوگ کہہ رہے ہیں: عبد اللہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، امیر المومنین کے فرزند ہیں، امیر المومنین کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور واقعی تم ایسے ہی ہو اس حالت میں ان کے نزدیک زیادہ پسند ہوگا کہ سو کم کر کے دیں بجائے اس کے کہ ایک درم گراں کرکے فروخت کریں۔

تقسیم کی ذمہ داری میری ہے اور مجھ کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ میں تم کو ایک درم پر ایک درم نفع دیتا ہوں، قریش کے کسی تاجر نے جو نفع پایا ہوگا یہ اس سے زیادہ ہوگا۔ یہ فرما کر تاجروں کو بلایا اور دام لگوائے انھوں نے چار لاکھ میں خریدا۔ اسی ہزار حضرت عبد اللہ کو دیے اور تین لاکھ بیس ہزار حضرت سعد بن وقاص کے پاس اس فرمان کے ساتھ بھیج دیے کہ معرکہ میں شریک ہونے والوں کے درمیان اسے تقسیم کر دیں اور کسی کا انتقال ہو چکا ہو تو اس کے ورثہ کو دے دیں۔([26])

(۶) حضرت احنف بن قیس ایک وفد کے ساتھ فاروق اعظم کے پاس فتح عظیم کی خوش خبری لے کر آئے۔ امیر المومنین ان لوگوں سے ابھی حالات کی تفتیش کر رہے تھے کہ ایک آدمی خلل انداز ہوا کہا: فلاں نے میرے اوپر ظلم کیا ہے میں آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور میری فریاد کو پہنچیں۔ درمیان کلام ناگہاں اس خلل اندازی پر فاروق کو غصہ آیا اور درّہ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا اور فرمایا: امیر المومنین جب تمھاری فریاد سننے کو بیٹھتا ہے تو نہیں آتےاور جب مسلمانوں کے کسی کام میں مشغول ہوتا ہے تو آتے ہو کہ فریاد رسی کیجیے، فریاد رسی کیجیے۔وہ شخص شکستہ خاطر ہو کر لوٹ گیا۔ امیر المومنین کو کچھ خیال آیا اور اس کو واپس بلوایا۔ وہ حاضر ہوا تو کوڑا اس کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ’’بدلہ لے لو‘‘ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم! میں اسے اللہ کے واسطے اور آپ کی خاطر معاف کرتا ہوں۔ فرمایا: اس طرح نہ ہوگا۔ یا تو اللہ کے لیے اس کے ثواب کی خاطر معاف کرو، یا میری خاطر معاف کر رہے ہو تو مجھے بتاؤ۔ اس نے کہا میں اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ پھر وہ واپس چلا گیا۔ امیر المومنین گھر میں گئے دو رکعت نماز پڑھی اور مصلّے پر بیٹھ گئے۔ کہنے لگے: اے خطاب کے بیٹے! تو پست تھا، اللہ نے تجھے بلند کیا۔ تو گمراہ تھا، خدا نے تجھے ہدایت دی۔ تو ذلیل تھا، اللہ نے تجھے عزت بخشی پھر تجھے مسلمانوں کا حکمراں بنایا۔ اب ایک شخص تیرے پاس فریاد لے کر آیاتو اسے تونے درّہ لگا دیا۔ کل رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو کیا جواب دے گا؟ اس طرح اپنے نفس کو عتاب کرتے رہے۔ احنف فرماتے ہیں: یہ منظر دیکھ کر ہمیں خیال ہوا کہ یہ روئے زمین کا سب سے بہتر شخص ہے۔([27])

ذمیوں کی رعایت:

آج جہاد اور جزیہ کے تعلق سے اسلام پر بہت کچھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ یہاں پوری بحث کی تو گنجائش نہیں مگر مختصرا یہ عرض ہے کہ یہ اعتراضات اسلام کی حقیقت سے بے خبری کے باعث ہیں۔ اور اس بنیاد پر ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مذہب نہیں بلکہ ایک قوم کا اپنا وضع کردہ مذہب ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خدا کا نازل کیا ہو دین ہے۔ قرآن اللہ کا سچا کلام ہے۔ اور اس کے قوانین وضعی نہیں بلکہ ربّانی ہیں۔

اللہ عزوجل نے اہل اسلام کو اس کا ذمہ دار بنایا ہے کہ وہ خدا کی ہدایت ساری دنیا میں پہنچائیں اور اللہ کا قانون پوری دنیا میں نافذ کریں۔ دنیا سے کفر و شرک اور ظلم و نا انصافی کو مٹائیں اور حق و عدل کی بالا دستی قائم کریں۔

اس کی تعمیل میں اہل اسلام نے ساری دنیا کو حق کی دعوت دی اور روے زمین پر حکم الٰہی کی تنفیذ کے لیے جان و مال سے کوشش کی۔ دوسری قوم اگر اسلام قبول نہیں کرتی، تو اس کے لیے کم از کم یہ تھا کہ حکومت اسلام کی ماتحتی قبول کرے اور حکومت اس کی جان و مال کی تحفظ کی ذمہ دار ہوگی جس کے لیے اسے جزیہ دینا ہوگا۔

جنگ یرموک کے وقت مسلمانوں کو حمص چھوڑ کر محاذ جنگ دوسری جگہ قائم کرنا تھا اسلامی سپہ سالار نے حکم دیا کہ جب ہم یہ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں تو یہاں کے لوگوں کی حفاظت سے قاصر ہیں اس لیے جزیہ کی رقم واپس کر دی جائے۔ چنانچہ حمص اور اس کے اطراف کے لوگوں سے لی ہوئی رقم واپس کر دی گئی۔ اس عدل پر وہ دم بخود تھے اور روتے تھے، دعائیں کرتے تھے کہ خدا تمھیں پھر واپس لائے۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے انھیں جو آزادی اور عزت دی وہ اپنی حکومت کے سائے میں بھی انھیں حاصل نہ تھی۔ اس کے ساتھ جہاد میں آبادیاں ویران کرنے، درختوں اور ہرے کھیتوں کو برباد کرنے کی قطعاً اجازت نہ تھی۔ بوڑھوں، کمزوروں، عورتوں کو قتل کرنا منع تھا۔

آج جب کسی کو طاقت حاصل ہوتی ہے تو وہ لاکھوں انسانوں کو بے دریغ قتل کرتا ہے۔ شہر کے شہر ویران کر دیتا ہے۔ اور اپنی چلانے کے لیے پوری دنیا کو غلام بنا لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس کے حمایتی اس کی یہ ساری کارروائی جائز تصور کرتے ہیں۔ اگر اپنی بالا دستی کے لیے کوئی سب کچھ کرنے کا حق رکھتا ہے تو خدا کے قانون کی بالا دستی کے لیے اس کی پوری مخلوق پر رحم و عدل والا قانون نافذ کرنا کیوں جرم سمجھا جاتا ہے؟

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں مجاہدین کو کیا ہدایت ہوتی اور ذمیوں کو کیا حیثیت دی جاتی۔

(۱) صدیق اکبر ﷛ نے یزید بن ابی سفیان کی سرکردگی میں شام کی جانب لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا: میں دس باتوں کی تمیں وصیت کرتا ہوں۔

۲۔۳: کسی عورت یا بچے یا سن رسیدہ بوڑھے کو قتل نہ کرنا۔ ۴: کوئی پھل دار درخت نہ کاٹنا۔ ۵: کوئی آباد جگہ ویران نہ کرنا۔ ۶: کھانے کی ضرورت کے سوا کوئی بکری یا اونٹ ذبح نہ کرنا۔ ۷- کوئی کھجور کا درخت غرقاب نہ کرنا۔۸- نہ ہی اسے جلا کر برباد کرنا۔ ۹: غنیمت میں خیانت نہ کرنا۔ ۱۰: بزدلی اختیار نہ کرنا۔([28])

(۲) بیت المقدس کے عیسائیوں نے مصالحت کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ امیر المومنین خود صلح نامہ لکھیں۔ اس لیے فاروق اعظم نے سفر کیا اور ’’جابیہ‘‘ پہنچے وہیں اسلامی سپہ سالار اور بیت المقدس کے عیسائی ان سے ملے اور یہ صلح نامہ لکھا گیا:

’’یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے عمر امیر المومنین نے ایلیا والوں کو دی، یہ امان، جان، مال، گرجا، صلیب، بیمار، تندرست اور ان کے مذہب کے سارے لوگوں کے لیے ہے۔ ان کے گرجوں میں سکونت نہ اختیار کی جائےگی نہ انھیں منہدم کیا جائے گا نہ ان گرجوں یا ان کی حدوں میں یا صلیبوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ نہ ان کا مال کم کیا جائے گا۔ نہ دین کے معاملہ میں ان پر کوئی جبر ہوگا، نہ کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا،نہ ان کے ساتھ ایلیا میں کوئی یہودی سکونت پذیر رکھا جائے گا۔ اور ایلیا والوں کے ذمہ یہ ہے کہ جیسے مدائن والے جزیہ ادا کرتے ہیں یہ بھی ادا کریں‘‘ اور اپنے یہاں سے رومیوں اور چوروں کو نکال دیں۔ ان میں سے بھی جو از خود نکل جائے اس کی جان و مال کو امان ہےیہاں تک کہ وہ اپنی جائے امن تک پہنچ جائے۔ اور جو سکونت پذیر رہے اسے بھی امان ہے اور اس کے ذمہ بھی جزیہ اسی طرح ہے جیسے ایلیا والوں پر ہے اور ایلیا والوں میں سے جو لوگ اپنے گرجوں اور صلیبوں کو چھوڑ کر رومیوں کے ساتھ جانا چاہیں ان کو بھی امان ہے یہاں تک کہ اپنی جائے امن تک پہنچ جائیں، ان کے گرجوں اور صلیبوں سے بھی تعرض نہ ہوگا۔ اور ایلیا میں فلاں کے قتل سے پہلے کے جو باشندے ہیں وہ اگر یہاں رہنا چاہیں تو جزیہ کی ادائیگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور رومیوں کے ساتھ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں یا اپنے لوگوں کے پاس دوسری جگہ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں، جب تک ان کی زراعت کی کٹائی نہ ہو جائے ان سے کچھ وصول نہ کیا جائے۔

جو کچھ اس نوشتے میں لکھا گیا اس پر اللہ کا عہد ہے اور اس کے رسول کا ذمہ، خلفا کا ذمہ اور مومنین کا ذمہ ہے جب تک کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔ اس پر خالد بن ولید، عمرو بن عاص، عبد الرحمٰن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان گواہ ہیں۔

دیگر مقامات کے معاہدہ ناموں میں بھی اسی طرح جان، مال، گرجوں، صلیبوں کی امان وغیرہ کا ذکر ہے۔([29])

(۳) جب ذمیوں نے مسلمانوں کی وفاداری اور ان کا احسن سلوک دیکھا تو مسلمانوں کے معاون ہو گئے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی خبر گیری کرنے لگے۔ ہر شہر کے لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ جاسوس اس کام پر لگا دیے کہ وہ روم اور شاہ روم کی خبر لاتے رہیں اور یہ معلوم کریں کہ وہ اب کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہر شہر میں ان کے قاصد یہ خبر لائے کہ رومی بہت زبردست تیاری کر رہے ہیں اور بڑا لشکر اکٹھا کر لیا ہے۔ سردارانِ شہر نے اپنے اپنے والی شہر کو مطلع کیا، والیان بلاد نے حضرت ابو عبیدہ کو آگاہ کیا۔ ابو عبیدہ اور سربرآوردہ مسلمانوں نے دیکھا کہ معاملہ بڑا سنگین ہے اور مقابلہ کے لیے شہر چھوڑ کر ہمیں باہر کسی مناسب مقام پر لشکر کشی کرنی ہوگی اس لیے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہ نے ہر حاکم شہر کو لکھا کہ ذمیوں سے جو جزیہ و خراج لیا گیا ہے وہ واپس کر دیا جائے اور بتا دیا جائے کہ ہم نے یہ رقم اس شرط پر لی تھی کہ تمھاری حفاظت کریں گے لیکن موجودہ صورت حال میں ہم اس پر قادر نہیں اس لیے تمھاری رقم واپس کرتے ہیں۔ اگر ہم کو فتح حاصل ہوئی اور ہم واپس آئے تو سابقہ شرط پر ہم قائم رہیں گے۔یہ رقم واپس کی گئی اور یہ بات بتائی گئی تو اہل ذمہ نے کہا خدا تمھیں واپس لائے اور دشمنوں پر تمھیں فتح نصیب کرے، تمھاری جگہ اگر وہ لوگ ہوتے تو کچھ واپس نہ کرتے اور جو کچھ بچا ہے وہ بھی لے لیتے، ہمارے لیے کچھ نہ چھوڑتے۔

یرموک میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان سخت معرکہ رہا۔ اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ اب ہر شہر کے والی اور مسلمان ان شہروں میں واپس آنے لگے تو وہاں کے اہل ذمہ ان کا استقبال کرتے اور جو مال انھیں واپس کیا گیا تھا خود لا کر دیتے جاتے۔

یہ صورت حال جب ان بلاد والوں نے دیکھی جن سے مصالحت نہ ہوئی تھی تو وہ بھی اسی شرط پر صلح کے لیے تیار ہو گئے۔ انھوں نے جزیہ ادا کیا اور اپنے شہروں پر مسلمانوں کو قبضہ دے دیا۔([30])

حضرت خالد بن ولید فتح اُلیس کے بعد حِیرہ پہنچے تو وہاں شاہ ایران کے مقرر کردہ والی اِیاس بن قبیصہ طائی سے یہ گفتگو ہوئی:

میں تم کو اللہ کی جانب اور اسلام کی جانب بلاتا ہوں اگر تم نے دعوت قبول کی تو تمھارے لیے بھی وہ حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے لیے ہیں اور تمھارے اوپر بھی وہ فرائض ہوں گے جو مسلمانوں کے اوپر ہیں۔ یہ اگر تم کو منظور نہیں تو جزیہ ادا کرو، اگر یہ بھی قبول نہیں تو سن لو میں تمھارے پاس ایسی قوم لے کر آیا ہوں کہ تمھیں جس قدر جینے کی حرص ہے اس سے زیادہ اسے مرنے کی حرص ہے۔ ایاس نے کہا: ہمیں تم سے جنگ کی ضرورت نہیں، نہ ہی ہم تمھارے دین میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور جزیہ ادا کریں گے۔

حضرت خالد نے نوے ہزار سالانہ جزیہ کی شرط پر ان سے صلح کرلی اور یہ معاہدہ ہوا کہ ان کا کوئی گرجا، کلیسا یا قلعہ منہدم نہ کیا جائے گا، نہ ہی ناقوس بجانے سے روکا جائے گا، نہ تہوار کے دن صلیب نکالنے سے روکا جائے گا اور وہ کوئی دغا نہ کریں گے۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر ان کے یہاں سے گزرے گا تو مذہب اسلام کی رو سے حلال کھانے کے ذریعہ ان کی ضیافت کرنی ہوگی اس وقت جو صلح نامہ تحریر ہوا اس کے الفاظ یہ ہیں:

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ اہل حیرہ کے لیے خالد بن ولید کی تحریر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ابو بکر نے مجھے حکم دیا کہ یمامہ سے واپسی میں اہل عراق کے یہاں جاؤں اور ان کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب دعوت دوں، انھیں جنت کی بشارت اور جہنم کی وعیدیں سناؤں۔ اگر وہ قبول کر لیں تو انھیں وہی حق حاصل ہوگا جو مسلمانوں کو ہوتا ہے اور ان کے اوپر بھی وہی فرض ہوگا جو مسلمانوں پر ہوتا ہے۔

حکم کے مطابق میں حیرہ پہنچا میرے پاس ایاس بن قبیصہ طائی چند سرداران حیرہ کے ساتھ آیا۔ میں نے انھیں خدا اور رسول کی جانب دعوت دی، انھوں نے قبول نہ کی تو میں نے ان کے سامنے جزیہ یا جنگ کی بات رکھی۔ انھوں نے کہا ہمیں جنگ کی ضرورت نہیں۔ لیکن جیسے دیگر اہل کتاب نے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کی ہے اسی شرط پر ہم بھی مصالحت چاہتے ہیں۔

میں نے دیکھا کہ سات ہزار مرد ہیں۔ ان میں غور کیا تو ایک ہزار اپاہج یا معذور ملے ان کو میں نے شمار سے خارج کر دیا۔ جن پر جزیہ ہوا وہ چھ ہزار مرد ہوئے۔ انھوں نے نوے ہزار کی ادائیگی پر مصالحت کی۔ میں نے شرط رکھی ان پر اللہ کا عہد اور میثاق ہے جو اہل تورات و انجیل سے لیا گیا ہے کہ وہ نہ مخالفت کریں گے، نہ عرب و عجم کے کسی مسلم کے خلاف کسی کافر کو مدد دیں گے۔ نہ مسلمانوں کے خاص مقامات کا غیروں کو پتہ دیں گے۔ ان پر اس سے متعلق اللہ کا عہد اور وہ میثاق ہے جو اس نے اہل تورات و انجیل سے لیا ہے اور وہ سب سے سخت عہد و پیمان جو کسی نبی پر لیا گیا ہے۔ اگر اس عہد کی خلاف ورزی کریں تو ان کے لیے امان اور ذمہ باقی نہ رہے گا۔ اور اگر اس کی نگہ داشت کریں تو کسی عہد والے کو جو حق دیا جاتا ہے ان کے لیے بھی ہوگا۔ اور ہمارے ذمہ ان کی حفاظت ہے اگر اللہ نے ہم کو دشمنوں پر فتح دی تو بھی یہ اس عہد پر رہیں گے۔ ان کے لیے اس پر خدا کا عہد اور میثاق ہے۔

ان کے لیے میں نے یہ بھی رکھا ہے کہ جو شخص سن رسیدہ ہو کر کام سے قاصر ہو جائے یا جسے کوئی ناگہانی آفت پہنچ جائے یا محتاج و نادار ہو جائے کہ اس کے مذہب والے اس پر خیرات کرنے لگیں تو اس کا جزیہ ساقط کر دیا جائے گا اور جب تک وہ دار الاسلام میں رہے اس کی اور اس کے اہل و عیال کی کفالت مسلمانوں کے بیت المال سے کی جائے گی۔ اگر وہ دار الہجرۃ اور دار الاسلام سے نکل کر کسی دوسری جگہ چلے جائیں تو ان کا نفقہ مسلمانوں کے ذمہ نہ ہوگا۔ اور ان کا جو غلام بھی مسلمان ہو جائے اسے مسلمانوں کے بازار میں کھڑا کر کے بغیر کسی کمی اور عجلت کے زیادہ سے زیادہ دام پر فروخت کیا جائے گا اور اس کی قیمت غلام کے مالک کو دے دی جائے گی۔

اور وہ جو بھی پوشاک پہنتے ہیں پہن سکتے ہیں مگر جنگی لباس کی اجازت نہیں، نہ ہی یہ کہ مسلمانوں کا لباس پہن کر ان کے مشابہ ہو جائیں۔ اگر کسی شخص کو جنگی لباس میں دیکھا گیا تو اس بارے میں اس سے باز پرس ہوگی اگر کوئی وجہ جواز بتائی تو ٹھیک ورنہ لباس کے بقدر اسے سزا دی جائے گی۔ ان سے میں نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ جس رقم پر مصالحت ہوئی ہے اسے وصول کر کے مسلمانوں کے بیت المال کو ادا کرنا ان کے عمّال کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں اگر مسلمانوں سے معاون طلب کریں تو انھیں معاون دیے جائیں گے اور معاون کا خرچ مسلمانوں کے بیت المال سے ادا ہوگا۔([31])

ان صلح ناموں سے صاف ظاہر ہے کہ ذمیوں کی جان، مال، معابد کا تحفظ اور ان کے مذہب اور مراسم سے عدم تعرض کا ذمہ لیا جاتا۔ کسی بھی دوسری قوم کے لیے اس سے زیادہ تحفظ کی نظیر کیا ہےَ

خوف خدا:

مسلمانوں کے سارے اخلاق کی اصل ان کا ایمان اور خوف خدا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہر حال میں انسان کو اخلاق عالیہ کی دعوت دیتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو عارضی طور پر یا نمائشی طور پر انسان اچھی باتیں اپنا سکتا ہے مگر جب اسے کسی کی آگاہی یا رسوائی کا اندیشہ نہ ہو تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی طاقت ور اور فاتح کسی کمزور اور مفتوح سے کوئی بھی سخت سے سخت معاہدہ کر لے لیکن اس کے اندر اگر عہد شکنی اور بے وفائی پر خدا کا خوف نہیں تو کسی وقت بھی وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر سکتا ہے اور مفتوح و کمزور اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ رہ گیا دنیا میں رسوائی اور بدنامی کا اندیشہ تو جھوٹ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ایسی طاقت ہے جو کسی بھی کمزور کے سچ کو بڑی آسانی سے زیر کر سکتی ہے۔ دنیا وہی مانے گی جو سنے گی۔ آج جو اخلاقی گراوٹ آچکی ہے اس کا سب سے بڑا سبب خوف خدا کا فقدان اور دنیا کی حرص ہے۔ خلفائے راشدین کا حال یہ تھا:

(۱) حضرت ابو موسیٰ اشعری ﷛ نے ایک بار بیت المال صاف کیا اس میں ایک درہم رہ گیا تھا اتفاقاً حضرت عمر کا کوئی فرزند وہاں سے گزرا حضرت ابو موسیٰ نے وہ درہم اسے دے دیا۔ فاروق اعظم نے بچے کے ہاتھ میں درہم دیکھا تو پوچھا یہ تجھ کو کہاں سے ملا؟ اس نے بتایا حضرت ابو موسیٰ نے دیا۔ حضرت عمر حضرت ابو موسیٰ کے پاس آئے فرمایا: تم کو مدینہ میں آل عمر سے کمتر کوئی گھرانا نہ ملا۔ تم چاہتے ہو کہ ایک درہم کے واسطے امت کا ہر فرد اس ایک درہم میں اس کی جو حق تلفی ہوئی ہے اس کا مطالبہ لائے اور آخرت میں ہم سے سوال ہو۔ یہ فرمایا اور وہ درہم لے کر بیت المال میں داخل کر دیا۔([32])

(۲) حضرت عمر نے حضرت سلمان فارسی ﷛ سے پوچھا: میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟ انھوں نے کہا: اگر آپ نے اس زمین سے ایک درہم یا کم و بیش وصول کیا پھر اسے وہاں صرف کیا جہاں اسے صرف کرنے کا حق نہ تھا تو آپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر اشک بار ہو گئے۔ ([33])

(۳) حضرت ابو بکر کے ایک فرزند کا آخری وقت تھا، وہ بار بار اپنے تکیہ کی طرف نگاہ ڈالتا، اس کی وفات ہو گئی تو لوگوں نے صدیق اکبر سے کہا آپ کے فرزند کو ہم نے بار بار تکیے کی جانب نظر کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ تکیہ ہٹایا گیا تو اس کے نیچے پانچ یا چھ دینار ملے۔ حضرت ابو بکر نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے لگے۔ فرمایا اے فلاں! میں نہیں سمجھتا کہ تیری جلد ان دیناروں کا بار برداشت کر سکے گی۔

(۴) اپنے وصال کے وقت صدیق اکبر نے فاروق اعظم کو خوف خدا کی تلقین فرمائی اور یہ وصیت کی:

اے عمر! اللہ کا ایک وہ حق ہے جو رات میں ادا ہوتا ہے اور وہ اسے دن میں قبول نہیں فرماتا اور ایک وہ حق ہے جو دن میں ادا ہوتا ہے وہ اسے رات میں قبول نہیں فرماتا۔ یقین جانو کہ جب تک فرض ادا نہ کیا جائے کوئی نفل قبول نہیں ہوتا۔ عمر! تم نے دیکھا نہیں کہ روز قیامت جن لوگوں کی میزان عمل بھاری ہوئی اسی وجہ سے بھاری ہوئی کہ انھوں نے حق کی پیروی کی اور ان کے حق کا پلّہ بھاری رہا۔ اور جس میزان میں کل صرف حق ہی رکھا جائے گا اسے گراں ہونا بھی چاہیے۔ ائے عمر! دیکھا نہیں کہ روزِ قیامت جن کی ترازوے اعمال ہلکی ہوئی اسی سبب سے ہلکی ہوئی کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان کے اوپر ہلکا رہا۔ اور جس میزان میں کل باطل ہی رکھا جائے اسے ہلکا ہونا بھی چاہیے۔ الخ۔([34])

(۵) مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص نے معاویہ بن خُدیج کو فتح اسکندریہ کی خبر دینے کے لیے مدینہ فاروق اعظم کے پاس بھیجا وہ پہنچے تو دوپہر کا وقت تھا، سواری مسجد کے دروازے پر بٹھائی اور خود مسجد کے اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ایک باندی آگئی کہ امیر المومنین طلب فرما رہے ہیں۔ خیر و خبر اور طعام و ضیافت کے بعد حضرت عمر نے معاویہ سے پوچھا تم میرے پاس آنے کے بجائے مسجد میں کس خیال سے چلے گئے، انھوں نے عرض کیا: میں نے سوچا دوپہر کا وقت ہے امیر المومنین قیلولہ کر رہے ہوں گے، فرمایا: تم نے برا گمان کیا۔ سن لو اگر دن کو سوتا ہوں تو رعایا کا نقصان اور ان کی بربادی ہے اور اگر رات کو سوؤں تو میرا اپنا نقصان اور میری بربادی ہے۔ معاویہ! ان دونوں باتوں کے ہوتے ہوئے سونا کیسا؟([35])

رہ گئی دوسری چیزیں جیسے بیماروں کی عیادت، کمزوروں کی اعانت، غمزدوں کی تعزیت، ہم سایہ کی رعایت وغیرہ اخلاق فاضلہ تو ان میں خلفائے کرام کا حصہ اوروں سے زیادہ تھا۔ حضرت عمر کے پاس صوبوں سے جب کوئی وفد آتا تو اس سے پوچھتے تمھارے امیر کا کیا حال ہے؟ وہ تعریف کرتے تو پوچھتے: کیا وہ بیماروں کی عیادت کرتا ہے؟ کیا غلاموں کی مزاج پرسی کرتا ہے؟ کیا کمزوروں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہے؟ کیا اپنے دروازے کے باہر لوگوں کی شکایت سننے کے لیے بیٹھتا ہے؟ ان میں سے کسی بات سے متعلق اگر وہ نفی میں جواب دیتے تو حضرت عمر اس امیر کو معزول کر دیتے۔([36])

ان سب کا نتیجہ یہ تھا کہ انھوں نے قوم میں حریت کی روح پھونک دی اور امرا کے لیے اتباع حق کے سوا چارہ نہ رہا۔ کمزوروں، بیماروں کی امداد و عیادت ان کی طبیعت بن گئی۔ اور ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ کسی حاکم نے اگر ہم پر ظلم کیا تو ایسی پناہ گاہ موجود ہے جہاں ظالموں کا زور نہیں چل سکتا۔ ان سب سے فزوں تر یہ ہے کہ خود امیر المومنین کی اگر گرفت ہوتی تو وہ قبول حق کے لیے بخندہ پیشانی تیار رہتا اور اس کا شکر گزار ہوتا جس نے اسے ناحق سے روکا اور حق کی ہدایت کی، یہ صرف اس لیے کہ ان کے دلوں میں خدا کا خوف اور آخرت پر ایمان تھا۔ وہ دنیا کی ذلت و رسوائی کو آخرت کی رسوائی اور سزا کے سامنے ہیچ سمجھتے تھے۔ اور وہاں کی عافیت کو یہاں کی بڑی سے بڑی آسائش پر ترجیح دیتے تھے۔

محمد بن مسلمہ وہ جلیل القدر صحابی تھے جنھیں حضرت عمر گورنروں سے متعلق شکایت کی تفتیش اور بر سر عام ان کی جانچ کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ ایک بار ان سے فاروق اعظم نے پوچھ لیا: تم مجھے کیسا پاتے ہو؟ انھوں نے کہا: خدا کی قسم آپ کو ویسا ہی پاتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں اور جیسا ہر وہ شخص چاہتا ہے جو آپ کی بھلائی چاہتا ہے۔ میں آپ کو مال جمع کرنے پر قادر، خود مال سے کنارہ کش اور مال کی تقسیم میں عادل پاتا ہوں۔ اور اگر راہ عدل سے آپ نے کجی اختیار کی تو ہم آپ کو سیدھا کر دیں گے جیسے تیر کو آلہ سے سیدھا کیا جاتا ہے۔ حضرت فاروق نے فرمایا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسی قوم میں رکھا ہے کہ اگر میں کج ہو جاؤں تو وہ مجھے سیدھا کردے۔([37])

یہ وہ اخلاق عالیہ ہیں جن کی مثال کسی قوم کے بڑے بڑے عابدوں اور پارساؤں میں نہیں مل سکتی اور جہاں بانی اور حکمرانی کے باب میں خلفائے راشدین نے جو احتیاطیں برتی ہیں اور جس طرح قوم کو راحت پہنچائی ہے اور خود کو ہر آرام سے کنارہ کش رکھا ہے اس کی نظیر کسی دوسری قوم میں ملنے کی توقع ایک خیال خام سے زیادہ نہیں۔ آج باطل کی قوت اور مسلمانوں کی مجرمانہ مسلسل غفلت نے لوگوں کے لیے طرح طرح کی زبان درازی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ لیکن ہر انصاف پسند اور حق نگر یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ عالمی امن اور دائمی خوش حالی اسلامی قوانین اور رسول اسلام اور خلفائے راشدین کی سیرت کے اتباع کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

وصلی اللہ تعالی و بارک وسلم علیٰ رسولہ و آلہ و خلفائہ و اتباعہ واتباعہم اجمعین.

(۱) طبقات ابن سعد، تاریخ الخلفا، ص:۷۸

(۱) مسند طبرانی، تاریخ الخلفا، ص: ۷۸

(۲) الکامل، ابن اثیر، ۲/۲۶۶

(۳) الکامل، ابن اثیر، ۲/۲۶۶

(۱) الکامل، ابن اثیر، ۲ / ۳۳۳

(۲) تاریخ الاسلام ووفیات المشاہیر والاعلام، از شمس الدین محمد بن احمد ذھبی، ۲ / ۲۶۷۔ کنز العمال، ۱۴ / ۲۳۰، تاریخ الخلفا، للسیوطی، ص:۱۲۸

(۳) تاریخ ذھبی، ۲ / ۲۷۱، مناقب عمر، ابن الجوزی، ص: ۱۰۵۔ طبقات ابن سعد، ۳/ ۲۷۷

(۴) تاریخ ذھبی، ۲ / ۲۷۱، طبقات ابن سعد، ۳/ ۳۰۳، ۳۰۴۔ تاریخ الخلفا، للسیوطی، ص: ۱۳۰        

(۱) تاریخ الخلفا، ص: ۱۲۸

(۲) الکامل، ابن اثیر، ۲/ ۲۶۶

(۳) ابن عساکر، تاریخ الخلفا، ص: ۸۰

(۱) الکامل، ابن اثیر، ۲ / ۷۵۰

(۱) الکامل، ابن اثیر، ۲/۴۳۴، کنز العمال، ۱۴/ ۲۹۶

(۲) حیاۃ الحیوان، علامہ کمال الدین دَرمیری، ۱/۴۷

(۱) حیاۃ الحیوان،للدمیری، ۱/۴۷، مطبع حجازی قاہرہ ۱۳۵۳ھ

(۲) حیاۃ الحیوان، ۱/۴۷، کنز العمال ، ۱۴/ ۲۲۹

(۳) کنز العمال، ۱۴/ ۲۵۶ تا ۲۵۹

(۱) کنز العمال، ۱۴ / ۳۰۹

(۲) طبقات ابن سعد، کنز العمال، ۱۴/ ۳۰۹

(۱) کتاب الخراج للامام ابی یوسف، ص: ۲۴۳، کنز العمال، ۱۴/ ۳۰۷

(۲) طبقات ابن سعد، ابن عساکر۔ کنزالعمال، ۱۴/۲۱۷

(۱) تاریخ الامم و الملوک، ابو جعفر محمد بن جریر طبری، ۵/۱۷۶۔ طبع بیروت۔ الکامل، ۲/۴۲۶

(۱) تاریخ الخلفا، ص:۱۸۵، تاریخ الکامل، ابن اثیر، ۲/۷۵۰

(۲) کنز العمال، ۱۴/ ۳۰۷

(۳) کنز العمال، ۱۴/۳۱۴

(۱) کنز العمال، ۱۴/۳۱۸

(۲) ابن عساکر، کنزالعمال، ۱۴/۳۲۱

(۱) بیہقی، تاریخ الخلفا، ص:۹۷

(۱) تاریخ طبری، ۴/۴۳۶، طبع بیروت، دار الفکر۔

(۲) کتاب الخراج للامام ابی یوسف، ص: ۲۸۲ تا ۲۸۸ ملخصاً

(۱) کتاب الخراج للامام ابی یوسف، ص: ۲۸۸ تا ۲۹۰، ملخصاً

(۲) کنز العمال۱۴/ ۳۱۸

(۱) طبقات ابن سعد، کنز العمال، ۱۴/۲۱۴

(۲) کنز العمال، ۱۴/ ۱۷۷۔ الکامل ابن اثیر، ۲/۲۶۸

(۳) کنز العمال، ۱۴/ ۲۲۶

(۴) تاریخ طبری، ۵/۲۲۲

(۱) کنز العمال، ۱۴/۲۱۰

مولانا اسرار احمد مصباحی علیہ الرحمہ

جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سابق مؤقر استاذِ جلیل،حضرت مولانا اسرار احمد مصباحی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ

از قلم: محمد فضل الرحمن برکاتی مصباحی

حضرت علامہ اسرار احمد مصباحی علیہ الرحمہ کی ولادت 20 اپریل 1947ء کو موضع لہرا ڈاک خانہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی ۔انھوں نے ابتدا تا انتہا مکمل تعلیم دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں حاصل کی 1386ھ /1966ءمیں علماء و مشائخ کے ہاتھوں دستار فضیلت سے نوازے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے دریافت کرنے پر اپنے احوال و کوائف سے آگاہ فرمایا ۔حافظ ملت علیہ الرحمہ نے ان کا بیان سماعت کرنے بعد فرمایا "یہیں رہو ،کام کرو ،اشرفیہ تمھارا ہے تم اشرفیہ کے ہو”۔
اس دن سے لے کر جون 2010ء تک دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں درس و تدریس سے منسلک رہے۔ان کی درس گاہ کے فیض یافتہ ہزاروں تلامذہ ملک و بیرون ملک میں دین و سنیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔خیرالاذکیاء صدرالعلماء حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور جیسی عظیم شخصیت ان کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔ چند ماہ بحیثیت معین المدرسین رہے ۔جب اشرف العلماء حضرت سید حامد اشرف مصباحی اشرفی الجیلانی ،ممبئی تشریف لے گئے تو باضابطہ یہاں کے استاذ مقرر ہوئے ۔بیعت و ارادت اور اجازت و خلافت جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ سے حاصل ہے۔افسو صد افسوس آج 4 جمادی الاولی 1444ھ مطابق 29 نومبر 2022ء سہ شنبہ دار آخرت کی جانب روانہ ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ رٰجعون

دعائے قنوت

دعائے قنوت

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرْ، وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ، اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُوَاِلَیْکَ نَسْعٰی، وَنَحْفِدُوَنَرْ جُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی، عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِا لْکُفَّارِمُلْحِقْ۔

الاسلامی.نیٹ
ALISLAMI.NET

اسلامی کلمے

بِسْمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمْ

اسلامی کلِمے

پہلاکلِمَہ طَیِّبْ
لاَاِلٰہَ اِلاَّﷲ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ ﷲِ ۔ صَلَّی ﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم

دوسرا کلِمَہ شَہادَت
اَشْھَدُاَن لاَّ اِلٰہَ اِلاّ اللّٰہُ، وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہ۔ صَلَّی ﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم

تیسراکلِمَہ تَمْجِید
سُبْحَانَ ﷲِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَﷲ اَکْبَر، وَلاَحَولَ وَلاَقُوَّۃَ اِلاَّبِا للہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔

چوتھاکلِمَہ تَوْحِیْد
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَحَیٌّ لاَّیَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْر، وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیًٔ قَدِیْر۔

پانچواں کلِمَہ اِسْتِغْفَار
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطَأ سِرًّا اَوْعَلاَنِیَۃً وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ اَعْلَمُ وَ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لاَاَعْلَمُ، اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُالْعُیُوْبِ وَغَفَّارُالذُّنُوْبِ وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمْ۔

چھٹاں کلمہ رَدِّکُفْر
اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَتَبَرَّأتُ مِنَ الْکُفْرِوَالشِّرْ کِ وَالْکِذْبِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ کُلِّھَا، اَسْلَمْتُ وَاٰمَنْتُ وَاَقُوْ لُ لاَاِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ۔

اِیْمَانِ مُجْمَلْ
اٰمَنْتُ بِاللہِ کَمَاھُوَبِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ

اِیمانِ مُفَصَّلْ
اٰمَنْتُ بِاللہ ِوَمَلئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ وَالْقَدْرِخَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ ﷲِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْ تِ۔

الاسلامی.نیٹ
ALISLAMI.NET

 

کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنا کیسا؟

#کرکٹ میچ کی کامیابی کیلئے دعا کرنا کیسا

الاستفتاء کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ مروجہ انٹرنیشنل کرکٹ میچز میں قومی ٹیم کی کامیابی کے لئے دعا کرنا کیسا ہے؟ خاص طور پر ورلڈ کپ اور T-20 سیریز وغیرہ جسمیں فتح حاصل کرنے کے لئے ہمارے ملک کی عزت اور وقار بھی بڑھتا ہے؟
[سائلِ: ریحان احمد،کراچی]

بسم ﷲ الرحمن الرحیم
الجواب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

رسول پاکﷺ نے دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا ہے
عن انس بن مالک رضی ﷲ عنہ،عن النبیﷺ قال الدعاء مخ العبادۃ حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا دعا عبادت کا مغز ہے.
[سنن الترمذی،ابواب الدعوات،باب ما جاء فی فضل الدعائ، رقم الحدیث 3371]

یہ اہم کام جائز کاموں کے لئے جائز و مستحسن بلکہ حکم قرآنی ہے اور ناجائز کاموں کے لئے ناجائز وسخت حرام۔فی زمانہ رائج کرکٹ میچ بہت ساری غیر شرعی قباحتوںکا مجموعہ بن چکا ہے لہذا اس کے لئے دعا کرنا سخت ناجائز ہے۔ہمیں تعجب ہے کہ یہ پوچھا گیا کہ کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنا کیسا ہے۔فی الحقیقت سوال تو یہ ہونا چاہئے کہ کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنے میں کیا کیا نحوستیں اور وبال ہیں؟
اولا…مروجہ کرکٹ میچ محرمات کا مجموعہ ہے۔ٹی وی پر کوئی بھی کرکٹ میچ دیکھنا،بدنگاہی اور حرام دیکھے بغیر ممکن نہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ٹی وی اسکرین پر بار بار کرکٹ میچ دیکھنے والے اور دیکھنے والیاں اپنی آنکھوں کو حرام سے بھرتے ہیں اور جہنم میں جانے کا سامان کرتے ہیں کیونکہ شریعت مطہرہ میں نامحرم کو دیکھنا سخت گناہ ہے۔صرف ضرورت شرعیہ کے وقت پہلی نگاہ کی اجازت ہے ورنہ شدید ممانعت ہے کہ ﷲ رب العزت نے واضح طور پر قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بے شک ﷲ کو انکے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں
[پارہ 18،سورہ نور،آیت31]

حدیث پاک میں ہے: لعن ﷲ الناظر والمنظور الیہ
ﷲ لعنت کرے (بلا ضرورت) اجنبی عورت کو دیکھنے والے پر اور اس (عورت) پر جو (بلا ضرورت اپنے آپ کو اجنبی مرد پر ظاہر کرتے ہوئے) دیکھی جائے
[سنن الکبریٰ للبیہقی،کتاب النکاح، باب ماجاء فی الرجل بنظر الی عورۃ الرجل…الخ،رقم الحدیث 13566]

ایمان سے کہئے! کیا کرکٹ میچ دیکھنے کے دوران ان قرآنی آیات اور احادیث پر عمل ہوسکتا ہے؟ کھیل کے دوران کیمرہ مین کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ تماشائیوں میں دیدہ زیب،زرق برق،چست اور کم لباس خواتین کو تلاش کرکے دکھلائے،بلکہ یہی نہیں اب تو شرم وحیاء کا جنازہ ہی اٹھ گیا کہ بعض میچوں میں ہر چوکے اور چھکے کے بعد بائونڈری لائن پر چیر لیڈرز کے نام سے نیم برہنہ خواتین رقص کرتی ہیں اور یہ حرام فعل پورے میچ کے دوران جاری رہتا ہے اور ٹی وی اسکرین پر دکھایا جاتا رہتا ہے۔گویا حرام کے دلدادہ اور ﷲ رب جل جلالہ کے قہر کو دعوت دینے والے ایک تیر میںدو شکار کے خواہش مند ہیں۔

کرکٹ بھی دیکھیں اور رقص کی محفل بھی،الامان الحفیظ اسی پر بس نہیں،یہی کرکٹ میچ اگر بیرونی ممالک میں ہو مثلا آسٹریلیا،نیوزی لینڈ، سائوتھ افریقہ،تو وہاں کے مادر پدر آزادی کے متوالے سارے ننگے ایک ہی حمام میں ہونے کا منظر پیش کرتے ہوئے سن باتھ کے نام پر مرد و عورت فقط شرم گاہ کوچھپاکر لیٹے رہتے ہیں اور ٹی وی اسکرین پر یہ واہیات مناظر بار بار بلکہ خصوصاً دکھائے جاتے ہیں۔
کیا خوب قیامت کا ہے کوئی دن اور ہے
جو کمی رہ جاتی ہے وہ میچ کے دوران چلتے ہوئے اشتہارات کے ذریعے پوری کردی جاتی ہے۔ موبائل کا اشتہار ہو خواہ کھانے پینے کا حتیٰ کہ مردانہ ملبوسات کے اشتہار میں بھی نیم برہنہ،چست لباس اور جسم کی نمائش کرنے والی خواتین جزولاینفک ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کرکٹ میچ دکھانے والے کرکٹ میچ کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بے حیاء بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتے۔ہمیں حیرت ہے ان مسلمانوں پر جو اپنی ماں، بہن اور بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ تماشا دیکھتے ہیں پھر پوچھتے ہیں مولانا صاحب! آج کون جیتے گا؟ دعا کرنا کیسا ہے؟
العیاذ باﷲ تعالیٰ من ذلک

ثانیا…کرکٹ میچ کے دوران اذانوں کی حرمت اور ادب کا لحاظ قطعاً نہیں رکھا جاتا۔اکثر اذانوں کے دوران گانے باجے بج رہے ہوتے ہیں اور تماشائی اپنے شوروغل میں مصروف ہوتے ہیں۔موذن حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کی کیف آور اور نجات دہندہ صدائیں دے رہا ہوتا ہےمگر گرائونڈ میں موجود غفلت کا مارا تماشائی اور لالچ کاشیدا کھلاڑی تو اپنی زیست کا کیف اور نجات کا راستہ کرکٹ ہی کو سمجھ بیٹھا ہے۔تو بھلا کیوں صلوٰۃ وفلاح پر لبیک کہے گا؟ حالانکہ اذان کی بے ادبی تو ایمان کے صلب کی وجہ بن سکتی ہے۔مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ ﷲ القوی نقل کرتے ہیں جو اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے،اس پر معاذ ﷲ عزوجل خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے-
[بہار شریعت،جلد 1،حصہ 3، اذان کا بیان]

آپ کا سوال تھا کہ کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنا کیسا ہے،
ہمارا سوال ہے کیا ان نماز بھلانے والوں کے لئے بھی دعا کرو گے؟ جس کھیل میں برہنگی، رقص، گانے اور باجے ہیں۔
کیا اس کے لئے دعا کروگے؟
ثالثا…کچھ بعید نہیں کہ کوئی سخت دل یہ بھی کہہ دے کہ ہم صرف کمنٹری سنتے ہیں،جب کوئی ایسا منظر آتا ہے تو ہم آنکھیں بند کرلیتے ہیںتو جواباً گزارش ہے کہ کس تماشے کی کمنٹری سنتے ہیں جسمیں علی الاعلان،اجتماعی طور پر نمازوں کو قضا کیا جاتا ہے۔وہ نماز جسے مومن اور کافر کا فرق قرار دیا گیا جیسا کہ حضرت جابر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا-

عن جابر ان النبیﷺ  قال بین الکفر والایمان ترک الصلاۃ
کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے-
[سنن الترمذی،ابواب الایمان، عن رسول ﷲﷺ باب ما جاء فی ترک الصلوٰۃ رقم الحدیث 2523]

اب مسلمانوں میں یہ نماز ناپید ہے۔کھلاڑی اور تماشائی سب نمازیں قضاء کرکے اجتماعی طور پر رب کی نافرمانی کرتے ہیں۔دشمنان اسلام بھی خوب خوش ہوتے ہوں گے کہ مسلمانوں کو ٹھیک کام سے لگایا ہے کہ مسجدیں ویران اور اسٹیڈیم آباد،اذانوں کا ادب نہ نمازوں کی پرواہ، ٹھیک ہی کہا ہے کسی نے۔
کیا ہنستی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں، لعنت کریں شیطان پر
رابعاً…مروجہ کرکٹ میچ عوام کو دھوکا دینے کا نام ہے۔ ابتداء سے ہنوز ہر سال بڑے بڑے کھلاڑی، اداروں اور کاروباری حضرات کے سٹہ بازی میں ملوث ہونے اور سزا پانے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کوئی ملک بھی کرکٹ پر سٹہ لگانے والوں اور کھلاڑیوں کے خریدنے والوں سے خالی نہیں۔ عوام یہ سمجھتی ہے کہ جیت سے ملک کا نام روشن ہوگا جبکہ ان کی امیدوں کا مرکز ہار کے لئے بک چکا ہوتا ہے۔ بعض ملکوں میں اسے قانونی شکل دی جاچکی ہے۔ کیا جوا اور سٹہ کھیلنے والوں کے لئے دعا کی جاتی ہے؟دعا تو ان کی ہدایت کی ہونی چاہئے نہ کہ ان کے حرام کام میں جیت کی!
خامساً…کرکٹ میچ کے نام پر اپنی زندگی کے نہایت قیمتی اوقات کو بے دریغ ضائع کیاجاتا ہے۔ قرآن تو کہے بے شک انسان خسارے میں ہے سوائے ایمان اور نیک اعمال والوں کے مگر کرکٹ میچ دیکھنے اور کھیلنے والے اس خسارے کی فکر اور نیک اعمال سے یکسر غافل نظر آتے ہیں۔جو لوگ ون ڈے میچ کی خاطر بلا مبالغہ سات سے آٹھ گھنٹے ضائع کردیتے ہیں۔انہی لوگوں کو تراویح میں ایک گھنٹہ قرآن سننا بھی گراں محسوس ہوتا ہے۔یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے والوں نے تصور نہیں کیا۔یہ ڈریں اس دن سے جب نامہ اعمال ان کے سامنے ہوگا اور کہا جائے گا… اقراء کتٰبک، کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً… اپنا نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے
[پارہ 15،سورہ بنی اسرائیل،آیت 14]

اس دن ان سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اپنے ملک سے کھیلتے ہوئے کتنے رنز بنائے، کتنے چوکے لگائے،کتنے کھلاڑی آئوٹ کئے،کس ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا اور کس نے ایشیا کپ بلکہ قیامت کے دن کوئی شخص اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکے گا جب تک پانچ سوالوں کا جواب نہ دے دے۔
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا بروز قیامت ابن آدم اپنے رب کی بارگاہ سے قدم نہ ہٹا سکے گا حتی کہ پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے
(1) اپنی عمر کن کاموں میں گزاری؟
(2) اپنی جوانی کس کام میں گزاری؟
(3) مال کہاں سے کمایا؟
(4) اور کہاں خرچ کیا؟
(5) جو علم سیکھا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
[سنن الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق،باب القیامۃ،رقم الحدیث 2416]

آپ کا کیا جواب ہوگا؟ کرکٹ دیکھ کر اور اس کے لئے دعا کرتے ہوئے جوانی گزاری۔نہیں نہیں۔اس تماشے کے دیکھنے سے بھی توبہ کریں،کیا خبر یہ تماشا دیکھتے دیکھتے موت آجائے تو رب کو کیا منہ دکھائو گے کیونکہ جو حرام دیکھتے یا کرتے ہوئے فوت ہوجائے،کل بروز قیامت اسی حال میں اٹھے گا۔
قال رسول ﷲ من مات علی شیٔ بعثہ ﷲ علیہ رسول ﷲﷺ نے ارشاد فرمایا جو جس حال میں مرے گا ﷲ تعالیٰ اسی حال پر اسے اٹھائے گا
[مسند الامام احمد بن حنبل،مسند جابر بن عبدﷲ رضی ﷲ عنہ،رقم الحدیث14372]

دعا کا مقصد تو دنیا اور آخرت کی کامیابی،مشکلات کا حل، دنیا اور آخرت کے معاملات میں آسانی ہوتی ہے۔ کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنے میں آپ کو حاصل کیا ہوگا؟آپ کو نہ دنیا کا فائدہ نہ آخرت کا فائدہ؟ یہ تو محض اور محض لایعنی کام ہے۔حدیث پاک میں ہے:
ان من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ
بے شک بندے کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو ترک کردے
[سنن الترمذی، ابواب الزہد رقم الحدیث 2318]

ان پانچ اہم باتوں کے بعد مزید کسی چیز کی حاجت نہ رہی کہ عقل مند را اشارہ کافی است، مگر خواجہ خواجگان کی چھٹی (6 رجب المرجب، سالانہ عرس) کی نسبت سے چھٹی اورآخری بات۔
سادساً… بالفرض آپ کہیں گے کہ اس کھیل سے ملک و قوم کی بقاء اور اس کا نام و شہرت ہے تو ہم آپ کو امیر المومنین، خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کاارشاد یاد دلاتے ہیں۔حضرت عمر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں-
ان کنا اذل قوم فاعزنا ﷲ بالاسالم فمہما نطلب العزۃ بغیر ما اعزنا ﷲ بہ اذلنا ﷲ بے شک ہم اقوام میں سب سے کم تر تھے تو اﷲ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی تو جب ہم اسلام سے ہٹ کر کسی چیز کے ذریعے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو ﷲ ہمیں ذلیل کردے گا۔

نیز کرکٹ سے ملک کی ترقی کا تصور بس خام خیالی ہے۔ کھلاڑیوں نے کئی فتوحات حاصل کی ہوں گی اس سے ملک میں کتنی غربت کم ہوئی؟ کتنے بے روزگاروں کو روزگار مل گیا؟ کتنا امن و سکون حاصل ہوگیا؟ اگر ملا تو صرف دکھاوے کا پیالہ یعنی ورلڈ کپ کیا ملک معاشی اور معاشرتی طور پر مستحکم ہوگیا؟ کیا قتل وغارت گری ہی ختم ہوگئی؟ نہیں، کچھ بھی تو نہیں ملا…ہاں! گیا بہت کچھ، بنگلہ دیش جدا ہوگیا۔ لسانی تعصب کے سبب امن واخوت ختم ہوگیا،ملک و قوم قرض کے بار تلے دب گئے، بار بار امداد کے سوال نے ہمیں
دنیا کی نظر میں بھکاری بنادیا۔کشمیر کی افسردہ صورتحال کی مثال ہی ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کیا کم ہے؟ تو ایسی جیت کس کام کی جس میں صرف ایک پیالہ جیت کر باقی سب کچھ ہار جائو۔ یہ جیت ہماری نہیں بلکہ شیطان مکار کی ہے۔حقیقی فتح اور کامیابی صرف اور صرف ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ومن یطع ﷲ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً
اور جو ﷲ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی
[پارہ 22،سورہ احزاب،آیت71]

اے میرے بھائی! دعا مانگنی ہے تو اپنے والدین کے لئے مانگ، اپنی ہدایت کے لئے مانگ،ایمان پر ثابت قدمی اور اس پر خاتمے کی مانگ،اپنے الفاظ اور دعائوں کو کرکٹ میچ کے نام پر کیوں ضائع کرتا ہے؟ ضائع ہی نہیں بلکہ کرکٹ میچ دیکھ کر لعنتوں اور نحوستوں کو پاکر کیوں رب کی رحمت سے دور ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا حقائق ودقائق کو محبت کی آنکھ سے پڑھ پھر دل کے کانوں سے سن، تو یہی خلاصہ نکلے گا کہ کرکٹ میچ کے لئے دعا کرنا،ناجائز اور سخت حرام ہے اور ہر مسلمان کو اس سے بچنا چاہئے۔ﷲ پاک ہمیں نیک عمل کی توفیق دے اور ہر برا،ناجائز اور حرام فعل کرنے،دیکھنے اور پسند کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمین

▪️ نوٹ / تنبیہ🚫: یہ حکم ہم نے سوال کے مطابق تحریر کیا ہے۔اگر کوئی شخص شریعت کے احکامات کا لحاظ کرتے ہوئے روزانہ یا ہفتہ واری ورزش کے طور پر کچھ دیر کرکٹ کھیلے تو جائز ومباح ہے جیسا کہ مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں۔یعنی ہر وہ شے جس سے مسلمان غفلت میں پڑجائے،باطل ہے مگر کمان سے تیر اندازی کرنا،اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی سے ملاعبت (کھیل کود) یہ تین کام حق ہیں،حدیث میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ مسلمان کی زندگی لہو لعب کی لئے نہیں ہے۔لہذا تندرستی کے لئے ٹہلنا یا ورزش کے لئے تھوڑا کھیلنا تو جائز ہے…
[الخ وقار الفتاویٰ،متفرقات،ص436]
البتہ دعا اس کے لئے بھی نامناسب ہے۔دعا کرے گا تو اپنی صحت کی نہ کہ صحت دینے والے کھیل کی جیت!
وﷲ تعالیٰ اعلم
[ماہنامہ تحفظ جولائی 1, 2014]

شانِ خیر الاذکیا، علامہ محمد احمد مصباحی

گلہائے عقیدت
در شان خیر الاذکیاء عمدة الاصفیاء، استاذ الاساتذہ کثیر التلامذہ، تصویر حافظ ملت، حضرت علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ، مد ظلھم العالی (ناظم تعلیمات: جامعہ اشرفیہ مبارک پور)🌹

علم و فن، فکر و ہنر کا نام، خیر الاذکیاء
آگہی کا نقطۂ اتمام، خیر الاذکیاء

دے رہے ہیں تشنگان علم کو، اک عہد سے،
حافظ ملت کے در کا جام، خیر الاذکیاء

ذات ان کی، وارثِ علمِ امام احمد رضا
مفتئ اعظم کا عصری نام، خیرالاذکیاء

زیب تن کرتے ہیں آئے دن، نئے انداز سے،
عاجزی کا اک نیا احرام، خیر الاذکیاء

عالموں کے درمیاں وہ ذات سورج کی طرح،
گرچہ کم علموں میں ہیں گمنام، خیر الاذکیاء

کر دیا تو نے ادا حق مسندِ تدریس کا،
تیرے شاگردوں کی ہیں اقوام، خیر الاذکیاء

تو ہے سہلِ ممتنع کی ایک سیدھی سی مثال،
کتنا جامع ہے ترا افہام، خیر الاذکیاء

اک جماعت کی بصیرت کا امیں، تنہا ہے تو،
اک جماعت کا تیرا ہے کام خیر الاذکیاء

اشرفیہ کے چمن کی تازگی کے تم سبب،
تم سے ہیں اس کے جواں ایام، خیرالاذکیاء

دیں کی خدمت کے لئے، رب کی رضا کے واسطے،
کر دی تو نے، کرّوفَر نیلام، خیر الاذکیاء

ہے مشاہد دن بدن مائل بہ اقدار و عروج،
ہے مشاہد پر ترا انعام، خیر الاذکیاء

عقیدت کیش:
محمد مشاہد رضا مصباحی، فیض آباد

مولانا شاہ بدرالدین قادری جیلانی، شکاگو

تأثر
حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادری جیلانی (علیہ الرحمہ)
صدر جمعیۃ المشائخ الہند، وامریکن اسلامک سو سائٹی، شکاگو

نحمدہ‘ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

شب قدر کے مبارک و مسعود مو قع پر، دارالعلوم عزیزیہ ، اسلامک اکیڈمی کے نفع بخش پروگرامس سے واقف ہونے کا موقع ملا۔نئی سائٹ بھی، جہاں پر دارالعلوم کا سنگ بنیاد رکھا جا رہاہے،مشاہدہ کیا۔لاجواب انتخاب ہے،اہلسنت کی آرزو ‘وں کا مرکزہے۔
ﷲ تبارک و تعالیٰ، بحرمۃ النبی الامین ﷺ و بطفیل، سرکار سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ، دارالعلوم، و مرکز ،اسلامک اکیڈمی کو زیر سر پرستی حضرت مفتی با وقار، علامہ احمد القادری صاحب،
خوب خوب پروان چڑھائے۔آمین

الفقیر الی ﷲ الغنی الحمید
سید شاہ بدرالدین قادری الجیلانی
صدر جمعیۃ المشائخ الہند و
امریکن اسلامک سو سائٹی، شکاگو

رمضان ۱۴۲۶ ھ اکتوبر ۲۰۰۵ء

شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی

حضور شارحِ بخاری مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی خدمات

حضور شارح بخاری فقیہ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۱؍ شعبان ۱۳۳۹ھ ؍ ۲۰؍ اپریل ۱۹۲۱ء میں مشہور و معروف اور مردم خیز خطہ ، قصبہ گھوسی کے محلہ کریم الدین پور اعظم گڑھ ،حال ضلع مئو میں ہوئی۔
آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے ۔ مفتی محمد شریف الحق امجدی بن عبد الصمد بن ثناء اللہ بن لعل محمد بن مولانا خیرالدین اعظمی۔
مولا نا خیرالدین علیہ الرحمہ اپنے عہد میں پاے کے عالم اور صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے ۔ ان کا یہ روحانی فیض آج تک جاری ہے، کہ ان کے عہد سے لے کر اس دور میں پانچویں پشت تک ان کی نسل میں اجلہ علماے کرام موجود ہیں ۔ انہیں میں سے ایک شارح بخاری ، فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی بھی تھے ۔ جو ماضی قریب میں ہندو پاک کے مسلمانان اہل سنت کے صف اول کے مقتدا اور پوری دنیاے اہل سنت کے مرجع فتاوی اور مرکز عقیدت تھے ۔ آپ کی کثیر الجہات شخصیت کے متعلق استاذی الکریم حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفے قادری امجدی اطال اللہ عمرہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں : ”حضرت مفتی صاحب قبلہ مدظلہ جماعت کے ممتاز ترین، صاحب علم و بصیرت ،باقیات صالحات میں سے ایک ہیں۔ ذکاوتِ طبع اور قوت اتقان ، وسعت مطالعہ میں اپنی مثال آپ ہیں ، تعمق نظر ، قوت فکر ، زور استدلال اور حسن بیان ، زودنویسی میں بھی آپ انفرادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ معلومات کی گیرائی و گہرائی میں بھی بلند رتبہ ہیں۔ خطابت ، جدل ومناظرہ میں بھی آپ کو امتیاز حاصل ہے ۔ کئی موضوعات پر آپ کی معلومات افزا تصانیف آپ کی تصنیفی خوبیوں کی مظہر ہیں۔
مفتی شریف الحق امجدی کی ابتدائی تعلیم قصبہ گھوسی کے مقامی مکتب میں ہوئی ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ۱۹۳۴ء میں دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا اور حضور حافظ ملت مولانا عبدالعزیز مراد آبادی ( م ۱۹۷۶ء ) کے زیر سایہ رہ کر آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی۔
۱۹۴۲ ء میں آپ مدرسہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی محلہ بہاری پور ، بریلی شریف پہنچے ، جہاں ابوالفضل حضرت علامہ سردار احمد گورداس پوری ثم لائل پوری محدثِ اعظم پاکستان کا خورشیدعلم، تمام تر تابانیوں کے ساتھ اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا ۔ محدثِ اعظم پاکستان سے آپ نے صحاح ستہ حرفاً حرفاً پڑھ کر دورہ ٔحدیث کی تکمیل کی اور ۱۵؍ شعبان ۱۳۶۲ھ ؍ ۱۹۳۴ ء کو درس نظامی سے آپ کی فراغت ہوئی۔
اساتذہ و مشائخ کرام میں، جن حضرات کی تعلیم وتربیت کا آپ کی زندگی پر گہرا اثر تھا ان میں حضور صدر الشریعہ مولا نا امجد علی اعظمی، حضورمفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خاں ، حضورحافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی ، حضور محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری رضوی سرفہرست ہیں۔خصوصیت کے ساتھ آپ نے حافظ ملت سے سب سے زیادہ فیض پایا ۔
درس نظامی کے علاوہ فتوی نویسی کی تعلیم و تمرین ایک سال سے زائد حضور صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کی بارگاہ میں گیارہ سال رہ کر فتویٰ نویسی سیکھی اور اس کا عمل جاری رکھا۔اکتساب علم کے بعد مفتی شریف الحق امجدی نے تقریبا پینتیس(۳۵)سال تک نہایت ذمہ داری کے ساتھ، بڑی عرق زیزی و جاں سوزی اور کمال مہارت کے ساتھ ہندوستان کے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ ہرفن کی مشکل سے مشکل ترین کتابیں پڑھائیں ۔ برسہا برس تک دورۂ حدیث بھی پڑھاتے رہے اور اخیر میں درس و تدریس کا مشغلہ چھوڑ کر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں شعبۂ افتا کی مسند صدارت پر متمکن ہوکر چوبیس برس تک رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
جن درس گاہوں کی مسند تدریس و افتا پر جلوہ افروز ہوکر آپ نے علم و حکمت کے گوہرآبدار لٹاے، ان کے اسما یہ ہیں ۔
مدرسہ بحر العلوم ،مئوناتھ بھنجن، ضلع اعظم گڑھ ،
مدرسہ شمس العلوم گھوسی ضلع مئو ،
مدرسہ خیرالعلوم پلاموں بہار،
مدرسہ حنفیہ مالیگاؤں مہاراشٹر ،
مدرسہ فضل رحمانی گونڈہ،
مدرسہ عین العلوم گیا بہار،
جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرام پور ،
دارالعلوم ندائے حق فیض آباد،
دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ،
الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور۔
آپ کی درس گاہ ِفیض سے شعور و آگہی کی دولت حاصل کرنے والے طلبہ اتنے کثیر ہیں کہ ان سب کا شمار تقریبا ناممکن ہے ان میں سے چندمشہور حضرات کے نام پیش خدمت ہیں۔ جو اس وقت اہل سنت و جماعت کے نامور علما میں شمار کیے جاتے ہیں ۔خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی، مولانا مجیب اشرف اعظمی ثم ناگپوری، قاضی عبدالرحیم بستوی ، مولانا رحمت حسین کلیمی پورنیہ، مولانا قمرالدین اشرفی اعظمی، مولانا عزیز الحسن اعظمی ، مولانا رضوان احمد شریفی، مفتی محمد نظام الدین رضوی، مولانا حافظ عبدالحق رضوی، مفتی محمد معراج القادری ، مولانا محمد مرتضی نعیمی، مولانا حفیظ اللہ اعظمی، مولانا سلطان احمد ادروی ، مولانا امام الدین مصطفوی، مولانا محمد کوثر خان نعیمی، مولانا افتخاراحمد قادری، مفتی شفیق احمد گونڈہ ، مولانا محمدعمر بہرائچی( وغیرہم)
تصنیف و تالیف:مفتی شرایف الحق امجدی کی فکر وقلم ،تحریر و تصنیف اور زبان و ادب سے گہری وابستگی ابتدائی عمر سے ہی رہی ۔ ان کی تحریرو تصنیف نصف صدی پر محیط ہے۔ ابتدا ہی سےآپ نے وسیع مضامین و مقالات لکھے ہیں ۔ مختلف دینی وعلمی موضوعات پر آ پ کی قیمتی اور جامع تحریر ، اور وقیع ومؤثر مقالے دبد بۂ ٕ سکندری رام پور ، نوری کرن بریلی شریف ، پاسبان الہ آباد ، جام کوثر کلکتہ ، استقامت کانپور ، اشرفیہ مبارک پور، رفاقت پٹنہ، حجاز جد ید دہلی وغیرہ رسالوں میں چھپ کر عوام و خواص کے درمیان مقبول ہوتی رہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور میں التزام وتسلسل کے ساتھ آپ کے منتخب فتاوی شائع ہوتے رہے ۔ جس کی وجہ سے ماہنامہ کا وقار بلند اور قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ مفتی شریف الحق امجدی سے قلم کے مختلف عنوانات پر متعدد کتابیں معرض وجود میں آئیں ۔جن میں چند مشہور کتابوں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا جا تا ہے۔
نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری:یہ صحیح بخاری کی اردو شرح ہے جو پانچ ہزارصفحات پرمشتمل ہے ۔ یہ اسلامی علوم و معارف اور حدیث وسنت کی تحقیقات و تدقیقات کا دائرۃ المعارف ، علماےمتقدمین و متاخرین اور سلف ِصالحین کی عربی و فارسی شروح کا عطر مجموعہ ہے ۔ جو ۹ جلدوں پر مشتمل ہے۔
اشرف السير:اس کتاب میں سیرت نبوی کے بنیادی ستون محمد بن اسحق ( ۱۵۱ھ ؍ ۷۶۸) محمد بن عمر الواقدی ( ۲۰۷ھ ؍۸۲۲ٕ ) محمد بن سعد ( م ۳۲۰ھ ؍ ۸۴۴) محب الدین بن جریر طبری ( ۳۰۱ ھ ) پرفن تاریخ و حدیث اور سیرت کے حوالے سے مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن علمی جوابات ہیں ۔
سیرت پاک سے متعلق مغربی ،ظالمانہ، جاہلانہ اورمشرق کے مرعو بانہ اور معذرت خواہانہ طرزعمل پر سیر حاصل تنقیدی وتحقیقی کلام اور ابتدا سے بعثت نبوی تک سرکار دو عالم ﷺ کے احوال وکوائف اور آپ کے آبا واجداد کے تعلق سے جامع پرمغز اور معلوماتی گفتگو کی گئی ہے ۔ یہ کتاب حصہ اول کا نصف ہے، باقی کام دیگر مصروفیات کی وجہ سے انجام نہ پا سکا۔
اشک رواں :آزادی ہند سے پہلے کا نگریس اور مسلم لیگ کی خود غرضی اور مفاد پرستی پر مبنی پر فریب سیاست پر ضرب کاری اور اس کی مخالفت اور مسلمانوں کے لیے اسلامی وشرعی نقطہ نظر سے تیسرے متبادل کی تجویز، تقسیم ہند کے بعد ہونے والی مسلمانوں کی جان و مال ، عزت وآبرو کی تباہی و بربادی اور بعد میں انہیں در پیش سیاسی و سماجی ، مذہبی وملی پریشانیوں اور رسوائیوں کو اپنی دور بین نگاہوں سے بھانپ کر، اس پر اپنے قلبی و ذہنی خطرات ، بے کلی اور بے چینی کا اظہار اور پھر اس کے تدراک کے لیے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل ، یہ سب کچھ اس کتاب میں شامل ہے۔شارح بخاری نے پچیس برس کی عمر میں اسلامی سیاست کے موضوع پر یہ کتاب تحریر فرامائی ہے ۔ آزادی ہند وتقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۶ ء کے پر آشوب و پرفتن دور میں اس کی اشاعت ہوئی ۔ پھر آج تک اس کا دوسرا ایڈیشن نہ شائع ہوسکا۔
اسلام اور چاند کا سفر :شرعا انسان کا چاند پر پہنچنا ممکن ہے ۔ اسلامیات اور فلکیات کے اصول وقواعد اور قوانین و مباحث کی روشنی میں اس مدعا پر محققانہ گفتگو کی گئی ہے ۔ جو آپ کے وسعت مطالعہ ، ژرف نگاری ، قوت استدلال اور زور بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہ محققانہ و عالمانہ تحقیقات وابحاث کا حسین گلدستہ ہے۔
التحقیقات:اس میں وہابیوں ، دیوبندیوں اور معاندین اہل سنت کے کچھ لا یعنی اعتراضات کے مدلل تحقیقی والز امی جوابات ہیں یہ کتاب دوحصوں میں ہے۔
فتنوں کی سرزمین کون ، نجد یا عراق ؟:اس کتاب میں نجد وعراق کا ایک گراں قدر حقیقت افروز اور ایمان افزا تاریخی ، جغرافیائی اور دینی و سیاسی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
سنی ، دیو بندی اختلاف کا منصفانہ جائزہ :یہ سنی و دیو بندی اختلاف کی بنیاد اور اکابر علماے دیو بند کی کفری عبارتوں پر غیر جانب دارانہ فیصلہ کن ابحاث کا خوبصورت ،علمی گلدستہ ہے ۔ آپ کی یہ کتاب اپنے موضوع پر لا جواب اور بے مثال ہے۔
اثبات ایصال ثواب :یہ رسالہ ایصال ثواب کے موضوع پر مصنف کی ایک نئے انداز میں بحث ، میلا دو قیام ، نیاز و فاتحہ کے سلسلے میں شکوک وشبہات کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے اطمینان کلی کے لیے ایک بیش قیمت ، زوردارعلمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
مقالات شارح بخاری :یہ دینی و مذہبی علمی وادبی تاریخی وسوانحی فکری و حقیقی گونا گوں عنوانات پر حضرت کے سیکڑوں بوقلموں مضامین کا مجموعہ ہے ۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
مسئلہ تکفیر اور امام احمد رضا :اپنے موضوع پر نہایت شاندار، گراں قدر اور اچھوتی محققانہ و متکلمانہ تحریر ،جو موضوع کے تمام زاویوں کو حاوی اور شبہات کے سارے تار و پود بکھیر دینے والی ہے۔
فتاویٰ شارح بخاری:آپ کی زندگی بھر کے علمی تحقیقی فتاوی کا مجموعہ جو ایک انداز کے مطابق پچھتر ہزار سے زائد فتاوی کو محیط ہوگا ۔ جو لوگوں کے عقائد و اعمال میں رہنمائی کرتا ہے اور اہل علم اور ارباب فقہ و فتاویٰ سے خراج تحسین حاصل کر چکا ہے۔۱۳۵۹ھ میں مفتی شریف الحق امجدی نے صدرالشریعہ مولانا امجد اعظمی کے دست حق پر بیعت کیا۔آپ کا شمار صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کے سابقین اولین مریدوں میں ہوتا ہے ۔ حضرت صدرالشریعہ نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا، بریلی اور احسن العلما مولانا مصطفی حسن حیدر ،مارہرہ نے بھی اجازت و خلافت سے نوزا تھا۔
حضور شارح بخاری متعدد بار حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوے ۱۹۸۵ ء میں پہلا حج اور ۱۹۹۸ء میں دوسرا حج فرمایا ۱۹۹۶ ء اور ۱۹۹۷ ء میں دو مرتبہ سفر عمرہ پر بھی گیے۔
وصال: ۶ ؍ صفرالمظفر ۱۴۲۱ھ ؍ ۱۱؍ مئی۲۰۰۰ ٕ ء بروز جمعرات آپ اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ کر گئے ، اور یہ علم وفن کا راز داں اور استقامت و ثابت قدمی کا کوہ ہمالہ ہمیشہ کے لیے آغوش زمین میں محو خواب ہو گیا۔ آپ کا مزار مبارک گھوسی ضلع مئو میں مرجع خلائق ہے۔
(بحوالہ علماے اہل سنت کی علمی و ادبی خدمات)

المجمع الاسلامی ایک نظر میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

المجمع الاسلامی ایک نظر میں
قیام: ۱۳۹۶ھ ؍ ۱۹۷۶ء

بانیانِ ادارہ
(۱) حضرت مولانا محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی (دامت برکاتہم العالیہ)
سابق مدیر، ماہنامہ اشرفیہ ، مبارکپور ؍ مہتمم دارالعلوم قادریہ، چریا کوٹ، مئو، یوپی
(۲) حضرت مولانا افتخار احمد قادری(دامت برکاتہم العالیہ)
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارکپور
(۳) حضرت مولانا یٰس اختر مصباحی(دامت برکاتہم العالیہ)
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارکپور ؍ بانی دارالقلم، دہلی
(۴) حضرت مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی(دامت برکاتہم العالیہ)
موجودہ ناظم تعلیمات وسابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور
(۵) حضرت مولانا بدرالقادری مصباحی (علیہ الرحمہ)
( ولادت :۲۵؍ اکتوبر ۱۹۵۰ء وصال: یکم؍ صفر ۱۴۴۳ھ ؍ ۹ ؍ ستمبر ۲۰۲۱ء جمعرات)
سابق مدیر، ماہنامہ اشرفیہ ، مبارکپور
المجمع الاسلامی کی پہلی اشاعت: نورالایمان ۔۔پھر۔۔ امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں (۱۹۹۷ھ ۱۹۷۷ء)

آراضی
ادارہ کے لئے زمین کی خریداری :بمقام ملت نگر ،مبارک پور، اعظم گڑھ
بیع نامہ کی تاریخیں:
(۱) ۲۶؍جون ۱۹۹۳ء
(۲) ۱۷؍مئی۱۹۹۴ء
(۳) ۲۰؍ نومبر ۱۹۹۸ء
(۴) ۲۸؍فروری۲۰۰۰ء
کل رقبہ: تقریباً ۱۵ بِسْوَہ،۱۸۰۰۰ مربع فٹ
سنگ بنیاد: ۲۰ ؍صفر ۱۴۱۷ھ ۲۷؍جون ۱۹۹۶ء بروز جمعرات

بدستہاے مبارکہ:
(۱) شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی (علیہ الرحمہ)
نائب حضور مفتی اعظم ہند ؍ سابق صدر دارالافتا، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور وبانی برکاتی مسجد گھوسی،مئو،یوپی
(۲) محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ قادری مصباحی (دامت برکاتہم العالیہ)
جانشین حضور صدرالشریعہ، علیہ الرحمہ؍ سابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور ؍ بانی طیبۃ العلماجامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی
(۳) عزیز ملت حضرت مولانا عبد الحفیظ مصباحی(دامت برکاتہم العالیہ)
جانشین حضور حافظ ملت ۔ علیہ الرحمہ ، و سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
(۴) دیگر کبارعلما و مشائخ دامت برکاتہم العالیہ

تعمیری سلسلے
جنوبی کمرے کی تکمیل: ۱۴۱۷ ھ ؍ ۱۹۹۷ء
محمد آباد گوہنہ سے مبارک پور ،ادارہ کے سارے اثاثےکی منتقلی: شوال ۱۴۱۷ ھ مارچ ۱۹۹۷ء
پہلی منزل کی تعمیر: ۱۹۹۶ تا ۲۰۰۷ ء
پوری زمین کی خوشنما باؤ نڈری: ۱۹۹۹ء
دوسری منزل کی تعمیر: ۱۴۴۳ھ؍ ۲۰۲۲ء
دوسری منزل کی چھت کی ڈھلائی اور تکمیل: یکم جولائی ۲۰۲۲ء مطابق یکم؍ ذی الحجہ ۱۴۴۳ھ جمعہ
سابق عہدیداران و ارکان جو۱۴۰۷ھ ؍ ۱۹۸۷ء سے تاحیات ادارہ سے منسلک رہے
(۱) احسن العلما،حضرت مولانا سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں برکاتی، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۰؍شعبان۱۳۴۵ھ، مطابق۱۳؍فروری ۱۹۳۷ ء ، وصال: ۱۵؍ ربیع الآخر ۱۴۱۶ھ ،مطابق ۱۱؍ستمبر۱۹۹۵ء )
(۲)تاج الشریعہ ،حضرت علامہ اختر رضا خاں ازہری ، علیہ الرحمہ [سرپرست]
( ولادت: ۱۳۶۱ھ ؍ ۱۹۴۶ء ، وصال:۶ ؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ، ۲۰؍جولائی ۲۰۱۸ء بروز جمعہ)
(۳) شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق، امجدی ، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۹۲۱ ء، وصال: ۶ ؍ صفر۱۴۲۱ ھ ، ۱۱؍مئی ۲۰۰۰ ء )
(۴)حضرت مولانا قاری محمد عثمان اعظمی مصباحی، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۹۱۸ء ، وصال: ۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ ، ۱۱؍ اگست ۱۹۹۵ء)
(۵)حضرت مولانا نصرللہ رضوی مصباحی، بھیروی ، علیہ الرحمہ [رکن]
( ولادت: ۱۵فروری ۱۹۵۶ ء وصال: ۴؍ محرم ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء)
(۶) حضرت مولانا اعجاز احمدمصباحی، مبارکپوری ، علیہ الرحمہ [رکن]
( وصال : ذی قعدہ ۱۴۳۸ھ ؍ جولائی ۲۰۱۷ء)
موجودہ ارکان وعہدیداران مجلس انتظامیہ
۱- پروفیسر شاہ سید محمد امین برکاتی دام ظلہ [سرپرست]
سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ شریف
۲- مولانا شاہ عبدالحفیظ دام ظلہ [سرپرست]
سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ، ضلع اعظم گڑھ
۳- مولانا یسین اختر مصباحی [صدر]
بانی دارالقلم دہلی ؍ سابق استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۴- مولانا افتخار احمد قادری،ساکن گھوسی، مئو [نائب صدر]
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور
۵- مولانا محمداحمد مصباحی، ساکن بھیرہ، ولیدپور،مئو[سکریٹری]
موجودہ ناظم تعلیمات وسابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۶- مولانا عبدالمبین نعمانی مصباحی [نائب سکریٹری]
مہتمم دارالعلوم قادریہ ،چریاکوٹ ،ضلع مئو
۷- مولانا رفیع القدر مصباحی [خازن]
ساکن ملت نگر،مبارک پور ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۸- مولانا عبدالغفار اعظمی مصباحی [محاسب]
ساکن محلہ اسلام پور،مبارک پور ؍ استاذ ضیاء العلوم ،خیرآباد
۹- مولانا احمدالقادری مصباحی [رکن]
ساکن بھیرہ،ولیدپور ،ضلع مئو ؍ سابق استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۰-مولانا اختر حسین فیضی مصباحی [رکن]
ساکن عزیزنگر،مبارک پور ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۱۱-مولانا نفیس احمدمصباحی [رکن]
ساکن سدَّھور،ضلع بارہ بنکی ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۲-مولانا مسعود احمد برکاتی مصباحی [رکن]
ساکن سسوابازار،ضلع سنت کبیر نگر ؍ استاذجامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۱۳- مولانا ازہرالاسلام مصباحی ازہری [رکن]
ساکن چریاکوٹ ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۴- مولانا فیضان رضا امجد مصباحی [رکن]
ساکن بھیرہ، ولیدپور،ضلع مئو

موجودہ بلڈنگ کی قدرے تفصیل :
(۱) لائبریری
(۲) دارالمطالعہ
(۳) کتب خانہ
(۴) مصلی ؍ نماز گاہ
(۵)کمپیوٹر روم
(۶) مہمان خانہ
(۷) مطبخ (باورچی خانہ)
(۸) اسٹور روم
(۹) جنریٹر روم
(۱۰) تہ خانہ (تقریباً چار ہزار سکوائر فٹ)
(۱۱) بالا خانہ ( دس ہزار مربع فٹ سے زائد)
(۱۲) مزیدمتفرق ۱۴کمرے

ادارہ کے شعبے
(۱) دارالتصنیف
(۲) دارالتحقیق
(۳) دارالکتب
(۴) دارالمطالعہ
(۵) دارالاشاعت
(۶) دارالتربیۃ والتعلیم [تحریری و تصنیفی تربیت]
(۷) شعبۂ مالیات
(۸) سمینار ہال
(۹) مصنفین کے کمرے
المجمع الاسلامی کی قلمی خدمات: الحمدللہ! سترسے زیادہ کتابیں ، المجمع الاسلامی کے ذریعہ تصنیف وتالیف، تحقیق وترجمہ وتحشیہ کے مراحل سے گزرکر منظر عام پر آچکی ہیں۔

المجمع الاسلامی کی اشاعتی خدمات: ماشاءا للہ! اس ادارے نے اب تک ۱۸۳ سے زائد دینی وعلمی کتابیں شائع کیں۔
دعا ہے کہ اللہ عزوجل اِس ادارے کو دن دونی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، بانیان، سرپرست، ارکانِ ادارہ کا سایہ دراز سے درازتر فرمائے، ان کی حفاظت و صیانت فرمائے، ان کی تمام خدمات دینیہ قبول فرمائے، تمام معاونین کا تعاون قبول فرماکر دارین میں بےشمار اجرو ثواب عطا فرماے، جو ارکان وسرپرست ومعاونین دنیا سے رخصت ہوگئے، ان کی مغفرت فرماکرجَنّاتِ نعیم میں ان کے درجات بلند فرمائے۔
آمین، یا رب العلمین ، بجاہ حبیبک سید المرسلین ، علیه وعلیہم الصلوة والتسليم

ادارہ
۲۳؍محرم الحرام ۱۴۴۴ھ ؍۲۰؍اگست ۲۰۲۲ء

اَلْاِسْلامی.نیٹ
www.alislami.net (Al-ISLAMI)

مفتی محمد قمر الحسن، چیف قاضی آف رویت ہلال کمیٹی آف امریکا

بسم ﷲ الرحمٰن الر حیم

معائنہ
حضرت مولانا مفتی محمد قمر الحسن صاحب قادری مد ظلہ العالی
چیف قاضی، رویت ہلال کمیٹی آف امریکہ
نحمدہ‘ و نصلی و نسلم علی حبیبہ الکریم و اتبا عہ الفخیم

اما بعد:آج مو رخہ ۷؍ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ھ ۱۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء بروز سنیچر ،دارالعلوم عزیزیہ، پلینو ،ٹیکساس ،امریکہ، کے سالانہ عید میلا د النبی ﷺ کے پرو گرام میں حاضر ہوا۔گرامی قدر محترم حضرت مولانا مفتی احمدالقادری مصباحی نے دارالعلوم عزیزیہ کی
کا رکر دگی سے آگہی بخشی۔پھر شام کو پروگرام کے آغاز میں طلبہ نے ابتدائیہ پرو گرام پیش کیا ،خصوصا درجہ عالمیت کے بہت ہی محنتی طالب علم، عزیزم عمیر عبدالجبار سَلَّمَہ رَبُّہ نے یہاں کے نیشنل لینگویج انگلش میں بہت ہی عمدہ خطاب کیا۔جس سے دارالعلوم کا معیار واضح ہو گیا۔متحدہ امریکہ میں اہلسنت و جماعت کا یہ ایک منفرد ادارہ ہے،جس کی شدید ضرورت تھی۔جو حضرت مفتی صاحب موصوف کے ذریعہ اسلامک اکیڈمی کے تحت وجود میں آیا، یہاں کے اجنبی ما حول میں دینِ مبین اور مسلک حق کے اس ترجمان کو پروان چڑھانا ہر مسلمان کا،ملّی فریضہ ،اور رضائے مولیٰ کا عظیم ذریعہ ہے ۔
ربّ کریم اس کو آفات ارضی و سماوی سے محفوظ فرمائے، اور تمام اراکین ومعاونین،مخلصین ومحبین کو اس کی جزائے و افر عطا فرمائے، اور ادارے کی ضرورتوں کی کفالت کا سامان پردئہ غیب سے عطا فرمائے۔ مفتی صاحب کو صحت کے ساتھ ادارہ کی وسعت کے لئے عزم وحوصلہ عطا فرمائے۔
  آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

محمد قمر الحسن قادری غفرلہ القوی
خطیب و امام مسجد النور مر کزی ہوسٹن،ٹیکساس
وبانی بزم حسان انٹرنیشنل نعت اکیڈمی ہوسٹن
وچیئرمین رویت ہلال کمیٹی آف نارتھ امریکہ
۸؍ ربیع الاول شریف ۱۴۲۶ھ ۱۷؍اپریل ۲۰۰۵ء

 

مولانا سید جعفر محی الدین قادری، شکاگو

معائنہ
حضرت مولانا سید جعفر محی الدین قادری (علیہ الرحمہ)
فاضل جامعہ ازہر ،مصر(شکاگو)

لَہ الحمد،حامدًا وَّمُصَلِّیًا
محترم جناب مفتی احمدالقادری صاحب کے حکم کی تعمیل میں،پلینو، ڈیلس کے دارالعلوم العزیزیہ میں حاضر ہوا۔اس کے مختلف اقسام و شعبہ جات کا معائنہ کیا۔نہایت خوشی کی بات، اس پر آشوب زمانہ میں اور خاص طور پر امریکہ جیسے ملک میں یہ دینی خدمات :تدریس ِقرآن، تفسیر،حدیث اور فقہ جیسے علوم، اللہ رب العزت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔
مالک حقیقی سے دعا ہے کہ اپنے حبیب کے طفیل ، اس ادارہ کو مفتی صاحب محترم کے زیر سایہ پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے کا مو قعہ عطا کرے اور عوام الناس کو ان سے تعاون کرنے اور استفاذہ کی توفیق عطافرمائے ۔ ویرحم ﷲ عبدا قال آمینا۔

الفقیرالیہ تعالی
سید جعفر محی الدین القادری
۲۹؍ربیع الاول ۱۴۲۸ھ
الموافقۃ ۱۷؍ابریل ۲۰۰۷ء
الثلاثاء

معائنہ، علامہ محمد مقصود احمد چشتی، لاہور

معائنہ
پیر طریقت، حضرت علامہ، محمدمقصود احمد ،چشتی، قادری
دامت برکاتہم العالیہ
سابق خطیب و امام، داتا دربار،لا ہور،پاکستان
{باسمہٖ سبحانہ}

حضرت علا مہ مولانامفتی ،احمد القادری زید مجدہٗ کی ،دعوت پر اسلامک سینٹر ؍ دارالعلوم عزیزیہ کا معائنہ کیا۔ حضرت علامہ موصوف اعلٰحضرت ،مجدددین و ملت، رضی اللہ عنہ کے مسلکِ حق کی، ترویح و اشاعت کے ساتھ ساتھ، درس نظامی کی کتب کی تدریس پر بھی مصروف ہیں۔ حضرت صاحب اور تمام رفقاء کا ر عظیم الشان دارالعلوم عزیزیہ کی تعمیر کے ابتدائی مراحل کی تیار ی میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلۂ جلیلہ سے دارالعلوم کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے، اور اس میں درپیش مشکلات کو دور فرمائے۔نیز ربِّ ذوالجلال اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مفتی صاحب کی عمر، اور تدریسی، و تصنیفی خدمات میں، برکت فرمائے۔ آمین

محمدمقصود احمد چشتی قادری
خطیب و امام، داتا دربار،لا ہور، پاکستان
۲۱؍مئی ۲۰۰۹ء
۲۶؍جمادی الا ولیٰ ۱۴۳۰ھ

علامہ شاہ تراب الحق قادری، علیہ الرحمہ، کراچی

معائنہ
پیر طریقت، حضرت علامہ، سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ
امیر جماعت اہلسنت،کراچی،پاکستان

بسم ﷲ الرحمن الرحیم

مجھے یہ جان کربے حد خوشی ہوئی کہ، حضرت علامہ مفتی احمدالقادری مدظلہ العالی نے سر زمین ڈیلس پر، ایک دارالعلوم ، اسلامک اسکول، اور ٹرینگ سینٹر،دارالتصنیف،دارالاشاعت وغیرہ کا،ایک جامع منصوبہ بنایا ہے۔اور ایک الگ سے زمین لے کر اس میں یہ اہتمام اور انتظا م کر نا چاہتے ہیں۔یہ ایک بہت اچھا منصوبہ، اور ایک اچھا پروگرام ہے۔اور وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے حبیب علیہ الصلوۃو السلام کے صدقے حضرت مفتی احمد القادری کو کامیابی عطا فرمائے، اور اس سعی جمیل کو قبول فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین، علیہ افضل الصلوۃ التسلیم

فقیر سید شاہ تراب الحق قادری رضوی
۱۹؍ربیع الآخر ۱۴۲۶ھ ۲۹؍مئی ۲۰۰۵ء

معائنہ حضور محدث کبیر ، دامت برکاتہم

مُعائنہ

جانشینِ صدرالشریعہ ،محدّثِ کبیر ،حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری دامت برکاتہمالعالیہ
بانی ،جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی ،مئو ،یوپی،ہند

بسمﷲ الرحمٰن الرحیم
اَلْحَمْدُ للہِ ، وَالصَّلٰوۃُ عَلیٰ رسولِ ﷲ ، (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)
اما بعد!

ڈیلس ،امریکہ، آمد ہوئی تو یہاں کے دارالعلوم عزیزیہ، پلینو، میں حاضری ہوئی،جو حضرت مولانا مفتی احمد القادری صاحب کی قیادت میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔علوم ِدینیہ میں تفسیر و حدیث و فقہ وعقائد کی باقاعدہ تعلیم کا نظم ہے۔بحمدہ ٖتعالیٰ! طلبہ و طالبات بھی باذوق وشوق تحصیل میں مشغول ہیں۔طالبات کے لئے باقاعدہ شرعی پردہ کا اہتمام ہے۔
دارالعلوم عزیزیہ کے معیار تعلیم کے ساتھ، اس کی عمارت بھی بہت ہی خوبصورت، و پر شکوہ ہے،اور تمام ضروریات مدرسہ پر مشتمل ہے۔
ربّ قدیر اس ادارہ کو خوب ترقی عطا فرمائے، اور مفتی صاحب موصوف اور ان کے جملہ رفقائے کار کو، اعزاز اور جزائے خیر سے نوازتا رہے۔آمین  بِجاہِ سَیّدِ المُرْسلِین علیہِ اَفْضلُ الصَّلٰوۃِ ، وَاَکْمَلُ التَسْلِیمِ

فقیر ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ
نزیل ،ڈیلس ،امریکہ
۱۴؍ربیع الاول ۱۴۳۶ھ
۵؍جنوری ۲۰۱۵ ء

مولانا ڈاکٹر محمد غفران علی صدیقی، نیویارک

تأثر:

پیر طریقت، حضرت مولانا ڈاکٹرمحمد غفران علی صدیقی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
خلیفۂ حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین ۔ والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا و مو لٰینامحمد المبعوث رحمۃ
للعلمین ۔ و علٰی آلہ الطیبین الطاھرین ، و اصحابہ المکرمین المعظمین ، اجمعین

اما بعد: فقیر آج بروز ہفتہ شب ۲۵ ؍رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ ۷ ؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء ڈیلس دارالعلوم عزیزیہ مین محفل ختم قرآن کریم صلوٰۃ التراویح میں حاضر ہوا۔ حضرت اقدس علامہ مفتی احمدالقادری صاحب مد ظلہ العالی کی خدمات دینیہ کا ثمرہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔فقیر غفرلہ‘کی یہ تیسری حاضری ہے۔
ماشاء اللہ کرائے کی جگہ سے چھٹکارا ہو چکا ہے۔ حضرت کا قافلہ دیکھ کر ان سب کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں،(اللہ تعالی) ان سب کودین اور دنیا کی برکات سے مالا مال فرمائے۔
حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی اتنے قلیل عرصہ میں حضرت مولینا عمیر سلمہ‘ کی ABCDسے شروع کرکے مسلم شریف تک پہونچا دیا ہے۔
دل تو چاہتا ہے جامعہ اور دارالعلوم کے لئے طویل مداحیہ اور دعائیہ قصیدہ لکھوں۔لیکن فی الحال ان ہی دعائوں پر اکتفا کرتا ہوں ۔

والسلام و الدعاء
فقیر محمد غفران علی الصدیقی الرضوی غفرلہ
خادم رضا ،خادم اہلسنت والجماعت،
خادم دارالعلوم نیویارک
369 Fan.145 st
Bronx.N.Y 10454
718-401-2344

سپاس نامہ چیف قاضی آف امریکا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سپاس نامہ
خلیفۂ تاج الشریعہ، حضرت مولانا مفتی محمد قمرالحسن صاحب بستوی ، حفظہ اللہ تعالیٰ ،فصیح اللسان خطیب، قادرالکلام شاعر، باصلاحیت مدرس، اچھے مصنف و مؤلف اور عمدہ نثر نگار ،گوناگوں خوبیوں کے حامل اور اوصاف جمیلہ سے متصف ہیں۔
اداروں سے تعلق:آپ النور مسجدہیوسٹن کے امام و خطیب ، اسلامک اکیڈمی آف امریکا کے سرپرست،رویت ہلال کمیٹی آف امریکا کے چیف قاضی و چیئرمین، اوربزم حسان انٹر نیشنل نعت اکیڈمی ، ہیوسٹن کے بانی و صدر ہیں۔
عہدۂ قضا: تقریباً ۲۳ سال سے رویت ہلال کمیٹی کی فی سبیل اللہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جولائی ۱۹۹۹ میں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط کے ساتھ چیف قاضی کی سند عطا فرمائی اور ان کے روبرو مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی دامت برکاتہم نے ہیوسٹن کی بھری کانفرنس میں اس کا اعلان فرمایا۔ سند کا مضمون یہ ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شہادۃ القضاۃ
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

شمالی امریکہ میں شرعی مسائل کے حل کےلیے ”رویت ہلال کمیٹی آف نارتھ امریکہ“ کاقیام ایک خوش آئند اقدام ہے، جس میں شرعی مسائل کے حل کے لیے ۔بحیثیت چیف قاضی مولانا حافظ قاری محمدقمرالحسن خطیب وامام مسجد النور ۶۴۴۳ پریسٹ وو ڈہیو سٹن ٹیکساس امریکہ کو منتخب کیاجاتاہے ۔
اعلان : از مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی، جنرل سکریٹری ،ورلڈ اسلامک مشن، بریڈ فور ڈ، لندن، برطانیہ۔
اجازت وتائید: از نبیرۂ امام احمدرضا ، تاج العلماء ، علامہ مفتی محمداختر رضا خان،ازہری قادری مفتی اعظم ہند، بریلی شریف ،انڈیا۔
محمدقمرالزماں اعظمی فقیر محمد اختر رضاقادری ازہری غفرلہ
دستخط معلن دستخط موید واجازت
تاریخ: ۲۰؍ ربیع الاول ۱۴۲۰ھ ؍ ۴؍ جولائی ۱۹۹۹ء ، اتوار

تعلیمی اسناد: الحمد للہ ! علوم اسلامیہ، علوم عقلیہ ،علوم نقلیہ اور علوم عصریہ کی اعلیٰ تعلیم آپ نے حاصل ہیں اور ان سب کی سندیں آپ کے پاس موجود ہیں ،مثلاً
حفظ قرآنِ مقدس ،عالمیت: از دارالعلوم تدریس الاسلام، بسڈیلہ، بستی
تجوید (قراءتِ عاصم بروايت حفص )،فضیلت:از الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، فیض آباد، یہاں سے درس نظامیہ کی بھی تکمیل کی ہے
ادیب ماہر، ادیب کامل :از جامعہ اردو علی گڑھ
منشی ،منشی کامل، مولو ی ، عالم ،فاضلِ دینیات ،فاضلِ معقولات،فاضلِ ادب : از عربی فارسی بورڈ، حکومت اتر پردیش
فضیلت:از الجامعۃ الاشرفیہ ،عربی یونیورسیٹی ،مبارک پور ،اعظم گڑھ،
ایم اے فارسی :از مسلم یونیورسیٹی، علی گڑھ
ایم اے اردو:از اَوَدھ یونیورسیٹی ،فیض آباد
جدید عربی ادب :کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ ،طرابلس ،لیبیا،میں داخلہ لے کر جدید عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔
لسانیات: عربی، فارسی ، اردو، ہندی، انگلش، پوربی، چھ زبانیں جانتے، سمجھتے اور بولتے ہیں۔
تصنیفات و تالیفات: آپ ایک اچھے قلم کار اور بہترین شاعر ہیں، آپ کی تصنیفات و تالیفات میں
(۱) تذکرہ مولانا عبد الرؤف (علیہ الرحمہ )
(۲) افکار رضا (علیہ الرحمہ )
(۳) تجلیات مفتی اعظم ہند (علیہ الرحمہ )
(۴) افضلیت مصطفیٰ (ﷺ)
(۵) فتاوی امریکا
(۶) یا اَیہاالمزمل (صلی اللہ علیک وسلم) نعتوں کا مجموعہ
(۷) یااَیہا المدثر (صلی اللہ علیک وسلم) نعتوں کا مجموعہ
(۸) مسائلِ زکات ، وغیرہ مشہور ہیں
ان کے علاوہ درجنوں مقالات و مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
بیعت وخلافت: شہزادۂ اعلی حضرت،قطب زماں، سرکار مفتی اعظم ہند، علیہما الرحمہ سے بیعت وارادت ہے اور جانشینِ مفتی اعظم ہند، حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت واجازت حاصل ہے۔
خدمات: ۱۹۹۲ سے امریکا میں مذہب حقہ اہل سنت والجماعت اور مسلک اعلی حضرت کے داعی ہیں، تقریباً ۳۰سال
سے دیار غیر میں اسلام و سنت کی خدمات انجام دے رہے ہیں، بیشمار ان کے شاگرد دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ہدیہ تشکر:اپنی کثیر مصروفیات کے باوجود، اپنا قیمتی وقت نکال کر تقریباً ۲۳ سال سے رویت ہلال کمیٹی آف امریکا کی بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں اور ماہ بماہ شرعی تحقیق و تفتیش کے بعد بحیثیت چیف قاضی چاند کی رویت کا فیصلہ فرماتے ہیں،ان کی خدمات کے ہم تہ دل سے مشکور و ممنون ہیں۔ملتِ اسلامیہ خصوصاً مسلمانانِ امریکا کےلئے وہ عظیم سرمایہ ہیں، اللہ عزوجل صحت وسلامتی کے ساتھ ان کا سایہ امت مسلمہ پر دراز سے درازتر فرمائے۔ آمِیْن ، بِجَاہِ حَبِیْبِہٖ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ، عَلَیْہِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْم ۔

احمد القادری
خادم
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
1251 Shiloh Road, Plano, Texas, 75074, USA
یکم ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ ؍ یکم جون ۲۰۲۲ء
الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net

رویتِ ہلال، احمد القادری مصباحی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ،
رویت ہلال

آج مؤرخہ ۲۶؍ذی الحجہ ۱۴۱۷ ھ، مطابق ۴؍اپریل ۱۹۹۷ ء بروز اتوار ،اردو ٹائمز کا ۲۳؍ذی الحجہ ۱۴۱۷ ھ یکم ؍مئی ۱۹۹۷ ء جمعرات کا شمارہ نظر سے گزرا۔اس میں اہل علم سے رویت ہلال کے مسئلے پر لکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔یہ نہایت اچھا اقدام ہے۔مسلمان اپنے شرعی مسائل سے واقفیت رکھیں اور مذہبی مسائل خود اپنے مذہب وشرع کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں۔ادارہ اردو ٹائمز کی فرمائش پر ذیل کا مضمون زیب قرطاس کیا گیا ہے۔
قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃَ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجْ
(سورہ بقرہ آیت ۱۸۹)
اے محبوب آپ سے نئے چاند کے بارے میں لوگ پوچھتے ہیں،آپ فرما دیجئے وہ لوگوں اور حج کے لئے وقت کی علامتیں ہیں۔
ہلال: لغت میں نئے چاند،اور اصطلاح میں پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔چودہویں رات کے چاند کو بدر اور ان کے علاوہ مطلقاً چاند کو قمر کہتے ہیں۔
نماز کے علاوہ اسلام کی دیگر عبادتیں چاند سے متعلق ہیں۔حج ،زکوٰۃ،روزئہ رمضان،عید الفطر،عید الاضحی،محرم،عید میلاد النبی ﷺ،سارے مبارک دن ،ساری مبارک راتیں،تمام اسلامی تہوار،عشر،صدقۂ فطر،بیوہ اور مطلقہ عورتوں کی عدت،بچوں کو دودھ پلانے کی مدت(ایام رضاعت) غرض کہ مسلمانوں کے بے شمار مسائل چاند سے وابستہ ہیں۔
چاند ایک آسمانی جنتری ہے۔اسے دیکھ کر ہر پڑھا ،لکھا اور اَن پڑھ تاریخ کا پتہ لگا سکتا ہے۔چاند کے پیدا کرنے والے رب نے خود چاند کو حج اور دیگر کاموں کی تاریخیں حاصل کرنے کی علامت قرار دیا۔ اس سے قمری مہینے اور اس کی تاریخ کی اہمیت و افضلیت واضح ہوجاتی ہے۔مندرجہ بالا بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ کثیر اسلامی امور کا دارومدار رویت ہلال پر ہے۔لہٰذا اب احادیث وفقہ کی روشنی میں اس کے ثبوت کے طریقے ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث ۱۔عن ابن عمر قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول اذا رأیتموہ فصوموا واذا ر أیتموہ فافطرو فان غم علیکم فا قدرو لہ (لھلال رمضان)
(بخاری شریف ،کتاب الصوم)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا،جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کرو اور جب(شوال کاچاند) دیکھو،تو افطار کرو(یعنی عید الفطر کرو) اگر مطلع (غبار یا) ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگالو، یعنی تیس دن مکمل کر لو۔
سر کار دوجہاں ﷺ کی اس حدیث پاک سے صاف واضح ہو گیا کہ چاند دیکھ کر رمضان کا روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی عید منائی جائے۔کسی وجہ سے چاند نظر نہ آسکے، تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے (یعنی تیس روزے مکمل کرکے) عید منائی جائے۔
حدیث ۲۔قول النبیﷺ اذا رأ یتم الھلال فصومو واذارأیتوہ فا فطرو وقال صلۃ عن عمار من صام یوم الشک فقد عصی ابا القاسمﷺ۔ (بخاری ،کتاب الصوم)
ارشاد نبی کریم ﷺ ہے۔چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
حضرت صلہ،حضرت عمار سے روایت کرتے ہیں۔جس نے شک کے دن روزہ رکھا ،اس نے ابو القاسم(ﷺ) کی نافرمانی کی۔
اس حدیث پاک سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ چاند دیکھے یا اس کے ثبوت کے بغیر کسی نے روزہ جیسی اہم عبادت ادا کی، تو ناجائز کام کیا۔بلکہ اس کو شک ہو کہ شاید چاند ہو چکا ہو،بادل کی وجہ سے ہمیں نظر نہ آسکا، یا ہو سکتا ہے ان مقام پر چاند نظر آگیا ہو اور اس تک شہادت نہ پہونچ سکی۔لہٰذا اس شبہ کی بنیاد پر اِس نیت سے روزہ رکھ لیا ،کہ آج اگر رمضان ہو تو اس کی طرف سے یہ روزہ ہو جائے گا۔اس نے گناہ کیا اور نبی کریم ﷺ کی نا فرمانی کی۔
حدیث۳۔عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ﷺ ذکر رمضان فقال لا تصومو احتیٰ تروالھلال ولا تفطروا حتیٰ تروہ فان غم علیکم فا قدرولہ۔(بخاری،کتاب الصوم)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر فرمایا تو کہا،جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو۔اور نہ ہی افطار (عید الفطر) کرو۔یہاں تک کہ چاند دیکھ لو ،اگر مطلع ابر آلود ہو تو حساب کر لو۔’’یعنی تیس دن پورے کرو‘‘۔
اس حدیث سے بھی چاند دیکھنے پر ہی رمضان و عید کا دارومدار رکھا گیا۔یہ ارشاد نہیں ہوا کہ اگر انتیس کا چاند نظر نہ آسکے تو اِدھراُ دھربھاگ دوڑ کر کے چاند کا پتہ لگائو ۔تمہارے شہر میں بادل ہے،شاید دوسرے شہر میں مطلع صاف ہو،وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہو۔وہاں فوراً گھوڑے دوڑائو،اور کہیں نہ کہیں سے چاند ضرور تلاش کر کے لائو۔ان سب تکلفات کا ہم کو مکلف نہیں بنایا گیا،بلکہ سیدھا سادہ ،آسان سانسخہ عطا ہوا۔تیس دن کی گنتی پوری کرلو۔فقط۔
اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرْ۔(رواہ البخاری)
بیشک دین آسان ہے۔
یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۔(قرآن کریم)
اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیںچاہتا۔
جب اللہ و رسول( ﷺ) ہمارے لئے آسانی فراہم کرتے ہیں کہ تم چاند دیکھو تو روزہ ،عید کرو، نہ دیکھو تو مت کرو۔ یہ ہمارے اوپر فرض نہیں کیا گیا کہ دنیا بھر کے لوگ یا ملک بھر،اور تمام شہر کے لوگ ایک ہی دن عید کریں۔تو پھر کیوں لوگ عید کے چاند کے لئے پریشان ہو کر بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ٹیلیفون،ریڈیو کا سہارا لے کر بے چاند دیکھے خواہ مخواہ عید کرنے کے لئے خود پریشان ہوتے ہیں۔اور ملت مسلمہ کو پریشان کرتے اور اختلاف میں ڈالتے ہیں۔
حدیث ۴ ۔ان رسول اللہ ﷺ قال الشھرتسع و عشرون لیلۃفلا تصوموا حتیٰ تر وہ فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلاثین۔(بخاری )
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،مہینہ (بسا اوقات) انتیس راتوں کا ہوتا ہے،اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھواور جب تک چاند نظر نہ آئے روزہ نہ افطار کرو(عید الفطر نہ کرو) اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن پورے کرو۔
حدیث ۵۔عن ابی ھریرۃ قال ابو القاسمﷺ صومو الرویتہ و افطرو لرو یتہ فان غبی علیکم فاکملو عدۃ ثلثین۔(بخاری ، جلد اول)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضرت ابو القاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا ،چاند دیکھ کر روزہ رکھو،اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو،اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو۔
مندرجہ بالا احادیث کریمہ سے یہ پتہ چلا کہ اسلامی مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔اور اس گنتی کا اعتبار رویت ہلال (چاند کے دیکھنے)پر ہے۔چاند کے ہونے، یا چاند کی پیدائش پر نہیں۔ہر حدیث میں بادل کے بار بار ذکر سے یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ اگر چہ بادل کے اوپر چاند نکلا ہو مگر زمین پر بسنے والے مسلمانوں نے، بادل کے نیچے سے چاند نہیں دیکھا، تو مہینہ تیس دن مانا جائے گا۔
حدیث پاک میں چاند کے ہونے نہ ہونے سے بحث نہیں،محض چاند دیکھنے سے بحث ہے۔اور اسی سے ثبوت رویت ہوتا ہے۔
حدیث ۶۔ عن ابی زفر قال کنا عند عمار بن یا سر فاتی کشادہ مصلیۃ فقال کلو فتخی بعض القوم فقال انی صائم فقال عمار ومن صام الیوم الذی شک فیہ فقد عصی ابا القاسم(ﷺ)وفی الباب عن ابی ھریرۃ وانس رضی اللہ تعالٰی عنھما ۔
ابن زفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں(تیس شعبان کو) ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی۔انھوں نے فرمایا’’کھائو ‘‘ایک شخص علحدہ ہو گیا اور کہنے لگا میں روزہ دار ہوں۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نا فرمانی کی۔
اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، سرکار دو عالمﷺ نے ان کو اپنے اہل بیت میں شامل فرمالیا تھا۔ان کے پاس تیس شعبان کو بہت سے لوگ جمع تھے۔بھنی ہوئی ایک بکری پیش ہوئی ،حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کو کھانے کی دعوت دی،سب کھانے پر حاضر ہوئے مگر ایک شخص علحدہ ہو گیا اور کہنے لگا میں روزہ دار ہوں۔تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سرکار دو جہاں ﷺ کا نا فرمان ٹھہرایا۔اور ایسا روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔
مذکورہ بالا حدیث، بخاری،ترمذی،مشکوٰۃ وغیرہ حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں۔آج بہت سے لوگ چاند دیکھے بغیر تیس شعبان کو روزہ رکھ کر اپنا تقوی جتاتے ہیں، کہ احتیاطاً روزہ رکھ لیا ہے۔اور انھیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ نبی کریم ﷺ کا فتوی اس کے برخلاف ہے۔
حدیث۷۔ ابو عیسیٰ حدیث عمار حدیث حسن صحیح والعمل علی ھذا عند اکثر اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ ومن بعد ھم من التابعین وبہ یقول سفیان الثوری ومالک ابن انس وعبد اللہ ابن مبارک و الرجل الیوم الذی یشک فیہ ورأی اکثرھم ان صامہ و کان من شھر رمضان ان یقضی یو ماً مکانہ۔(ترمذی شریف ، جلد اول)
امام ترمذی فرماتے ہیں:۔حدیث عمار،حسن صحیح ہے۔اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔(ائمہ مجتہدین میں سے) حضرت سفیان ثوری،حضرت امام مالک،حضرت عبد اللہ ابن مبارک(شاگرد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)،امام شافعی،امام احمد بن حنبل اور حضرت اسحق(رحمۃ اللہ علیہم) بھی اسی کے قائل ہیں ۔اکژ کی رائے ہے کہ اگر شک کے دن روزہ رکھا اور (بعد میں پتہ چلا کہ) وہ دن رمضان کا تھا تو پھر اس روزہ کی قضا کرے۔
اِن احادیث کریمہ سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ شریعت مطہرہ میں، رمضان و عید وغیرہ سارے اسلامی مہینوں کی ابتدا کادارومدار، رویتِ ہلال( چاند دیکھنے) پر ہے۔ ثبوتِ رویت کے بغیر نہ رمضان کا روزہ رکھنا درست ہے نہ عید کرنانہ قربانی کرنا۔۲۹ ویں کو کسی سبب سے چاند نظر نہ آسکے تو نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مہینہ تیس دن کا شمار کرلیاجائے۔ اگر پوری امت مسلمہ اپنے نبی کریم ،رؤف و رحیم ﷺ کے اِن ارشادات عالیہ پر متفق ہوجائیں ،اور شریعت مطہرہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجائیں تو رمضان و عید وغیرہ کے موقع پہ رونما ہونے والے، آپسی اختلافات بڑی آسانی سے دور ہوسکتے ہیں۔
اللہ عزوجل ہمیں اور پوری امتِ مسلمہ کو شریعتِ مطہرہ پر دل وجان سے، خوشی خوشی، چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین، بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم ۔
احمد القادری رَضوی مصباحی
ڈیلاس ، ٹیکساس، امریکا

الاسلامی.نیٹ www.alislami.net

 

مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ

بِسْمِ ﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الحمد للّہ رب العلمین ، والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین ، وعلی الہ واصحابہ اجمعین ،

مولانا نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمۃ کی حیات وخدمات
(ولادت: ۱۵فروری ۱۹۵۶ ء وفات: ۴؍ محرم ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء ، سنیچر)

مولاناحافظ شاداب رضاامجدی بن علامہ نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمہ

اس رنگ ونوربھری دنیا میں، روزانہ نئی زندگیاں جنم لیتی ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں فنا ہو جاتی ہیں، اس میں اکثرو بیشتر کی زندگی اپنی جدوجہدتک محدود رہتی ہے لیکن ایسے افراد بہت کم ملتے ہیں جواپنے اخلاق وکردارسے دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں۔
جامع معقول ومنقول حضرت علامہ نصراللّٰہ رضوی مصباحی علیہ الرحمۃوالرضوان انہیں پاکباز شخصیتوں میں سے ایک تھے، جنہوں نےتدریس وتصنیف اور دین متین کی خدمات زندگی کے آخری لمحات تک بڑے احسن طریقے سے انجام دیں ، یہ ابوالفیض حضور حافظ ملّت علیہ الرحمہ کا فیض ،اورابوالبرکات مفتیٔ اعظم ہند مصطفیٰ رضا قادری علیہ الرحمہ کی برکتیں تھیں، جن کے دامن ارادت سے آپ منسلک تھے ۔
آپ کی جائے پیدائش ضلع اعظم گڈھ موجودہ ضلع مئوکا مشہور ومعروف موضع بھیرہ ہے۔جو ایک قدیم آبادی ہے بھیرہ اعظم گڈھ شہر سے تقریبًا۲۵کلو میٹرپورب مئو شہر سے۲۷کلو میٹر پچھم اور تحصیل محمدآ باد گوہنہ سے۳کلو میٹر اتر واقع ہے ٹونس ندی اسے تین طرف سے گھیرے ہوئےہے گویا یہ علاقہ ایک جزیرہ نما ہےصرف پورب کی طرف سے خشکی کا راستہ ملتا ہے اور اس سر زمین پر بہت سے بزرگوں کی تاریخی یادگار یںہے ۔
اسی سرزمین پرعلامہ رضوی علیہ الرحمہ ۱۵فروری۱۹۵۶کو پیدا ہوئے،آپ کے والد کا نام ماسٹر محمد یونس برکاتی (مرحوم )ہے جنکا وصال ۱۰فروری ۲۰۰۴ منگل کی رات میں ہوا ،ماسٹر محمد یونس برکاتی {مرحوم} صوم و صلوۃ کے بڑے پابند تھے ،اپنے اکلوتے بیٹے کے ہوش سنبھالتے ہی تعلیم علوم نبویہ پر پوری توجہ دی، اور گاؤں کے مدرسہ رحیمیہ میں داخل فرمایا، جہاں آپ نے پرائمری اور ابتدائی فارسی کی تعلیم حاصل کی ، درس نظامی کی ابتدائی کتابیں (میزان، منشعب وغیرہ) صدرالعلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کے پاس ان کے دولت کدہ پر حاضر ہوکر پڑھیں۔
اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم اور درس نظامیہ کی تکمیل کے لئے باغ فردوس دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور جاکر اپنے وقت کے ممتاز علماےکرام سے اکتساب فیض کیا ،جن میں حضور حافظ ملّت علامہ شاہ عبدالعزیز محدّث مرادآبادی بانی جامعہ اشرفیہ مبارکپور سر فہرست ہیں ۔ ۱۰؍شعبان ۱۳۹۲ھ مطابق ۱۹۶۹ٕ میں سند فراغت حاصل کی جبکہ الہ آباد بورڈ سے منشی ، منشی کامل ،مدرسہ جدید جغرافیہ وریاضی ،مولوی ، عالم،فاضل دینیات،فاضل ادب،فاضل طب، اور علی گڑھ سےادیب ماہراور ادیب کامل کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ۔
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں ،شہزادہ اعلیٰ حضرت تاجدار اہلسنّت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر ۱۹۶۹ ٕ میں بیعت وارادت سے منسلک ہوئے۔
حضرت علامہ نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمہ مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے ،ان کا علمی پایہ بہت بلند تھا ،علما کے درمیان قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، تا دم حیات علمی مشاغل سے منسلک رہے تقریبًا چالیس سال تک آپ کا دریائے علم و عرفان تشنگان علم وآگہی کو سیراب کرتا رہا ،آپ نے ۱۹۷۴ ٕ میں مدرسہ عربیہ ضیا ٕالعلوم ادری ضلع مئو میں، بحکم حافظ ملّت تدریسی سلسلہ شروع کیا، ۱۹۷۶ میں دارالعلوم غوثیہ ذاکر نگر جمشید پور بحیثیت صدرالمدرسین تشریف لے گئےاور پھر ۱۹۷۸ ٕسے مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گوہنہ ضلع مئو میں، تا دم حیات مسند تدریس پر جلوہ فرما تھے آپ کو دینی مدارس کے مروجہ علوم و فنون پر عبور حاصل تھا، کوئی بھی کتاب ہو بے تکلف پڑھاتے تھے ، علم میراث میں تو مہارت تامہ رکھتے تھے ،کہ عربی زبان میں سراجی کا ایک شاندار علمی وتحقیقی حاشیہ لکھا اور آپ کی تفہیم ایسی تھی، کہ مشکل سے مشکل مباحث بآسانی طلبہ کے ذہن میں اتار دیتے، بے تکلفی اور خوش مقالی تو آپ کی زندگی کا لازمہ تھا ،عفو ، در گزر اور رحم و مروت میں اسلاف کی یادگار تھے، تدریس کے ساتھ ساتھ آپ کا شوق وذوق تصنیف و تالیف ،مضمون نگاری،حاشیہ نگاری اورعلمی وفقہی سیمیناروں میں شرکت ،آپ کا محبوب مشغلہ تھا ،آپ کے رشحات قلم درج ذیل ہیں ۔
۱۔برکات السراج لحل اصول السراجیہ {حاشیہ سراجی}
; ۲۔رسم الفرائض{قواعدمیراث}
۳۔بہار جاوداں{حاشیہ گلستاں}
۴۔ضوفشاں{حاشیہ بوستاں}
۵۔ایضاح حقیقت{ترجمہ، شرح حقیقت محمدیہ، فارسی}
۶۔حاشیہ مؤطاامام محمد (علیہ الرحمہ)
۷۔فقہی مقالے {مجلس شرعی کے فقہی سیمیناروں میں دوسرے سے بارہویں سیمینار تک تقریبًا ۴۰ مقالےومضامین قلمبند فرمائے}
امین شریعت فقہی کونسل دہلی کے ساتویں سیمینار کے لئے تحقیقی مقالے لکھے
۸۔مکالماتی مضمون{برکتاب سیدناعبدالوہاب جیلانی کا مدفن بغداد یا ناگور }
ان کے علاوہ دیگر موضوعات پر مضامین و مقالات سامنے آئے، جہاں آپ ان اوصاف و کمالات کے حامل تھے، وہیں پر آپ مکانات کی نقشہ سازی،زمین کی پیمائش مجوزہ عمارت کی لاگت کا تخمینا لگانا یعنی فنّ تعمیر میں آپ ایک ماہر انجینئربھی تھے ۔ غرضیکہ ہر کام، دینی، مذہبی،سماجی گتھیوں کو حل کرنے کا ہنر رکھتے تھے ۔مذہبی کاموں کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ۔ زیارت حرمین شریفین پہلا سفر حج آپ نے۱۹۹۸ٕ ادا فرمایا اور دوسرا سفرحج مع اہلیہ اور والدہ محترمہ کے ساتھ۲؍دسمبر ۲۰۰۶ٕ میں حج کے فرائض ادا کئے،
طبیعت علیل ہونے کے باعث اچانک۴؍ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء بروز سنیچر۴ بجکر ۲۵منٹ پر، فجر سے پہلے داعیِ اَجَل کو لَبَّیْک کہا ،اور اپنے معبود حقیقی سے جا ملے ۔
محلہ احمد نگر ،بھیرہ ،برکاتی مسجد کے پاس ،آپ کے نئے مکان کے اتر جانب، آپ کا مدفن ہے۔
ٓٓآپ تاحیات المجمع الاسلامی مبارک پور کے رکن، انجمن امجدیہ اہل سنت اور رضامسجد بھیرہ کے نائب صدر رہے۔
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی تربت پر رحمت و غفران کی بارش برساتا رہے۔

شاداب رضاامجدی
استاذ، دارالعلوم بشیریہ رضویہ، مادھو سنگھ، اورائی، ضلع بھدوہی، یوپی، ہند
(ملخصاً و تصرفاً)

الاسلامی.نیٹ
www.AL ISLAMI.NET

غیرمسلم بینک سے قرض لینے کا حکم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

مسئلہ: غیر مسلم بینک سے قرض لے کرمسجد، مدرسہ اور مذہبی ادارے کی تعمیر کرنا،بوقت ضرورت جائز ہے۔
فتوی: تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا قادری ازہری علیہ الرحمہ،
تصدیق: محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ قادری دامت برکاتہم العالیہ
سوال: امریکہ جوایک دارالحرب ہے یہاں مسجد، مدرسہ یاکسی دینی مرکز کو قائم کرنے کےلیے کسی مکان یازمین کانقد خریدنا بہت ہی دشوار تقریباً متعذرہے اوراُدھار خریدنے کی شکل میں طے شدہ قیمت سے زائد رقم بینک کودینی پڑتی ہے، کیا ایسی صورت میں غیرمسلموں کےبینک کوقیمت سے زائد رقم دے کر مسجد ومدرسہ کےلیے جگہیں اُدھار خریدنا جائز ہے یانہیں۔بینوا وتوجروا

المستفتی :محمدبابر رحمانی
ڈیلاس (امریکہ)

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں دینی ضرورت یاحاجت کے پیش نظر، اس کی اجازت ہے کہ قرض لےکر مسجد، مدرسہ، مذہبی ادارہ ،تعمیر کیاجائے ،اگرچہ حربی کفار کو زیادہ دیناپڑے اور یہ زیادتی حرام نہیں ہوگی کہ حدیث میں ہے :
لاربوا بین المسلم والحربی
مگر کافروں کو بلاضرورت وبے حاجت نفع پہنچانا حرام ہے ۔
قال تعالیٰ: اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ (سورہ الممتحنہ:۶۰،آیت:۹،پارہ:۲۸)
یہاں سے کھلا کہ اجازت، زیادہ دینے کی ،ضرورت یاحاجت شرعیہ کی شرط سے، مشروط ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

قالہ بفمہ و أمر برقمہ الفقیر
محمداختر رضا القادری الازہری غفرلہ

الجواب صحیح ،واللہ تعالیٰ اعلم
ضیاء المصطفیٰ قادری عفی عنہ
۲۸؍ربیع الاول ۱۴۲۲ھ (۲۱ جون ۲۰۰۱ء)

مبارکپور کی تاریخ، احمد القادری

بِسْمِ ﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الحمد للّہ رب العلمین ، والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین ، وعلی الہ واصحابہ اجمعین ،
ممتاز العلما کا وطن مبارک پور

بتاریخ ۱۶ ؍ ذی الحجہ ۱۴۴۲ ھ مطابق ۲۶؍ جولائی ۲۰۲۱ ء بروز دوشنبہ ، محب محترم مولانا ارشاد احمد شیدا اعظمی کا انگلینڈ سے فون آیا، انھوں نے ممتاز العلما کی حیات وخدمات پر ایک کتاب شائع کرنے کی خوش خبری سنائی اور اس خاکسار کو منتخب عنوانا ت میں سے کسی عنوان پر لکھنے کی فرمائش کی۔
کل عنوانات چالیس تھے ، دوسرے نمبر پر یہ عنوان تھا۔۔۔۔ممتاز العلما کا وطن مبارک پور۔۔۔۔۔یہ عنوان منتخب ہوا۔ ۔۔ وباللہ التوفیق، نعم المولیٰ، ونعم النصیر۔

احمد القادری مصباحی

مبارک پور کا نام
وجہ تسمیہ: حضرت راجہ سید مبارک شاہ علیہ الرحمہ (متوفی ۲؍ شوال ۹۶۵ھ) مبارک پور کے بانی ہیں، ان کے نام پر اِس کا نام مبارک پور پڑا۔ جامع مسجد راجہ مبارک شاہ بھی انھیں کے نام پر ہے۔
عام معلومات
جائے وقوع: مبارک پور کا طول البلد(لانگی ٹیوڈ) ۸۳ درجہ ۱۸ دقیقہ شرقی اور عرض البلد(لاٹی ٹیوڈ) ۲۶ درجہ ۵ دقیقہ شمالی ہے۔
نگرپالیکا: مبارک پور
ڈاک خانہ: مبارک پور
تھانہ: مبارک پور
تحصیل: اعظم گڑھ
ریلوے اسٹیشن:سٹھیاؤں
ضلع : اعظم گڑھ
قریبی ایر پورٹ: گورکھپور، بنارس، لکھنؤ۔اعظم گڑھ ایر پورٹ کی تعمیرجاری ہے، مستقبل قریب میں کی افتتاح کی امید ہے۔
صوبہ: اتر پردیش
پن کوڈ: ۲۷۶۴۰۴
ملک: ہند ؍ ہندوستان؍ بھارت؍ انڈیا
آبادی:مبارکپور کی مجموعی آبادی ۲۰۱۱ میں ایک لاکھ نو ہزار ، پانچ سو، انتالیس (۱۰۹۵۳۹ ) افراد پر مشتمل تھی۔
رقبہ ؍ایریا: تقریبا ًدس (۱۰ء۳۱) اسکوائر کلو میٹر
بلندی: ۶۹میٹر (۲۲۶ فٹ)سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے
زبان: مبارک پوری،اردو، ہندی،پوربی؍ بھوجپوری ۔
منطقۂ وقت؍ٹائم زون: ہند کا معیاری وقت،یو، ٹی، سی (یونیورسل، ٹائم، کورڈی نیٹیڈ، قدیم نام: گرینچ مین ٹائم زون) جی، ایم ،ٹی
ٹائم سے پانچ گھنٹے ۳۰ منٹ زائد ہے۔
مبارک پور کی چوحدی
اتر :گوجر پار وغیرہ
دکھن :لہرا، سٹھیاؤں
پورب: ابرہیم پور، وغیرہ
پچھم : سرائے مبارک وغیرہ ہے
مبارک پور کے محلے
مبارک پور میں چھوٹے بڑے کثیر محلے ہیں ، بچپن میں والدہ مرحومہ سے ۲۸ پُورے کا نام سنتے تھے، اب تو اور زیادہ ہوگئے ہیں جن کے نام دستیاب ہوگئے مرقوم ہیں۔
۱۔ پرانی بستی: پرانا مدرسہ، اشرفیہ مصباح العلوم یہیں پر تھا، یہیں پر حافظ ملت علیہ الرحمہ کی مستقل رہائش گاہ تھی۔ عزیز ملت حضرت مولانا عبد الحفیظ صاحب قبلہ دامت برکاتہم سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ کی رہائش گاہ کی سعادت بھی اسی محلہ کو حاصل ہے۔ اسی محلہ میں خواجہ محمد صالح کے نام پر،خواجہ تالاب (کھجوا) ہے، حافظ محمد ابراہیم متولی، رکن اشرفیہ مبارک پور، یہیں کے باشندہ تھے۔
۲۔پورہ خواجہ: خواجہ محمد صالح حاکم بنارس(دورجہاںگیری ) کے نام پر بناہے، ہمارے ممدوح حضرت ممتاز العلما علیہ الرحمہ کا دولت کدہ یہیں پر ہے۔ اس محلہ میں اشرفیہ کی شاخ ہے۔
۳۔پورہ خضر: اسی محلہ میں متصل قبرستان بن رہی باغ (بنری باغ) استاذ محترم حضرت بحرالعلوم مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث ،جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور،( ۱۳۴۴ھ وصال ۱۵؍محرم ۱۴۳۴ھ) کا مزار مبارک ہے۔
یہاں دوسرامشہورقبرستان سمودھی(شاہ محمودی)ہے،جہاں نوگزے( نو غازی) پیر بابا کا مزار ہے ، یہیںحضرت مولانا عبد الرؤف علیہ الرحمہ سابق نائب شیخ الحدیث، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور، (ولادت ۱۹۱۲ء وصال۱۳؍شوال ۱۳۹۱ھ ۲؍دسمبر۱۹۷۱ء) اور حضرت مولانا قاری محمد یحییٰ علیہ الرحمہ، امام جامع مسجد راجہ مبارک شاہ ،و سابق ناظم، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور ( ولادت ۸؍محرم ۱۳۴۳ھ ۹؍اگست ۱۹۲۴ء وصال۱۵؍ مئی ۱۹۹۶ء) کا مزار مبارک ہے۔
۴۔پورہ رانی: اسی محلے میں گولہ بازار کے پاس ، باغ فردوس( ۱۳۵۳ ھ) دارالعلوم اشرفیہ کی شاندار تین منزلہ بلڈنگ ہے۔یہاں مولاناقاری محمدیحیی صاحب علیہ الرحمہ اور استاذ محترم حافظ جمیل احمد صاحب مدظلہ سابق استاذِ حفظ جامعہ اشرفیہ کا دولت خانہ ہے۔
مدرسہ یتیم خانہ ، بھی اسی محلے میں ہے۔
۵۔پورہ دیوان: یہاں ہماراا ننہال، اور ہمارے استاذ مولانا اعجاز علیہ الرحمہ کا دولت خانہ ہے۔یہیں استاذ محترم حضرت مولانا محمد شفیع اعظمی علیہ الرحمہ سابق استاذ و ناظم اعلیٰ، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور (۱۳۴۴ ھ وصال ۱۴۱۱ ھ ۱۹۹۱ ء) کا روضہ ہے۔
اسی محلہ میں اونچی تکیہ ہے ، جہاں استاذ محترم حافظ نثار احمد علیہ الرحمہ سابق استاذ، دارالعلوم اشرفیہ، مبارک پور، (وصال ۵؍ شوال ۱۴۳۹ ھ ۲۱؍ جون ۲۰۱۸ ء بروز جمعرات) کا روضہ ہے۔یہیںعائشہ تالاب (استلاؤ) بھی ہے۔
۶۔پورہ باغ: پورہ دیوان سے متصل پورہ باغ ہے۔
۷۔شاہ محمد پور: جلوس میلاد النبی ﷺ یہاں املی کے پاس، صحن میںہر سال تھوڑی دیرٹھہرتا ہے۔
۸۔ پورہ صوفی : صوفی بہادر کے نام پر تقریباً ۱۰۴۶ھ میں بنا ہے، پورہ صوفی اور حیدرآباد سے متصلکپورہ شاہ، دیوان کا باغ ہے۔
۹۔حیدرآباد:یہ قصبہ کے پچھم ہے ، یہاں روضہ شاہ کاپنجہ ہے، نواب اودھ کے زمانہ میں، چراغ علی شاہ نے بنوایا ہے۔ یہاں مدرسہ عزیزیہ ، حیدرآباد، مذہبی تعلیم گاہ ہے۔
۱۰۔سکٹھی: مبارک پور سے شمال مغرب میں زمینداروں کی پرانی آبادی ہے۔مدرسہ اسلامیہ اشرفیہ، یہاں کا مشہور دارالعلوم ہے
۱۱۔سرائے مبارک: سکٹھی کے آگے سرائے مبارک ہے ۔
۱۲۔مصطفی آباد: سرائے مبارک سے اتر ہے، حضرت شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ بھیروی علیہ الرحمہ کے خسر شیخ غلام رسول یہیں کے باشندہ تھے۔
۱۳۔پورہ دولھن: میرے استاذ حافظ نثارا حمد علیہ الرحمہ کا یہیں مکان تھا۔
۱۴۔کٹرہ: یہا ں حضرت سید سالا مسعود غازی علیہ الرحمہ کی نسبت سے، صحبت کے نام سے ،سالانہ ایک بڑا میلہ لگتا ہے۔حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن شرر مصباحی رکن جامعہ اشرفیہ (مقیم دہلی) کا یہ وطن ہے ۔
۱۵۔نئی بستی : یہ کٹرہ کے قریب علی نگر سے اتر نئی آبادی ہے۔
۱۶۔علی نگر: یہ پوری آبادی ، اہل سنت کی ہے۔ علی نگرکا قبرستان موسومہ اوسر یہیں پر ہے ۔ ممتاز العلما کے والد گرامی جناب حافظ عبد الحلیم علیہ الرحمہ(رکن دارالعلوم اشرفیہ) اور ان کے اہل خاندان کی قبریں اسی قبرستان میں ہیں۔ علی نگر کے پورب پوکھرا کے نام سے ایک پختہ تالاب ہے۔ اِسی سے متصل تھانہ (پولیس اسٹیشن)مبارک پور ہے، ۱۸۱۳ء میں یہاں تھانہ قائم ہوا، اس سے پہلے یہ محمد آباد تھانہ کے ماتحت تھا اور یہاں صرف پولیس چوکی ہوا کرتی تھی۔
۱۷۔املو: علی نگر کے پورب ،یہ مشہور آبادی ہے۔ مبارک پور کی قدیم آبادی میں اس کا شمار ہوتاہے
۱۸۔لوہیا: یہ املو سے پورب مشہور بستی ہے۔
۱۹۔چکیا: یہ املو سے دکھن ہے۔
۲۰۔نوادہ:سریاں اور رسول پور کے بیچ میں آباد ہے، یہاں اہل سنت کا مدرسہ سراج العلوم ہے۔
۲۱۔رسول پور: قصبہ کے شمال مشرق میں، سریا ں اور نوادہ سے تھوڑے فاصلہ پر ہے۔
۲۲۔سریاں: قصبہ کے شمال مشرق میں ہے،گورکھپور اور کچھار جانے والے قافلوں کے لئے یہاں کئی سرائیں تھیں ، جن میں مسافر ٹھہرتے تھے، بعد میں کثرت استعمال سے سریاں ہوگیا۔یہاں قدیم تاریخی یادگار ،ملک شدنی بابا کا مزار ہے۔
۲۳۔حسین آباد: قصبہ کے اتر ۱۵ منٹ کی مسافت پر ہے، دسویں ذی الحجہ ۱۳۵۹ھ مطابق دسمبر ۱۹۳۹ء حسین آبا د کے شمال گوجر پار میں ہندو مسلم فساد ہواتھا، جس میں قصبہ کے چار مسلمان شہید ہوگئے تھے۔ اسی جنگ میں ہمارے ماموں جناب عبد العزیز بن عبد الرشید بن عبد الصمد علیہ الرحمہ بھی شہید ہوئے تھے۔ یہاں غوثیہ جامع مسجد ہے۔
۲۴۔اسلام پورہ:یہیں مولانا عبد الغفار اعظمی رکن المجمع الاسلامی کا مکان ہے۔
۲۵۔نیا پورہ: یہاں کی انجمن تنویر الاسلام ہے۔
۲۶۔شہید نگر: یہاں ایک شہید کا مزار ہے، ان کے نام پر یہ محلہ آباد ہے۔
۲۷۔ملت نگر: یہاں پر تصنیف واشاعت کا عظیم ادارہ المجمع الاسلامی قائم ہے۔اور ایک تعلیمی ادارہ بنام، مدرسہ صدیق اکبر ہے
۲۸۔ آدم پور: ملت نگر سے پورب یہ آبادی ہے
۲۹۔نور پور: المجمع الاسلامی سے اتر، نور پور کہلاتا ہے
۳۰۔عزیز نگر: حافظ ملت علیہ الرحمہ کےنام سے یہ ایک نیا محلہ ہے۔
۳۱۔اساوُر: یہ مبارک پور سے جنوب مشرق میں زمینداروں کی بستی ہے،یہاں دو شہیدوں کا روضہ ہے، عمر شیخ شہید اور شیخ ہندی شہید (معروف سیکھندی) یہ ، المجمع الاسلامی سے کچھ فاصلے پر ہے۔
۳۲۔گجہڑا: جامعہ اشرفیہ (عربی یونیورسیٹی) سےدکھن طرف کچھ فاصلے پر پرانی آبادی ہے،مولانا شاہ عبد الحق علیہ الرحمہ (وصال: ۲۸؍ شعبان ۱۴۰۸ھ ۱۶ ؍اپریل ۱۹۸۸ء مدفن اجمیر شریف)، مولانا شاہ شمس الحق علیہ الرحمہ(وصال ۹؍شعبان ۱۳۹۳ھ ۷؍ستمبر ۱۹۷۳ء) یہیں کے باشندے تھے۔مولانا شاہ شمس الحق علیہ الرحمہ دارالعلوم اشرفیہ کےمشہور استاذ اور فارسی زبان کے استاذ کامل تھے۔ میرے استاذحضرت مولانا اسراراحمد صاحب مدظلہ بھی یہیں کے باشندہ ہیں۔یہاں شاہ جہانی دور ۱۰۹۹ھ کی ایک عظیم الشان مسجد تاریخی یادگار ہے۔اور یہیںحضرت سید کمال الدین شاہ بغدادی علیہ الرحمہ( متوفی گیارہویں صدی ہجری)کا مزار مبارک ہے۔
۳۳۔لہرا (وحدت آباد): گجہڑاسے متصل دکھن طرف قدیم آبادی ہے۔یہ مشائخ بھیرہ کا موروثی مقام تھا، یہاں حضرت مولانا گرم دیوان شاہ بھیروی علیہ الرحمہ (ولادت۱۱۰۰ھ- وصال ۱۱۷۸ھ)نے مستقل سکونت اختیار کرکے خانقاہ اور مدرسہ بنوایا۔ یہیں ان کا مزار مبارک ہے۔ ان کے دور میں اس کا نام وحدت آباد تھا۔
۳۴۔فخرالدین پور: گجہڑا ہی سے متصل یہ آبادی ہے۔
۳۵۔بمہور: قصبہ کےجنوب مغرب میں دو میل پر آباد ہے۔
۳۶۔حاجی پور : بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۷۔ککرہٹا: بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۸۔ڈھکوا : بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۹۔داؤد پور:
۴۰۔ سالار پور:
مبارک پور کی تاریخ
مفکر اسلام حضرت علامہ بدرالقادری علیہ الرحمہ حیات حافظ ملت میں لکھتے ہیں،
یہ بات تومسلم ہے کہ پہلےپہل، یوپی کے خطۂ پورب کو اپنے سمنداقبال سے نواز نے والے، سلطان الشہدا،سید سالار مسعود غازی، بہرائچی، رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کے روحانی وعرفانی قافلہ کے غازیوں اورمجاہدوں نے ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ مبارک پور کوبھی اپنے گھوڑوں کی تاپوں سے روند کر،اسے برکتیں عطاکیں اورحضرت ملک شدنی اور نہ معلوم کن کن شہداء کے وجود کاتخم اس خطۂ ارض کوحاصل ہوا۔
زمانہ آگے بڑھتا رہا تاآنکہ دور ہمایوں ۹۲۵ھ میں جب مسلمانوں کے دم قدم سے نوآبادیاں قائم ہورہی تھی اس قت قصبہ مبارک پور کی بنیاد پڑی۔ اگرچہ اس وقت تک اسے کوئی باقاعدہ نام نہیں ملاتھا۔
بانی مبارک پور
مبارک پور کےبانی حضرت سید راجہ مبارک شاہ علیہ الرحمۃ الرضوان ہیں ،حضرت راجہ سیدمبارک بن حضرت راجہ سید احمدبن حضرت راجہ نور بن حضرت راجہ سید حامد(رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہم) کاسلسلۂ نسب حضرت امام محمدباقر بن حضرت امام جعفرصادق(رضی اللہ عنہا) سے جاملتاہے۔
حضرت راجہ سید مبارک رحمۃ اللہ علیہ کامختصر تذکرہ”گنج ارشدی“ نامی کتاب میں ملتاہے۔
حضرت راجہ سید مبارک کے والد ماجد حضرت راجہ سید احمدقدس سرہ عین جوانی میں شادی کے چند ماہ بعد انتقال کرگئے تھے۔ راجہ سید مبارک کی والدہ کواس وقت ایک ماہ کاحمل تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے جد محترم حضرت راجہ سید نور علیہ الرحمہ نے آپ کی پرورش کی۔ وہ پیار سے راجہ سیدمبارک کو ”ماکھو“ کہاکرتے تھے۔
جدمحترم نےاپنےیتیم پوتے کی تعلیم وتربیت
کرکے بچپن ہی میں ان کوخلافت واجازت بھی مرحمت کردی تھی۔
گوراجہ سید مبارک ظاہری علوم سے زیادہ واقف نہیں تھے مگر مشیخیت وروحانیت میں بلند مقام ومرتبے کے مالک تھے۔ آپ کے حلقۂ ارادت وخلافت میں اولیائےکاملین کی ایک کثیر تعداد تھی۔
راجہ سید مبارک علیہ الرحمہ نےاپنے خاندان کےبزرگوں کی طرح جون پور اوراس کے اطراف وجوانب مین رہ کر ارشاد وتبلیغ کی خدمت انجام دی۔
آپ تبلیغ واشاعت دین کی غرض سے کڑامانک پور ضلع پرتاب گڑھ(یوپی) سے قاسم آباد تشریف لائے، قاسم آباد میں آپ نے اپنی تبلیغ وارشاد اوربیعت وارادت سے ایک نئی روح پھونکی، اسلام کوضیاء بخشی، مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کیا، معصیت اورگمراہی میں مبتلا لوگوں کوراہ راست دکھائی اورقاسم آباد کو ازسرنو آباد کرکے اس کانام مبارک پور رکھا۔
آپ بڑے عابد وزاہد اوربلند روحانی مقام کے مالک تھے، کٹرامانک پور میں ۲؍شوال ۹۶۵ھ کوآپ کا وصال ہوا ،اوراپنے دادا حضرت سید نور کےپہلو میں دفن ہوئے۔آپ کے صاحب زادے راجہ سید مصطفیٰ نے مزار پرگنبد تعمیر کرایا۔
آپ کا سال وفات (۹۶۵ھ) مندرجہ ذیل مصرعہ کے حروف تہجی کے نمبرس جمع کرنے سے نکلتا ہے۔
گنج ارشدی میں مرقوم ہے: بحق شد راجی سید مبارک (۹۶۵ھ)
مسجد راجہ مبارک شاہ
الجامعۃ الاشرفیہ سے متعلق ”مسجد راجہ مبارک شاہ“ جواپنی وسعت وعظمت اورشان وشوکت میں دور دور تک مشہور ہے وہ راجہ مبارک شاہ صاحب ہی کےنام سے موسوم ہے۔ قصبہ مبارک پور میں جمعہ وعیدین کی سب سے بڑی جماعت یہیں ہوتی ہے۔
حضرت راجہ سید مبارک شاہ علیہ الرحمہ کےخانوادہ کے ایک بزرگ حضرت سید غلام نظام الدین (م ۱۱۲۸ھ) راجہ خیراللہ شاہ محمدآبادی کےنام سے مشہورہوئے اور”محمدآباد گوہنہ“ سے تقریباً ایک کلو میٹر مغرب میں واقع موجودہ قصبہ ”خیرآباد“ آپ ہی نے بسایا۔
سلسلۂ چشتیہ میں ،شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ متوفی ۱۱۷۸ھ مزار،لوہرا مبارک پور آپ ہی کے مرید ہیں۔
(علامہ یٰس اختر مصباحی: الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ص:۱۴)
مبارک پور کےدینی وعلمی ادارے
مبارک پور کےمغرب میں مدرسہ حنفیہ جون پور اورمشرق میں مدرسہ چشمۂ رحمت غازی پور دوقدیم دینی وعلمی ادارے تھے۔ مقامی سطح پرکچھ لوگ ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم کے لیے مذکورہ دونوں اداروں اور معدودے چند لکھنؤ یادلی حصول تعلیم کےلیے جاتے تھے۔
یہ مبارک پور میں حافظ ملت کی تشریف آوری اور مدرسہ اشرفیہ باغ فردوس(۱۳۵۳ھ) کےقیام کے پہلے کی بات ہے اورآج الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور تو عالم اسلام کا ایک نمایاں علمی مرکز ہے۔
مبارک پور کی شہرت وعظمت کاسبب
ملک ہندوستان کے صوبۂ اترپردیش کےشہراعظم گڑھ کودسمبر۱۸۳۲ء میں ضلعی حیثیت حاصل ہوئی۔ اعظم گڑھ میں بڑی بڑی عظیم ونامور علمی وادبی ہستیوں نے جنم لیاہے اوراسی بناء پر اسے مردم خیز خطہ بھی کہاجاتاہے۔
کل تک یہ قصبہ گم نام تھا لیکن اس نے پوری دنیا میں ایک غیر معمولی پہچان بنالی ہے۔ عالم اسلام کا کوئی بھی خطہ وعلاقہ ایسانہیں جہاں مبارک پور کی شہرت نہ پہنچی ہو۔ اورمبارک پور کی یہ شہرت، عظیم مرکز علمی الجامعۃ الاشرفیہ کےسبب ہے۔ لیکن الجامعۃ الاشرفیہ کو مبارک پور کی سرزمین پر وجود کس نے بخشا؟ حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ نے اورآج مبارک پور کویہ شہرت ومقبولیت،عزت وعظمت اوربڑا ئی وبلندی بلاشبہ اسی ذات بابرکات کی بدولت حاصل ہے۔
اسی معمار قوم وملت، باغبان باغ فردوس، جلالۃ العلم، استاذ العلماء حافظ ملت، محدث مرادآبادی ثم مبارک پوری، بانی الجامعۃ الاشرفیہ ہی نے مبارک پور کو قابل مبارک باد بنایا۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نے مبارک پور کی سرزمین پر الجامعۃ الاشرفیہ کی شکل میں علم وحکمت کاایسامرکز قائم فرمادیا جس پربغداد وقرطبہ، شیراز واصفہان، سمرقند وبخارا اور قاہرہ کےجامعات کوبھی رشک آتاہے اور جہاں کے فاضلین دنیاکے کسی بھی جدید دانش کدہ اورماڈرن یونیورسٹی کے دانش وروں اورپروفیسروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرعلم وحکمت کےکسی بھی موضوع پر گفتگو کرسکتے ہیں اوراحساس کمتری میں مبتلا ہونے کے بجائے خود انھیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کامادہ رکھتے ہیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ ایک ایسا منارۂ نور ہے جوتہذیب جدید کے اخلاق وانسانیت سوز شعلوں کوکاٹتا ہوا، نئی روشنی کی برپاکی ہوئی جہالت وگمرہی کی تیرگی کو چیرتاہوا بندگان الٰہی کی ہدایت ورہنمائی کافریضہ انجام دیتاہوا انھیں صراط مستقیم پرگامزن کرتاچلاجارہاہے۔
نہ صرف برصغیر بلکہ یورپ وامریکہ اورافریقہ کےتشنگان علوم نبویہ بھی اپنی پیاس بجھانے اورسرمست وسرشاد ہونے کےلیے اسی میخانہ علم وحکمت کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ کےکیمپس میں داخل ہوتے ہی نگاہوں میں چمک اورچہرہ پر تازگی آجاتی ہے، دل مضطرب کو قرار آجاتاہے۔ سینہ فخر سے ،تَن جاتاہے، اللہ اکبر! یہ ایسا باغ فردوس ہے جہاں ہرسو ،علم وحکمت ودانش کوثر وتسنیم کےدھارے بہتے نظر آتے ہیں۔
جامعہ کےدرودیوار سے حمد الٰہی اورمدح رسالت پناہی کے مچلتے ہوئے نغمے، جامعہ کی فضاؤں میں گونجتی ہوئی قرآن وسنت کی جاں بخش اورایمان افروز صدائیں ذہن کے دریچوں کوبہار ابد کی جاں فزا ہواؤں کےلیے وا کردیتی ہیں۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نےعمر بھر الجامعۃ الاشرفیہ (باغ فردوس) کی باغبانی وپاسبانی کافریضہ انجام دیا۔طلبائے اسلام کی جماعت کوتعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ کرتے رہے اوراشرفیہ ہی کو آخری آرام گاہ بنالیا۔
یہ حافظ ملت ہی کے قدموں کی برکت ہے کہ انھوں نے مبارک پورکی سرزمین کوآسمان کی بلندی عطاکردی۔ اللہ کےاحسان یافتہ بندوں کی یہی تو شان ہوتی ہے کہ
توجہاں ناز سے قدم رکھ دے
وہ زمیں آسمان ہے پیارے
مبارک پور اس کی مذہبی تاریخ
مبارک پوراپنے ضلعی مقام اعظم گرھ سے تقریباً سترہ کلومیٹر شمال مشرق میں کئی مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ایک مسلم اکثریت کی آبادی ہے۔ مسلمانوں میں بنکر طبقہ کی تعداد غالب ہے۔
مبارک پور کی تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے حضرت استاذ محترم بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ اعظمی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ نےجوکچھ تحریرفرمادیاہے وہ سندکی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت نے اس پورے ماحول کی بہترین تصویر کشی فرمائی ہے جسے ہم یہاں من وعن نقل کرتے ہیں۔
مبا رک پور کی صنعت
”یہ آبادی آج سے تقریباً ساڑھے تین سوسال قبل کی ہے۔یہاں کاخاص ذریعۂ معاش بنکاری ہے۔ قدیم عہدمیں سوتی کپڑے (گزّی وغیرہ) تیار ہوتے تھے، لیکن جلد ہی یہاں کے ہنر مندوں نے ریشم اورسوت کی آمیزش سے چند نفیس قسم کی پوشیش بنائیں جومدتوں شرفاء کالباس اورخوشرؤں کی زینت رہیں اور مشروع، غلطاں ، سنگی، گلبندن وغیرہ کےنام سے مشہور عالم ہوئیں۔ اب خالص ریشم اورزری کےبنارسی کپڑوں میں یہاں کے ہنر مند اپنا جواب نہیں رکھتے“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاشرت یہاں کی نہایت سیدھی سادی اورتقریباً اسلامی احکام کے موافق تھی۔ اب انقلاب زمانہ کےساتھ یہاں بھی کچھ تجدد کی ہوا چل پڑی ہے۔ بیشترآبادی اگرچہ بےپڑھی لکھی تھی لیکن خیرغالب اور نیکی نمایاں تھی۔
مولوی مکرم احمدعباسی چریاکوٹی (بن مولانا محمد اعظم چریاکوٹی ولادت ۱۲۶۶ھ متوفی ۱۳۳۲ھ از تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۳۲۲)اپنی قلمی تصنیف ”دہ بند“ میں تحریر فرماتے ہیں:
مبارک پور میں پانچ ہزار خانہائے نور باف ہیں، ہرہرمحلہ محلہ میں مسجدیں موجود ہیں، پانچوں وقت کی جماعتیں نماز کی دھوم دھام سے ہوتی ہیں۔ اہل محلہ سب کاروبار چھوڑ کے واسطے تحصیل فضیلت جماعت کےمسجد میں آتے ہیں۔فقیر، درویش، مُلّے،مسافر، غریب الوطن، مساکین، مرثیہ خواں زیادہ تریہاں وارد ہوکےمبلغ معتدبہ پاجاتے ہیں۔ فی تھان کسی قدر زکوٰۃ کے طور پرنکال کے ایک خزانہ میں کہ موسوم بہ گولک کرلیاہے جُدا دھرتے ہیں جس سے پیسہ ایک مقدار کثیر میں موجود رہتاہے اوراسے مصارف خیر میں صرف کرتے ہیں۔ اکثر باثروت وصاحب مال ہیں۔ گلبدن وسوتی پہلے پہل یہیں بنایاگیا اوراب تک یہاں کاسا عمدہ اور ارزاں دوسری جگہ نہیں بنایاگیا۔ بالفعل مشروع وسنگی واصناف پارچہائے سادہ ورنگین یہاں بہتر بنایا جاتاہے اوربکفایت تام ہاتھ آتاہے۔ بازاروں میں غلہ اس افراط سے آتاہے کہ بڑے بڑے شہروں کاگولہ اس کارشک کھاتاہے(دہ بند،ص:۳)
مدرسہ مصباح العلوم کاقیام
اس کے بعد تاریخی حقائق جاننے کےلیے ہم بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی (علیہ الرحمہ)کی تحریر پیش کرتے ہیں:
آج سے سوسال قبل شعبان ۱۲۹۲ھ کابیان ہے اوریہ لگ بھگ وہی وقت ہے جب کہ مبارک پور کےافق پردُودمان خاندان اشرفیہ شہزادۂ غوث الوریٰ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی سرگرمیاں رشد وہدایت کاآفتاب بن کر چمک رہی تھیں اورپورا مبارک پور اُن کے قدموں میں اپنادل بچھائے ہوئے تھا اورعجب نہیں کہ اوپر عباسی صاحب کے حوالے سے یہاں کی جس عام دین داری کاذکر کیاگیاہے انھیں کی مسیحانفسی کااثرہو۔ انھی کی تحریک وترغیب سے آج سے تقریباً اسی سال قبل مبارک پور گولہ بازار کی مسجد میں مدرسہ بنام مصباح العلوم قائم ہوا جس کے انتظام کاروں میں حافظ عبدالسبحان صاحب پورہ رانی اورایوب سردار کانام سرفہرست ہے۔
انتہائی کوشش کےباوجود اس کے ابتدائی مدرسین کاپتا نہ چل سکا۔ نصاب تعلیم کے بارے میں ایسا اندازہ ہوتاہے کہ مکتبی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ عربی کابھی انتظام تھا کیوں کہ اسی میں تعلیم حاصل کرکے مولوی رفیع الدین ومولوی محمدعمر صاحب مولوی کہے جانے لگے۔
دس سال کےبعد مدرسہ کی فلاح وبہبود کی خاطر پورے قصبہ کی ایک عام میٹنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک وسیع اورجامع ترکمیٹی عالمِ وجود میں آئی جس کے ارکان میں حسب ذیل افراد نام زد ہوئے۔
مولوی الٰہی بخش صاحب پورہ دلہن، یہ ایک کامیاب طبیب بھی تھے۔ سردار محمد طیب گرہست پورہ خضر، یہ نہایت چالاک اور بااثر شخص تھے۔ حاجی عبدالحق، بابوسردار، ان کاذکر اوپر آچکاہے۔ عبدالحکیم سردار،پورہ صوفی اورحسین بخش وغیرہ اورچوں کہ اس اجتماع میں پورے قصبہ کی نمائندگی تھی اس لیے نسبۃً اس وقت تک یہاں جتنے فرقے ممتاز تھے سبھی خیال کے مدرس رکھے گئے۔
چناں چہ مصنف بہار شریعت حضرت مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمہ کےبرادر بزرگ حضرت مولانا محمدصدیق صاحب جوحضرت مولانا ہدایت اللہ خان جون پوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے ارشد تلامذہ سے تھے وہ گھوسی سے بلائے گئے۔ دیوبندیت اس وقت نمایاں نہیں تھی کہ اس کا کوئی نمائندہ ہو لیکن غالباً لاعلمی میں ہی مولوی محمدمحمود صاحب(دیوبندی) ساکن موضع پورہ معروف بلائے گئے۔ مقامی طور پر مولوی نور محمد صاحب مرحوم، یہ سنی مکتب فکر کےترجمان تھے اور شیعہ مدرس ماسٹر مہدی حسن خاں مقرر ہوئے اورمدرسہ گولہ بازار کی مسجد سے منتقل ہوکر پورہ رانی میں کرایہ کےمکان مملوکہ جودھا دھوبی میں قائم ہوا۔
محمود دیوبندی صاحب ساکن پورہ معروف کاقیام پورہ دلہن میں مولوی الٰہی بخش کےوہاں تھا۔ مولوی صاحب موصوف مسلکاً دیوبندی تھے۔ ابتداءً تو وہ تمام سنی معمولات بجالاتے رہے لیکن ہردم کی صحبت اوربات چیت سے مولوی الٰہی بخش اورطیب گرہست وغیرہ ارکان مصباح العلوم پر اثر انداز ہوچکے تھے اورمدرسہ کےطلبہ میں بھی اپنے خیالات کی اشاعت شروع کردی تھی۔ اپنی کسی مجلس میں مولوی محمود مولوی شکراللہ اور مولوی نعمت اللہ نے امکان کذب کامسئلہ بیان کیا اور اپنا عقیدہ ظاہر کیاکہ خدا جھوٹ بول سکتاہے۔
اس وقت کےایک طالب علم ٘ محمود شاہ نے ان لوگوں کےفاسق وبددین ہونے کاتحریری فتویٰ دیا جس کی شکایت ارکان مدرسہ کے پاس پہنچی ۔ طیب گرہست نے معاملہ کی تفتیش مولوی نور محمد صاحب مرحوم کے سپر د کی لیکن پھر قضیہ کواپنے ہاتھ میں لے کر محمود شاہ کومدرسہ سے خارج کردیا۔
طیب گرہست کایہ اقدام پورے قصبہ میں آگ لگادینے کےلیے کافی تھا چناںچہ ایک عام شورش اورعوام کے شدید ہیجان کےنتیجے میں کمیٹی میں نیاخون شامل ہوا۔ اوربد لومیاں، حافظ محمدابراہیم مرحوم سابق متولی
[یہ ہمارے خاندان کے فردہیں ، ہمارے دادا (جناب عبد الکریم بن محمد اسحق مرحوم) کے دادا ، جمن خلیفہ مرحوم تین بھائی تھے، ایک بھائی مبارک پور آکر مستقل آباد ہوگئے،اُسی خاندان سے حافظ محمد ابراہیم علیہ الرحمہ ہیں، وہ تاحیات اشرفیہ کے متولی اور رکن رہے، ۱۹۶۷ یا ۱۹۶۸ ءمیں انتقال ہوا ، ۱۱بجے دن میں جنازہ تھا، حافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم پر دارالعلوم اشرفیہ میں چھٹی کردی گئی ، اور تمام اساتذہ و طلبہ اُن کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ ہمارےوالد مرحوم اور بھائی جان قبلہ جنازہ میں شریک تھے، اُس وقت بھائی جان اشرفیہ میں زیر تعلیم تھے۔احمدالقادری (بروایت برادر گرامی حضرت علامہ محمداحمد مصباحی، ناظم تعلیمات ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور ]
حاجی خیراللہ مرحوم سابق متولی دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم ،ممبران کےزمرے میں داخل ہوئے۔
ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ طیب گرہست ایک شاطر مدبر تھے، چناں چہ انھوں نے منہ بھرائی کےلیے عوام کےکچھ نمائندے تو کمیٹی میں رکھ لیے ،لیکن درپردہ اسی کوشش میں رہے کہ نئے مذہب کوفروغ ،اورمذہب اہل سنت وجماعت کا استیصال ہوجائے اور اس کے لیے حالات یوں ساز گار ہوگئے کہ اسی دوران میں ہندوستان کےسیاسی بازی گروں نے یہاں بیٹھ کرخلافت اسلامیہ کی بقا وتحفظ کاجہاد شروع کردیا اور سارے ہندوستان میں چندہ جمع کرکے قسطنطنیہ بھیجنے لگےاور جنگ بلقان کے سلسلہ میں ترکی کی مدد کرنے کا نام ہورہاتھا۔ مبارک پور کی گلی گلی میں:
بولیں اماں محمدعلی کی
جان بیٹا خلافت پر دے دو
یہاں کی بہو بیٹیوں کے گلے اورہاتھ کے زیوراُ تررہے تھے ۔ اس اثنا میں بقرعید کے موقع پر چرم قربانی کی رقم لگ بھگ سات سو روپیے مدرسہ کے فنڈ میں جمع ہوئی۔ اس موقع پرمدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی (کی میٹینگ)ہوئی۔ طیب گرہست نے یہ تجویز رکھی کہ اس وقت خلافت وقوم کی بقا ،مدرسہ کےتحفظ سے زیادہ اہم ہے اس لیے مدرسہ فی الحال موقوف کیاجائے اور اس کی ساری رقم بھی” سمرنافنڈ“ میں بھیج دی جائے۔ خلافت کےنشہ میں پوری قوم سرشار تھی ہی! تجویز باتفاق آرا پاس ہوئی اورمدرسین اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ کچھ دنوں کےبعد یہ صاف نظرآنے لگا کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اورمولوی محمود (دیوبندی)حسب دستور پڑھارہے ہیں۔
سابق متولی حاجی خیراللہ صاحب دلال مرحوم کابیان ہے کہ میں، حافظ محمدابراہیم، بابوسردار اورمیاں جی بدلونے جب یہ دیکھا تو ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، کیوں کہ جیساہرجگہ ہوتاہے یہاں بھی شیطان دولت کے گنبد پرانڈا دےچکاتھا۔ ثروت، گمرہی کے خانے میں منظم ہوچکی تھی اور یہاں کا سرمایہ دار طبقہ مولوی محمود صاحب(دیوبندی) کے فیور میں تھا۔ ہم چاروں نے طیب گرہست سے پوچھا آخر مدرسہ کے اختتام کی تجویز کیاہوئی؟ انھوں نےکہابحال ہے! ہمارا سوال تھا پھر مولوی محمود صاحب کیسے پڑھارہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا مولوی الٰہی بخش صاحب وغیرہ نے نجی طور پرانھیں روک لیاہے۔
اگرتم میں سکت ہوتو تم بھی اپنے طور پر اپنے مولویوں کوبلواکر تعلیم دلواسکتے ہو۔ ہم نے دیکھا ہم خود ہی لاعلمی میں اپناگلا کاٹ چکے تھے اور حریف خوش تھا کہ ان محتاجوں سے کیا ہوسکے گا؟
ہم لوگ یہ جواب سن کر قصبہ کے زمیندار اور رئیس شیخ عبدالوہاب گرہست کے پاس گئے اوران سے سارا ماجرا بیان کیا، یہ خوش عقیدہ آدمی تھے اور مولوی ٘محمود صاحب(دیوبندی) سے کچھ ایسا متاثر بھی نہ تھے انھوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اورہمیں اسی کی ضرورت تھی چناں چہ ہم نے متوکلاً علی اللہ مولوی محمدصدیق صاحب گھوسوی مرحوم ومغفور اور مولوی نور محمد صاحب مرحوم پیش امام جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کی خدمات حاصل کیں۔
مدرسہ کی اپنی نجی عمارت توتھی نہیں، اس لیے پہلی جگہ دونوں فریق میں سے کوئی بھی نہیں پہنچا ہماری اس جدوجہد میں چوں کہ سابق الذکر مولوی محمدعمر صاحب سبزی فروش بھی شامل تھے ،جوشاہ عبداللطیف صاحب ستھنی رحمۃ اللہ علیہ سے مرید تھے اورہم سب لوگوں کوحضور مخدوم اشرف جہاں گیر رضی اللہ عنہ کے سلسلے سے تعلق تھا، اس لیے ہم نے اپنی اپنی عقیدت کے اظہار کےلیے مدرسہ کےسابق نام پرمزید دوحرفوں کااضافہ کیا اوراب پورانام مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم ہوا یہ حادثہ ۱۳۲۹ھ کاہے۔
آمدنی کےسارے ذرائع مثلا کوڑی(گولک وغیرہ) پرمبارک پور کےسرمایہ دار(محمود گروپ) ہی چھائے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کس مپرسی کےعالم میں اس کے علاوہ اور کیاہوسکتاتھا کہ مدرسہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کےدن گزار رہاتھا بالکل خانہ بدوشانہ انداز میں، اِس مسجد سے اُس دالان میں، اوراُس دالان سے اِس برآمدے میں ،اِس برآمدہ سے اُس مکان میں، اُس مکان سے فلاں دوکان میں منتقل ہوتا رہا اور یہی حال اس میں علما کی آمد ورفت کابھی رہا —- مولانا صدیق صاحب علیہ الرحمہ کےوصال کے بعد ان کے شاگرد مولوی عبدالحئی اورمولی محمدیحییٰ صاحبان کام چلاتے رہے پھر مولانا عبدالسلام صاحب شاگر د مولانا محمدصدیق صاحب صدرالمدرسین ہوئے۔ ان کے بعد مولانا عبدالمنان صاحب گیاوی مقرر کیے گئے۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد مولانا اکرام الحق صاحب گنگوہی نے مسند صدارت سنبھالی پھر مولوی انیس احمد صاحب سریر آرائے درس رہوئے۔ اسی طرح تقریباً بارہ سال کی مدت میں چھ مدرس آ جا چکے تھے۔
مولانا محمدصدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد اس مدرسہ نے ایک دفعہ غیر معمولی ترقی بھی کی ،جب کہ اس کی دومنزلہ پختہ عمارت مولوی محمدعمر صاحب سبزی فروش کی کوشش سے وہیں تعمیر ہوئی تھی،جہاں اب دیوبندی جامع مسجد ہے (آج سے چالیس سال قبل اس مدرسہ کاشمالی مشرقی کونہ باقی تھا جسے میں نے خود دیکھاہے) کسی وجہ سے اس عمارت کابھی یہاں کے عام سنیوں نے بائیکاٹ کیا اوراسی چپقلش میں مدرسہ کےلطیفیہ کالفظ بھی علیحدہ کردیاگیا اوراب صرف مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم رہ گیا اور مدرسہ اسی سابقہ خانہ بدوشانہ زندگی پر قانع رہا جوابتداسے ہی اس مدرسہ کاطرۂ امتیاز تھا۔ تا آنکہ ۱۳۴۱ھ میں رئیس قصبہ جناب عبدالوہاب صاحب نے محلہ پرانی بستی میں ایک خام دومنزلہ عمارت مدسہ کے لیےمخصوص کردی اور تھکے ماندے مسافر کو گویا ایک منزل مل گئی۔
اسی دوران میں مولوی شکراللہ صاحب دیوبند سے فارغ ہوکر آچکے تھے۔ لوگوں میں نیاخون ، دل میں جوان عزائم اورمزاج میں لیڈری کاشوق، بڑی شدومد کےساتھ انھوں نے مبارک پور کو نئی ریت میں بدلنے کاپرشوراقدام کیا، صاحب ثروت کم، ذی اثر زیادہ تھے، اوردولت مند گروپ بھی انھیں کی طرف تھا۔ بہت جلد ہی یہ محسوس ہونے لگا کہ مبارک پور ایک نئے مذہبی دور میں داخل ہونے والاہے۔
مدرسہ الگ ہونے کے باوجود جمعہ ایک ہی جگہ راجہ مبارک شاہ علیہ الرحمہ کی مسجد میں سنی امام حضرت مولانا نور محمد صاحب علیہ الرحمہ کی امامت میں ہوتاتھا لیکن مولوی شکراللہ صاحب موصوف نے کمال عجلت سے اپنا جمعہ علیحدہ کرلیا۔
معدودے چندپرانے خیال کے خوش عقیدہ مسلمان یہ صورت حال دیکھ کر گھُٹ رہے تھے۔ مدرسہ اشرفیہ زندہ ضرور تھا مگر مردہ سے بد تر، امید ٹوٹ چکی تھی اورمستقبل بھیانک ہورہاتھا کہ تاریکیوں میں نور کی کرن جگمگانے والے پرورد گار نےغیب سے انتظام کردیا۔
مبارک پور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دنیاوی سربراہی بھی دینی قیادت کےساتھ چلتی ہے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کتنے افراد مبارک پور کے افق پرآفتاب وماہتاب بن کرچمکے مگر یہ ساری چمک دمک اسی وقت تک رہی جب تک وہ مذہبی قیادت بھی کرتے رہے، جہاں مذہبی سرگرمیوں سے دل چسپی کم ہوئی ،دنیاوی حیثیت سے بھی ایک دم بجھ گئے بلکہ ختم ہوگئے۔
ہوایہ کہ عبدالوہاب صاحب گرہست کاگھرانہ پورے قصبہ میں ممتاز اورپورے ضلع میں ممتاز مسلم گھرانہ تھا اورپورے قصبہ کی سربراہی بھی تقریبا اسی گھر انے کی میراث تھی۔ مولوی شکراللہ صاحب کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں اب سیاسی رہنمائی کامرکز ثقل بھی بدل رہاتھااس لیے اس خاندان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنےکےلیے نہایت ضروری تھا کہ عوامی رابطہ کی طرف توجہ دی جائے۔ ادھر قصبہ کے غربائے اہل سنت مولوی شکراللہ صاحب کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر اپنی کمزوری کی بنیاد پراس امر کی سخت ضرورت محسوس کرتے تھے کہ کسی مضبوط قیادت کےذریعہ مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم کی بقا اورترقی اور مذہب اہل سنت وجماعت کے استحکام کو حتمی بنایاجائے۔ الغرض مبارک پور کے سنیوں کوایک لیڈر کی ضرورت تھی جن کی رہنمائی میں یہ لوگ چلیں۔ اس طرح مبارک پور کی سنیت اورمدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم فریقین کے لیے نقطہ اتحاد ثابت ہوا۔ اورحسن اتفاق سے اس خاندان سے جوفرد اس کام کے لیے آگے بڑھا وہ نہایت جری، انتہائی ہوش مند، پرجوش اور متہوّر میری مراد” مرحوم محمد امین صاحب گرہست انصاری“ سے ہے جن کی شعلہ بیانی اور پرجوش قیادت نےتقریباً چوتھائی صدی پورے مبارک پور کوزندہ اور متحرک رکھا۔
افسوس! آج مرحوم ہم میں نہیں، مگر ان کے زریں کارنامے مبارک پور کی پیشانی پرسنہرے حروف سے لکھے ہوئے ہیں۔ ہم دست بدعاہیں مولیٰ عزوجل ان کی روح کوسکون بخشے اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ ہم اُن کواپنے جذباتِ احترام پیش کرتے ہیں کہ مبارک پور میں گرتی ہوئی سنیت کوسنبھالا بلکہ عروج وارتقاء بخشنے والوں میں ان کانام بھی سرفہرست ہے۔
آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گل کی نگہبانی کرے
۱۳۴۴ھ کے لگ بھگ جناب جناب محمدامین صاحب مدرسہ کےہی نہیں، پورے قصبہ کے سنیوں کے بھی، صدر قرار پائے۔ مدرسہ کےانتظام میں استقلال پیدا ہوتے ہی، اس کے مدرسوں میں بھی قیام وثبات پیدا ہوگیا۔ اور ۱۳۴۶ھ میں مولانا شمس الحق صاحب ساکن گجہڑہ ضلع اعظم گڑھ کاتقرر بمشاہرہ بیس روپے ماہانہ بعہدہ صدر مدرسی ہوا۔ موصوف تھے توفاضل دیوبند ،لیکن مسلسل چھ سال تک نہایت خوش اسلوبی سے مدرسہ کو فارسی اور ابتدائی عربی تک باقی رکھا انھیں کی کوشش سے مولانا علی احمد صاحب، مولانامحمدمحبوب صاحب اشرفی، مولانا محمدحاتم صاحب، مولاناحفیظ الدین تعلیم پاکر اس لائق ہوئے کہ مزید تعلیم وتکمیل کےلیے بریلی، میرٹھ، امروہہ وغیرہ دور دراز مدارس اہل سنت میں گئے اورمدرسہ کےمذہبی کردار پر بھی مولانا نےآنچ نہ آنے دی۔ گویا
پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے
اس وقت بھی صدر کمیٹی محمدامین انصاری مرحوم ہی تھے اورورکنگ کمیٹی میں حسب ذیل افراد کےنام دستیاب ہوسکے ہیں:
(۱)حاجی غلام رسول
(۲)حاجی پھیکو صباغ(یہ نہایت دین دار اورحد درجہ امین تھے اور مدت العمر مدرسہ کے خازن رہے)۔
(۳) حاجی عبدالسبحان صاحب سوت والے
(۴)حاجی محمدعثمان صاحب پورہ رانی۔
(۵)قیاس یہ ہے کہ حاجی خیراللہ دلال متولی
(۶) اور(حافظ)محمدابراہیم صاحب متولی بھی ضرور ممبررہے ہوں گے۔
یہاں یہ بات جان لینی بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگی کہ خاندان اشرفی سے رابطہ کی وجہ سے مبارک پور کی سنیت کاتعلق پورے ہندوستان کی سنیت سے قائم اور زندہ تھا، بلکہ ہندوستان کے مقتدر علما ےاہل سنت اس کے نگراں، مربی اورسرپرست تھے، سب سے قدیم روداد جو دستیاب ہوسکی ہے، اس میں تحریر ہے:
”دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم “ اٹھائیس سال سے (۱۴۴۳ھ میں قریباً۱۱۴ سال سے)تعلیمی اور تبلیغی خدمات انجام دے رہاہے جس کے سرپرست شمع شبستان غوثیت حضرت مولاناشاہ ابوالمحامد ،سید محمدصاحب کچھوچھوی دامت برکاتہم وعلامہ زمن، خاتم الفقہا حضرت صدرالشریعہ مولانا شاہ امجد علی قبلہ دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔(رودا د دارالعلوم اشرفیہ،مبارک پور، ۱۳۵۶ھ۔ ۱۳۵۷ھ ص:۴)
اس وقت بھی یہاں کاسالانہ جلسہ پورے علاقہ میں مشہور تھا اور مشاہیر علماے اہل سنت یہاں تشریف لاتے تھے۔ مثلاً شیخ المشائخ اشرفی میاں علیہ الرحمہ، ان کے خلف ارشد مولانا سید احمداشرف عرف بڑے مولاناصاحب، نواسے حضرت محدث اعظم ہند مولاناسید محمدصاحب اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ، حضور صدرالشریعہ حضرت مولانا شاہ محمدامجد علی صاحب، حضرت مولانا محمدفاخر صاحب الٰہ آباد ی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہم۔
آخر وہ دن بھی قریب آگئے کہ مبارک پور کورحمت الٰہی کی بجلیوں نے اپنانشیمن بنایا ۔ کچھ تو مولوی شکراللہ صاحب کی مسلسل جارحیت کےرد عمل میں، کچھ مدرسہ کی حالت کے یک گونہ استحکام کے نتیجے میں اورکچھ جماعت اہل سنت میں بھی مقامی علماء(مثلاً مولاناحفیظ اللہ صاحب قریشی رضوی علیہ الرحمہ وغیرہ) کےپیدا ہوجانے کی وجہ سے یہاں کے سنیوں میں زندگی کی نئی حرارت پیدا ہوئی اور مدرسہ کومزید ترقی دینے کاخیال رو نما ہوا جسے یہاں کے ارکان نے اپنے سرپرستوں کی خدمت میں رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴؍ویں صدی کی دوسری دہائی میں کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور شیخ حضرت مولانا سید شاہ علی حسین صاحب (اشرفی میاں) رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ایک دینی مدرسہ بنام”مدرسہ مصباح العلوم “ قائم کردیا۔
(مفتی عبدالمنان اعظمی (علیہ الرحمہ): مضمون، مدرسہ اشرفیہ سے الجامعۃ الاشرفیہ تک، مشمولہ ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور ، شمارہ مئی ،جون، جولائی ۱۹۸۴ء)
[ماخوذحیات حافظ ملت ص۶۴۶ تا۶۵۵ ]
جناب مہتاب پیامی صاحب مبارک پور کی زبان اور تاریخی عمارتوںکے سلسلے میں رقم طراز ہیں
مبارک پور کی ایک مخصوص عوامی بولی ہے، اس بولی سے قطع نظر عام طور پر اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے والے افراد نظر آتے ہیں۔ اردو کی صورت حال یہاں کافی بہتر ہے اور اردو بولنے والے افراد ۹۵ فی صد ہیں۔اردو کے فروغ میں یہاں موجود مدارس و مکاتب کا کافی اہم کردار ہے ، یہاں کے مدارس کا ذریعہ تعلیم اردو ہے جس کے سبب طلبہ کی ایک بڑی تعداد، اردو سے واقف ہوتی ہے۔اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہل مبارک پور کی خدمات لائق تحسین ہیں۔
مبارک پور ایک قدیم صنعتی بستی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کئی ایک تاریخی عمارتیں بھی موجود ہیں۔یہاں کی تاریخی عمارتوں میں جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کافی اہم ہے۔ یہ مسجد راجہ مبارک شاہ کے زمانے سے ہنوز آباد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راجہ مبارک شاہ اس مسجد میں نمازِ جمعہ کی امامت کیا کرتے تھے۔ دوسری قدیم عمارتوں میں عید گاہ حیدر آباد اور شاہ کا پنجہ حیدر آباد وغیرہ ہیں جو صدیوں پرانی ہیں ۔ لاہوری اینٹوں اور چونے سے بنی ہوئی یہ عمارتیں مغلیہ عہد کی یاد گار ہیں۔ عید گاہ حیدر آباد میں اب بھی عید ین کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ شاہ کا پنجہ نامی عمارت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پنجۂ مبارک کا نشان محفوظ ہے۔ یہ کس طرح مبارک پور پہنچا اس کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہے۔البتہ عمارت کے گنبد اور طرزِ تعمیر سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ بھی مغلیہ دور کی یادگاریں ہیں، ان میں وقتاً فوقتاً تعمیراتی مرمت کے کام کیے جاتے رہے ہیں۔
ایک اہم اور قابلِ ذکر تاریخی عمارت قدم رسول (ﷺ)ہے جو مبارک پور کے قلب میں واقع ہے۔ یہ عمارت مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں تعمیر کی گئی۔
مغلیہ دور کی ایک اور یادگار عمارت معروف بہ شاہی مسجد موضع گجہڑا میں واقع ہے ۔ مبارک پور کی یہی قدیم ترین آبادی بھی ہے۔ اس کا ابتدائی نام جو ہندو مذہب کی مذہبی کتابوں اور بدھ مذہب کے لٹریچر میں ملتا ہے وہ ہے ’’گجی ہارا‘‘۔ گجی ایک قسم کا کپڑا ہوتا تھا جو ہاتھ سے بنا جاتا تھا۔ دو ہزار سال قبل یہاں اس کپڑے کی بنائی ہوتی تھی شاید اسی وجہ سے اسے گجی ہارا جاتا تھا۔ ’’گجی ہارا‘‘ نامی بستی امتدادِ زمانہ کے باعث ترقی کے دوڑ سے پیچھے ہو چکی ہے۔ اِن دنوں اسے گجہڑا کہا جاتا ہے۔
عہدِ شاہجہانی میں یہ علاقہ کفرستان تھا سب سے پہلے سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولادوں میں سے حضرت سید کمال الدین عرف بندگی شاہ کمال تبلیغِ دین کے لیے گجہڑا تشریف لائے۔ آپ کے صاحب زادے محمد صالح جو حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں تھے، انھوں نے یہاں کی شاہی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا۔ مسجد چونے اور لاہوری اینٹوں سے بنی ہوئی
ہے، اور طرزِ مغلیہ طرزِ تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ مسجد کے تین گنبد ہیں، درمیانی گنبد بڑا ہے۔ مسجد کے بیرونی دروازے کے اوپر سنگِ موسیٰ کا ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ جس پر ابھرے ہوئے حرفوں میں قطعہ کندہ ہے۔ اس قطعہ سے اس کا سنِ تعمیر ۱۰۹۹ھ معلوم ہوتا ہے۔
گجہڑا کی یہ شاہی مسجد آج بھی مولانا سید انیس الحق صاحب کے تولیت میں محفوظ ہے۔ آپ حضر ت بندگی شاہ کمال کے خاندان سے ہیں۔
(بہ شکریہ ،آزاد دائرۃ المعارف، اردو ویکی پیڈیا، ملخصاً و تصرفاً)
مبارک پور کی چنداہم عمارتیں
قدم رسول : غالباً شاہ جہانی دور کی یادگارہے۔
الجامعۃ الاشرفیہ: (عربی یونیورسیٹی)سنگ بنیاد۱۳۹۲ھ ۱۹۷۲ء۔ افتتاح ۱۳۹۳ھ۱۹۷۳ ء
روضہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ:الجامعۃ الاشرفیہ؍عربی یونیورسیٹی( ولادت ۱۳۱۲ھ۱۸۹۴ء ، وصال یکم جمادی الآخرہ ۱۳۹۶ ھ ، ۳۱؍ مئی ۱۹۷۶ ء)
دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم: باغ فردوس ۱۳۵۳ھ، گولہ بازار۔
مدرسہ اشرفیہ (پرانا مدرسہ): پرانی بستی، تعمیر جدید ۱۴۱۲ھ؍ ۱۹۹۱ء
اشرفیہ انٹرکالج: بمقام انجمن اشرفی دارالمطالعہ
المجمع الاسلامی: ملت نگر ، مبارک پور۔ یہ تصنیف و اشاعت کا ایک عظیم قومی ادارہ ہے
مبارک پور کی مساجد
یہاں الحمدللہ مساجد کی بھی خوب کثرت ہے ایک ایک محلہ میں کئی کئی مسجدیں ہیں جوقصبہ کی دینداری اور مذہبی لگاؤ کی طرف واضح اشارہ دیتی ہیں، نمونۃً چند مساجد کے نام حسب ذیل ہیں۔
شاہی مسجدگجہڑا: ۱۰۹۹ھ بزمانہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ (مسجد کے باہرحضرت سید کمال الدین شاہ بغدادی علیہ الرحمہ کا مزار مبارک ہے)
عزیز المساجد: الجامعۃ الاشرفیہ (یونیوسیٹی) مبارک پور، یہ اس علاقے کی سب سے بڑی، نئی خوبصورت جامع مسجد ہے
جامع مسجد راجہ مبارک شاہ:پرانی بستی،متعلقہ الجامعۃ الاشرفیہ۔(تعمیر جدید ۱۳۷۰ ھ ۱۹۵۱ء)
عید گاہ ، شاہ کا پنجہ، حیدر آباد: صدیوں پرانی تاریخی مسجد ہے۔
عید گاہ علی نگر: یہ قدیم تاریخی مسجد ہے
قادری جامع مسجد: علی نگر
عزیزی جامع مسجد: علی نگر
مسجد حافظ ملت (مسجد کمال بابا:پرانی بستی، اسی مسجد میں حافظ ملت علیہ الرحمہ ، نماز ادا فرماتے تھے ،اور اُنھیں کے نام سے یہ مسجدمشہور ہے۔
مسجد برکات: پرانی بستی
کنگرہ مسجد :پرانی بستی، یہ مسجد حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کے پڑوس میں ہے، جب وہ رہتے، اسی کنگرہ والی مسجد میں نماز ادا فرماتے۔
مسجد بلال :لال چوک، پرانی بستی
مدینہ مسجد: لال چوک، کھجوا،پرانی بستی
مسجد عائشہ صدیقہ: کھجوا ،پرانی بستی
مسجد سبزی منڈی :گولہ بازار
مسجد نادرجی : پورہ خواجہ، حضرت ممتاز العلما علیہ الرحمہ جب رہتے تو اسی مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
مسجد طیبہ :پورہ خواجہ
مسجد اعلی حضرت :کٹرہ
جامع مسجد: کٹرہ
مسجد حفصہ: کٹرہ
مسجد غوث الوری :نئی بستی ،کٹرہ
مسجد عمر فاروق :پورہ دیوان
جامع مسجد مبارک بابا: پورہ رانی
مسجد غوثیہ :پورہ رانی
جامع مسجد بیلوریا: پورہ صوفی
مکہ مسجد :پورہ صوفی
مدینہ مسجد: پورہ صوفی
پانا شاہ مسجد : پورہ صوفی
جامع مسجد سبحانی: حیدرآباد
جامع مسجد صدیق اکبر:پورہ دولھن، متعلقہ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور
جامع مسجد: پورہ باغ
جامع مسجد عائشہ: حیدرآباد
جامع مسجد بیت المکرم: نیا پورہ،
وغیرہ
مبارک پور کی چند مشہور انجمنو ں کے نام
۱۔انجمن اہل سنت و اشرفی دار المطالعہ: (قیام ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء)یہ دارالعلوم اشرفیہ کے طلبہ کی قائم کردہ سب سے قدیم انجمن ہے، اسی انجمن کے زیرِ اہتمام مبارک پور میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلسہ وجلوس کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔
۲۔انجمن رحمانیہ:پرانی بستی
۳۔انجمن غوثیہ: پرانی بستی
۴۔ انجمن مظہر حق: علی نگر
۵۔انجمن اسلامیہ:لال چوک ، پرانی بستی
۶۔انجمن فیضان عزیزی:پورہ خواجہ
۷۔ انجمن مظلومیہ: پورہ خضر
۸۔انجمن رونقِ اسلام:پورہ باغ
۹۔انجمن ملتِ اسلامیہ: پورہ صوفی
۱۰۔انجمن اخلاقیہ: حیدرآباد
۱۱۔ انجمن تنویر الاسلام: نیا پورہ
۱۲۔انجمن عزیزیہ: پورہ صوفی
۱۳۔انجمن گلزارِ مصطفی: پولیس چوکی
۱۴۔انجمن غنچۂ ہاشمیہ: پورہ صوفی
۱۵۔تنظیم ادب:کٹرہ
۱۶۔انجمن فروغِ اسلام: پورہ دیوان
۱۷۔انجمن باغِ رسول: گولہ بازار
۱۸۔انجمن باغِ فردوس: گولہ بازار
۱۹۔انجمن فیضان مصطفی: پورہ دیوان
۲۰۔انجمن قادریہ: علی نگر
۲۱۔انجمن اظہار اشرف: پورہ صوفی
۲۲۔انجمن گلشنِ رضا: پورہ دولھن
وغیرہ۔
چند اسپتالوں کےنام
سرکاری اسپتال: مبارک پور
اشرفیہ ہاسپیٹل: جامعہ اشرفیہ (یونیورسیٹی)
اسلامیہ ہاسپیٹل :(یتیم خانہ) پورہ ، خضر
محمدی ہاسپیٹل:کٹرہ
صبا ہاسپیٹل :سمودھی ،نیا پورہ
وغیرہ
دعا ہےکہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کا یہ علمی نگر شاد وآباد رہے اوراللہ عزوجل مسلمانان مبارک پور کو خوش حال وسلامت رکھے ۔ آمین ،بجاہ حبیہ سید المرسلین، علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
مآخذ و مراجع
ذاتی مشاہدات
زبانی معلومات ازجناب حافظ ہلال احمد صاحب، پرانی بستی و دیگر احباب
حیاتِ حافظ ملت
ماہنامہ اشرفیہ، مبارک پور
مناقبِ غوثی
تذکرہ ٔعلمائے مبارک پور
آزاد دائرۃ المعارف ، اردو ، ویکی پیڈیا
دیگرانٹر نیٹ ؍ ویب سائٹس

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

فلسفہ کیا ہے ؟ از احمد القادری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ ربِّ العٰلَمین ، والصّلٰوۃ والسّلام علی سیِّد الانبیآء والمرسلین ، وعلی آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

احمد القادری

فلسفہ اوراس کی شرعی حیثیت

فلسفہ لغۃً حکمت، مسائل علمیہ میں غور وفکر اوراصطلاح میں، انسانی طاقت بھر موجودات کےاحوال کاعلم۔
جوجتناہی زیادہ اشیا کا جانکار ہوگا،وہ اتناہی بڑا حکیم اور فلسفی ہوگا۔ حکمت ودانائی خداوندبرترنے انسان کے اندر ودیعت رکھی ہے۔ اور جب سے بنی نوع انسان موجود ہیں اسی وقت سے فلسفہ وحکمت بھی ہے۔ اوریہ علم سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کوعطا کیاگیا۔ ارشاد ربانی ہے:
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا (البقرہ،۲،آیت:۳۱)
رب نے آدم کوتمام اشیا کے نام سکھادیے۔
پھرانسان کوعلومِ انبیا وراثت میں ملے۔ توجس نے جتنا محفوظ کیا اوراس میں نظر وفکر سے کام لیا، وہ اتناہی بڑا حکیم ہوا۔اس نظر وفکر میں بعض غلط راہ پر بھی لگ گئے ،اس لیے اختلاف پیدا ہوا۔
پہلے یہ علوم مدوّن نہیں تھے اور نہ ان کی اصطلاحات موضوع تھیں۔ اس میں اہل یونان نےپہل کی، اس لیے وہ موجد کہلائے۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں، ان کے اندر فلسفہ سے دلچسپی زیادہ بڑھی اور انھوں نے اس کی تدوین کی، اس لیے اس فلسفہ کو فلسفۂ یونانی کہاگیا اور یونان کواس کا مرکز تسلیم کرلیاگیا۔
فلسفہ کادَور ِاوّل
یونانی فلسفہ کابانی طالیس ملیطی، (ولادت:۶۴۰؍ ق م- وفات ۵۴۸ ق م) کو کہاجاتاہے۔ اساطین حکمت میں ابیذقلس، فیثاغورس (۵۷۶-۴۹۶ ق م) کےبعد سقراط (۴۷۰- ۴۰۰ ق م) افلاطون (۴۲۸-۳۴۸ ق م) اور ارسطو (۳۸۴- ۳۲۱ ق م) کوشمار کیاجاتاہے۔ آخرالذکر ہی نے علم منطق سکندررومی کےحکم سے ،فلسفہ سے الگ کرکے تدوین کیا، اس لیے وہ معلم اوّل کےلقب سے مشہور ہوا۔ ارسطو کےبعد بھی یونان میں عرصہ تک فلسفہ کا عروج رہا۔ اور بہت سے فلاسفہ پیداہوئے۔ لیکن جب یونانی حکومت زوال پذیر ہوگئی، رومی یونان پرغالب ہوگئے اورانھوں نے دین مسیحی قبول کرلیا، تب شرعاً فلسفہ پرپابندی لگادی گئی اورہرایک کواس کےسیکھنے سکھانے سے منع کردیاگیا۔شاہ قسطنطین نے تمام یونانی کتابیں جمع کرکے ایک بڑے کمرے میں مقفل کردیں۔( تاریخ اسلام)
دَورِ دوم
مدتوں فلسفہ کی تعلیم بند رہی۔ جب اسلام کا عروج ہوا ،اور مسلمانوں نے قرآن وحدیث کے علاوہ دوسرے علوم کی طرف بھی توجہ کی ، تو قسم قسم کے علوم اختراع کیے۔ اورانھیں تکمیل تک پہنچایا۔ مثلاً اصول تفسیر، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، نحو، صرف، بلاغت، عروض وقوافی، تاریخ، فرائض، کلام، تصوف وغیرہ۔
ان کو علوم کی طرف بڑھتی ہوئی یہی دلچسپی معقولات کی طرف بھی کھینچ لائی۔ ان میں اول خالد بن یزید بن معاویہ ہیں جنھوں نے علوم فلسفہ، یونانی زبان سے عربی میں منتقل کیے۔ بنی عباس کےدورِ خلافت میں اس کی ترقی شروع ہوئی۔ مامون (۱۹۸- ۲۱۸ھ) نےبھر پور اس پر توجہ صرف کی اورفلسفہ کوبام عروج تک پہنچایا۔(تاریخ اسلام )
اس نے ایک بار قیصر روم کے پاس لکھا کہ فلسفہ کی تمام کتابیں میرے پاس بھیج دو۔ قیصر نے تلاش شروع کی توایک خانقاہ نشین راہب نے پتابتایا کہ فلاں مقام پرایک مقفل مکان ہے، جس میں قسطنطین نے تمام یونانی کتابیں بند کرادی تھیں، پھر راہب سے مسلمانوں کےپاس کتابیں بھیجنےکےبارے میں شرعی حیثیت پوچھی تو تجربہ کار راہب نےجواب دیاکہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ثواب ملے گا، کیوں کہ یہ چیزیں جس مذہب میں داخل ہوئیں اس کی بنیادیں ہلادیں، چناں چہ مقفل خزانہ کھولا گیا، اس میں بےشمار قدیم یونانی کتابیں نکلیں ،وہ سب مامون کے پاس بھیج دی گئیں۔( تاریخ اسلام)
مامون نےان کا ترجمہ کرانا شروع کردیا۔ ترجمہ کرنے والے کومترجَم کتاب سے تول کرسونادیتا۔ اس کی اس قدر دانی نےاس انحطاط پذیر بلکہ قدیم وبوسیدہ فلسفہ کوپھر سے شباب بخش دیا۔
دَورِ سوم
چوں کہ بہت سے مترجمین نے مل کران کتابوں کاترجمہ کیا تھا اس لیے ان میں باہم بڑا اختلاف تھا، خلیفہ منصور بن نوح سامانی نے عظیم فلسفی فارابی (م ۳۳۹ھ) سے ان کی تلخیص وتہذیب کی فرمائش کی۔ فارابی نےان کتابوں کوسامنے رکھ کرایک نئی کتاب ”تعلیم ثانی“ ترتیب دی، اس لیے اسےمعلم ثانی کہاجاتاہے۔اب یہی کتاب فلسفہ کامرجع ہوگئی۔ فارابی مسلمانوں میں سب سے بڑا فلسفی گزرا ہے۔
سلطان مسعود کےزمانہ میں ایک بار” کتب خانہ“ میں آگ لگ گئی۔ بہت سی کتابوں کےساتھ تعلیم ثانی بھی جل گئی۔ اب شیخ بوعلی سینا (م ۴۲۸ھ) نے ”شفا“ لکھی جوآج منطق وفلسفہ میں سب سے بڑے درجے کی کتاب مانی جاتی ہے۔ شیخ بہت ذہین تھا جوبھی کتاب ایک بار دیکھ لیتا اسے حرف بحرف زبانی یاد ہوجاتی۔ اس کی ”شفا“ تعلیم ثانی کاخلاصہ ہے۔ لہذا شیخ کو معلم ثالث کہاگیا۔
اس کے بعد بھی مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے فلاسفہ پیدا ہوئے اورانھوں نے بےشمار کتابیں تصنیف کیں۔
دَورِچہارم
جب زمانۂ خلافت ختم ہوگیا، مسلمانوں کی حکومتیں متزلزل ہوگئیں، علم وتمدن اس سے عہدہ برآنہ ہوسکے،فلسفہ بھی انحطاط پذیر ہوگیا۔ یہاں تک کہ اہلِ اسلام سے علومِ حکمت اُٹھ کر اہل مغرب میں چلے گئے، انھوں نے ان کو خوب ترقی دی۔ فلسفۂ قدیمہ کےاندر ریسرچ کی۔ اس کی بہت سی باتوں کوصحیح اورکچھ اقوال غلط ثابت کرکے نئی تحقیق کی۔ اوراس کانام فلسفۂ جدید یا سائنس رکھا۔
آج علم حکمت ان کے یہاں انتہائی عروج وکمال کی منزلیں طے کررہاہے۔ اور ہمارے یہاں اپنی غریبی، مفلسی، اور ناقدردانی کا رونا رورہاہے۔
فلسفہ کی شرعی حیثیت
شرعی اعتبار سے فلسفہ کی تین قسمیں ہیں:
(۱) شریعت کے مخالف (۲) شریعت کے موافق (۳) اس کے موافق نہ مخالف۔
حجۃ الاسلام امام غزالی نےجوعلوم عقلیہ ونقلیہ دونوں کے جامع تھے اپنی تصنیف ”المنقذمن الضلال“ میں اس تعلق سے جو لکھاہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
ارسطو کےمباحث جوہم تک پہنچے ہیں ہم انھیں تین قسموں پرمنقسم کرسکتے ہیں:
(۱) ایسے مباحث جن کی بنیاد پران کی تکفیر ضروری ہے۔
(۲) وہ مباحث جن سے ان کی بدمذہبی ثابت ہوتی ہے۔
(۳) وہ مباحث جن سے انکار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
مقصد وغایت کےاعتبار سے فلسفہ کی چھ قسمیں ہیں:
(۱) منطقیات (۲) ریاضیات (۳) سیاسیات (۴) طبعیات (۵) الٰہیات (۶) اخلاقیات۔
(۱-۲) منطق وریاضی: ان کاشریعت سے اثباتاً نفیاً کوئی تعلق نہیں۔
(۳) سیاست: یہ امور حکومت وسلطنت سے متعلق ہے، وہ موجودہ دَور کی سیاست کی طرح نہیں بلکہ اگلے صحیفوں اور اولیاےسلف کی حکمتوں سے ماخوذ ہے اس لیے مہملات سے عموماً پاک ہے۔
(۴) طبعیات: اس کی دوقسمیں ہیں:
ایک تو وہ جن کاانکار لازم نہیں، جیسے عالم سماوات کےاجسام وکواکب ان کے ماتحت اجسام مفردہ مثلاً پانی،ہوا، خاک، آگ۔ یوں ہی اجسام مرکبہ مثلاً حیوانات، نباتات، معدنیات، نیز ان کے تغیرات واستحالات اورامتزاج کےاسباب۔ جس طرح علم طب میں انسان کےجسم اوراس کےمزاج کے تغیرات سے بحث کی جاتی ہے اورکسی مسلمان کےلیےعلم طب کے مباحث کی تردید داخل ایمان نہیں۔ اسی طرح طبعیات کےان مباحث کاانکار بھی لازم اسلام نہیں۔
البتہ یہاں بھی چند مباحث ایسے آئے ہیں جوحق صریح کےخلاف ہیں، ان میں سے بعض کاذکر کیاجارہاہے۔
[تفصیل کےلیے تَہافُت الفلاسفہ از امام غزالی اور الکلمۃ الملہمۃ از امام احمدر ضا قدس سرہ کامطالعہ کریں۔]
ہاں! ان کی تردید کے لیے مسلمانوں کو یہ عقیدہ اچھی طرح جمالینا چاہیے کہ طبیعت اللہ جل شانہ کے حکم کے تابع ہے، اپنی جانب سے وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی، بلکہ اس خالق وپروردگار نے جس کوجس کام پر لگادیاہے اسی میں مصروف ہے۔
فلسفی زمانہ ، گردش فلک اورموالید (مادہ) کی انواع کوقدیم مانتے ہیں، یہ عقائد حقہ کےخلاف ہے ،ملت اسلامیہ میں ذات وصفات الٰہی عز جلالہ کےسوا کوئی شَے قدیم نہیں، سب حادث ہیں۔
مضحکہ خیز بات تویہ ہے کہ فلسفی، گردش فلک ،مادہ ،وغیرہ کےاشخاص وافراد ،سب کو حادث کہتے ہیں ،مگر طبیعتِ کلیہ کوقدیم مانتے ہیں۔ مثلاً فلک کے سب دورے حادث ہیں کوئی خاص دورہ، ازل میں نہ تھا مگرہیں ازل سے۔ یہ صراحتاًکیسا جنون ہے؟
(: الکلمۃ الملہمہ،ص: ۶۷ )
فلک، خرق والتیام قبول نہیں کرسکتا
یہ شرعاً باطل ہے، اس لیے کہ کثیر نصوص قطعیہ اس بات کےشاہد ہیں کہ روز قیامت آسمان پارہ پارہ ہوجائےگا۔
فلاسفہ اسے محال کہتے ہیں، اور ان کے فضلہ خوار نیچری وغیرہم اسی بناپر معراج جسمانی کے منکر ہیں۔(: الکلمۃ الملہمہ،ص: ۶۷ )
فلکیات میں ان کےبہت سے اور مزید مُزَخرفات ہیں جن کی یہاں گنجائش نہیں۔
(۵) الٰہیات
اس علم میں فلاسفہ نےبڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ لطف کی بات تویہ ہے کہ علم منطق میں براہین ودلائل کے لیے جوشرطیں قائم کی تھیں انھیں یہاں نبھا نہ سکے اسی لیے ان میں باہمی اختلاف بھی بکثرت پائےجاتے ہیں۔
الٰہیات میں فلسفیوں کے اغلاط کثیرہ ہیں، جن میں جمہور اہل اسلام کی مخالفت کی گئی ہے۔
(۱) اجسام کاحشر نہیں ہوگا:
یعنی روز قیامت یہ اجسام اٹھائے نہ جائیں گے بلکہ ثواب وعذاب صرف ارواح پرہوگا۔ یعنی یہ سزائیں صرف روحانی ہوں گی،جسمانی نہ ہوں گی۔
حالاں کہ روزقیامت اجسام کاحشر ہوگا اورعذاب وثواب روح وجسم دونوں پرہوگا۔ یہ کثیر نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔
(۲) اللہ تعالیٰ کلیات کاعالم ہے جزئیات کا نہیں
(معاذاللہ) یہ بھی صریح کفرہے۔ اس لیے کہ حق یہی ہے کہ باری تعالیٰ کےعلم سے زمین وآسمان کا کوئی ذرہ بھی غائب نہیں۔ خود قرآن مجید کا ارشاد گرامی ہے:
لَا يَعْزُبُ عَنہُ مِثْقَالُ ذَرۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ (السبا:۳۴،آیت:۳)
اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز، آسمانوں میں اور نہ زمین میں(کنزالایمان )
اوراللہ کی بات سے بڑھ کر کس کی بات سچی ۔ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِيْلًا( النساء:۴، آیت:۱۲۲ )
(۳) تمام جہان ازلی اور قدیم:
یعنی حادث نہیں ،ہمیشہ سے یوں ہی چلاآرہاہے۔
فلاسفہ کے یہ تین، تو وہ کفری عقائد ہیں جن کااسلامی فرقوں میں سے کوئی فرقہ بھی قائل نہیں۔(المنقذ من الضلال،ملخصاً )
(۴) مبدأ واحدسے ایک ہی صادرہوگا
اس قول باطل کی بنا پر،فلاسفہ اس خلاق علیم کو،صرف ایک شَے، عقل اوّل کاخالق مانتے ہیں، باقی تمام جہان کی خالقیت عقول کےسرمنڈھتے ہیں۔
حالاں کہ اللہ واحد قہار ایک اکیلا خالق جملہ ٔعالم ہے۔ خالقیت میں عقول وغیرہا کوئی نہ اس کاشریک، نہ ان کاتخلیق میں واسطہ ، ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہ ( فاطر:۳۵، آیت:۳ ) کیااللہ کےسوا اوربھی کوئی خالق ہے۔ (کنزالایمان )
(۵) فاعل دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں کرسکتاطبیعت جب تک خود اس کی مقتضی نہ ہو یہ قول بھی باطل ہے۔
کیوں کہ قادر مطلق خود فاعل مختار ہے:
يَفْعَلُ اللّٰہُ مَا يَشَآء(ابراہیم:۱۴، آیت:۲۷- )
اللہ جوچاہے کرے۔(کنزالایمان )
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ( البروج:۸۵،آیت:۱۷)
ہمیشہ جوچاہے کرنے والا۔(کنزالایمان )
لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا ( الرعد:۱۳،آیت:۳۱) سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں (کنزالایمان )
یوں ہی فعل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کودیکھ رہاہے، کہ بے کسی مُرَجَّح کے، آپ ہی اختیار کرلیتاہے۔
مثلاً دو جام یکساں صورت ایک نظافت کے ہوں اوردونوں میں یکساں پانی بھرا ہو اور برابر کی دوری پرہوں، یہ پینا چاہے ان میں سے جسے چاہے اٹھالے گا۔ مطلوب تک دو راستے برابر ویکساں ہوں جس پر چاہے چلےگا۔ ایک طرح کے دو کپڑے ہوں جسے چاہے گا پہنے گا۔
پھر اس فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ کے ارادہ کا کیاکہنا۔
(۶) اخلاقیات
یہ صوفیۂ کرام کےاقوال سے ماخوذ ہے ان کواپنے مجاہدات میں نفس کے جو محاسن وفضائل اورعیوب ورذائل روشن وہویدا ہوئے ان حضرات نے بیان وتحریر کیا۔ فلاسفہ نے ان سے کچھ اصولی باتیں لے کر اپنے کلام باطل میں ملادیں تاکہ اس پاکیزہ کلام کے ذریعہ اپنے کلام باطل کو رواج دیں۔
یہ بات کبھی نہ بھولیے کہ فلاسفۂ قدیم کے زمانہ میں بھی حق کے متوالوں کایہ گروہ موجود تھا بلکہ ان کے وجود سے تو زمانہ کبھی خالی نہ رہا، انھیں کی برکتوں سے رحمتوں کانزول ہوتاہے۔
حدیث میں وارد ہے: بِھِمْ یُمْطَرُوْنَ وَبِھِمْ یُرْزَقُوْنَ انھیں اولیاے الٰہی کےطفیل لوگوں پر مینہ برسایاجاتاہے اورانھیں کےطفیل رزق دیاجاتاہے۔ انھیں اولیا میں سے اصحاب کہف بھی ہیں۔ (المنقذ من الضلال،ملخصاً )
بعض ضعیف الاعتقاد جب گرامی بزرگوں کاکلام ان فلسفیوں کی تحریرات میں مخلوط دیکھتے ہیں اور دودھ کادودھ اورپانی کاپانی الگ کرلینے میں قدرت نہیں پاتے تو وہ تمام مباحث کو یکساں گمان کرتے ہوئے انکار کربیٹھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں پہلے سے راسخ ہے کہ فلاسفہ اہل باطل ہیں، اور ان کاکلام بطلان پر مبنی ہے۔
یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی مسلمان کسی نصرانی سے سنے لَااِلٰہ ِالَّا اللّٰہُ عِیْسیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ اور اس کاانکار کربیٹھے اوربلا توقف کہے کہ یہ نصرانی کا کلام ہے مجھے قبول نہیں۔
حالاں کہ ان کی تکفیر کی وجہ وہ قول نہیں، بلکہ انھیں کافر اس لیے کہاجاتاہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں۔
( المنقذ من الضلال،ملخصاً)
گزشتہ صفحات سے بخوبی واضح ہوگیا کہ پورا فلسفہ باطل ہے نہ حق ہے۔ بلکہ بعض اس کے مباحث درست وصحیح ہیں بعض خلاف شرع اورباطل ہیں۔ اس لیے اگر ایسا شخص اسے پڑھے جوحق وباطل کےدرمیان امتیاز کرکے حق کو اخذ کرلے اورباطل کی تردید کرے تو جائز ومستحسن ہے۔
اب ذیل میں تحصیل فلسفہ کی چند شرطیں ذکر کی جاتی ہیں جوان شرائط کاحامل ہوگا تو امید ہے کہ فلسفہ کی ضلالت سے محفوظ رہے گا۔
تعلیم فلسفہ کے شرائط
(۱) انہماک فلسفہ نے معلم کے نورقلب کومنطفی نہ کیاہو۔
(۲) معلم عقائد اسلام میں بروجہ کمال واقف وماہر ہو۔ اثبات حق اورابطال باطل پربعونہٖ تعالیٰ قادر ہو۔
(۳) وہ اپنی اس قدرت کوہرسبق کے،باطل مقام پراستعمال کرتاہو، اور ہر مسئلہ باطلہ کابطلان متعلم کےذہن نشین کراتاہو۔
(۴) متعلم ومعلم کےدل میں فلسفۂ ملعونہ کی عظمت ووقعت بالکل نہ ہو۔
(۵) متعلم کاذہن سلیم اور طبیعت مستقیم ہو۔(بعض طبیعتیں خواہی نخواہی اباطیل کی طرف جاتی ہیں) کما قال اللّٰہ تعالیٰ:
وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوہُ سَبِيْلًا، وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا۔(الاعراف:۷،آیت:۱۴۶)
اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں، اور گمراہی کاراستہ نظر پڑے تواس میں چلنے کوموجود ہوجائیں(کنزالایمان)
(۶) نیت صالح ہو۔
(۷) تنہااس پر قانع نہ ہو بلکہ دینیات کےساتھ اس کاسبق ہو۔(فتاویٰ رضویہ،جلد:دہم-ملخصا )
علم فلسفہ کی اصطلاحات
فلسفہ کی تعریف: متوسط انسانوں (یعنی حُکَما، نہ انبیاےکرام) کی طاقت بھر موجودات واقعیہ کے احوال کاعلم، حکمت اور فلسفہ کہلاتاہے۔
موضوع: موجودات واقعیہ کے احوال ۔
غایت: نفس کی قوت نظری اور قوت عملی کی تکمیل۔
اقسام: فلسفہ کی دوقسمیں ہیں (۱) نظری (۲) عملی
فلسفۂ نظری: ایسے امور کے احوال کا علم، جن کا وجود ہماری قدرت واختیار میں نہیں۔ جیسے باری تعالیٰ، اس کی صفتوں اور آسمان وزمین وغیرہ سے متعلق علم۔
فلسفۂ عملی: ایسے امور کے احوال کےعلم، جن کاوجود ہماری قدرت واختیار میں ہے۔ جیسے عدل کے اچھے اورظلم کے برے ہونے کاعلم۔
غایتِ نظری: جوامور ہماری قدت میں نہیں، ان سے متعلق علم کے حصول سے قوت نظری کی تکمیل۔
غایتِ عملی: جوامور ہماری قدرت میں ہیں، ان سے متعلق علم کے حصول سے قوت نظری کی تکمیل، پھر ان کوعمل میں لانے سے قوتِ عملی کی تکمیل۔
فلسفۂ نظری کی تین قسمیں ہیں:
(۱) الٰہی (۲) ریاضی (۳) طبعی
الٰہی: ایسے امور سے متعلق علم نظری ،جواپنے وجودِ ذہنی اورخارجی دونوں میں مادہ کےمحتاج نہ ہوں۔جیسے معبودبرحق، اس کی صفتوں اوروجود وامکان وغیرہ سے متعلق علم۔
ریاضی: ایسے امور سے متعلق علم نظری جواپنے وجود خارجی میں مادہ کے محتاج ہوں اوروجود ذہنی میں مادہ کے محتاج نہ ہوں۔ جیسے کرہ، مثلث، مربع وغیرہ سے متعلق علم۔
طبعی: ایسے امورسے متعلق علم نظری جواپنے وجود خارجی اورذہنی دونوں میں مادہ کےمحتاج ہوں۔ جیسے انسان، حیوان، نباتات، جمادات وغیرہ سے متعلق علم۔
فلسفۂ عملی کی بھی تین قسمیں ہیں
(۱) تہذیبِ اخلاق (۲) تدبیرِمنزل (۳) سیاست مَدَنِیَّہ
تہذیبِ اخلاق: وہ علم عملی ہے جوکسی ایک شخص کی مصلحتوں سے متعلق ہو۔ جیسے یہ علم ،کہ سچ بولنا اچھاہے،جھوٹ بولنا بُرا ہے۔
تدبیر ِمنزل: وہ علم عملی ہے جوکسی خاندان کی مصلحتوں سے متعلق ہو، جیسے اولاد کی تربیت، ماں باپ کی خدمت، رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت وغیرہ سے متعلق علم۔
سیاست مَدَنِیَّہ: وہ علم عملی ہے جوکسی شہر یاملک کی مصلحتوں سے متعلق ہو،جیسے اس بات کاعلم کہ عدل حسن ہے، ظلم قبیح ہے۔
فلسفۂ عملی: شریعت اسلامیہ کےآنے کے بعد متروک ہوگیا۔ اس لیے کہ اسلام نے تہذیبِ اخلاق، تدبیرِمنزل، اورسیاست وحکومت سے متعلق جوجامع اورمکمل دستورِ عمل پیش کردیا ،اس کے سامنے تعلیمِ فلاسفہ کی حاجت نہ رہی۔
علم ریاضی: مفیدہے مگراب وہ مستقل فن کی حیثیت سے ممتاز ہوچکاہے اوراس پر الگ سے کافی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، اس لیے مصنف نے فلسفۂ عملی کے ساتھ ریاضی کو بھی ترک کردیا، اوراپنی کتاب تین قسموں پر رکھی:

(۱) منطق: کیوں کہ وہ حصولِ علم کاآلہ وذریعہ ہے۔ (۲) طبعی (۳) الٰہی۔
کتاب کی قسم اول (منطق) نابود ہوگئی۔ قسم دوم (طبعی) اور قسم سوم (الٰہی) موجود ہیں۔
(ماخوذ: از شرح ہدایۃ الحکمۃ وہدیہ سعیدیہ )
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیںفلسفہ کی غلط باتوں سے بچنے، حق و ناحق میں امتیاز کرنے، اور قرآن وسنت کے سارے فرامین دل وجان سے ماننے اور ان پر ہمیشہ عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم ۔
احمد القادری

الاسلامی.نیٹ
WWW.ALISLAMI.NET

ممتازالعلما مولانا ممتاز احمد، انگلینڈ

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

احمد القادری مصباحی

ممتاز العلما،کچھ یادیں کچھ باتیں

ممتاز العلما حضرت مولانا ممتاز احمد اشرف القادری، بن حافظ عبد الحلیم (علیہما الرحمہ)جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے مایۂ ناز سپوت ہیں۔
آپ کی ولادت : ۱۲ ؍شوال ۱۳۵۳ ھ ۱۸ ؍جنوری ۱۹۳۵ء میں، ایک دیندار، علم دوست گھرانے میں ہوئی۔
تاریخی نام : صغیر احمد(۱۳۵۳)
عرفی نام: ممتاز احمد
تخلص: اشرف
لقب: مبلغ اسلام اور ممتاز العلماہے۔
مقام ولادت: پورہ خواجہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی، ہند
وفات:۳؍ رمضان ۱۴۴۲ھ ۱۵ ؍ اپریل ۲۰۲۱ ء جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات
مزار مبارک: بریڈ فورڈ، انگلینڈ
پاک و ہند کی آزادی کے سال ۱۹۴۷ ءمیں دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم میں داخلہ لیا ،دس سال، دارالعلوم میں مشاہیر اساتذہ کی بارگاہ میںاعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۸ ؍شعبان ۱۳۷۶ ھ ۳ ؍ فروری ۱۹۵۷ ء کو دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
تقریباً ۱۴ سال ہند کے مختلف مدارس میں تدریسی و انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۷۲ ءمیں برطانیہ کا تبلیغی دورہ فرمایا، بریڈ فورڈ، انگلینڈ میں مقیم ہوۓ، پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ مگر وطن مبارک پور آتے رہتے اور جب بھی آتے، جامعہ اشرفیہ (یونیورسیٹی) ضرور آتے، جامعہ سے آپ کو گہرا لگاؤ تھا۔
ملاقاتیں: اشرفیہ میں تقریباً آٹھ سال میرا قیام رہا، چارسال بحیثیت طالب علم، چار سال بحیثیت مدرس، اس دوران، بارہا، جامعہ اشرفیہ میں ملاقات کاشرف حاصل ہوا،ایک بار ہم پورہ خواجہ، دولت کدے پر بھی حاضر ہوئے، بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ بٹھایا، بڑی خندہ پیشانی سے ضیافت، عزت افزائی، اور ذرہ نوازی فرمائی۔پھر ۱۹۹۵ ءمیں جب الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور سے ، بیرون ملک میرا آنا ہوگیا، اس کے بعد بھی کئی ملاقاتیں ہوئیں، ایک بار عرس امجدی گھوسی میں ان کا بصیرت افروز بیان سماعت کر نے کا موقع ملا۔
آپ، میرے مشفق استاذ، حضور محدث کبیر دامت برکاتہم العالیہ کے ہم سبق ہیں، میں اُن کا استاذ ہی کی طرح احترام کرتا، مگر وہ ایک بے تکلف دوست کی طرح ملتے۔ یہ اُن کی خاکساری تواضع اور خِرد نوازی کی واضح دلیل ہے۔ایک بار زیادہ عرصہ کے لئے ہند تشریف لائے تھے، ملاقات پر فرمانے لگے اب میں ریٹائر ہوگیا، سارا کام بچوں نے سنبھال لیا ہے۔ مجھے فرصت ہے، یہاں رہوں چاہے وہاں رہوں۔ آپ کی باتیں بڑی پر لطف ، مخلصانہ ، محبت آمیزہوتیں۔ آپ کی تحریریں بھی بڑی دلچسپ ہیں۔
ان میں ، اسلام منزل بہ منزل ، بڑی اہم کتاب ہے
یہ دو حصوں میں ایک جامع مختصر اسلامی تاریخ ہے ، زبان و بیان سنجیدہ، اور دل چسپ، باتیں نپی تُلی، سلیس، رواں، اور فصیح و بلیغ ہیں،اور ایسا کیوں نہ ہوکہ آپ ایک قادرالکلام شاعر بھی ہیں، اشعار نویسی اور نثر نگاری دونوں پر قدرت رکھتے ہیں۔
محترم محمد نعیم عزیزی بن مولانا بدرالدجی صاحب مد ظلہ کی کمپوزنگ کے ساتھ ، آپ کے صاحبزادےجناب ماسٹر مختار احمد اعظمی (ایم اے علیگ، رکن شوری اشرفیہ مبارک پور )کے اہتمام سےدونوں حصے چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔
حصہ اوّل ، لکھنے کی تاریخ اختتام : ۳۰ ؍ذی الحجہ ۱۴۲۵ ھ۱۰ ؍فروری ۲۰۰۵ء اورصفحات۲۴۸ ہیں
حصہ دوم : ۲۶۴صفحات ،تاریخ اختتام: ۲۳ ذی قعدہ ۱۴۳۰ ھ۱۱ ؍نومبر ۲۰۰۹ء ہے
اس کتاب میں امت مسلمہ کے عروج و زوال کا منظر، بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعض اقتباس ہدیۂ قارئین ہیں۔
یہ کتاب ، مصنف نے اس شعر سے شروع کی ہے

مرکز حق و صداقت کی طرف ،لوٹ چلیں اپنے دیں، اپنی شریعت کی طرف ،لوٹ چلیں
نہیں ملنے کی کہیں ،کفر وضلالت سے اماں آؤ دربار رسالت کی طرف ،لوٹ چلیں

اس شعر میں مغرب سے مرعوب زدہ امت مسلمہ کو اپنے دین، اپنی شریعت ، اور دربار رسالت کی طرف ،لوٹنے کی دعوت دی گئی ہے، کہ درحقیقت امن و امان اور شانتی کا گہوارہ یہی ہے، مرکز حق و صداقت یہی ہے، اسے مغرب کی رنگینیوں میں نہ تلاش کریں، آپ کو یہ سب کچھ بارگاہ رسالت سے ملے گا،یہ بات انھوں نے اپنے تجربے سے لکھی، جنھوں نے تقریباً نصف صدی دیار مغرب میں گزاری، اور امت مرحومہ کو خوب جھینجھوڑا ہے۔
ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں
جاہ طلب، مغرب پرست، ناعاقبت اندیش طبقہ، مغرب پرستی کو اعتدال پسندی، باطل پرستی کو ترقی پسندی، اور گمراہی وبے دینی کو روشن خیالی کے نام سے، پوری قوم پر مسلط کرنے میں، شب و روز،پورے اخلاص کے ساتھ مصروف ہے۔
(اسلام منزل بہ منزل اول ملخصاً ص ۲۴۷)
مفاد پرستی کے سلسلے میں رقمطراز ہیں
قبیلۂ بنی عامر کے سردار بحیرہ بن ایاس کو ایمان و توحید کی دعوت دی تو اس نے سوال رکھا کہ آپ کے بعد اقتدار کس کو ملے گا؟ حکومت کس کی ہوگی؟
أ یکون لنا الامر بعدک؟
کیا (آپ کے بعد) مملکت اسلامیہ اور مسلمانوں کی باگ ڈور ہمارے ہاتھوں میں ہوگی؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ألأمر الی اللہ یضعہ حیث شاء
یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔۔یہ معقول اور مبنی بر حقیقت جواب سن کر، دعوت حق کو مسترد اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مفاد پرستی و خود پرستی کی ،اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔
اس واقعہ کے تحریر کرنےکے بعد دور حاضر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے درد دل کا اظہارکچھ اس طرح کرتے ہیں،
بد قسمتی سے آج بھی بزعم خویش روشن مستقبل کے ٹھیکے دار، اتحاد پرست، ہمارے امراء و زعماء نے جو اعتدال پسندی، اور روشن خیالی کے پر فریب نعروں سے آسمان سرپر اٹھا رکھا ہے، در اصل یہ اسی ذہنیت کی عکاسی اور امت مسلمہ کو اسلام سے دور کرنے کی انتہائی خطرناک سازش کا ایک حصہ ہے – اس سے ان کا مقصد مادر پدرآزاد تہذیب و معاشرت کو عام کرکے اپنے آقایان نعمت کی خوشنودی کے حصول اور اپنے پُرتعیش اقتدار کے تحفظ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قوم تباہ اور ملک برباد ہوتا ہے تو ہوتا رہے، اپنی بزم عیش و طرب سلامت رہنی چاہئے۔ اور بس ۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص ۱۵۷ ملخصاً وتصرفاً)

جل جائے نشیمن ہمیں پرواہ نہیں ہے کچھ دیر گلستاں میں اجالا تو رہے گا

اس پر ستم یہ کہ اس اسلام بیزاری اور دین دشمنی کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ ہمیں سب سے اچھے اور سچے مسلمان ہیں۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۱۵۸)
درد ِدل کا ایک اور اقتباس اپنے طویل تجربے کے بعد قوم و ملت کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
حیات ملی کے طویل سفر میں یہی وہ خطرناک موڑ ہے، جہاں پہونچ کر غیروں سے زیادہ اپنوں ،اور دشمنوں سے زیادہ دوستوں سے ، ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۲۰۶)
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات میں ہے
آپ ایک باوقار عالم دین، کہنہ مشق شاعر، بہترین نثر نگار، اور عظیم داعی و مبلغ ہیںآپ نے نثر و نظم دونوں اصناف میں خامہ فرسائی کی ہےحضرت کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔
اسلام منزل بہ منزل (دو حصوں میں)
پیغام رحمت
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر (جسم بے سایہ کے موضوع پہ، یہ بڑی انوکھی اور نرالی کتاب ہے، اس کے مخاطب بھی مخالفین ہیں)
خلیل اللہ آزمائش کی کڑی دھوپ میں (پیکر تسلیم و رضا)
صبح حرم ( نعتیہ مجموعۂ)
گرد ِراہ (غزلوں کامجموعہ)
(فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات ص ۶۸)
ان کے علاوہ ، کثیر مضامین ومقالات ، فلسفۂ شہادت وغیرہ آپ کی قیمتی یادگار ہیں۔آپ کی تحریریں ماہناموں کی بھی زینت بنتی رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ اُن کے مرقد پر گہر باری کرے، اپنی رحمتوں کی خوب بارش برسائے اورمغفرت فرماکر، اعلیٰ علیین کےقربِ خاص میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین، یا رب العلمین ، بجاہ حبیبه سید المرسلین ، علیه الصلوة والتسليم

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
۷ ؍جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ ھ ۱۰ ؍جنوری ۲۰۲۲ ء

حسب فرمائش : محب محترم، حضرت مولانا ارشاد احمد شیدا رضوی، فاضل جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور،
استاذ شعبۂ انگلش و فروغ لسانیات، کوواپ اکیڈمی ،گرینج سکول ،بریڈفورڈ ،انگلینڈ

مأخذ و مراجع
ذاتی مشاہدات
اسلام منزل بہ منزل
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر
ممتاز العلما ایک نظر میں
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

مینو