ممتازالعلما مولانا ممتاز احمد، انگلینڈ

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

احمد القادری مصباحی

ممتاز العلما،کچھ یادیں کچھ باتیں

ممتاز العلما حضرت مولانا ممتاز احمد اشرف القادری، بن حافظ عبد الحلیم (علیہما الرحمہ)جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے مایۂ ناز سپوت ہیں۔
آپ کی ولادت : ۱۲ ؍شوال ۱۳۵۳ ھ ۱۸ ؍جنوری ۱۹۳۵ء میں، ایک دیندار، علم دوست گھرانے میں ہوئی۔
تاریخی نام : صغیر احمد(۱۳۵۳)
عرفی نام: ممتاز احمد
تخلص: اشرف
لقب: مبلغ اسلام اور ممتاز العلماہے۔
مقام ولادت: پورہ خواجہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی، ہند
وفات:۳؍ رمضان ۱۴۴۲ھ ۱۵ ؍ اپریل ۲۰۲۱ ء جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات
مزار مبارک: بریڈ فورڈ، انگلینڈ
پاک و ہند کی آزادی کے سال ۱۹۴۷ ءمیں دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم میں داخلہ لیا ،دس سال، دارالعلوم میں مشاہیر اساتذہ کی بارگاہ میںاعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۸ ؍شعبان ۱۳۷۶ ھ ۳ ؍ فروری ۱۹۵۷ ء کو دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
تقریباً ۱۴ سال ہند کے مختلف مدارس میں تدریسی و انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۷۲ ءمیں برطانیہ کا تبلیغی دورہ فرمایا، بریڈ فورڈ، انگلینڈ میں مقیم ہوۓ، پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ مگر وطن مبارک پور آتے رہتے اور جب بھی آتے، جامعہ اشرفیہ (یونیورسیٹی) ضرور آتے، جامعہ سے آپ کو گہرا لگاؤ تھا۔
ملاقاتیں: اشرفیہ میں تقریباً آٹھ سال میرا قیام رہا، چارسال بحیثیت طالب علم، چار سال بحیثیت مدرس، اس دوران، بارہا، جامعہ اشرفیہ میں ملاقات کاشرف حاصل ہوا،ایک بار ہم پورہ خواجہ، دولت کدے پر بھی حاضر ہوئے، بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ بٹھایا، بڑی خندہ پیشانی سے ضیافت، عزت افزائی، اور ذرہ نوازی فرمائی۔پھر ۱۹۹۵ ءمیں جب الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور سے ، بیرون ملک میرا آنا ہوگیا، اس کے بعد بھی کئی ملاقاتیں ہوئیں، ایک بار عرس امجدی گھوسی میں ان کا بصیرت افروز بیان سماعت کر نے کا موقع ملا۔
آپ، میرے مشفق استاذ، حضور محدث کبیر دامت برکاتہم العالیہ کے ہم سبق ہیں، میں اُن کا استاذ ہی کی طرح احترام کرتا، مگر وہ ایک بے تکلف دوست کی طرح ملتے۔ یہ اُن کی خاکساری تواضع اور خِرد نوازی کی واضح دلیل ہے۔ایک بار زیادہ عرصہ کے لئے ہند تشریف لائے تھے، ملاقات پر فرمانے لگے اب میں ریٹائر ہوگیا، سارا کام بچوں نے سنبھال لیا ہے۔ مجھے فرصت ہے، یہاں رہوں چاہے وہاں رہوں۔ آپ کی باتیں بڑی پر لطف ، مخلصانہ ، محبت آمیزہوتیں۔ آپ کی تحریریں بھی بڑی دلچسپ ہیں۔
ان میں ، اسلام منزل بہ منزل ، بڑی اہم کتاب ہے
یہ دو حصوں میں ایک جامع مختصر اسلامی تاریخ ہے ، زبان و بیان سنجیدہ، اور دل چسپ، باتیں نپی تُلی، سلیس، رواں، اور فصیح و بلیغ ہیں،اور ایسا کیوں نہ ہوکہ آپ ایک قادرالکلام شاعر بھی ہیں، اشعار نویسی اور نثر نگاری دونوں پر قدرت رکھتے ہیں۔
محترم محمد نعیم عزیزی بن مولانا بدرالدجی صاحب مد ظلہ کی کمپوزنگ کے ساتھ ، آپ کے صاحبزادےجناب ماسٹر مختار احمد اعظمی (ایم اے علیگ، رکن شوری اشرفیہ مبارک پور )کے اہتمام سےدونوں حصے چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔
حصہ اوّل ، لکھنے کی تاریخ اختتام : ۳۰ ؍ذی الحجہ ۱۴۲۵ ھ۱۰ ؍فروری ۲۰۰۵ء اورصفحات۲۴۸ ہیں
حصہ دوم : ۲۶۴صفحات ،تاریخ اختتام: ۲۳ ذی قعدہ ۱۴۳۰ ھ۱۱ ؍نومبر ۲۰۰۹ء ہے
اس کتاب میں امت مسلمہ کے عروج و زوال کا منظر، بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعض اقتباس ہدیۂ قارئین ہیں۔
یہ کتاب ، مصنف نے اس شعر سے شروع کی ہے

مرکز حق و صداقت کی طرف ،لوٹ چلیں اپنے دیں، اپنی شریعت کی طرف ،لوٹ چلیں
نہیں ملنے کی کہیں ،کفر وضلالت سے اماں آؤ دربار رسالت کی طرف ،لوٹ چلیں

اس شعر میں مغرب سے مرعوب زدہ امت مسلمہ کو اپنے دین، اپنی شریعت ، اور دربار رسالت کی طرف ،لوٹنے کی دعوت دی گئی ہے، کہ درحقیقت امن و امان اور شانتی کا گہوارہ یہی ہے، مرکز حق و صداقت یہی ہے، اسے مغرب کی رنگینیوں میں نہ تلاش کریں، آپ کو یہ سب کچھ بارگاہ رسالت سے ملے گا،یہ بات انھوں نے اپنے تجربے سے لکھی، جنھوں نے تقریباً نصف صدی دیار مغرب میں گزاری، اور امت مرحومہ کو خوب جھینجھوڑا ہے۔
ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں
جاہ طلب، مغرب پرست، ناعاقبت اندیش طبقہ، مغرب پرستی کو اعتدال پسندی، باطل پرستی کو ترقی پسندی، اور گمراہی وبے دینی کو روشن خیالی کے نام سے، پوری قوم پر مسلط کرنے میں، شب و روز،پورے اخلاص کے ساتھ مصروف ہے۔
(اسلام منزل بہ منزل اول ملخصاً ص ۲۴۷)
مفاد پرستی کے سلسلے میں رقمطراز ہیں
قبیلۂ بنی عامر کے سردار بحیرہ بن ایاس کو ایمان و توحید کی دعوت دی تو اس نے سوال رکھا کہ آپ کے بعد اقتدار کس کو ملے گا؟ حکومت کس کی ہوگی؟
أ یکون لنا الامر بعدک؟
کیا (آپ کے بعد) مملکت اسلامیہ اور مسلمانوں کی باگ ڈور ہمارے ہاتھوں میں ہوگی؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ألأمر الی اللہ یضعہ حیث شاء
یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔۔یہ معقول اور مبنی بر حقیقت جواب سن کر، دعوت حق کو مسترد اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مفاد پرستی و خود پرستی کی ،اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔
اس واقعہ کے تحریر کرنےکے بعد دور حاضر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے درد دل کا اظہارکچھ اس طرح کرتے ہیں،
بد قسمتی سے آج بھی بزعم خویش روشن مستقبل کے ٹھیکے دار، اتحاد پرست، ہمارے امراء و زعماء نے جو اعتدال پسندی، اور روشن خیالی کے پر فریب نعروں سے آسمان سرپر اٹھا رکھا ہے، در اصل یہ اسی ذہنیت کی عکاسی اور امت مسلمہ کو اسلام سے دور کرنے کی انتہائی خطرناک سازش کا ایک حصہ ہے – اس سے ان کا مقصد مادر پدرآزاد تہذیب و معاشرت کو عام کرکے اپنے آقایان نعمت کی خوشنودی کے حصول اور اپنے پُرتعیش اقتدار کے تحفظ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قوم تباہ اور ملک برباد ہوتا ہے تو ہوتا رہے، اپنی بزم عیش و طرب سلامت رہنی چاہئے۔ اور بس ۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص ۱۵۷ ملخصاً وتصرفاً)

جل جائے نشیمن ہمیں پرواہ نہیں ہے کچھ دیر گلستاں میں اجالا تو رہے گا

اس پر ستم یہ کہ اس اسلام بیزاری اور دین دشمنی کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ ہمیں سب سے اچھے اور سچے مسلمان ہیں۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۱۵۸)
درد ِدل کا ایک اور اقتباس اپنے طویل تجربے کے بعد قوم و ملت کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
حیات ملی کے طویل سفر میں یہی وہ خطرناک موڑ ہے، جہاں پہونچ کر غیروں سے زیادہ اپنوں ،اور دشمنوں سے زیادہ دوستوں سے ، ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۲۰۶)
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات میں ہے
آپ ایک باوقار عالم دین، کہنہ مشق شاعر، بہترین نثر نگار، اور عظیم داعی و مبلغ ہیںآپ نے نثر و نظم دونوں اصناف میں خامہ فرسائی کی ہےحضرت کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔
اسلام منزل بہ منزل (دو حصوں میں)
پیغام رحمت
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر (جسم بے سایہ کے موضوع پہ، یہ بڑی انوکھی اور نرالی کتاب ہے، اس کے مخاطب بھی مخالفین ہیں)
خلیل اللہ آزمائش کی کڑی دھوپ میں (پیکر تسلیم و رضا)
صبح حرم ( نعتیہ مجموعۂ)
گرد ِراہ (غزلوں کامجموعہ)
(فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات ص ۶۸)
ان کے علاوہ ، کثیر مضامین ومقالات ، فلسفۂ شہادت وغیرہ آپ کی قیمتی یادگار ہیں۔آپ کی تحریریں ماہناموں کی بھی زینت بنتی رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ اُن کے مرقد پر گہر باری کرے، اپنی رحمتوں کی خوب بارش برسائے اورمغفرت فرماکر، اعلیٰ علیین کےقربِ خاص میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین، یا رب العلمین ، بجاہ حبیبه سید المرسلین ، علیه الصلوة والتسليم

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
۷ ؍جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ ھ ۱۰ ؍جنوری ۲۰۲۲ ء

حسب فرمائش : محب محترم، حضرت مولانا ارشاد احمد شیدا رضوی، فاضل جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور،
استاذ شعبۂ انگلش و فروغ لسانیات، کوواپ اکیڈمی ،گرینج سکول ،بریڈفورڈ ،انگلینڈ

مأخذ و مراجع
ذاتی مشاہدات
اسلام منزل بہ منزل
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر
ممتاز العلما ایک نظر میں
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

امریکا میں تبلیغ اسلام کےلیے راہیں ہموار

امریکہ میں تبلیغ اسلام کےلیے راہیں ہموار

[اس وقت پوری دنیا میں اسلام اورمسلمان موضوعِ بحث ہیں، نائن الیون کے بعد سے، عالمی سطح پر مسلمانوں کے لیے جوحالات پیداہوئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ مبصرین کےمطابق ان تمام حالات کے پس پردہ ،بہت حد تک امریکہ کا رول رہاہے، ایسے حالات میں امریکا میں بسنے والے مسلمانوں کاکیاحال ہوگا؟ وہ کس طرح زندگی گزار رہےہوں گے؟ حکومت کاان کےساتھ کیسا رویہ ہوگا؟ ان تمام حالات سے آگاہی کےلیے لوگوں میں دل چسپی پائی جاتی ہے،چناں چہ برسوں سے امریکا کی سرزمین پر دینی خدمات انجام دینے والے عالم دین حضرت مولانا احمدالقادری مصباحی سے،(مولانا) افضل مصباحی (ایڈیٹر ماہ نور) نے خصوصی بات چیت کی ،ذیل میں پیش ہیں گفتگو کےمخصوص اقتباسات۔ ] (۲۰۰۶ ءکا انٹریو)

قارئین: ماہ نورکوآپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔
٭ میرانام احمدالقادری ہے۔ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور،اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کی ہے،اِس وقت دارالعلوم عزیزیہ،پلینو امریکا میں دینی خدمات انجام دے رہاہوں۔
کس زمانے میں آپ نے اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی؟
٭ ۱۹۸۳ء میں اشرفیہ سے میری فراغت ہوئی تھی۔
آپ کےکچھ ایسے ساتھی جو دینی خدمات میں مصروف ہیں؟
٭الحمدللہ میرے کئی ایک ساتھی ہیں،جواہم دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں مولانا بدرعالم مصباحی جوالجامعۃ الاشرفیہ میں استاذ ہیں۔مولانا فروغ احمدقادری مصباحی جودارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں ہیں۔ مولاناشفیق الرحمٰن بستوی جواس وقت ہالینڈ میں دینی خدمات انجام دےرہے ہیں اورحافظ ابراہیم گجراتی جوانگلینڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ کےاساتذہ؟
٭جن سے میں نےسب سے زیادہ کتابیں پڑھیں ہیں، وہ ہیں میرے بڑے بھائی ، علامہ محمداحمدمصباحی صاحب،انھوں نے میزان سے لےکر سادسہ تک کی کتابیں بڑے خلوص کےساتھ پڑھائیں۔ فیض العلوم محمدآبادگوہنہ میں ،میں نے مولانانصراللہ رضوی مصباحی اورمولاناامجدعلی قادری سے تعلیم حاصل کی۔حفظ کےاساتذہ میں حافظ جمیل احمدقادری اورحافظ و قاری نثار احمدعزیزی ہیں جبکہ اشرفیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفےٰ صاحب،بحرالعلوم علامہ مفتی عبدالمنان صاحب، علامہ عبدالشکور صاحب، مولاناعبداللہ خاں عزیزی صاحب، مولانااعجاز احمد صاحب مبارک پوری،مولانااسرار احمد صاحب،مولانانصیرالدین صاحب، مولانا قاری ابو الحسن صاحب وغیرہ ہمارے اساتذہ رہے ہیں۔
آپ نے تدریسی خدمات کہاں کہاں انجام دیں؟
٭اشرفیہ سےفراغت کےبعد ۱۹۸۳ء میں دارالعلوم قادریہ چریاکوٹ میں تدریسی فریضہ انجام دیا۔
۱۹۸۴ء میں مدرسہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد میں تعلیم دی۔
۱۹۸۵ء سے پانچ سال تک مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم بنارس میں پڑھایا۔بنارس کے بعد ۱۹۹۱ء میں اشرفیہ مبارک پور میں بحیثیت مدرس میری تقرری ہوئی،چارسال تک وہاں تدریسی فریضہ انجام دیا۔۱۹۹۵ء میں، افریقہ جاناہوا ،جہاں میں دوسال رہا،دوسال بعد میں امریکا پہنچا اوراُس وقت سے وہیں خدمات انجام دے رہاہوں۔
امریکا میں مسلمانوں کے لیے کیسے حالات ہیں؟
٭امریکہ میں جو مسلمان ہیں، وہ وہاں رہ کرجوچاہیں دینی خدمات انجام دے سکتے ہیں، اس کےلیے حکومت کی طرف سے پوری آزادی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، جیساکہ ہم نے دیکھاہے، کہ وہاں اگرکوئی غیر مسلم اسلام قبول کرتاہے، تواس پر بھی حکومت کوکوئی اعتراض نہیں ہوتا ،اور نہ ہی اس کے کسی گھر والے کو۔ ابھی ہمارے ہی دارالعلوم (عزیزیہ امریکا)میں ایک طالب علم پڑھتاہے، جس کے والدین عیسائی ہیں اور وہ لڑکا مسلمان ہوچکاہے۔ وہ کالج میں بھی پڑھتاہے، اور میرے ادارے میں بھی پڑھنے آتاہے۔ وہ اسلام سیکھ رہاہے۔ اس کے والدین جوعقیدے کےاعتبار سے عیسائی ہیں اور اتنے پکے عیسائی ہیں کہ خود اس کے والدکو بھی داڑھی ہے۔ان کو اپنے لڑکے کے اسلام قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس وہ لوگ ایک دن یہ دیکھنے آئے تھے کہ میرا بچہ کہاں جاتاہے اور کیاپڑھتاہے؟ اس طرح وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔اسی طریقے سے کالج اوریونیور سٹیز میں اسلامی لباس میں، جو بچے جاناچاہیں، انھیں مکمل آزادی ہے، جیسے خود ہی میرا بچہ کرتا،پائجامہ اورٹوپی میں ہی جاتاہے، لیکن اس پرکبھی کسی نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ اسی طرح سے وہاں جوبچے اوربچیاں اسلامی لباس میں جاناچاہیں ،انھیں پوری آزادی حاصل ہے۔ نماز کی ادائیگی کےلیے باضابطہ چھٹی دی جاتی ہے۔ ہم نےجب اپنے بچے کےلیے درخواست دی ،کہ ظہر کی نماز اداکرنے کی مہلت دی جائے ،توان لوگوں نے نہ صرف اجازت ہی دی ،بلکہ اس کے لیے روم بھی دیا۔ اسی طرح اسے جمعہ کی نماز کے لیے بھی چھٹی ملتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی اسلام کےاصولوں پر عمل کرناچاہے، تواسے مکمل آزادی ہے۔ اسی طرح دارالعلوم ،مدارس، اسلامی ویب سائٹ اوراسلامی آرگنائیز یشن وغیرہ کھولنے کی بھی پوری آزادی ہے۔ساتھ ہی نان پرافٹ(Non Profit) کی جوحیثیت وہاں چرچ کودی جاتی ہے، اسی طرح مسجد کوبھی دی جاتی ہے۔ اس پر کوئی ٹیکس وغیرہ نہیں ہے اس لیے جہاں تک تعصب کاسوال ہے تواسلام کے تعلق سے جوتعصب ہندوستان میں ہے ،میں نے اس سے کم تعصب امریکامیں دیکھاہے۔
امریکہ کےکس علاقے میں آپ تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں؟
٭صوبے کانام ٹیکسس ہے ،جوبڑاشہر ہے وہ ڈیلاس ہے، اور ہمارے شہر کانام پلینو ہے۔ وہاں دارالعلوم عزیزیہ ہے جس میں میں کام کررہاہوں۔
آپ جہاں رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب کیاہے؟
٭تناسب کےاعتبار سے مسلمان تقریباً دو فیصد ہیں ،ویسے ہم جس شہر میں رہتے ہیں وہاں ایک لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔
مذہب کی طرف مسلمانوں کی کتنی رغبت ہے؟
٭مسلمانوں میں مغربیت زیادہ غالب آگئی ہے ،جیسے ہندوستان میں بھی ،دینی رجحانات والے کم ہیں ،دینی تعلیم حاصل کرنے والے بھی کم ہیں ،اِسی طرح وہاں بھی ایساہی ہے۔ البتہ جولوگ بھی دینی مزاج رکھتے ہیں ،وہ پورے طور پراس پرکاربند ہوتے ہیں ،اور دین کادرد بھی رکھتے ہیں ۔
نائن الیون کےبعد وہاں کے مسلمانوں کوکس طرح کی پریشانیوں کاسامنا کرناپڑا؟
٭ تفتیش،جانچ پڑتال وغیرہ کا سامنا کرناپڑا۔وہ لوگ جوخلاف ِقانون تھے ،ان لوگوں کوزیادہ پریشانیوں کاسامنا کرناپڑا ، ان میں سے بیش تر کوشہر بدر کردیاگیا، اس میں وہی لوگ زیادہ پریشان ہوئے، جو خلاف قانون اور(Illegal) تھے ۔جوقانون کے مطابق زندگی گزار تے ہیں ان کوزیادہ پریشانیوں کاسامنا نہیں کرناپڑتا۔
مسلکی طور پر وہاں مسلمان کتنے خانوں میں بنے ہوئے ہیں؟
٭میں سمجھتاہوں کہ اسلام کے جتنے بھی مکتبۂ فکر دنیامیں پائے جاتے ہیں، وہ سب امریکا میں موجود ہیں ۔اِس وقت اہل سنت والجماعت کاغلبہ ہے اور بہت ہی منظم طور پر وہ لوگ کام کررہے ہیں۔اہل سنت کے مدارس،مساجد اور مکاتب وغیرہ بڑی تعداد میں ہیں ،جوتبلیغ اسلام میں تیزی کےساتھ مصروف ہیں۔
کون کون سی اسلامی ویب سائٹ لوگ زیادہ پڑھتے ہیں؟
٭اسلامی ویب سائٹوں میں سب سے زیادہ دیکھی اورپڑھی جانے والی سائٹ اس وقت ”اسلامک اکیڈمی“ ہے، یہ ویب سائٹ اہل سنت والجماعت ہی کی ہے۔اس سائٹ پر تقریباً ۱۷۵ ملکوں کے لوگ آتے ہیں اوران کےسوالات بھی میرے پاس آتے ہیں جن کاہم جواب دیتے ہیں، جولوگ دینی مسائل دریافت کرتے ہیں ان کےسوالات کےجوابات بھی دیے جاتے ہیں۔
[یہ ۲۰۰۶ کی بات ہے، اب۲۰۲۱ تک ، الحمدللہ ! اہل سنت والجماعت کی کافی اچھی اچھی ویب سائٹ منظر عام پر آچکی ہیں، ان میں سے بعض تو بہت آگےہیں ]
وہابیوں کے بارے میں امریکی حکومت کا کیانظریہ ہے؟
٭ وہ لوگ چوں کہ پہلے امریکا پہنچے اس لیے وہ یہ دیکھاناچاہتے ہیں کہ ہم ہی اسلام کےنمائندے ہیں۔ لیکن حکومت کی سطح پرایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
صوفی ازم کی طرف امریکاکا ،کافی رجحان ہے ۔اس کی کیا وجوہات ہیں؟
٭ اس کی وجہ یہ ہے کہ، یہ لوگوں کومعلوم ہوچکاہے کہ دنیا کےاندر جو دہشت گردی، اورجتنے بھی فتنے ہیں وہ وہابیوں کےہی پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اِس کاان لوگوں نے اندازہ لگالیاہے۔
اور اہل سنت والجماعت یعنی صوفی ازم کابھی ان لوگوں نے اندازہ لگالیا کہ یہ انتہائی امن وسکون والے ہیں۔اس لیے اِس کی طرف ان لوگوں کا زیادہ رجحان ہے۔ چنانچہ امریکا کی اب کوشش ہے کہ صوفی ازم کے اصولوں کوعام کیاجائے تاکہ وہابیت کا غلبہ اوران کی تحریکات کم ہوں۔
کیا آپ کو لگتاہے کہ اسلام کودہشت گردی کامذہب بناکر پیش کرنے میں وہابیت کا بڑا رول رہاہے؟
٭ جی ہاں! وہ حضرات اس طریقے کا کام ہی کرتے ہیں، جس سے اسلام بدنام ہوتاہے۔ انھیں چاہیے کہ واقعی اسلام کی جوتعلیمات ہیں ان پر عمل پیرا ہوں۔ اُن کے اس طریقے سے کام کرنے سے پورا اسلام بدنام ہوتاہے۔جتنی بھی اس طرح کی تنظیمیں ہیں وہ سب کی سب وہابی تنظیمیں ہیں۔ اِس سے میں سمجھتاہوں کہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔اسلام بلاشبہ امن کا مذہب ہے۔ وہابیوں کےطریقۂ کارسے اسلام کی بدنامی ہورہی ہے۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے طریقے میں تبدیلی لائیں۔
امریکیوں کامذہب کی طرف رجحان کتناہے؟
٭ بہ نسبت اور ملکوں کے امریکا میں شہریوں کارجحان مذہب کی طرف زیادہ ہے۔ برطانیہ میں چرچ فروخت کیے جاتے ہیں جبکہ امریکا میں نئے نئے چرچ بنائے جاتے ہیں۔ آپ کوحیرت ہوگی کہ جس صوبے میں ہم رہتے ہیں وہاں”بعض جگہ“ ہے، جہاں ابھی تک شراب پرپابندی ہے۔ وہاں کوئی شراب فروخت نہیں کرسکتا۔ یعنی اس شہر میں، کسی بھی جگہ، کسی بھی اسٹورپر شراب نہیں بک سکتی۔ پورے صوبہ میں ،جُواخانہ (casino)پر پابندی ہے،اسی طریقے سے اوربھی کچھ قوانین ہیں ،جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اس سے ان کے مذہبی ہونے کاپتا چلتاہے۔
مطلب یہ کہ حکومتی سطح پر بھی امریکامیں شراب کو معیوب سمجھا جاتاہے؟
٭ شراب پر توقسم قسم کی پابندیاں عاید ہیں۔ اگر کوئی شخص شراب پی کر گاڑی چلاتاہے، تواس پر بہت زبردست جرمانہ عاید ہوتاہے، اسی طریقے سے اگر کوئی ۱۸؍سال سے کم کا ہوتو شراب خرید نہیں سکتا ہے۔ سگریٹ پر بھی اسی طرح کی پابندیاں ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ نشہ آور چیزوں کو کم کرنے کی بہت زیادہ کوشش جاری ہے۔ یہ مذہبی رجحان ہونے کی علامت ہے۔ چوں کہ وہ ایک کتاب کومانتے ہیں اپنے کو عیسائی کہتے ہیں، بلکہ ان کے جو بعض پادری ہیں ،وہ تواپنے مذہب پرشدت کےساتھ کاربند ہیں۔ جو نَنْ(عیسائی مبلغہ) ہیں ان میں سے بعض توبہت زیادہ حجاب کااہتمام کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ راستہ چلتے ایک پردہ پوش خاتون پر نظر پڑی توایسا محسوس ہواکہ وہ کوئی مسلم خاتون ہوگی، لیکن حقیقت میں وہ عیسائی تھی۔
اسلام کے تعلق سے کرسچن اوریہودیوں کاکیا نظریہ ہے؟
٭ دوطرح کے لوگ ہیں۔کچھ تو وہ ہیں جواسلام کے شدیددشمن ہیں اور سخت تعصب رکھتے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ صلح پسند لوگوں کاہے جواسلام کےساتھ سخت تعصب نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ حمایت بھی کرتے ہیں۔ یعنی وہاں دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
اسلام کی تبلیغ واشاعت میں آپ کو کن پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے؟
٭ صحیح پوچھیے تو کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی کاسامنا نہیں کرناپڑتاہے۔ نہ حکومت اس میں کوئی رکاوٹ ڈالتی ہے اور نہ کوئی عوام۔ اسلام کے لیے جوکام کرناچاہے اس کے لیے پورے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
بش کی پالیسی کےبارے میں وہاں کے مسلمانوں کا کیانظریہ ہے؟
٭ مسلمان ہی نہیں ،بلکہ وہاں کے باشندے بھی ،اب بش کی پالیسی کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ بش کےاس طرح کےکاموں سے ان کے ملک کوبھی نقصان پہنچاہے اور ان کی ملت کوبھی۔
حزب اللہ کے خلاف جنگ میں امریکہ نے جس طرح اسرائیل کاساتھ دیا،کیا اس اقدام سے وہاں کے عوام خوش ہیں؟
٭ ابھی کچھ دنوں قبل پارلیمنٹ کے پاس خود وہاں کے کریسچن نے اس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یعنی وہاں کے صلح پسند عوام بھی بش کی پالیسی کو پسند نہیں کرتے۔
امریکی مسلمانوں کی مالی حالات کیسے ہیں؟
٭ بیشتر مسلمان ملازمت کےلیے وہاں گئے ہیں، اس لیے وہ ملازم پیشہ ہیں۔ مالی اعتبار سے وہاں کےمسلمان کمزور ہیں۔
امریکہ میں اہل سنت والجماعت کے جوعلمائے کرام ہیں، ان میں کون کون زیادہ نمایاں ہیں؟
٭ مولاناقمرالحسن مصباحی بستوی، جوتقریباً ۱۲؍سال سے کام کررہے ہیں، مولاناغلام سبحانی مصباحی، مولاناعبدالرب مصباحی اور مولانامسعود احمدبرکاتی مصباحی (وغیرہم) یہ سب ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے ہندوستان کے علاوہ پاکستان کے بھی علمائے کرام ہیں جواچھے کام کررہے ہیں۔
ہندوستانی عوام کے ساتھ امریکیوں کا کیا برتاؤ ہے؟
٭ امریکی عوام، ہندوستانی عوام کےساتھ متعصبانہ برتاؤنہیں رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ جتنے بھی ہنگامے ہوے ہیں ان میں انڈیاکا کوئی بھی شہری شامل نہیں ہوا۔ اس لیے وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈیاکے لوگ اچھے ہوتے ہیں۔ لہذا اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔
(مطبوعہ،ماہنامہ، ماہ نور، اکتوبر ۲۰۰۶ ء ملخصاً وتصرفاً)

تعارف و انٹریو، علامہ قمرالزماں اعظمی

بسم ﷲالرحمٰن الرحیم
مفکراسلام خطیب مشرق ومغرب
حضرت علامہ قمرالزماں صاحب اعظمی
سیکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، انگلینڈ

از: احمدالقادری،امریکا

موجودہ علماےکرام ومشائخ عظام میں جن شخصیات سے میں زیادہ متاثر ہوں ان میں ایک اہم شخصیت ہمارے اعظمی صاحب قبلہ کی ہے۔ جب سے میں نےہوش کی آنکھیں کھولیں تب سے حضرت کو جانتاہوں۔ آپ الجامعۃ الاشرفیہ کے مایۂ ناز سپوت،حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے بڑے چہیتے اورلاڈلے شاگرد، مشرقی یوپی کی قابل فخرہستی، اہل سنت کے محبوب خطیب،اسلام کے عظیم مفکر، ملت کے نبض شناس، قوم کے رہبر، مسلمانوں کے قائد اور عظیم قومی رہنما ہیں، جن پراہل وطن ہی کو نہیں بلکہ وطن کی دھرتی کوبھی ناز ہے۔
اُس وقت جب آپ کی خطابت کا پورے ہند میں شہرہ تھا، چارسو آپ کی فصیح وبلیغ، جچی تُلی،،حقائق ومعلومات سے بھر پورتقریروں کاڈنکابج رہاتھا۔ آپ کے شباب کےساتھ تقاریر کابھی شباب تھا۔ پروگراموں کی کثرت کے باعث ایک ایک سال قبل منتظمین اجلاس وکانفرنس کو تاریخیں لینا پڑتی تھیں،اس وقت آپ نے ہندوستان چھوڑ کربرطانیہ کے کفر ستان میں قدم رکھا۔ وہاں نہ اپنی کوئی مسجد تھی، نہ مدرسہ، تنخواہوں کی کفیل نہ کوئی تنظیم تھی نہ ادارہ۔ دو سال تک(کم وبیش) اسلام وسنیت کی تبلیغ واشاعت بےتنخواہ انجام دیتے رہے۔ خود ہی جلسہ کرتے، خود ہی منتظمِ جلسہ ہوتے، خود ہی سامعین کودعوتِ وعظ دیتے، خود ہی تقریر کرتے۔
فخر ملت حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ اس دور میں وہاں تھے، وہ ہرجگہ دوش بدوش ہوتے یاآپ اُن کےدوش بدوش ہوتے۔ بہر حال ہندوبیرونِ ہند،ایثار وقربانی، خلوص وللہیت عزم واستقلال، ہمت وشجاعت کے بے شمار ایسے انمٹ نقوش ہیں جنھیں اب تک نہ زیب قرطاس کیاجاسکا، نہ اُن سے قوم کے کان آشناہیں۔ ان کی زندگی کے روشن وتاب ناک، آفتاب کی طرح درخشندہ انوار وبرکات، فضاؤں میں بکھرے پڑے ہیں،کاش وہ سمٹ کر کاغذ پرنقش ہوجاتے۔ کمال تو یہ ہے کہ علم وفضل کی بلند چوٹی پر پہنچنے کےباوجود خاکساری اور تواضع کے عظیم پیکر ہیں، شفقت واخلاق کے کامل مجسمہ ہیں—
مجھے وہ واقعہ بھولتانہیں جب ہم مادر علمی الجامعۃ الاشرفیہ کی گود میں علائقِ دنیا سے بے فکر علم وفن کی تحصیل میں مشغول تھے۔اشرفیہ میں طلبہ کی اپنی ایک تنظیم ”انجمن اشرفی دارالمطالعہ“ کےنام سے معروف تھی اور ہے۔ طلبہ ہی اس کے کار کن ہوتے ہیں، اس کی اپنی ایک بڑی لائبریری ہے، اس کی طرف سے بھی اجلاس ہوتا رہتاہے، اس دَورمیں اس کی خدمات کی باگ ڈور میرے گلے میں ڈال دی گئی تھی۔ یہ ۱۹۸۲ء کی بات ہے۔ علامہ اعظمی صاحب برطانیہ سے وطن تشریف لائے تھے۔ طلبہ کی جانب سے ان کی تقریر کرانے کاپروگرام طے ہوا۔ تاریخ لینے کے لیے ہم تین طالب علم سائیکل سے آپ کے وطن مالوف خالص پور پہنچے۔یہ مبارک پور سے تقریباً ۱۵؍کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔ ٹھیک دوپہر میں دولت کدے پر حاضری ہوئی۔ کسی سے اندر خبر بھیجی کہ اشرفیہ سے تین طالب علم ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ ان کی باہر تشریف آوری سے قبل ہی ہمارے لیے چارپائی لگادی گئی اور آرام سے بٹھایاگیا۔ تھوڑی دیر میں حضرت اپنے ہاتھوں میں ٹھنڈا خوش گوار شربت لیے ہوئے تشریف لائے۔ ہرایک سے فرداً فرداً ملاقات کی، مصافحہ کیا، خیریت پوچھی۔ پھر اپنے ہاتھ سے شربت گلاس میں اُنڈیل اُنڈیل کر پلانے لگے، ہم شرم سے پانی پانی ہورہے تھے— ہرچند چاہا کہ حضرت تشریف رکھیں مگر ہمیں حکم دے کر بٹھادیا ”الامر فوق الادب“ انجان طالب علم کےساتھ یہ خاطر تواضع، ابھی نام بھی جن کانہ بتایاگیاتھا، ان کےساتھ یہ شفقت، بچوں کےساتھ جب اس قدر بلند اخلاق ہے توبزرگوں کےساتھ کیاہوگا، اس کااندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ پھر ہرایک کودوپہر کا کھانا کھلایا(یہ مشرقی یوپی کی اپنی تہذیب اورخصوصی طرزہے، مہمان کےآتے ہی ان کےکھانے پینے سے ضیافت ہوتی ہے ۔ اس میں تاخیر دروازے کی عزت وآبرو کے خلاف متصور ہوتی ہے) ہم نے تاریخ کے لیے درخواست پیش کی، قبول ہوئی، نماز ظہر کے بعد جلسے کاٹائم مقرر کیا، فرمایا میرے لیے کچھ انتظام نہ کریں گے۔ میں گھر سے کھانا کھاکر آؤں گا۔ آپ لوگ ہرگز ضیافت وطعام کا کوئی بندوبست نہ کریں گے، نہ اس کی زحمت اٹھائیں۔ ہم نے ہرچنداصرار کی جرأت کی مگراس پیکرِ خلوص کےسامنے کارگر نہ ہوئی۔ وقتِ مقررہ سے چند منٹ پہلے تشریف لائے، تقریر شروع ہوئی، سامعین، اشرفیہ کےہونہار طلبہ تھے، ہمارے اساتذہ بھی رونق اسٹیج تھے۔ یہ آپ کاخالص علمی خطاب تھا، نصاب تعلیم، کتب درسیہ، کتب مطالعہ،مقاصدِ حصول علم، وقت کی قدرو قیمت، طلبہ کا مقام، اشرفیہ کی طرف دنیا کی نگاہیں، دنیاکو باصلاحیت علما کی ضرورت، وغیرہ اہم گوشوں پر روشنی ڈالی، یہ ایک تاریخی خطاب تھا جوطلبہ اورعلما(فارغین) کےلیے رشدوہدایت کا روشن مینارتھے۔(کاش اس کی کیسٹ محفوظ ہوتی)
تقریر کےبعد حضرت محمدآباد گوہنہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نذرانہ پیش کیاگیا، قبول نہیں ہوا۔ میں نے عرض کی حضور اسی کے لیے جمع ہواہے، اب کیاہوگا، برجستہ فرمایا: سب کوواپس کردو۔ ایسی بےلوث دینی خدمات فی زمانہ نادر ہے۔ پھر وہ رقم طلبہ کی اجازت سے انجمن اشرفی دارالمطالعہ میں شامل ہوئی۔
دوسراواقعہ:
میرابچپن تھا۔ ابھی شعور کی آنکھیں کھولی تھیں۔ اس وقت حضرت الجامعۃ الاسلامیہ ، روناہی ضلع فیض آباد میں شیخ الحدیث تھے۔ بھیرہ میں حضرت کاپروگرام تھا۔ بھیرہ سے دو آدمی محمدآباد،گوہنہ میں جاکر حضرت کاانتظار کررہے تھے۔محمدآباد میں حضرت اُترے، شام ہوچکی تھی۔ ان دونوں حضرات سے ملاقات نہ ہوسکی، نہ انھوں نے حضرت کو دیکھا،نہ آپ نے ان کوپہچانا، وہاں آپ اُترے اوربھیرہ کےلیے پیدل ہی چل پڑے۔ بھیرہ سے محمد آباد تقریباًدومیل ہے۔بعد مغرب یہ لمبی مسافت قدم قدم طے کرکے غریب خانے پرحاضر ہوئے، اس وقت برادرِ گرامی مولانامحمداحمدصاحب مصباحی آپ کے شدت سے منتظر بیٹھے تھے۔ باہم بےتکلف ملاقات ہوئی۔ ماتھے پہ کوئی شکن یابل نہیں، بے سواری اتنی لمبی مسافت طے کرنی پڑی، کچھ اس کاشکوہ نہیں، یہی وہ خلوص ہے جس کی بنیاد پر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ آپ پر بےپناہ کرم فرماتے تھے اوراپنے اس عظیم شاگرد پر نازاں تھے۔
میری دیرینہ خواہش تھی کہ حضرت کی کچھ خدماتِ عظیمہ لوگوں کےسامنے آئیں، تاکہ وہ ہم بے عملوں کے لیے نمونۂ عمل ،جامعہ اشرفیہ کے لیے قابلِ فخر اور عوام کےلیے سکون کا باعث ہوں اورقوم اپنے لائق وفائق علما کے کارناموں سے روشناس ہو۔
خوش قسمتی سے ۱۸؍محرم الحرام ۱۴۱۸ھ/ ۲۴؍مئی ۱۹۹۷ء کوحضرت چند روز کےلیے شکاگو تشریف لائے۔ شکاگو سنی مسلم سوسائٹی کےاجلاس کی تکمیل کے بعد میں نے انٹرویو کی گزارش کی۔ الحمدللہ ! عرض مقبول ہوئی۔ کل صبح ۱۱؍بجےحضرت نے اپناقیمتی وقت دینے کا وعدہ فرمایا۔

احمد القادری مصباحی

تعارف وانٹرویو
خطیب اعظم، مفکرِ اسلام حضرت علامہ قمرالزماں صاحب اعظمی
جنرل سیکریٹری ورلڈ اسلامک مشن، انگلینڈ
سوالات وترتیب: از احمدالقادری مصباحی
[اختصار کے پیش نظر سوالات کوصرف سرخیوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے]

نام: محمدقمرالزماں خان اعظمی
تاریخ ولادت:۲۳؍مارچ ۱۹۵۶ء
نسب:ابن عبدالحمید عرف ناتواںؔ خاں ابن عبدالصمد خاں ابن عبدالسبحان خاں۔
جائے ولادت: خالص پور،اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا
گھرکاماحول: مذہبی تھا۔ والدمحترم اوردادا سبھی لوگ پابندِ صلوٰۃ اورحتی الامکان منہیات سے پرہیز کرنے والے لوگ تھے۔ دادا اور پردادا دونوں اردو اور فارسی کے عالم تھے۔آپ کاپیشہ زراعت رہا۔
بچپن: ہمارے والد بزرگ وار نے اس بات کاخیال رکھا کہ حسب حدیث مبارکہ سات سال کی عمر میں اپنے ساتھ مسجد لےجاتے رہے۔ قرآن بہت خوب صورت آواز میں پڑھتے تھے۔ اس لیے دس سال کی عمر میں بہت سی سورتیں بغیر کسی کوشش کے یاد ہوگئیں۔ نماز فجر کے بعد تلاوت کی عادت ڈالی گئی۔ اور دوسرے بچوں کےساتھ کھیل کود سے روکنے کے لیے انھوں نے اپنا یہ معمول بنالیاتھاکہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
تعلیم: ۶؍سال کی عمر میں گاؤں کےمدرسے میں داخل ہوا۔۸؍سال کی عمر کے بعد مدرسہ انوارالعلوم جین پور(اعظم گڑھ) میں داخل ہوا۔پرائمری درجات اور ابتدائی عر بی اور فارسی کی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ شام کوہر روز دادا عبدالصمد خاں مرحوم آمد نامہ اورگلزارِ دبستان خود پڑھایاکرتے تھے۔اس طرح سے گھر اورمدرسہ کےماحول نے میرے علمی اور دینی مذاق کی تربیت میں بہت اہم رول ادا کیا۔ ۱۹۵۸ء میں مولوی کاامتحان، الٰہ آباد بورڈ سے پاس کیا اوراسی سال دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ ہوا۔ اس وقت قدوری کی جماعت سے ابتدائی تین سال تک اشرفیہ میں متوسطات تک، تعلیم مکمل کی۔
۱۹۶۱ء میں لکھنؤمیں داخلہ لیا وہاں سے عالمیت کی سند ۱۹۶۳ء میں حاصل کی۔ ۱۹۶۴ء کےابتدامیں تعطیلِ کلاں میں مکان واپس ہوا ،اورحافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم سے ۱۹۶۴ء میں چند مہینوں کے لیے مدرسہ عزیزالعلوم نان پارہ میں بحیثیت مدرس کام کرتارہا۔
پھر حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم پر ۱۹۶۶ء میں اشرفیہ میں صحیحین کاامتحان دینے کے بعد دستار فضیلت سے نوازا گیا۔
اساتذۂ کرام:
سرکار حافظ ملت علیہ الرحمہ
حضرت علامہ حافظ عبدالرؤف صاحب قبلہ
حضرت بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ
حضرت علامہ ظفر ادیبی صاحب
حضرت مولانا قاری محمدیحییٰ صاحب
حضرت مولانا سید حامد اشرف صاحب
حضرت مولانا شمس الحق صاحب قبلہ
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کچھوچھوی
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ، حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف صاحب قبلہ، حضرت مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ، خاص شفقت فرماتے۔
بیعت وارادت:
۱۹۶۳ء میں سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان، ڈاکٹر محمدمختار علوی (سگڑی) کی دعوت پر سگڑی تشریف لائے۔ وہیں میں اُن سے مرید ہوا۔ سرکار مفتی اعظم ہند سے عقیدت توہمیشہ سے رہی۔ زمانۂ طالب علمی میں کبھی مخالفین کے پروپیگنڈوں کی بناپراگر کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو سرکار مفتی اعظم علیہ الرحمہ کا خیال بہت تسکین دیتا۔ مسلک کے حوالے سے اگرکبھی مخالف علما سے گفتگوہوتی، تو حضرت کےتصور سے بہت مدد ملتی۔ بعض وقت تو یہ خیال ثباتِ قدم کے لیے کافی ہوتاکہ سرکار مفتی اعظم اِسی مسلک پرہیں۔
سرکار مفتی اعظم کی سب سے پہلے میں نے ۱۹۵۸ء میں انوار العلوم جین پور کےجلسے میں زیارت کی تھی اور عالَم یہ تھا کہ سرکار جب اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے توان کا نورانی چہرہ اور علما کی ان سے بے پناہ عقیدت نے قلب پر خاص اثر مرتب کیا۔ ان کے قدموں میں حضرت علامہ خلیل احمد صاحب کچھوچھوی اور شاعر اسلام شفیق جون پوری پڑے رہتےتھے،اس وقت سے ارادہ تھاکہ میں حضرت ہی سے مرید ہوں گا۔
۱۹۷۷ء میں سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے ملنے کےلیے حاضر ہوا تھا تو حضرت نے بعض علماکی درخواست پر مجھے خلافت سے نوازا۔
تکمیل تعلیم کے بعد:
اوّلاً حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے روناہی، ضلع فیض آباد بھیجا۔ اس وقت وہاں کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۴ء تک وہاں رہے۔
تدریسی خدمات:
دس سال روناہی کی خدمات انجام دی۔
وعظ وتقریر کے ذریعہ اہم دینی خدمات:
۱۹۶۴ء سے۱۹۷۴ء تک ہندوستان کےتمام قابلِ ذکر قصبات،اضلاع اور صوبوں میں تقاریر کےلیے جاتارہا۔
اجتماعی طورپر منقد ہونے والی بڑی کانفرنسوں اورسیمنارس میں، کہیں صرف مقرر کی حیثیت سے اورکہیں مقرر ومنتظم کی حیثیت سے شریک ہوتارہا۔
ہندوستان کی اہم کانفرنسیں:
چندکانفرنسیں: (۱) جامعہ اشرفیہ کی تعلیمی کانفرنس(۲) سیوان کی مسلم پرسنل لا کانفرنس۔
اہم خطبات: (۱) اسلام اورعصرحاضر(۲) اسلام اور سائنس (۳) اسلام اور عورت(۴) اسلام کامعاشی نظام (۵) اسلام اورمستشرقینِ یورپ(۶) سیرت رسولِ اکرم ﷺ کے مختلف عناوین (۷) اسلام کا تعلیمی نظام (۸) قرآن عظیم اور اس کااعجاز (۹) علم اورمشاہدہ (۱۰) نماز (۱۱) روزہ (۱۲) حج (۱۳) زکوٰۃ (۱۴) اسلام کا دعوتی نظام (۱۵) فلسفۂ شہادت— ان میں سے اکثر کی کیسٹیں موجود ہیں۔
تنظیم وادارے – قیام وسرپرستی
(۱) الجامعۃ الاسلامیہ، روناہی ،فیض آباد (۲) بارہ بنکی، سلطان پور اورفیض آباد وغیرہ دیگراضلاع میں تنظیم ومدارس کاقیام۔
بیرون ہند کاسفر:
۱۹۷۴ء میں ورلڈ اسلامک مشن اوراسلامک مشنری کالج کےقیام کے بعد ورلڈ اسلامک مشن کے سیکریٹری کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری صاحب کی دعوت پر انگلینڈ حاضر ہوا۔ وہاں اس وقت اہل سنت کی مدارس ومساجد کی تعداد بہت کم تھی۔ مشن کےقیام کےبعد برطانیہ اور ہالینڈ کے تمام شہروں میں جلسوں اور کانفرنسوں اورسیمنار کااہتمام کیاگیا۔ جس سےایک عام بیداری ہوئی اورمسلک کاتشخص نمایاںہوا۔ پھر برصغیر ہندوپاک سے علما کی ایک ٹیم وہاں پہنچی اور کام کی رفتار تیز تر ہوگئی۔اب بحمدہ تعالیٰ صرف برطانیہ میں کم وبیش چھ سو مساجدِاہل سنت ہیں، جن کے ساتھ ملحق مدارس ہیں۔ اسی طرح ہالینڈ کی بیش تر مساجدورلڈ اسلامک مشن کے زیر اہتمام تعمیر ہوئی ہیں۔
ڈین ہاگ، ہالینڈ کی مشہور درس گاہ جامعہ مدینۃ الاسلام بھی ورلڈ اسلامک مشن کی کاوشوں کانتیجہ ہے۔ اوران تمام کاموں میں قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی کی سرپرستی، معمار ملت حضرت علامہ ارشد القادری کی تنظیمی اورتعمیری فکر اور میری اپنی مساعی کادخل ہے۔
اس کے علاوہ ڈنمارک، ناروے بالخصوص ناروے کی سرزمین کی پہلی جامع مسجد بھی ورلڈ اسلامک مشن نے تعمیر کی ہے۔
فرانس،جرمنی وغیرہ میں مشن کام کررہاہے۔ ان کاموں کی نگرانی احقر کےسپرد ہے۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں مشن کے وفود دَورہ کرتے رہتے ہیں اورکام کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکہ میں مشن کی قیادت مختلف صوبوں میں مشن کی شاخوں کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ شاہد رضا نعیمی اور خادم کے دَوروں نے اہل سنت وجماعت میں ایک عام بیداری کی لہر دوڑادی ہے۔ اورامید ہے کہ اگلے دس سال میں امریکہ کے تمام کے تمام اسٹیٹ میں ان شاء اللہ مشن کے زیر اہتمام یامشن کےتعاون سے اہل سنت کے مراکز قائم ہوجائیں گے۔
فی الحال ہیوسٹن، ٹیکساس میں مولانا قمرالحسن اور مولانا مسعود رضا اور شکاگو میں احمد القادری [یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے ، ۱۹۹۸ ء سے تا حال ۲۰۲۱ء ، سکونت،ٹیکساس میں ہے] نیویارک میں مولانا محمدحسین رضوی اور مولانا غلام زرقانی صاحب فلور یڈا میں پہنچ چکے ہیں، [یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے اب وہ ہیوسٹن ،ٹیکساس میں ہیں] اور کام شروع ہوچکاہے۔
ہالینڈ میں مشن کے اداروں کےعلاوہ، حضرت علامہ بدرالقادری صاحب (جوبذات خود ایک تحریک ہیں) حضرت مولانا شفیق الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا مفتی عبدالواجد صاحب،حضرت مولاناعبدالمنان صاحب، حضرت مولانا اسرارالحق صاحب اور بہت سے علما مصروفِ تبلیغ واشاعت ہیں۔
بیرون برطانیہ مساجد ومدارس کاقیام:
ورلڈاسلامک مشن کےتحت ہالینڈ میں (۱) جامع مسجد طیبہ،ایمسٹرڈم (۲) جامع مسجد گلزار مدینہ (۳) جامع مسجد اِن تھوفن، جامع مسجد زُوےلو— وغیرہ کی تعمیر ہوئی۔
اس کے علاوہ جامعہ مدینۃ الاسلام ،ہالینڈ اورصفہ اسکول کے نام سے فل ٹائم ہائی اسکول کاقیام، جہاں سرکاری مضامین کےساتھ ساتھ، عربی،اردو اوردینیات کو،لازمی مضمون کی حیثیت دی گئی ہے۔
بیرون ملک کے تبلیغی دوروں میں یورپ، امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا کے بہت سے ممالک اورصوبوں میں مستقل دورے ہوتے رہتے ہیں اورکوشش کی جاتی ہے کہ جہاں تبلیغی اجلاس منعقد ہوں وہاں کوئی مرکز بھی قائم ہو جائے۔ان شاء اللہ اس صدی کے خاتمے تک دنیاکے بیش تر ملکوں میں اہل سنت کے مراکز قائم ہوجائیں گے۔
قلمی واشاعتی خدمات:
ورلڈ اسلامک مشن کی طرف سے ۱۹۶۵ء میں ”الدعوۃ الاسلامیہ“ بریڈفورڈ سے ہماری ادارت میں جاری کیاگیا، جواب بھی انگلش اور عربی میں ورلڈ اسلامک مشن کراچی سے شائع ہورہاہے۔ اس کے علاوہ ۱۹۸۶ء میں ”حجاز انٹر نیشنل“ کے نام سے ماہانہ پرچے کااجرا ہوا۔ اس وقت بھی جرمنی سےصدائے حق، ساؤتھ افریقہ سے ”دی میسیج“ وغیرہ شائع ہورہے ہیں۔
سیاسیات:
سیاسیات کےتعلق سے ورلڈ اسلامک مشن کی یہ پالیسی ہے کہ پوری دنیا میں سیاسی پارٹیوں کےیاملکوں کےایسے فیصلے جواسلام اور روحِ اسلام سے متصادم ہوں، ان کے خلاف احتجاج کیاجائے اور مختلف اشاعتی ذرائع سے ان کی غیر اسلامی حیثیت کوواضح کیا جائے۔ حکومتوں پردباؤڈالاجائے کہ وہ اس طرح کے فیصلے مسلمانوں پرمسلط نہ کریں۔
اس وقت بھی سلمان رشدی کامسئلہ، مسلم پرسنل لا، مسلمان بچوں کی تعلیم ، ان کے لباس کامسئلہ، مسلمانوں کےعلاج، اوراس سے متعلق قوانین پراحتجاج، مختلف ملکوں میں حجاب کامسئلہ، ایسے سیاسی نمائندے جوکسی ایسی بات کے مؤید ہیں جوغیر اسلامی ہے، ان سے عدم تعاون، مختلف ملکوں میں مسلمانوں کا پریشر گروپ تیار کرنا، جوایسے نمائندوں کی حمایت کریں جومسلم کاز کے مؤیدہیں۔
مسلم ملکوں کی غیر اسلامی روش کے خلاف احتجاج کرنا۔ مثلاً مصر، الجزائر، ترکی وغیرہ میں فنڈامینٹل اِزم کے نام سے باکردار مسلمانوں کی کردارکشی، اسلامی تحریکوں پرپابندیوں کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا اورمسلمانوں کے اندر اسلامی تشخص کوبیدار کرنا، اس سلسلے میں اخبارات اور میڈیاکے دوسرے ذرائع پرنظر رکھنا اوراسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں کاجواب دینا۔ دنیا کےمختلف ملکوں میں اُٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی حمایت، بوسنیا، چیچنیاوغیرہ کے مسلمانوں کی اخلاقی، مالی اورسیاسی مدد فراہم کرنا، قبلۂ اول کی بازیابی اورفلسطینی مسلمانوں کےحقوق کےسلسلے میں مسلسل جدوجہد۔
عالمی کانفرنسوں میں شرکت:
ورلڈ اسلامک مشن کےنمائندے کی حیثیت سے دنیا کےمختلف ملکوں میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کاشرف حاصل ہوا۔
(۱)انقلاب ایران کے بعد ۱۹۸۳ء میں وہاں کی ہفت روزہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔
ایشیااور یورپ کے ممالک کی نمائندگی کی۔بعض جلسوں کی صدارت بھی کی۔ ”اسلام ہی پوری دنیا کانجات دہندہ“ اس موضوع پر خطاب ہوا اور اسے وہاں کی میڈیا اورنشریاتی ذرائع نے پوری دنیا میں نشر کیا۔ بہت سے ریڈیائی اوراخبارات میں انٹرویونشرہوئے۔
ایران میں فقۂ جعفری کوغیر متبدل قانون کی حیثیت سے پیش کرنے اوردوسرے مسالک کومتبدل حیثیت دینے پراحتجاج بھی کیاگیا۔ ایران کےسنی مسلمانوں کےحقوق کےلیے آواز بھی اٹھائی گئی اوران کے تعلیمی اورمذہبی امور سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔
(۲) ایران کے بعد ۸۳ء، ۸۵ء، ۸۷ء، ۸۹ء، میں عراق کی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی اورایران ،عراق جنگ میں ورلڈاسلامک مشن کےموقف کی وضاحت کی۔
(۳) لیبیا کی متعدد کانفرنسوں میں مشن کےوفد کےساتھ شرکت کاموقع ملا اوراس طرح سے عالمِ اسلام کوقریب سے دیکھنے اور علماومفکرین سے ملنے اور مذاکرات کرنے کا موقع ملا اوریہ احساس بھی قوی تر ہواکہ سعودی عرب کی پون صدی پر پھیلی ہوئی بے پناہ کوششوں اور پیٹرول ڈالر کے ذریعے دینی شخصیات واداروں کوخریدنے کے باوجود عالمِ اسلام کی اکثریت آج بھی اہل سنت وجماعت ہے۔
اس کے علاوہ یورپ کےبہت سے ملکوں میں مثلاً ہالینڈ، بلجیم، فرانس، ڈنمارک، ناروے، جرمنی کی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اوران تمام ملکوں میں ورلڈاسلامک مشن کےتحت کانفرنسوں کےانعقاد کاشرف بھی حاصل کیا۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے یورپ میں اسلام کوبہتر طور پر سمجھانے کی کوشش کی گئی، اوران الزامات کے جوابات دیے گئے جوصدیوں سے مستشرقین یورپ، اسلام کے خلاف عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کانفرنسوں اوراجتماعات میں سوال وجواب کے وقفے میں اسلام کے تعلق سے یورپین ذہن کوپڑھنے کا زیادہ موقع ملا۔
اسلامک مشنری کالج:
دنیابھر میں کانفرنسوں، جلسوں اورسیمنارس وغیرہ میں شرکت کے علاوہ برطانیہ میں مختلف اداروں کی تعمیر اوراس کے انتظام وانصرام کابار بھی میرے کاندھوں پر رہا۔ ورلڈ اسلامک مشن کی پہلی عمارت جوبریڈ فورڈ میں خریدی گئی تھی، اس میں بھی پانچ سال تک قیام رہا۔ اس کے قرض کی ادائیگی کےعلاوہ اسلامک مشنری کالج (جوعلامہ ارشدالقادری کاعظیم خواب تھا) کےمنصوبے کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد اوروسائل کی فراہمی بھی احقر ہی کے ذمے رہی۔
بریڈفورڈسے مانچسٹرمنتقل ہونے کےبعد ہمیں از سرِ نو اپنے خوابوں کی تکمیل کےلیے ایک عظیم ادارے کی ضرورت تھی۔چناں چہ مانچسٹرجیسے بڑے شہر میں ایک بہت بڑا پلاٹ حاصل کیاگیا اوربحمدللہ اب وہاں دوملین پاؤنڈکےمنصوبے سے تین بڑے ہالوں اوردرجنوں کلاس روم اور آفس پرمشتمل ایک پرشکوہ اور فلک بوس عمارت تعمیر ہوچکی ہے۔ جس میں جامع مسجد شمالی مانچسٹرکے علاوہ:
(۲) کلیۃ الدراسۃ الاسلامیہ
(۳)ورلڈ اسلامک مشن
(۴) دارالافتاء
(۵)لائبریری—-وغیرہ کے دفاتر قائم ہیں۔
(۶)تعلیم— کلیۃ الدراسۃ الاسلامیہ میں کم وبیش پانچ سال سے پارٹ ٹائم کالجوں اور یونیورسٹیوں کےطلبہ عربی زبان، تفسیر،حدیث، فقہ، تاریخ اسلامی اورتقابلِ ادیان کے مضامین پڑھ رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں اسلامک مشنری کالج کے مجوزہ نصاب کےمطابق علماے کرام کی تربیت کااہتمام ہوگا، جس میں عربی زبان کے علاوہ انگلش اور فرنچ کی تعلیم دی جائےگی، تاکہ فراغت کے بعد یورپ، افریقہ اورامریکا کے ملکوں میں تبلیغی خدمات انجام دینے کے قابل ہوسکیں۔
مخالفین اسلام کے اعتراضات اوران کے جوابات:
داخلی فتنوں کےعلاوہ ورلڈاسلامک مشن کوعیسائیت، نیچریت وغیرہ کے خلاف بھی کام کرناپڑا۔ خاص طور پر مستشرقین یورپ کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے سینکڑوں اجتماعات کیے گئے اوروہ اب بھی جاری ہیں۔
اسلام پران کے بنیادی اعتراضات:
اعتراض(۱) :اسلام تلوار کے زور پرپھیلا۔
جواب:حالاں کہ یہ قطعاً غلط ہے، اسلام تلوارنہیں ،بلکہ اپنی سچائی اور اخلاقی برتری سے پھیلاہے، جس کے بے شمار شواہد تاریخ کے صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔
اعتراض(۲) :سرورکائنات ﷺ پیغمبر نہیں بلکہ صرف ایک مصلح تھے۔
جواب:حالاں کہ ایک مصلح، معاشرے کی چند قدروں کی اصلاح کرتاہے، جبکہ معاشرے کے خلاف ایک مکمل نظامِ زندگی،ایک مکمل نظامِ عقائد، ایک مکمل نظامِ عبادت، ایک مکمل نظامِ معاش، ایک مکمل نظامِ معیشت، ایک مکمل نظامِ سیاست، ایک مکمل نظام ِمعاشرہ— صرف پیغمبر ہی لے کرجلوہ گرہوتاہے۔ پھر ایک مصلح ، قرآن جیسی عظیم کتاب لے کرنہیں آتا۔ اورنہ ہی وہ معجزات کی قوت سے آراستہ ہوتاہے۔
اعتراض (۳) : اسلام میں نجات کاکوئی تصور نہیں۔
جواب:حالاں کہ نجات کاکامل تصور صرف اسلام نے پیش کیاہے۔ ایک گنہ گار کو اسلام کسی انسان کےسامنے رُسوا کرنے کےبجائے، صرف خدا کی بارگاہ میں حاضری کا حکم دیتاہے، جہاں دنیامیں توبہ کےذریعے سے،اعمالِ حسنہ کےذریعے سے اورآخرت میں شفاعتِ رسول ﷺ اور اللہ( عزوجل) کے کرم کےذریعے سے مکمل نجات حاصل کرلیتاہے۔پھراسلام میں موروثی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہرانسان، فطرتِ اسلام پربےگناہ پیدا ہوتاہے۔
اعتراض(۴):اسلام نے عورتوں کوغلام بنارکھاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام وہ پہلا مذہب ہے، جس نے عورتوں کو مکمل آزادی عطا فرمائی۔ مَردوں کےبے جاتسلط سے آزاد کیا،انھیں حقوق عطافرمائے۔اور احترام نفس کے حوالے سے انھیں برابر کامقام عطا فرمایا۔اور مرد کوجملہ ضروریات کاکفیل بناکر عورت کےلیے ایک باعزت اورباوقار زندگی کانصب العین عطا فرمایا۔
اعتراض(۵):اسلام میں غلامی کوجائز قراردیاگیا ہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام اُس دَور میں جلوہ گر ہوا،جب کہ پوری دنیامیں غلامی کا رواج تھا۔ عیسائیت، یہودیت، زرتشتیت– ہرمذہب میں غلاموں کی خرید وفروخت جاری وساری تھی۔ اسلام نے غلاموں کوآزاد کرنے کے ہزاروں طریقے وضع فرمائے۔ غلاموں کی آزادی،گناہوں کاکفارہ قرار دی گئی، اعمالِ حسنہ کابدل قرار دی گئی۔غلاموں کےساتھ حسنِ سلوک کولازمی قرار دیاگیا، اسلام کادور، دراصل غلاموں کی فرماں روائی کازمانہ ثابت ہوا۔
اعتراض(۶): اسلام نے غیر مسلموں کوذمی قراردے کر ان پرغلامی کاٹیکس نافذ کیا۔
جواب:حالاں کہ اسلام نے غیرمسلم اقلیتوں کومکمل تحفظ فراہم کیا۔ ان کی حفاظت کومسلم حکومت کی ذمے داری قرار دیا، ان کی عزت وآبرو، جان ومال کومسلم کے برابر قرار دیا۔ دشمنوں سے تحفظ کےلیے مسلمانوں پرجہاد فرض کیا اورانھیں جہاد سے مستثنیٰ کردیا۔ زکوٰۃ مسلمانوں پر فرض کی گئی اور وہ زکوٰۃسے بھی مستثنیٰ رہے۔اس کےبدلے میں زکوۃ سے بھی کم رقم بطورحق الخدمت وصول کی گئی، جس کو جزیہ کہتے ہیں۔ جہاد میں مسلمان جان دیتاہے،زکوٰۃ ادا کرتاہے، اس کی جگہ پرتھوڑا سا جزیہ غلامی کاٹیکس نہیں بلکہ اسلامی حکومت کاتعاون اوران کے خود اپنے تحفظ کابدل ہے۔
اعتراض(۷): اسلام کانظامِ عبادات مسلمانوں کو دنیاکی تمام تگ ودَو سے روکتاہے۔
جواب:حالانکہ اسلام کےنظام عبادت میں، کسبِ معاش بھی عبادت کاایک حصہ ہےروزانہ چند لمحوں کی عبادت مزید جذبۂ عمل پیدا کرتی ہے، جمعہ سب سے بہتر دن ہے،یہودی ۲۴؍گھنٹے،ہفتہ (سَبْت)میں کام نہیں کرتے ،عیسائی اتوار کوپورےدن بیکار رہتے ہیں ،مگر اسلام میں،جمعہ کی اذان سے پہلے کام کی اجازت ہے اور نماز کے بعد بھی، فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ۔ اسلام نے حصول رزق کوفضل الٰہی قرار دیاہے۔اسلام کی جلوہ گری کے بعد کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمان معاشی اعتبار سے دنیا کی سب سے عظیم قوم تھی، مگر جب عبادت ترک کی، تو معاش کے دروازے بھی بند ہوگئے،اسلام کا نظام عبادت معاشی زندگی کامعاون ہے۔ (فجر سے ظہر تک بندہ کام کرتا ہے چند منٹ وضو اور نماز میں لگتے ہیں، اس سے بندہ پھر تازہ دم ہوجاتاہے، پھر کئی گھنٹے کام کرنے کے بعد ، چند منٹ کے لئے عصر کی بریک لیتا ہے، اور نماز سے ایک نیانشاط اور سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ اسلام نے عبادت ونماز کے اوقات بہت ہی مختصر رکھے ہیں ، ایک نماز میں بس ۵ سے۱۰ منٹ لگتے ہیں، ۸ گھنٹے کام کے دوران ، اتنا وقفہ تو مزاج و روح میں تازگی و بالیدگی پیدا کرتا ہے، بندے کا موڈ فریش ہوجاتا ہے ، اور یہ کام میں معاون ہوتا ہے، نہ کہ کام سے روکتا ہے)
اسلام نے تو محنت پر زور دیاہے اوربہت واضح طور پر ارشاد فرمایاہے: وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی (النجم:۵۳،آیت:۳۹،پارہ:۲۷) انسان کووہی ملے گا جووہ کوشش کرے گا۔ اسلام جہد مسلسل کا مذہب ہے ،سعی پیہم کامذہب ہے ،مگر اب ہمارے اندر نہ جہد مسلسل ہے، نہ سعی پیہم ، ورنہ واللہ العظیم ، اللہ تبارک وتعالیٰ نےجتنے انسان پیدا کیے ہیں ، اتنی ہی خوراک بھی عطافرمائی ہے خود فرماتاہے وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (ہود:۱۱، آیت:۶، پارہ:۱۲)اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمّہ کرم پر نہ ہو۔
اعتراض(۸):اسلام میں عورتوں کومَردوں کے برابر حیثیت نہیں دی گئی اورانھیں دوسرے درجے کاشہری تسلیم کیاگیاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام میں عورتوں کو حقوق کےسلسلے میں مردوں کےبرابر حیثیت دی گئی ہے۔قرآن کریم کافرمان ہے:ولھنَّ مثل الَّذِی علیھنَّ۔
اعتراض(۹): پردہ کاسسٹم، غلامی کی علامت ہے۔
جواب:اسلام میں پردہ کاسسٹم عورت کی عصمت، غیرت اوروقارکے تحفظ کےلیے ہے جبکہ مغرب میں پردہ نہ ہونے کے سبب سے عورت بہت زیادہ غیر محفوظ اور انسانی درنگی کانشانہ بنی ہوئی ہے۔
اعتراض(۱۰): طلاق کےحقوق صرف مرد کودے کرعورت کوبے بس کردیاگیاہے۔
جواب:حالاں کہ مردکونان ونفقہ اورتمام واجباتِ زندگی کاذمے دار قرار دیاگیاہے۔ اس لیے طلاق کابھی حق اسی کو دیاگیاہے۔ جبکہ عورت کواس بات کی اجازت ہے کہ وہ مردکےظلم اورزیادتی کے خلاف اسلامی عدالت میں طلاق کے لیے رجوع کرسکتی ہے۔
اعتراض(۱۱): دیت، شہادت اور وراثت کونصف قراردے کرعورت کونصف انسان قرار دیاگیاہے۔
جواب:دیت اور وراثت وغیرہ میں نصف قراردینے کی وجہ یہ ہے کہ عورت کی ذمے داریاں مرد کے مقابلے میں نصف بھی نہیں ہیں۔ ایک مرد کی موت پر پورا خاندان متاثر ہوتاہے۔ اس لیے کہ کفالت کی ذمےداری مرد کی ہے، اس لیے اس کی دیت
بھی دُہری دلائی جاتی ہے۔ مرد ایک عورت کواپنے گھر لاتاہے اورعورت کسی مرد کے گھر جاتی ہے۔ مرد کو دوہری وراثت اس لیے دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی اوراپنی بیوی بچوں کی کفالت کرسکے۔ جب کہ عورت باپ کے گھرسے نصف لے کر،شوہر کے گھر میں شوہر کی ذمہ داری بن کر جاتی ہے اوراس کے نان ونفقہ کاذمہ دار شوہر ہوتاہے۔
اعتراض (۱۲) : اسلام نے عورت کوتعلیم سے روک کرانھیں پتھروں کےدَور میں رہنے پر مجبور کردیاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام نے عورت کوتعلیم سے نہیں روکا بلکہ مخلوط تعلیم سے روکاہے۔ اس لیے کہ مخلوط تعلیم، انھیں ایک ایسے دور میں لے جاتی ہے جوپتھروں کےدَور سے بھی بھیانک اورلرزہ خیز ہے۔
اعتراض (۱۳): قرآن عظیم محمد(ﷺ) کی اپنی تصنیف ہے۔
جواب:قرآن عظیم اگر پیغمبر اسلام کی تصنیف ہے توآج تک پوری دنیاسے اس چیلنج کاجواب کیوں نہیں بن سکا، جوآج سے چودہ سوسال پیش تر قرآن دےچکاہے۔
اعتراض (۱۴):حضور ﷺ کی مکی زندگی پیغمبرانہ تھی، اس کے بالکل برعکس مدینے میں پیغمبراسلام نے زندگی کی آسائشوںسے محروم کچھ لوگوں کو جمع کرکے ایک جماعت تیار کی اورانھیں آسائشوں کے حصول کےلیے دوسری قوموں سے جنگ کی۔
جواب:حالاں کہ پیغمبر ہمیشہ پیغمبرہوتاہے۔ پیغمبر اسلام مکہ میں پیغمبراور مدینہ میں بھی پیغمبر ہی تھے۔اور جہاد، نبوت کے منافی نہیں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاےبنی اسرائیل (علیہم السلام)کاجہاد خود توریت وانجیل سے ثابت ہے۔ اگر پیغمبر اسلام ﷺ اوران کے صحابہ نے دنیاوی آسائشوں کےلیے جہاد کیاہوتا تو قیصروکسریٰ کے فاتحین کےپاس اگر قیصروکسریٰ جیسے محلات نہیں تو کم ازکم ان کے اپنے اچھے مکان توہوتے۔
یہ اوراسی طرح کے بہت سے اعتراضات جوعیسائی اور یہودی کرتے ہیں ان کے جوابات مذاکروں کی شکل میں دئے جارہے ہیں۔
مانچسٹر اور لیسٹرکے اسلامی مراکز میں اکثر یونی ورسٹیوں اورکالجوں کے طلبہ، چرچوں (کلیساؤں) کےرہنما،عیسائت کے مبلغین، مشرقیات کے محققین اور مذاہب پرریسرچ کرنے والے حاضر ہوتے ہیں اور اکثراپنے سوالات کے معقول جواب پاکر مطمئن واپس جاتے ہیں۔
مناظرہ:مخالفینِ اسلام کے مقابلے اوران کادفاع:
اہل سنت وجماعت کوداخلی محاذپر وہابیت، مرزائیت وغیرہ سے مسلسل تصادم اور مقابلے سے دوچار ہوناپڑتاہے۔
ہندوستان میں بھی ایسے بہت سے مواقع آئے جب دیابنہ کے مختلف گروپ سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ جامعہ اسلامیہ روناہی کے قیام کے بعد جگن پوراور فیض آباد میں مناظرے کے نام پر مخالفین جمع ہوئے۔ لیکن تمہیدی خطاب کےبعد ہی انھوں نے مناظرہ سے انکار کردیا۔
ببھنان(ضلع بستی) کےمناظرہ میں ایک منتظم کی حیثیت سے شریک ہوا۔یہ مناظرہ ایک ہفتہ تک چلتارہا۔ اخیرمیں دیابنہ نےپولیس سے درخواست کرکے مناظرے کودوماہ کے لیے ملتوی کرادیا۔ لیکن دوماہ کےبعد، دوبارہ وہاں نہیں آئے اورعلمائے اہل سنت نے جشن فتح منایا۔
اس مناظرہ میں حضور مجاہد ملت، علامہ مشتاق احمد نظامی، حضرت علامہ مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ،مولانامشاہدرضاصاحب، براؤں شریف کے تمام علما شریک تھے۔ دیوبندیوں کی طرف سے ارشاد کےعلاوہ دیوبند کے دودرجن سے زیادہ علما موجود تھے۔
بدمذہبوں کی مخالفت اوراس کے نتائج واثرات:
برطانیہ میں ابتداءً سعودی لابی نے ورلڈ اسلامک مشن کےقیام کی شدید مخالفت کی اور خالد محمود (دیوبندی) نے”احمدرضاخاں کاتعارف“ کے عنوان سے برطانیہ کے مرکزی شہروں میں جلسے کیے اوراس بات کی کوشش کی کہ علماے اہل سنت کے قدم جمنے سے پہلے ہی برطانیہ کی سرزمین ان کے لیے تنگ کردی جائے۔ اس کے جواب میں علامہ ارشد القادری کی سرپرستی میں تمام شہروں میں جلسے کیے گئے۔ ان کے عقائد پرمشتمل پوسٹرس نکالے گئے، مناظرے کا چیلنج کیاگیا۔ لیکن مخالف قوتیں جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں اوران تمام مساجد سےان کاخراج عمل میں لایاگیا جہاں وہ سنی بن کر اہل سنت کو مبتلا ے فریب کیے ہوئے تھے۔
مانچسٹر،روچڈیل، لیسٹر، بریڈفورڈ وغیرہ میں اہل سنت منظم ہوئے اوران کی مساجد کاقیام عمل میں لایاگیا۔ انھوں نے امام احمدرضا پرالزام تراشی کی تھی مگروہ خود بے نقاب ہوگئے۔

(تجلیاتِ قمر صفحہ ۱۰ تا ۲۶ ملخصاً و تصرفاً)

الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net

تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

تعارف
تاج الشریعہ، رئیس الفقہا، پیر طریقت،رہبر ملت حضرت علامہ محمد اختر رضا قادری ازہری دامت برکاتہم العالیہ
جانشینِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ ،صدر مرکزی دارالافتا، بریلی شریف، انڈیا
—————————————–

آپ ہندوستان کےخطۂ علم وفن بریلی شریف کےرہنے والے ہیں،حضرت مفتی اعظم ہند مصطفےٰ رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے، مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے، حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کےپرپوتے ہیں۔
علم وفن ،شعر وسخن، معقولات ومنقولات، علم قدیم وجدید میں ماہر وکامل ہیں، درس نظامیہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کئی سال جامعہ ازہر مصر میں رہ کر عربی ادب اور متعدد علم وفن میں کمال پیدا کیا۔ اردو،عربی،فارسی،ہندی، انگلش ان سب زبانوں میں لکھنے پڑھنے اور بولنے کی مہارت تامہ رکھتے ہیں۔
علم وفضل، زہد وتقویٰ میں اپنی مثال آپ ہیں، علم شریعت اور علم طریقت دونوں کےامام ہیں، فقہ وافتا میں آپ پورا کمال رکھتے ہیں۔ جدید مشکل مسائل میں آپ کی گہری نظر ہے کسی بھی نئے پیداشدہ مسئلے میں آپ کافیصلہ آخری اور حرف آخر ہوتاہے۔ برصغیر میں آپ کی شخصیت بڑی نمایاں ہے۔
آپ کےبےشمار مریدین عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں، بلاشبہہ آپ نہایت متقی وپرہیز گار پیر کامل اورخدا رسیدہ بزرگ ہیں۔

[یہ تعارف گیارہویں شریف کے عظیم الشان پروگرام میں پیش کیاگیا۔
بمقام : ڈیلاس، ٹیکساس، امریکا
بتاریخ: ۴؍ ربیع الآخر ۱۴۲۰ ھ ، ۱۸؍جولائی ۱۹۹۹ء بروز اتوار]

احمدالقادری مصباحی

 

سپاس نامہ، محدث کبیر، علامہ ضیاء المصطفی قادری

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
سپاس نامہ
محدث کبیر ،حضرت علامہ ضیاءالمصطفیٰ صاحب قادری، سربراہ اعلی، طیبۃ العلما ،جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی، مئو، یوپی، ہند
——————————————

جامع شریعت وطریقت،ممتازالفقہا والمحدثین حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ صاحب قادری اعظمی دامت برکاتہم کاہندوستان کےایک بڑے مشہور علمی گھرانے سے تعلق ہے۔ آپ مصنف بہار شریعت صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے ہیں۔ دسمبر۱۹۳۹ء کوضلع اعظم گڑھ میں ولادت ہوئی۔ہندوستان کی عظیم وقدیم درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور اب وہیں کے پرنسپل اور شیخ الحدیث ہیں۔ تقریباً چالیس سال سے بخاری شریف کادرس دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تفسیر،حدیث،اصول حدیث،فقہ، اصول فقہ، فرائض، علم الہندسہ، علم التوقیت، منطق، فلسفہ،علم مناظرہ وغیرہ علوم وفنون میں مہارت تامہ اور درس وتدریس کاکامل تجربہ رکھتے ہیں۔ اہم سے اہم سوال کاجواب دینے اورحل کرنے میں دیر نہیں لگتی، ذہانت وفطانت قابلیت وصلاحیت اور حافظہ میں ان کاجواب نہیں۔
آپ کے تمام بھائی، بہن، بیٹے، بھتیجے کل کے کل عالم دین ہیں۔ بھتیجیاں بھی عالمہ فاضلہ ہیں اور ہندوستان وپاکستان دونوں جگہ سے آپ کے خاندان کا تعلق ہے۔ اور الحمدللہ پورا خانوادہ پاک وہند میں اسلام وسنت کی اشاعت میں رواں دواں ہے۔
حضرت محدث کبیر دعوت وارشاد اور دینی خدمات کےسلسلے میں متعدد بار ساؤتھ افریقہ، ماریشش، میڈل ایسٹ، کویت، پاکستان، انگلینڈ،ہالینڈ وغیرہ کے دورے کرچکے ہیں۔
آپ حافظ ملت حضرت مولانا عبدالعزیز محدث مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ بانی جامعہ اشرفیہ مبارک پور، کےخاص شاگردوں میں ہیں۔ آپ کو چاروں سلاسل قادریہ،چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کی اجازت وخلافت حاصل ہے۔ ہزاروں لوگ ان کےدستِ حق پرست پر تائب اور داخلِ بیعت ہوچکے ہیں۔
آپ میرے بہت ہی شفیق استاذ ہیں۔
ہندوستان سے اس جشن میلادالنبی ﷺ میں خطاب کرنے کےلیے امریکا تشریف لائے۔ ہم ان کے بہت ہی ممنون و مشکور ہیں۔

احمد القادری مصباحی
بموقع خطاب : جلسۂ عیدمیلادالنبی ﷺ
بتاریخ: بارہویں ربیع الاول ۱۴۲۰ھ ، ۲۶؍جون ۱۹۹۹ء
زیر اہتمام:تنظیم اہل سنت، ڈیلاس
بمقام : ریچرڈسن سیوک سنٹر ، ریچرڈسن، ٹیکساس، امریکا
(ملخصاً و تصرفاً)

تقریر نسواں، محبت رسول، علیہ السلام

محبت رسول ﷺ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعدُ،
فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ،
صَدَقَ اللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْم ، وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْاَمِیْنُ الْکَرِیْم ،

اللہ تعالیٰ فرماتاہے، اے محبوب تم فرمادو ، اے لوگو! اگر تم اللہ کودوست رکھتے ہو تو میرے فرماں بردار ہوجاؤ، اللہ تمھیں دوست رکھے گا۔ (آل عمران:۳،آیت:۳۱،پارہ:۳)
میری اسلامی بہنیں!آج میں نے اپنی تقریر کا عنوان محبتِ رسول اور اطاعت رسول ﷺ قرار دیاہے۔ لیکن اپنے موضوع پر بیان کرنے سے پہلے میں چاہتی ہوں کہ ہم اور آپ، سب مل کرانتہائی محبت وعقیدت کےساتھ اپنے رسول پاک ﷺ پردرود وسلام کانذرانہ پیش کریں۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ صَلَاۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ۔
بخاری ومسلم کی حدیث ہے بنی ﷺ نے فرمایا جومجھ پر ایک بار درود بھیجتاہے اللہ اس پردس بار درود بھیجتاہے۔
خود قرآن شریف میں آیاہے:
بےشک اللہ اوراس کے فرشتے بنی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم ان پر درود اورخوب سلام بھیجو
(سورہ احزاب،آیت نمبر ۵۶)
دیکھئے نبی ﷺ پردرود بھیجناکتنا اچھاکام ہے، کہ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ درود بھیجتاہے اس کے فرشتے بھی درود پڑھتے رہتے ہیں۔اور تمام مومنوں کودرود سلام پڑھنے کی تاکید آئی۔
درود شریف کی کثرت بنی پاک ﷺ کی محبت کی علامت ہے۔چوں کہ آج میری تقریر کاعنوان محبتِ رسول ہے اس لیے اپنی محبت کاثبوت دیتے ہوئے میرے ساتھ مل کرایک بار اور مختصرسادرود وسلام پڑھیں۔
اَلصَّلوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہِ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ
وَعَلیٰ آلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَاحَبِیْبَ اللہِ
میری مقدس اسلامی مائیں اوربہنیں! آج یہ میلاد النبی ﷺ کی مبارک محفل ہے۔ سرکار دوجہاں ﷺ کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ ہم تو یہاں سال میں اکٹھاہوتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ تو ہرہفتہ اپنی ولادت کے دن روزہ رکھ کر،اس کی یاد کااہتمام فرماتے تھے۔
مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہمارے نبی ﷺ ہر پیر(منڈے) کوروزہ رکھتے تھے۔توپیر کےدن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی توارشاد فرمایا:
”اسی میں میری ولادت ہوئی اوراسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی“
آج اس مبارک محفل میں رسول اکرم تاجدار دوعالم ﷺ کی محبت اورفرماں برداری سے متعلق میں اسلام کا پیغام آپ کوبتاناچاہتی ہوں۔

محمد کی محبت ہے سند آزاد ہونے کی
خداکے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہے اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہےﷺ

محبت رسول اور اطاعتِ رسول سے متعلق قرآنِ مقدس کی آیت کریمہ اوراس کاترجمہ میں سناچکی ہوں اب میں آپ کو حدیث سناتی ہوں۔ بخاری شریف میں ہے:
تم میں کاکوئی مومن نہیں ہوسکتا،یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اس کی اولاد اورسارے انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
یعنی ایک مسلمان کےدل میں اپنے نبی ﷺ کی ٘محبت اپنی بیٹی، بیٹا،شوہر،ماں،باپ،سب سے زیادہ ہوناچاہیے۔یہ بھی یاد رکھیں، جسے جتنی زیادہ ان سے محبت ہوگی ،اس کاکام،اس کاعمل اتناہی زیادہ سنت کے مطابق ہوگا۔ محبت کی علامت اطاعت اورفرماں برداری ہے۔جسے جتنی زیادہ سرکار دوجہاں ﷺ سے محبت ہوگی وہ خاتون اتناہی زیادہ نبی اکرم ﷺ کےبتائے ہوئے طریقے پرچلے گی۔
اللہ کامحبوب بندہ یااس کی محبوب بندی بننے کے لیے،اللہ کی دوست بننے کے لیے قرآن کریم میں اتباع رسول کاحکم دیاگیا۔ یعنی ان کی پیروی کریں،ان کےنقش قدم پرچلیں۔جن باتوں کے کرنے کاحکم دیاگیاہے انھیں کریں، اورجن باتوں سے منع کیاہے انھیں ہرگز نہ کریں۔
آج میں آپ کی توجہ ایسی چند عام باتوں کی طرف دلانا چاہتی ہوں جوہماری بہنوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ میں اپنی اورآپ کی اصلاح کی خاطر عرض کرناچاہتی ہوں۔

شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات

آج کل ہم لوگ جہاں بیٹھتی ہیں اکثراپنی ہی کسی بہن کی برائی،شکایت اورغیبت شروع ہوجاتی ہے۔ بسا اوقات تو وہ عیب اس بہن میں ہوتابھی نہیں۔ یاکم ہوتاہے زیادہ بڑھاچڑھاکرپیش کرتی ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔حدیث میں بھی اس سے روکا گیاہے۔
کسی نے پوچھا یارسول اللہ ! اگراس کے اندر وہ عیب ہوتوبیان کرنے میں کیاحرج ہے۔ فرمایا: جبھی تو غیبت ہے، ورنہ توبہتان ہے۔
بہتان باندھنا تو غیبت سے بھی زیادہ براہے۔ہماری بعض بہنیں یہ کہہ دیتی ہیں۔ میں غلط بات تھوڑی کہہ رہی ہوں فلاں سے پوچھ لو وہ ایسی ایسی ہے اس سے ہماری ہی ایک مسلمان بہن کی عزت جاتی ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے کے بجائے ہمیں دین کی باتیں، یااچھی اچھی باتیں کرناچاہیے، جس سے کسی مسلمان بھائی، بہن کےدل کوٹھیس نہ پہنچے۔
جھوٹ، چغلی، خیانت، وعدہ خلافی ان سب باتوں سے ہمیں روکاگیاہے۔ اپنے بچوں سے بھی جھوٹا وعدہ نہیں کرنا چاہیے ہماری بعض بہنیں بچوں کوبہلانے کے لیے ان کوجھوٹی تسلی دیدیتی ہیں یاکچھ منگا کردینے کا وعدہ کرلیتی ہیں اور اسے پورا نہیں کرتیں، اس سے بچوں کےدلوں میں ماں کا وقار گھٹ جاتاہے اور اپنے نبی ﷺ کی نافرمانی بھی ہوتی ہے۔
اسی طرح ہمارے اندر بے پردگی عام ہوگئی ہے۔بےحجاب ننگے سرگھومنا کوئی عیب کی بات نہیں رہی ، حالاں کہ سرکا ڈھکنا فرض ، اورننگےسرنامَحرم مردوں کےسامنے جاناحرام ہے۔
قرآن کریم سورہ نور میں ہم کویہ تعلیم دی گئی:
”مومن عورتیں،اپنی زینت ظاہرنہ کریں مگراپنے شوہروں،یااپنے باپ، یاشوہروں کےباپ ،یااپنے بیٹے، یاشوہروں کےبیٹے، یااپنے بھائی، یااپنے بھتیجے، یااپنے بھانجے، یااپنے دین کی عورتیں،وغیرہ­­­ یاوہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں، اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جاناجائے ان کاچھپا ہوا سنگار“۔(سورہ نور،آیت:۳۱)
اس آیت میں جن کےسامنے بے پردہ جاسکتی ہیں ان کو بتادیاگیا۔ ان کےعلاوہ کسی کےسامنے اپنی زینت اوربناؤسنگار بھی ظاہر کرنا منع ہے۔ بچوں کےسامنے ہونے میں حرج نہیں، مگر ہربچہ کےسامنے نہیں بلکہ ایسے بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں ،اگر وہ بڑے ہوگئے اورسمجھ دار ہوگئے تب ان سے بھی پردہ ہے، جب وہ بالغ یابالغ ہونے کے قریب ہوجائیں تو وہ عام مردوں کےحکم میں ہوجاتے ہیں۔
دوسری جگہ قرآن عظیم میں آیاہے:
”اے نبی !اپنی بیویوں اور بیٹیوں، اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادر، کاایک حصہ اپنے منہ پرڈالے رہیں یعنی اپنے سر اورچہرے کو چھپائیں، جب کسی حاجت کےلیے ان کونکلنا ہو“۔(سورہ احزاب آیت:۵۹)

وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر
کی محمد سے وفا تونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیزہے کیالوح وقلم تیرے ہیں

میری اسلامی بہنیں!ہمارے پیارے نبی ﷺ کےدنیامیں تشریف لانے کامقصد یہی تھا کہ وہ اللہ کاپیغام پہنچائیں لوگوں کو اچھی اچھی باتیں بتائیں، جہنم کےراستے سے ہٹاکر جنت کی راہ پر لگادیں۔ آج میں یوم میلاد النبی ﷺ کےحوالہ سے اپنی یہ آخری گزارش کرناچاہتی ہوں، کہ آئیے ہم سب مل کراپنے گناہوں اور ان غلطیوں سے توبہ کریں جوہم سے ہوچکی ہیں، اوراس بات کاعہد کرکے اٹھیں کہ ہم اب پابندی سے نمازیں پڑھیں گی، ہرطرح کی برائی اور بے پردگی سے بچیں گی، اپنی اولاد اپنی بہنوں اور گھروالوں کوسنتوں پر چلنے کی تلقین کریں گی ،اور خود بھی اس کی پابندی کریں گی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں احکام شریعت پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔ اور ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ اور ایمان پرخاتمہ نصیب فرمائے۔
آمین، بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم ۔
وماعلینا الا البلاغ المبین۔

مینو