شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی

حضور شارحِ بخاری مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی خدمات

حضور شارح بخاری فقیہ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۱؍ شعبان ۱۳۳۹ھ ؍ ۲۰؍ اپریل ۱۹۲۱ء میں مشہور و معروف اور مردم خیز خطہ ، قصبہ گھوسی کے محلہ کریم الدین پور اعظم گڑھ ،حال ضلع مئو میں ہوئی۔
آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے ۔ مفتی محمد شریف الحق امجدی بن عبد الصمد بن ثناء اللہ بن لعل محمد بن مولانا خیرالدین اعظمی۔
مولا نا خیرالدین علیہ الرحمہ اپنے عہد میں پاے کے عالم اور صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے ۔ ان کا یہ روحانی فیض آج تک جاری ہے، کہ ان کے عہد سے لے کر اس دور میں پانچویں پشت تک ان کی نسل میں اجلہ علماے کرام موجود ہیں ۔ انہیں میں سے ایک شارح بخاری ، فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی بھی تھے ۔ جو ماضی قریب میں ہندو پاک کے مسلمانان اہل سنت کے صف اول کے مقتدا اور پوری دنیاے اہل سنت کے مرجع فتاوی اور مرکز عقیدت تھے ۔ آپ کی کثیر الجہات شخصیت کے متعلق استاذی الکریم حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفے قادری امجدی اطال اللہ عمرہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں : ”حضرت مفتی صاحب قبلہ مدظلہ جماعت کے ممتاز ترین، صاحب علم و بصیرت ،باقیات صالحات میں سے ایک ہیں۔ ذکاوتِ طبع اور قوت اتقان ، وسعت مطالعہ میں اپنی مثال آپ ہیں ، تعمق نظر ، قوت فکر ، زور استدلال اور حسن بیان ، زودنویسی میں بھی آپ انفرادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ معلومات کی گیرائی و گہرائی میں بھی بلند رتبہ ہیں۔ خطابت ، جدل ومناظرہ میں بھی آپ کو امتیاز حاصل ہے ۔ کئی موضوعات پر آپ کی معلومات افزا تصانیف آپ کی تصنیفی خوبیوں کی مظہر ہیں۔
مفتی شریف الحق امجدی کی ابتدائی تعلیم قصبہ گھوسی کے مقامی مکتب میں ہوئی ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ۱۹۳۴ء میں دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا اور حضور حافظ ملت مولانا عبدالعزیز مراد آبادی ( م ۱۹۷۶ء ) کے زیر سایہ رہ کر آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی۔
۱۹۴۲ ء میں آپ مدرسہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی محلہ بہاری پور ، بریلی شریف پہنچے ، جہاں ابوالفضل حضرت علامہ سردار احمد گورداس پوری ثم لائل پوری محدثِ اعظم پاکستان کا خورشیدعلم، تمام تر تابانیوں کے ساتھ اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا ۔ محدثِ اعظم پاکستان سے آپ نے صحاح ستہ حرفاً حرفاً پڑھ کر دورہ ٔحدیث کی تکمیل کی اور ۱۵؍ شعبان ۱۳۶۲ھ ؍ ۱۹۳۴ ء کو درس نظامی سے آپ کی فراغت ہوئی۔
اساتذہ و مشائخ کرام میں، جن حضرات کی تعلیم وتربیت کا آپ کی زندگی پر گہرا اثر تھا ان میں حضور صدر الشریعہ مولا نا امجد علی اعظمی، حضورمفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خاں ، حضورحافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی ، حضور محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری رضوی سرفہرست ہیں۔خصوصیت کے ساتھ آپ نے حافظ ملت سے سب سے زیادہ فیض پایا ۔
درس نظامی کے علاوہ فتوی نویسی کی تعلیم و تمرین ایک سال سے زائد حضور صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کی بارگاہ میں گیارہ سال رہ کر فتویٰ نویسی سیکھی اور اس کا عمل جاری رکھا۔اکتساب علم کے بعد مفتی شریف الحق امجدی نے تقریبا پینتیس(۳۵)سال تک نہایت ذمہ داری کے ساتھ، بڑی عرق زیزی و جاں سوزی اور کمال مہارت کے ساتھ ہندوستان کے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ ہرفن کی مشکل سے مشکل ترین کتابیں پڑھائیں ۔ برسہا برس تک دورۂ حدیث بھی پڑھاتے رہے اور اخیر میں درس و تدریس کا مشغلہ چھوڑ کر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں شعبۂ افتا کی مسند صدارت پر متمکن ہوکر چوبیس برس تک رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
جن درس گاہوں کی مسند تدریس و افتا پر جلوہ افروز ہوکر آپ نے علم و حکمت کے گوہرآبدار لٹاے، ان کے اسما یہ ہیں ۔
مدرسہ بحر العلوم ،مئوناتھ بھنجن، ضلع اعظم گڑھ ،
مدرسہ شمس العلوم گھوسی ضلع مئو ،
مدرسہ خیرالعلوم پلاموں بہار،
مدرسہ حنفیہ مالیگاؤں مہاراشٹر ،
مدرسہ فضل رحمانی گونڈہ،
مدرسہ عین العلوم گیا بہار،
جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرام پور ،
دارالعلوم ندائے حق فیض آباد،
دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ،
الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور۔
آپ کی درس گاہ ِفیض سے شعور و آگہی کی دولت حاصل کرنے والے طلبہ اتنے کثیر ہیں کہ ان سب کا شمار تقریبا ناممکن ہے ان میں سے چندمشہور حضرات کے نام پیش خدمت ہیں۔ جو اس وقت اہل سنت و جماعت کے نامور علما میں شمار کیے جاتے ہیں ۔خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی، مولانا مجیب اشرف اعظمی ثم ناگپوری، قاضی عبدالرحیم بستوی ، مولانا رحمت حسین کلیمی پورنیہ، مولانا قمرالدین اشرفی اعظمی، مولانا عزیز الحسن اعظمی ، مولانا رضوان احمد شریفی، مفتی محمد نظام الدین رضوی، مولانا حافظ عبدالحق رضوی، مفتی محمد معراج القادری ، مولانا محمد مرتضی نعیمی، مولانا حفیظ اللہ اعظمی، مولانا سلطان احمد ادروی ، مولانا امام الدین مصطفوی، مولانا محمد کوثر خان نعیمی، مولانا افتخاراحمد قادری، مفتی شفیق احمد گونڈہ ، مولانا محمدعمر بہرائچی( وغیرہم)
تصنیف و تالیف:مفتی شرایف الحق امجدی کی فکر وقلم ،تحریر و تصنیف اور زبان و ادب سے گہری وابستگی ابتدائی عمر سے ہی رہی ۔ ان کی تحریرو تصنیف نصف صدی پر محیط ہے۔ ابتدا ہی سےآپ نے وسیع مضامین و مقالات لکھے ہیں ۔ مختلف دینی وعلمی موضوعات پر آ پ کی قیمتی اور جامع تحریر ، اور وقیع ومؤثر مقالے دبد بۂ ٕ سکندری رام پور ، نوری کرن بریلی شریف ، پاسبان الہ آباد ، جام کوثر کلکتہ ، استقامت کانپور ، اشرفیہ مبارک پور، رفاقت پٹنہ، حجاز جد ید دہلی وغیرہ رسالوں میں چھپ کر عوام و خواص کے درمیان مقبول ہوتی رہیں۔ ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور میں التزام وتسلسل کے ساتھ آپ کے منتخب فتاوی شائع ہوتے رہے ۔ جس کی وجہ سے ماہنامہ کا وقار بلند اور قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ مفتی شریف الحق امجدی سے قلم کے مختلف عنوانات پر متعدد کتابیں معرض وجود میں آئیں ۔جن میں چند مشہور کتابوں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا جا تا ہے۔
نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری:یہ صحیح بخاری کی اردو شرح ہے جو پانچ ہزارصفحات پرمشتمل ہے ۔ یہ اسلامی علوم و معارف اور حدیث وسنت کی تحقیقات و تدقیقات کا دائرۃ المعارف ، علماےمتقدمین و متاخرین اور سلف ِصالحین کی عربی و فارسی شروح کا عطر مجموعہ ہے ۔ جو ۹ جلدوں پر مشتمل ہے۔
اشرف السير:اس کتاب میں سیرت نبوی کے بنیادی ستون محمد بن اسحق ( ۱۵۱ھ ؍ ۷۶۸) محمد بن عمر الواقدی ( ۲۰۷ھ ؍۸۲۲ٕ ) محمد بن سعد ( م ۳۲۰ھ ؍ ۸۴۴) محب الدین بن جریر طبری ( ۳۰۱ ھ ) پرفن تاریخ و حدیث اور سیرت کے حوالے سے مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن علمی جوابات ہیں ۔
سیرت پاک سے متعلق مغربی ،ظالمانہ، جاہلانہ اورمشرق کے مرعو بانہ اور معذرت خواہانہ طرزعمل پر سیر حاصل تنقیدی وتحقیقی کلام اور ابتدا سے بعثت نبوی تک سرکار دو عالم ﷺ کے احوال وکوائف اور آپ کے آبا واجداد کے تعلق سے جامع پرمغز اور معلوماتی گفتگو کی گئی ہے ۔ یہ کتاب حصہ اول کا نصف ہے، باقی کام دیگر مصروفیات کی وجہ سے انجام نہ پا سکا۔
اشک رواں :آزادی ہند سے پہلے کا نگریس اور مسلم لیگ کی خود غرضی اور مفاد پرستی پر مبنی پر فریب سیاست پر ضرب کاری اور اس کی مخالفت اور مسلمانوں کے لیے اسلامی وشرعی نقطہ نظر سے تیسرے متبادل کی تجویز، تقسیم ہند کے بعد ہونے والی مسلمانوں کی جان و مال ، عزت وآبرو کی تباہی و بربادی اور بعد میں انہیں در پیش سیاسی و سماجی ، مذہبی وملی پریشانیوں اور رسوائیوں کو اپنی دور بین نگاہوں سے بھانپ کر، اس پر اپنے قلبی و ذہنی خطرات ، بے کلی اور بے چینی کا اظہار اور پھر اس کے تدراک کے لیے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل ، یہ سب کچھ اس کتاب میں شامل ہے۔شارح بخاری نے پچیس برس کی عمر میں اسلامی سیاست کے موضوع پر یہ کتاب تحریر فرامائی ہے ۔ آزادی ہند وتقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۶ ء کے پر آشوب و پرفتن دور میں اس کی اشاعت ہوئی ۔ پھر آج تک اس کا دوسرا ایڈیشن نہ شائع ہوسکا۔
اسلام اور چاند کا سفر :شرعا انسان کا چاند پر پہنچنا ممکن ہے ۔ اسلامیات اور فلکیات کے اصول وقواعد اور قوانین و مباحث کی روشنی میں اس مدعا پر محققانہ گفتگو کی گئی ہے ۔ جو آپ کے وسعت مطالعہ ، ژرف نگاری ، قوت استدلال اور زور بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہ محققانہ و عالمانہ تحقیقات وابحاث کا حسین گلدستہ ہے۔
التحقیقات:اس میں وہابیوں ، دیوبندیوں اور معاندین اہل سنت کے کچھ لا یعنی اعتراضات کے مدلل تحقیقی والز امی جوابات ہیں یہ کتاب دوحصوں میں ہے۔
فتنوں کی سرزمین کون ، نجد یا عراق ؟:اس کتاب میں نجد وعراق کا ایک گراں قدر حقیقت افروز اور ایمان افزا تاریخی ، جغرافیائی اور دینی و سیاسی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
سنی ، دیو بندی اختلاف کا منصفانہ جائزہ :یہ سنی و دیو بندی اختلاف کی بنیاد اور اکابر علماے دیو بند کی کفری عبارتوں پر غیر جانب دارانہ فیصلہ کن ابحاث کا خوبصورت ،علمی گلدستہ ہے ۔ آپ کی یہ کتاب اپنے موضوع پر لا جواب اور بے مثال ہے۔
اثبات ایصال ثواب :یہ رسالہ ایصال ثواب کے موضوع پر مصنف کی ایک نئے انداز میں بحث ، میلا دو قیام ، نیاز و فاتحہ کے سلسلے میں شکوک وشبہات کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے اطمینان کلی کے لیے ایک بیش قیمت ، زوردارعلمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
مقالات شارح بخاری :یہ دینی و مذہبی علمی وادبی تاریخی وسوانحی فکری و حقیقی گونا گوں عنوانات پر حضرت کے سیکڑوں بوقلموں مضامین کا مجموعہ ہے ۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
مسئلہ تکفیر اور امام احمد رضا :اپنے موضوع پر نہایت شاندار، گراں قدر اور اچھوتی محققانہ و متکلمانہ تحریر ،جو موضوع کے تمام زاویوں کو حاوی اور شبہات کے سارے تار و پود بکھیر دینے والی ہے۔
فتاویٰ شارح بخاری:آپ کی زندگی بھر کے علمی تحقیقی فتاوی کا مجموعہ جو ایک انداز کے مطابق پچھتر ہزار سے زائد فتاوی کو محیط ہوگا ۔ جو لوگوں کے عقائد و اعمال میں رہنمائی کرتا ہے اور اہل علم اور ارباب فقہ و فتاویٰ سے خراج تحسین حاصل کر چکا ہے۔۱۳۵۹ھ میں مفتی شریف الحق امجدی نے صدرالشریعہ مولانا امجد اعظمی کے دست حق پر بیعت کیا۔آپ کا شمار صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کے سابقین اولین مریدوں میں ہوتا ہے ۔ حضرت صدرالشریعہ نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا، بریلی اور احسن العلما مولانا مصطفی حسن حیدر ،مارہرہ نے بھی اجازت و خلافت سے نوزا تھا۔
حضور شارح بخاری متعدد بار حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوے ۱۹۸۵ ء میں پہلا حج اور ۱۹۹۸ء میں دوسرا حج فرمایا ۱۹۹۶ ء اور ۱۹۹۷ ء میں دو مرتبہ سفر عمرہ پر بھی گیے۔
وصال: ۶ ؍ صفرالمظفر ۱۴۲۱ھ ؍ ۱۱؍ مئی۲۰۰۰ ٕ ء بروز جمعرات آپ اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ کر گئے ، اور یہ علم وفن کا راز داں اور استقامت و ثابت قدمی کا کوہ ہمالہ ہمیشہ کے لیے آغوش زمین میں محو خواب ہو گیا۔ آپ کا مزار مبارک گھوسی ضلع مئو میں مرجع خلائق ہے۔
(بحوالہ علماے اہل سنت کی علمی و ادبی خدمات)

المجمع الاسلامی ایک نظر میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

المجمع الاسلامی ایک نظر میں
قیام: ۱۳۹۶ھ ؍ ۱۹۷۶ء

بانیانِ ادارہ
(۱) حضرت مولانا محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی (دامت برکاتہم العالیہ)
سابق مدیر، ماہنامہ اشرفیہ ، مبارکپور ؍ مہتمم دارالعلوم قادریہ، چریا کوٹ، مئو، یوپی
(۲) حضرت مولانا افتخار احمد قادری(دامت برکاتہم العالیہ)
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارکپور
(۳) حضرت مولانا یٰس اختر مصباحی(دامت برکاتہم العالیہ)
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارکپور ؍ بانی دارالقلم، دہلی
(۴) حضرت مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی(دامت برکاتہم العالیہ)
موجودہ ناظم تعلیمات وسابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور
(۵) حضرت مولانا بدرالقادری مصباحی (علیہ الرحمہ)
( ولادت :۲۵؍ اکتوبر ۱۹۵۰ء وصال: یکم؍ صفر ۱۴۴۳ھ ؍ ۹ ؍ ستمبر ۲۰۲۱ء جمعرات)
سابق مدیر، ماہنامہ اشرفیہ ، مبارکپور
المجمع الاسلامی کی پہلی اشاعت: نورالایمان ۔۔پھر۔۔ امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں (۱۹۹۷ھ ۱۹۷۷ء)

آراضی
ادارہ کے لئے زمین کی خریداری :بمقام ملت نگر ،مبارک پور، اعظم گڑھ
بیع نامہ کی تاریخیں:
(۱) ۲۶؍جون ۱۹۹۳ء
(۲) ۱۷؍مئی۱۹۹۴ء
(۳) ۲۰؍ نومبر ۱۹۹۸ء
(۴) ۲۸؍فروری۲۰۰۰ء
کل رقبہ: تقریباً ۱۵ بِسْوَہ،۱۸۰۰۰ مربع فٹ
سنگ بنیاد: ۲۰ ؍صفر ۱۴۱۷ھ ۲۷؍جون ۱۹۹۶ء بروز جمعرات

بدستہاے مبارکہ:
(۱) شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی (علیہ الرحمہ)
نائب حضور مفتی اعظم ہند ؍ سابق صدر دارالافتا، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور وبانی برکاتی مسجد گھوسی،مئو،یوپی
(۲) محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ قادری مصباحی (دامت برکاتہم العالیہ)
جانشین حضور صدرالشریعہ، علیہ الرحمہ؍ سابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور ؍ بانی طیبۃ العلماجامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی
(۳) عزیز ملت حضرت مولانا عبد الحفیظ مصباحی(دامت برکاتہم العالیہ)
جانشین حضور حافظ ملت ۔ علیہ الرحمہ ، و سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
(۴) دیگر کبارعلما و مشائخ دامت برکاتہم العالیہ

تعمیری سلسلے
جنوبی کمرے کی تکمیل: ۱۴۱۷ ھ ؍ ۱۹۹۷ء
محمد آباد گوہنہ سے مبارک پور ،ادارہ کے سارے اثاثےکی منتقلی: شوال ۱۴۱۷ ھ مارچ ۱۹۹۷ء
پہلی منزل کی تعمیر: ۱۹۹۶ تا ۲۰۰۷ ء
پوری زمین کی خوشنما باؤ نڈری: ۱۹۹۹ء
دوسری منزل کی تعمیر: ۱۴۴۳ھ؍ ۲۰۲۲ء
دوسری منزل کی چھت کی ڈھلائی اور تکمیل: یکم جولائی ۲۰۲۲ء مطابق یکم؍ ذی الحجہ ۱۴۴۳ھ جمعہ
سابق عہدیداران و ارکان جو۱۴۰۷ھ ؍ ۱۹۸۷ء سے تاحیات ادارہ سے منسلک رہے
(۱) احسن العلما،حضرت مولانا سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں برکاتی، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۰؍شعبان۱۳۴۵ھ، مطابق۱۳؍فروری ۱۹۳۷ ء ، وصال: ۱۵؍ ربیع الآخر ۱۴۱۶ھ ،مطابق ۱۱؍ستمبر۱۹۹۵ء )
(۲)تاج الشریعہ ،حضرت علامہ اختر رضا خاں ازہری ، علیہ الرحمہ [سرپرست]
( ولادت: ۱۳۶۱ھ ؍ ۱۹۴۶ء ، وصال:۶ ؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ، ۲۰؍جولائی ۲۰۱۸ء بروز جمعہ)
(۳) شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق، امجدی ، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۹۲۱ ء، وصال: ۶ ؍ صفر۱۴۲۱ ھ ، ۱۱؍مئی ۲۰۰۰ ء )
(۴)حضرت مولانا قاری محمد عثمان اعظمی مصباحی، علیہ الرحمہ [سرپرست]
(ولادت: ۱۹۱۸ء ، وصال: ۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ ، ۱۱؍ اگست ۱۹۹۵ء)
(۵)حضرت مولانا نصرللہ رضوی مصباحی، بھیروی ، علیہ الرحمہ [رکن]
( ولادت: ۱۵فروری ۱۹۵۶ ء وصال: ۴؍ محرم ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء)
(۶) حضرت مولانا اعجاز احمدمصباحی، مبارکپوری ، علیہ الرحمہ [رکن]
( وصال : ذی قعدہ ۱۴۳۸ھ ؍ جولائی ۲۰۱۷ء)
موجودہ ارکان وعہدیداران مجلس انتظامیہ
۱- پروفیسر شاہ سید محمد امین برکاتی دام ظلہ [سرپرست]
سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ شریف
۲- مولانا شاہ عبدالحفیظ دام ظلہ [سرپرست]
سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ، ضلع اعظم گڑھ
۳- مولانا یسین اختر مصباحی [صدر]
بانی دارالقلم دہلی ؍ سابق استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۴- مولانا افتخار احمد قادری،ساکن گھوسی، مئو [نائب صدر]
سابق استاذ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور
۵- مولانا محمداحمد مصباحی، ساکن بھیرہ، ولیدپور،مئو[سکریٹری]
موجودہ ناظم تعلیمات وسابق صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۶- مولانا عبدالمبین نعمانی مصباحی [نائب سکریٹری]
مہتمم دارالعلوم قادریہ ،چریاکوٹ ،ضلع مئو
۷- مولانا رفیع القدر مصباحی [خازن]
ساکن ملت نگر،مبارک پور ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۸- مولانا عبدالغفار اعظمی مصباحی [محاسب]
ساکن محلہ اسلام پور،مبارک پور ؍ استاذ ضیاء العلوم ،خیرآباد
۹- مولانا احمدالقادری مصباحی [رکن]
ساکن بھیرہ،ولیدپور ،ضلع مئو ؍ سابق استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۰-مولانا اختر حسین فیضی مصباحی [رکن]
ساکن عزیزنگر،مبارک پور ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۱۱-مولانا نفیس احمدمصباحی [رکن]
ساکن سدَّھور،ضلع بارہ بنکی ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۲-مولانا مسعود احمد برکاتی مصباحی [رکن]
ساکن سسوابازار،ضلع سنت کبیر نگر ؍ استاذجامعہ اشرفیہ ،مبارک پور
۱۳- مولانا ازہرالاسلام مصباحی ازہری [رکن]
ساکن چریاکوٹ ؍ استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
۱۴- مولانا فیضان رضا امجد مصباحی [رکن]
ساکن بھیرہ، ولیدپور،ضلع مئو

موجودہ بلڈنگ کی قدرے تفصیل :
(۱) لائبریری
(۲) دارالمطالعہ
(۳) کتب خانہ
(۴) مصلی ؍ نماز گاہ
(۵)کمپیوٹر روم
(۶) مہمان خانہ
(۷) مطبخ (باورچی خانہ)
(۸) اسٹور روم
(۹) جنریٹر روم
(۱۰) تہ خانہ (تقریباً چار ہزار سکوائر فٹ)
(۱۱) بالا خانہ ( دس ہزار مربع فٹ سے زائد)
(۱۲) مزیدمتفرق ۱۴کمرے

ادارہ کے شعبے
(۱) دارالتصنیف
(۲) دارالتحقیق
(۳) دارالکتب
(۴) دارالمطالعہ
(۵) دارالاشاعت
(۶) دارالتربیۃ والتعلیم [تحریری و تصنیفی تربیت]
(۷) شعبۂ مالیات
(۸) سمینار ہال
(۹) مصنفین کے کمرے
المجمع الاسلامی کی قلمی خدمات: الحمدللہ! سترسے زیادہ کتابیں ، المجمع الاسلامی کے ذریعہ تصنیف وتالیف، تحقیق وترجمہ وتحشیہ کے مراحل سے گزرکر منظر عام پر آچکی ہیں۔

المجمع الاسلامی کی اشاعتی خدمات: ماشاءا للہ! اس ادارے نے اب تک ۱۸۳ سے زائد دینی وعلمی کتابیں شائع کیں۔
دعا ہے کہ اللہ عزوجل اِس ادارے کو دن دونی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، بانیان، سرپرست، ارکانِ ادارہ کا سایہ دراز سے درازتر فرمائے، ان کی حفاظت و صیانت فرمائے، ان کی تمام خدمات دینیہ قبول فرمائے، تمام معاونین کا تعاون قبول فرماکر دارین میں بےشمار اجرو ثواب عطا فرماے، جو ارکان وسرپرست ومعاونین دنیا سے رخصت ہوگئے، ان کی مغفرت فرماکرجَنّاتِ نعیم میں ان کے درجات بلند فرمائے۔
آمین، یا رب العلمین ، بجاہ حبیبک سید المرسلین ، علیه وعلیہم الصلوة والتسليم

ادارہ
۲۳؍محرم الحرام ۱۴۴۴ھ ؍۲۰؍اگست ۲۰۲۲ء

اَلْاِسْلامی.نیٹ
www.alislami.net (Al-ISLAMI)

مفتی محمد قمر الحسن، چیف قاضی آف رویت ہلال کمیٹی آف امریکا

بسم ﷲ الرحمٰن الر حیم

معائنہ
حضرت مولانا مفتی محمد قمر الحسن صاحب قادری مد ظلہ العالی
چیف قاضی، رویت ہلال کمیٹی آف امریکہ
نحمدہ‘ و نصلی و نسلم علی حبیبہ الکریم و اتبا عہ الفخیم

اما بعد:آج مو رخہ ۷؍ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ھ ۱۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء بروز سنیچر ،دارالعلوم عزیزیہ، پلینو ،ٹیکساس ،امریکہ، کے سالانہ عید میلا د النبی ﷺ کے پرو گرام میں حاضر ہوا۔گرامی قدر محترم حضرت مولانا مفتی احمدالقادری مصباحی نے دارالعلوم عزیزیہ کی
کا رکر دگی سے آگہی بخشی۔پھر شام کو پروگرام کے آغاز میں طلبہ نے ابتدائیہ پرو گرام پیش کیا ،خصوصا درجہ عالمیت کے بہت ہی محنتی طالب علم، عزیزم عمیر عبدالجبار سَلَّمَہ رَبُّہ نے یہاں کے نیشنل لینگویج انگلش میں بہت ہی عمدہ خطاب کیا۔جس سے دارالعلوم کا معیار واضح ہو گیا۔متحدہ امریکہ میں اہلسنت و جماعت کا یہ ایک منفرد ادارہ ہے،جس کی شدید ضرورت تھی۔جو حضرت مفتی صاحب موصوف کے ذریعہ اسلامک اکیڈمی کے تحت وجود میں آیا، یہاں کے اجنبی ما حول میں دینِ مبین اور مسلک حق کے اس ترجمان کو پروان چڑھانا ہر مسلمان کا،ملّی فریضہ ،اور رضائے مولیٰ کا عظیم ذریعہ ہے ۔
ربّ کریم اس کو آفات ارضی و سماوی سے محفوظ فرمائے، اور تمام اراکین ومعاونین،مخلصین ومحبین کو اس کی جزائے و افر عطا فرمائے، اور ادارے کی ضرورتوں کی کفالت کا سامان پردئہ غیب سے عطا فرمائے۔ مفتی صاحب کو صحت کے ساتھ ادارہ کی وسعت کے لئے عزم وحوصلہ عطا فرمائے۔
  آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

محمد قمر الحسن قادری غفرلہ القوی
خطیب و امام مسجد النور مر کزی ہوسٹن،ٹیکساس
وبانی بزم حسان انٹرنیشنل نعت اکیڈمی ہوسٹن
وچیئرمین رویت ہلال کمیٹی آف نارتھ امریکہ
۸؍ ربیع الاول شریف ۱۴۲۶ھ ۱۷؍اپریل ۲۰۰۵ء

 

مولانا سید جعفر محی الدین قادری، شکاگو

معائنہ
حضرت مولانا سید جعفر محی الدین قادری (علیہ الرحمہ)
فاضل جامعہ ازہر ،مصر(شکاگو)

لَہ الحمد،حامدًا وَّمُصَلِّیًا
محترم جناب مفتی احمدالقادری صاحب کے حکم کی تعمیل میں،پلینو، ڈیلس کے دارالعلوم العزیزیہ میں حاضر ہوا۔اس کے مختلف اقسام و شعبہ جات کا معائنہ کیا۔نہایت خوشی کی بات، اس پر آشوب زمانہ میں اور خاص طور پر امریکہ جیسے ملک میں یہ دینی خدمات :تدریس ِقرآن، تفسیر،حدیث اور فقہ جیسے علوم، اللہ رب العزت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔
مالک حقیقی سے دعا ہے کہ اپنے حبیب کے طفیل ، اس ادارہ کو مفتی صاحب محترم کے زیر سایہ پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے کا مو قعہ عطا کرے اور عوام الناس کو ان سے تعاون کرنے اور استفاذہ کی توفیق عطافرمائے ۔ ویرحم اﷲ عبدا قال آمینا۔

الفقیرالیہ تعالی
سید جعفر محی الدین القادری
۲۹؍ربیع الاول ۱۴۲۸ھ
الموافقۃ ۱۷؍ابریل ۲۰۰۷ء
الثلاثاء

معائنہ، علامہ محمد مقصود احمد چشتی، لاہور

معائنہ
پیر طریقت، حضرت علامہ، محمدمقصود احمد ،چشتی، قادری
دامت برکاتہم العالیہ
سابق خطیب و امام، داتا دربار،لا ہور،پاکستان
{باسمہٖ سبحانہ}

حضرت علا مہ مولانامفتی ،احمد القادری زید مجدہٗ کی ،دعوت پر اسلامک سینٹر ؍ دارالعلوم عزیزیہ کا معائنہ کیا۔ حضرت علامہ موصوف اعلٰحضرت ،مجدددین و ملت، رضی اللہ عنہ کے مسلکِ حق کی، ترویح و اشاعت کے ساتھ ساتھ، درس نظامی کی کتب کی تدریس پر بھی مصروف ہیں۔ حضرت صاحب اور تمام رفقاء کا ر عظیم الشان دارالعلوم عزیزیہ کی تعمیر کے ابتدائی مراحل کی تیار ی میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلۂ جلیلہ سے دارالعلوم کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے، اور اس میں درپیش مشکلات کو دور فرمائے۔نیز ربِّ ذوالجلال اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مفتی صاحب کی عمر، اور تدریسی، و تصنیفی خدمات میں، برکت فرمائے۔ آمین

محمدمقصود احمد چشتی قادری
خطیب و امام، داتا دربار،لا ہور، پاکستان
۲۱؍مئی ۲۰۰۹ء
۲۶؍جمادی الا ولیٰ ۱۴۳۰ھ

علامہ شاہ تراب الحق قادری، علیہ الرحمہ، کراچی

معائنہ
پیر طریقت، حضرت علامہ، سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ
امیر جماعت اہلسنت،کراچی،پاکستان

بسم ﷲ الرحمن الرحیم

مجھے یہ جان کربے حد خوشی ہوئی کہ، حضرت علامہ مفتی احمدالقادری مدظلہ العالی نے سر زمین ڈیلس پر، ایک دارالعلوم ، اسلامک اسکول، اور ٹرینگ سینٹر،دارالتصنیف،دارالاشاعت وغیرہ کا،ایک جامع منصوبہ بنایا ہے۔اور ایک الگ سے زمین لے کر اس میں یہ اہتمام اور انتظا م کر نا چاہتے ہیں۔یہ ایک بہت اچھا منصوبہ، اور ایک اچھا پروگرام ہے۔اور وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے حبیب علیہ الصلوۃو السلام کے صدقے حضرت مفتی احمد القادری کو کامیابی عطا فرمائے، اور اس سعی جمیل کو قبول فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین، علیہ افضل الصلوۃ التسلیم

فقیر سید شاہ تراب الحق قادری رضوی
۱۹؍ربیع الآخر ۱۴۲۶ھ ۲۹؍مئی ۲۰۰۵ء

معائنہ حضور محدث کبیر ، دامت برکاتہم

مُعائنہ

جانشینِ صدرالشریعہ ،محدّثِ کبیر ،حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری دامت برکاتہمالعالیہ
بانی ،جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی ،مئو ،یوپی،ہند

بسمﷲ الرحمٰن الرحیم
اَلْحَمْدُ للہِ ، وَالصَّلٰوۃُ عَلیٰ رسولِ ﷲ ، (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)
اما بعد!

ڈیلس ،امریکہ، آمد ہوئی تو یہاں کے دارالعلوم عزیزیہ، پلینو، میں حاضری ہوئی،جو حضرت مولانا مفتی احمد القادری صاحب کی قیادت میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔علوم ِدینیہ میں تفسیر و حدیث و فقہ وعقائد کی باقاعدہ تعلیم کا نظم ہے۔بحمدہ ٖتعالیٰ! طلبہ و طالبات بھی باذوق وشوق تحصیل میں مشغول ہیں۔طالبات کے لئے باقاعدہ شرعی پردہ کا اہتمام ہے۔
دارالعلوم عزیزیہ کے معیار تعلیم کے ساتھ، اس کی عمارت بھی بہت ہی خوبصورت، و پر شکوہ ہے،اور تمام ضروریات مدرسہ پر مشتمل ہے۔
ربّ قدیر اس ادارہ کو خوب ترقی عطا فرمائے، اور مفتی صاحب موصوف اور ان کے جملہ رفقائے کار کو، اعزاز اور جزائے خیر سے نوازتا رہے۔آمین  بِجاہِ سَیّدِ المُرْسلِین علیہِ اَفْضلُ الصَّلٰوۃِ ، وَاَکْمَلُ التَسْلِیمِ

فقیر ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ
نزیل ،ڈیلس ،امریکہ
۱۴؍ربیع الاول ۱۴۳۶ھ
۵؍جنوری ۲۰۱۵ ء

مولانا ڈاکٹر محمد غفران علی صدیقی، نیویارک

تأثر:

پیر طریقت، حضرت مولانا ڈاکٹرمحمد غفران علی صدیقی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
خلیفۂ حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین ۔ والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا و مو لٰینامحمد المبعوث رحمۃ
للعلمین ۔ و علٰی آلہ الطیبین الطاھرین ، و اصحابہ المکرمین المعظمین ، اجمعین

اما بعد: فقیر آج بروز ہفتہ شب ۲۵ ؍رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ ۷ ؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء ڈیلس دارالعلوم عزیزیہ مین محفل ختم قرآن کریم صلوٰۃ التراویح میں حاضر ہوا۔ حضرت اقدس علامہ مفتی احمدالقادری صاحب مد ظلہ العالی کی خدمات دینیہ کا ثمرہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔فقیر غفرلہ‘کی یہ تیسری حاضری ہے۔
ماشاء اللہ کرائے کی جگہ سے چھٹکارا ہو چکا ہے۔ حضرت کا قافلہ دیکھ کر ان سب کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں،(اللہ تعالی) ان سب کودین اور دنیا کی برکات سے مالا مال فرمائے۔
حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی اتنے قلیل عرصہ میں حضرت مولینا عمیر سلمہ‘ کی ABCDسے شروع کرکے مسلم شریف تک پہونچا دیا ہے۔
دل تو چاہتا ہے جامعہ اور دارالعلوم کے لئے طویل مداحیہ اور دعائیہ قصیدہ لکھوں۔لیکن فی الحال ان ہی دعائوں پر اکتفا کرتا ہوں ۔

والسلام و الدعاء
فقیر محمد غفران علی الصدیقی الرضوی غفرلہ
خادم رضا ،خادم اہلسنت والجماعت،
خادم دارالعلوم نیویارک
369 Fan.145 st
Bronx.N.Y 10454
718-401-2344

سپاس نامہ چیف قاضی آف امریکا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سپاس نامہ
خلیفۂ تاج الشریعہ، حضرت مولانا مفتی محمد قمرالحسن صاحب بستوی ، حفظہ اللہ تعالیٰ ،فصیح اللسان خطیب، قادرالکلام شاعر، باصلاحیت مدرس، اچھے مصنف و مؤلف اور عمدہ نثر نگار ،گوناگوں خوبیوں کے حامل اور اوصاف جمیلہ سے متصف ہیں۔
اداروں سے تعلق:آپ النور مسجدہیوسٹن کے امام و خطیب ، اسلامک اکیڈمی آف امریکا کے سرپرست،رویت ہلال کمیٹی آف امریکا کے چیف قاضی و چیئرمین، اوربزم حسان انٹر نیشنل نعت اکیڈمی ، ہیوسٹن کے بانی و صدر ہیں۔
عہدۂ قضا: تقریباً ۲۳ سال سے رویت ہلال کمیٹی کی فی سبیل اللہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جولائی ۱۹۹۹ میں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنے دستخط کے ساتھ چیف قاضی کی سند عطا فرمائی اور ان کے روبرو مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی دامت برکاتہم نے ہیوسٹن کی بھری کانفرنس میں اس کا اعلان فرمایا۔ سند کا مضمون یہ ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شہادۃ القضاۃ
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

شمالی امریکہ میں شرعی مسائل کے حل کےلیے ”رویت ہلال کمیٹی آف نارتھ امریکہ“ کاقیام ایک خوش آئند اقدام ہے، جس میں شرعی مسائل کے حل کے لیے ۔بحیثیت چیف قاضی مولانا حافظ قاری محمدقمرالحسن خطیب وامام مسجد النور ۶۴۴۳ پریسٹ وو ڈہیو سٹن ٹیکساس امریکہ کو منتخب کیاجاتاہے ۔
اعلان : از مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی، جنرل سکریٹری ،ورلڈ اسلامک مشن، بریڈ فور ڈ، لندن، برطانیہ۔
اجازت وتائید: از نبیرۂ امام احمدرضا ، تاج العلماء ، علامہ مفتی محمداختر رضا خان،ازہری قادری مفتی اعظم ہند، بریلی شریف ،انڈیا۔
محمدقمرالزماں اعظمی فقیر محمد اختر رضاقادری ازہری غفرلہ
دستخط معلن دستخط موید واجازت
تاریخ: ۲۰؍ ربیع الاول ۱۴۲۰ھ ؍ ۴؍ جولائی ۱۹۹۹ء ، اتوار

تعلیمی اسناد: الحمد للہ ! علوم اسلامیہ، علوم عقلیہ ،علوم نقلیہ اور علوم عصریہ کی اعلیٰ تعلیم آپ نے حاصل ہیں اور ان سب کی سندیں آپ کے پاس موجود ہیں ،مثلاً
حفظ قرآنِ مقدس ،عالمیت: از دارالعلوم تدریس الاسلام، بسڈیلہ، بستی
تجوید (قراءتِ عاصم بروايت حفص )،فضیلت:از الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، فیض آباد، یہاں سے درس نظامیہ کی بھی تکمیل کی ہے
ادیب ماہر، ادیب کامل :از جامعہ اردو علی گڑھ
منشی ،منشی کامل، مولو ی ، عالم ،فاضلِ دینیات ،فاضلِ معقولات،فاضلِ ادب : از عربی فارسی بورڈ، حکومت اتر پردیش
فضیلت:از الجامعۃ الاشرفیہ ،عربی یونیورسیٹی ،مبارک پور ،اعظم گڑھ،
ایم اے فارسی :از مسلم یونیورسیٹی، علی گڑھ
ایم اے اردو:از اَوَدھ یونیورسیٹی ،فیض آباد
جدید عربی ادب :کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ ،طرابلس ،لیبیا،میں داخلہ لے کر جدید عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔
لسانیات: عربی، فارسی ، اردو، ہندی، انگلش، پوربی، چھ زبانیں جانتے، سمجھتے اور بولتے ہیں۔
تصنیفات و تالیفات: آپ ایک اچھے قلم کار اور بہترین شاعر ہیں، آپ کی تصنیفات و تالیفات میں
(۱) تذکرہ مولانا عبد الرؤف (علیہ الرحمہ )
(۲) افکار رضا (علیہ الرحمہ )
(۳) تجلیات مفتی اعظم ہند (علیہ الرحمہ )
(۴) افضلیت مصطفیٰ (ﷺ)
(۵) فتاوی امریکا
(۶) یا اَیہاالمزمل (صلی اللہ علیک وسلم) نعتوں کا مجموعہ
(۷) یااَیہا المدثر (صلی اللہ علیک وسلم) نعتوں کا مجموعہ
(۸) مسائلِ زکات ، وغیرہ مشہور ہیں
ان کے علاوہ درجنوں مقالات و مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
بیعت وخلافت: شہزادۂ اعلی حضرت،قطب زماں، سرکار مفتی اعظم ہند، علیہما الرحمہ سے بیعت وارادت ہے اور جانشینِ مفتی اعظم ہند، حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت واجازت حاصل ہے۔
خدمات: ۱۹۹۲ سے امریکا میں مذہب حقہ اہل سنت والجماعت اور مسلک اعلی حضرت کے داعی ہیں، تقریباً ۳۰سال
سے دیار غیر میں اسلام و سنت کی خدمات انجام دے رہے ہیں، بیشمار ان کے شاگرد دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ہدیہ تشکر:اپنی کثیر مصروفیات کے باوجود، اپنا قیمتی وقت نکال کر تقریباً ۲۳ سال سے رویت ہلال کمیٹی آف امریکا کی بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں اور ماہ بماہ شرعی تحقیق و تفتیش کے بعد بحیثیت چیف قاضی چاند کی رویت کا فیصلہ فرماتے ہیں،ان کی خدمات کے ہم تہ دل سے مشکور و ممنون ہیں۔ملتِ اسلامیہ خصوصاً مسلمانانِ امریکا کےلئے وہ عظیم سرمایہ ہیں، اللہ عزوجل صحت وسلامتی کے ساتھ ان کا سایہ امت مسلمہ پر دراز سے درازتر فرمائے۔ آمِیْن ، بِجَاہِ حَبِیْبِہٖ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ، عَلَیْہِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْم ۔

احمد القادری
خادم
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
1251 Shiloh Road, Plano, Texas, 75074, USA
یکم ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ ؍ یکم جون ۲۰۲۲ء
الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net

رویتِ ہلال، احمد القادری مصباحی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ،
رویت ہلال

آج مؤرخہ ۲۶؍ذی الحجہ ۱۴۱۷ ھ، مطابق ۴؍اپریل ۱۹۹۷ ء بروز اتوار ،اردو ٹائمز کا ۲۳؍ذی الحجہ ۱۴۱۷ ھ یکم ؍مئی ۱۹۹۷ ء جمعرات کا شمارہ نظر سے گزرا۔اس میں اہل علم سے رویت ہلال کے مسئلے پر لکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔یہ نہایت اچھا اقدام ہے۔مسلمان اپنے شرعی مسائل سے واقفیت رکھیں اور مذہبی مسائل خود اپنے مذہب وشرع کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں۔ادارہ اردو ٹائمز کی فرمائش پر ذیل کا مضمون زیب قرطاس کیا گیا ہے۔
قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃَ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجْ
(سورہ بقرہ آیت ۱۸۹)
اے محبوب آپ سے نئے چاند کے بارے میں لوگ پوچھتے ہیں،آپ فرما دیجئے وہ لوگوں اور حج کے لئے وقت کی علامتیں ہیں۔
ہلال: لغت میں نئے چاند،اور اصطلاح میں پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔چودہویں رات کے چاند کو بدر اور ان کے علاوہ مطلقاً چاند کو قمر کہتے ہیں۔
نماز کے علاوہ اسلام کی دیگر عبادتیں چاند سے متعلق ہیں۔حج ،زکوٰۃ،روزئہ رمضان،عید الفطر،عید الاضحی،محرم،عید میلاد النبی ﷺ،سارے مبارک دن ،ساری مبارک راتیں،تمام اسلامی تہوار،عشر،صدقۂ فطر،بیوہ اور مطلقہ عورتوں کی عدت،بچوں کو دودھ پلانے کی مدت(ایام رضاعت) غرض کہ مسلمانوں کے بے شمار مسائل چاند سے وابستہ ہیں۔
چاند ایک آسمانی جنتری ہے۔اسے دیکھ کر ہر پڑھا ،لکھا اور اَن پڑھ تاریخ کا پتہ لگا سکتا ہے۔چاند کے پیدا کرنے والے رب نے خود چاند کو حج اور دیگر کاموں کی تاریخیں حاصل کرنے کی علامت قرار دیا۔ اس سے قمری مہینے اور اس کی تاریخ کی اہمیت و افضلیت واضح ہوجاتی ہے۔مندرجہ بالا بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ کثیر اسلامی امور کا دارومدار رویت ہلال پر ہے۔لہٰذا اب احادیث وفقہ کی روشنی میں اس کے ثبوت کے طریقے ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث ۱۔عن ابن عمر قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول اذا رأیتموہ فصوموا واذا ر أیتموہ فافطرو فان غم علیکم فا قدرو لہ (لھلال رمضان)
(بخاری شریف ،کتاب الصوم)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا،جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کرو اور جب(شوال کاچاند) دیکھو،تو افطار کرو(یعنی عید الفطر کرو) اگر مطلع (غبار یا) ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگالو، یعنی تیس دن مکمل کر لو۔
سر کار دوجہاں ﷺ کی اس حدیث پاک سے صاف واضح ہو گیا کہ چاند دیکھ کر رمضان کا روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی عید منائی جائے۔کسی وجہ سے چاند نظر نہ آسکے، تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے (یعنی تیس روزے مکمل کرکے) عید منائی جائے۔
حدیث ۲۔قول النبیﷺ اذا رأ یتم الھلال فصومو واذارأیتوہ فا فطرو وقال صلۃ عن عمار من صام یوم الشک فقد عصی ابا القاسمﷺ۔ (بخاری ،کتاب الصوم)
ارشاد نبی کریم ﷺ ہے۔چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
حضرت صلہ،حضرت عمار سے روایت کرتے ہیں۔جس نے شک کے دن روزہ رکھا ،اس نے ابو القاسم(ﷺ) کی نافرمانی کی۔
اس حدیث پاک سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ چاند دیکھے یا اس کے ثبوت کے بغیر کسی نے روزہ جیسی اہم عبادت ادا کی، تو ناجائز کام کیا۔بلکہ اس کو شک ہو کہ شاید چاند ہو چکا ہو،بادل کی وجہ سے ہمیں نظر نہ آسکا، یا ہو سکتا ہے ان مقام پر چاند نظر آگیا ہو اور اس تک شہادت نہ پہونچ سکی۔لہٰذا اس شبہ کی بنیاد پر اِس نیت سے روزہ رکھ لیا ،کہ آج اگر رمضان ہو تو اس کی طرف سے یہ روزہ ہو جائے گا۔اس نے گناہ کیا اور نبی کریم ﷺ کی نا فرمانی کی۔
حدیث۳۔عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ﷺ ذکر رمضان فقال لا تصومو احتیٰ تروالھلال ولا تفطروا حتیٰ تروہ فان غم علیکم فا قدرولہ۔(بخاری،کتاب الصوم)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر فرمایا تو کہا،جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو۔اور نہ ہی افطار (عید الفطر) کرو۔یہاں تک کہ چاند دیکھ لو ،اگر مطلع ابر آلود ہو تو حساب کر لو۔’’یعنی تیس دن پورے کرو‘‘۔
اس حدیث سے بھی چاند دیکھنے پر ہی رمضان و عید کا دارومدار رکھا گیا۔یہ ارشاد نہیں ہوا کہ اگر انتیس کا چاند نظر نہ آسکے تو اِدھراُ دھربھاگ دوڑ کر کے چاند کا پتہ لگائو ۔تمہارے شہر میں بادل ہے،شاید دوسرے شہر میں مطلع صاف ہو،وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہو۔وہاں فوراً گھوڑے دوڑائو،اور کہیں نہ کہیں سے چاند ضرور تلاش کر کے لائو۔ان سب تکلفات کا ہم کو مکلف نہیں بنایا گیا،بلکہ سیدھا سادہ ،آسان سانسخہ عطا ہوا۔تیس دن کی گنتی پوری کرلو۔فقط۔
اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرْ۔(رواہ البخاری)
بیشک دین آسان ہے۔
یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۔(قرآن کریم)
اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیںچاہتا۔
جب اللہ و رسول( ﷺ) ہمارے لئے آسانی فراہم کرتے ہیں کہ تم چاند دیکھو تو روزہ ،عید کرو، نہ دیکھو تو مت کرو۔ یہ ہمارے اوپر فرض نہیں کیا گیا کہ دنیا بھر کے لوگ یا ملک بھر،اور تمام شہر کے لوگ ایک ہی دن عید کریں۔تو پھر کیوں لوگ عید کے چاند کے لئے پریشان ہو کر بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ٹیلیفون،ریڈیو کا سہارا لے کر بے چاند دیکھے خواہ مخواہ عید کرنے کے لئے خود پریشان ہوتے ہیں۔اور ملت مسلمہ کو پریشان کرتے اور اختلاف میں ڈالتے ہیں۔
حدیث ۴ ۔ان رسول اللہ ﷺ قال الشھرتسع و عشرون لیلۃفلا تصوموا حتیٰ تر وہ فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلاثین۔(بخاری )
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،مہینہ (بسا اوقات) انتیس راتوں کا ہوتا ہے،اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھواور جب تک چاند نظر نہ آئے روزہ نہ افطار کرو(عید الفطر نہ کرو) اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن پورے کرو۔
حدیث ۵۔عن ابی ھریرۃ قال ابو القاسمﷺ صومو الرویتہ و افطرو لرو یتہ فان غبی علیکم فاکملو عدۃ ثلثین۔(بخاری ، جلد اول)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضرت ابو القاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا ،چاند دیکھ کر روزہ رکھو،اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو،اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو۔
مندرجہ بالا احادیث کریمہ سے یہ پتہ چلا کہ اسلامی مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔اور اس گنتی کا اعتبار رویت ہلال (چاند کے دیکھنے)پر ہے۔چاند کے ہونے، یا چاند کی پیدائش پر نہیں۔ہر حدیث میں بادل کے بار بار ذکر سے یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ اگر چہ بادل کے اوپر چاند نکلا ہو مگر زمین پر بسنے والے مسلمانوں نے، بادل کے نیچے سے چاند نہیں دیکھا، تو مہینہ تیس دن مانا جائے گا۔
حدیث پاک میں چاند کے ہونے نہ ہونے سے بحث نہیں،محض چاند دیکھنے سے بحث ہے۔اور اسی سے ثبوت رویت ہوتا ہے۔
حدیث ۶۔ عن ابی زفر قال کنا عند عمار بن یا سر فاتی کشادہ مصلیۃ فقال کلو فتخی بعض القوم فقال انی صائم فقال عمار ومن صام الیوم الذی شک فیہ فقد عصی ابا القاسم(ﷺ)وفی الباب عن ابی ھریرۃ وانس رضی اللہ تعالٰی عنھما ۔
ابن زفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں(تیس شعبان کو) ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی۔انھوں نے فرمایا’’کھائو ‘‘ایک شخص علحدہ ہو گیا اور کہنے لگا میں روزہ دار ہوں۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نا فرمانی کی۔
اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، سرکار دو عالمﷺ نے ان کو اپنے اہل بیت میں شامل فرمالیا تھا۔ان کے پاس تیس شعبان کو بہت سے لوگ جمع تھے۔بھنی ہوئی ایک بکری پیش ہوئی ،حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کو کھانے کی دعوت دی،سب کھانے پر حاضر ہوئے مگر ایک شخص علحدہ ہو گیا اور کہنے لگا میں روزہ دار ہوں۔تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سرکار دو جہاں ﷺ کا نا فرمان ٹھہرایا۔اور ایسا روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔
مذکورہ بالا حدیث، بخاری،ترمذی،مشکوٰۃ وغیرہ حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں۔آج بہت سے لوگ چاند دیکھے بغیر تیس شعبان کو روزہ رکھ کر اپنا تقوی جتاتے ہیں، کہ احتیاطاً روزہ رکھ لیا ہے۔اور انھیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ نبی کریم ﷺ کا فتوی اس کے برخلاف ہے۔
حدیث۷۔ ابو عیسیٰ حدیث عمار حدیث حسن صحیح والعمل علی ھذا عند اکثر اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ ومن بعد ھم من التابعین وبہ یقول سفیان الثوری ومالک ابن انس وعبد اللہ ابن مبارک و الرجل الیوم الذی یشک فیہ ورأی اکثرھم ان صامہ و کان من شھر رمضان ان یقضی یو ماً مکانہ۔(ترمذی شریف ، جلد اول)
امام ترمذی فرماتے ہیں:۔حدیث عمار،حسن صحیح ہے۔اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے۔(ائمہ مجتہدین میں سے) حضرت سفیان ثوری،حضرت امام مالک،حضرت عبد اللہ ابن مبارک(شاگرد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)،امام شافعی،امام احمد بن حنبل اور حضرت اسحق(رحمۃ اللہ علیہم) بھی اسی کے قائل ہیں ۔اکژ کی رائے ہے کہ اگر شک کے دن روزہ رکھا اور (بعد میں پتہ چلا کہ) وہ دن رمضان کا تھا تو پھر اس روزہ کی قضا کرے۔
اِن احادیث کریمہ سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ شریعت مطہرہ میں، رمضان و عید وغیرہ سارے اسلامی مہینوں کی ابتدا کادارومدار، رویتِ ہلال( چاند دیکھنے) پر ہے۔ ثبوتِ رویت کے بغیر نہ رمضان کا روزہ رکھنا درست ہے نہ عید کرنانہ قربانی کرنا۔۲۹ ویں کو کسی سبب سے چاند نظر نہ آسکے تو نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مہینہ تیس دن کا شمار کرلیاجائے۔ اگر پوری امت مسلمہ اپنے نبی کریم ،رؤف و رحیم ﷺ کے اِن ارشادات عالیہ پر متفق ہوجائیں ،اور شریعت مطہرہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجائیں تو رمضان و عید وغیرہ کے موقع پہ رونما ہونے والے، آپسی اختلافات بڑی آسانی سے دور ہوسکتے ہیں۔
اللہ عزوجل ہمیں اور پوری امتِ مسلمہ کو شریعتِ مطہرہ پر دل وجان سے، خوشی خوشی، چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین، بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم ۔
احمد القادری رَضوی مصباحی
ڈیلاس ، ٹیکساس، امریکا

الاسلامی.نیٹ www.alislami.net

 

مولانا نصر اللہ رضوی علیہ الرحمہ

بِسْمِ ﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الحمد للّہ رب العلمین ، والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین ، وعلی الہ واصحابہ اجمعین ،

مولانا نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمۃ کی حیات وخدمات
(ولادت: ۱۵فروری ۱۹۵۶ ء وفات: ۴؍ محرم ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء ، سنیچر)

مولاناحافظ شاداب رضاامجدی بن علامہ نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمہ

اس رنگ ونوربھری دنیا میں، روزانہ نئی زندگیاں جنم لیتی ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں فنا ہو جاتی ہیں، اس میں اکثرو بیشتر کی زندگی اپنی جدوجہدتک محدود رہتی ہے لیکن ایسے افراد بہت کم ملتے ہیں جواپنے اخلاق وکردارسے دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں۔
جامع معقول ومنقول حضرت علامہ نصراللّٰہ رضوی مصباحی علیہ الرحمۃوالرضوان انہیں پاکباز شخصیتوں میں سے ایک تھے، جنہوں نےتدریس وتصنیف اور دین متین کی خدمات زندگی کے آخری لمحات تک بڑے احسن طریقے سے انجام دیں ، یہ ابوالفیض حضور حافظ ملّت علیہ الرحمہ کا فیض ،اورابوالبرکات مفتیٔ اعظم ہند مصطفیٰ رضا قادری علیہ الرحمہ کی برکتیں تھیں، جن کے دامن ارادت سے آپ منسلک تھے ۔
آپ کی جائے پیدائش ضلع اعظم گڈھ موجودہ ضلع مئوکا مشہور ومعروف موضع بھیرہ ہے۔جو ایک قدیم آبادی ہے بھیرہ اعظم گڈھ شہر سے تقریبًا۲۵کلو میٹرپورب مئو شہر سے۲۷کلو میٹر پچھم اور تحصیل محمدآ باد گوہنہ سے۳کلو میٹر اتر واقع ہے ٹونس ندی اسے تین طرف سے گھیرے ہوئےہے گویا یہ علاقہ ایک جزیرہ نما ہےصرف پورب کی طرف سے خشکی کا راستہ ملتا ہے اور اس سر زمین پر بہت سے بزرگوں کی تاریخی یادگار یںہے ۔
اسی سرزمین پرعلامہ رضوی علیہ الرحمہ ۱۵فروری۱۹۵۶کو پیدا ہوئے،آپ کے والد کا نام ماسٹر محمد یونس برکاتی (مرحوم )ہے جنکا وصال ۱۰فروری ۲۰۰۴ منگل کی رات میں ہوا ،ماسٹر محمد یونس برکاتی {مرحوم} صوم و صلوۃ کے بڑے پابند تھے ،اپنے اکلوتے بیٹے کے ہوش سنبھالتے ہی تعلیم علوم نبویہ پر پوری توجہ دی، اور گاؤں کے مدرسہ رحیمیہ میں داخل فرمایا، جہاں آپ نے پرائمری اور ابتدائی فارسی کی تعلیم حاصل کی ، درس نظامی کی ابتدائی کتابیں (میزان، منشعب وغیرہ) صدرالعلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کے پاس ان کے دولت کدہ پر حاضر ہوکر پڑھیں۔
اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم اور درس نظامیہ کی تکمیل کے لئے باغ فردوس دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور جاکر اپنے وقت کے ممتاز علماےکرام سے اکتساب فیض کیا ،جن میں حضور حافظ ملّت علامہ شاہ عبدالعزیز محدّث مرادآبادی بانی جامعہ اشرفیہ مبارکپور سر فہرست ہیں ۔ ۱۰؍شعبان ۱۳۹۲ھ مطابق ۱۹۶۹ٕ میں سند فراغت حاصل کی جبکہ الہ آباد بورڈ سے منشی ، منشی کامل ،مدرسہ جدید جغرافیہ وریاضی ،مولوی ، عالم،فاضل دینیات،فاضل ادب،فاضل طب، اور علی گڑھ سےادیب ماہراور ادیب کامل کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ۔
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں ،شہزادہ اعلیٰ حضرت تاجدار اہلسنّت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر ۱۹۶۹ ٕ میں بیعت وارادت سے منسلک ہوئے۔
حضرت علامہ نصراللّٰہ رضوی علیہ الرحمہ مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے ،ان کا علمی پایہ بہت بلند تھا ،علما کے درمیان قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، تا دم حیات علمی مشاغل سے منسلک رہے تقریبًا چالیس سال تک آپ کا دریائے علم و عرفان تشنگان علم وآگہی کو سیراب کرتا رہا ،آپ نے ۱۹۷۴ ٕ میں مدرسہ عربیہ ضیا ٕالعلوم ادری ضلع مئو میں، بحکم حافظ ملّت تدریسی سلسلہ شروع کیا، ۱۹۷۶ میں دارالعلوم غوثیہ ذاکر نگر جمشید پور بحیثیت صدرالمدرسین تشریف لے گئےاور پھر ۱۹۷۸ ٕسے مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گوہنہ ضلع مئو میں، تا دم حیات مسند تدریس پر جلوہ فرما تھے آپ کو دینی مدارس کے مروجہ علوم و فنون پر عبور حاصل تھا، کوئی بھی کتاب ہو بے تکلف پڑھاتے تھے ، علم میراث میں تو مہارت تامہ رکھتے تھے ،کہ عربی زبان میں سراجی کا ایک شاندار علمی وتحقیقی حاشیہ لکھا اور آپ کی تفہیم ایسی تھی، کہ مشکل سے مشکل مباحث بآسانی طلبہ کے ذہن میں اتار دیتے، بے تکلفی اور خوش مقالی تو آپ کی زندگی کا لازمہ تھا ،عفو ، در گزر اور رحم و مروت میں اسلاف کی یادگار تھے، تدریس کے ساتھ ساتھ آپ کا شوق وذوق تصنیف و تالیف ،مضمون نگاری،حاشیہ نگاری اورعلمی وفقہی سیمیناروں میں شرکت ،آپ کا محبوب مشغلہ تھا ،آپ کے رشحات قلم درج ذیل ہیں ۔
۱۔برکات السراج لحل اصول السراجیہ {حاشیہ سراجی}
; ۲۔رسم الفرائض{قواعدمیراث}
۳۔بہار جاوداں{حاشیہ گلستاں}
۴۔ضوفشاں{حاشیہ بوستاں}
۵۔ایضاح حقیقت{ترجمہ، شرح حقیقت محمدیہ، فارسی}
۶۔حاشیہ مؤطاامام محمد (علیہ الرحمہ)
۷۔فقہی مقالے {مجلس شرعی کے فقہی سیمیناروں میں دوسرے سے بارہویں سیمینار تک تقریبًا ۴۰ مقالےومضامین قلمبند فرمائے}
امین شریعت فقہی کونسل دہلی کے ساتویں سیمینار کے لئے تحقیقی مقالے لکھے
۸۔مکالماتی مضمون{برکتاب سیدناعبدالوہاب جیلانی کا مدفن بغداد یا ناگور }
ان کے علاوہ دیگر موضوعات پر مضامین و مقالات سامنے آئے، جہاں آپ ان اوصاف و کمالات کے حامل تھے، وہیں پر آپ مکانات کی نقشہ سازی،زمین کی پیمائش مجوزہ عمارت کی لاگت کا تخمینا لگانا یعنی فنّ تعمیر میں آپ ایک ماہر انجینئربھی تھے ۔ غرضیکہ ہر کام، دینی، مذہبی،سماجی گتھیوں کو حل کرنے کا ہنر رکھتے تھے ۔مذہبی کاموں کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ۔ زیارت حرمین شریفین پہلا سفر حج آپ نے۱۹۹۸ٕ ادا فرمایا اور دوسرا سفرحج مع اہلیہ اور والدہ محترمہ کے ساتھ۲؍دسمبر ۲۰۰۶ٕ میں حج کے فرائض ادا کئے،
طبیعت علیل ہونے کے باعث اچانک۴؍ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ مطابق۹؍ نومبر ۲۰۱۳ٕء بروز سنیچر۴ بجکر ۲۵منٹ پر، فجر سے پہلے داعیِ اَجَل کو لَبَّیْک کہا ،اور اپنے معبود حقیقی سے جا ملے ۔
محلہ احمد نگر ،بھیرہ ،برکاتی مسجد کے پاس ،آپ کے نئے مکان کے اتر جانب، آپ کا مدفن ہے۔
ٓٓآپ تاحیات المجمع الاسلامی مبارک پور کے رکن، انجمن امجدیہ اہل سنت اور رضامسجد بھیرہ کے نائب صدر رہے۔
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی تربت پر رحمت و غفران کی بارش برساتا رہے۔

شاداب رضاامجدی
استاذ، دارالعلوم بشیریہ رضویہ، مادھو سنگھ، اورائی، ضلع بھدوہی، یوپی، ہند
(ملخصاً و تصرفاً)

الاسلامی.نیٹ
www.AL ISLAMI.NET

غیرمسلم بینک سے قرض لینے کا حکم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

مسئلہ: غیر مسلم بینک سے قرض لے کرمسجد، مدرسہ اور مذہبی ادارے کی تعمیر کرنا،بوقت ضرورت جائز ہے۔
فتوی: تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا قادری ازہری علیہ الرحمہ،
تصدیق: محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ قادری دامت برکاتہم العالیہ
سوال: امریکہ جوایک دارالحرب ہے یہاں مسجد، مدرسہ یاکسی دینی مرکز کو قائم کرنے کےلیے کسی مکان یازمین کانقد خریدنا بہت ہی دشوار تقریباً متعذرہے اوراُدھار خریدنے کی شکل میں طے شدہ قیمت سے زائد رقم بینک کودینی پڑتی ہے، کیا ایسی صورت میں غیرمسلموں کےبینک کوقیمت سے زائد رقم دے کر مسجد ومدرسہ کےلیے جگہیں اُدھار خریدنا جائز ہے یانہیں۔بینوا وتوجروا

المستفتی :محمدبابر رحمانی
ڈیلاس (امریکہ)

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں دینی ضرورت یاحاجت کے پیش نظر، اس کی اجازت ہے کہ قرض لےکر مسجد، مدرسہ، مذہبی ادارہ ،تعمیر کیاجائے ،اگرچہ حربی کفار کو زیادہ دیناپڑے اور یہ زیادتی حرام نہیں ہوگی کہ حدیث میں ہے :
لاربوا بین المسلم والحربی
مگر کافروں کو بلاضرورت وبے حاجت نفع پہنچانا حرام ہے ۔
قال تعالیٰ: اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ (سورہ الممتحنہ:۶۰،آیت:۹،پارہ:۲۸)
یہاں سے کھلا کہ اجازت، زیادہ دینے کی ،ضرورت یاحاجت شرعیہ کی شرط سے، مشروط ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

قالہ بفمہ و أمر برقمہ الفقیر
محمداختر رضا القادری الازہری غفرلہ

الجواب صحیح ،واللہ تعالیٰ اعلم
ضیاء المصطفیٰ قادری عفی عنہ
۲۸؍ربیع الاول ۱۴۲۲ھ (۲۱ جون ۲۰۰۱ء)

مبارکپور کی تاریخ، احمد القادری

بِسْمِ ﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الحمد للّہ رب العلمین ، والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین ، وعلی الہ واصحابہ اجمعین ،
ممتاز العلما کا وطن مبارک پور

بتاریخ ۱۶ ؍ ذی الحجہ ۱۴۴۲ ھ مطابق ۲۶؍ جولائی ۲۰۲۱ ء بروز دوشنبہ ، محب محترم مولانا ارشاد احمد شیدا اعظمی کا انگلینڈ سے فون آیا، انھوں نے ممتاز العلما کی حیات وخدمات پر ایک کتاب شائع کرنے کی خوش خبری سنائی اور اس خاکسار کو منتخب عنوانا ت میں سے کسی عنوان پر لکھنے کی فرمائش کی۔
کل عنوانات چالیس تھے ، دوسرے نمبر پر یہ عنوان تھا۔۔۔۔ممتاز العلما کا وطن مبارک پور۔۔۔۔۔یہ عنوان منتخب ہوا۔ ۔۔ وباللہ التوفیق، نعم المولیٰ، ونعم النصیر۔

احمد القادری مصباحی

مبارک پور کا نام
وجہ تسمیہ: حضرت راجہ سید مبارک شاہ علیہ الرحمہ (متوفی ۲؍ شوال ۹۶۵ھ) مبارک پور کے بانی ہیں، ان کے نام پر اِس کا نام مبارک پور پڑا۔ جامع مسجد راجہ مبارک شاہ بھی انھیں کے نام پر ہے۔
عام معلومات
جائے وقوع: مبارک پور کا طول البلد(لانگی ٹیوڈ) ۸۳ درجہ ۱۸ دقیقہ شرقی اور عرض البلد(لاٹی ٹیوڈ) ۲۶ درجہ ۵ دقیقہ شمالی ہے۔
نگرپالیکا: مبارک پور
ڈاک خانہ: مبارک پور
تھانہ: مبارک پور
تحصیل: اعظم گڑھ
ریلوے اسٹیشن:سٹھیاؤں
ضلع : اعظم گڑھ
قریبی ایر پورٹ: گورکھپور، بنارس، لکھنؤ۔اعظم گڑھ ایر پورٹ کی تعمیرجاری ہے، مستقبل قریب میں کی افتتاح کی امید ہے۔
صوبہ: اتر پردیش
پن کوڈ: ۲۷۶۴۰۴
ملک: ہند ؍ ہندوستان؍ بھارت؍ انڈیا
آبادی:مبارکپور کی مجموعی آبادی ۲۰۱۱ میں ایک لاکھ نو ہزار ، پانچ سو، انتالیس (۱۰۹۵۳۹ ) افراد پر مشتمل تھی۔
رقبہ ؍ایریا: تقریبا ًدس (۱۰ء۳۱) اسکوائر کلو میٹر
بلندی: ۶۹میٹر (۲۲۶ فٹ)سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے
زبان: مبارک پوری،اردو، ہندی،پوربی؍ بھوجپوری ۔
منطقۂ وقت؍ٹائم زون: ہند کا معیاری وقت،یو، ٹی، سی (یونیورسل، ٹائم، کورڈی نیٹیڈ، قدیم نام: گرینچ مین ٹائم زون) جی، ایم ،ٹی
ٹائم سے پانچ گھنٹے ۳۰ منٹ زائد ہے۔
مبارک پور کی چوحدی
اتر :گوجر پار وغیرہ
دکھن :لہرا، سٹھیاؤں
پورب: ابرہیم پور، وغیرہ
پچھم : سرائے مبارک وغیرہ ہے
مبارک پور کے محلے
مبارک پور میں چھوٹے بڑے کثیر محلے ہیں ، بچپن میں والدہ مرحومہ سے ۲۸ پُورے کا نام سنتے تھے، اب تو اور زیادہ ہوگئے ہیں جن کے نام دستیاب ہوگئے مرقوم ہیں۔
۱۔ پرانی بستی: پرانا مدرسہ، اشرفیہ مصباح العلوم یہیں پر تھا، یہیں پر حافظ ملت علیہ الرحمہ کی مستقل رہائش گاہ تھی۔ عزیز ملت حضرت مولانا عبد الحفیظ صاحب قبلہ دامت برکاتہم سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ کی رہائش گاہ کی سعادت بھی اسی محلہ کو حاصل ہے۔ اسی محلہ میں خواجہ محمد صالح کے نام پر،خواجہ تالاب (کھجوا) ہے، حافظ محمد ابراہیم متولی، رکن اشرفیہ مبارک پور، یہیں کے باشندہ تھے۔
۲۔پورہ خواجہ: خواجہ محمد صالح حاکم بنارس(دورجہاںگیری ) کے نام پر بناہے، ہمارے ممدوح حضرت ممتاز العلما علیہ الرحمہ کا دولت کدہ یہیں پر ہے۔ اس محلہ میں اشرفیہ کی شاخ ہے۔
۳۔پورہ خضر: اسی محلہ میں متصل قبرستان بن رہی باغ (بنری باغ) استاذ محترم حضرت بحرالعلوم مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث ،جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور،( ۱۳۴۴ھ وصال ۱۵؍محرم ۱۴۳۴ھ) کا مزار مبارک ہے۔
یہاں دوسرامشہورقبرستان سمودھی(شاہ محمودی)ہے،جہاں نوگزے( نو غازی) پیر بابا کا مزار ہے ، یہیںحضرت مولانا عبد الرؤف علیہ الرحمہ سابق نائب شیخ الحدیث، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور، (ولادت ۱۹۱۲ء وصال۱۳؍شوال ۱۳۹۱ھ ۲؍دسمبر۱۹۷۱ء) اور حضرت مولانا قاری محمد یحییٰ علیہ الرحمہ، امام جامع مسجد راجہ مبارک شاہ ،و سابق ناظم، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور ( ولادت ۸؍محرم ۱۳۴۳ھ ۹؍اگست ۱۹۲۴ء وصال۱۵؍ مئی ۱۹۹۶ء) کا مزار مبارک ہے۔
۴۔پورہ رانی: اسی محلے میں گولہ بازار کے پاس ، باغ فردوس( ۱۳۵۳ ھ) دارالعلوم اشرفیہ کی شاندار تین منزلہ بلڈنگ ہے۔یہاں مولاناقاری محمدیحیی صاحب علیہ الرحمہ اور استاذ محترم حافظ جمیل احمد صاحب مدظلہ سابق استاذِ حفظ جامعہ اشرفیہ کا دولت خانہ ہے۔
مدرسہ یتیم خانہ ، بھی اسی محلے میں ہے۔
۵۔پورہ دیوان: یہاں ہماراا ننہال، اور ہمارے استاذ مولانا اعجاز علیہ الرحمہ کا دولت خانہ ہے۔یہیں استاذ محترم حضرت مولانا محمد شفیع اعظمی علیہ الرحمہ سابق استاذ و ناظم اعلیٰ، جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور (۱۳۴۴ ھ وصال ۱۴۱۱ ھ ۱۹۹۱ ء) کا روضہ ہے۔
اسی محلہ میں اونچی تکیہ ہے ، جہاں استاذ محترم حافظ نثار احمد علیہ الرحمہ سابق استاذ، دارالعلوم اشرفیہ، مبارک پور، (وصال ۵؍ شوال ۱۴۳۹ ھ ۲۱؍ جون ۲۰۱۸ ء بروز جمعرات) کا روضہ ہے۔یہیںعائشہ تالاب (استلاؤ) بھی ہے۔
۶۔پورہ باغ: پورہ دیوان سے متصل پورہ باغ ہے۔
۷۔شاہ محمد پور: جلوس میلاد النبی ﷺ یہاں املی کے پاس، صحن میںہر سال تھوڑی دیرٹھہرتا ہے۔
۸۔ پورہ صوفی : صوفی بہادر کے نام پر تقریباً ۱۰۴۶ھ میں بنا ہے، پورہ صوفی اور حیدرآباد سے متصلکپورہ شاہ، دیوان کا باغ ہے۔
۹۔حیدرآباد:یہ قصبہ کے پچھم ہے ، یہاں روضہ شاہ کاپنجہ ہے، نواب اودھ کے زمانہ میں، چراغ علی شاہ نے بنوایا ہے۔ یہاں مدرسہ عزیزیہ ، حیدرآباد، مذہبی تعلیم گاہ ہے۔
۱۰۔سکٹھی: مبارک پور سے شمال مغرب میں زمینداروں کی پرانی آبادی ہے۔مدرسہ اسلامیہ اشرفیہ، یہاں کا مشہور دارالعلوم ہے
۱۱۔سرائے مبارک: سکٹھی کے آگے سرائے مبارک ہے ۔
۱۲۔مصطفی آباد: سرائے مبارک سے اتر ہے، حضرت شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ بھیروی علیہ الرحمہ کے خسر شیخ غلام رسول یہیں کے باشندہ تھے۔
۱۳۔پورہ دولھن: میرے استاذ حافظ نثارا حمد علیہ الرحمہ کا یہیں مکان تھا۔
۱۴۔کٹرہ: یہا ں حضرت سید سالا مسعود غازی علیہ الرحمہ کی نسبت سے، صحبت کے نام سے ،سالانہ ایک بڑا میلہ لگتا ہے۔حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن شرر مصباحی رکن جامعہ اشرفیہ (مقیم دہلی) کا یہ وطن ہے ۔
۱۵۔نئی بستی : یہ کٹرہ کے قریب علی نگر سے اتر نئی آبادی ہے۔
۱۶۔علی نگر: یہ پوری آبادی ، اہل سنت کی ہے۔ علی نگرکا قبرستان موسومہ اوسر یہیں پر ہے ۔ ممتاز العلما کے والد گرامی جناب حافظ عبد الحلیم علیہ الرحمہ(رکن دارالعلوم اشرفیہ) اور ان کے اہل خاندان کی قبریں اسی قبرستان میں ہیں۔ علی نگر کے پورب پوکھرا کے نام سے ایک پختہ تالاب ہے۔ اِسی سے متصل تھانہ (پولیس اسٹیشن)مبارک پور ہے، ۱۸۱۳ء میں یہاں تھانہ قائم ہوا، اس سے پہلے یہ محمد آباد تھانہ کے ماتحت تھا اور یہاں صرف پولیس چوکی ہوا کرتی تھی۔
۱۷۔املو: علی نگر کے پورب ،یہ مشہور آبادی ہے۔ مبارک پور کی قدیم آبادی میں اس کا شمار ہوتاہے
۱۸۔لوہیا: یہ املو سے پورب مشہور بستی ہے۔
۱۹۔چکیا: یہ املو سے دکھن ہے۔
۲۰۔نوادہ:سریاں اور رسول پور کے بیچ میں آباد ہے، یہاں اہل سنت کا مدرسہ سراج العلوم ہے۔
۲۱۔رسول پور: قصبہ کے شمال مشرق میں، سریا ں اور نوادہ سے تھوڑے فاصلہ پر ہے۔
۲۲۔سریاں: قصبہ کے شمال مشرق میں ہے،گورکھپور اور کچھار جانے والے قافلوں کے لئے یہاں کئی سرائیں تھیں ، جن میں مسافر ٹھہرتے تھے، بعد میں کثرت استعمال سے سریاں ہوگیا۔یہاں قدیم تاریخی یادگار ،ملک شدنی بابا کا مزار ہے۔
۲۳۔حسین آباد: قصبہ کے اتر ۱۵ منٹ کی مسافت پر ہے، دسویں ذی الحجہ ۱۳۵۹ھ مطابق دسمبر ۱۹۳۹ء حسین آبا د کے شمال گوجر پار میں ہندو مسلم فساد ہواتھا، جس میں قصبہ کے چار مسلمان شہید ہوگئے تھے۔ اسی جنگ میں ہمارے ماموں جناب عبد العزیز بن عبد الرشید بن عبد الصمد علیہ الرحمہ بھی شہید ہوئے تھے۔ یہاں غوثیہ جامع مسجد ہے۔
۲۴۔اسلام پورہ:یہیں مولانا عبد الغفار اعظمی رکن المجمع الاسلامی کا مکان ہے۔
۲۵۔نیا پورہ: یہاں کی انجمن تنویر الاسلام ہے۔
۲۶۔شہید نگر: یہاں ایک شہید کا مزار ہے، ان کے نام پر یہ محلہ آباد ہے۔
۲۷۔ملت نگر: یہاں پر تصنیف واشاعت کا عظیم ادارہ المجمع الاسلامی قائم ہے۔اور ایک تعلیمی ادارہ بنام، مدرسہ صدیق اکبر ہے
۲۸۔ آدم پور: ملت نگر سے پورب یہ آبادی ہے
۲۹۔نور پور: المجمع الاسلامی سے اتر، نور پور کہلاتا ہے
۳۰۔عزیز نگر: حافظ ملت علیہ الرحمہ کےنام سے یہ ایک نیا محلہ ہے۔
۳۱۔اساوُر: یہ مبارک پور سے جنوب مشرق میں زمینداروں کی بستی ہے،یہاں دو شہیدوں کا روضہ ہے، عمر شیخ شہید اور شیخ ہندی شہید (معروف سیکھندی) یہ ، المجمع الاسلامی سے کچھ فاصلے پر ہے۔
۳۲۔گجہڑا: جامعہ اشرفیہ (عربی یونیورسیٹی) سےدکھن طرف کچھ فاصلے پر پرانی آبادی ہے،مولانا شاہ عبد الحق علیہ الرحمہ (وصال: ۲۸؍ شعبان ۱۴۰۸ھ ۱۶ ؍اپریل ۱۹۸۸ء مدفن اجمیر شریف)، مولانا شاہ شمس الحق علیہ الرحمہ(وصال ۹؍شعبان ۱۳۹۳ھ ۷؍ستمبر ۱۹۷۳ء) یہیں کے باشندے تھے۔مولانا شاہ شمس الحق علیہ الرحمہ دارالعلوم اشرفیہ کےمشہور استاذ اور فارسی زبان کے استاذ کامل تھے۔ میرے استاذحضرت مولانا اسراراحمد صاحب مدظلہ بھی یہیں کے باشندہ ہیں۔یہاں شاہ جہانی دور ۱۰۹۹ھ کی ایک عظیم الشان مسجد تاریخی یادگار ہے۔اور یہیںحضرت سید کمال الدین شاہ بغدادی علیہ الرحمہ( متوفی گیارہویں صدی ہجری)کا مزار مبارک ہے۔
۳۳۔لہرا (وحدت آباد): گجہڑاسے متصل دکھن طرف قدیم آبادی ہے۔یہ مشائخ بھیرہ کا موروثی مقام تھا، یہاں حضرت مولانا گرم دیوان شاہ بھیروی علیہ الرحمہ (ولادت۱۱۰۰ھ- وصال ۱۱۷۸ھ)نے مستقل سکونت اختیار کرکے خانقاہ اور مدرسہ بنوایا۔ یہیں ان کا مزار مبارک ہے۔ ان کے دور میں اس کا نام وحدت آباد تھا۔
۳۴۔فخرالدین پور: گجہڑا ہی سے متصل یہ آبادی ہے۔
۳۵۔بمہور: قصبہ کےجنوب مغرب میں دو میل پر آباد ہے۔
۳۶۔حاجی پور : بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۷۔ککرہٹا: بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۸۔ڈھکوا : بمہور سے قریب مسلم بستی ہے۔
۳۹۔داؤد پور:
۴۰۔ سالار پور:
مبارک پور کی تاریخ
مفکر اسلام حضرت علامہ بدرالقادری علیہ الرحمہ حیات حافظ ملت میں لکھتے ہیں،
یہ بات تومسلم ہے کہ پہلےپہل، یوپی کے خطۂ پورب کو اپنے سمنداقبال سے نواز نے والے، سلطان الشہدا،سید سالار مسعود غازی، بہرائچی، رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کے روحانی وعرفانی قافلہ کے غازیوں اورمجاہدوں نے ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ مبارک پور کوبھی اپنے گھوڑوں کی تاپوں سے روند کر،اسے برکتیں عطاکیں اورحضرت ملک شدنی اور نہ معلوم کن کن شہداء کے وجود کاتخم اس خطۂ ارض کوحاصل ہوا۔
زمانہ آگے بڑھتا رہا تاآنکہ دور ہمایوں ۹۲۵ھ میں جب مسلمانوں کے دم قدم سے نوآبادیاں قائم ہورہی تھی اس قت قصبہ مبارک پور کی بنیاد پڑی۔ اگرچہ اس وقت تک اسے کوئی باقاعدہ نام نہیں ملاتھا۔
بانی مبارک پور
مبارک پور کےبانی حضرت سید راجہ مبارک شاہ علیہ الرحمۃ الرضوان ہیں ،حضرت راجہ سیدمبارک بن حضرت راجہ سید احمدبن حضرت راجہ نور بن حضرت راجہ سید حامد(رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہم) کاسلسلۂ نسب حضرت امام محمدباقر بن حضرت امام جعفرصادق(رضی اللہ عنہا) سے جاملتاہے۔
حضرت راجہ سید مبارک رحمۃ اللہ علیہ کامختصر تذکرہ”گنج ارشدی“ نامی کتاب میں ملتاہے۔
حضرت راجہ سید مبارک کے والد ماجد حضرت راجہ سید احمدقدس سرہ عین جوانی میں شادی کے چند ماہ بعد انتقال کرگئے تھے۔ راجہ سید مبارک کی والدہ کواس وقت ایک ماہ کاحمل تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے جد محترم حضرت راجہ سید نور علیہ الرحمہ نے آپ کی پرورش کی۔ وہ پیار سے راجہ سیدمبارک کو ”ماکھو“ کہاکرتے تھے۔
جدمحترم نےاپنےیتیم پوتے کی تعلیم وتربیت
کرکے بچپن ہی میں ان کوخلافت واجازت بھی مرحمت کردی تھی۔
گوراجہ سید مبارک ظاہری علوم سے زیادہ واقف نہیں تھے مگر مشیخیت وروحانیت میں بلند مقام ومرتبے کے مالک تھے۔ آپ کے حلقۂ ارادت وخلافت میں اولیائےکاملین کی ایک کثیر تعداد تھی۔
راجہ سید مبارک علیہ الرحمہ نےاپنے خاندان کےبزرگوں کی طرح جون پور اوراس کے اطراف وجوانب مین رہ کر ارشاد وتبلیغ کی خدمت انجام دی۔
آپ تبلیغ واشاعت دین کی غرض سے کڑامانک پور ضلع پرتاب گڑھ(یوپی) سے قاسم آباد تشریف لائے، قاسم آباد میں آپ نے اپنی تبلیغ وارشاد اوربیعت وارادت سے ایک نئی روح پھونکی، اسلام کوضیاء بخشی، مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کیا، معصیت اورگمراہی میں مبتلا لوگوں کوراہ راست دکھائی اورقاسم آباد کو ازسرنو آباد کرکے اس کانام مبارک پور رکھا۔
آپ بڑے عابد وزاہد اوربلند روحانی مقام کے مالک تھے، کٹرامانک پور میں ۲؍شوال ۹۶۵ھ کوآپ کا وصال ہوا ،اوراپنے دادا حضرت سید نور کےپہلو میں دفن ہوئے۔آپ کے صاحب زادے راجہ سید مصطفیٰ نے مزار پرگنبد تعمیر کرایا۔
آپ کا سال وفات (۹۶۵ھ) مندرجہ ذیل مصرعہ کے حروف تہجی کے نمبرس جمع کرنے سے نکلتا ہے۔
گنج ارشدی میں مرقوم ہے: بحق شد راجی سید مبارک (۹۶۵ھ)
مسجد راجہ مبارک شاہ
الجامعۃ الاشرفیہ سے متعلق ”مسجد راجہ مبارک شاہ“ جواپنی وسعت وعظمت اورشان وشوکت میں دور دور تک مشہور ہے وہ راجہ مبارک شاہ صاحب ہی کےنام سے موسوم ہے۔ قصبہ مبارک پور میں جمعہ وعیدین کی سب سے بڑی جماعت یہیں ہوتی ہے۔
حضرت راجہ سید مبارک شاہ علیہ الرحمہ کےخانوادہ کے ایک بزرگ حضرت سید غلام نظام الدین (م ۱۱۲۸ھ) راجہ خیراللہ شاہ محمدآبادی کےنام سے مشہورہوئے اور”محمدآباد گوہنہ“ سے تقریباً ایک کلو میٹر مغرب میں واقع موجودہ قصبہ ”خیرآباد“ آپ ہی نے بسایا۔
سلسلۂ چشتیہ میں ،شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ متوفی ۱۱۷۸ھ مزار،لوہرا مبارک پور آپ ہی کے مرید ہیں۔
(علامہ یٰس اختر مصباحی: الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ص:۱۴)
مبارک پور کےدینی وعلمی ادارے
مبارک پور کےمغرب میں مدرسہ حنفیہ جون پور اورمشرق میں مدرسہ چشمۂ رحمت غازی پور دوقدیم دینی وعلمی ادارے تھے۔ مقامی سطح پرکچھ لوگ ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم کے لیے مذکورہ دونوں اداروں اور معدودے چند لکھنؤ یادلی حصول تعلیم کےلیے جاتے تھے۔
یہ مبارک پور میں حافظ ملت کی تشریف آوری اور مدرسہ اشرفیہ باغ فردوس(۱۳۵۳ھ) کےقیام کے پہلے کی بات ہے اورآج الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور تو عالم اسلام کا ایک نمایاں علمی مرکز ہے۔
مبارک پور کی شہرت وعظمت کاسبب
ملک ہندوستان کے صوبۂ اترپردیش کےشہراعظم گڑھ کودسمبر۱۸۳۲ء میں ضلعی حیثیت حاصل ہوئی۔ اعظم گڑھ میں بڑی بڑی عظیم ونامور علمی وادبی ہستیوں نے جنم لیاہے اوراسی بناء پر اسے مردم خیز خطہ بھی کہاجاتاہے۔
کل تک یہ قصبہ گم نام تھا لیکن اس نے پوری دنیا میں ایک غیر معمولی پہچان بنالی ہے۔ عالم اسلام کا کوئی بھی خطہ وعلاقہ ایسانہیں جہاں مبارک پور کی شہرت نہ پہنچی ہو۔ اورمبارک پور کی یہ شہرت، عظیم مرکز علمی الجامعۃ الاشرفیہ کےسبب ہے۔ لیکن الجامعۃ الاشرفیہ کو مبارک پور کی سرزمین پر وجود کس نے بخشا؟ حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ نے اورآج مبارک پور کویہ شہرت ومقبولیت،عزت وعظمت اوربڑا ئی وبلندی بلاشبہ اسی ذات بابرکات کی بدولت حاصل ہے۔
اسی معمار قوم وملت، باغبان باغ فردوس، جلالۃ العلم، استاذ العلماء حافظ ملت، محدث مرادآبادی ثم مبارک پوری، بانی الجامعۃ الاشرفیہ ہی نے مبارک پور کو قابل مبارک باد بنایا۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نے مبارک پور کی سرزمین پر الجامعۃ الاشرفیہ کی شکل میں علم وحکمت کاایسامرکز قائم فرمادیا جس پربغداد وقرطبہ، شیراز واصفہان، سمرقند وبخارا اور قاہرہ کےجامعات کوبھی رشک آتاہے اور جہاں کے فاضلین دنیاکے کسی بھی جدید دانش کدہ اورماڈرن یونیورسٹی کے دانش وروں اورپروفیسروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرعلم وحکمت کےکسی بھی موضوع پر گفتگو کرسکتے ہیں اوراحساس کمتری میں مبتلا ہونے کے بجائے خود انھیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کامادہ رکھتے ہیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ ایک ایسا منارۂ نور ہے جوتہذیب جدید کے اخلاق وانسانیت سوز شعلوں کوکاٹتا ہوا، نئی روشنی کی برپاکی ہوئی جہالت وگمرہی کی تیرگی کو چیرتاہوا بندگان الٰہی کی ہدایت ورہنمائی کافریضہ انجام دیتاہوا انھیں صراط مستقیم پرگامزن کرتاچلاجارہاہے۔
نہ صرف برصغیر بلکہ یورپ وامریکہ اورافریقہ کےتشنگان علوم نبویہ بھی اپنی پیاس بجھانے اورسرمست وسرشاد ہونے کےلیے اسی میخانہ علم وحکمت کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ کےکیمپس میں داخل ہوتے ہی نگاہوں میں چمک اورچہرہ پر تازگی آجاتی ہے، دل مضطرب کو قرار آجاتاہے۔ سینہ فخر سے ،تَن جاتاہے، اللہ اکبر! یہ ایسا باغ فردوس ہے جہاں ہرسو ،علم وحکمت ودانش کوثر وتسنیم کےدھارے بہتے نظر آتے ہیں۔
جامعہ کےدرودیوار سے حمد الٰہی اورمدح رسالت پناہی کے مچلتے ہوئے نغمے، جامعہ کی فضاؤں میں گونجتی ہوئی قرآن وسنت کی جاں بخش اورایمان افروز صدائیں ذہن کے دریچوں کوبہار ابد کی جاں فزا ہواؤں کےلیے وا کردیتی ہیں۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نےعمر بھر الجامعۃ الاشرفیہ (باغ فردوس) کی باغبانی وپاسبانی کافریضہ انجام دیا۔طلبائے اسلام کی جماعت کوتعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ کرتے رہے اوراشرفیہ ہی کو آخری آرام گاہ بنالیا۔
یہ حافظ ملت ہی کے قدموں کی برکت ہے کہ انھوں نے مبارک پورکی سرزمین کوآسمان کی بلندی عطاکردی۔ اللہ کےاحسان یافتہ بندوں کی یہی تو شان ہوتی ہے کہ
توجہاں ناز سے قدم رکھ دے
وہ زمیں آسمان ہے پیارے
مبارک پور اس کی مذہبی تاریخ
مبارک پوراپنے ضلعی مقام اعظم گرھ سے تقریباً سترہ کلومیٹر شمال مشرق میں کئی مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ایک مسلم اکثریت کی آبادی ہے۔ مسلمانوں میں بنکر طبقہ کی تعداد غالب ہے۔
مبارک پور کی تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے حضرت استاذ محترم بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ اعظمی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ نےجوکچھ تحریرفرمادیاہے وہ سندکی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت نے اس پورے ماحول کی بہترین تصویر کشی فرمائی ہے جسے ہم یہاں من وعن نقل کرتے ہیں۔
مبا رک پور کی صنعت
”یہ آبادی آج سے تقریباً ساڑھے تین سوسال قبل کی ہے۔یہاں کاخاص ذریعۂ معاش بنکاری ہے۔ قدیم عہدمیں سوتی کپڑے (گزّی وغیرہ) تیار ہوتے تھے، لیکن جلد ہی یہاں کے ہنر مندوں نے ریشم اورسوت کی آمیزش سے چند نفیس قسم کی پوشیش بنائیں جومدتوں شرفاء کالباس اورخوشرؤں کی زینت رہیں اور مشروع، غلطاں ، سنگی، گلبندن وغیرہ کےنام سے مشہور عالم ہوئیں۔ اب خالص ریشم اورزری کےبنارسی کپڑوں میں یہاں کے ہنر مند اپنا جواب نہیں رکھتے“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاشرت یہاں کی نہایت سیدھی سادی اورتقریباً اسلامی احکام کے موافق تھی۔ اب انقلاب زمانہ کےساتھ یہاں بھی کچھ تجدد کی ہوا چل پڑی ہے۔ بیشترآبادی اگرچہ بےپڑھی لکھی تھی لیکن خیرغالب اور نیکی نمایاں تھی۔
مولوی مکرم احمدعباسی چریاکوٹی (بن مولانا محمد اعظم چریاکوٹی ولادت ۱۲۶۶ھ متوفی ۱۳۳۲ھ از تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۳۲۲)اپنی قلمی تصنیف ”دہ بند“ میں تحریر فرماتے ہیں:
مبارک پور میں پانچ ہزار خانہائے نور باف ہیں، ہرہرمحلہ محلہ میں مسجدیں موجود ہیں، پانچوں وقت کی جماعتیں نماز کی دھوم دھام سے ہوتی ہیں۔ اہل محلہ سب کاروبار چھوڑ کے واسطے تحصیل فضیلت جماعت کےمسجد میں آتے ہیں۔فقیر، درویش، مُلّے،مسافر، غریب الوطن، مساکین، مرثیہ خواں زیادہ تریہاں وارد ہوکےمبلغ معتدبہ پاجاتے ہیں۔ فی تھان کسی قدر زکوٰۃ کے طور پرنکال کے ایک خزانہ میں کہ موسوم بہ گولک کرلیاہے جُدا دھرتے ہیں جس سے پیسہ ایک مقدار کثیر میں موجود رہتاہے اوراسے مصارف خیر میں صرف کرتے ہیں۔ اکثر باثروت وصاحب مال ہیں۔ گلبدن وسوتی پہلے پہل یہیں بنایاگیا اوراب تک یہاں کاسا عمدہ اور ارزاں دوسری جگہ نہیں بنایاگیا۔ بالفعل مشروع وسنگی واصناف پارچہائے سادہ ورنگین یہاں بہتر بنایا جاتاہے اوربکفایت تام ہاتھ آتاہے۔ بازاروں میں غلہ اس افراط سے آتاہے کہ بڑے بڑے شہروں کاگولہ اس کارشک کھاتاہے(دہ بند،ص:۳)
مدرسہ مصباح العلوم کاقیام
اس کے بعد تاریخی حقائق جاننے کےلیے ہم بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی (علیہ الرحمہ)کی تحریر پیش کرتے ہیں:
آج سے سوسال قبل شعبان ۱۲۹۲ھ کابیان ہے اوریہ لگ بھگ وہی وقت ہے جب کہ مبارک پور کےافق پردُودمان خاندان اشرفیہ شہزادۂ غوث الوریٰ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی سرگرمیاں رشد وہدایت کاآفتاب بن کر چمک رہی تھیں اورپورا مبارک پور اُن کے قدموں میں اپنادل بچھائے ہوئے تھا اورعجب نہیں کہ اوپر عباسی صاحب کے حوالے سے یہاں کی جس عام دین داری کاذکر کیاگیاہے انھیں کی مسیحانفسی کااثرہو۔ انھی کی تحریک وترغیب سے آج سے تقریباً اسی سال قبل مبارک پور گولہ بازار کی مسجد میں مدرسہ بنام مصباح العلوم قائم ہوا جس کے انتظام کاروں میں حافظ عبدالسبحان صاحب پورہ رانی اورایوب سردار کانام سرفہرست ہے۔
انتہائی کوشش کےباوجود اس کے ابتدائی مدرسین کاپتا نہ چل سکا۔ نصاب تعلیم کے بارے میں ایسا اندازہ ہوتاہے کہ مکتبی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ عربی کابھی انتظام تھا کیوں کہ اسی میں تعلیم حاصل کرکے مولوی رفیع الدین ومولوی محمدعمر صاحب مولوی کہے جانے لگے۔
دس سال کےبعد مدرسہ کی فلاح وبہبود کی خاطر پورے قصبہ کی ایک عام میٹنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک وسیع اورجامع ترکمیٹی عالمِ وجود میں آئی جس کے ارکان میں حسب ذیل افراد نام زد ہوئے۔
مولوی الٰہی بخش صاحب پورہ دلہن، یہ ایک کامیاب طبیب بھی تھے۔ سردار محمد طیب گرہست پورہ خضر، یہ نہایت چالاک اور بااثر شخص تھے۔ حاجی عبدالحق، بابوسردار، ان کاذکر اوپر آچکاہے۔ عبدالحکیم سردار،پورہ صوفی اورحسین بخش وغیرہ اورچوں کہ اس اجتماع میں پورے قصبہ کی نمائندگی تھی اس لیے نسبۃً اس وقت تک یہاں جتنے فرقے ممتاز تھے سبھی خیال کے مدرس رکھے گئے۔
چناں چہ مصنف بہار شریعت حضرت مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمہ کےبرادر بزرگ حضرت مولانا محمدصدیق صاحب جوحضرت مولانا ہدایت اللہ خان جون پوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے ارشد تلامذہ سے تھے وہ گھوسی سے بلائے گئے۔ دیوبندیت اس وقت نمایاں نہیں تھی کہ اس کا کوئی نمائندہ ہو لیکن غالباً لاعلمی میں ہی مولوی محمدمحمود صاحب(دیوبندی) ساکن موضع پورہ معروف بلائے گئے۔ مقامی طور پر مولوی نور محمد صاحب مرحوم، یہ سنی مکتب فکر کےترجمان تھے اور شیعہ مدرس ماسٹر مہدی حسن خاں مقرر ہوئے اورمدرسہ گولہ بازار کی مسجد سے منتقل ہوکر پورہ رانی میں کرایہ کےمکان مملوکہ جودھا دھوبی میں قائم ہوا۔
محمود دیوبندی صاحب ساکن پورہ معروف کاقیام پورہ دلہن میں مولوی الٰہی بخش کےوہاں تھا۔ مولوی صاحب موصوف مسلکاً دیوبندی تھے۔ ابتداءً تو وہ تمام سنی معمولات بجالاتے رہے لیکن ہردم کی صحبت اوربات چیت سے مولوی الٰہی بخش اورطیب گرہست وغیرہ ارکان مصباح العلوم پر اثر انداز ہوچکے تھے اورمدرسہ کےطلبہ میں بھی اپنے خیالات کی اشاعت شروع کردی تھی۔ اپنی کسی مجلس میں مولوی محمود مولوی شکراللہ اور مولوی نعمت اللہ نے امکان کذب کامسئلہ بیان کیا اور اپنا عقیدہ ظاہر کیاکہ خدا جھوٹ بول سکتاہے۔
اس وقت کےایک طالب علم ٘ محمود شاہ نے ان لوگوں کےفاسق وبددین ہونے کاتحریری فتویٰ دیا جس کی شکایت ارکان مدرسہ کے پاس پہنچی ۔ طیب گرہست نے معاملہ کی تفتیش مولوی نور محمد صاحب مرحوم کے سپر د کی لیکن پھر قضیہ کواپنے ہاتھ میں لے کر محمود شاہ کومدرسہ سے خارج کردیا۔
طیب گرہست کایہ اقدام پورے قصبہ میں آگ لگادینے کےلیے کافی تھا چناںچہ ایک عام شورش اورعوام کے شدید ہیجان کےنتیجے میں کمیٹی میں نیاخون شامل ہوا۔ اوربد لومیاں، حافظ محمدابراہیم مرحوم سابق متولی
[یہ ہمارے خاندان کے فردہیں ، ہمارے دادا (جناب عبد الکریم بن محمد اسحق مرحوم) کے دادا ، جمن خلیفہ مرحوم تین بھائی تھے، ایک بھائی مبارک پور آکر مستقل آباد ہوگئے،اُسی خاندان سے حافظ محمد ابراہیم علیہ الرحمہ ہیں، وہ تاحیات اشرفیہ کے متولی اور رکن رہے، ۱۹۶۷ یا ۱۹۶۸ ءمیں انتقال ہوا ، ۱۱بجے دن میں جنازہ تھا، حافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم پر دارالعلوم اشرفیہ میں چھٹی کردی گئی ، اور تمام اساتذہ و طلبہ اُن کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ ہمارےوالد مرحوم اور بھائی جان قبلہ جنازہ میں شریک تھے، اُس وقت بھائی جان اشرفیہ میں زیر تعلیم تھے۔احمدالقادری (بروایت برادر گرامی حضرت علامہ محمداحمد مصباحی، ناظم تعلیمات ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور ]
حاجی خیراللہ مرحوم سابق متولی دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم ،ممبران کےزمرے میں داخل ہوئے۔
ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ طیب گرہست ایک شاطر مدبر تھے، چناں چہ انھوں نے منہ بھرائی کےلیے عوام کےکچھ نمائندے تو کمیٹی میں رکھ لیے ،لیکن درپردہ اسی کوشش میں رہے کہ نئے مذہب کوفروغ ،اورمذہب اہل سنت وجماعت کا استیصال ہوجائے اور اس کے لیے حالات یوں ساز گار ہوگئے کہ اسی دوران میں ہندوستان کےسیاسی بازی گروں نے یہاں بیٹھ کرخلافت اسلامیہ کی بقا وتحفظ کاجہاد شروع کردیا اور سارے ہندوستان میں چندہ جمع کرکے قسطنطنیہ بھیجنے لگےاور جنگ بلقان کے سلسلہ میں ترکی کی مدد کرنے کا نام ہورہاتھا۔ مبارک پور کی گلی گلی میں:
بولیں اماں محمدعلی کی
جان بیٹا خلافت پر دے دو
یہاں کی بہو بیٹیوں کے گلے اورہاتھ کے زیوراُ تررہے تھے ۔ اس اثنا میں بقرعید کے موقع پر چرم قربانی کی رقم لگ بھگ سات سو روپیے مدرسہ کے فنڈ میں جمع ہوئی۔ اس موقع پرمدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی (کی میٹینگ)ہوئی۔ طیب گرہست نے یہ تجویز رکھی کہ اس وقت خلافت وقوم کی بقا ،مدرسہ کےتحفظ سے زیادہ اہم ہے اس لیے مدرسہ فی الحال موقوف کیاجائے اور اس کی ساری رقم بھی” سمرنافنڈ“ میں بھیج دی جائے۔ خلافت کےنشہ میں پوری قوم سرشار تھی ہی! تجویز باتفاق آرا پاس ہوئی اورمدرسین اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ کچھ دنوں کےبعد یہ صاف نظرآنے لگا کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اورمولوی محمود (دیوبندی)حسب دستور پڑھارہے ہیں۔
سابق متولی حاجی خیراللہ صاحب دلال مرحوم کابیان ہے کہ میں، حافظ محمدابراہیم، بابوسردار اورمیاں جی بدلونے جب یہ دیکھا تو ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، کیوں کہ جیساہرجگہ ہوتاہے یہاں بھی شیطان دولت کے گنبد پرانڈا دےچکاتھا۔ ثروت، گمرہی کے خانے میں منظم ہوچکی تھی اور یہاں کا سرمایہ دار طبقہ مولوی محمود صاحب(دیوبندی) کے فیور میں تھا۔ ہم چاروں نے طیب گرہست سے پوچھا آخر مدرسہ کے اختتام کی تجویز کیاہوئی؟ انھوں نےکہابحال ہے! ہمارا سوال تھا پھر مولوی محمود صاحب کیسے پڑھارہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا مولوی الٰہی بخش صاحب وغیرہ نے نجی طور پرانھیں روک لیاہے۔
اگرتم میں سکت ہوتو تم بھی اپنے طور پر اپنے مولویوں کوبلواکر تعلیم دلواسکتے ہو۔ ہم نے دیکھا ہم خود ہی لاعلمی میں اپناگلا کاٹ چکے تھے اور حریف خوش تھا کہ ان محتاجوں سے کیا ہوسکے گا؟
ہم لوگ یہ جواب سن کر قصبہ کے زمیندار اور رئیس شیخ عبدالوہاب گرہست کے پاس گئے اوران سے سارا ماجرا بیان کیا، یہ خوش عقیدہ آدمی تھے اور مولوی ٘محمود صاحب(دیوبندی) سے کچھ ایسا متاثر بھی نہ تھے انھوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اورہمیں اسی کی ضرورت تھی چناں چہ ہم نے متوکلاً علی اللہ مولوی محمدصدیق صاحب گھوسوی مرحوم ومغفور اور مولوی نور محمد صاحب مرحوم پیش امام جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کی خدمات حاصل کیں۔
مدرسہ کی اپنی نجی عمارت توتھی نہیں، اس لیے پہلی جگہ دونوں فریق میں سے کوئی بھی نہیں پہنچا ہماری اس جدوجہد میں چوں کہ سابق الذکر مولوی محمدعمر صاحب سبزی فروش بھی شامل تھے ،جوشاہ عبداللطیف صاحب ستھنی رحمۃ اللہ علیہ سے مرید تھے اورہم سب لوگوں کوحضور مخدوم اشرف جہاں گیر رضی اللہ عنہ کے سلسلے سے تعلق تھا، اس لیے ہم نے اپنی اپنی عقیدت کے اظہار کےلیے مدرسہ کےسابق نام پرمزید دوحرفوں کااضافہ کیا اوراب پورانام مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم ہوا یہ حادثہ ۱۳۲۹ھ کاہے۔
آمدنی کےسارے ذرائع مثلا کوڑی(گولک وغیرہ) پرمبارک پور کےسرمایہ دار(محمود گروپ) ہی چھائے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کس مپرسی کےعالم میں اس کے علاوہ اور کیاہوسکتاتھا کہ مدرسہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کےدن گزار رہاتھا بالکل خانہ بدوشانہ انداز میں، اِس مسجد سے اُس دالان میں، اوراُس دالان سے اِس برآمدے میں ،اِس برآمدہ سے اُس مکان میں، اُس مکان سے فلاں دوکان میں منتقل ہوتا رہا اور یہی حال اس میں علما کی آمد ورفت کابھی رہا —- مولانا صدیق صاحب علیہ الرحمہ کےوصال کے بعد ان کے شاگرد مولوی عبدالحئی اورمولی محمدیحییٰ صاحبان کام چلاتے رہے پھر مولانا عبدالسلام صاحب شاگر د مولانا محمدصدیق صاحب صدرالمدرسین ہوئے۔ ان کے بعد مولانا عبدالمنان صاحب گیاوی مقرر کیے گئے۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد مولانا اکرام الحق صاحب گنگوہی نے مسند صدارت سنبھالی پھر مولوی انیس احمد صاحب سریر آرائے درس رہوئے۔ اسی طرح تقریباً بارہ سال کی مدت میں چھ مدرس آ جا چکے تھے۔
مولانا محمدصدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد اس مدرسہ نے ایک دفعہ غیر معمولی ترقی بھی کی ،جب کہ اس کی دومنزلہ پختہ عمارت مولوی محمدعمر صاحب سبزی فروش کی کوشش سے وہیں تعمیر ہوئی تھی،جہاں اب دیوبندی جامع مسجد ہے (آج سے چالیس سال قبل اس مدرسہ کاشمالی مشرقی کونہ باقی تھا جسے میں نے خود دیکھاہے) کسی وجہ سے اس عمارت کابھی یہاں کے عام سنیوں نے بائیکاٹ کیا اوراسی چپقلش میں مدرسہ کےلطیفیہ کالفظ بھی علیحدہ کردیاگیا اوراب صرف مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم رہ گیا اور مدرسہ اسی سابقہ خانہ بدوشانہ زندگی پر قانع رہا جوابتداسے ہی اس مدرسہ کاطرۂ امتیاز تھا۔ تا آنکہ ۱۳۴۱ھ میں رئیس قصبہ جناب عبدالوہاب صاحب نے محلہ پرانی بستی میں ایک خام دومنزلہ عمارت مدسہ کے لیےمخصوص کردی اور تھکے ماندے مسافر کو گویا ایک منزل مل گئی۔
اسی دوران میں مولوی شکراللہ صاحب دیوبند سے فارغ ہوکر آچکے تھے۔ لوگوں میں نیاخون ، دل میں جوان عزائم اورمزاج میں لیڈری کاشوق، بڑی شدومد کےساتھ انھوں نے مبارک پور کو نئی ریت میں بدلنے کاپرشوراقدام کیا، صاحب ثروت کم، ذی اثر زیادہ تھے، اوردولت مند گروپ بھی انھیں کی طرف تھا۔ بہت جلد ہی یہ محسوس ہونے لگا کہ مبارک پور ایک نئے مذہبی دور میں داخل ہونے والاہے۔
مدرسہ الگ ہونے کے باوجود جمعہ ایک ہی جگہ راجہ مبارک شاہ علیہ الرحمہ کی مسجد میں سنی امام حضرت مولانا نور محمد صاحب علیہ الرحمہ کی امامت میں ہوتاتھا لیکن مولوی شکراللہ صاحب موصوف نے کمال عجلت سے اپنا جمعہ علیحدہ کرلیا۔
معدودے چندپرانے خیال کے خوش عقیدہ مسلمان یہ صورت حال دیکھ کر گھُٹ رہے تھے۔ مدرسہ اشرفیہ زندہ ضرور تھا مگر مردہ سے بد تر، امید ٹوٹ چکی تھی اورمستقبل بھیانک ہورہاتھا کہ تاریکیوں میں نور کی کرن جگمگانے والے پرورد گار نےغیب سے انتظام کردیا۔
مبارک پور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دنیاوی سربراہی بھی دینی قیادت کےساتھ چلتی ہے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کتنے افراد مبارک پور کے افق پرآفتاب وماہتاب بن کرچمکے مگر یہ ساری چمک دمک اسی وقت تک رہی جب تک وہ مذہبی قیادت بھی کرتے رہے، جہاں مذہبی سرگرمیوں سے دل چسپی کم ہوئی ،دنیاوی حیثیت سے بھی ایک دم بجھ گئے بلکہ ختم ہوگئے۔
ہوایہ کہ عبدالوہاب صاحب گرہست کاگھرانہ پورے قصبہ میں ممتاز اورپورے ضلع میں ممتاز مسلم گھرانہ تھا اورپورے قصبہ کی سربراہی بھی تقریبا اسی گھر انے کی میراث تھی۔ مولوی شکراللہ صاحب کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں اب سیاسی رہنمائی کامرکز ثقل بھی بدل رہاتھااس لیے اس خاندان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنےکےلیے نہایت ضروری تھا کہ عوامی رابطہ کی طرف توجہ دی جائے۔ ادھر قصبہ کے غربائے اہل سنت مولوی شکراللہ صاحب کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر اپنی کمزوری کی بنیاد پراس امر کی سخت ضرورت محسوس کرتے تھے کہ کسی مضبوط قیادت کےذریعہ مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم کی بقا اورترقی اور مذہب اہل سنت وجماعت کے استحکام کو حتمی بنایاجائے۔ الغرض مبارک پور کے سنیوں کوایک لیڈر کی ضرورت تھی جن کی رہنمائی میں یہ لوگ چلیں۔ اس طرح مبارک پور کی سنیت اورمدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم فریقین کے لیے نقطہ اتحاد ثابت ہوا۔ اورحسن اتفاق سے اس خاندان سے جوفرد اس کام کے لیے آگے بڑھا وہ نہایت جری، انتہائی ہوش مند، پرجوش اور متہوّر میری مراد” مرحوم محمد امین صاحب گرہست انصاری“ سے ہے جن کی شعلہ بیانی اور پرجوش قیادت نےتقریباً چوتھائی صدی پورے مبارک پور کوزندہ اور متحرک رکھا۔
افسوس! آج مرحوم ہم میں نہیں، مگر ان کے زریں کارنامے مبارک پور کی پیشانی پرسنہرے حروف سے لکھے ہوئے ہیں۔ ہم دست بدعاہیں مولیٰ عزوجل ان کی روح کوسکون بخشے اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ ہم اُن کواپنے جذباتِ احترام پیش کرتے ہیں کہ مبارک پور میں گرتی ہوئی سنیت کوسنبھالا بلکہ عروج وارتقاء بخشنے والوں میں ان کانام بھی سرفہرست ہے۔
آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گل کی نگہبانی کرے
۱۳۴۴ھ کے لگ بھگ جناب جناب محمدامین صاحب مدرسہ کےہی نہیں، پورے قصبہ کے سنیوں کے بھی، صدر قرار پائے۔ مدرسہ کےانتظام میں استقلال پیدا ہوتے ہی، اس کے مدرسوں میں بھی قیام وثبات پیدا ہوگیا۔ اور ۱۳۴۶ھ میں مولانا شمس الحق صاحب ساکن گجہڑہ ضلع اعظم گڑھ کاتقرر بمشاہرہ بیس روپے ماہانہ بعہدہ صدر مدرسی ہوا۔ موصوف تھے توفاضل دیوبند ،لیکن مسلسل چھ سال تک نہایت خوش اسلوبی سے مدرسہ کو فارسی اور ابتدائی عربی تک باقی رکھا انھیں کی کوشش سے مولانا علی احمد صاحب، مولانامحمدمحبوب صاحب اشرفی، مولانا محمدحاتم صاحب، مولاناحفیظ الدین تعلیم پاکر اس لائق ہوئے کہ مزید تعلیم وتکمیل کےلیے بریلی، میرٹھ، امروہہ وغیرہ دور دراز مدارس اہل سنت میں گئے اورمدرسہ کےمذہبی کردار پر بھی مولانا نےآنچ نہ آنے دی۔ گویا
پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے
اس وقت بھی صدر کمیٹی محمدامین انصاری مرحوم ہی تھے اورورکنگ کمیٹی میں حسب ذیل افراد کےنام دستیاب ہوسکے ہیں:
(۱)حاجی غلام رسول
(۲)حاجی پھیکو صباغ(یہ نہایت دین دار اورحد درجہ امین تھے اور مدت العمر مدرسہ کے خازن رہے)۔
(۳) حاجی عبدالسبحان صاحب سوت والے
(۴)حاجی محمدعثمان صاحب پورہ رانی۔
(۵)قیاس یہ ہے کہ حاجی خیراللہ دلال متولی
(۶) اور(حافظ)محمدابراہیم صاحب متولی بھی ضرور ممبررہے ہوں گے۔
یہاں یہ بات جان لینی بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگی کہ خاندان اشرفی سے رابطہ کی وجہ سے مبارک پور کی سنیت کاتعلق پورے ہندوستان کی سنیت سے قائم اور زندہ تھا، بلکہ ہندوستان کے مقتدر علما ےاہل سنت اس کے نگراں، مربی اورسرپرست تھے، سب سے قدیم روداد جو دستیاب ہوسکی ہے، اس میں تحریر ہے:
”دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم “ اٹھائیس سال سے (۱۴۴۳ھ میں قریباً۱۱۴ سال سے)تعلیمی اور تبلیغی خدمات انجام دے رہاہے جس کے سرپرست شمع شبستان غوثیت حضرت مولاناشاہ ابوالمحامد ،سید محمدصاحب کچھوچھوی دامت برکاتہم وعلامہ زمن، خاتم الفقہا حضرت صدرالشریعہ مولانا شاہ امجد علی قبلہ دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔(رودا د دارالعلوم اشرفیہ،مبارک پور، ۱۳۵۶ھ۔ ۱۳۵۷ھ ص:۴)
اس وقت بھی یہاں کاسالانہ جلسہ پورے علاقہ میں مشہور تھا اور مشاہیر علماے اہل سنت یہاں تشریف لاتے تھے۔ مثلاً شیخ المشائخ اشرفی میاں علیہ الرحمہ، ان کے خلف ارشد مولانا سید احمداشرف عرف بڑے مولاناصاحب، نواسے حضرت محدث اعظم ہند مولاناسید محمدصاحب اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ، حضور صدرالشریعہ حضرت مولانا شاہ محمدامجد علی صاحب، حضرت مولانا محمدفاخر صاحب الٰہ آباد ی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہم۔
آخر وہ دن بھی قریب آگئے کہ مبارک پور کورحمت الٰہی کی بجلیوں نے اپنانشیمن بنایا ۔ کچھ تو مولوی شکراللہ صاحب کی مسلسل جارحیت کےرد عمل میں، کچھ مدرسہ کی حالت کے یک گونہ استحکام کے نتیجے میں اورکچھ جماعت اہل سنت میں بھی مقامی علماء(مثلاً مولاناحفیظ اللہ صاحب قریشی رضوی علیہ الرحمہ وغیرہ) کےپیدا ہوجانے کی وجہ سے یہاں کے سنیوں میں زندگی کی نئی حرارت پیدا ہوئی اور مدرسہ کومزید ترقی دینے کاخیال رو نما ہوا جسے یہاں کے ارکان نے اپنے سرپرستوں کی خدمت میں رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴؍ویں صدی کی دوسری دہائی میں کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور شیخ حضرت مولانا سید شاہ علی حسین صاحب (اشرفی میاں) رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ایک دینی مدرسہ بنام”مدرسہ مصباح العلوم “ قائم کردیا۔
(مفتی عبدالمنان اعظمی (علیہ الرحمہ): مضمون، مدرسہ اشرفیہ سے الجامعۃ الاشرفیہ تک، مشمولہ ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور ، شمارہ مئی ،جون، جولائی ۱۹۸۴ء)
[ماخوذحیات حافظ ملت ص۶۴۶ تا۶۵۵ ]
جناب مہتاب پیامی صاحب مبارک پور کی زبان اور تاریخی عمارتوںکے سلسلے میں رقم طراز ہیں
مبارک پور کی ایک مخصوص عوامی بولی ہے، اس بولی سے قطع نظر عام طور پر اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے والے افراد نظر آتے ہیں۔ اردو کی صورت حال یہاں کافی بہتر ہے اور اردو بولنے والے افراد ۹۵ فی صد ہیں۔اردو کے فروغ میں یہاں موجود مدارس و مکاتب کا کافی اہم کردار ہے ، یہاں کے مدارس کا ذریعہ تعلیم اردو ہے جس کے سبب طلبہ کی ایک بڑی تعداد، اردو سے واقف ہوتی ہے۔اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہل مبارک پور کی خدمات لائق تحسین ہیں۔
مبارک پور ایک قدیم صنعتی بستی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کئی ایک تاریخی عمارتیں بھی موجود ہیں۔یہاں کی تاریخی عمارتوں میں جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کافی اہم ہے۔ یہ مسجد راجہ مبارک شاہ کے زمانے سے ہنوز آباد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راجہ مبارک شاہ اس مسجد میں نمازِ جمعہ کی امامت کیا کرتے تھے۔ دوسری قدیم عمارتوں میں عید گاہ حیدر آباد اور شاہ کا پنجہ حیدر آباد وغیرہ ہیں جو صدیوں پرانی ہیں ۔ لاہوری اینٹوں اور چونے سے بنی ہوئی یہ عمارتیں مغلیہ عہد کی یاد گار ہیں۔ عید گاہ حیدر آباد میں اب بھی عید ین کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ شاہ کا پنجہ نامی عمارت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پنجۂ مبارک کا نشان محفوظ ہے۔ یہ کس طرح مبارک پور پہنچا اس کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہے۔البتہ عمارت کے گنبد اور طرزِ تعمیر سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ بھی مغلیہ دور کی یادگاریں ہیں، ان میں وقتاً فوقتاً تعمیراتی مرمت کے کام کیے جاتے رہے ہیں۔
ایک اہم اور قابلِ ذکر تاریخی عمارت قدم رسول (ﷺ)ہے جو مبارک پور کے قلب میں واقع ہے۔ یہ عمارت مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں تعمیر کی گئی۔
مغلیہ دور کی ایک اور یادگار عمارت معروف بہ شاہی مسجد موضع گجہڑا میں واقع ہے ۔ مبارک پور کی یہی قدیم ترین آبادی بھی ہے۔ اس کا ابتدائی نام جو ہندو مذہب کی مذہبی کتابوں اور بدھ مذہب کے لٹریچر میں ملتا ہے وہ ہے ’’گجی ہارا‘‘۔ گجی ایک قسم کا کپڑا ہوتا تھا جو ہاتھ سے بنا جاتا تھا۔ دو ہزار سال قبل یہاں اس کپڑے کی بنائی ہوتی تھی شاید اسی وجہ سے اسے گجی ہارا جاتا تھا۔ ’’گجی ہارا‘‘ نامی بستی امتدادِ زمانہ کے باعث ترقی کے دوڑ سے پیچھے ہو چکی ہے۔ اِن دنوں اسے گجہڑا کہا جاتا ہے۔
عہدِ شاہجہانی میں یہ علاقہ کفرستان تھا سب سے پہلے سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولادوں میں سے حضرت سید کمال الدین عرف بندگی شاہ کمال تبلیغِ دین کے لیے گجہڑا تشریف لائے۔ آپ کے صاحب زادے محمد صالح جو حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں تھے، انھوں نے یہاں کی شاہی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا۔ مسجد چونے اور لاہوری اینٹوں سے بنی ہوئی
ہے، اور طرزِ مغلیہ طرزِ تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ مسجد کے تین گنبد ہیں، درمیانی گنبد بڑا ہے۔ مسجد کے بیرونی دروازے کے اوپر سنگِ موسیٰ کا ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ جس پر ابھرے ہوئے حرفوں میں قطعہ کندہ ہے۔ اس قطعہ سے اس کا سنِ تعمیر ۱۰۹۹ھ معلوم ہوتا ہے۔
گجہڑا کی یہ شاہی مسجد آج بھی مولانا سید انیس الحق صاحب کے تولیت میں محفوظ ہے۔ آپ حضر ت بندگی شاہ کمال کے خاندان سے ہیں۔
(بہ شکریہ ،آزاد دائرۃ المعارف، اردو ویکی پیڈیا، ملخصاً و تصرفاً)
مبارک پور کی چنداہم عمارتیں
قدم رسول : غالباً شاہ جہانی دور کی یادگارہے۔
الجامعۃ الاشرفیہ: (عربی یونیورسیٹی)سنگ بنیاد۱۳۹۲ھ ۱۹۷۲ء۔ افتتاح ۱۳۹۳ھ۱۹۷۳ ء
روضہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ:الجامعۃ الاشرفیہ؍عربی یونیورسیٹی( ولادت ۱۳۱۲ھ۱۸۹۴ء ، وصال یکم جمادی الآخرہ ۱۳۹۶ ھ ، ۳۱؍ مئی ۱۹۷۶ ء)
دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم: باغ فردوس ۱۳۵۳ھ، گولہ بازار۔
مدرسہ اشرفیہ (پرانا مدرسہ): پرانی بستی، تعمیر جدید ۱۴۱۲ھ؍ ۱۹۹۱ء
اشرفیہ انٹرکالج: بمقام انجمن اشرفی دارالمطالعہ
المجمع الاسلامی: ملت نگر ، مبارک پور۔ یہ تصنیف و اشاعت کا ایک عظیم قومی ادارہ ہے
مبارک پور کی مساجد
یہاں الحمدللہ مساجد کی بھی خوب کثرت ہے ایک ایک محلہ میں کئی کئی مسجدیں ہیں جوقصبہ کی دینداری اور مذہبی لگاؤ کی طرف واضح اشارہ دیتی ہیں، نمونۃً چند مساجد کے نام حسب ذیل ہیں۔
شاہی مسجدگجہڑا: ۱۰۹۹ھ بزمانہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ (مسجد کے باہرحضرت سید کمال الدین شاہ بغدادی علیہ الرحمہ کا مزار مبارک ہے)
عزیز المساجد: الجامعۃ الاشرفیہ (یونیوسیٹی) مبارک پور، یہ اس علاقے کی سب سے بڑی، نئی خوبصورت جامع مسجد ہے
جامع مسجد راجہ مبارک شاہ:پرانی بستی،متعلقہ الجامعۃ الاشرفیہ۔(تعمیر جدید ۱۳۷۰ ھ ۱۹۵۱ء)
عید گاہ ، شاہ کا پنجہ، حیدر آباد: صدیوں پرانی تاریخی مسجد ہے۔
عید گاہ علی نگر: یہ قدیم تاریخی مسجد ہے
قادری جامع مسجد: علی نگر
عزیزی جامع مسجد: علی نگر
مسجد حافظ ملت (مسجد کمال بابا:پرانی بستی، اسی مسجد میں حافظ ملت علیہ الرحمہ ، نماز ادا فرماتے تھے ،اور اُنھیں کے نام سے یہ مسجدمشہور ہے۔
مسجد برکات: پرانی بستی
کنگرہ مسجد :پرانی بستی، یہ مسجد حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کے پڑوس میں ہے، جب وہ رہتے، اسی کنگرہ والی مسجد میں نماز ادا فرماتے۔
مسجد بلال :لال چوک، پرانی بستی
مدینہ مسجد: لال چوک، کھجوا،پرانی بستی
مسجد عائشہ صدیقہ: کھجوا ،پرانی بستی
مسجد سبزی منڈی :گولہ بازار
مسجد نادرجی : پورہ خواجہ، حضرت ممتاز العلما علیہ الرحمہ جب رہتے تو اسی مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
مسجد طیبہ :پورہ خواجہ
مسجد اعلی حضرت :کٹرہ
جامع مسجد: کٹرہ
مسجد حفصہ: کٹرہ
مسجد غوث الوری :نئی بستی ،کٹرہ
مسجد عمر فاروق :پورہ دیوان
جامع مسجد مبارک بابا: پورہ رانی
مسجد غوثیہ :پورہ رانی
جامع مسجد بیلوریا: پورہ صوفی
مکہ مسجد :پورہ صوفی
مدینہ مسجد: پورہ صوفی
پانا شاہ مسجد : پورہ صوفی
جامع مسجد سبحانی: حیدرآباد
جامع مسجد صدیق اکبر:پورہ دولھن، متعلقہ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور
جامع مسجد: پورہ باغ
جامع مسجد عائشہ: حیدرآباد
جامع مسجد بیت المکرم: نیا پورہ،
وغیرہ
مبارک پور کی چند مشہور انجمنو ں کے نام
۱۔انجمن اہل سنت و اشرفی دار المطالعہ: (قیام ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء)یہ دارالعلوم اشرفیہ کے طلبہ کی قائم کردہ سب سے قدیم انجمن ہے، اسی انجمن کے زیرِ اہتمام مبارک پور میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلسہ وجلوس کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔
۲۔انجمن رحمانیہ:پرانی بستی
۳۔انجمن غوثیہ: پرانی بستی
۴۔ انجمن مظہر حق: علی نگر
۵۔انجمن اسلامیہ:لال چوک ، پرانی بستی
۶۔انجمن فیضان عزیزی:پورہ خواجہ
۷۔ انجمن مظلومیہ: پورہ خضر
۸۔انجمن رونقِ اسلام:پورہ باغ
۹۔انجمن ملتِ اسلامیہ: پورہ صوفی
۱۰۔انجمن اخلاقیہ: حیدرآباد
۱۱۔ انجمن تنویر الاسلام: نیا پورہ
۱۲۔انجمن عزیزیہ: پورہ صوفی
۱۳۔انجمن گلزارِ مصطفی: پولیس چوکی
۱۴۔انجمن غنچۂ ہاشمیہ: پورہ صوفی
۱۵۔تنظیم ادب:کٹرہ
۱۶۔انجمن فروغِ اسلام: پورہ دیوان
۱۷۔انجمن باغِ رسول: گولہ بازار
۱۸۔انجمن باغِ فردوس: گولہ بازار
۱۹۔انجمن فیضان مصطفی: پورہ دیوان
۲۰۔انجمن قادریہ: علی نگر
۲۱۔انجمن اظہار اشرف: پورہ صوفی
۲۲۔انجمن گلشنِ رضا: پورہ دولھن
وغیرہ۔
چند اسپتالوں کےنام
سرکاری اسپتال: مبارک پور
اشرفیہ ہاسپیٹل: جامعہ اشرفیہ (یونیورسیٹی)
اسلامیہ ہاسپیٹل :(یتیم خانہ) پورہ ، خضر
محمدی ہاسپیٹل:کٹرہ
صبا ہاسپیٹل :سمودھی ،نیا پورہ
وغیرہ
دعا ہےکہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کا یہ علمی نگر شاد وآباد رہے اوراللہ عزوجل مسلمانان مبارک پور کو خوش حال وسلامت رکھے ۔ آمین ،بجاہ حبیہ سید المرسلین، علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
مآخذ و مراجع
ذاتی مشاہدات
زبانی معلومات ازجناب حافظ ہلال احمد صاحب، پرانی بستی و دیگر احباب
حیاتِ حافظ ملت
ماہنامہ اشرفیہ، مبارک پور
مناقبِ غوثی
تذکرہ ٔعلمائے مبارک پور
آزاد دائرۃ المعارف ، اردو ، ویکی پیڈیا
دیگرانٹر نیٹ ؍ ویب سائٹس

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

فلسفہ کیا ہے ؟ از احمد القادری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ ربِّ العٰلَمین ، والصّلٰوۃ والسّلام علی سیِّد الانبیآء والمرسلین ، وعلی آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

احمد القادری

فلسفہ اوراس کی شرعی حیثیت

فلسفہ لغۃً حکمت، مسائل علمیہ میں غور وفکر اوراصطلاح میں، انسانی طاقت بھر موجودات کےاحوال کاعلم۔
جوجتناہی زیادہ اشیا کا جانکار ہوگا،وہ اتناہی بڑا حکیم اور فلسفی ہوگا۔ حکمت ودانائی خداوندبرترنے انسان کے اندر ودیعت رکھی ہے۔ اور جب سے بنی نوع انسان موجود ہیں اسی وقت سے فلسفہ وحکمت بھی ہے۔ اوریہ علم سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کوعطا کیاگیا۔ ارشاد ربانی ہے:
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا (البقرہ،۲،آیت:۳۱)
رب نے آدم کوتمام اشیا کے نام سکھادیے۔
پھرانسان کوعلومِ انبیا وراثت میں ملے۔ توجس نے جتنا محفوظ کیا اوراس میں نظر وفکر سے کام لیا، وہ اتناہی بڑا حکیم ہوا۔اس نظر وفکر میں بعض غلط راہ پر بھی لگ گئے ،اس لیے اختلاف پیدا ہوا۔
پہلے یہ علوم مدوّن نہیں تھے اور نہ ان کی اصطلاحات موضوع تھیں۔ اس میں اہل یونان نےپہل کی، اس لیے وہ موجد کہلائے۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں، ان کے اندر فلسفہ سے دلچسپی زیادہ بڑھی اور انھوں نے اس کی تدوین کی، اس لیے اس فلسفہ کو فلسفۂ یونانی کہاگیا اور یونان کواس کا مرکز تسلیم کرلیاگیا۔
فلسفہ کادَور ِاوّل
یونانی فلسفہ کابانی طالیس ملیطی، (ولادت:۶۴۰؍ ق م- وفات ۵۴۸ ق م) کو کہاجاتاہے۔ اساطین حکمت میں ابیذقلس، فیثاغورس (۵۷۶-۴۹۶ ق م) کےبعد سقراط (۴۷۰- ۴۰۰ ق م) افلاطون (۴۲۸-۳۴۸ ق م) اور ارسطو (۳۸۴- ۳۲۱ ق م) کوشمار کیاجاتاہے۔ آخرالذکر ہی نے علم منطق سکندررومی کےحکم سے ،فلسفہ سے الگ کرکے تدوین کیا، اس لیے وہ معلم اوّل کےلقب سے مشہور ہوا۔ ارسطو کےبعد بھی یونان میں عرصہ تک فلسفہ کا عروج رہا۔ اور بہت سے فلاسفہ پیداہوئے۔ لیکن جب یونانی حکومت زوال پذیر ہوگئی، رومی یونان پرغالب ہوگئے اورانھوں نے دین مسیحی قبول کرلیا، تب شرعاً فلسفہ پرپابندی لگادی گئی اورہرایک کواس کےسیکھنے سکھانے سے منع کردیاگیا۔شاہ قسطنطین نے تمام یونانی کتابیں جمع کرکے ایک بڑے کمرے میں مقفل کردیں۔( تاریخ اسلام)
دَورِ دوم
مدتوں فلسفہ کی تعلیم بند رہی۔ جب اسلام کا عروج ہوا ،اور مسلمانوں نے قرآن وحدیث کے علاوہ دوسرے علوم کی طرف بھی توجہ کی ، تو قسم قسم کے علوم اختراع کیے۔ اورانھیں تکمیل تک پہنچایا۔ مثلاً اصول تفسیر، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، نحو، صرف، بلاغت، عروض وقوافی، تاریخ، فرائض، کلام، تصوف وغیرہ۔
ان کو علوم کی طرف بڑھتی ہوئی یہی دلچسپی معقولات کی طرف بھی کھینچ لائی۔ ان میں اول خالد بن یزید بن معاویہ ہیں جنھوں نے علوم فلسفہ، یونانی زبان سے عربی میں منتقل کیے۔ بنی عباس کےدورِ خلافت میں اس کی ترقی شروع ہوئی۔ مامون (۱۹۸- ۲۱۸ھ) نےبھر پور اس پر توجہ صرف کی اورفلسفہ کوبام عروج تک پہنچایا۔(تاریخ اسلام )
اس نے ایک بار قیصر روم کے پاس لکھا کہ فلسفہ کی تمام کتابیں میرے پاس بھیج دو۔ قیصر نے تلاش شروع کی توایک خانقاہ نشین راہب نے پتابتایا کہ فلاں مقام پرایک مقفل مکان ہے، جس میں قسطنطین نے تمام یونانی کتابیں بند کرادی تھیں، پھر راہب سے مسلمانوں کےپاس کتابیں بھیجنےکےبارے میں شرعی حیثیت پوچھی تو تجربہ کار راہب نےجواب دیاکہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ثواب ملے گا، کیوں کہ یہ چیزیں جس مذہب میں داخل ہوئیں اس کی بنیادیں ہلادیں، چناں چہ مقفل خزانہ کھولا گیا، اس میں بےشمار قدیم یونانی کتابیں نکلیں ،وہ سب مامون کے پاس بھیج دی گئیں۔( تاریخ اسلام)
مامون نےان کا ترجمہ کرانا شروع کردیا۔ ترجمہ کرنے والے کومترجَم کتاب سے تول کرسونادیتا۔ اس کی اس قدر دانی نےاس انحطاط پذیر بلکہ قدیم وبوسیدہ فلسفہ کوپھر سے شباب بخش دیا۔
دَورِ سوم
چوں کہ بہت سے مترجمین نے مل کران کتابوں کاترجمہ کیا تھا اس لیے ان میں باہم بڑا اختلاف تھا، خلیفہ منصور بن نوح سامانی نے عظیم فلسفی فارابی (م ۳۳۹ھ) سے ان کی تلخیص وتہذیب کی فرمائش کی۔ فارابی نےان کتابوں کوسامنے رکھ کرایک نئی کتاب ”تعلیم ثانی“ ترتیب دی، اس لیے اسےمعلم ثانی کہاجاتاہے۔اب یہی کتاب فلسفہ کامرجع ہوگئی۔ فارابی مسلمانوں میں سب سے بڑا فلسفی گزرا ہے۔
سلطان مسعود کےزمانہ میں ایک بار” کتب خانہ“ میں آگ لگ گئی۔ بہت سی کتابوں کےساتھ تعلیم ثانی بھی جل گئی۔ اب شیخ بوعلی سینا (م ۴۲۸ھ) نے ”شفا“ لکھی جوآج منطق وفلسفہ میں سب سے بڑے درجے کی کتاب مانی جاتی ہے۔ شیخ بہت ذہین تھا جوبھی کتاب ایک بار دیکھ لیتا اسے حرف بحرف زبانی یاد ہوجاتی۔ اس کی ”شفا“ تعلیم ثانی کاخلاصہ ہے۔ لہذا شیخ کو معلم ثالث کہاگیا۔
اس کے بعد بھی مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے فلاسفہ پیدا ہوئے اورانھوں نے بےشمار کتابیں تصنیف کیں۔
دَورِچہارم
جب زمانۂ خلافت ختم ہوگیا، مسلمانوں کی حکومتیں متزلزل ہوگئیں، علم وتمدن اس سے عہدہ برآنہ ہوسکے،فلسفہ بھی انحطاط پذیر ہوگیا۔ یہاں تک کہ اہلِ اسلام سے علومِ حکمت اُٹھ کر اہل مغرب میں چلے گئے، انھوں نے ان کو خوب ترقی دی۔ فلسفۂ قدیمہ کےاندر ریسرچ کی۔ اس کی بہت سی باتوں کوصحیح اورکچھ اقوال غلط ثابت کرکے نئی تحقیق کی۔ اوراس کانام فلسفۂ جدید یا سائنس رکھا۔
آج علم حکمت ان کے یہاں انتہائی عروج وکمال کی منزلیں طے کررہاہے۔ اور ہمارے یہاں اپنی غریبی، مفلسی، اور ناقدردانی کا رونا رورہاہے۔
فلسفہ کی شرعی حیثیت
شرعی اعتبار سے فلسفہ کی تین قسمیں ہیں:
(۱) شریعت کے مخالف (۲) شریعت کے موافق (۳) اس کے موافق نہ مخالف۔
حجۃ الاسلام امام غزالی نےجوعلوم عقلیہ ونقلیہ دونوں کے جامع تھے اپنی تصنیف ”المنقذمن الضلال“ میں اس تعلق سے جو لکھاہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
ارسطو کےمباحث جوہم تک پہنچے ہیں ہم انھیں تین قسموں پرمنقسم کرسکتے ہیں:
(۱) ایسے مباحث جن کی بنیاد پران کی تکفیر ضروری ہے۔
(۲) وہ مباحث جن سے ان کی بدمذہبی ثابت ہوتی ہے۔
(۳) وہ مباحث جن سے انکار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
مقصد وغایت کےاعتبار سے فلسفہ کی چھ قسمیں ہیں:
(۱) منطقیات (۲) ریاضیات (۳) سیاسیات (۴) طبعیات (۵) الٰہیات (۶) اخلاقیات۔
(۱-۲) منطق وریاضی: ان کاشریعت سے اثباتاً نفیاً کوئی تعلق نہیں۔
(۳) سیاست: یہ امور حکومت وسلطنت سے متعلق ہے، وہ موجودہ دَور کی سیاست کی طرح نہیں بلکہ اگلے صحیفوں اور اولیاےسلف کی حکمتوں سے ماخوذ ہے اس لیے مہملات سے عموماً پاک ہے۔
(۴) طبعیات: اس کی دوقسمیں ہیں:
ایک تو وہ جن کاانکار لازم نہیں، جیسے عالم سماوات کےاجسام وکواکب ان کے ماتحت اجسام مفردہ مثلاً پانی،ہوا، خاک، آگ۔ یوں ہی اجسام مرکبہ مثلاً حیوانات، نباتات، معدنیات، نیز ان کے تغیرات واستحالات اورامتزاج کےاسباب۔ جس طرح علم طب میں انسان کےجسم اوراس کےمزاج کے تغیرات سے بحث کی جاتی ہے اورکسی مسلمان کےلیےعلم طب کے مباحث کی تردید داخل ایمان نہیں۔ اسی طرح طبعیات کےان مباحث کاانکار بھی لازم اسلام نہیں۔
البتہ یہاں بھی چند مباحث ایسے آئے ہیں جوحق صریح کےخلاف ہیں، ان میں سے بعض کاذکر کیاجارہاہے۔
[تفصیل کےلیے تَہافُت الفلاسفہ از امام غزالی اور الکلمۃ الملہمۃ از امام احمدر ضا قدس سرہ کامطالعہ کریں۔]
ہاں! ان کی تردید کے لیے مسلمانوں کو یہ عقیدہ اچھی طرح جمالینا چاہیے کہ طبیعت اللہ جل شانہ کے حکم کے تابع ہے، اپنی جانب سے وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی، بلکہ اس خالق وپروردگار نے جس کوجس کام پر لگادیاہے اسی میں مصروف ہے۔
فلسفی زمانہ ، گردش فلک اورموالید (مادہ) کی انواع کوقدیم مانتے ہیں، یہ عقائد حقہ کےخلاف ہے ،ملت اسلامیہ میں ذات وصفات الٰہی عز جلالہ کےسوا کوئی شَے قدیم نہیں، سب حادث ہیں۔
مضحکہ خیز بات تویہ ہے کہ فلسفی، گردش فلک ،مادہ ،وغیرہ کےاشخاص وافراد ،سب کو حادث کہتے ہیں ،مگر طبیعتِ کلیہ کوقدیم مانتے ہیں۔ مثلاً فلک کے سب دورے حادث ہیں کوئی خاص دورہ، ازل میں نہ تھا مگرہیں ازل سے۔ یہ صراحتاًکیسا جنون ہے؟
(: الکلمۃ الملہمہ،ص: ۶۷ )
فلک، خرق والتیام قبول نہیں کرسکتا
یہ شرعاً باطل ہے، اس لیے کہ کثیر نصوص قطعیہ اس بات کےشاہد ہیں کہ روز قیامت آسمان پارہ پارہ ہوجائےگا۔
فلاسفہ اسے محال کہتے ہیں، اور ان کے فضلہ خوار نیچری وغیرہم اسی بناپر معراج جسمانی کے منکر ہیں۔(: الکلمۃ الملہمہ،ص: ۶۷ )
فلکیات میں ان کےبہت سے اور مزید مُزَخرفات ہیں جن کی یہاں گنجائش نہیں۔
(۵) الٰہیات
اس علم میں فلاسفہ نےبڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ لطف کی بات تویہ ہے کہ علم منطق میں براہین ودلائل کے لیے جوشرطیں قائم کی تھیں انھیں یہاں نبھا نہ سکے اسی لیے ان میں باہمی اختلاف بھی بکثرت پائےجاتے ہیں۔
الٰہیات میں فلسفیوں کے اغلاط کثیرہ ہیں، جن میں جمہور اہل اسلام کی مخالفت کی گئی ہے۔
(۱) اجسام کاحشر نہیں ہوگا:
یعنی روز قیامت یہ اجسام اٹھائے نہ جائیں گے بلکہ ثواب وعذاب صرف ارواح پرہوگا۔ یعنی یہ سزائیں صرف روحانی ہوں گی،جسمانی نہ ہوں گی۔
حالاں کہ روزقیامت اجسام کاحشر ہوگا اورعذاب وثواب روح وجسم دونوں پرہوگا۔ یہ کثیر نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔
(۲) اللہ تعالیٰ کلیات کاعالم ہے جزئیات کا نہیں
(معاذاللہ) یہ بھی صریح کفرہے۔ اس لیے کہ حق یہی ہے کہ باری تعالیٰ کےعلم سے زمین وآسمان کا کوئی ذرہ بھی غائب نہیں۔ خود قرآن مجید کا ارشاد گرامی ہے:
لَا يَعْزُبُ عَنہُ مِثْقَالُ ذَرۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ (السبا:۳۴،آیت:۳)
اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز، آسمانوں میں اور نہ زمین میں(کنزالایمان )
اوراللہ کی بات سے بڑھ کر کس کی بات سچی ۔ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِيْلًا( النساء:۴، آیت:۱۲۲ )
(۳) تمام جہان ازلی اور قدیم:
یعنی حادث نہیں ،ہمیشہ سے یوں ہی چلاآرہاہے۔
فلاسفہ کے یہ تین، تو وہ کفری عقائد ہیں جن کااسلامی فرقوں میں سے کوئی فرقہ بھی قائل نہیں۔(المنقذ من الضلال،ملخصاً )
(۴) مبدأ واحدسے ایک ہی صادرہوگا
اس قول باطل کی بنا پر،فلاسفہ اس خلاق علیم کو،صرف ایک شَے، عقل اوّل کاخالق مانتے ہیں، باقی تمام جہان کی خالقیت عقول کےسرمنڈھتے ہیں۔
حالاں کہ اللہ واحد قہار ایک اکیلا خالق جملہ ٔعالم ہے۔ خالقیت میں عقول وغیرہا کوئی نہ اس کاشریک، نہ ان کاتخلیق میں واسطہ ، ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہ ( فاطر:۳۵، آیت:۳ ) کیااللہ کےسوا اوربھی کوئی خالق ہے۔ (کنزالایمان )
(۵) فاعل دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں کرسکتاطبیعت جب تک خود اس کی مقتضی نہ ہو یہ قول بھی باطل ہے۔
کیوں کہ قادر مطلق خود فاعل مختار ہے:
يَفْعَلُ اللّٰہُ مَا يَشَآء(ابراہیم:۱۴، آیت:۲۷- )
اللہ جوچاہے کرے۔(کنزالایمان )
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ( البروج:۸۵،آیت:۱۷)
ہمیشہ جوچاہے کرنے والا۔(کنزالایمان )
لِّلہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا ( الرعد:۱۳،آیت:۳۱) سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں (کنزالایمان )
یوں ہی فعل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کودیکھ رہاہے، کہ بے کسی مُرَجَّح کے، آپ ہی اختیار کرلیتاہے۔
مثلاً دو جام یکساں صورت ایک نظافت کے ہوں اوردونوں میں یکساں پانی بھرا ہو اور برابر کی دوری پرہوں، یہ پینا چاہے ان میں سے جسے چاہے اٹھالے گا۔ مطلوب تک دو راستے برابر ویکساں ہوں جس پر چاہے چلےگا۔ ایک طرح کے دو کپڑے ہوں جسے چاہے گا پہنے گا۔
پھر اس فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ کے ارادہ کا کیاکہنا۔
(۶) اخلاقیات
یہ صوفیۂ کرام کےاقوال سے ماخوذ ہے ان کواپنے مجاہدات میں نفس کے جو محاسن وفضائل اورعیوب ورذائل روشن وہویدا ہوئے ان حضرات نے بیان وتحریر کیا۔ فلاسفہ نے ان سے کچھ اصولی باتیں لے کر اپنے کلام باطل میں ملادیں تاکہ اس پاکیزہ کلام کے ذریعہ اپنے کلام باطل کو رواج دیں۔
یہ بات کبھی نہ بھولیے کہ فلاسفۂ قدیم کے زمانہ میں بھی حق کے متوالوں کایہ گروہ موجود تھا بلکہ ان کے وجود سے تو زمانہ کبھی خالی نہ رہا، انھیں کی برکتوں سے رحمتوں کانزول ہوتاہے۔
حدیث میں وارد ہے: بِھِمْ یُمْطَرُوْنَ وَبِھِمْ یُرْزَقُوْنَ انھیں اولیاے الٰہی کےطفیل لوگوں پر مینہ برسایاجاتاہے اورانھیں کےطفیل رزق دیاجاتاہے۔ انھیں اولیا میں سے اصحاب کہف بھی ہیں۔ (المنقذ من الضلال،ملخصاً )
بعض ضعیف الاعتقاد جب گرامی بزرگوں کاکلام ان فلسفیوں کی تحریرات میں مخلوط دیکھتے ہیں اور دودھ کادودھ اورپانی کاپانی الگ کرلینے میں قدرت نہیں پاتے تو وہ تمام مباحث کو یکساں گمان کرتے ہوئے انکار کربیٹھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں پہلے سے راسخ ہے کہ فلاسفہ اہل باطل ہیں، اور ان کاکلام بطلان پر مبنی ہے۔
یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی مسلمان کسی نصرانی سے سنے لَااِلٰہ ِالَّا اللّٰہُ عِیْسیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ اور اس کاانکار کربیٹھے اوربلا توقف کہے کہ یہ نصرانی کا کلام ہے مجھے قبول نہیں۔
حالاں کہ ان کی تکفیر کی وجہ وہ قول نہیں، بلکہ انھیں کافر اس لیے کہاجاتاہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں۔
( المنقذ من الضلال،ملخصاً)
گزشتہ صفحات سے بخوبی واضح ہوگیا کہ پورا فلسفہ باطل ہے نہ حق ہے۔ بلکہ بعض اس کے مباحث درست وصحیح ہیں بعض خلاف شرع اورباطل ہیں۔ اس لیے اگر ایسا شخص اسے پڑھے جوحق وباطل کےدرمیان امتیاز کرکے حق کو اخذ کرلے اورباطل کی تردید کرے تو جائز ومستحسن ہے۔
اب ذیل میں تحصیل فلسفہ کی چند شرطیں ذکر کی جاتی ہیں جوان شرائط کاحامل ہوگا تو امید ہے کہ فلسفہ کی ضلالت سے محفوظ رہے گا۔
تعلیم فلسفہ کے شرائط
(۱) انہماک فلسفہ نے معلم کے نورقلب کومنطفی نہ کیاہو۔
(۲) معلم عقائد اسلام میں بروجہ کمال واقف وماہر ہو۔ اثبات حق اورابطال باطل پربعونہٖ تعالیٰ قادر ہو۔
(۳) وہ اپنی اس قدرت کوہرسبق کے،باطل مقام پراستعمال کرتاہو، اور ہر مسئلہ باطلہ کابطلان متعلم کےذہن نشین کراتاہو۔
(۴) متعلم ومعلم کےدل میں فلسفۂ ملعونہ کی عظمت ووقعت بالکل نہ ہو۔
(۵) متعلم کاذہن سلیم اور طبیعت مستقیم ہو۔(بعض طبیعتیں خواہی نخواہی اباطیل کی طرف جاتی ہیں) کما قال اللّٰہ تعالیٰ:
وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوہُ سَبِيْلًا، وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا۔(الاعراف:۷،آیت:۱۴۶)
اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں، اور گمراہی کاراستہ نظر پڑے تواس میں چلنے کوموجود ہوجائیں(کنزالایمان)
(۶) نیت صالح ہو۔
(۷) تنہااس پر قانع نہ ہو بلکہ دینیات کےساتھ اس کاسبق ہو۔(فتاویٰ رضویہ،جلد:دہم-ملخصا )
علم فلسفہ کی اصطلاحات
فلسفہ کی تعریف: متوسط انسانوں (یعنی حُکَما، نہ انبیاےکرام) کی طاقت بھر موجودات واقعیہ کے احوال کاعلم، حکمت اور فلسفہ کہلاتاہے۔
موضوع: موجودات واقعیہ کے احوال ۔
غایت: نفس کی قوت نظری اور قوت عملی کی تکمیل۔
اقسام: فلسفہ کی دوقسمیں ہیں (۱) نظری (۲) عملی
فلسفۂ نظری: ایسے امور کے احوال کا علم، جن کا وجود ہماری قدرت واختیار میں نہیں۔ جیسے باری تعالیٰ، اس کی صفتوں اور آسمان وزمین وغیرہ سے متعلق علم۔
فلسفۂ عملی: ایسے امور کے احوال کےعلم، جن کاوجود ہماری قدرت واختیار میں ہے۔ جیسے عدل کے اچھے اورظلم کے برے ہونے کاعلم۔
غایتِ نظری: جوامور ہماری قدت میں نہیں، ان سے متعلق علم کے حصول سے قوت نظری کی تکمیل۔
غایتِ عملی: جوامور ہماری قدرت میں ہیں، ان سے متعلق علم کے حصول سے قوت نظری کی تکمیل، پھر ان کوعمل میں لانے سے قوتِ عملی کی تکمیل۔
فلسفۂ نظری کی تین قسمیں ہیں:
(۱) الٰہی (۲) ریاضی (۳) طبعی
الٰہی: ایسے امور سے متعلق علم نظری ،جواپنے وجودِ ذہنی اورخارجی دونوں میں مادہ کےمحتاج نہ ہوں۔جیسے معبودبرحق، اس کی صفتوں اوروجود وامکان وغیرہ سے متعلق علم۔
ریاضی: ایسے امور سے متعلق علم نظری جواپنے وجود خارجی میں مادہ کے محتاج ہوں اوروجود ذہنی میں مادہ کے محتاج نہ ہوں۔ جیسے کرہ، مثلث، مربع وغیرہ سے متعلق علم۔
طبعی: ایسے امورسے متعلق علم نظری جواپنے وجود خارجی اورذہنی دونوں میں مادہ کےمحتاج ہوں۔ جیسے انسان، حیوان، نباتات، جمادات وغیرہ سے متعلق علم۔
فلسفۂ عملی کی بھی تین قسمیں ہیں
(۱) تہذیبِ اخلاق (۲) تدبیرِمنزل (۳) سیاست مَدَنِیَّہ
تہذیبِ اخلاق: وہ علم عملی ہے جوکسی ایک شخص کی مصلحتوں سے متعلق ہو۔ جیسے یہ علم ،کہ سچ بولنا اچھاہے،جھوٹ بولنا بُرا ہے۔
تدبیر ِمنزل: وہ علم عملی ہے جوکسی خاندان کی مصلحتوں سے متعلق ہو، جیسے اولاد کی تربیت، ماں باپ کی خدمت، رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت وغیرہ سے متعلق علم۔
سیاست مَدَنِیَّہ: وہ علم عملی ہے جوکسی شہر یاملک کی مصلحتوں سے متعلق ہو،جیسے اس بات کاعلم کہ عدل حسن ہے، ظلم قبیح ہے۔
فلسفۂ عملی: شریعت اسلامیہ کےآنے کے بعد متروک ہوگیا۔ اس لیے کہ اسلام نے تہذیبِ اخلاق، تدبیرِمنزل، اورسیاست وحکومت سے متعلق جوجامع اورمکمل دستورِ عمل پیش کردیا ،اس کے سامنے تعلیمِ فلاسفہ کی حاجت نہ رہی۔
علم ریاضی: مفیدہے مگراب وہ مستقل فن کی حیثیت سے ممتاز ہوچکاہے اوراس پر الگ سے کافی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، اس لیے مصنف نے فلسفۂ عملی کے ساتھ ریاضی کو بھی ترک کردیا، اوراپنی کتاب تین قسموں پر رکھی:

(۱) منطق: کیوں کہ وہ حصولِ علم کاآلہ وذریعہ ہے۔ (۲) طبعی (۳) الٰہی۔
کتاب کی قسم اول (منطق) نابود ہوگئی۔ قسم دوم (طبعی) اور قسم سوم (الٰہی) موجود ہیں۔
(ماخوذ: از شرح ہدایۃ الحکمۃ وہدیہ سعیدیہ )
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیںفلسفہ کی غلط باتوں سے بچنے، حق و ناحق میں امتیاز کرنے، اور قرآن وسنت کے سارے فرامین دل وجان سے ماننے اور ان پر ہمیشہ عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم ۔
احمد القادری

الاسلامی.نیٹ
WWW.ALISLAMI.NET

ممتازالعلما مولانا ممتاز احمد، انگلینڈ

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

احمد القادری مصباحی

ممتاز العلما،کچھ یادیں کچھ باتیں

ممتاز العلما حضرت مولانا ممتاز احمد اشرف القادری، بن حافظ عبد الحلیم (علیہما الرحمہ)جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے مایۂ ناز سپوت ہیں۔
آپ کی ولادت : ۱۲ ؍شوال ۱۳۵۳ ھ ۱۸ ؍جنوری ۱۹۳۵ء میں، ایک دیندار، علم دوست گھرانے میں ہوئی۔
تاریخی نام : صغیر احمد(۱۳۵۳)
عرفی نام: ممتاز احمد
تخلص: اشرف
لقب: مبلغ اسلام اور ممتاز العلماہے۔
مقام ولادت: پورہ خواجہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی، ہند
وفات:۳؍ رمضان ۱۴۴۲ھ ۱۵ ؍ اپریل ۲۰۲۱ ء جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات
مزار مبارک: بریڈ فورڈ، انگلینڈ
پاک و ہند کی آزادی کے سال ۱۹۴۷ ءمیں دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ مصباح العلوم میں داخلہ لیا ،دس سال، دارالعلوم میں مشاہیر اساتذہ کی بارگاہ میںاعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۸ ؍شعبان ۱۳۷۶ ھ ۳ ؍ فروری ۱۹۵۷ ء کو دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
تقریباً ۱۴ سال ہند کے مختلف مدارس میں تدریسی و انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۷۲ ءمیں برطانیہ کا تبلیغی دورہ فرمایا، بریڈ فورڈ، انگلینڈ میں مقیم ہوۓ، پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ مگر وطن مبارک پور آتے رہتے اور جب بھی آتے، جامعہ اشرفیہ (یونیورسیٹی) ضرور آتے، جامعہ سے آپ کو گہرا لگاؤ تھا۔
ملاقاتیں: اشرفیہ میں تقریباً آٹھ سال میرا قیام رہا، چارسال بحیثیت طالب علم، چار سال بحیثیت مدرس، اس دوران، بارہا، جامعہ اشرفیہ میں ملاقات کاشرف حاصل ہوا،ایک بار ہم پورہ خواجہ، دولت کدے پر بھی حاضر ہوئے، بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ بٹھایا، بڑی خندہ پیشانی سے ضیافت، عزت افزائی، اور ذرہ نوازی فرمائی۔پھر ۱۹۹۵ ءمیں جب الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور سے ، بیرون ملک میرا آنا ہوگیا، اس کے بعد بھی کئی ملاقاتیں ہوئیں، ایک بار عرس امجدی گھوسی میں ان کا بصیرت افروز بیان سماعت کر نے کا موقع ملا۔
آپ، میرے مشفق استاذ، حضور محدث کبیر دامت برکاتہم العالیہ کے ہم سبق ہیں، میں اُن کا استاذ ہی کی طرح احترام کرتا، مگر وہ ایک بے تکلف دوست کی طرح ملتے۔ یہ اُن کی خاکساری تواضع اور خِرد نوازی کی واضح دلیل ہے۔ایک بار زیادہ عرصہ کے لئے ہند تشریف لائے تھے، ملاقات پر فرمانے لگے اب میں ریٹائر ہوگیا، سارا کام بچوں نے سنبھال لیا ہے۔ مجھے فرصت ہے، یہاں رہوں چاہے وہاں رہوں۔ آپ کی باتیں بڑی پر لطف ، مخلصانہ ، محبت آمیزہوتیں۔ آپ کی تحریریں بھی بڑی دلچسپ ہیں۔
ان میں ، اسلام منزل بہ منزل ، بڑی اہم کتاب ہے
یہ دو حصوں میں ایک جامع مختصر اسلامی تاریخ ہے ، زبان و بیان سنجیدہ، اور دل چسپ، باتیں نپی تُلی، سلیس، رواں، اور فصیح و بلیغ ہیں،اور ایسا کیوں نہ ہوکہ آپ ایک قادرالکلام شاعر بھی ہیں، اشعار نویسی اور نثر نگاری دونوں پر قدرت رکھتے ہیں۔
محترم محمد نعیم عزیزی بن مولانا بدرالدجی صاحب مد ظلہ کی کمپوزنگ کے ساتھ ، آپ کے صاحبزادےجناب ماسٹر مختار احمد اعظمی (ایم اے علیگ، رکن شوری اشرفیہ مبارک پور )کے اہتمام سےدونوں حصے چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔
حصہ اوّل ، لکھنے کی تاریخ اختتام : ۳۰ ؍ذی الحجہ ۱۴۲۵ ھ۱۰ ؍فروری ۲۰۰۵ء اورصفحات۲۴۸ ہیں
حصہ دوم : ۲۶۴صفحات ،تاریخ اختتام: ۲۳ ذی قعدہ ۱۴۳۰ ھ۱۱ ؍نومبر ۲۰۰۹ء ہے
اس کتاب میں امت مسلمہ کے عروج و زوال کا منظر، بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعض اقتباس ہدیۂ قارئین ہیں۔
یہ کتاب ، مصنف نے اس شعر سے شروع کی ہے

مرکز حق و صداقت کی طرف ،لوٹ چلیں اپنے دیں، اپنی شریعت کی طرف ،لوٹ چلیں
نہیں ملنے کی کہیں ،کفر وضلالت سے اماں آؤ دربار رسالت کی طرف ،لوٹ چلیں

اس شعر میں مغرب سے مرعوب زدہ امت مسلمہ کو اپنے دین، اپنی شریعت ، اور دربار رسالت کی طرف ،لوٹنے کی دعوت دی گئی ہے، کہ درحقیقت امن و امان اور شانتی کا گہوارہ یہی ہے، مرکز حق و صداقت یہی ہے، اسے مغرب کی رنگینیوں میں نہ تلاش کریں، آپ کو یہ سب کچھ بارگاہ رسالت سے ملے گا،یہ بات انھوں نے اپنے تجربے سے لکھی، جنھوں نے تقریباً نصف صدی دیار مغرب میں گزاری، اور امت مرحومہ کو خوب جھینجھوڑا ہے۔
ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں
جاہ طلب، مغرب پرست، ناعاقبت اندیش طبقہ، مغرب پرستی کو اعتدال پسندی، باطل پرستی کو ترقی پسندی، اور گمراہی وبے دینی کو روشن خیالی کے نام سے، پوری قوم پر مسلط کرنے میں، شب و روز،پورے اخلاص کے ساتھ مصروف ہے۔
(اسلام منزل بہ منزل اول ملخصاً ص ۲۴۷)
مفاد پرستی کے سلسلے میں رقمطراز ہیں
قبیلۂ بنی عامر کے سردار بحیرہ بن ایاس کو ایمان و توحید کی دعوت دی تو اس نے سوال رکھا کہ آپ کے بعد اقتدار کس کو ملے گا؟ حکومت کس کی ہوگی؟
أ یکون لنا الامر بعدک؟
کیا (آپ کے بعد) مملکت اسلامیہ اور مسلمانوں کی باگ ڈور ہمارے ہاتھوں میں ہوگی؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ألأمر الی اللہ یضعہ حیث شاء
یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔۔یہ معقول اور مبنی بر حقیقت جواب سن کر، دعوت حق کو مسترد اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مفاد پرستی و خود پرستی کی ،اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔
اس واقعہ کے تحریر کرنےکے بعد دور حاضر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے درد دل کا اظہارکچھ اس طرح کرتے ہیں،
بد قسمتی سے آج بھی بزعم خویش روشن مستقبل کے ٹھیکے دار، اتحاد پرست، ہمارے امراء و زعماء نے جو اعتدال پسندی، اور روشن خیالی کے پر فریب نعروں سے آسمان سرپر اٹھا رکھا ہے، در اصل یہ اسی ذہنیت کی عکاسی اور امت مسلمہ کو اسلام سے دور کرنے کی انتہائی خطرناک سازش کا ایک حصہ ہے – اس سے ان کا مقصد مادر پدرآزاد تہذیب و معاشرت کو عام کرکے اپنے آقایان نعمت کی خوشنودی کے حصول اور اپنے پُرتعیش اقتدار کے تحفظ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قوم تباہ اور ملک برباد ہوتا ہے تو ہوتا رہے، اپنی بزم عیش و طرب سلامت رہنی چاہئے۔ اور بس ۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص ۱۵۷ ملخصاً وتصرفاً)

جل جائے نشیمن ہمیں پرواہ نہیں ہے کچھ دیر گلستاں میں اجالا تو رہے گا

اس پر ستم یہ کہ اس اسلام بیزاری اور دین دشمنی کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ ہمیں سب سے اچھے اور سچے مسلمان ہیں۔
(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۱۵۸)
درد ِدل کا ایک اور اقتباس اپنے طویل تجربے کے بعد قوم و ملت کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
حیات ملی کے طویل سفر میں یہی وہ خطرناک موڑ ہے، جہاں پہونچ کر غیروں سے زیادہ اپنوں ،اور دشمنوں سے زیادہ دوستوں سے ، ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔(اسلام منزل بہ منزل دوم ص۲۰۶)
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات میں ہے
آپ ایک باوقار عالم دین، کہنہ مشق شاعر، بہترین نثر نگار، اور عظیم داعی و مبلغ ہیںآپ نے نثر و نظم دونوں اصناف میں خامہ فرسائی کی ہےحضرت کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔
اسلام منزل بہ منزل (دو حصوں میں)
پیغام رحمت
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر (جسم بے سایہ کے موضوع پہ، یہ بڑی انوکھی اور نرالی کتاب ہے، اس کے مخاطب بھی مخالفین ہیں)
خلیل اللہ آزمائش کی کڑی دھوپ میں (پیکر تسلیم و رضا)
صبح حرم ( نعتیہ مجموعۂ)
گرد ِراہ (غزلوں کامجموعہ)
(فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات ص ۶۸)
ان کے علاوہ ، کثیر مضامین ومقالات ، فلسفۂ شہادت وغیرہ آپ کی قیمتی یادگار ہیں۔آپ کی تحریریں ماہناموں کی بھی زینت بنتی رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ اُن کے مرقد پر گہر باری کرے، اپنی رحمتوں کی خوب بارش برسائے اورمغفرت فرماکر، اعلیٰ علیین کےقربِ خاص میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین، یا رب العلمین ، بجاہ حبیبه سید المرسلین ، علیه الصلوة والتسليم

احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکا
۷ ؍جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ ھ ۱۰ ؍جنوری ۲۰۲۲ ء

حسب فرمائش : محب محترم، حضرت مولانا ارشاد احمد شیدا رضوی، فاضل جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور،
استاذ شعبۂ انگلش و فروغ لسانیات، کوواپ اکیڈمی ،گرینج سکول ،بریڈفورڈ ،انگلینڈ

مأخذ و مراجع
ذاتی مشاہدات
اسلام منزل بہ منزل
مثبتین ظل رسول کودعوت فکر
ممتاز العلما ایک نظر میں
فرزندان اشرفیہ کی علمی وتصنیفی خدمات

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

امریکا میں تبلیغ اسلام کےلیے راہیں ہموار

امریکہ میں تبلیغ اسلام کےلیے راہیں ہموار

[اس وقت پوری دنیا میں اسلام اورمسلمان موضوعِ بحث ہیں، نائن الیون کے بعد سے، عالمی سطح پر مسلمانوں کے لیے جوحالات پیداہوئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ مبصرین کےمطابق ان تمام حالات کے پس پردہ ،بہت حد تک امریکہ کا رول رہاہے، ایسے حالات میں امریکا میں بسنے والے مسلمانوں کاکیاحال ہوگا؟ وہ کس طرح زندگی گزار رہےہوں گے؟ حکومت کاان کےساتھ کیسا رویہ ہوگا؟ ان تمام حالات سے آگاہی کےلیے لوگوں میں دل چسپی پائی جاتی ہے،چناں چہ برسوں سے امریکا کی سرزمین پر دینی خدمات انجام دینے والے عالم دین حضرت مولانا احمدالقادری مصباحی سے،(مولانا) افضل مصباحی (ایڈیٹر ماہ نور) نے خصوصی بات چیت کی ،ذیل میں پیش ہیں گفتگو کےمخصوص اقتباسات۔ ] (۲۰۰۶ ءکا انٹریو)

قارئین: ماہ نورکوآپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔
٭ میرانام احمدالقادری ہے۔ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور،اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کی ہے،اِس وقت دارالعلوم عزیزیہ،پلینو امریکا میں دینی خدمات انجام دے رہاہوں۔
کس زمانے میں آپ نے اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی؟
٭ ۱۹۸۳ء میں اشرفیہ سے میری فراغت ہوئی تھی۔
آپ کےکچھ ایسے ساتھی جو دینی خدمات میں مصروف ہیں؟
٭الحمدللہ میرے کئی ایک ساتھی ہیں،جواہم دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں مولانا بدرعالم مصباحی جوالجامعۃ الاشرفیہ میں استاذ ہیں۔مولانا فروغ احمدقادری مصباحی جودارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں ہیں۔ مولاناشفیق الرحمٰن بستوی جواس وقت ہالینڈ میں دینی خدمات انجام دےرہے ہیں اورحافظ ابراہیم گجراتی جوانگلینڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ کےاساتذہ؟
٭جن سے میں نےسب سے زیادہ کتابیں پڑھیں ہیں، وہ ہیں میرے بڑے بھائی ، علامہ محمداحمدمصباحی صاحب،انھوں نے میزان سے لےکر سادسہ تک کی کتابیں بڑے خلوص کےساتھ پڑھائیں۔ فیض العلوم محمدآبادگوہنہ میں ،میں نے مولانانصراللہ رضوی مصباحی اورمولاناامجدعلی قادری سے تعلیم حاصل کی۔حفظ کےاساتذہ میں حافظ جمیل احمدقادری اورحافظ و قاری نثار احمدعزیزی ہیں جبکہ اشرفیہ میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفےٰ صاحب،بحرالعلوم علامہ مفتی عبدالمنان صاحب، علامہ عبدالشکور صاحب، مولاناعبداللہ خاں عزیزی صاحب، مولانااعجاز احمد صاحب مبارک پوری،مولانااسرار احمد صاحب،مولانانصیرالدین صاحب، مولانا قاری ابو الحسن صاحب وغیرہ ہمارے اساتذہ رہے ہیں۔
آپ نے تدریسی خدمات کہاں کہاں انجام دیں؟
٭اشرفیہ سےفراغت کےبعد ۱۹۸۳ء میں دارالعلوم قادریہ چریاکوٹ میں تدریسی فریضہ انجام دیا۔
۱۹۸۴ء میں مدرسہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد میں تعلیم دی۔
۱۹۸۵ء سے پانچ سال تک مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم بنارس میں پڑھایا۔بنارس کے بعد ۱۹۹۱ء میں اشرفیہ مبارک پور میں بحیثیت مدرس میری تقرری ہوئی،چارسال تک وہاں تدریسی فریضہ انجام دیا۔۱۹۹۵ء میں، افریقہ جاناہوا ،جہاں میں دوسال رہا،دوسال بعد میں امریکا پہنچا اوراُس وقت سے وہیں خدمات انجام دے رہاہوں۔
امریکا میں مسلمانوں کے لیے کیسے حالات ہیں؟
٭امریکہ میں جو مسلمان ہیں، وہ وہاں رہ کرجوچاہیں دینی خدمات انجام دے سکتے ہیں، اس کےلیے حکومت کی طرف سے پوری آزادی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، جیساکہ ہم نے دیکھاہے، کہ وہاں اگرکوئی غیر مسلم اسلام قبول کرتاہے، تواس پر بھی حکومت کوکوئی اعتراض نہیں ہوتا ،اور نہ ہی اس کے کسی گھر والے کو۔ ابھی ہمارے ہی دارالعلوم (عزیزیہ امریکا)میں ایک طالب علم پڑھتاہے، جس کے والدین عیسائی ہیں اور وہ لڑکا مسلمان ہوچکاہے۔ وہ کالج میں بھی پڑھتاہے، اور میرے ادارے میں بھی پڑھنے آتاہے۔ وہ اسلام سیکھ رہاہے۔ اس کے والدین جوعقیدے کےاعتبار سے عیسائی ہیں اور اتنے پکے عیسائی ہیں کہ خود اس کے والدکو بھی داڑھی ہے۔ان کو اپنے لڑکے کے اسلام قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس وہ لوگ ایک دن یہ دیکھنے آئے تھے کہ میرا بچہ کہاں جاتاہے اور کیاپڑھتاہے؟ اس طرح وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔اسی طریقے سے کالج اوریونیور سٹیز میں اسلامی لباس میں، جو بچے جاناچاہیں، انھیں مکمل آزادی ہے، جیسے خود ہی میرا بچہ کرتا،پائجامہ اورٹوپی میں ہی جاتاہے، لیکن اس پرکبھی کسی نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ اسی طرح سے وہاں جوبچے اوربچیاں اسلامی لباس میں جاناچاہیں ،انھیں پوری آزادی حاصل ہے۔ نماز کی ادائیگی کےلیے باضابطہ چھٹی دی جاتی ہے۔ ہم نےجب اپنے بچے کےلیے درخواست دی ،کہ ظہر کی نماز اداکرنے کی مہلت دی جائے ،توان لوگوں نے نہ صرف اجازت ہی دی ،بلکہ اس کے لیے روم بھی دیا۔ اسی طرح اسے جمعہ کی نماز کے لیے بھی چھٹی ملتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی اسلام کےاصولوں پر عمل کرناچاہے، تواسے مکمل آزادی ہے۔ اسی طرح دارالعلوم ،مدارس، اسلامی ویب سائٹ اوراسلامی آرگنائیز یشن وغیرہ کھولنے کی بھی پوری آزادی ہے۔ساتھ ہی نان پرافٹ(Non Profit) کی جوحیثیت وہاں چرچ کودی جاتی ہے، اسی طرح مسجد کوبھی دی جاتی ہے۔ اس پر کوئی ٹیکس وغیرہ نہیں ہے اس لیے جہاں تک تعصب کاسوال ہے تواسلام کے تعلق سے جوتعصب ہندوستان میں ہے ،میں نے اس سے کم تعصب امریکامیں دیکھاہے۔
امریکہ کےکس علاقے میں آپ تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں؟
٭صوبے کانام ٹیکسس ہے ،جوبڑاشہر ہے وہ ڈیلاس ہے، اور ہمارے شہر کانام پلینو ہے۔ وہاں دارالعلوم عزیزیہ ہے جس میں میں کام کررہاہوں۔
آپ جہاں رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب کیاہے؟
٭تناسب کےاعتبار سے مسلمان تقریباً دو فیصد ہیں ،ویسے ہم جس شہر میں رہتے ہیں وہاں ایک لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔
مذہب کی طرف مسلمانوں کی کتنی رغبت ہے؟
٭مسلمانوں میں مغربیت زیادہ غالب آگئی ہے ،جیسے ہندوستان میں بھی ،دینی رجحانات والے کم ہیں ،دینی تعلیم حاصل کرنے والے بھی کم ہیں ،اِسی طرح وہاں بھی ایساہی ہے۔ البتہ جولوگ بھی دینی مزاج رکھتے ہیں ،وہ پورے طور پراس پرکاربند ہوتے ہیں ،اور دین کادرد بھی رکھتے ہیں ۔
نائن الیون کےبعد وہاں کے مسلمانوں کوکس طرح کی پریشانیوں کاسامنا کرناپڑا؟
٭ تفتیش،جانچ پڑتال وغیرہ کا سامنا کرناپڑا۔وہ لوگ جوخلاف ِقانون تھے ،ان لوگوں کوزیادہ پریشانیوں کاسامنا کرناپڑا ، ان میں سے بیش تر کوشہر بدر کردیاگیا، اس میں وہی لوگ زیادہ پریشان ہوئے، جو خلاف قانون اور(Illegal) تھے ۔جوقانون کے مطابق زندگی گزار تے ہیں ان کوزیادہ پریشانیوں کاسامنا نہیں کرناپڑتا۔
مسلکی طور پر وہاں مسلمان کتنے خانوں میں بنے ہوئے ہیں؟
٭میں سمجھتاہوں کہ اسلام کے جتنے بھی مکتبۂ فکر دنیامیں پائے جاتے ہیں، وہ سب امریکا میں موجود ہیں ۔اِس وقت اہل سنت والجماعت کاغلبہ ہے اور بہت ہی منظم طور پر وہ لوگ کام کررہے ہیں۔اہل سنت کے مدارس،مساجد اور مکاتب وغیرہ بڑی تعداد میں ہیں ،جوتبلیغ اسلام میں تیزی کےساتھ مصروف ہیں۔
کون کون سی اسلامی ویب سائٹ لوگ زیادہ پڑھتے ہیں؟
٭اسلامی ویب سائٹوں میں سب سے زیادہ دیکھی اورپڑھی جانے والی سائٹ اس وقت ”اسلامک اکیڈمی“ ہے، یہ ویب سائٹ اہل سنت والجماعت ہی کی ہے۔اس سائٹ پر تقریباً ۱۷۵ ملکوں کے لوگ آتے ہیں اوران کےسوالات بھی میرے پاس آتے ہیں جن کاہم جواب دیتے ہیں، جولوگ دینی مسائل دریافت کرتے ہیں ان کےسوالات کےجوابات بھی دیے جاتے ہیں۔
[یہ ۲۰۰۶ کی بات ہے، اب۲۰۲۱ تک ، الحمدللہ ! اہل سنت والجماعت کی کافی اچھی اچھی ویب سائٹ منظر عام پر آچکی ہیں، ان میں سے بعض تو بہت آگےہیں ]
وہابیوں کے بارے میں امریکی حکومت کا کیانظریہ ہے؟
٭ وہ لوگ چوں کہ پہلے امریکا پہنچے اس لیے وہ یہ دیکھاناچاہتے ہیں کہ ہم ہی اسلام کےنمائندے ہیں۔ لیکن حکومت کی سطح پرایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
صوفی ازم کی طرف امریکاکا ،کافی رجحان ہے ۔اس کی کیا وجوہات ہیں؟
٭ اس کی وجہ یہ ہے کہ، یہ لوگوں کومعلوم ہوچکاہے کہ دنیا کےاندر جو دہشت گردی، اورجتنے بھی فتنے ہیں وہ وہابیوں کےہی پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اِس کاان لوگوں نے اندازہ لگالیاہے۔
اور اہل سنت والجماعت یعنی صوفی ازم کابھی ان لوگوں نے اندازہ لگالیا کہ یہ انتہائی امن وسکون والے ہیں۔اس لیے اِس کی طرف ان لوگوں کا زیادہ رجحان ہے۔ چنانچہ امریکا کی اب کوشش ہے کہ صوفی ازم کے اصولوں کوعام کیاجائے تاکہ وہابیت کا غلبہ اوران کی تحریکات کم ہوں۔
کیا آپ کو لگتاہے کہ اسلام کودہشت گردی کامذہب بناکر پیش کرنے میں وہابیت کا بڑا رول رہاہے؟
٭ جی ہاں! وہ حضرات اس طریقے کا کام ہی کرتے ہیں، جس سے اسلام بدنام ہوتاہے۔ انھیں چاہیے کہ واقعی اسلام کی جوتعلیمات ہیں ان پر عمل پیرا ہوں۔ اُن کے اس طریقے سے کام کرنے سے پورا اسلام بدنام ہوتاہے۔جتنی بھی اس طرح کی تنظیمیں ہیں وہ سب کی سب وہابی تنظیمیں ہیں۔ اِس سے میں سمجھتاہوں کہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔اسلام بلاشبہ امن کا مذہب ہے۔ وہابیوں کےطریقۂ کارسے اسلام کی بدنامی ہورہی ہے۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے طریقے میں تبدیلی لائیں۔
امریکیوں کامذہب کی طرف رجحان کتناہے؟
٭ بہ نسبت اور ملکوں کے امریکا میں شہریوں کارجحان مذہب کی طرف زیادہ ہے۔ برطانیہ میں چرچ فروخت کیے جاتے ہیں جبکہ امریکا میں نئے نئے چرچ بنائے جاتے ہیں۔ آپ کوحیرت ہوگی کہ جس صوبے میں ہم رہتے ہیں وہاں”بعض جگہ“ ہے، جہاں ابھی تک شراب پرپابندی ہے۔ وہاں کوئی شراب فروخت نہیں کرسکتا۔ یعنی اس شہر میں، کسی بھی جگہ، کسی بھی اسٹورپر شراب نہیں بک سکتی۔ پورے صوبہ میں ،جُواخانہ (casino)پر پابندی ہے،اسی طریقے سے اوربھی کچھ قوانین ہیں ،جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اس سے ان کے مذہبی ہونے کاپتا چلتاہے۔
مطلب یہ کہ حکومتی سطح پر بھی امریکامیں شراب کو معیوب سمجھا جاتاہے؟
٭ شراب پر توقسم قسم کی پابندیاں عاید ہیں۔ اگر کوئی شخص شراب پی کر گاڑی چلاتاہے، تواس پر بہت زبردست جرمانہ عاید ہوتاہے، اسی طریقے سے اگر کوئی ۱۸؍سال سے کم کا ہوتو شراب خرید نہیں سکتا ہے۔ سگریٹ پر بھی اسی طرح کی پابندیاں ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ نشہ آور چیزوں کو کم کرنے کی بہت زیادہ کوشش جاری ہے۔ یہ مذہبی رجحان ہونے کی علامت ہے۔ چوں کہ وہ ایک کتاب کومانتے ہیں اپنے کو عیسائی کہتے ہیں، بلکہ ان کے جو بعض پادری ہیں ،وہ تواپنے مذہب پرشدت کےساتھ کاربند ہیں۔ جو نَنْ(عیسائی مبلغہ) ہیں ان میں سے بعض توبہت زیادہ حجاب کااہتمام کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ راستہ چلتے ایک پردہ پوش خاتون پر نظر پڑی توایسا محسوس ہواکہ وہ کوئی مسلم خاتون ہوگی، لیکن حقیقت میں وہ عیسائی تھی۔
اسلام کے تعلق سے کرسچن اوریہودیوں کاکیا نظریہ ہے؟
٭ دوطرح کے لوگ ہیں۔کچھ تو وہ ہیں جواسلام کے شدیددشمن ہیں اور سخت تعصب رکھتے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ صلح پسند لوگوں کاہے جواسلام کےساتھ سخت تعصب نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ حمایت بھی کرتے ہیں۔ یعنی وہاں دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
اسلام کی تبلیغ واشاعت میں آپ کو کن پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے؟
٭ صحیح پوچھیے تو کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی کاسامنا نہیں کرناپڑتاہے۔ نہ حکومت اس میں کوئی رکاوٹ ڈالتی ہے اور نہ کوئی عوام۔ اسلام کے لیے جوکام کرناچاہے اس کے لیے پورے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
بش کی پالیسی کےبارے میں وہاں کے مسلمانوں کا کیانظریہ ہے؟
٭ مسلمان ہی نہیں ،بلکہ وہاں کے باشندے بھی ،اب بش کی پالیسی کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ بش کےاس طرح کےکاموں سے ان کے ملک کوبھی نقصان پہنچاہے اور ان کی ملت کوبھی۔
حزب اللہ کے خلاف جنگ میں امریکہ نے جس طرح اسرائیل کاساتھ دیا،کیا اس اقدام سے وہاں کے عوام خوش ہیں؟
٭ ابھی کچھ دنوں قبل پارلیمنٹ کے پاس خود وہاں کے کریسچن نے اس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یعنی وہاں کے صلح پسند عوام بھی بش کی پالیسی کو پسند نہیں کرتے۔
امریکی مسلمانوں کی مالی حالات کیسے ہیں؟
٭ بیشتر مسلمان ملازمت کےلیے وہاں گئے ہیں، اس لیے وہ ملازم پیشہ ہیں۔ مالی اعتبار سے وہاں کےمسلمان کمزور ہیں۔
امریکہ میں اہل سنت والجماعت کے جوعلمائے کرام ہیں، ان میں کون کون زیادہ نمایاں ہیں؟
٭ مولاناقمرالحسن مصباحی بستوی، جوتقریباً ۱۲؍سال سے کام کررہے ہیں، مولاناغلام سبحانی مصباحی، مولاناعبدالرب مصباحی اور مولانامسعود احمدبرکاتی مصباحی (وغیرہم) یہ سب ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے ہندوستان کے علاوہ پاکستان کے بھی علمائے کرام ہیں جواچھے کام کررہے ہیں۔
ہندوستانی عوام کے ساتھ امریکیوں کا کیا برتاؤ ہے؟
٭ امریکی عوام، ہندوستانی عوام کےساتھ متعصبانہ برتاؤنہیں رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ جتنے بھی ہنگامے ہوے ہیں ان میں انڈیاکا کوئی بھی شہری شامل نہیں ہوا۔ اس لیے وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈیاکے لوگ اچھے ہوتے ہیں۔ لہذا اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔
(مطبوعہ،ماہنامہ، ماہ نور، اکتوبر ۲۰۰۶ ء ملخصاً وتصرفاً)

تعارف و انٹریو، علامہ قمرالزماں اعظمی

بسم ﷲالرحمٰن الرحیم
مفکراسلام خطیب مشرق ومغرب
حضرت علامہ قمرالزماں صاحب اعظمی
سیکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، انگلینڈ

از: احمدالقادری،امریکا

موجودہ علماےکرام ومشائخ عظام میں جن شخصیات سے میں زیادہ متاثر ہوں ان میں ایک اہم شخصیت ہمارے اعظمی صاحب قبلہ کی ہے۔ جب سے میں نےہوش کی آنکھیں کھولیں تب سے حضرت کو جانتاہوں۔ آپ الجامعۃ الاشرفیہ کے مایۂ ناز سپوت،حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے بڑے چہیتے اورلاڈلے شاگرد، مشرقی یوپی کی قابل فخرہستی، اہل سنت کے محبوب خطیب،اسلام کے عظیم مفکر، ملت کے نبض شناس، قوم کے رہبر، مسلمانوں کے قائد اور عظیم قومی رہنما ہیں، جن پراہل وطن ہی کو نہیں بلکہ وطن کی دھرتی کوبھی ناز ہے۔
اُس وقت جب آپ کی خطابت کا پورے ہند میں شہرہ تھا، چارسو آپ کی فصیح وبلیغ، جچی تُلی،،حقائق ومعلومات سے بھر پورتقریروں کاڈنکابج رہاتھا۔ آپ کے شباب کےساتھ تقاریر کابھی شباب تھا۔ پروگراموں کی کثرت کے باعث ایک ایک سال قبل منتظمین اجلاس وکانفرنس کو تاریخیں لینا پڑتی تھیں،اس وقت آپ نے ہندوستان چھوڑ کربرطانیہ کے کفر ستان میں قدم رکھا۔ وہاں نہ اپنی کوئی مسجد تھی، نہ مدرسہ، تنخواہوں کی کفیل نہ کوئی تنظیم تھی نہ ادارہ۔ دو سال تک(کم وبیش) اسلام وسنیت کی تبلیغ واشاعت بےتنخواہ انجام دیتے رہے۔ خود ہی جلسہ کرتے، خود ہی منتظمِ جلسہ ہوتے، خود ہی سامعین کودعوتِ وعظ دیتے، خود ہی تقریر کرتے۔
فخر ملت حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ اس دور میں وہاں تھے، وہ ہرجگہ دوش بدوش ہوتے یاآپ اُن کےدوش بدوش ہوتے۔ بہر حال ہندوبیرونِ ہند،ایثار وقربانی، خلوص وللہیت عزم واستقلال، ہمت وشجاعت کے بے شمار ایسے انمٹ نقوش ہیں جنھیں اب تک نہ زیب قرطاس کیاجاسکا، نہ اُن سے قوم کے کان آشناہیں۔ ان کی زندگی کے روشن وتاب ناک، آفتاب کی طرح درخشندہ انوار وبرکات، فضاؤں میں بکھرے پڑے ہیں،کاش وہ سمٹ کر کاغذ پرنقش ہوجاتے۔ کمال تو یہ ہے کہ علم وفضل کی بلند چوٹی پر پہنچنے کےباوجود خاکساری اور تواضع کے عظیم پیکر ہیں، شفقت واخلاق کے کامل مجسمہ ہیں—
مجھے وہ واقعہ بھولتانہیں جب ہم مادر علمی الجامعۃ الاشرفیہ کی گود میں علائقِ دنیا سے بے فکر علم وفن کی تحصیل میں مشغول تھے۔اشرفیہ میں طلبہ کی اپنی ایک تنظیم ”انجمن اشرفی دارالمطالعہ“ کےنام سے معروف تھی اور ہے۔ طلبہ ہی اس کے کار کن ہوتے ہیں، اس کی اپنی ایک بڑی لائبریری ہے، اس کی طرف سے بھی اجلاس ہوتا رہتاہے، اس دَورمیں اس کی خدمات کی باگ ڈور میرے گلے میں ڈال دی گئی تھی۔ یہ ۱۹۸۲ء کی بات ہے۔ علامہ اعظمی صاحب برطانیہ سے وطن تشریف لائے تھے۔ طلبہ کی جانب سے ان کی تقریر کرانے کاپروگرام طے ہوا۔ تاریخ لینے کے لیے ہم تین طالب علم سائیکل سے آپ کے وطن مالوف خالص پور پہنچے۔یہ مبارک پور سے تقریباً ۱۵؍کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔ ٹھیک دوپہر میں دولت کدے پر حاضری ہوئی۔ کسی سے اندر خبر بھیجی کہ اشرفیہ سے تین طالب علم ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ ان کی باہر تشریف آوری سے قبل ہی ہمارے لیے چارپائی لگادی گئی اور آرام سے بٹھایاگیا۔ تھوڑی دیر میں حضرت اپنے ہاتھوں میں ٹھنڈا خوش گوار شربت لیے ہوئے تشریف لائے۔ ہرایک سے فرداً فرداً ملاقات کی، مصافحہ کیا، خیریت پوچھی۔ پھر اپنے ہاتھ سے شربت گلاس میں اُنڈیل اُنڈیل کر پلانے لگے، ہم شرم سے پانی پانی ہورہے تھے— ہرچند چاہا کہ حضرت تشریف رکھیں مگر ہمیں حکم دے کر بٹھادیا ”الامر فوق الادب“ انجان طالب علم کےساتھ یہ خاطر تواضع، ابھی نام بھی جن کانہ بتایاگیاتھا، ان کےساتھ یہ شفقت، بچوں کےساتھ جب اس قدر بلند اخلاق ہے توبزرگوں کےساتھ کیاہوگا، اس کااندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ پھر ہرایک کودوپہر کا کھانا کھلایا(یہ مشرقی یوپی کی اپنی تہذیب اورخصوصی طرزہے، مہمان کےآتے ہی ان کےکھانے پینے سے ضیافت ہوتی ہے ۔ اس میں تاخیر دروازے کی عزت وآبرو کے خلاف متصور ہوتی ہے) ہم نے تاریخ کے لیے درخواست پیش کی، قبول ہوئی، نماز ظہر کے بعد جلسے کاٹائم مقرر کیا، فرمایا میرے لیے کچھ انتظام نہ کریں گے۔ میں گھر سے کھانا کھاکر آؤں گا۔ آپ لوگ ہرگز ضیافت وطعام کا کوئی بندوبست نہ کریں گے، نہ اس کی زحمت اٹھائیں۔ ہم نے ہرچنداصرار کی جرأت کی مگراس پیکرِ خلوص کےسامنے کارگر نہ ہوئی۔ وقتِ مقررہ سے چند منٹ پہلے تشریف لائے، تقریر شروع ہوئی، سامعین، اشرفیہ کےہونہار طلبہ تھے، ہمارے اساتذہ بھی رونق اسٹیج تھے۔ یہ آپ کاخالص علمی خطاب تھا، نصاب تعلیم، کتب درسیہ، کتب مطالعہ،مقاصدِ حصول علم، وقت کی قدرو قیمت، طلبہ کا مقام، اشرفیہ کی طرف دنیا کی نگاہیں، دنیاکو باصلاحیت علما کی ضرورت، وغیرہ اہم گوشوں پر روشنی ڈالی، یہ ایک تاریخی خطاب تھا جوطلبہ اورعلما(فارغین) کےلیے رشدوہدایت کا روشن مینارتھے۔(کاش اس کی کیسٹ محفوظ ہوتی)
تقریر کےبعد حضرت محمدآباد گوہنہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نذرانہ پیش کیاگیا، قبول نہیں ہوا۔ میں نے عرض کی حضور اسی کے لیے جمع ہواہے، اب کیاہوگا، برجستہ فرمایا: سب کوواپس کردو۔ ایسی بےلوث دینی خدمات فی زمانہ نادر ہے۔ پھر وہ رقم طلبہ کی اجازت سے انجمن اشرفی دارالمطالعہ میں شامل ہوئی۔
دوسراواقعہ:
میرابچپن تھا۔ ابھی شعور کی آنکھیں کھولی تھیں۔ اس وقت حضرت الجامعۃ الاسلامیہ ، روناہی ضلع فیض آباد میں شیخ الحدیث تھے۔ بھیرہ میں حضرت کاپروگرام تھا۔ بھیرہ سے دو آدمی محمدآباد،گوہنہ میں جاکر حضرت کاانتظار کررہے تھے۔محمدآباد میں حضرت اُترے، شام ہوچکی تھی۔ ان دونوں حضرات سے ملاقات نہ ہوسکی، نہ انھوں نے حضرت کو دیکھا،نہ آپ نے ان کوپہچانا، وہاں آپ اُترے اوربھیرہ کےلیے پیدل ہی چل پڑے۔ بھیرہ سے محمد آباد تقریباًدومیل ہے۔بعد مغرب یہ لمبی مسافت قدم قدم طے کرکے غریب خانے پرحاضر ہوئے، اس وقت برادرِ گرامی مولانامحمداحمدصاحب مصباحی آپ کے شدت سے منتظر بیٹھے تھے۔ باہم بےتکلف ملاقات ہوئی۔ ماتھے پہ کوئی شکن یابل نہیں، بے سواری اتنی لمبی مسافت طے کرنی پڑی، کچھ اس کاشکوہ نہیں، یہی وہ خلوص ہے جس کی بنیاد پر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ آپ پر بےپناہ کرم فرماتے تھے اوراپنے اس عظیم شاگرد پر نازاں تھے۔
میری دیرینہ خواہش تھی کہ حضرت کی کچھ خدماتِ عظیمہ لوگوں کےسامنے آئیں، تاکہ وہ ہم بے عملوں کے لیے نمونۂ عمل ،جامعہ اشرفیہ کے لیے قابلِ فخر اور عوام کےلیے سکون کا باعث ہوں اورقوم اپنے لائق وفائق علما کے کارناموں سے روشناس ہو۔
خوش قسمتی سے ۱۸؍محرم الحرام ۱۴۱۸ھ/ ۲۴؍مئی ۱۹۹۷ء کوحضرت چند روز کےلیے شکاگو تشریف لائے۔ شکاگو سنی مسلم سوسائٹی کےاجلاس کی تکمیل کے بعد میں نے انٹرویو کی گزارش کی۔ الحمدللہ ! عرض مقبول ہوئی۔ کل صبح ۱۱؍بجےحضرت نے اپناقیمتی وقت دینے کا وعدہ فرمایا۔

احمد القادری مصباحی

تعارف وانٹرویو
خطیب اعظم، مفکرِ اسلام حضرت علامہ قمرالزماں صاحب اعظمی
جنرل سیکریٹری ورلڈ اسلامک مشن، انگلینڈ
سوالات وترتیب: از احمدالقادری مصباحی
[اختصار کے پیش نظر سوالات کوصرف سرخیوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے]

نام: محمدقمرالزماں خان اعظمی
تاریخ ولادت:۲۳؍مارچ ۱۹۵۶ء
نسب:ابن عبدالحمید عرف ناتواںؔ خاں ابن عبدالصمد خاں ابن عبدالسبحان خاں۔
جائے ولادت: خالص پور،اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا
گھرکاماحول: مذہبی تھا۔ والدمحترم اوردادا سبھی لوگ پابندِ صلوٰۃ اورحتی الامکان منہیات سے پرہیز کرنے والے لوگ تھے۔ دادا اور پردادا دونوں اردو اور فارسی کے عالم تھے۔آپ کاپیشہ زراعت رہا۔
بچپن: ہمارے والد بزرگ وار نے اس بات کاخیال رکھا کہ حسب حدیث مبارکہ سات سال کی عمر میں اپنے ساتھ مسجد لےجاتے رہے۔ قرآن بہت خوب صورت آواز میں پڑھتے تھے۔ اس لیے دس سال کی عمر میں بہت سی سورتیں بغیر کسی کوشش کے یاد ہوگئیں۔ نماز فجر کے بعد تلاوت کی عادت ڈالی گئی۔ اور دوسرے بچوں کےساتھ کھیل کود سے روکنے کے لیے انھوں نے اپنا یہ معمول بنالیاتھاکہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
تعلیم: ۶؍سال کی عمر میں گاؤں کےمدرسے میں داخل ہوا۔۸؍سال کی عمر کے بعد مدرسہ انوارالعلوم جین پور(اعظم گڑھ) میں داخل ہوا۔پرائمری درجات اور ابتدائی عر بی اور فارسی کی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ شام کوہر روز دادا عبدالصمد خاں مرحوم آمد نامہ اورگلزارِ دبستان خود پڑھایاکرتے تھے۔اس طرح سے گھر اورمدرسہ کےماحول نے میرے علمی اور دینی مذاق کی تربیت میں بہت اہم رول ادا کیا۔ ۱۹۵۸ء میں مولوی کاامتحان، الٰہ آباد بورڈ سے پاس کیا اوراسی سال دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ ہوا۔ اس وقت قدوری کی جماعت سے ابتدائی تین سال تک اشرفیہ میں متوسطات تک، تعلیم مکمل کی۔
۱۹۶۱ء میں لکھنؤمیں داخلہ لیا وہاں سے عالمیت کی سند ۱۹۶۳ء میں حاصل کی۔ ۱۹۶۴ء کےابتدامیں تعطیلِ کلاں میں مکان واپس ہوا ،اورحافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم سے ۱۹۶۴ء میں چند مہینوں کے لیے مدرسہ عزیزالعلوم نان پارہ میں بحیثیت مدرس کام کرتارہا۔
پھر حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم پر ۱۹۶۶ء میں اشرفیہ میں صحیحین کاامتحان دینے کے بعد دستار فضیلت سے نوازا گیا۔
اساتذۂ کرام:
سرکار حافظ ملت علیہ الرحمہ
حضرت علامہ حافظ عبدالرؤف صاحب قبلہ
حضرت بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ
حضرت علامہ ظفر ادیبی صاحب
حضرت مولانا قاری محمدیحییٰ صاحب
حضرت مولانا سید حامد اشرف صاحب
حضرت مولانا شمس الحق صاحب قبلہ
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کچھوچھوی
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ، حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف صاحب قبلہ، حضرت مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ، خاص شفقت فرماتے۔
بیعت وارادت:
۱۹۶۳ء میں سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان، ڈاکٹر محمدمختار علوی (سگڑی) کی دعوت پر سگڑی تشریف لائے۔ وہیں میں اُن سے مرید ہوا۔ سرکار مفتی اعظم ہند سے عقیدت توہمیشہ سے رہی۔ زمانۂ طالب علمی میں کبھی مخالفین کے پروپیگنڈوں کی بناپراگر کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو سرکار مفتی اعظم علیہ الرحمہ کا خیال بہت تسکین دیتا۔ مسلک کے حوالے سے اگرکبھی مخالف علما سے گفتگوہوتی، تو حضرت کےتصور سے بہت مدد ملتی۔ بعض وقت تو یہ خیال ثباتِ قدم کے لیے کافی ہوتاکہ سرکار مفتی اعظم اِسی مسلک پرہیں۔
سرکار مفتی اعظم کی سب سے پہلے میں نے ۱۹۵۸ء میں انوار العلوم جین پور کےجلسے میں زیارت کی تھی اور عالَم یہ تھا کہ سرکار جب اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے توان کا نورانی چہرہ اور علما کی ان سے بے پناہ عقیدت نے قلب پر خاص اثر مرتب کیا۔ ان کے قدموں میں حضرت علامہ خلیل احمد صاحب کچھوچھوی اور شاعر اسلام شفیق جون پوری پڑے رہتےتھے،اس وقت سے ارادہ تھاکہ میں حضرت ہی سے مرید ہوں گا۔
۱۹۷۷ء میں سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے ملنے کےلیے حاضر ہوا تھا تو حضرت نے بعض علماکی درخواست پر مجھے خلافت سے نوازا۔
تکمیل تعلیم کے بعد:
اوّلاً حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے روناہی، ضلع فیض آباد بھیجا۔ اس وقت وہاں کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۴ء تک وہاں رہے۔
تدریسی خدمات:
دس سال روناہی کی خدمات انجام دی۔
وعظ وتقریر کے ذریعہ اہم دینی خدمات:
۱۹۶۴ء سے۱۹۷۴ء تک ہندوستان کےتمام قابلِ ذکر قصبات،اضلاع اور صوبوں میں تقاریر کےلیے جاتارہا۔
اجتماعی طورپر منقد ہونے والی بڑی کانفرنسوں اورسیمنارس میں، کہیں صرف مقرر کی حیثیت سے اورکہیں مقرر ومنتظم کی حیثیت سے شریک ہوتارہا۔
ہندوستان کی اہم کانفرنسیں:
چندکانفرنسیں: (۱) جامعہ اشرفیہ کی تعلیمی کانفرنس(۲) سیوان کی مسلم پرسنل لا کانفرنس۔
اہم خطبات: (۱) اسلام اورعصرحاضر(۲) اسلام اور سائنس (۳) اسلام اور عورت(۴) اسلام کامعاشی نظام (۵) اسلام اورمستشرقینِ یورپ(۶) سیرت رسولِ اکرم ﷺ کے مختلف عناوین (۷) اسلام کا تعلیمی نظام (۸) قرآن عظیم اور اس کااعجاز (۹) علم اورمشاہدہ (۱۰) نماز (۱۱) روزہ (۱۲) حج (۱۳) زکوٰۃ (۱۴) اسلام کا دعوتی نظام (۱۵) فلسفۂ شہادت— ان میں سے اکثر کی کیسٹیں موجود ہیں۔
تنظیم وادارے – قیام وسرپرستی
(۱) الجامعۃ الاسلامیہ، روناہی ،فیض آباد (۲) بارہ بنکی، سلطان پور اورفیض آباد وغیرہ دیگراضلاع میں تنظیم ومدارس کاقیام۔
بیرون ہند کاسفر:
۱۹۷۴ء میں ورلڈ اسلامک مشن اوراسلامک مشنری کالج کےقیام کے بعد ورلڈ اسلامک مشن کے سیکریٹری کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری صاحب کی دعوت پر انگلینڈ حاضر ہوا۔ وہاں اس وقت اہل سنت کی مدارس ومساجد کی تعداد بہت کم تھی۔ مشن کےقیام کےبعد برطانیہ اور ہالینڈ کے تمام شہروں میں جلسوں اور کانفرنسوں اورسیمنار کااہتمام کیاگیا۔ جس سےایک عام بیداری ہوئی اورمسلک کاتشخص نمایاںہوا۔ پھر برصغیر ہندوپاک سے علما کی ایک ٹیم وہاں پہنچی اور کام کی رفتار تیز تر ہوگئی۔اب بحمدہ تعالیٰ صرف برطانیہ میں کم وبیش چھ سو مساجدِاہل سنت ہیں، جن کے ساتھ ملحق مدارس ہیں۔ اسی طرح ہالینڈ کی بیش تر مساجدورلڈ اسلامک مشن کے زیر اہتمام تعمیر ہوئی ہیں۔
ڈین ہاگ، ہالینڈ کی مشہور درس گاہ جامعہ مدینۃ الاسلام بھی ورلڈ اسلامک مشن کی کاوشوں کانتیجہ ہے۔ اوران تمام کاموں میں قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی کی سرپرستی، معمار ملت حضرت علامہ ارشد القادری کی تنظیمی اورتعمیری فکر اور میری اپنی مساعی کادخل ہے۔
اس کے علاوہ ڈنمارک، ناروے بالخصوص ناروے کی سرزمین کی پہلی جامع مسجد بھی ورلڈ اسلامک مشن نے تعمیر کی ہے۔
فرانس،جرمنی وغیرہ میں مشن کام کررہاہے۔ ان کاموں کی نگرانی احقر کےسپرد ہے۔ افریقہ کے مختلف ممالک میں مشن کے وفود دَورہ کرتے رہتے ہیں اورکام کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکہ میں مشن کی قیادت مختلف صوبوں میں مشن کی شاخوں کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ شاہد رضا نعیمی اور خادم کے دَوروں نے اہل سنت وجماعت میں ایک عام بیداری کی لہر دوڑادی ہے۔ اورامید ہے کہ اگلے دس سال میں امریکہ کے تمام کے تمام اسٹیٹ میں ان شاء اللہ مشن کے زیر اہتمام یامشن کےتعاون سے اہل سنت کے مراکز قائم ہوجائیں گے۔
فی الحال ہیوسٹن، ٹیکساس میں مولانا قمرالحسن اور مولانا مسعود رضا اور شکاگو میں احمد القادری [یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے ، ۱۹۹۸ ء سے تا حال ۲۰۲۱ء ، سکونت،ٹیکساس میں ہے] نیویارک میں مولانا محمدحسین رضوی اور مولانا غلام زرقانی صاحب فلور یڈا میں پہنچ چکے ہیں، [یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے اب وہ ہیوسٹن ،ٹیکساس میں ہیں] اور کام شروع ہوچکاہے۔
ہالینڈ میں مشن کے اداروں کےعلاوہ، حضرت علامہ بدرالقادری صاحب (جوبذات خود ایک تحریک ہیں) حضرت مولانا شفیق الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا مفتی عبدالواجد صاحب،حضرت مولاناعبدالمنان صاحب، حضرت مولانا اسرارالحق صاحب اور بہت سے علما مصروفِ تبلیغ واشاعت ہیں۔
بیرون برطانیہ مساجد ومدارس کاقیام:
ورلڈاسلامک مشن کےتحت ہالینڈ میں (۱) جامع مسجد طیبہ،ایمسٹرڈم (۲) جامع مسجد گلزار مدینہ (۳) جامع مسجد اِن تھوفن، جامع مسجد زُوےلو— وغیرہ کی تعمیر ہوئی۔
اس کے علاوہ جامعہ مدینۃ الاسلام ،ہالینڈ اورصفہ اسکول کے نام سے فل ٹائم ہائی اسکول کاقیام، جہاں سرکاری مضامین کےساتھ ساتھ، عربی،اردو اوردینیات کو،لازمی مضمون کی حیثیت دی گئی ہے۔
بیرون ملک کے تبلیغی دوروں میں یورپ، امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا کے بہت سے ممالک اورصوبوں میں مستقل دورے ہوتے رہتے ہیں اورکوشش کی جاتی ہے کہ جہاں تبلیغی اجلاس منعقد ہوں وہاں کوئی مرکز بھی قائم ہو جائے۔ان شاء اللہ اس صدی کے خاتمے تک دنیاکے بیش تر ملکوں میں اہل سنت کے مراکز قائم ہوجائیں گے۔
قلمی واشاعتی خدمات:
ورلڈ اسلامک مشن کی طرف سے ۱۹۶۵ء میں ”الدعوۃ الاسلامیہ“ بریڈفورڈ سے ہماری ادارت میں جاری کیاگیا، جواب بھی انگلش اور عربی میں ورلڈ اسلامک مشن کراچی سے شائع ہورہاہے۔ اس کے علاوہ ۱۹۸۶ء میں ”حجاز انٹر نیشنل“ کے نام سے ماہانہ پرچے کااجرا ہوا۔ اس وقت بھی جرمنی سےصدائے حق، ساؤتھ افریقہ سے ”دی میسیج“ وغیرہ شائع ہورہے ہیں۔
سیاسیات:
سیاسیات کےتعلق سے ورلڈ اسلامک مشن کی یہ پالیسی ہے کہ پوری دنیا میں سیاسی پارٹیوں کےیاملکوں کےایسے فیصلے جواسلام اور روحِ اسلام سے متصادم ہوں، ان کے خلاف احتجاج کیاجائے اور مختلف اشاعتی ذرائع سے ان کی غیر اسلامی حیثیت کوواضح کیا جائے۔ حکومتوں پردباؤڈالاجائے کہ وہ اس طرح کے فیصلے مسلمانوں پرمسلط نہ کریں۔
اس وقت بھی سلمان رشدی کامسئلہ، مسلم پرسنل لا، مسلمان بچوں کی تعلیم ، ان کے لباس کامسئلہ، مسلمانوں کےعلاج، اوراس سے متعلق قوانین پراحتجاج، مختلف ملکوں میں حجاب کامسئلہ، ایسے سیاسی نمائندے جوکسی ایسی بات کے مؤید ہیں جوغیر اسلامی ہے، ان سے عدم تعاون، مختلف ملکوں میں مسلمانوں کا پریشر گروپ تیار کرنا، جوایسے نمائندوں کی حمایت کریں جومسلم کاز کے مؤیدہیں۔
مسلم ملکوں کی غیر اسلامی روش کے خلاف احتجاج کرنا۔ مثلاً مصر، الجزائر، ترکی وغیرہ میں فنڈامینٹل اِزم کے نام سے باکردار مسلمانوں کی کردارکشی، اسلامی تحریکوں پرپابندیوں کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا اورمسلمانوں کے اندر اسلامی تشخص کوبیدار کرنا، اس سلسلے میں اخبارات اور میڈیاکے دوسرے ذرائع پرنظر رکھنا اوراسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں کاجواب دینا۔ دنیا کےمختلف ملکوں میں اُٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی حمایت، بوسنیا، چیچنیاوغیرہ کے مسلمانوں کی اخلاقی، مالی اورسیاسی مدد فراہم کرنا، قبلۂ اول کی بازیابی اورفلسطینی مسلمانوں کےحقوق کےسلسلے میں مسلسل جدوجہد۔
عالمی کانفرنسوں میں شرکت:
ورلڈ اسلامک مشن کےنمائندے کی حیثیت سے دنیا کےمختلف ملکوں میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کاشرف حاصل ہوا۔
(۱)انقلاب ایران کے بعد ۱۹۸۳ء میں وہاں کی ہفت روزہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔
ایشیااور یورپ کے ممالک کی نمائندگی کی۔بعض جلسوں کی صدارت بھی کی۔ ”اسلام ہی پوری دنیا کانجات دہندہ“ اس موضوع پر خطاب ہوا اور اسے وہاں کی میڈیا اورنشریاتی ذرائع نے پوری دنیا میں نشر کیا۔ بہت سے ریڈیائی اوراخبارات میں انٹرویونشرہوئے۔
ایران میں فقۂ جعفری کوغیر متبدل قانون کی حیثیت سے پیش کرنے اوردوسرے مسالک کومتبدل حیثیت دینے پراحتجاج بھی کیاگیا۔ ایران کےسنی مسلمانوں کےحقوق کےلیے آواز بھی اٹھائی گئی اوران کے تعلیمی اورمذہبی امور سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔
(۲) ایران کے بعد ۸۳ء، ۸۵ء، ۸۷ء، ۸۹ء، میں عراق کی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی اورایران ،عراق جنگ میں ورلڈاسلامک مشن کےموقف کی وضاحت کی۔
(۳) لیبیا کی متعدد کانفرنسوں میں مشن کےوفد کےساتھ شرکت کاموقع ملا اوراس طرح سے عالمِ اسلام کوقریب سے دیکھنے اور علماومفکرین سے ملنے اور مذاکرات کرنے کا موقع ملا اوریہ احساس بھی قوی تر ہواکہ سعودی عرب کی پون صدی پر پھیلی ہوئی بے پناہ کوششوں اور پیٹرول ڈالر کے ذریعے دینی شخصیات واداروں کوخریدنے کے باوجود عالمِ اسلام کی اکثریت آج بھی اہل سنت وجماعت ہے۔
اس کے علاوہ یورپ کےبہت سے ملکوں میں مثلاً ہالینڈ، بلجیم، فرانس، ڈنمارک، ناروے، جرمنی کی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اوران تمام ملکوں میں ورلڈاسلامک مشن کےتحت کانفرنسوں کےانعقاد کاشرف بھی حاصل کیا۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے یورپ میں اسلام کوبہتر طور پر سمجھانے کی کوشش کی گئی، اوران الزامات کے جوابات دیے گئے جوصدیوں سے مستشرقین یورپ، اسلام کے خلاف عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کانفرنسوں اوراجتماعات میں سوال وجواب کے وقفے میں اسلام کے تعلق سے یورپین ذہن کوپڑھنے کا زیادہ موقع ملا۔
اسلامک مشنری کالج:
دنیابھر میں کانفرنسوں، جلسوں اورسیمنارس وغیرہ میں شرکت کے علاوہ برطانیہ میں مختلف اداروں کی تعمیر اوراس کے انتظام وانصرام کابار بھی میرے کاندھوں پر رہا۔ ورلڈ اسلامک مشن کی پہلی عمارت جوبریڈ فورڈ میں خریدی گئی تھی، اس میں بھی پانچ سال تک قیام رہا۔ اس کے قرض کی ادائیگی کےعلاوہ اسلامک مشنری کالج (جوعلامہ ارشدالقادری کاعظیم خواب تھا) کےمنصوبے کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد اوروسائل کی فراہمی بھی احقر ہی کے ذمے رہی۔
بریڈفورڈسے مانچسٹرمنتقل ہونے کےبعد ہمیں از سرِ نو اپنے خوابوں کی تکمیل کےلیے ایک عظیم ادارے کی ضرورت تھی۔چناں چہ مانچسٹرجیسے بڑے شہر میں ایک بہت بڑا پلاٹ حاصل کیاگیا اوربحمدللہ اب وہاں دوملین پاؤنڈکےمنصوبے سے تین بڑے ہالوں اوردرجنوں کلاس روم اور آفس پرمشتمل ایک پرشکوہ اور فلک بوس عمارت تعمیر ہوچکی ہے۔ جس میں جامع مسجد شمالی مانچسٹرکے علاوہ:
(۲) کلیۃ الدراسۃ الاسلامیہ
(۳)ورلڈ اسلامک مشن
(۴) دارالافتاء
(۵)لائبریری—-وغیرہ کے دفاتر قائم ہیں۔
(۶)تعلیم— کلیۃ الدراسۃ الاسلامیہ میں کم وبیش پانچ سال سے پارٹ ٹائم کالجوں اور یونیورسٹیوں کےطلبہ عربی زبان، تفسیر،حدیث، فقہ، تاریخ اسلامی اورتقابلِ ادیان کے مضامین پڑھ رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں اسلامک مشنری کالج کے مجوزہ نصاب کےمطابق علماے کرام کی تربیت کااہتمام ہوگا، جس میں عربی زبان کے علاوہ انگلش اور فرنچ کی تعلیم دی جائےگی، تاکہ فراغت کے بعد یورپ، افریقہ اورامریکا کے ملکوں میں تبلیغی خدمات انجام دینے کے قابل ہوسکیں۔
مخالفین اسلام کے اعتراضات اوران کے جوابات:
داخلی فتنوں کےعلاوہ ورلڈاسلامک مشن کوعیسائیت، نیچریت وغیرہ کے خلاف بھی کام کرناپڑا۔ خاص طور پر مستشرقین یورپ کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا جواب دینے کے لیے سینکڑوں اجتماعات کیے گئے اوروہ اب بھی جاری ہیں۔
اسلام پران کے بنیادی اعتراضات:
اعتراض(۱) :اسلام تلوار کے زور پرپھیلا۔
جواب:حالاں کہ یہ قطعاً غلط ہے، اسلام تلوارنہیں ،بلکہ اپنی سچائی اور اخلاقی برتری سے پھیلاہے، جس کے بے شمار شواہد تاریخ کے صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔
اعتراض(۲) :سرورکائنات ﷺ پیغمبر نہیں بلکہ صرف ایک مصلح تھے۔
جواب:حالاں کہ ایک مصلح، معاشرے کی چند قدروں کی اصلاح کرتاہے، جبکہ معاشرے کے خلاف ایک مکمل نظامِ زندگی،ایک مکمل نظامِ عقائد، ایک مکمل نظامِ عبادت، ایک مکمل نظامِ معاش، ایک مکمل نظامِ معیشت، ایک مکمل نظامِ سیاست، ایک مکمل نظام ِمعاشرہ— صرف پیغمبر ہی لے کرجلوہ گرہوتاہے۔ پھر ایک مصلح ، قرآن جیسی عظیم کتاب لے کرنہیں آتا۔ اورنہ ہی وہ معجزات کی قوت سے آراستہ ہوتاہے۔
اعتراض (۳) : اسلام میں نجات کاکوئی تصور نہیں۔
جواب:حالاں کہ نجات کاکامل تصور صرف اسلام نے پیش کیاہے۔ ایک گنہ گار کو اسلام کسی انسان کےسامنے رُسوا کرنے کےبجائے، صرف خدا کی بارگاہ میں حاضری کا حکم دیتاہے، جہاں دنیامیں توبہ کےذریعے سے،اعمالِ حسنہ کےذریعے سے اورآخرت میں شفاعتِ رسول ﷺ اور اللہ( عزوجل) کے کرم کےذریعے سے مکمل نجات حاصل کرلیتاہے۔پھراسلام میں موروثی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہرانسان، فطرتِ اسلام پربےگناہ پیدا ہوتاہے۔
اعتراض(۴):اسلام نے عورتوں کوغلام بنارکھاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام وہ پہلا مذہب ہے، جس نے عورتوں کو مکمل آزادی عطا فرمائی۔ مَردوں کےبے جاتسلط سے آزاد کیا،انھیں حقوق عطافرمائے۔اور احترام نفس کے حوالے سے انھیں برابر کامقام عطا فرمایا۔اور مرد کوجملہ ضروریات کاکفیل بناکر عورت کےلیے ایک باعزت اورباوقار زندگی کانصب العین عطا فرمایا۔
اعتراض(۵):اسلام میں غلامی کوجائز قراردیاگیا ہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام اُس دَور میں جلوہ گر ہوا،جب کہ پوری دنیامیں غلامی کا رواج تھا۔ عیسائیت، یہودیت، زرتشتیت– ہرمذہب میں غلاموں کی خرید وفروخت جاری وساری تھی۔ اسلام نے غلاموں کوآزاد کرنے کے ہزاروں طریقے وضع فرمائے۔ غلاموں کی آزادی،گناہوں کاکفارہ قرار دی گئی، اعمالِ حسنہ کابدل قرار دی گئی۔غلاموں کےساتھ حسنِ سلوک کولازمی قرار دیاگیا، اسلام کادور، دراصل غلاموں کی فرماں روائی کازمانہ ثابت ہوا۔
اعتراض(۶): اسلام نے غیر مسلموں کوذمی قراردے کر ان پرغلامی کاٹیکس نافذ کیا۔
جواب:حالاں کہ اسلام نے غیرمسلم اقلیتوں کومکمل تحفظ فراہم کیا۔ ان کی حفاظت کومسلم حکومت کی ذمے داری قرار دیا، ان کی عزت وآبرو، جان ومال کومسلم کے برابر قرار دیا۔ دشمنوں سے تحفظ کےلیے مسلمانوں پرجہاد فرض کیا اورانھیں جہاد سے مستثنیٰ کردیا۔ زکوٰۃ مسلمانوں پر فرض کی گئی اور وہ زکوٰۃسے بھی مستثنیٰ رہے۔اس کےبدلے میں زکوۃ سے بھی کم رقم بطورحق الخدمت وصول کی گئی، جس کو جزیہ کہتے ہیں۔ جہاد میں مسلمان جان دیتاہے،زکوٰۃ ادا کرتاہے، اس کی جگہ پرتھوڑا سا جزیہ غلامی کاٹیکس نہیں بلکہ اسلامی حکومت کاتعاون اوران کے خود اپنے تحفظ کابدل ہے۔
اعتراض(۷): اسلام کانظامِ عبادات مسلمانوں کو دنیاکی تمام تگ ودَو سے روکتاہے۔
جواب:حالانکہ اسلام کےنظام عبادت میں، کسبِ معاش بھی عبادت کاایک حصہ ہےروزانہ چند لمحوں کی عبادت مزید جذبۂ عمل پیدا کرتی ہے، جمعہ سب سے بہتر دن ہے،یہودی ۲۴؍گھنٹے،ہفتہ (سَبْت)میں کام نہیں کرتے ،عیسائی اتوار کوپورےدن بیکار رہتے ہیں ،مگر اسلام میں،جمعہ کی اذان سے پہلے کام کی اجازت ہے اور نماز کے بعد بھی، فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ۔ اسلام نے حصول رزق کوفضل الٰہی قرار دیاہے۔اسلام کی جلوہ گری کے بعد کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمان معاشی اعتبار سے دنیا کی سب سے عظیم قوم تھی، مگر جب عبادت ترک کی، تو معاش کے دروازے بھی بند ہوگئے،اسلام کا نظام عبادت معاشی زندگی کامعاون ہے۔ (فجر سے ظہر تک بندہ کام کرتا ہے چند منٹ وضو اور نماز میں لگتے ہیں، اس سے بندہ پھر تازہ دم ہوجاتاہے، پھر کئی گھنٹے کام کرنے کے بعد ، چند منٹ کے لئے عصر کی بریک لیتا ہے، اور نماز سے ایک نیانشاط اور سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ اسلام نے عبادت ونماز کے اوقات بہت ہی مختصر رکھے ہیں ، ایک نماز میں بس ۵ سے۱۰ منٹ لگتے ہیں، ۸ گھنٹے کام کے دوران ، اتنا وقفہ تو مزاج و روح میں تازگی و بالیدگی پیدا کرتا ہے، بندے کا موڈ فریش ہوجاتا ہے ، اور یہ کام میں معاون ہوتا ہے، نہ کہ کام سے روکتا ہے)
اسلام نے تو محنت پر زور دیاہے اوربہت واضح طور پر ارشاد فرمایاہے: وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی (النجم:۵۳،آیت:۳۹،پارہ:۲۷) انسان کووہی ملے گا جووہ کوشش کرے گا۔ اسلام جہد مسلسل کا مذہب ہے ،سعی پیہم کامذہب ہے ،مگر اب ہمارے اندر نہ جہد مسلسل ہے، نہ سعی پیہم ، ورنہ واللہ العظیم ، اللہ تبارک وتعالیٰ نےجتنے انسان پیدا کیے ہیں ، اتنی ہی خوراک بھی عطافرمائی ہے خود فرماتاہے وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (ہود:۱۱، آیت:۶، پارہ:۱۲)اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمّہ کرم پر نہ ہو۔
اعتراض(۸):اسلام میں عورتوں کومَردوں کے برابر حیثیت نہیں دی گئی اورانھیں دوسرے درجے کاشہری تسلیم کیاگیاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام میں عورتوں کو حقوق کےسلسلے میں مردوں کےبرابر حیثیت دی گئی ہے۔قرآن کریم کافرمان ہے:ولھنَّ مثل الَّذِی علیھنَّ۔
اعتراض(۹): پردہ کاسسٹم، غلامی کی علامت ہے۔
جواب:اسلام میں پردہ کاسسٹم عورت کی عصمت، غیرت اوروقارکے تحفظ کےلیے ہے جبکہ مغرب میں پردہ نہ ہونے کے سبب سے عورت بہت زیادہ غیر محفوظ اور انسانی درنگی کانشانہ بنی ہوئی ہے۔
اعتراض(۱۰): طلاق کےحقوق صرف مرد کودے کرعورت کوبے بس کردیاگیاہے۔
جواب:حالاں کہ مردکونان ونفقہ اورتمام واجباتِ زندگی کاذمے دار قرار دیاگیاہے۔ اس لیے طلاق کابھی حق اسی کو دیاگیاہے۔ جبکہ عورت کواس بات کی اجازت ہے کہ وہ مردکےظلم اورزیادتی کے خلاف اسلامی عدالت میں طلاق کے لیے رجوع کرسکتی ہے۔
اعتراض(۱۱): دیت، شہادت اور وراثت کونصف قراردے کرعورت کونصف انسان قرار دیاگیاہے۔
جواب:دیت اور وراثت وغیرہ میں نصف قراردینے کی وجہ یہ ہے کہ عورت کی ذمے داریاں مرد کے مقابلے میں نصف بھی نہیں ہیں۔ ایک مرد کی موت پر پورا خاندان متاثر ہوتاہے۔ اس لیے کہ کفالت کی ذمےداری مرد کی ہے، اس لیے اس کی دیت
بھی دُہری دلائی جاتی ہے۔ مرد ایک عورت کواپنے گھر لاتاہے اورعورت کسی مرد کے گھر جاتی ہے۔ مرد کو دوہری وراثت اس لیے دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی اوراپنی بیوی بچوں کی کفالت کرسکے۔ جب کہ عورت باپ کے گھرسے نصف لے کر،شوہر کے گھر میں شوہر کی ذمہ داری بن کر جاتی ہے اوراس کے نان ونفقہ کاذمہ دار شوہر ہوتاہے۔
اعتراض (۱۲) : اسلام نے عورت کوتعلیم سے روک کرانھیں پتھروں کےدَور میں رہنے پر مجبور کردیاہے۔
جواب:حالاں کہ اسلام نے عورت کوتعلیم سے نہیں روکا بلکہ مخلوط تعلیم سے روکاہے۔ اس لیے کہ مخلوط تعلیم، انھیں ایک ایسے دور میں لے جاتی ہے جوپتھروں کےدَور سے بھی بھیانک اورلرزہ خیز ہے۔
اعتراض (۱۳): قرآن عظیم محمد(ﷺ) کی اپنی تصنیف ہے۔
جواب:قرآن عظیم اگر پیغمبر اسلام کی تصنیف ہے توآج تک پوری دنیاسے اس چیلنج کاجواب کیوں نہیں بن سکا، جوآج سے چودہ سوسال پیش تر قرآن دےچکاہے۔
اعتراض (۱۴):حضور ﷺ کی مکی زندگی پیغمبرانہ تھی، اس کے بالکل برعکس مدینے میں پیغمبراسلام نے زندگی کی آسائشوںسے محروم کچھ لوگوں کو جمع کرکے ایک جماعت تیار کی اورانھیں آسائشوں کے حصول کےلیے دوسری قوموں سے جنگ کی۔
جواب:حالاں کہ پیغمبر ہمیشہ پیغمبرہوتاہے۔ پیغمبر اسلام مکہ میں پیغمبراور مدینہ میں بھی پیغمبر ہی تھے۔اور جہاد، نبوت کے منافی نہیں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاےبنی اسرائیل (علیہم السلام)کاجہاد خود توریت وانجیل سے ثابت ہے۔ اگر پیغمبر اسلام ﷺ اوران کے صحابہ نے دنیاوی آسائشوں کےلیے جہاد کیاہوتا تو قیصروکسریٰ کے فاتحین کےپاس اگر قیصروکسریٰ جیسے محلات نہیں تو کم ازکم ان کے اپنے اچھے مکان توہوتے۔
یہ اوراسی طرح کے بہت سے اعتراضات جوعیسائی اور یہودی کرتے ہیں ان کے جوابات مذاکروں کی شکل میں دئے جارہے ہیں۔
مانچسٹر اور لیسٹرکے اسلامی مراکز میں اکثر یونی ورسٹیوں اورکالجوں کے طلبہ، چرچوں (کلیساؤں) کےرہنما،عیسائت کے مبلغین، مشرقیات کے محققین اور مذاہب پرریسرچ کرنے والے حاضر ہوتے ہیں اور اکثراپنے سوالات کے معقول جواب پاکر مطمئن واپس جاتے ہیں۔
مناظرہ:مخالفینِ اسلام کے مقابلے اوران کادفاع:
اہل سنت وجماعت کوداخلی محاذپر وہابیت، مرزائیت وغیرہ سے مسلسل تصادم اور مقابلے سے دوچار ہوناپڑتاہے۔
ہندوستان میں بھی ایسے بہت سے مواقع آئے جب دیابنہ کے مختلف گروپ سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ جامعہ اسلامیہ روناہی کے قیام کے بعد جگن پوراور فیض آباد میں مناظرے کے نام پر مخالفین جمع ہوئے۔ لیکن تمہیدی خطاب کےبعد ہی انھوں نے مناظرہ سے انکار کردیا۔
ببھنان(ضلع بستی) کےمناظرہ میں ایک منتظم کی حیثیت سے شریک ہوا۔یہ مناظرہ ایک ہفتہ تک چلتارہا۔ اخیرمیں دیابنہ نےپولیس سے درخواست کرکے مناظرے کودوماہ کے لیے ملتوی کرادیا۔ لیکن دوماہ کےبعد، دوبارہ وہاں نہیں آئے اورعلمائے اہل سنت نے جشن فتح منایا۔
اس مناظرہ میں حضور مجاہد ملت، علامہ مشتاق احمد نظامی، حضرت علامہ مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ،مولانامشاہدرضاصاحب، براؤں شریف کے تمام علما شریک تھے۔ دیوبندیوں کی طرف سے ارشاد کےعلاوہ دیوبند کے دودرجن سے زیادہ علما موجود تھے۔
بدمذہبوں کی مخالفت اوراس کے نتائج واثرات:
برطانیہ میں ابتداءً سعودی لابی نے ورلڈ اسلامک مشن کےقیام کی شدید مخالفت کی اور خالد محمود (دیوبندی) نے”احمدرضاخاں کاتعارف“ کے عنوان سے برطانیہ کے مرکزی شہروں میں جلسے کیے اوراس بات کی کوشش کی کہ علماے اہل سنت کے قدم جمنے سے پہلے ہی برطانیہ کی سرزمین ان کے لیے تنگ کردی جائے۔ اس کے جواب میں علامہ ارشد القادری کی سرپرستی میں تمام شہروں میں جلسے کیے گئے۔ ان کے عقائد پرمشتمل پوسٹرس نکالے گئے، مناظرے کا چیلنج کیاگیا۔ لیکن مخالف قوتیں جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں اوران تمام مساجد سےان کاخراج عمل میں لایاگیا جہاں وہ سنی بن کر اہل سنت کو مبتلا ے فریب کیے ہوئے تھے۔
مانچسٹر،روچڈیل، لیسٹر، بریڈفورڈ وغیرہ میں اہل سنت منظم ہوئے اوران کی مساجد کاقیام عمل میں لایاگیا۔ انھوں نے امام احمدرضا پرالزام تراشی کی تھی مگروہ خود بے نقاب ہوگئے۔

(تجلیاتِ قمر صفحہ ۱۰ تا ۲۶ ملخصاً و تصرفاً)

الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net

تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

تعارف
تاج الشریعہ، رئیس الفقہا، پیر طریقت،رہبر ملت حضرت علامہ محمد اختر رضا قادری ازہری دامت برکاتہم العالیہ
جانشینِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ ،صدر مرکزی دارالافتا، بریلی شریف، انڈیا
—————————————–

آپ ہندوستان کےخطۂ علم وفن بریلی شریف کےرہنے والے ہیں،حضرت مفتی اعظم ہند مصطفےٰ رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے، مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے، حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کےپرپوتے ہیں۔
علم وفن ،شعر وسخن، معقولات ومنقولات، علم قدیم وجدید میں ماہر وکامل ہیں، درس نظامیہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کئی سال جامعہ ازہر مصر میں رہ کر عربی ادب اور متعدد علم وفن میں کمال پیدا کیا۔ اردو،عربی،فارسی،ہندی، انگلش ان سب زبانوں میں لکھنے پڑھنے اور بولنے کی مہارت تامہ رکھتے ہیں۔
علم وفضل، زہد وتقویٰ میں اپنی مثال آپ ہیں، علم شریعت اور علم طریقت دونوں کےامام ہیں، فقہ وافتا میں آپ پورا کمال رکھتے ہیں۔ جدید مشکل مسائل میں آپ کی گہری نظر ہے کسی بھی نئے پیداشدہ مسئلے میں آپ کافیصلہ آخری اور حرف آخر ہوتاہے۔ برصغیر میں آپ کی شخصیت بڑی نمایاں ہے۔
آپ کےبےشمار مریدین عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں، بلاشبہہ آپ نہایت متقی وپرہیز گار پیر کامل اورخدا رسیدہ بزرگ ہیں۔

[یہ تعارف گیارہویں شریف کے عظیم الشان پروگرام میں پیش کیاگیا۔
بمقام : ڈیلاس، ٹیکساس، امریکا
بتاریخ: ۴؍ ربیع الآخر ۱۴۲۰ ھ ، ۱۸؍جولائی ۱۹۹۹ء بروز اتوار]

احمدالقادری مصباحی

 

مینو