برکات اولیاءاللہ
برکاتِ اولیا ء اللہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَالصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّدِ الاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ ۔ اَمَّا بَعْدُ،
فَاَعُوْذُ بِالّٰلِہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ٭بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٭
اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ٭ ( سورہ توبہ، آیت 119)
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو- (کنز الایمان)
اولیائے کرام کا بڑا اونچا مقام ہے، ان کی برکتیں بیشمار ہیں
حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ "المنقذ من الضلال” میں یہ حدیث نقل فرماتے ہی
بِھَمْ یُمْطَرُوْن، وَ بِھِمْ یُرْزَقُوْن٭
انھیں اولیاء اللہ کے طفیل بارش ہوتی ہے اور انھیں کے طفیل رزق دیا جاتاہے۔ گویا بارش و رزق اولیاءکرام کی برکات کا ایک ثمرہ ہے-
یاد رہے کہ حق کے متوالوں کا ایک گروہ ہر زمانہ میں موجود رہا ہے، بلکہ زمانہ کبھی ان کے وجود سے خالی ہی نہیں رہا، انھیں کی برکتوں سے رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ انھیں اولیائے کرام میں سے اصحاب کہف بھی ہیں ۔
تمام سلاسلِ اولیاء، برحق ہیں، سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، رضویہ، نقشبندیہ، مجددیہ، چشتیہ، نظامیہ، سہروردیہ، شاذلیہ وغیرہ ان سلاسلِ اولیاء کی برکات سے پوری دنیا فیضیاب ہے- ان کے درمیان جو اوراد و اشغال میں اختلاف ہے، وہ فروعی ہے، سب کا اصل سرچشمہ، ایک ہی ہے ۔ تمام سلاسل ِحَقَّہ، ذاتِ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ و سلم سے ملتے ہیں-
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ، امام اہل سنت، مجدِّد ِدین و ملت، سیدی اعلی حضرت ،امام احمد رضا قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ، وغیرہم، اولیا ء اللہ کے فیضان و برکات سے ایک عالم، روشن و منور ہے، آج دینا میں اہلِ سنت کے عقیدے میں جوپختگی اور تصلب فی الدین پایا جاتا ہے، وہ انھیں اولیائے کرام اور امام اہل سنت کے فیضان و برکات کا ایک حصہ ہے-
مدارسِ اہل سنت کی برکتیں بھی، اولیاء اللہ کے طفیل ہیں، ان کے بانیان وکارکنان زیادہ تر،صاحب ِ سلسلہ ہیں، جن کے فیضان سے، عالم اسلام مالامال ہے، ان مدارس کی برکات ایشیا، افریقہ، امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ ہر چہار طرف پھیلی ہوئی ہیں-
اس وقت اہلِ سنت و جماعت کے حریف، بدمذہب ہیں- ان کے مقابلہ میں، تمام سلاسلِ اولیا کے پیرو کار و متبعین کو آپسی فروعی اختلافات، نظرانداز کرکے ، بدمذہبیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کومتحد ومتفق ہوکر روکنا چاہئے-
اولیاءِ کرام کی تعلیمات کی برکات کوعام کرنا، ان کے افکارونظریات، اذکار و اشغال کو پھیلانا ، تمام سلاسل کے مریدین و متوسلین اور جملہ اہل سنت کا اہم فریضہ ہے-
اس دورِ پرفتن میں جمیع اہل سنت کو، اولیا ء اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اور ان کی تعلیمات و برکات کا جو حصہ ملا ہے، اُس کی نشر و اشاعت، مل جل کر خوب خوب کرنا چاہئے-
وَاللہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِیْن٭ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر٭
احمد القادری مصباحی
اسلامک اکیڈمی آف امریکہ
یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ
یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ
وصال، ۲۲ جمادی الآخرہ
خلیفۂ برحق، یار غار، حضرت سیدنا، صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ، انبیاء ومرسلین کے بعد، مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔نبی آخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ، ایمان لانے والے مردوں میں، پہلے جاں نثار صحابی، امت مسلمہ کے پہلے امیر المومنین، اور عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپ ہمیشہ آقائے کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے، ہجرت میں، اور تمام غزوات میں ساتھ رہے، حتاکہ بعد وصال قبر انور میں بھی ساتھ ہیں۔
۲۲ جمادی الآخرہ سنہ ۱۳ ھ میں اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے۔
اپنی طیبہ طاہرہ بیٹی، ام المومنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرۂ پاک میں، تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہیں،ان کے فضائل ومناقب، بے شمار ہیں۔
اس ماہ مبارک میں بکثرت ان کے تذکرے کئے جائیں، اپنے گھروں میں، مسجدوں میں، اور محفلوں میں، ہر جگہ ان کے فضائل ومناقب بیان کئے جائیں۔بلکہ ان کی پاکیزہ زندگی کے نقوش، دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے، آنے چاہئیں۔
واللہ الموفق والمعین، نعم المولی ونعم النصیر
ماہِ شعبان کی پندرہویں رات
ماہِ شعبان کی پندرہویں رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اور برأت کے معنی بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کو شبِ برأت کہتے ہیں ۔ اس رات کو لیلۃ المبارکۃ یعنی برکتوں والی رات، لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلۃ الرحمۃ یعنی رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔
فضائل شب معراج شریف
بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت كی
فی رجب یوم ولیلة من صام ذٰلك الیوم وقام تلك اللیلة كان كمن صام من الدهر مائة سنة وقام مائة سنة وھو  لثلث بقین من رجب وفیه بعث اﷲ تعالٰی محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیه وسلّم
رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن كا روزہ ركھے اور وُہ رات نوافل میں گزارے سَو برس كے روزوں اور سَو برس كے شب بیداری كے برابر ہو، اور وہ ۲۷رجب ہے اسی تاریخ اﷲ عزوجل نے محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم كو مبعوث فرمایا۔
تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری
تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے لیکن جب ذکر سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کا آجائے تو تاریخ ڈھونڈتی ہے کہ ان جیسا دوسراکوئی ایک ہی اسے اپنے دامن میں مل جائے ۔ کوئی کسی فن کا امام ہے تو کوئی کسی علم کا ماہر لیکن سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ہر علم ، ہر فن کے آفتاب و ماہتاب ہیں
مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری
ولادت با سعادت
مرجع العلماء و الفقہاء سیدی حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ الشاہ ابو البرکات محی الدین جیلانی آل رحمٰن محمد مصطفی رضا صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ کی ولادت با سعادت ۔ ۲۲ذوالحجہ ۱۳۱۰ھ بروز جمعہ صبح صادق کے وقت بریلی شریف میں ہوئی ۔
پیدائشی نام ’’ محمد ‘‘ عرف ’’مصطفی رضا‘‘ ہے ۔ مرشد برحق حضرت شاہ ابو الحسین نوری قدس سرہ العزیزنے آل الرحمن ابو البرکات نام تجویز فرمایا اور چھہ ماہ کی عمر میں بریلی شریف تشریف لا کر جملہ سلاسل عالیہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور ساتھ ہی امام احمد رضا قدس سرہ کو یہ بشارت عظمیٰ سنائی کہ یہ بچہ دین و ملت کی بڑ ی خدمت کرے گا اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہونچے گا۔ یہ بچہ ولی ہے ۔
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی
شریعت کے صدرِشھیر ، طریقت کے بدر منیر ، محسنِ اھلسنّت ، خلیفہ اعلیٰ حضرت ، مصنفِ بہارِ شریعت حضرتِ علامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی سنّی حنفی قادِری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۱۳۰۰ھ مطابق 1882ء میں مشرقی یوپی (ہند) کے قصبے گھوسی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور دادا حُضُور خدابخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فنِ طِب کے ماہِر تھے۔ اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں مدرَسہ ناصر العلوم میں جا کر گوپال گنج کے مولوی الہٰی بخش صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ تعلیم حاصل کی۔ پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور اُستاذ مولانا محمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ اسباق پڑھے۔ پھرجامع معقولات ومنقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اکتساب فیض کیا۔ پھر دورہ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں اُستاذُ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سُورَتی علیہ الرحمۃ سے کی۔ حضرت محدثِ سُورَتی علیہ الرحمۃ نے اپنے ہونہار شاگرد کی عَبقَری  صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
امام احمد رضا خان کے تجدیدی کارنامے
علم تاریخ نے اپنے دامن میں اچھی اور برُی ہر دوصفت کی حامل شخصیات کو سمیٹ کر پناہ دی ہے اس طرح انہیں زمانے کی دست برد اور شکستگی سے محفوظ کردیا ہے تاکہ آئینہ تاریخ میں ماضی کے عکس و نقش کا مشاہدہ حال و استقبال کو جاندار اور شاندار بنانے میں معاون ہو۔ لیکن بعض شخصیات کا پیکرِ احساس اتنا جاندار و شاندار ہوتا ہے کہ جنہیں تاریخ محفوظ رکھنے کا اہتمام کرے یا نہ کرے وہ شخصیات اپنی تاریخ آپ مرتب کرلیتی ہیں اس لئے کہ وہ عہد ساز اور تاریخ ساز ہستیاں ہوتی ہیں یہ شخصیات اپنی پہچان کیلئے مؤرخ کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ ان نادر زمن ہستیوں کے خوبصورت تذکرے کو تاریخ اپنے صفحات کی زینت بنانے کیلئے خود محتاج ہے اور مؤرخ ان کے تذکرے لکھ کر خود کو متعارف کرانے کا محتاج ہوتا ہے۔ ایسی ہی عہد ساز ہستیوں میں ایک مہر درخشاں وہ بھی ہے جسے شرق تا غرب شیخ الاسلام و المسلمین، محدث عصر، فقیہہ دہر، مجدد دین و ملت ، حامی سنّت، قامع بدعت، اعلیٰ حضرت وغیر ہم القابات و خطابات سے پہچانا جاتا ہے ۔ امام احمد رضا فاضل و محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کے اسم گرامی کے اعزاز و اکرام کے بارے میں علامہ ہدایت اللہ بن محمود سندھی حنفی قادری مہاجر مدنی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
مینو