قربانی کے اہم مسائل

بِسمِ اللّٰہ الرَّحمٰنِ الرَّحیم

*قربانی کے اہم مسائل*

*سوال* : اگر کسی گھر میں ایک سے زیادہ افراد مالکِ نصاب ہوں تو کیا ہر ایک پر فرداً فرداً قربانی واجب ہوگی؟ یا ایک شخص کی جانب سے کی گئی قربانی سب کے لیے کافی ہوگی؟

*جواب* : اگر ایک گھر میں کئی افراد مالکِ نصاب ہوں تو گھر کے ہر فرد پر اپنی اپنی طرف سے قربانی کرنا ضروری ہوگا۔ اگر کسی نے اپنی طرف سے قربانی نہیں کی اور یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ گھر کے کسی ایک فرد کی جانب سے کی گئی قربانی سب کے لیے کافی ہوگی تو ایسی صورت میں قربانی نہ کرنے والا شخص گنہ گار ہوگا۔

*سوال* : عورت مالکِ نصاب ہے؛ مگر اس کے پاس نقدی رقم نہیں ہے کہ قربانی کر سکے تو وہ کیا کرے؟

*جواب* : جب عورت کے پاس بہ قدرِ نصاب مال تو ہے؛ لیکن نقد کی شکل میں نہیں ہے، بلکہ زیوراور دیگر اشیا کی شکل میں ہے تو ایسی صورت میں ان کے پاس دو راستے ہیں: وہ یا تو بہ قدرِ ضرورت زیور بیچ کر قربانی کرے یا پھر کسی سے قرض لے کر قربانی کی ادائیگی کرے؛ لیکن قربانی کسی بھی صورت میں معاف نہیں۔

نوٹ: واجب کی ادائیگی کے لیے صاحبِ نصاب کی طرف سے قربانی کے دنوں میں قربانی کا ہونا ضروری ہے، خواہ جانور خریدکر قربانی کرے یا پھر حصے والی قربانی میں شریک ہو کر واجب کی ادائیگی کرے۔

*سوال* : ان عورتوں کا کیا حکم ہے، جو بہ قدرِ نصاب زیور رکھنے کے باوجود قربانی نہ کریں؟

*جواب* : وہ عورتیں، جن کے پاس اتنے زیورہیں کہ آسانی سے نصابِ شرعی کو پہنچ رہے ہیں؛ مگر اس کے باوجود بھی قربانی نہ کریں تو ایسی عورتیں واجب کا ترک کرنے کی وجہ سے گنہ گار ہوں گی۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدق دل سے توبہ و استغفار کریں اور اس کوتاہی کی تلافی کریں (جو ان سے اب تک ہو چکی ہے۔)، جس کی صورت یہ ہے کہ ایک مُتَوَسِّط بکرا یا بکری یا اس کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کر دیں۔

*سوال* : کیا عورت پر قربانی واجب ہے؟

*جواب* : قربانی کے سلسلے میں عورت و مرد کے درمیان کسی بھی قسم کی صنفی تخصیص نہیں۔ اگر عورت صاحبِ نصاب ہے یعنی اس کے پاس اتنا مال ہے کہ نصاب شرعی کو پہنچ رہا ہے تو پھر عورت پر بھی قربانی واجب ہوگی؛ لہذا عورت یہ کہہ کر قربانی کرنے سے بچ نہیں سکتی کہ میرے شوہر نے تو قربانی کر دی ؛ اس لیے اب مجھے الگ سے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ایسی خواتین سے گذارش ہے کہ وہ اپنی جاہلانہ سوچ و فکر سے تائب ہو کر قربانی کا اہتمام کریں اور ترکِ واجب کے ذریعے خداے قہار و جبار کی ناراضگی مول نہ لیں۔

الاسلامی.نیٹ

غیرمسلم بینک سے قرض لینے کا حکم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

مسئلہ: غیر مسلم بینک سے قرض لے کرمسجد، مدرسہ اور مذہبی ادارے کی تعمیر کرنا،بوقت ضرورت جائز ہے۔
فتوی: تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا قادری ازہری علیہ الرحمہ،
تصدیق: محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفےٰ قادری دامت برکاتہم العالیہ
سوال: امریکہ جوایک دارالحرب ہے یہاں مسجد، مدرسہ یاکسی دینی مرکز کو قائم کرنے کےلیے کسی مکان یازمین کانقد خریدنا بہت ہی دشوار تقریباً متعذرہے اوراُدھار خریدنے کی شکل میں طے شدہ قیمت سے زائد رقم بینک کودینی پڑتی ہے، کیا ایسی صورت میں غیرمسلموں کےبینک کوقیمت سے زائد رقم دے کر مسجد ومدرسہ کےلیے جگہیں اُدھار خریدنا جائز ہے یانہیں۔بینوا وتوجروا

المستفتی :محمدبابر رحمانی
ڈیلاس (امریکہ)

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں دینی ضرورت یاحاجت کے پیش نظر، اس کی اجازت ہے کہ قرض لےکر مسجد، مدرسہ، مذہبی ادارہ ،تعمیر کیاجائے ،اگرچہ حربی کفار کو زیادہ دیناپڑے اور یہ زیادتی حرام نہیں ہوگی کہ حدیث میں ہے :
لاربوا بین المسلم والحربی
مگر کافروں کو بلاضرورت وبے حاجت نفع پہنچانا حرام ہے ۔
قال تعالیٰ: اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ (سورہ الممتحنہ:۶۰،آیت:۹،پارہ:۲۸)
یہاں سے کھلا کہ اجازت، زیادہ دینے کی ،ضرورت یاحاجت شرعیہ کی شرط سے، مشروط ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

قالہ بفمہ و أمر برقمہ الفقیر
محمداختر رضا القادری الازہری غفرلہ

الجواب صحیح ،واللہ تعالیٰ اعلم
ضیاء المصطفیٰ قادری عفی عنہ
۲۸؍ربیع الاول ۱۴۲۲ھ (۲۱ جون ۲۰۰۱ء)

بزرگوں کے مزارات پر حاضری اور فاتحہ کا طریقہ

بزرگان دین کے مزارات پرحاضری اورفاتحہ کاطریقہ

از :مجدداسلام، اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قادری محدثِ ہند، علیہ الرحمۃ والرضوان
ولادت:۱۰؍شوال ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء – وصال:۲۵؍صفر ۱۳۴۰ھ مطابق۲۸؍ اکتوبر ۱۹۲۱ء بروز جمعہ

استفتا
از بنارس، مرسلہ حافظ عبد الرحمن رفو گر۔ ۲۸؍ محرم ۱۳۳۲ھ
حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ بزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں ،ا ور فاتحہ میں کون کون سی چیزیں پڑھا کریں؟

الجواب

بسم ﷲ الرحمن الرحیم﴿﴾ نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ﴿﴾

حافظ صاحب کرم فرما سلمکم
مزارات شریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے، اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر، مواجہہ(چہرہ کےمقابل) میں کھڑا ہو، اور متوسط آواز میں باادب عرض کرے،
السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ
پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار ، اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰسں او رسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی ! اس قراءت پر مجھے اِتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو، ا س کے لیے دعا کرے اورصاحبِ مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے، اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے(جب کہ بہ نیت عبادت ہو) اور سجدہ حرام ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ: جلد۴، صفحہ:۲۱۲)

الاسلامی.نیٹ
AL ISLAMI.NET

مینو
👁 Total Visits: 936,731