دارالعلوم عزیزیہ، علامہ بدرالقادری

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
دار العلوم عزیزیہ
مفکر ِاسلام، حضرت علامہ بدرالقادری علیہ الرحمہ ، بانی ،اسلامک اکیڈمی ، ہالینڈ
——————

دار العلوم عزیزیہ، عزت ہوہماری
دین داری، اور علم کی جنت ہو، ہماری

ہم نو نہال، سائے میں اس کے پلیں،بڑھیں
اس کا فروغ، روح کی راحت ہو ہماری

قرآن کی فیض باری سے، دنیامہک اٹھے
پھیلانا نورِعلم کا، قسمت ہوہماری

اللہ اور رسول کی، ہم کو رضاملے
مقبول روز و شب کی، عبادت ہو ہماری

سب عادتیں ہماری، ہوں سنت کے مطابق
آئینہ دیں کا،سیرت وصورت ہوہماری

ہم راہ چلیں وہ، خدا راضی ہو، ہم سے
ماں باپ ہوں خوش، نیک وہ عادت ہو ہماری

دنیا میں پاک بازی کا درس ہم سے عام ہو
سب پیار کریں، پیاری وہ خصلت ہوہماری

درسِ طہارت، اِس کا کرے ہم کو پاک صاف
پوری حیات پَرتوِ سنت ہو ہماری

خوش خوئی سے،دل جیتناہم سیکھ لیں یارب
جودین کی منشاء ہو، وہ طینت ہوہماری

رحمٰن کوہم خوش کریں،شیطان سے بچ جائیں
چلنے کے لئے، راہ شریعت ہو ہماری

جہل ونفاق دور ہو، اورپھیلے نورِ علم
ہم اس سے فیض لیں، یہ سعادت ہو ہماری

ہم ظاہری و باطن میں غلامِ نبی بنیں
اسوہ، نبیِٔ پاک کا، سیرت ہو ہماری

فکر اور نظر ، ر نگ ِ حجا زی سے ہوں، ر نگیں
لوگوں کی خیر خواہی کی، عادت ہو ہماری

پاکیزہ نظر،ستھرے خیالات وعمل دے
پروردگار!عاجزی، فطرت ہو ہماری

ہم اس سے علم وخُلق لیں ،یہ ہم سے محنتیں
اس کی بقاء سے نیکوں میں، شہرت ہو ہماری

مردانہ وار ہم کو بڑھا، راہ زیست میں
سر کر لیں ہر محاذ، وہ جرأت ہو ہماری

یو، ایس میں ہو تعارف عام تہذیبِ مصطفی
اغیار پر بھی ہوعام، یہ دولت ہو ہماری

ہم سے جہاں میں دیں کا عَلم سر بلندہو
غوث و رضا کے نام سے، نسبت ہو ہماری

فیضان عام، مفتی احمد پہ کر کریم
خدمت سے ان کی، روح کو راحت ہو ہماری

مولیٰ تلاوتوں کی بہاریں دیں بدرؔ کو
دنیا میں جس جگہ پہ بھی،تربت ہو ہماری

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

 

شان علامہ بدرالقادری، مولانا توفیق احسن برکاتی

علامہ بدرالقادری کی شان میں

رب نے بخشا ہے تدبر کا نشانِ امتیاز
پی رہا تھا زندگی بھر شوق سے جامِ حجاز

علم کے ایوان میں برسوں رہا مسند نشیں
آسماں پر جیسے ہو رونق فزا بدرِ مبیں

الرحیل و قم باذنِ اللہ کا شاعر تھا وہ
شعر گوئی میں یقیناً قادر و ماہر تھا وہ

جادہ و منزل، حیاتِ حافظِ ملت لکھی
معرفت کی بزم میں چمکائی تازہ شاعری

اولیا کی بزم میں ہے عارفوں کا تذکرہ
اس نے کھینچا تھا جبینِ عشق پر اک دائرہ

شعر گوئی میں وہ سر اقبال کا مظہر ہوا
خوش نظر اس واسطے احساس کا منظر ہوا

امنِ عالم پر ہے اک اچھی کتابِ مستطاب
عظمتِ اسلام کا سورج ہوا ہے بے نقاب

سیدِ سالار کی اچھی سوانح بھی لکھی
اشرفیّہ حال، ماضی یادگارِ فن ہوئی

کیا خمینی اک الگ مذہب ہے؟ یہ بتلا دیا
یورپی ملکوں میں اسلامی علم لہرا دیا

مذہبِ اسلام نے عورت کو بخشا جو مقام
اک کتابِ معتبر میں ہے بیانِ احتشام

حافظِ ملت کے فیض و جود کا اک انتخاب
ہر ادائے عشق میں تھا وہ یقیناً لاجواب

مادرِ علمی کا پاکیزہ تعارف اس کی ذات
ہر ادائے خسروانہ میں تھا وہ عالی صفات

بزمِ تحقیق و ادب میں اک چمکتا آئنہ
راہِ حق کا اک مسافر، دینِ حق کا رہنما

گم تھا اس کی ذات میں اقبال کا شاہین بھی
بحر کی موجوں میں گھرنے کا بڑا شوقین بھی

تھا شریعت اور طریقت کا انوکھا امتزاج
زندگی کی بزم آرائی میں پایا ہے خراج

علم کا وہ بدرِ کامل آج پوشیدہ ہوا
چہرہِ فکر و تدبر خوب رنجیدہ ہوا

توفیق احسن برکاتی
11/ ستمبر 2021ء

اسلامک اکیڈمی، مفتی قمر الحسن

اسلامک اکیڈمی ٹیکساس، امریکا
نتیجۂ فکر : حضرت مولانا مفتی حافظ قمرالحسنؔ بستوی، امام و خطیب ،النور مسجد، ہیوسٹن
چیف قاضی: رویت ہلال کمیٹی ، امریکا

ا  اہل نظر کی شان اسلامک اکیڈمی ________ علم وحِکَمْ کی کان ا سلامک اکیڈمی
س  سب لوگ مستفیض ہیں اِس آبشار سے ________ رشحاتِ علم جان اسلامک اکیڈمی
ل  لگتا ہے جیسے علم کا دربار ہو سجا ________ پھیلاہے سائبان اسلامک اکیڈمی
ا  اِس کے جلومیں فقہ و حدیث اور تصوف ________   ہر فن کی آن بان اسلامک اکیڈمی
م  مہکے ہے مثلِ بوے گل تر ہر ایک باب ________   ہے دیں کا گلستان اسلامک اکیڈمی
ک  کتنوں کو اِس سے دین کی ہے معرفت ملی ________   حق کرتی ہے بیان اسلامک اکیڈمی
ا  اغیار اور اپنے سبھی دیکھتے ہیں یہ ________   آیئنۂ ایمان اسلامک اکیڈمی
ک  کیسی سجی ہوئی ہے یہاں دیں کی ا نجمن ________ جیسے ہو کہکشان اسلامک اکیڈمی
ی  یہ بھی رضاؔ کا فیض و تصرف ہے با لیقیں  ________ حق کی ہے ترجما ن اسلامک اکیڈمی
ڈ  ڈالی گئی ہے تیری بِنا ذکر حق کے ساتھ ________   چمکے ترا جہان اسلامک اکیڈمی
م  مظہر ہے عشق سید عالم کا ہر ورق  ________ حق کا ہے اک نشان اسلامک اکیڈمی
ی  یوں ہی ہمیشہ جاری رہے علم و فن کے ساتھ ________   اونچی تری اٹھان اسلامک اکیڈمی
یادش بخیر، ہو وے دعاے قمرؔ قبول
یا رب رہے جوان اسلامک اکیڈمی

www.IslamicAcademy.org

غوث اعظم، از سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ، علیہ الرحمہ
منقبت غوث اعظم (علیہ الرحمہ)
سیدی، اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا قادری، علیہ الرحمہ
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے، بالا تیر ا
اونچے اونچوں کے سروں سے، قدم اعلیٰ تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے ،کہ ہے کیسا تیرا
اولیاء ملتے ہیں آنکھیں، وہ ہے تلوا تیرا
جان تو جاتے ہی جائے گی ،قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے، نظارہ تیرا
عقل ہوتی تو خدا سے، نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں، اسے منظور بڑھانا تیرا
وَرَفَعْناَ لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے ترا، ذکر ہے اونچا تیرا
مٹ گئے، مٹتے ہیں، مٹ جائیں گے، اعدا تیرے
نہ مٹا ہے، نہ مٹے گا، کبھی چرچا تیرا
تو گھٹائے سے کسی کے، نہ گھٹا ہے، نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے، اللہ تعالیٰ تیرا
ہیں رَضاؔ یوں نہ بِلک، تو نہیں جیّد تو نہ ہو
سیّدِ جیّدِ ہر دہر ہے، مولیٰ تیرا
{حدائق بخشش}
الاسلامی.نیٹ
(AL-ISLAMI.NET) www.al islami.net
مینو