بزرگوں کے مزارات پر حاضری اور فاتحہ کا طریقہ

بزرگان دین کے مزارات پرحاضری اورفاتحہ کاطریقہ

از :مجدداسلام، اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قادری محدثِ ہند، علیہ الرحمۃ والرضوان
ولادت:۱۰؍شوال ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء – وصال:۲۵؍صفر ۱۳۴۰ھ مطابق۲۸؍ اکتوبر ۱۹۲۱ء بروز جمعہ

استفتا
از بنارس، مرسلہ حافظ عبد الرحمن رفو گر۔ ۲۸؍ محرم ۱۳۳۲ھ
حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ بزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں ،ا ور فاتحہ میں کون کون سی چیزیں پڑھا کریں؟

الجواب

بسم ﷲ الرحمن الرحیم﴿﴾ نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ﴿﴾

حافظ صاحب کرم فرما سلمکم
مزارات شریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے، اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر، مواجہہ(چہرہ کےمقابل) میں کھڑا ہو، اور متوسط آواز میں باادب عرض کرے،
السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ
پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار ، اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰسں او رسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی ! اس قراءت پر مجھے اِتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو، ا س کے لیے دعا کرے اورصاحبِ مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے، اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے(جب کہ بہ نیت عبادت ہو) اور سجدہ حرام ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ: جلد۴، صفحہ:۲۱۲)

الاسلامی.نیٹ
AL ISLAMI.NET

مینو