شہباز دکن علیہ الرحمہ، از احمد القادری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعزیت نامہ

پیر طریقت ،شہباز دکن ،حضرت مولانا مفتی قاری الحاج الشاہ محمد مجیب علی قادری رضوی نوری
خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، و حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
(ولادت: ۲۲ رجب ۱۳۷۴ ھ مطابق ۱۶ مارچ ۱۹۵۵ء بروز چہارشنبہ ۔ وصال: ۲۵ ذیقعدہ ۱۴۴۲ھ ۷ جولائی ۲۰۲۱ ء بروز چہار شنبہ ،بمقام: حیدآباد، دکن)
قابل صد احترام حضرت مولانا سہیل رضا رضوی صاحب ، مد ظلکم العالی

السلام عليکم و رحمۃ الله و برکاتہ
عزیز مکرم جناب عدنان عامر رضوی صاحب کی معرفت ،مبلغ اسلام، حضرت مولانا مفتی قاری محمد مجیب علی قادری رضوی نوری، علیہ الرحمہ کے وصال پرملال، اور دل کو ہلا دینے والی افسوسناس خبر موصول ہوئی،
انا للہ وانا الیه راجعون ، ہم اللہ کےمال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے (کنزالایمان)
موت العالِم موت العالَم ایک عالم ربانی کی موت، دنیا کی موت ہے۔
بلاشبہ حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ، امام اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہ کےسچے شیدائی، سنتوں کے بڑےپابند،عالم باعمل، عقائد و اعمال میں خوب متصلب، مسلک اعلی حضرت کے ایک بڑے داعی، اور اہل سنت وجماعت کے عظیم خطیب تھے، ملت اسلامیہ کی ترقی کے لئے ایک تڑپتا ہوا دل رکھتے تھے، اور تاحیات اسلام وسنت کی اشاعت کے لئے کوشاں رہے۔
حیدرآباد میں مرکز اہل سنت کا قیام، دارالعلوم فیض رضا، رضا جامع مسجد، مدرسۃ البنات فاطمہ وغیرہ وغیرہ ان کی بے لوث خدمات کا ثبوت اور بڑا کارنامہ ہے۔
حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ کے انتقال پر ہماری طرف سے آپ کو مع جملہ اہل خانہ اور مرکز اہل سنت وجماعت کے تمام ارکان و معانین کو تعزیت پیش ہے،
اللہ تعالی حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ کو غریق رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آپ کو اور تمام اہل خانہ ومتعلقین و مریدین و متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور اس پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ ملت اسلامیہ کو ان کا سچا جانشین اور نعم َالبدل عطا فرمائے۔ آمین ، بجاہ حبیبه سید المرسلین، علیه الصلوة والتسليم

احمد القادری رضوی نوری مصباحی
امام وخطیب نوری مسجدٹیکساس، امریکا
۲۸ ؍ذی قعدہ ۱۴۴۲ ھ

حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ، احمد القادری

مرشد حافظ ملت شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ‘
(ولادت ۲۲؍ ربیع الاخر۶۶ ۲اھ ؍ وصال ۱۱؍ رجب ۱۳۵۵ ھ)
احمد القادری بھیروی مصباحی

حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ ( ۱۳۰۴ ھ۱۸۹۴ء ؍ ۱۹۷۶ ء ۱۳۹۶ ھ)شیخ المشائخ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ ھ ؍ ۱۳۵۵ ھ ) کے دور طالب علمی ہی سے معتقد تھے، اسی عقیدت نے رفتہ رفتہ ترقی کرکے حافظ ملت کو حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہکے سلسلۂ بیعت وارادت میں داخل کردیا۔ اور دارالعلوم معینیہ عثمانیہ، اجمیر شریف کے زمانۂ طالب علمی میں حافظ ملت حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے دست مبارک پر سلسلۂ عالیہ قادریہ منوریہ میں بیعت ہوگئے۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ سے حضور غوث اعظم علیہ الرحمہ تک صرف چار واسطے ہیں (تفصیلی ذکر اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں) قلت وسائط اور علو سند میں دنیا کا کوئی سلسلۂ قادری اس سلسلۃ الذہب کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نے شوال ۱۳۵۲ھ میں دارالعلوم اشرفیہ کو بحیثیت صدرالمدرسین زینت بخشی، مبارکپور میں حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کا ورود مسعود قریباً ہر سال ہوا کرتا۔ حافظ ملت کے قیام مبارکپور کے دوران ایک بار حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کی آمد ہوئی تو انھوں نے حافظِ ملت کو خلافت دینا چاہی حافظ ملت کی منکسر ومتواضع طبیعت اور ’’خود راہیچ مداں‘‘ (اپنے کو کچھ مت سمجھو)والی عادت عرض کر اٹھی، حضور مجھ میں تو کچھ صلاحیت نہیں ہے خلافت کیسے لوں؟ جواباً حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہنے یہ امتیازی تمغہ عطا فرمایا ’’مرد حق را قابلیت شرط نیست‘‘ (مرد حق کے لئے قابلیت شرط نہیں)اور خلافت واجازت سے سرفراز فرمایا۔(بروایت استاذ محترم مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی)
حافظ ملت ہر سال جامع مسجد راجہ مبارک شاہ مبارکپور میں اپنے پیرومرشد علیہ الرحمہ کا عرس منایا کرتے، قرآن خوانی ، ایصال ثواب، اجلاس اور تقسیم تبرک کا اہتمام ہوتا اور آج بھی اسی روایت کے مطابق ۱۱؍رجب المرجب کو دن کے نصف اول میں یہ عرس وہیں منعقد ہوتا ہے جس میں اہل مبارک پور اشرفیہ کے علماء و طلبہ شریک ہوتے ہیں۔
نام ونسب: نام نامی اسم گرامی ’’علی حسین‘‘ کنیت ’’ابو احمد‘‘لقبِ خاندانی، شاہ، پیر ، شیخ المشائخ، اور اعلیٰ حضرت ہے خطاب سجادہ نشین سرکارِ کلاں اور تخلص اشرفی ہے اور جناب ممدوح کا خاندان بھی اشرفی کہلاتا ہے۔
شیخ المشائخ علیہ الرحمہ ۲۲؍ ربیع الاخر۶۶ ۲اھ بروز دو شنبہ بوقت صبح صادق پیدا ہوئے۔
آپ کا نسب: چوبیسویں پشت میں جاکر حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل جاتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے
حضرت مولانا سید شاہ علی حسین
(۱)ابن حاجی سید شاہ سعادت علی (متوفیٰ ۲۲؍ ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ)
(۲) ابن سید شاہ قلندر بخش
(۳)ابن سید شاہ تراب اشرف
(۴)ابن سید شاہ محمد نواز
(۵) ابن سید شاہ محمد غوث
(۶) ابن سید شاہ جمال الدین،
(۷)ابن سید شاہ عزیز الرحمن
(۸)ابن سید شاہ محمد عثمان
(۹) ابن سید شاہ ابوالفتح
(۱۰) ابن سید شاہ محمد
(۱۱) ابن سید شاہ محمد اشرف (متوفی ۹۱۰ھ)
(۱۲) ابن سید شاہ حسن (متوفیٰ۷۹۸ھ)
(۱۳)ابن سید شاہ عبدالرزاق نورالعین قدس سرہم (م ۸۷۲ھ مخدوم آفاق ، تاریخ وفات ہے) آپ حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں جن کی وفات ۸۰۸ھ میں ہوئی اور اشرف المومنین ، مادّۂ وفات ہے۔)
(۱۴)ابن سید عبدالغفور حسن
(۱۵) ابن سید ابوالعباس احمد
(۱۶) ابن سید بدرالدین حسن
(۱۷) ابن سید علاء الدین علی
(۱۸)ابن سید شمس الدین
(۱۹)ابن سید سیف الدین نجی
(۲۰) ابن سید ظہیرالدین احمد
(۲۱) ابن سید ابونصر محمد
(۲۲) ابن سید محمد الدین ابوصالح نصر
(۲۳) ابن قاضی القضاۃ سید تاج الدین خلف اکبر غوث الثقلین ،غیث الملوین
(۲۴) حضرت شیخ سید ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہم (م ۵۶۱ھ)
چونکہ شیخ المشائخ علیہ الرحمہ حضرت نورالعین قدس سرہ کے خلف اکبر سید شاہ حسن قدس سرہ کی اولاد سے ہیں اس لئے آپ کا خاندان سرکار کلاں یا بڑی سرکار سے بھی ملقب ہے۔
حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت سید شاہ سعادت علی علیہ الرحمہ بھی بہت قابل اور باکرامت بزرگ تھے۔ آپ سیدنا عبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمہ کی اولاد سے ہیں۔
جائے پیدائش: ضلع فیض آباد ۔ یوپی (ہندوستان ) کا مشہور قصبہ کچھوچھہ شریف آپ کی جائے ولادت ہے۔ یہ وہ مقدس و پاک سر زمین ہے جسے آج سے صدیوں پیشتر حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جائے قیام بنایا، اور قیامت تک کے لئے اپنا مسکن متعین فرمایا۔ اور اسے تمام اوہام واصنام سے پاک کر کے اپنا فیضان جاری فرمایا۔ جو بعد وفات بھی پورے ملک پر ویسے ہی جاری وساری ہے بلکہ اس سے فزوں ترجو حیات میں تھا۔ اس آستانۂ پاک پر امراضِ روحانی کی طرح آفات جسمانی اور سحر وآسیب سے بھی لوگ شفا یاب ہوتے ہیں۔ یہیں ہر سال ماہ محرم کی اٹھائیسویں تاریخ کو حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کا عرس مبارک بھی ہوتا ہے۔ جس میں ملک سے لاکھوں کی تعداد میں عوام وخواص ، اولیاء وصالحین، علماء ،طلبہ،امراء، وفقراء بھی شریک ہوتے اور فیض پاتے ہیں۔
(اگر چہ اس مبارک عرس میں بھی آج کل عوام کی طرف سےکچھ ایسی مذموم حرکتیں ہونے لگی ہیں جو خلافِ شرع اور سراسر ناجائز ہیں، مگر ان کی وجہ سے نفس عرس ناجائز نہیں ہوجائے گا، جیسے بعض شادی کی محفلوں میں بہت سے ناجائز امور کا ارتکاب ہوتاہے ، ان کی وجہ سے نفس نکاح ناجائز نہیں ہوجاتا )
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اکثر وبیشتر فرمایا کرتے تھے کہ:
’’جس وقت میں بارگاہ سمنانی میں حاضر ہوا(۱) اس وقت سے اتنا روحانی فیض پہونچا اور پہونچ رہا ہے جس کو بیا ن نہیں کرسکتا ۔
بچپن: حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ بچپن ہی سے نیک سیرت عمدہ خصلت کے حامل اور اپنے تمام ہم عصر بچوں میں ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔
علوم ظاہری کی تکمیل: جب آپ کا سن شریف چار برس چار ماہ چاردن کا ہوا تو معمول خاندان کے مطابق مولانا گل محمد صاحب خلیل آبادی نے جو بہت بڑے اہل دل عارف کامل اور خدا کے مقرب بندے تھے بسم اللہ کرائی۔ اس کے بعد مولانا امانت علی صاحب کچھوچھوی نے فارسی کی درسی کتابیں پڑھائیں۔ پھر مولوی سلامت علی صاحب گورکھپوری اور مولوی قادر بخش صاحب کچھوچھوی سے تعلیم پائی غرض کہ سولہ سال کی قلیل عمر میں تمام علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی۔
بیعت وخلافت: ۱۲۸۲ھ میں اپنے برادر معظم حضرت مولانا شاہ ابو محمد اشرف حسین صاحب علیہ الرحمہ سے بیعت ہوکر خلافت واجازت حاصل کی
عقد مسنون: ۱۲۸۵ ھ میں حضرت سید شاہ حمایت اشرف بسکھاری کی دختر نیک اختر سے آپ کی شادی ہوئی۔
علوم باطنی کی تکمیل: بیعت وخلافت حاصل ہونے کے بعد ۱۲۹۰ھ میں آپ نے کامل ایک سال آستانۂ عالیہ اشرفیہ پر حسب ارشاد مشائخ کرام تارک الدنیا ہوکر چلہ کشی فرمائی، اور منازلِ عرفان اس طرح طے فرمائے کہ آپ کی ذات بابرکات سے آثار جہاں گیری نمودار ہونے لگے، محبوب یزدانی مخدوم سلطان سیداشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز کی دعا اور نظر کرم سے اس خاندان میں بڑے بڑے جلیل القدر بزرگ پیدا ہوئے۔ لیکن ایسا آفتابِ رشدوہدایت طلوع نہیں ہوا جس نے سلسلۂ اشرفیہ کا نام اتنا روشن کیا ہو۔ حضرت شیخ المشائخ کو بلا شبہ سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کا مجدد اعظم کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان وہندوستان ہی نہیں بلکہ بلاد اسلامیہ (شام ، عراق، مصر، حلب وغیرہ) کے طویل سفر فرماکر سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اشاعت فرمائی۔ بے شمار افراد سلسلۂ ارادت میں منسلک ہوئے بتایا جاتا ہے کہ آپ جادۂ شریعت پر بڑی سختی سے گامزن تھے۔ اربابِ حاجت کی حاجت رفع کرنا آپ کا جِبِلّیِ شعار تھا۔ کوئی سائل آپ کے در سے محروم نہیں گیا۔ آپ کا دسترخوان ہمیشہ وسیع رہا۔ آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔
اہل کشف ومشاہدہ اور مشائخ کرام کا بیان ہے کہ آپ ہم شکل محبوب سبحانی تھے، برکات باطنیہ کے علاوہ جمال صورت سے بھی آراستہ تھے، جس کو دیکھ کر مخالفین بھی معتقد ہوجاتے تھے۔ اور ماننا پڑتا تھا کہ

یہی نقشہ ہے ،یہی رنگ ہے، ساماں ہے یہی
یہ جو صورت ہے تری ، صورت جاناں، ہے یہی

’’حضرت شیخ المشائخ‘‘ محدث بریلوی کی نظر میں
اس جگہ امام اہل سنت مجدد دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی ( ۱۲۷۲ ھ ؍ ۱۳۴۰ ھ) اور شیخ المشائخ علیہما الرحمہ کے مابین جو محبت وعقیدت تھی اس کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے صاحبزادہ محدث اعظم ہند سید حسن مثنی انور صاحب ماہنامہ المیزان کچھوچھہ میں رقمطراز ہیں۔
شیخ المشائخ جب شہر بریلی میں رونق افروز ہوئے تو وہیں امام احمد رضا فاضل بریلوی سے ملاقات ہوئی اور پھر سلسلہ دراز ہوتا ہی گیا۔ دونوں بزرگوں نے ایک دوسرے کو بہت قریب سے دیکھا اور مراتب علیا سے واقف ہوئے شیخ المشائخ امام موصوف کے تبحر علمی اور دینی فہم وبصیرت کے بہت معترف تھے۔ اسی طرح امام احمد رضا علیہ الرحمہ حضرت شیخ المشائخ کی مشیخت اور جمال ظاہری وباطنی نیز روحانی کمالات کے دلدادہ تھے۔ (المیزان)
ایک بار شیخ المشائخ ، حضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے اور فاضل بریلوی (رضی اللہ عنہ)بغرض فاتحہ جارہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر شیخ المشائخ پر پڑی دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الہی تھے۔ اسی وقت برجستہ یہ شعر کہا ؎

اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں

اس شعر میں سہ محبوباں سے مراد
(۱)حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء
(۲)حضرت محبوب یزدانی مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی
(۳)حضور غوث اعظم
محبوب سبحانی رضی اللہ عنہم ہیں۔
ایک زمانے میں اس شعر کی مقبولیت علم وادب کی دنیا میں اس قدر تھی کہ اکثر علماء وشعرا نے تضمینیں لکھی تھیں اور فکر وخیال کے مختلف النوع پہلو دکھائے تھے ان میں سے ایک تضمین جو اسی دور میں شائع ہوکر مقبول ہوچکی تھی حضور محدث اعظم ہندقدس سرہ (۱۳۱۱ھ ؍۱۳۸۳ھ) کی ہے اور دوسری تضمین جانشین حضور محدث اعظم ہند مولانا سید محمد مدنی اشرفی جیلانی کے فکر سخن کا نتیجہ ہے ان شعری تحائف سے بطور نمونہ ہدیۂ ناظرین ہے۔
تضمین حضور محدث اعظم ہند قدس سرہ
اے زہے مظہر اخلاق حبیب رحمٰں
اے گلے منظر نورستہ غوث جیلاں
اے خوشازیب وہ جادۂ شاہ سمناں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
مورے داتا مورے مہراج گرو مور میاں
جگ کا دیکھا مدا کچھ اور ہے بتیاں تو نہاں
توری مہما کا بکھانت ہیں رضا شیخ جہاں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
شہزادۂ حضور محدث اعظم ہند ، (شیخ الاسلام)حضرت مولانا سید محمد مدنی اختر اشرفی مصباحی کی تضمین کا آخری بند اور مقطع حاضر خدمت ہے۔
تیرا سر ناز کرے جس پہ کلاہ عرفاں
تیرا در، آکے جہاں خم ہو نعیمؔ ۲؎دوراں
تیرے بازو کہ زمانہ ہے رہین احساں
اشرفی اے ر خت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
سجادہ نشینی: ۲۸؍ محرم الحرام ۱۲۹۷ھ کو زینتِ سجادہ مشیخت ہوئے اور خرقۂ خاندان جو حضرت مخدوم اشرف قدس سرہ کا عطیہ ہے زیب تن فرمایا۔
زیارت حرمین شریفین: آپ نے چار حج کئے پہلا حج ۱۲۹۳ھ میں ادا کیا، اس حج میں دربار رسالت مآب ﷺ سے بعض نعمتیں خاص طور پر حاصل ہوئیں۔ پھر تیس سال بعد دوسرا حج ۱۳۲۳ھ میں ادا فرمایا، اس میں بعض اذکار واشغال کی اجازت بھی مشائخ حرمین شریفین سے حاصل ہوئی۔ تیسرا حج مبارک چھ سال بعد ۱۳۲۹ ھ میں ادا کیا بعد زیارت مدینہ منورہ طائف شریف ، بیت المقدس ، ودیگر مقامات عالیہ شام، مصر ، عامہ شریف حمص شریف میں حاضر ہوکر وہ وہ نعمتیں حاصل کیں جن کی تفصیل کے لئے ایک لمبی کتاب در کار ہے۔ آخری حج وزیارت سے ۱۳۵۴ھ میں شرف یاب ہوئے۔ اس مرتبہ مذکورہ بالا دیار میں صدہا علماء ومشائخ داخل سلسلہ ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔
اوراد و وظائف: شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے باطنی علوم اپنے برادر بزرگ زائر الحرمین سید شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائے۔ (جن کو علاوہ خاندان اشرفیہ کے تمام مشائخ ہم عصر سے فیض صوری ومعنوی حاصل تھا) شغل وجودیہ اور بعض اذکار مخصوصہ کی تعلیم حضرت سید شاہ عمادالدین اشرف اشرفی عرف لکڑ شاہ کچھوچھوی قدس سرہ سے حاصل کی۔ حضرت لکڑ شاہ صاحب خاندان اشرفیہ میں مشاہیر مشائخ سے گذرے ہیں۔ اسی طرح دیگر اوراد و وظائف کی اجازت اکثر علماء ومشائخ ہند سے حاصل فرمائی۔ چنانچہ حضرت میاں راج شاہ صاحب (ساکن سوندھ شریف ضلع گڑگانواں پنجاب متوفی ۱۲؍ رمضان ۱۳۰۶ھ ) نے سلسلۂ قادریہ زاہدیہ کے ساتھ سلطان الاذکار ودیگر اشغال مخصوصہ کی اجازت دی اور ایک ’’دُوَنّی‘‘ عطا فرمائی۔
سلسلۃ الذہب: مولانا شاہ محمد امیر کابلی نے سلسلۂ قادریہ منوریہ کی اجازت سے نوازا، اس سلسلہ کو سلسلۃ الذہب کہتے ہیں جو عرفی طور سے چار واسطوں سے حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہونچتا ہے یعنی شیخ المشائخ کو حضرت شاہ محمد امیر کابلی سے ان کو حضرت ملا اخون رامپوری سے ان کو حضرت شاہ منورالہ آبادی سے جن کی عمر ساڑھے پانچ سو برس کی ہوئی ان کو حضرت شاہ دولا قدس سرہ سے ان کو حضور غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی سے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
اسی طرح سلسلۂ اویسیہ اشرفیہ کی تعلیم حضرت سید محمد حسن غازی پوری سے حاصل ہوئی ان کو شاہ باسط علی قادری سے ان کو شاہ عبدالعلیم بھیروی سے ان کو شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ (متولی آستانہ بھیرہ ضلع اعظم گڑھ مدفون لہرا، مبارکپور) علیہ الرحمہ سے ان کو حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ سے ان کو خود حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے۔
خلافت سلسلۂ برکاتیہ: ان کےعلاوہ بہت سے اذکار واشغال کی اجازت حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی، آپ نے پھر کسی کو خلافت و اجازت نہیں بخشی، آپ ان کے خاتم الخلفاء ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر نعمات وبرکات مختلف واسطوں سے آپ کو حاصل ہوئیں ان کی تفصیل بہت طویل ہے مختصر یہ کہ آپ کی ذات جامع صفات وحسناتِ مشائخ کبار واکابر دیار وامصار کی نعمتوں اور سلاسل مختلفہ متعددہ کی برکتوں کا خزینہ ہے۔
ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ
تبلیغ اسلام: آپ نے تبلیغ اسلام کا بہت بڑا کام انجام دیا لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صراط مستقیم پر گامزن فرمایا اور روحانی فیض پہونچایا۔ آپ کی تقریر نہایت مؤثر ہوتی تھی۔ مواعظ میں جس انداز سے آپ مثنوی پڑھتے وہ بے نظیر تھا۔ ساتھ ہی بہت سی مسجدوں ، اور مدرسوں کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دم تک اس کے تحفظ وبقا کے لئے کوشاں رہے۔ مثلاً مدرسہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد اعظم گڑھ، مدرسہ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ، اسی طرح بہت سے مدارس قائم فرمائے۔یہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مایۂ ناز درسگاہ دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کا سنگ بنیاد انھیں کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا اور پوری عمر دارالعلوم کو اپنی روحانی عظمتوں سے فیض پہونچایا۔اس وقت سے لے کر آخر عمر تک آپ نے دارالعلوم اشرفیہ کی سر پرستی قبول فرمائی۔ اس ادارہ کی تمام خدمات آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔
نمونۂ کلام اشرفی: شیخ المشائخ کا دربار میکدۂ عرفان وآگہی بھی تھا جہاں بادہ گساران طریقت کا ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا۔ متقدمین صوفیہ کی روش پر فارسی، اردو، ہندی، میں فکر سخن بھی فرماتے تھے۔ آپ کے محبوب مرید اور مشہور مبلغ اسلام، میر غلام بھیک نیرنگ، وکیل انبالہ نے دیوان عرفان ترجمان کا مجموعہ بنام تحائف اشرفی ۱۳۳۳ھ میں مرتب کرکے شائع کیا۔ سبحان اللہ کیا کلام عرفان نظام ہے ایک ایک لفظ اثر میں ڈوبا ہوا، زبان شیریں،بیان رنگیں، مگربایں ہمہ تصنع سے مبرا، تکلف سے معرا ہے۔ عندلیبان گلشن قال کے زمزمے کچھ اور ہوتے ہیں بلبلان حال کے چہچہے کچھ اور ، وہاں زیادہ تر قوا ئے عقلیہ سے خطاب ہوتا ہے یہاں سراسر قلب وروح کی جانب توجہ، وہاں اصول بلاغت کی پابندی میںکوہ کندن وکاہ برآوردن ہوتا ہے یہاں باتباع سنت، وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ ، کوئی کہلاتا ہے، تو کہتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں نتیجہ یہ کہ۔؎
شعر می گویم بہ از آب حیات
من ندانم فا علاتن فاعلات
اب یہاں فارسی، اردو، اور ہندی اشعار کے ایک ایک نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔
کلام فارسی
عمر ہا جلوۂ او جست نگاہم پیدا
کرد آئینۂ دل ، صورت ماہم پیدا
کعبہ و دیر زآوار گیم تنگ آمد
نیست در عشق، مگر جائے پنا ہم پیدا
مگذار از رہِ الطاف کہ ایں شیوۂ تست
گرچہ صد فتنہ نمایند گنا ہم پیدا
حال بیتابی دل از من بیمار مپرس
کہ شرر ہا شود از سوزش آہم پیدا
فشم گریاں دل سوزاں رخ زرد وتن زار
در رہِ عشق تو گشتند گو اہم پیدا
اشرفی ذلت ورسوائی کوئے خوباں
کرد در ہر دو جہاں عزت وجا ہم پیدا
کلام اردو
چشم جاناں ہے شبیہِ چشم آہو، ہوٗ بہو
عنبریں ہیں کاکلیں شب رنگ کے موٗ موٗ بمو
مست ہوگا ایک عالم مثل آہوئے ختن
اے صبا مت کر پریشاں بوئے گیسو، مو بسوٗ
عشق سر وقد جاناں میں ہے عاشق کا یہ رنگ
کررہا ہے فاختہ کی مثل کوٗ کوٗ کوٗ بہ کوٗ
قتل کاگر ہے ارادہ دیر کیوں کرتے ہیں آپ
دیکھئے موجود ہے یہ تیغ ابروٗ رو بروٗ
اشرفی اللہ سمجھے ان بتوں کے ظلم سے
آنکھ دکھلانے ہی میں کرتے ہیں جادو دو بدوٗ
کلام ہندی
یہ کلام ہندی مکہ معظمہ میں ۱۲۹۴ھ سفراول میںکہا گیا تھا۔
درشن بنا من کیسے مانے داتا کے گھر جائے من کیسے مانے
نرگن جان پیاہیں چتوت جیا مورا جات لجائے۔ من کیسے مانے
گنونتی درشن مدھ ماتی دھن بوری پچھتائے۔ من کیسے مانے
سائیں مونہہ نراس جن پھیرو اپنے دوار بلائے من کیسے مانے
راہ تمہارا اشرفی جو ہت تمپر دھیان لگائے۔
وفات: ۱۱؍رجب ۱۳۵۵ ھ کو ہزاروں حاضرین آپ کے ساتھ ذکر جہر میں شریک تھے، کہ آپ نے کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے نوے سال کی عمر میں جان ، جان آفریں کے حوالے کردی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مریدین وخلفاء وصال کے وقت آپ کے ۲۳لاکھ مریدین اور ساڑھے تیرہ سو خلفاء تھے۔
مزار مبارک کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد میں حضرت مخدوم علیہ الرحمہ کے روضۂ پاک کے قریب ایک چبوترے پر واقع ہے۔ جہاں اہل دل حاضر ہوکر فیوض وبرکات حاصل کرتے ہیں۔
اولاد وامجاد: اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں اپنے اولیاء کاملین کو ہر قسم کے علم وفضل سے نوازتا ہے، اسی کے ساتھ ان کی ہر طرح سے آزمائش وابتلا فرماتا ہے، کبھی افعال وکردار سے، کبھی مصیبتوں اور مشقتوں میں صبر سے کبھی ازواج و اولاد کی موت سے غرض کہ جس طرح خداوند کریم چاہتا ہے آزماتا ہے۔
اسی طرح شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کو جہاں بہت سی مصیبتوں اور مشقتوں کو برداشت کرنا پڑا ساتھ ہی اپنی پہلی زوجہ محترمہ جو بہت نیک طینت اور پاکیزہ صفات کی حامل تھیں، اور اپنے جوان بیٹے کی موت بھی دیکھنی پڑی مگر آپ کے پائے استقلال ، اور صبر وشکر میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔
سید احمد اشرف علیہ الرحمہ:پہلی بیوی سے ایک فرزند تولدہوئے جن کا نام نامی سید احمد اشرف ہے۔ آپ کی ولادت طیبہ ۴؍شوال المکرم ۱۲۸۶ ھ بروز جمعہ ہوئی، مولانا ابوالمحمود سید شاہ احمد اشرف ، مادہ تاریخ ولادت ہے۔ آپ جہاں ظاہری شکل وصورت میں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے وہیںباطنی کمالات میں بھی انھیں کے جانشین تھے۔۱۳۴۳ ھ میں وصال فرمایا۔ موجودہ سجادہ نشین سرکار کلاں حضرت مولانا سید مختار اشرف صاحب قبلہ انھیں کے صاحب زادے ہیں۔ آپ کے دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ مصطفی اشرف علیہ الرحمہ ہیں۔ آپ ذیقعدہ ۱۳۱۱ ھ میںپیدا ہوئے اور ۱۷؍ربیع الاول ۱۳۹۱ھ میں رحلت فرماگئے حضرت کے دو مشہور صاحبزادے حضرت مولانا سید مجتبیٰ اشرف (۳؎)اور حضرت مولانا سید حامد اشرف صاحبان (۴؎) ہیں، یہ دونوں حضرات حضور حافظ ملت کے ممتاز شاگردوں میں ہیں۔ اول الذکر تبلیغ وارشاد میں ممتاز اور آخرالذکر بمبئی کی سر زمین پر دارالعلوم محمدیہ کے مؤسس ومحرک اور شیخ الحدیث ہیں۔
حضرت شیخ المشائخ اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی شفقتیں جو حضور حافظ ملت پر تھیں اس کا واضح ثبوت آج بھی ان کے شہزادوں میں موجود ہے۔ حافظ ملت عمر بھر اپنے مرشد کامل کے وفادار رہے اور اس خانوادہ ٔمقدسہ کے ایک ایک بچہ سے اپنی گہری وابستگی اور دلی تعلق کا ثبوت موجود ہ دور میں علمائے کچھوچھہ شریف کی نوجوان نسل ہے۔
(بحوالہ صحائف اشرفی ، تحائف اشرفی وغیرہ)
حواشی
(۱ )اس حاضری کی تقریب یوں ہے کہ غالباً ۱۳۹۲ھ ؍۱۹۷۲ء میں قصبہ کچھوچھہ شریف کےکچھ لوگوں نےحافظ ملت علیہ الرحمہ کوایک اجلاس کی دعوت دی، حضرت نےدعوت منظور فرمائی اورکچھوچھہ شریف میں جلسہ کا اعلان ہوگیا، پھرکسی وجہ سے جلسہ منسوخ ہوگیا،منتظمین نےمبارک پور اجلاس کی منسوخی کا ٹیلی گرام کیا مگر حافظ ملت سفرپرتھے اورسفر سے واپسی میں براہ راست کچھوچھہ شریف پہنچ گئے۔مگر منتظمین جلسہ کچھ اونچے لوگوں کےدباؤمیں تھے، تیار نہ ہوئے، بسکھاری میں حضرت مولاناسید ظفرالدین اشرف صاحب،سجادہ نشین ومتولی آستانۂ مخدوم سمنانی کومعلوم ہواتو وہ حضرت کواپنے گھر لے گئے اوردوسرے دن کچھوچھہ شریف میں خاص آستانۂ مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ پر حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی تقریر کرائی اور بعد تقریر ایک صالح مرد حضرت کےدست اقدس پربیعت ہوئے جوآستانہ پاک کی مسجد میں معتکف تھے۔ اس کےبعد حضرت مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ کافیض کچھ اس طرح جاری ہوا کہ حافظ ملت علیہ الرحمہ جہاں پہنچتے بکثرت حضرات داخل سلسلہ ہونے کےلیےٹوٹ پڑتے اورآستانہ کے زینہ پر توبیک وقت سیکڑوں کی تعداد میں لوگ بیعت ہوئے باوجودیکہ لوگوں کواس کےلیے آمادہ بھی نہ کیاجاتا ،بلکہ حضرت تواس طرح کی اپیل کےسخت مخالف تھے، چنانچہ بہار کے کوٹام نامی ایک مقام پر بعض مخلصین نے اجلاس میں حافظ ملت سے مرید ہونے کی طرف لوگوں کومتوجہ کیا اس وقت حافظ ملت اپنی تقریر ختم کرکے قیام گاہ تشریف لے جارہے تھے یہ آواز سنی توراستہ سے واپس ہوئے اورمائک پرآکر بڑے جلال میں ارشاد فرمایاکہ میں کوئی پیشہ ور پیر نہیں، نہ ہی اپنی پیری مریدی کےلیےاس طرح کی اپیل پسند کرتاہوں، یہ میرا کوئی کاروبار نہیں، میرے لیےاس طرح کااعلان ہرگز نہیں ہونا چاہیے مگر فیضان مخدوم سمنانی کو کون روک سکتاہے اسی کوٹام نامی مقام پر قریباً ڈیڑھ سو افراد حافظ ملت علیہ الرحمہ کےدست پاک پر تائب ہوکر داخل سلسلہ ہوئے والحمدللہ رب العالمین۔
(بروایت حضرت مولانامحمداحمد صاحب مصباحی بھیروی)
[مطبوعہ،حافظ ملت نمبر ،ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور، رجب، شعبان، رمضان ۱۳۹۸ ھ جون جولائی اگست ۱۹۷۸ ء]
(۲) نعیم دوراں: صدر الافاضل، حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ (ولادت ۲۱ صفر ۱۳۰۰ھ ، یکم جنوری ۱۸۸۳ء پیر ؍ وفات: ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۶۷ ھ ۲۳ ؍اکتوبر ۱۹۴۸ ء جمعہ)
(۳) حضرت مولانا مجتبیٰ اشرف علیہ الرحمہ ( آپ کی ولادت ، ۲۶؍ ربیع الاخر ۱۳۴۶ھ مطابق ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو کچھوچھہ شریف میں ہوئی۔ اور ۲۱؍ ذی القعدہ ۱۴۱۸ھ مطابق ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۸ء بروز جمعہ ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے)
(۴)حضرت مولانا حامد اشرف علیہ الرحمہ (ولادت ۱۳۴۹ھ ۱۱ جولائی ۱۹۳۰ ء ؍ متوفیٰ ۱۸ ؍ صفر ۱۴۲۵ ھ ۹ ؍اپریل ۲۰۰۴ ء بروز جمعہ)

احمد القادری
الاسلامی۔نیٹ
www.al islami.net (AL ISLAMI.NET)

مولاناشاہ ابوالخیر بھیروی علیہ الرحمہ، احمد القادری
بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ، نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہ الْکَرِیم

حضرت مولانا شاہ ابو الخیر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ
ولادت ۱۰۰۸ ھ وصال ۱۱ ؍شوال ۱۰۵۹ ھ

مولانا ابو الخیر علیہ الرحمہ کا شمار ان بز رگان ِ ہند میں ہوتا ہے جن کے علم وفضل ، زہد و تقویٰ ، طہار ت و پاکیز گی اور رشد و ہدایت سے ایک عالم فیضاب ہوا ۔ جن کی جہاں تاب کرنوں سے ہزاروں گم گشتہ راہوں نے راہ راست پائی ۔ا ور جادۂ مستقیم پر گامزن ہوئے۔
حضرت شاہ شمس الدین حیدری اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’مناقب غوثی ‘‘۱؎ میں ان کی مدح سرائی ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔
آں کاشف اسرار دقائق وآں واقف اشارات حقائق ، آں ممتاز بخلعت ’’ اَوْلیاِئُ اُمّتی کَاَنبیاء ِ بَنِی اِسْرائیل‘‘ آں سرفراز بمناصب ’’العلماء ورثۃ الانبیاء ِ ‘‘بے قیل وقال آں سالک مقامات تجریدآں مستغرق مشاہد ات توحید ، مصفا از آلائش غیر ۔ وے جد کلاں حضرت مرشد حقیقی (مولانا ابو الغوث گرم دیوان شاہ است )شانے عظیم و حالے قوی ونفسے بابرکت تصرفے کامل داشت۔ انوار صلاحیت وآثار عروج مدارجات از بشر مبارک اوتاباں ۔
وہ باریک رازو ں کے کھولنے والے حقائق کے اشاروں کے واقف کار ، حدیث پاک [میری امت کے اولیاء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں] کی خلعت سے ممتاز ، حدیث پاک[علما ابنیاء کے وارث ہیں ] کے منصب سے سرفراز بے چون وچرا مقامات تجرید پر چلنے والے ، توحید کے مشاہدوںمیں مستغرق اور غیر کی الآئش سے پاک وصاف تھے وہ مرشد حقیقی (حضرت مولانا ابو الغوث گرم دیوان شاہ )کے دادا ہیں۔ بڑی شان ، قوی حال ، بابرکت نفس اور پورا پورا تصرف رکھتے تھے صلاحیت و آثارکی کرنیں اور مدارج کی سربلندیاں ان کے روئے مبارک سے تابندہ تھیں۔
اس اعتبار سے آپ کی خصوصیات اور بڑھ جاتی ہے ۔ آپ کے آباؤاجداد سے لے کر اولاد واخلاف تک ہر ایک اپنی جگہ رشد وہدایت کا آفتاب و ماہتاب نظر آتا ہے۔
آپ خالص عربی النسل اورقریشی ہیں ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چوبیسویںپشت میں جاکر خلیفۂ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مل جاتا ہے ۔ جو ذیل کے نسب نامہ سے ظاہر ہے۔
سلسلۂ نسب :
شاہ ابو الخیر
ابن شاہ ابو سعید
ا بن شیخ معروف ثانی
ا بن شیخ عثمان
ا بن شیخ محمد ماہ
ابن شیخ چاند
ابن شیخ معروف اول
ا بن شیخ مشید
ابن شیخ محمد مخدوم
ابن شیخ خضر محمد
ا بن شیخ غیاث الدین
ابن شیخ تاج الدین
ا بن شیخ عزالدین
ا بن شیخ نعمان
ا بن شیخ فرخ شاہ
بن شیخ مسعود
ابن شیخ واعظ الاصغر
ابن شیخ واعظ الاکبر
ابن شیخ ابو الفتح
ا بن شیخ اسحٰق
ابن شیخ ابراہیم
ابن حضرت ناصر شاہ
ابن حضرت عبداﷲ
ابن حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہم (مناقب غوثی)
جائے پیدائش:
ضلع اعظم گڈھ یوپی کا مشہور صنعتی گائوں آستانۂ بھیرہ کو آپ کی جائے پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ اعظم گڈھ شہر سے قریباً پچیس کلومیٹر پورب اور تحصیل محمد آباد گوہنہ سے دو کلو میٹر اتر دریائے ٹونس کے کنارے آباد ہے۔ دریائے ٹونس اس آبادی کے اطراف کو گھیر کر پر فضا اور راحت بخش بناتا ہے۔
مشرق و مغرب میں اس کا طول البلد ۸۳ درجہ ۱۸ دقیقہ اور شمالی و جنوب میں عرض البلد ۲۶ درجہ ۶ دقیقہ ہے۔
اس کے آباد ہونے کی صحیح تاریخ کا پتہ نہیں چلتا۔ البتہ آثار و قرائن اور تاریخ سے اتنا ضرور پتہ لگتا ہے کہ آج سے چھ سو سال قبل ۸۰۰ھ میں ’’آستانۂ بھیرہ‘‘ آباد تھا۔ اور اسی قریبی زمانہ میں ابراہیم شاہ شرقی (زمانۂ حکومت ۸۰۴ھ تا ۸۴۴ھ) سلطان جونپور کی جانب سے شیخ مشید کو اسے بطور جاگیر دیا گیا تھا۔ پھر ان کا خاندان جونپور سے منتقل ہو کر آستانہ بھیرہ مستقل طور پر آباد ہو گیا۔ یہیں سے اس کی تاریخ کتابوں میں ملتی ہے۔
’’دیارِ پورب میں علم اور علماء‘‘ میں یہ بھی ملتا ہے کہ دیارِ پورب میں (جو لکھنؤ، فیض آباد، جونپور، اعظم گڈھ وغیرہ علاقوں کو شامل ہے) سب سے پہلا مدرسہ بھیرہ، ضلع اعظم گڈھ میں قائم ہوا۔
البتہ یہاں کے بزرگوں اور شیوخ سے اس کے آباد ہونے کی ایک روایت نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچتی ہے۔ کہ کسی زمانہ میں دو بزرگ سفر کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچے۔ اس زمانہ میں یہ علاقہ ایک گنجان جنگل کی شکل میں تھا انہیں یہ جگہ فرحت بخش معلوم ہوئی۔ سکونت کا ارادہ ہو گیا۔ پانی کی تلاش میں نکلے۔ سامنے انہیں ایک بھیگا ہوا کتا دکھائی پڑا ،اب انہیں قریب میں کہیں پانی ہونے کا یقین ہو گیا، کچھ دور جاکر جھاڑیوں کے بیچ صاف شفاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر بہتی نظر آئی جو آج ’’ٹونس ندی‘‘ کے نام سے اس علاقے کو سیراب کرتی ہے۔ دیکھتے ہی ان کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی اور انہوں نے گوشہ نشین ہو کر عبادت الٰہی کے لئے یہ جگہ پسند فرمالی۔ اور مستقل طور پر یہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ بعد میں چل کر یہیں جگہ رفتہ رفتہ آبادی میں تبدیل ہو گئی۔ سلطان پور نام پڑا۔ لیکن گردش لیل و نہار نے اسے مٹا کر ’’بھیرہ‘‘ مشہور کر دیا۔ ۲؎
خاندانی حالات: حضرت شیخ خضر محمد فاروقی علیہ الرحمہ جنھوں نے دہلی کو اپنے ورودِ مسعود سے سرفراز فرمایا۔ شیخ الشیوخ حضرت رکن الدین عالم ملتانی (متوفیٰ ۷۳۵ھ) کے خلیفہ تھے۔ ان کا مزار مبارک دہلی میں مرجع خلائق ہے۔
ان کے فرزند حضرت مخدوم شیخ محمد علیہ الرحمہ کو پدر بزرگوار ہی سے اجازت و خلافت حاصل تھی، والد محترم کے وصال کے بعدکسی وجہ سےخاطر برداشتہ ہوکر دہلی سے جونپور منتقل ہوگئے ۔ اور وہاں کے کسی ویرانہ میں درخت کے نیچے قیام پذیر ہو گئے ۔کچھ دنو ںبعد موسم برسات آگیا ۔ لیکن بہت دنوں تک بارش نہیں ہوئی قحط پڑ گیا ۔ سلطانِ وقت، ابراہیم شاہ شرقی کے پاس رعایا خشک سالی کی شکایت لے کرحاضرہوئی ۔ خود سلطا ن بھی اس سلسلے میں بڑ ےمتفکر تھے، اس وقت کے بزرگان ِ دین اور دریشوں سے دعا کی درخواست کی ۔ ایک روشن ضمیر مجذوب نے فرمایا۔( جن کی کرامتوں سے سلطان خود ان کےبڑے معتقد تھے)۔اے بادشاہ !خدا کا ایک برگزیدہ ولی ، عمارت و مکان کے بغیر درخت کے سایہ میںقیام پذیر ہے ۔تو بارش کیسے ہو؟ اس کو تکلیف پہونچے گی۔
سلطان نے اس فقیر کی تلاش شروع کرائی ۔ لوگوں نے ان کا روئے مبارک دیکھ کر جس سے ولایت کے انوار درخشاں تھے پہچان لیا ۔ سلطان نے خود دست بستہ حاضرِ بارگاہ ہوکر وہاں عمارت بنانے کی درخواست پیش کی ،لیکن وہ درخواست قبول نہ ہوئی ،انجام کار بہ ہزار منت ایک چھپر ڈالنے پر راضی کرلیا ۔ جب چھپر تیار ہوگیا ۔ رخصت مانگ کر سلطان محل کی جانب روانہ ہوئے، راستہ ہی میں تھے،کہ زوردار بارش شروع ہو گئی ۔ بڑی مشکل سے وہ اپنے محل تک پہونچے۔
اس کرامت سے سلطان اورسبھی ارکان دولت بڑے متاثر ہوئے اور دل سے ان کی بزرگی وولایت کے معترف ہو گئے ۔ اکثر سلطان ان کی بارگاہ میں حاضری دیتے،ہرطرف سے خلق خدانیاز حاصل کرنے ان کی بار گاہ میں حاضر ہونے لگی ۔ ہرقسم کے لوگ ان کی بارگاہ میں عجز و نیاز اور اخلاص کے ساتھ پیش آنے لگے ۔ اور ان کا شہرہ دور، دور تک پہونچ گیا ، یہاں تک کہ شہرکے دوسرے مشاہیر کاچرچا کم ہوگیا۔
شیخ سدو کو جو اُس وقت گروہ مشاہیر کاسردار تھا ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پسند نہ آئی ۔ حسد کی آگ، اس کے دل میں جلنے لگی اور ان کی عزت کم کرنے کی فکر میں لگ گیاتا ہم ،زبان سے کچھ نہ کہہ سکا ۔
ایک دن ایک گوالے کی عورت دودھ لے کر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اوردود ھ قبول کرنے کی التجا کی اور کہاکہ اگر قبول فرمائیں تو بقدر استعداد روزانہ بارگاہ میں دودھ پہونچاتی رہوں گی،قدرے تأمل کے بعد آپ نے فرمایا تو قومِ ہنود سے ہے جو ہمارے دین و مذہب کے برخلاف ہے۔ اگر اپنے افعال اور مذہب سے تائب ہوکر دین محمدی( ﷺ) قبول کرلے تو مضائقہ نہیں ۔ وہ بوڑھی عورت ان کے جمال نورانی پر دل سے شیفتہ تھی فوراًکلمۂ شہادت پڑھ کر داخلِ اسلام ہوگئی ۔ کچھ دنوں تک روزانہ بدستور دودھ لاتی رہی ۔ اتفاقاً اس کو مرض الموت لاحق ہو گیا اوراس جہاں سے کوچ کر گئی۔
چونکہ وہ اپنے متعلقین اوراہل خانہ سے پہلے طریقہ پرملتی جلتی تھی سب نے اس کو اپنی رسم کے مطابق جلانا چاہا ۔ یہ خبر حضرت کی خدمت میں پہونچی ۔خادموں سے فرمایا کہ جاکر اس کے متعلقین کوجلانے سے روکو اور کہو کہ وہ مسلمان ہے مسلمانوں کے طریقہ پر تجہیز و تکفین ہونا چاہئے۔انہوں نے مخالفت کی اور اس پرراضی نہ ہوئے ۔ معاملہ بڑھ گیا ۔ اورقاضی شہر تک مقدمہ پہونچا ۔ قاضی نے اس کا ثبوتِ اسلام، دو گواہوں کی شہادت پرموقوف کیا۔ حضرت نے فرمایا بات بڑھانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ مردہ اگر خود اپنے مسلمان ہونے کی گواہی دے دے توکیا ہی بہتر ہو۔ سب حاضرین نے یہ عجیب و غریب دعویٰ بڑا پسند کیا۔ حضرت نے خود اس کے جنازہ کے نزدیک کھڑے ہوکر کہا ۔ اے مسلمان ! اگر تو اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق کردے اورکلمہ ٔ شہادت اپنی زبان پرجاری کرلے ،تو مخلوق کو تیرے مسلمان ہونے کایقین ہوجائے کہ تو مسلمان ہے۔ اس عورت نے اپنا سرکفن سے نکالا اور[الحمد للہ ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ]پڑھ کر پھر اپنا سرکفن میں ڈال لیا ۔ حضرت نے باجماعت نماز جنازہ ادا کرکے شریعت کے مطابق دفن کردیا۔
اس عجیب وغریب کرامت کے ظہور سے پورے شہراور اطراف و جوانب میں غلغلہ بلند ہوا ۔ سلطان تمام خواص وخدام کے ساتھ اکثر آستانہ پرحاضری دیتے۔
شیخ سدو کی شیخی کابازار بڑا خراب ہوگیا۔ اس کی آتش حسد بھڑک اٹھی ان کی دشمنی پرکمربستہ ہوگیا۔ جب نقصان پہونچا نے کا کوئی چارہ نہیںدیکھااور کوئی تدبیرکارگرنہیں ہوسکی تو اس نے زبانی اخلاص کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھایا ۔ اس نے اپنی لڑکی کے رشتے کے لئے ان کے فرزند حضرت شیخ مشید کاانتخاب کیا اور بڑی لجاجت سے باربار درخواست کی، حضرت نے آخرکار اس کی درخواست بیٹے کے حق میں قبول کر لی۔ جب شیخ سدّو کی بیٹی ان کے حرم میں داخل ہوئی تواس کو آپ پرقابو پانے کی ایک راہ ہاتھ آگئی ۔ اس نے اپنی ایک ہمراز دایہ ، بیٹی کے ساتھ لگادی ۔
ایک دن اس نے دایہ سے حضرت کے معمولات پوچھے اس نے بتایا کہ جمعہ کے دن نماز کے لئے جاتے وقت مجھ سے تیل مانگ کر چند قطرے اپنے کان میں ڈالتے ہیں ۔ یہ سن کر اس نے تھوڑا سا تیل دیا اورکہاکہ معمول کے مطابق جب تم سے تیل مانگیں تویہی دے دینا ۔ اس کی وجہ سے تمام متعلقین وخدام سے زیادہ تمہاری محبت ان کے دل میں بیٹھ جائے گی ۔ وہ نا قص العقل اس کے فریب کو نہ سمجھ سکی ، اس کے کہنے کے مطابق کیا ،جوں ہی حضرت نے وہ تیل کان میں ڈالا ، بے ساختہ زبانِ مبارک سے نکلا ’’ تیرسدوکارشد ‘‘ رضینا بقضاء اللہ تعالیٰ ‘‘ سدوکاتیرکار کرگیا۔ ( ہم اللہ تعالیٰ کی قضاسے راضی ہیں ) مرض بڑھ گیا اورتیسری جمادی الاولیٰ کومحبوب حقیقی سے جا ملے۔
سلطان تعزیت کے لئے آئے اورشیخ مشیدعلیہ الرحمہ کو ان کا جانشین بنایا، بکمال نیاز مندی آستانہ بھیرہ کودیگر موضعات کے ساتھ جاگیر کردیا ۔
شیخ مشید ،شیخ معروف ،شیخ چاند ، شیخ محمد ماہ، شیخ عثمان ، شیخ معروف ، ثانی شیخ ابوسعید (رحمۃ اللہ علیہم)تمام حضرات اولیاء کاملین سے تھے ۔
ولادت:
شاہ ابوالخیر قدس سرہ ، نورالدین محمد جہانگیر کے عہد سلطنت ۱۰۰۸ ھ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا نام ان کی ولادت سے بہت پہلے ان کے والد کی ولادت کے دن ہی رکھ دیا گیا تھا ۔ واقعہ یوں ہے کہ جس دن ان کے والد کی ولادت ہوئی ان کے داداحضرت شیخ معروف ثانی قدس سرہ کوخبرکی گئی، حضرت شیخعلیہ الرحمہ اس وقت کسی کتاب کامطالعہ کررہے تھے۔ فرزند کانام معلوم کرنے کے لئے کتاب میں غور کرنے لگے ۔ نام نکلا ابوسعید ، ابو الخیرفرمایا کہ اس کا نام ابو سعید ہے۔ حق تعالیٰ اسے ایک فرزند عطا فرمائے گا ۔ اس کانام ابو الخیر ہوگا ۔
حالات:
تھوڑی ہی مدت میں علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرکے زبردست عالم ِزمانہ ہوگئے ۔ علم ظاہر کے ساتھ علم باطن کے بھی حامل تھے ۔ ہمیشہ صلاح و تقویٰ کے پابند ہے ۔ میر سید شیرمحمد برہان پوری قدس سرہٗ کے مرید تھے ۔ شہاب الدین محمد شاہجہاں کے اوائل عہد سلطنت میں دہلی کے اند رتشریف ارزانی رکھتے تھے ، شاہ ابو الخیر کے علم و بزرگی کاآوازہ ، دور،دور تک جاپہونچا تھا،امیر الامراء نواب شائستہ خاں دہلی میں حضرت کی آمد سے بہت مسرورہوئے۔اور ان کے نزول اجلال کوخاص انعا م الہی سمجھتے ہوئے بڑی عقیدت کے ساتھ، وقت فرصت پابندی سے ان کی خدمت میں بیٹھتے، احادیث ،تفسیر ، صوفیائے کرام کے رموز واشارات اور اصطلاحات ان سے سیکھتے۔ امیر الامراء نے ان کی خدمت میں اپنی تندہی اوران سے حسن اعتقاد کے باعث شاہجہاں بادشاہ کوبھی مشتاق ملاقات بنادیا ۔بادشاہ حاضر بارگاہ ہوکر ملاقات سے بہت خوش ہوئے ۔ نواب شائشتہ خاں کے مشورہ پرسلطان اکثردرخواست کیا کرتے تھے ۔ کہ کوئی منصب یابطورنذر کچھ دیہات قبول فرمائیں، مگر حضرت شیخ نے کبھی التفات نہ فرمایا ۔ لیکن بعض حضرات جو شیخ سے کوئی رشتہ رکھتے تھے اپنے تعارف میں اسی کو ذریعہ بناکر بادشاہ تک پہونچے اور وہاں امتیازی حیثیت حاصل کی ۔
ترک دنیا اورشان استغنا کاسبب یوں پیداہوا ،کہ سلطان (شاہجہاں)ایک دن حضرت شیخ کے پیرومرشد شاہ میرقدس سرہٗ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے ۔ حضرت میر اس وقت سیالکوٹ میں مقیم تھے ۔ اور حضرت شاہ ابوالخیر علیہ الرحمہ بھی اس وقت ساتھ تھے ۔ سلطان نے کچھ نقد حضرت شاہ میرکی خدمت میں بطور نذر پیش کیا ،قبول نہ فرمایا۔ جب سلطان نے بہت اصرارکیاتو انہوں نے حضرت شیخ ابو الخیر کی طرف اشارہ کیا ، کہ اس ہدیہ کے مستحق یہ ہیں کہ جنہوں نے طرح طرح کی مشقتوں سے علم حاصل کرکے اسے آبرو ئے بیجا کی خاطر صرف کرتے ہیں ۔ یہ بات کمال ِ غیرت سے حضرت شیخ ابوالخیر کے دل میں گھرکرگئی ۔ دنیا وی تعلقات با لکل منقطع کردیا ۔اور راہ سلوک میں آزادانہ اورمردانہ قدم رکھا۔ خود کومشقت خیز مجاہدات و ریاضات میں ڈال دیا۔ اور کمالِ استغنا کے باعث کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔
منقول ہے کہ امیر الامراء کی والدہ اپنے زمانہ کی پارسا اور صالحہ بی بی تھیں ۔ اس جاہ واحتشام کے باوجود سب سے بے تعلق ہوکراپنی روزی چرخہ چلاکر حاصل کیاکرتی تھیں اور اس پیشے میں اتنی مشقت اور محنت کرتیں کہ ضروری خرچ سے زیادہ مبلغ بچ رہا۔ حضرت ابو الخیر علیہ الرحمہ کی خدمت میں نذر کے طورپر قبول کرنے کی درخواست کی کہ ہدیہ، خاص حلال کمائی سے ہے۔ع گرقبول افتدز ہے عزوشرف۔
مگر ہمت و حوصلہ کااستقلال اور اپنے مشرب پراقامت اس درجہ ہوگئی تھی کہ اس پاکباز کی درخواست بھی شرف قبول سے ہمکنا ر نہ ہوسکی ۔
بے زاد وراحلہ سفر حج کاارادہ کر لیا،امیرالامراء نے گزارش کی اس خادم دیرینہ کا جہاز بیت ا للہ کی سمت جایاکرتاہے ۔ حکم ہوتو اس کے ملازموں کو تاکید کردی جائے کہ حضرت اسی جہاز سے تشریف لے جائیں گے ۔
فرمایا وائے برہمت وے در راہ دوست وسیلۂ غیر درمیان آرد ۔
ترجمہ: (افسوس اس کی ہمت پرجو راہ دوست میں غیرکا ذریعہ بیچ میں لائے )
آخر اس درخواست پر توجہ نہ کی اورحرمین شریفین کی زیارت سے مشر ف ہوئے ۔ کچھ دن وہاں مقیم رہ کر وطن کو واپسی اختیار کی ۔ لباس استغنا میں ولید پور تشریف لائے ۔ اور سلطان پور میں جو اِس وقت بھیر ہ کے نام سے مشہور سے ۔ اقامت اختیار کی ۔
تین بیویاں رشتۂ زوجیت میں منسلک ہوئیں ۔
( ۱) شیخ عبداللہ کی لڑکی ، شیخ عبداللہ، قد وۃ العارفین ، شیخ اسماعیل چریا کوٹی کے فرزند سے ہیں ۔ا ن کا مزار مبارک چریا کوٹ میں حاجت روائے خلق ہے۔ اُس بیوی سے مخدوم شاہ اسماعیل بھیروی قدس سرہٗ پیداہوئے۔
(۲) شیخ محمد کی لڑکی ملا محمود جون پوری کی بہن ۔ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
(۳)شیخ محمود قریشی بائسی مبارک پور کی لڑکی ان سے بھی کوئی فرزند باقی نہ رہا ۔ حق تعالیٰ نے شیخ ابو الخیر علیہ الرحمہ کوتصرفات اور کرامات سے نواز اتھا۔ ایام رحلت قریب ہوئے حضرت نے معاملہ اور مراقبہ میں اسے جان لیا ، گفتگو میں اکثر فراق کی باتیں زبانِ مبارک پہ آجاتیں ۔ گھر کے بیرونی صحن میں برگد کانو ساختہ درخت بہت سایہ دار اور موزوں تھا ، خود حضرت ہی نے اسے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ بیٹھنے کے لئے اسی درخت کے نیچے ایک چبوترہ آراستہ کر لیا تھا ، ایک دن چند محرم راز دوستوں کے ساتھ وہیں کھڑے تھے، عصا دست ِ مبارک میں تھا ، اسی چبوترہ پرقبر کے برابر ایک خط کھینچا ،دوستوں نے اس وقت اس حرکت کو محض خیال سمجھا ، آخر اسی دن بستر مرض پرآرہے۔ اگر چہ مرض کی حرارت کوئی مہلک نہ تھی کہ اس سے کسی کوپریشانی ہو ۔ لیکن اسی روز کی صبح، ۱۱؍شوال ۱۰۵۹ھ میں بعمر اکاون سال ،اس دار فانی سے رحلت فرماگئے ۔ اور حجاب جسمانی سے آزاد ہوکر محبوب حقیقی کے وصال سے شرف یاب ہوئے۔
خلف رشید حضرت شیخ اسماعیل بھیروی قدس سرہ کے پاس قبر کے بارے میں کوئی وصیت نہ تھی، اس لئے مقام قبر کے تعین میں فکرمند تھے ۔ وہ حضرات جوچبوترہ پرخط کھنچنے کے وقت حاضر تھے انہوں نے صورت ِ حال بیان کی ۔ حضرت شیخ اسماعیل نے خود توجہ فرمائی تووہ خط ملاحظہ کیااور احتیاط کے ساتھ لوازم تدفین میں فوراً مصروف ہوگئے ۔ آستانہ بھیرہ میں ان کے مرقد منور پرنورالہی کے لمعات درخشاں ہیں ۔
ان کے فرزند حضرت شاہ مخدوم اسماعیل علیہ الرحمہ مادر زاد ولی تھے ۔ اکثر خوارق ِ عادت کرامتیں صادر ہوئیں۔ ان کا مزار مبارک مولانا ابو الخیر علیہ الرحمہ (بھیرہ )کے پہلو میں ہے۔۳؎ مدرسہ عزیزیہ خیر العلوم بھیرہ انھیں کے اسم گرامی کی طرف منسوب ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے نقش قدم پہ ہمیں بھی چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے فیوض وبرکات سے مالا مال فرمائے۔ آمین !
(ازمناقب غوثی ص۲۱۰ تا ص ۲۲۵ملخصاً)
حواشی
[(۱) یہ کتاب[ مناقب غوثی ]شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ علیہ الرحمہ(۱۱۰۰ھ- ۱۱۷۸ھ) کے حالات پرمشتمل ہے اورضمناًان کے آباواجداد اور وطن کے کچھ احوال بھی قید تحریر میں آگئے ہیں۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے شاہ ابوالغوث علیہ الرحمہ کےخلیفہ شاہ شمس الدین حیدری علیہ الرحمہ نےان کی زندگی ہی میں تحریر فرمایاہے ابھی غیر مطبوعہ ہے اس کاایک قلمی نسخہ شاہ فخرالدین فاروقی غازی پوری علیہ الرحمہ (متوفی ۱۳۹۸ ھ) ساکن دھاواں ضلع غازی پور کے پاس موجود تھا جس کی نقل برادر محترم مولانا محمداحمد صاحب مصباحی دامت برکاتہم نے شعبان ۱۳۹۷ ھ میں وہاں غازی پور مولانا حافظ قاری محمد فضل حق صاحب مدظلہ العالی کے مکان پر رہ کر، پوری کتاب نقل کرلی تھی۔ یہ کتاب فارسی زبان میں تقریباً ڈھائی سوصفحات پرمشتمل ہے، اس کا عکس میرے پاس بھی موجود ہے۔ احمد القادری]
[(۲) تذکرہ علماے ہند فارسی ، از مولوی رحمان علی]
[(۳) حضرت شاہ مخدوم اسماعیل علیہ الرحمہ کے فرزند محمد شاہ اور ان کے فرزند ابوالغوث گرم دیوان شاہ علیہ الرحمہ لوہرا قرب مبارک پور میں ہے۔ ابوالغوث گرم دیوان شاہ علیہ الرحمہ کے فرزند حافظ شیخ عبد العلیم علیہ الرحمہ کی اولاد دھاواں ضلع غازی پور میں ہے۔انجمن امخدومیہ کے زیر اہتمام
۱۶؍ جمادی الاولی کو حضرت شاہ مخدوم اسماعیل علیہ الرحمہ کا سالانہ عرس ہوتا ہے۔ جس میں قرآن خوانی اور محفل میلاد پاک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
پہلے اس خانوادے کے بزرگ شاہ رحیم اللہ علیہ الرحمہ، بانی مدرسہ رحیمیہ و مدفون بھیرہ ، بڑے تز ک واحتشام سے ہرسال عرس منعقد کرتے تھے، اب اس خاندان کا کوئی فرد بھیرہ میں نہیں رہا، ان کےخاندان کے لوگ دھاواں ضلع غازی پور میں موجودہیں۔
وہ محلہ آپ ہی کی طرف نسبت کرتے ہوئے مخدوم پورہ کے نام سے مشہور ہے۔
انجمن مخدومیہ: ۱۱ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ ھ مطابق ۱۵ ؍ جنوری ۱۹۸۴ ء نوجوانان اہل سنت بھیرہ کی ایک تنظیم ہے ، ان کی طرف نسبت کرتے ہوئے انجمن مخدومیہ بھیرہ کے نام سے تشکیل پائی ، نوجوانو ں کے اندر ملی بیداری پیدا کرنا اور مزارات مشائخ بھیرہ کی حفاظت وصیانت کرنا اس کے خاص مقاصد ہیں۔
احمد القادری مصباحی
ساکن بھیرہ پوسٹ ولید پور، ضلع مئو، یوپی، ہند

مولانا شاہ علی احمد بھیروی، از احمد القادری مصباحی

تذکرہ حضرت مولاناشاہ علی احمد بھیروی علیہ الرحمہ
(وفات: ۱۶؍صفر۱۳۱۷ھ)
(از احمد القادری مصباحی)

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا

سرزمین ہند ،ایسی قابل فخر ہستیوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے خلوت کدوں میں رہ کر ،گم نامی کی زندگی بسر کی اور اہل عالم کے لیے رشدو ہدایت کا گراں قدر سرمایہ فراہم کیاجن کی مساعی جمیلہ سے شجر اسلام کو ہندوستان میں پھیلنے اور پھولنےکا موقع ملا۔ جن کی بے لوث اور قابل تحسین خدمات کااعتراف، پرائے بھی کرتے ہیں۔
انھیں مقدس اور پاک باز ہستیوں میں، حضرت مولانا شاہ علی احمد بھیروی علیہ الرحمہ کابھی شمار ہوتاہے۔

نسب نامہ:
مولانا شاہ علی احمد ابن نعمت اللہ ابن اطہرابن واجد بھیروی علیہم الرحمہ مولانا حافظ ابواسحاق بھیروی علیہ الرحمہ (م ۱۲۳۴ھ) کے نواسےہیں۔

سال ولادت: ۱۲۲۹ھ میں اس خاکدان گیتی پر قدم رکھا۔

جائے پیدائش:
ضلع مئو، یوپی کا مشہور صنعتی گاؤں آستانہ بھیرہ کوآپ کی جائے پیدائش ہونے کاشرف حاصل ہے ، یہ اعظم گڑھ شہر سے قریبا ۲۵؍ کلومیٹر پورب اور تحصیل محمدآباد گوہنہ سے دوکلو میٹر اتر دریائے ٹونس کے کنارے آباد ہے۔ دریائے ٹونس اس آبادی کے کئی اطراف کوگھیر کر پر فضا اور راحت بخش بناتاہے۔
مشرق ومغرب میں اس کا طول البلد ۸۳؍ درجہ ۱۸ دقیقہ اور شمال و جنوب میں عرض البلد ۲۶ درجہ ۶ دقیقہ ہے۔
بھیرہ کےآباد ہونے کی صحیح تاریخ کا پتا نہیں چلتا۔ البتہ آثار وقرائن اور تاریخ سے اتنا ضرور پتا لگتاہے کہ آج سے چھ سو سال قبل ۸۰۰ھ میں آستانہ بھیرہ آباد تھا۔ اسی کے قریبی زمانہ میں ابراہیم شرقی شاہ سلطان (زمانۂ حکومت ۸۰۴ھ-۸۴۴ھ) جون پور ی کی جانب سے شیخ مشید علیہ الرحمہ کو ولیدپور ،بھیرہ، بطور جاگیر دیاگیا تھا پھران کاخاندان جون پور سے منتقل ہوکر بھیرہ میں مستقل طور پر آباد ہوگیا۔ یہیں سے اس کی تاریخ ملتی ہے۔(۱)
تاریخ سے یہ پتا چلتاہے کہ دیارپورب میں (جولکھنو،فیض آباد،جون پور،اعظم گرھ وغیرہ علاقوں کو شامل ہے) سب سے پہلا مدرسہ بھیرہ ضلع اعظم گڑھ میں قائم ہوا۔(۲)
یہاں کے بزرگوں اورشیوخ سے اس کے آباد ہونے کی ایک روایت نسلاً بعد نسلٍ، منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچتی ہے کہ کسی زمانہ میں دو بزرگ سفر کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچے اس زمانہ میں یہ علاقہ ایک گنجان جنگل کی شکل میں تھا۔ انھیں یہ جگہ فرحت بخش معلوم ہوئی سکونت کاارادہ کرلیا ، پانی کی تلاش میں نکلے سامنے سے ایک بھیگا ہوا کتا دکھائی پڑا۔ اب انھیں قریب میں کہیں پانی ہونے کا یقین ہوگیا۔ کچھ دور جاکر جھاڑیوں کےبیچ صاف وشفاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر بہتی ہوئی نظر آئی ،جو آج ٹونس ندی کے نام سے اس علاقے کو سیراب کرتی ہے نہر دیکھتے ہی ان کی خوشیوں کی انتہانہ رہی اورانھوں نے گوشہ نشیں ہوکر عبادت الٰہی کےلیے یہ جگہ پسند فرمالی اورمستقل طورپر یہیں سکونت پذیر ہوگئے۔ بعد میں چل کر یہی جگہ رفتہ رفتہ آبادی میں تبدیل ہوگئی۔ سلطان پور نام پڑا۔ لیکن گردش لیل ونہار نے یہ نام باقی نہیں چھوڑا۔ بعد میں بھیرہ کےنام سے مشہور ہوگیا۔

تعلیم:
اپنے والد شیخ نعمت اللہ علیہ الرحمہ اور شیخ محمدسلیم مچھلی شہری علیہ الرحمہ (م۱۲۶۶ھ)سے تعلیم حاصل کی۔ مولانا احمدعلی چریاکوٹی علیہ الرحمہ(م ۱۲۷۲ھ)سے تکمیل کی فراغت کےبعد اپنے ناناشیخ ابواسحاق بھیروی علیہ الرحمہ سے اجازت وخلافت حاصل کرکے ان کی جگہ سجادۂ مَشِیْخَتْ پربیٹھے۔
خداترسی،تقویٰ ،پرہیز گاری اور عبادت وریاضت میںبڑا مقام رکھتے تھے۔ دن میں روزہ رکھتے اور رات عبادت میں گزاردیتے یاد الٰہی میںتو ہردم رطب اللسان رہتے ۔ان کی محفل ذکروتسبیح سے گونجتی رہتی تھی۔ کسی کی غیبت کازبان پرآجاناتو بڑی بات ہے اس کو سننابھی جلدی گوارانہ کرتے۔
مولانا محمد فاروق چریاکوٹی علیہ الرحمہ (م ۱۳۲۷ھ) آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”تقریباً تیس برس کے طویل عرصے سے مولانا کےیہاں آمدورفت رکھتاہوں لیکن آج تک کبھی ایسی بات ان کی زبان سے نہیں سنی جوکسی کی مذمت یااذیت کاسبب بنے اور نہ کبھی ان کی مجلس ذکر الٰہی سے خالی پائی“۔(۳)

وفات:
تقریباًنصف صدی تک ارشاد وتلقین کی اہم خدمات انجام دے کر ۱۶؍صفر۱۳۱۷ھ کوآپ نےداعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ مزار پرانوار مدرسہ عزیزیہ خیرالعلوم کےصحن میں واقع ہے۔

حواشی
[(۱) مناقب غوثی۔ یہ کتاب شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ علیہ الرحمہ(۱۱۰۰ھ- ۱۱۷۸ھ) کے حالات پرمشتمل ہے اورضمناان کے آباواجداد اور کچھ بھیرہ کے حالات بھی قید تحریر میں آگئے ہیں۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ آج سے قریباً ڈھائی سو برس پہلے شاہ ابوالغوث علیہ الرحمہ کی مبارک زندگی ہی مین ان کے خلیفہ شاہ شمس الدین حیدری نے تحریر فرمائی ہے۔اس سے اس کتاب کی اہمیت کااندازہ لگا یاجاسکتاہے کہ یہ کتاب بزبان فارسی ابھی تک قلمی ہے۔ انھیں کے خاندان کےایک بزرگ شاہ فخرالدین علیہ الرحمہ (م ۱۳۹۸ھ) ساکن دھاواں ضلع غازی پور کےپاس اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ موجود تھا۔ برادر محترم حضرت مولانا محمداحمد صاحب مصباحی دامت برکاتہم العالیہ نے(۱۳۹۷ھ) میں وہاں جاکر پوری کتاب نقل کرلی ہے۔۱۲قادری]
[(۲) دیارپورب میں علم وعلما]
[(۳) تذکرہ علماے ہند فارسی ، از مولوی رحمان علی]

احمد القادری مصباحی عفی عنہ

مینو