مولانا عبد الغفار اعظمی، سرکار آسی

 بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
حالات مولاناعبدالغفار اعظمی

حضرت مولاناعبدالغفار صاحب اعظمی نوری الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے سعادت مندلائق اورذی استعداد فاضلین میں سے ہیں اورباذوق مقالہ نگار بھی ہیں، جن کے مضامین اکثر رسائل واخبارات میں نکلتے رہتے ہیں۔ قوم وملت کی فلاح وبہبود کاجذبہ ان کے دلوں میں موجزن ہے”اصلاح رسوم“ نامی کتاب ان کے دینی واصلاحی جذبے کا جیتا جاگتاثبوت ہے۔
آپ کا آبائی وطن: ریوری ڈیہ، متصل ندوہ سرائے ضلع مئو(یوپی) ہے۔ پہلے یہ علاقہ اعظم گڑھ میںتھا۔ ۱۹؍نومبر۱۹۸۸ء سے جب مئو ضلع ہوا تو یہ اس میں شامل ہوگیا۔
آپ کے والد بزگوار: جناب عبدالعظیم بن محمدابراہیم ایک محنتی زراعت پیشہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی تنگ دستی اور غربت کی پروَا کیے بغیر اپنے اِس ہونہار بیٹے کو دینی تعلیم دلاکراپنے لیے بہترین سامان آخرت تیار کرلیا۔ جبکہ اپنے دوسرے بیٹے جناب عبدالسلام صاحب کو حاٖفظ قرآن بناکراپنےلیے شفاعت کاذریعہ فراہم کرلیا۔
تاریخ پیدائش: ۴؍مئی ۱۹۶۳ء مطابق ۳۰؍ذیقعدہ ۱۳۸۲ء بروز جمعہ ہے۔
تعلیم: بچپن میں آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے یہاں، ایک مقامی مکتب میں حاصل کی۔ درجہ پنجم پاس کرکے فارسی وہیں شروع کی، مگراس کامناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ۱۳۹۴ھ میں مدرسہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد میں داخلہ لیا اورتقریباً ۴؍سال تک وہاں زیر تعلیم رہ کر مولوی کاامتحان پاس کیا ۱۳۹۸ھ میں مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں آگئے۔ اسی زمانے میں ادیب ماہر علی گڑھ کا امتحان پاس کیا۔
پھرایک ہی سال بعد مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گوہنہ شوال ۱۳۹۹ھ ستمبر ۱۹۷۹ء میں داخلہ لیا۔ اُن دنوں محققِ عظیم ،ادیبِ زماں، مخلصِ بے پایاں،حضرت مولانامحمداحمد صاحب مصباحی شیخ الادب الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی خدمات حاصل کرنے میں ارکانِ فیض العلوم کامیاب ہوچکے تھے اورمحقق موصوف صدرالمدرسین کی حیثیت سے فیض العلوم تشریف لاچکے تھے۔ ان کے علمی فیضان کاشہرہ سن کر باذوق طلبہ ،فیض العلوم کی جانب ہرطرف سے ٹوٹے پڑرہے تھے۔انھیں میں مولاناعبدالغفار صاحب بھی ہیں۔ یہیں سے میرا اوران کاساتھ ہوا۔ اور فراغت تک ایک مخلص ہمدرد،محنتی، رفیق درس کی حیثیت سے ساتھ ساتھ رہے۔
ان کی تعلیم فیض العلوم میں تو کل دوہی سال رہی، لیکن یہی دوسال درحقیقت ان کی تعلیم کےاہم ایام ہیں جن کو وہ اپنی زندگی کے بیش قیمت لیل ونہار شمار کرتے ہیں۔ وہاں کی تعلیم کےسلسلے میں اپنے ایک مکتوب میں یوں رقم طراز ہیں:
”حقیقی معنوں میں فیض العلوم کی تعلیم ہی میرے لیے کامیابی کاباعث بنی“۔
منشی،عالم اورمنشی کامل کے امتحانات یہیں سے پاس کیے اس زمانے میں وہاں مشکوٰۃ شریف تک تعلیم تھی۔ شعبان ۱۴۰۱ھ جون ۱۹۸۱ء میں فیض العلوم کا آخری امتحان پاس کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے مرکزی درسگاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور (شوال ۱۴۰۱ھ اگست ۱۹۸۱ء) میں داخلہ لیا، اوردرس نظامیہ کی تکمیل کی، اور یکم جمادَی الآخرہ۱۴۰۳ھ مطابق ۱۷؍مارچ ۱۹۸۳ء حافظ ملت کے عرس پاک کے حسین موقع پردستار فضیلت وقراءت سے نوازے گئے۔
بخاری شریف(۱۴۰۳ھ) اور شرف بخاری شریف (۱۹۸۳ء) سے سن فراغت نکلتاہے۔
یہیں سے فاضل دینیات الٰہ آباد اورادیب کامل علی گڑھ پاس کیا۔ پھر فاضلِ طب اورفاضل ادب کاپرائیوٹ امتحان بھی اعلیٰ نمبر سے پاس کیا۔
زمانۂ طالب علمی سے آپ کواشاعتی لگاؤتھا۔ مجلس اشاعت طلبۂ فیض العلوم کےاہم رکن رہے۔ اسی ذوق کی بناء پر فراغت کے بعد المجمع الاسلامی فیض العلوم میں آپ کا تقرر ہوا مگر پھر انہیں تدریس کازیادہ اشتیاق ہوا، اس لیے انھوں نے جلد ہی مشغلۂ تدریس اختیار کرلیا۔
(۱)فیض العلوم محمدآباد(۲)مدرسہ مفتاح العلوم مہراج گنج، اعظم گڑھ (۳) دارالعلوم قادریہ چریاکوٹ (۴) مدرسہ عربیہ بحرالعلوم سدھور ضلع بارہ بنکی میں اپنانشانِ درس چھوڑ کر کئی سالوں سے تادم تحریر دارالعلوم سرکار آسی سکندر پور، ضلع بلیا میں نائب صدرالمدرسین کے عہدہ پر تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بیعت وارادت شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے حاصل ہے۔
تالیفات
مندرجہ ذیل تالیفات اور متعدد مضامین آپ کے منظر عام پر آچکے ہیں
[۱] اصلاح رسوم
[۲ ] سیرت رسول اعظم
[۳] علماء ومشائخ سکندر پور
[۴] چالیس احادیث کا انمول تحفہ
[۵] فضیلت نماز

احمدالقادری مصباحی
الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

صدر العلما، علامہ محمد احمد مصباحی

علامہ محمداحمدمصباحی دامت برکاتہم

صدرالعلماخیرالاذکیاحضرت علامہ محمداحمدمصباحی دامت برکاتہم القدسیہ، ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور، دور حاضر کی ایسی مثالی اور نابغۂ روزگار شخصیت ہیں، جن کو خدائے تعالیٰ نےبےشماراوصاف وکمالات سے نوازاہے ۔
آپ عالم اسلام کی ان چند شخصیتوں میں سے ایک ہیں جن کو انگلیوں پرشمارکیا جاسکتاہے ۔آپ کی حیات کا لمحہ لمحہ خدمت اسلام کےلیے وقف ہے آپ کانام اور کام برصغیر ہندوپاک میں محتاج تعارف نہیں ۔
خیرالاذکیامدظلہ نہایت صالح، نیک طینت، رقیق القلب، شریعت کےسخت پابند،اوراسوۂ رسول پر کار بندہیں ،کم خفتن ،کم گفتن ،کم خوردن آپ کا شیوہ ہے تصنیف وتالیف اور تعلیم وتعلم آپ کااوڑھنابچھونا ہے، اس دور میں آپ کی عظیم شخصیت کتاب وسنت کےمسندعلم ودانش کی نقیب بن کرابھری اور ابھرتی ہی چلی گئی ،یہاں تک کہ آسمان سنیت پر چھاگئی اوروہ وقت بھی آیاکہ اس ہستی کی عبقری شان دن کےاجالے کی طرح ،آسمان دنیاکےسامنے اجاگر ہوگئی اور قوم نے خیرالاذکیا، صدرالعلما، وقارعلم وحکمت کے مؤقرالقابات دےکرشہرہ آفاق، مرکزی ادارہ جامعہ اشرفیہ مبارک پورکے صدرالمدرسین پھر ناظم تعلیمات کا عظیم عہدہ آپ کوسونپ دیا۔
آپ کااسم گرامی محمداحمدہے، والدماجد محمدصابراشرفی (ولادت ۱۳۲۳ھ ۱۹۰۵ء۔م۵؍جمادالآخرہ۱۴۱۱ھ مطابق ۲۳؍دسمبر۱۹۹۰ء شب دوشنبہ۱۰بجے) ابن عبدالکریم مرحوم ابن محمداسحاق مرحوم ہیں۔
حضرت صدرالعلما ایک زمیں دار، دینی اسلامی خانوادے میں ۱۸؍ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ مطابق ۹؍ستمبر۱۹۵۲ء میںپیداہوئے۔
آپ کےوالدجناب محمدصابر اشرفی مرحوم دینی تعلیم کاوافر شوق رکھنے والے اور علما نواز شخص تھے ۔اسلام وسنیت میں نہایت پختہ، پابندصوم وصلوٰۃ، نہایت سادہ مزاج اورخداترس تھے،رفاہی کاموں سے کافی دلچسپی رکھتے اورمسلک اہل سنت وجماعت میں کافی سرگرم تھے۔
آپ سیدشاہ اشرف حسین کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے ۵؍جمادی الآخرہ ۱۳۴۵ھ کو پنجشبہ کےدن بیعت ہوئے۔
والدہ ماجدہ محترمہ تسلیمہ بنت عبدالرشید ابن عبدالصمد محلہ پورہ دیوان ،تقریباً۱۳۲۵ھ مطابق ۱۹۰۷ء میں پیداہوئیں اور بھیرہ میں ۱۵؍محرم الحرام ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۳؍نومبر۱۹۸۱ءبروز جمعہ ۱۰؍بج کر ۳۵؍منٹ پرقبل جمعہ، داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔اسی دن بعد نمازعصرجنازہ کی نماز چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا حافظ احمدالقادری نےپڑھائی۔حضرت علامہ مصباحی صاحب والدہ کے انتقال سےایک دن قبل بریلی شریف پیرومرشد حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کی نمازجنازہ میں شرکت کےلیےجاچکےتھے۔دوسرے دن واپس آکروالدہ ماجدہ کی قبرپرحاضری دی اورفاتحہ پڑھی۔
والد ماجد محمدصابر اشرفی مرحوم اکابراہل سنت مثلا صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی(۱۲۹۶ھ مطابق ۱۸۷۸ء۔م۱۳۶۷ھ مطابق۱۹۴۸ء)حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز (۱۳۱۲ھ۔ م ۱۳۹۶ھ) شیخ العلماعلامہ غلام جیلانی اعظمی (۱۳۲۰ھ ۱۹۰۲ء۔ وفات ۶؍ربیع الاول ۱۳۹۷ھ ۲۵؍فروری ۱۹۷۷ء جمعہ)سلطان الواعظین علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی(۱۳۳۳ھ۔ م ۱۴۰۶ھ)شارح بخاری علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی(۱۹۲۱ء۔ م ۶؍صفر ۱۴۲۱ھ/۲۰۰۰ء) علیہم الرحمہ وغیر ہم سے بڑے اچھے تعلقات تھےبعض اوقات خیرالاذکیا مدظلہ العالی بھی آپ کے ہمراہ ہوتے اورعلماےکرام سےاپنےہونےوالے اس جیدعالم دین بیٹے کےلیےدعائیں لیتے ۔بڑی ہی محنت ولگن کیساتھ آپ نے تعلیم دلوائی اوراس راہ میں آنےوالی ہرپریشانی کوخندہ پیشانی کیساتھ برداشت کیا مگرتعلیم وتربیت میں کسی طرح کاکوئی نقصان نہ آنےدیا۔

تعلیم

ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ پھردرجہ سوم تک پرائمری تعلیم مدرسہ اسلامیہ رحیمیّہ بھیرہ میں ہوئی جسے شاہ رحیم اللہ فاروقی بھیروی علیہ الرحمہ نے ۱۳۴۵ھ مطابق ۱۹۲۶ء میں قائم فرمایا۔حضرت شاہ صاحب بڑے علم دوست ،پختہ سنی تھے۔ہرجمعرات کو ان کے یہاں میلاد شریف کی محفل ہوتی اورہرسال حضرت شاہ ابوالخیربھیروی علیہ الرحمہ ؍ حضرت مخدوم شاہ اسماعیل بھیروی علیہ الرحمہ کاعرس بڑے تزک و احتشام کےساتھ منعقد کرتے۔
۱۸؍اپریل ۱۹۶۲ءبروزیکشنبہ مطابق ۴؍ذی قعدہ ۱۳۸۱ھ سے شعبان ۱۳۸۶ھ مطابق نومبر ۱۹۶۶ء تک ۵؍سال بڑے اطمینان وسکون ،محنت،لگن اورپوری توجہ کےساتھ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد میں ابتدائی فارسی سے شرح جامی تک تعلیم حاصل کی ۔
۱۰؍شوال ۱۳۸۶ھ مطابق ۲۲؍جنوری ۱۹۶۷ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اور ۱۰؍ شعبان ۱۳۸۹ھ مطابق ۲۳؍اکتوبر۱۹۶۹ء مقتدرعلماومشائخ کےمبارک ہاتھوں دستارفضیلت باندھی گئی۔
دستارفضیلت کے بعد تدریس کےلیےایک جگہ آئی والدماجد نےتدریس کےلیےاجازت دے دی، مگر جب حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ) کو معلوم ہواتو انہوں نے روکااور یہ فرمایاکہ’’میں اور قیمتی بناناچاہتاہوں‘‘اس لیے آپ نےتدریس کاارادہ ترک کردیا،اوروالد ماجد کی اجازت سےپھرشوال ۱۳۸۹ھ مطابق دسمبر۱۹۶۹ء سے ربیع الآخر ۱۳۹۰ھ مطابق جون ۱۹۷۰ء تک دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم میں مزید تعلیم حاصل کی۔ واقعی حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ۔ م ۱۳۹۶ھ)نے جیسا فرمایا تھااس سے کہیں زیادہ قیمتی بنادیا۔
علامہ مصباحی کےاساتذہ کرام کے اسماحسب ذیل ہیں ۔
اساتذہ ضیاء العلوم خیرآباد
مولانامحمدعمرخیرآبادی،مولانا محمدحنیف مصباحی مبارک پوری ،مولانا محمد سلطان رضوی ادروی، مولاناغلام محمدبھیروی(۱۵؍مئی ۱۹۴۷ء۔م ۲۷؍صفر ۱۴۱۱ھ ؍۸؍ ستمبر ۱۹۹۱ء) حافظ قاری نثاراحمدمبارک پوری (وصال ۵ ؍شوال ۱۴۳۹ھ، ۲۱؍جون ۲۰۱۸ء)،ماسٹر اسراراحمدخاں ادروی، ماسٹر محمدرفیق مبارک پوری۔
اساتذہ جامعہ اشرفیہ
جلالۃ العلم حضور حافظ ملت حضرت علامہ الشاہ عبدالعزیز محدث مبارک پوری(ولادت ۱۳۱۲ھ۔ م ۱۳۹۶ھ) حضرت علامہ حافظ عبدالرؤف بلیاوی(۱۹۱۳ء۔ م ۱۳۹۱ھ؍۱۹۷۱ء)قاضیٔ شریعت حضرت مولانامحمدشفیع مبارک پوری (۱۳۴۴ھ۔ م ۱۴۱۱ھ؍۱۹۹۱ء) بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی(۱۳۴۴ھ۔ م ۱۵؍محرم ۱۴۳۴ھ) حضرت مولاناقاری محمدیحییٰ صاحب مبارک پوری(۱۹۲۴ء۔ م ۲۶؍ذی الحجہ ۱۴۱۶ھ؍۱۹۹۶ء)حضرت مولاناسیدحامداشرف کچھوچھوی علیہ الرحمہ (م۱۸؍صفر ۱۴۲۵ھ) مولانامظفر حسن ظفرؔادیبی،مولانااسرار احمد لہراوی ۔

اسناد

(۱)سندتجوید
(۲)سندفضیلت درس نظامی ۱۳۸۹ھ ؍۱۹۶۹ء(جامعہ اشرفیہ)
(۳)مولوی ۱۹۶۶ء (عربی فارسی بورڈ اترپردیش)
(۴)عالم ۱۹۶۸ء
(۵)فاضل دینیات ۱۹۷۵ء
(۶)فاضل ادب ۱۹۷۷ء
(۷)فاضل طب ۱۹۸۰ء
(۸)منشی ۱۹۸۱ء
(۹)منشی کامل ۱۹۸۳ء۔ (عربی فارسی بورڈ اترپردیش)

تدریسی خدمات

ربیع الآخر۱۳۹۰ھ مطابق جون۱۹۷۰؁ءمیںبحکم حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ۔ م ۱۳۹۶ھ) اشرفیہ چھوڑ کر، حضرت علامہ حافظ عبدالرؤف بلیاوی (۱۹۱۳ء۔ م ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء)اورحضرت قاری محمدیحییٰ صاحب علیہماالرحمۃ(۱۹۲۴ء۔ م ۲۶؍ذی الحجہ ۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶ء) کی ہم رکابی میں دارالعلوم فیضیہ نظامیہ، باراہاٹ، اشی پور،ضلع بھاگل پور،براے تدریس تشریف لے گئےیہاں شعبان۱۳۹۱ھ اکتوبر۱۹۷۱ء تک رہے،پھر مولانا حافظ قاری فضل حق مصباحی غازی پوری کے توسط سےمدرسہ عربیہ فیض العلوم جمشید پور تشریف لاے (زمانۂ تدریس دسمبر ۱۹۷۱ءتانومبر۱۹۷۶ء) اس کے علاوہ دارالعلوم نداے حق جلال پورفیض آباد(زمانہ ٔ تدریس ذی الحجہ ۱۳۹۶ھ دسمبر ۱۹۷۶ءتاشوال ۱۳۹۸ھ ۱۷؍ستمبر ۱۹۷۸ء)مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گہنہ(زمانہ تدریس شوال ۱۳۹۸ھ ۱۹۷۸ءتا۸؍شوال ۱۴۰۶ھ جون ۱۹۸۶ء) میںپھر۹؍شوال ۱۴۰۶ جون ۱۹۸۶ء سے شہرۂ آفاق مرکزی ادارہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں۔منصب صدارت پر یکم اگست ۲۰۰۱ءتاجون ۲۰۱۴ء فائزرہے اور جون۲۰۱۴ءمیں ریٹائرڈ ہونے کے بعد جامعہ اشرفیہ ہی میںنا ظم تعلیمات کی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں ۔

تصانیف

۱-تدوین قرآن-اردو
۲-امام احمدرضااورتصوف-اردو
۳-تنقیدمعجزات کا علمی محاسبہ-اردو
۴-شادی اورآداب زندگی–اردو
۵-المواہب الجلیل لتجلیۃ مدارک التنزیل -عربی
۶-حدوث الفتن وجہاداہل السنن۱۳۲۱ھ-عربی
۷-حاشیہ جدالممتارالجزءالثانی-عربی
۸-امام احمدرضاکی فقہی بصیرت- اردو
۹-معین العروض-اردو
۱۰-فرائض وآداب متعلم ومعلم-اردو
۱۱-خلفاےراشدین اوراسلامی نظام اخلاق-اردو
۱۲-رسم قرآنی اوراصول کتابت-اردو
۱۳-رہنماےعلم وعمل-اردو
۱۴-شرک کیاہے-اردو
۱۵-امام احمد رضا کی زندگی کے چند تابندہ نقوش

تراجم،تصحیح،تقدیم،تحشیہ،تسہیل، تحقیق ،خطبات

[۱]وشاح الجیدفی تحلیل معانقۃ العید(معانقۂ عید)
[۲]جمل النورفی نہی النساءعن زیارۃ القبور(مزارات پرعورتوں کی حاضری)
[۳] صیانۃ المکانۃ الحیدریۃ عن وصمۃ عہدالجاہلیہ(براءت علی ازشرک جاہلی)
[۴] مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید(فلسفہ اوراسلام)
[۵] ہادی الناس فی رسوم الاعراس (رسوم شادی)
[۶]جدالممتاراول ،ثانی
[۷] الکشف شافیافی حکم فونوجرافیاعربی
[۸] وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح(تعریب)
[۹]قصیدتان رائعتان
[۱۰]جہان مفتی اعظم
[۱۱]جہان انوارمفتی اعظم
[۱۲]بہارشریعت حصہ۱۶ (اسلامی اخلاق وآداب)
[۱۳] فتاویٰ رضویہ جدید۔اول،سوم ،چہارم، نہم( عربی وفارسی عبارتوں کااردوترجمہ)
[۱۴]تاب منظم ،ترجمہ قصیدہ اکسیر اعظم و مجیر اعظم
[۱۵]انوارآفتاب صداقت
[۱۶] انوار ساطعہ۔
[۱۷] تقدیر و تدبیر
[۱۸]امام احمد رضا اور جہان علوم ومعارف اول دوم سوم ، تین جلدیں(ترتیب وتحقیق)-اردو
[۱۹] نواے دل (مجموعۂ خطبات)-اردو
[۲۰]خطبات صدرالعلما-اردو-زیرترتیب
[۲۱] مقالات صدرالعلما-اردو-زیرترتیب
جملہ تصانیف میں مواہب الجلیل حاشیۂ مدارک التنزیل، تقدیم وتحشیہ جدالممتارثانی اورحدوث الفتن وجہاد اعیان السنن بزبان عربی آپ کےبیش بہا علمی وقلمی شاہکارہیں جس کے زریں صفحات میں حقائق ومعارف کا ایک سمندر موجزن ہےان تحقیقات نادرہ پرارباب علم وقلم اوراصحاب فکرودانش نے دلی مسرت وشادمانی کااظہارکیاہے۔
ان مصنفات کےعلاوہ کثیرمعیاری وقیع مضامین مشہورجرائدورسائل میں اشاعت پذیرہوتے رہے۔

اولاد

دوصاحبزادے عالم طفولیت ہی میں انتقال کرچکےہیں۔
۱-شمیم رضا عرف غلام جیلانی(پیدائش:۲۰؍ شوال ۱۳۹۱ھ ۲۱؍دسمبر ۱۹۷۰ء دوشنبہ بعد مغرب، وفات: ۲۲؍صفر ۱۳۹۵ھ ۶؍مارچ ۱۹۷۵ء ، جمعرات ساڑھے ۹ بجے دن)
۲۔ محمد احمد( ولادت: ۲۴؍ ربیع الآخر ۱۳۹۸ھ، ۳ ا؍پریل ۱۹۷۸ ء دوشنبہ بوقت مغرب ۔وفات: ۲۰ شعبان ۱۳۹۸ھ، ۲۷ جولائی ۱۹۷۸ء، جمعرات، سوا ۸ بجے، صبح)
تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں بقیدحیات ہیں
۱-سالمہ خاتون قاسمہ (ولادت: ۲۱ ؍شوال ۱۳۹۹ھ جمعہ،سالمہ خاتون قاسمہ سے، سال ولادت۱۳۹۹ھ نکلتاہے)
۲-مولانا محمدعرفان رضامصباحی (عرفان رضا سے، سال ولادت۱۳۹۷ھ نکلتاہے)
۳-سعیدہ خاتون
۴-مبارک حسین رضوی(مبارک حسین رضوی سے، سال ولادت۱۴۰۷ھ نکلتاہے)
۵-مولانافیضان رضاامجدمصباحی(فیضان رضاامجدسے، سال ولادت۱۹۹۰ء نکلتاہے)
۶-ام الخیرفاطمہ
سالمہ خاتون ،راقم الحروف محمدابوالوفارضوی ابن عبدالرضامرحوم سابق ناظم مدرسہ عزیزیہ خیرالعلوم بھیرہ کےعقدمیں ہیں، جن کے بطن سےچاربچیاں بنام ۱-زہرااختری۲-ذاکرہ بتول احمدی۳-شگفتہ تارکہ۴-تائبہ رضوی اورایک لڑکامحمدسعید اختر عرف خوش تر تقی بقیدحیات ہیں۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔

تلامذہ

آپ کےتلامذہ کی تعداد توبہت کثیرہےجسے احاطۂ تحریر میں لانامشکل ہے تاہم چند مشاہیرتلامذہ کےاسما حسب ذیل ہیں۔
۱-حضرت علامہ و مولانا محمدنصراللہ رضوی علیہ الرحمہ (۱۵؍فروری ۱۹۵۶ءم ۴؍محرم ۱۴۳۵ھ /۹؍نومبر ۲۰۱۳ء)
۲-حضرت مولانا عبدالغفارمصباحی استاذ مدرسہ ضیاءالعلوم خیرآبادضلع مئو ورکن المجمع الاسلامی مبارک پور
۳-حضرت مولانا محمدعارف اللہ خاں فیضی، استاذ مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گہنہ
۴-حضرت مولانا مفتی احمدالقادری صاحب قبلہ، سابق استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۵-حضرت مولانا سیدمحمدفارو ق صاحب، صدرشعبۂ افتاجامعہ حنفیہ بجرڈیہہ بنارس
۶-حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی، ایڈیٹرماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور
۷-حضرت مولانا ناظم علی رضوی مصباحی، استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۸-حضرت مولاناصدرالوریٰ مصباحی، استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۹-حضرت مولانامحمدنظام الدین مصباحی، استاذ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی
۱۰-حضرت مولانامفتی آل مصطفیٰ مصباحی، استاذ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی
۱۱-حضرت مولانامفتی شمشاداحمدصاحب، استاذ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی
۱۲-حضرت مولاناعالم گیر مصباحی، دارالعلوم اسحاقیہ جودھ پورراجستھان
۱۳-حضرت مولانانفیس احمدمصباحی، بارہ بنکوی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۱۴-حضرت مولانااختر حسین فیضی، جامعہ اشرفیہ مبارک پور
۱۳-حضرت مولاناساجد علی مصباحی، جامعہ اشرفیہ مبارک پور

عنایات بزرگاں

حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ)ایک مرتبہ آپ کےگھرتشریف لاےتوآپ کے والد گرامی جناب محمد صابر اشرفی مرحوم نے دوران گفتگوحضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ) سے عرض کیاحضور!ہمارے مولوی صاحب کوبھی اچھا عالم بنائیےگا۔ارشاد فرمایا ان شاء اللہ ایساہی ہوگا۔
حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ) کی دعاؤں کایہ اثرہےکہ آپ کرداروعمل ،گفتارورفتار،علم وحکمت اور دینی خدمات کی انجام دہی میںاپنے ہم عصروں میں ممتاز نظرآتےہیں۔
۲۰۰۳؁ءکےعرس مارہرہ شریف کےموقع پرحضرت سیدامین میاں دامت برکاتہ نے برسراجلاس ارشادفرمایاکہ حاشیہ والاکام حضرت علامہ مفتی محمداحمدمصباحی نے کیا یہ اور بات ہے کہ ان کے ساتھ ایک فوج ہے۔لیکن جب فوج جیت کرآتی ہے تونام کمانڈرکاہوتاہے۔یہ کام مصباحی صاحب نے کیا۔ حضرت امین ملت نے آپ کو بڑے اعزازواکرام سےنوازا۔منبررسول پراس وقت حضرت امین ملت کے بغل میں بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان علیہ الرحمہ رونق افروز تھے اور ٹھیک ان کے بغل میں حضرت خیرالاذکیاتھے۔
بروایت :ڈاکٹر شکیل احمد،مدینۃ العربیہ سلطان پور

رکن المجمع الاسلامی

المجمع الاسلامی (۱۳۹۶ھ/۱۹۷۶ء) ایک شہرت یافتہ خالص تصنیفی اشاعتی دینی قومی ادارہ ہےجو چند علماے کرام پرمشتمل ایک کمیٹی کےماتحت ہے۔ اس تصنیفی واشاعتی ادارے کے انتظام وانصرام کی ذمہ داریوںکاسہرابھی حضرت خیرالاذکیا کے ہی سرہے۔اس اکیڈمی کےعزائم بہت بلندہیں ۔ علامہ مصباحی جواس اکیڈمی کے روح رواں ہیں شب وروز اس کی توسیع وترقی میں فی سبیل اللہ وقف ہیں۔

صدرانجمن امجدیہ

’’انجمن امجدیہ‘‘ بھیرہ کےخوش عقیدہ مسلمانوں کی ایک انجمن ہے ،جس کے صدراعلیٰ(۱۳۹۷ھ ۱۹۷۷ءسے تا حال) حضرت خیرالاذکیاہیں۔
۱۳۸۱ھ/۱۹۶۱ء)میں اس انجمن کاقیام عمل میں آیا جس کے تحت ایک مدرسہ ہےبنام عزیزیہ خیرالعلوم (قائم شدہ۷؍رجب۱۳۹۸ھ ۱۳؍جون ۱۹۷۸ء شب چہار شنبہ بعدنماز عشا)
نیز اس کے تحت مدرسۃ البنات العزیزیہ خیرالعلوم(قیام ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۳ء) دارالحفظ والقراءت اور کئی مساجد اور تنظیمیں قائم ہیں ۔سال میں ایک مرتبہ عید میلادالنبی ﷺ کےموقع پرجلسہ وجلوس کا اہتمام بھی کیاجاتاہےجس میں اہل دیار پورےجذبہ وشوق کےساتھ شریک ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ عوامی فلاحی کام بھی وقتاًفوقتاًہوتے رہتے ہیں۔
فدابھیروی نےادارہ اورصدرادارہ کےتعلق سے یہ قطعہ قلم بندکیاہے:

ہیں صدرعالمِ دوراں محمداحمد جب
توکس لیے یہ ادارہ نہ کامیاب رہے
فدابنے یہ علوم وفنون کا مرکز
جوذرہ اٹھے یہاں سےوہ آفتاب رہے

لحاظ اوقات

آپ کےنزدیک وقت کی بہت ہی قدروقیمت ہے آپ وقت کو ضائع نہیں ہونےدیتے بلکہ اسے کام میں استعمال کرتےہیں۔
برادر گرامی مولانا شاہ عالم مصباحی رضوی کا بیان ہے کہ حضرت کی بڑی صاحب زادی کے عقدکےموقع پرکسی خاص مجبوری کے تحت حاضری نہ ہوسکی توایک مرتبہ عدمِ شمولیت پرمعذرت کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں توشریک نہ ہوسکا ،شادی کی رسومات بحسن وخوبی سب بیت گئیں؟ تو فرمایاکیا بیت گئیںصرف وقت کانقصان ہوا۔
وقت کااتناپاس ولحاظ ہے کہ بیٹی کی شادی میں بھی غیرضروری اوقات کا صَرف ہونا آپ کے لیے بارِ خاطرہوا۔
آپ سرشت میں بڑے ہی خاموش طبع واقع ہوئے ہیں ۔مختصر اور بامعنی کلام آپ کی فطر ت ہے ۔تدبر،اخلاق ،عجزوانکساری اور قائدانہ صلاحیت ان کی ذات کے خاصے ہیں۔ایفاے عہد،عدل ومساوات،مزاج کی سادگی اورذات کی سادہ لوحی میں اپنی مثال آپ ہیں۔

صدرالعلماکےنام حضورحافظ ملت کاگرامی نامہ

محب محترم مولوی محمداحمدزیدمجدکم——-دعاےخیروسلام مسنون
محبت نامہ ملا آپ کی سعادت مندانہ زندگی اور مخلصانہ محبانہ روش اس منزل پرہےکہ میرے حاشیہ خیال میں بھی غلطی وناراضگی کاکوئی گوشہ شوشہ نہیں۔
میں آپ کامخلص دعاگوہوں مولائےکریم ہمیشہ بصحت وسلامتی شادآباد رکھے دین متین کی نمایاں وممتاز خدمات انجام دلائے۔(آمین)
آپ کے متعلق میراخیال یہ ہے کہ ابھی آپ اشرفیہ کو کچھ وقت اوردیں توآپ اورزیادہ قیمتی ہوجائیںگے۔
چناں چہ آپ کےوالدصاحب سےمیں نےکہاتھاآپ کی اور آپ کے متعلقین کی جورائےہو ۔اگرآپ کو خالص پور کی جگہ پسندہےاورجاناچاہتےہیں تومیری اجازت ہے اپنےوالدصاحب کو سلام کہہ دیجئے۔
عبدالعزیزعفی عنہ ۲۱شوال ۱۳۸۹ ؁ھ

بیعت وارادت

۲۶؍صفر۱۳۹۳ھ مطابق یکم اپریل ۱۹۷۳ء بروزیکشنبہ بریلی شریف محلہ سوداگران رضوی دارالافتامیں، شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیٔ اعظم ہندعلامہ الشاہ محمدمصطفیٰ رضاقادری بریلوی علیہ الرحمۃ (۱۳۱۰ھ ۱۸۹۲ء م ۱۴؍محرم ۱۴۰۲ھ /۱۹۸۱ء) سے بیعت وارادت کاشرف حاصل ہوا۔ اور ربیع الاول ۱۳۹۴ء کوسلسلہ معمریہ میں حضور حافظ ملت حضرت علامہ الحاج الشاہ عبدالعزیزمحدث مبارک پوری علیہ الرحمہ(۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ) سے طالب ہوئے
مجاہد ملت، رئیس الاتقیاحضرت علامہ حبیب الرحمٰن قادری علیہ الرحمہ نےفیض العلوم جمشید پورمیں ’’دلائل الخیرات شریف‘‘اورجملہ اورادو اشغال کی سند اجازت عطافرمائی۔

خلافت

ڈاکٹر سید محمدامین میاںدام ظلہ جانشین خانقاہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ شریف نے عرس قاسمی برکاتی کے موقع پر حضرت کو اجازت وخلافت عطافرمائی۔

زیارت حرمین شریفین

غالباً۱۹۹۵ءمیں پہلی بارزیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔دوسری مرتبہ ۲۰۱۶ء میں حج بیت اللہ کےلیے تشریف لے گئے،مدینہ منورہ اور بغداد معلی ہوتے ہوئے واپس ہوئے۔

صدرالعلما علماےاہل سنت کی نظر میں

(۱)قدرت نے انہیں ذہانت وفطانت اورقوت حفظ کے ساتھ مطالعہ کا ذوق شوق بہت زیادہ عطافرمایا،حفظ اوقات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے کوئی لمحہ ضائع نہیں ہونے دیتے ہروقت مصروف ،یہی وجہ ہے کہ جملہ علوم وفنون میں مہارت تامہ رکھتے ہیں خصوصیت کےساتھ علم ادب میں اقران پر فائق ہیں۔
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہےہندوستان میں رضویات کا ان جیسا کوئی واقف کار نہیں ان سب پر مستزاد یہ کہ انتہائی متواضع ،منکسر مزاج،قناعت پسند، زاہد صفت بزرگ ہیں،شریعت کے پابند،شبہات تک سے بچنے والے، تقویٰ شعار فرد،صاحب تصانیف دانش ور ۔
از: فقیہ عصر شارح بخاری مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
ماخوذ ابتدائیہ امام احمدرضا کی فقہی بصیرت
————————————-
(۲)فاضل جلیل محترم مولانا محمداحمدمصباحی زید لطفہ نے اس عظیم حاشیہ(جد الممتار) کا تعارف قلم بند فرماکر ایک اہم علمی فریضہ ادا کیا ہےایسے جلیل القدر حاشیہ کے تعارف کے لیے ایسے ہی جلیل القدر عالم کی ضرورت تھی،مولانامحمداحمد مصباحی ،الجامعۃ الاشرفیہ کےاستاذ المجمع الاسلامی کے رکن اوردارالعلوم فیض العلوم محمدآباد گوہنہ کے سابق پرنسپل ہیں ،وہ محقق بھی ہیں،مصنف بھی ہیں،مدرس بھی ہیں، مقرر بھی ہیںاورقلم کار بھی ان کی کئی نگارشات منظرعام پرآچکی ہیں جس سے ان کے تبحر علمی ،دینی وفقہی بصیرت اوردقت نظر کا اندازہ ہوتاہے۔فاضل موصوف سے راقم کا برسوںسے غائبانہ تعارف ہےلیکن اب یہ کیفیت ہوگئی ہے ؎

اے غائب از نظر کہ شدی ہم نشین دل

راقم فاضل ممدوح کی عنایات ونوازشات پیہم کا تہ دل سے ممنون ہے اوران کے خلوص للہیت ،عاجزی وانکساری سے متاثر، یہ خوبیاں علما میں عنقا ہوتی جارہی ہیں۔مولاتعالیٰ مولاناے محترم کے علمی فیوض وبرکات کو جاری وساری رکھے۔ آمین۔
از :پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد دام فضلہ، تقدیم،’’ امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ‘‘
—————————-
علامہ محمداحمدمصباحی بھیروی حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ) کےقابل فخر شاگرداوربرصغیر پاک وہند کی مایۂ ناز مادر علمی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ہندوستان کے شیخ الادب ہیں ۔آپ قدیم وجدید علوم کے ماہر کئی علمی تحقیقی کتب کے مصنف اور متر جم ہیں حضرت امام احمدرضا بریلوی رحمہ اللہ کے متعدد رسائل وفتاویٰ کو ترجمہ تحقیق اور تحشیہ کےبعد عام اردو خواں حضرات کےلیے آسان بناچکے ہیں، اس وقت فن لغت مبسوط اوروقیع کتاب تحریرکررہے ہیں۔
علامہ مصباحی امام احمدرضا خاں بریلوی قدس سرہ کی علمی شخصیت اور آپ کی تحقیقات جلیلہ کو علم ودانش کی دنیا میں متعارف کرانے میں نمایاں کردار اداکرنے والے ادارہ المجمع الاسلامی مبارک پور کے روح رواں ہیں ۔
از:محمدصدیق ہزاروی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور پیش لفظ۔فتاویٰ رضویہ سوم جدید
————————
علامہ محمداحمدمصباحی حضورحافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ م ۱۳۹۶ھ)کی نگاہ کیمیا کا انتخاب اور ان کی پاکیزہ دعاؤں کاثمرہ ہیں ۔
بدرالقادری
بانی و مہتمم اسلامک اکیڈمی، ہالینڈ
————————-
ایک محمداحمدمصباحی اوردوسرے عبدالحکیم شرف قادری ان دونوں حضرات کے قلم میں، میں نےیہ خاص بات نوٹ کی کہ خالص درسگاہی ہونے کے باوجود یہ حضرات ایک شگفتہ اور معیاری نثر لکھنے پر قدرت رکھتے ہیں ۔
اسید الحق عاصم قادری
مدرسہ عالیہ قادریہ ، بدایو ں شریف
جام نور اکتوبر ۲۰۰۷ءص ۴۵

سپاس نامے

(۱)
ہوالقادر
بخدمت گرامی منزلت فاضل جلیل عالم نبیل استاذالاساتذہ حضرت علامہ مولانا محمد احمد صاحب مصباحی شیخ الادب الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی)
————————————

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی

آج مورخہ ۱۸؍ستمر ۱۹۸۸ء کو مدینۃ الاولیا بدایوں شریف میں، ہندوستان کاسب سے قدیمی مرکزی ادارہ مدرسہ عالیہ قادریہ مولوی محلہ جس کی تعلیمی خدمات، صدیوں پرمحیط ہیں جسے ایک طویل عرصہ سے جامع معقول و منقول حضرت علامہ محمد شفیع صاحب، مرتب از مرتبین فتاویٰ عالمگیری ،وبحرالعلوم حضرت مولانا محمد علی صاحب جانشین قاضی مبارک ،وحضرت شاہ عین الحق، وحضرت شاہ فضل رسول، وتاج الفحول حضرت شاہ محب رسول، وسرکار صاحب الاقتدارحضرت شاہ مطیع الرسول، ومفتی اعظم شاہ عاشق الرسول رضی اللہ تعالیٰ عنہم، جیسی شہرۂ آفاق ہستیوں اور آسمان علم وفضل کے درخشندہ ستاروں کی سرپرستی حاصل رہی ہے اوراس وقت جس کی زمام قیادت بقیۃ السلف، عمدۃ الخلف، شیخ طریقت حضرت مولانا الحاج حافظ عبدالحمید سالم القادری زیب سجادہ آستانہ عالیہ قادریہ مجیدیہ کےمبارک ہاتھوں میں ہے۔
نسیم صبح کے خوشگوار جھونکوں کی طرح ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت نے تشریف ارزانی فرمائی ہے جن کی ذات سراپا انجمن ہے ۔ دارالتصنیف ہویا دارالافتا، تحریرہویاادبی بزم،درس گاہ یا دانش کدہ، وہ ہرمیدان کے شہسوار ہیں اورہرمحفل کی شمع، اگر ایک طرف ان کے شاگردوں کاسیل رواں ہے تو دوسری طرف ان کی تحریر وتصنیف سے ہند اور بیرون ہند کی فضا مشک بار ہے۔
آپ کی تشریف ارزانی ہم لوگوں کے لیےنہایت بابرکت اورباعث مسرت ہے ۔ مدرسہ عالیہ کے ہم جملہ متعلمین حضرت کی کرم فرمائی کے ممنون ومشکور ہیں اورحضرت کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں ساتھ ہی اس بات کی بھی گزارش کرتے ہیں کہ حضور والا صفات اپنے چند پند آمیز کلمات سے ہم لوگوں کو نوازیں تاکہ وہ ہماری زندگی کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں، ساتھ ہی یہ تمنا ہے کہ حضور والا آئندہ بھی اسی طرح اپنی نوازشات سے مستفیض فرماتے رہیں گے۔

ہم نےکچھ اشک مسرت کے کیے ہیں حاضر
توجوچاہے تویہی اشک گہر ہوجائیں

فقط
طلبہ مدرسہ عالیہ قادریہ مولوی محلہ بدایوں شریف (یوپی)
۵؍صفرالمظفر ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۸؍ستمبر۱۹۸۸ء روزیکشنبہ

(۲)
اعتراف خدمات

بموقع عرس قاسمی برکاتی بتاریخ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۰ء
بجناب عالی، عمدۃ المحققین، مولانا محمداحمد مصباحی مد ظلہ العالی صدرالمدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی ۔
——————————–
عصرحاضر میں سواد اعظم اہل سنت وجماعت میں ،وہ چند شخصیات جو بیک وقت علم وفضل ،بےنیازی،تفکر وتدبر اورمثبت ومتواظن فکر وعمل کی حامل ہیں ان میں حضرت مولانا محمد احمد مصباحی صدرالمدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی شخصیت بہت ہی نمایاں اورمنفرد ہے۔حضرت والا، جہاں ایک متبحر عالم ،باکمال مدرس،صاحب طرز نثرنگاراوربلند پایہ محقق ہیں وہیں دین وسنیت کےبے لوث خادم اوراخلاص وایثار کےسچے آئینہ دار ہیں۔آپ کی علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس کا احاطہ دشوار ہے۔خدمات کا ایک طویل سلسلہ ہے جن میں کچھ توایسی ہیں جن سے اہل نظر بخوبی واقف ہیں مگر انہی کی تہہ میں بہت سی ایسی خدمات بھی ہیں جوعام نگاہوں سے پوشیدہ ہیں جب کہ وہ آپ کی مخلصانہ جدوجہد ، جفاکشی اورعرق ریزی کانتیجہ ہیں۔
صاحب رائے اپنی دنیا میں مگن ،وقت کےقدردان ،تحقیقی نظر اورتعمیری فکر کے حامل ،کم گو اوربسیار جو ۔یہ تمام صفات آپ کی شخصیت میں مجتمع ہوکر آپ کو ہزاروں سے ممتاز اور نمایاں کردیتی ہیں۔ اہل سنت کی عظیم درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی صدارت ونظامت کے گراں بار فرائض کے ساتھ تحریروقلم اور علم وتحقیق کی دنیا سے خود کو جوڑے ہوئے ہیں،تدوین قرآن ،امام احمد رضا اور تصوف،معین العروض والقوافی،تنقید معجزات کا علمی محاسبہ ،تعارف جدالممتار ، حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن اور مواہب الجلیل لتجلیۃ مدارک التنزیل آپ کے قلمی وعلمی شاہ کار ہیں۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کے متعدد رسائل کی توضیح وتسہیل اوران پر حواشی بھی آپ کا یاد گار کام ہے۔ اہل سنت کےمنفرد تصنیفی وتحقیقی ادارہ المجمع الاسلامی مبارک پور کی اپنے احباب کےساتھ تاسیس اوراس کی سرپرستی ،مجلس برکات کے ذریعہ تصنیف وتالیف اورتحقیق وحاشیہ نگاری کی قیادت ورہنمائی،تنظیم المدارس کاقیام اوراس کے تحت متوازن نصاب تعلیم کی تشکیل کلیدی کردار اورمجلس شرعی مبارک پور کی صدارت۔یہ سب ایسے زریں کارنامے ہیں جن میں سے ہرایک کے لیے الگ الگ گراں قدر ایوارڈ پیش کیاجانا چاہیے ۔ان تمام اوصاف کے ساتھ جو وصف حضرت مصباحی صاحب کو معاصرین میں ممتاز کرتاہے وہ علمی گہرائی کےساتھ اہل سنت وجماعت کی خاموش فکری تعمیر وقیادت ہے یہی وجہ ہے کہ اہل سنت وجماعت کے موجودہ اندرونی مسائل ونزاعات میں حضرت مصباحی صاحب کی رائے کی طرف سب کی نظراٹھتی ہے اوران کے مختصر جملے مطولات پر بھاری ہوتے ہیں اورمضطرب ذہنوں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں ۔
اراکین آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ ان کے ان عظیم الشان کارناموں کے اعتراف میں ان کے حضور ہدیہ سپاس پیش کرتے ہوئے فخر وخوشی محسوس کرتے ہیں اورمستقبل میں آں موصوف سے دین و ملت کی بیش از بیش خدمات کی توقع کرتے ہیں،خداےتعالیٰ انھیں اس کی توفیق بخشے۔

ایں دعااز ما واز جملہ جہاں آمین باد
اراکین آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ
بڑی سرکار مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ یوپی

بحکم حضرت صاحب سجادہ پروفیسر سید شاہ محمدامین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی

(۳)

بخدمت عالی خیرالاذکیا،عمدۃ المحققین، حضرت علامہ محمداحمد مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ 
سابق صدرالمدرسین وناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پوراعظم گڑھ
بموقع تحریری وتقریری مسابقہ طلباجامعہ صمدیہ پھپھوندشریف
۲۱؍۲۲؍محرم الحرام ۱۴۳۷ھ مطابق ۴؍۵؍نومبر ۲۰۱۵ء
——————————–
برصغیرہندوپاک کی جن شخصیتوں کو صحیح معنوں میں عبقری اورعہد ساز کہا جاسکتا ہے ان میں ایک نمایاں نام، خیرالاذکیا،عمدۃ المحققین ، عالم اجلّ، حضرت علامہ محمداحمد مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔آپ جماعت اہل سنت کے قدآور عالم دین ،بلند پایہ ناقد ومحقق ،صاحب طرز ادیب اوربافیض استاذ ومربی ہیں،زہدو تقویٰ،توکل واستغنا، تواضع وانکساری آپ کے نمایاں اوصاف ہیں آپ اپنی گوناگوں خصوصیات اوراوصاف وکمالات کی بنیاد پر اہل سنت کے سرخیل علمامیں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں ۔۱۸؍ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ کو ضلع اعظم گڑھ موجودہ ضلع مئو کےقصبہ بھیرہ ولیدپور میں آپ کی ولادت ہوئی مدرسہ رحیمیہ بھیرہ،مدرسہ اشرفیہ ضیاءالعلوم خیرآباد مئومیں ابتدائی تعلیم کےبعد ماہ شوال ۱۳۸۶ھ میں اہل سنت کی عظیم درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں داخلہ ہوا ۔جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں پوری توجہ اورلگن کےساتھ اکتساب علم کیااورحضور حافظ ملت کے علمی فیضان سے بہرہ مند ہوکر۱۳۸۹ھ میں فراغت حاصل کی۔دارالعلوم فیضیہ نظامیہ باڑا ہاٹ بھاگل پور،مدرسہ فیض العلوم جمشید پور،دارالعلوم ندائے حق جلال پوراور مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآبادگوہنہ میں اپنا علمی فیضان تقسیم فرمایا،۱۴۰۶ھ میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں آپ کا تقرر ہوا ،اگست ۲۰۰۱ء تک بحیثیت استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں خدمات انجام دیتے رہے،۲۰۰۱ء میں تعلیمی امور میں درک ومہارت ،اعلیٰ فکروتدبر،حد درجہ دیانت اورفرض شناسی کی بنیاد پر آپ کو الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کا صدرالمدرسین منتخب کیا گیا،۲۰۰۱ءسے ۲۰۱۵ء تک آپ نے صدارت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیے، آپ کاعہد صدارت الجامعۃ الاشرفیہ کاعہدزرین کہلاتاہے۔آپ نےاپنی فکر رسااوراعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کےذریعہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے تعلیمی معیار کو بام عروج تک پہنچایا،جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں اعلیٰ تعلیمی نظم ونسق آپ کی مخلصانہ کدوکاوش کارہین منت ہے۔
خیرالاذکیاعلامہ محمداحمد مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے صدراعلیٰ ،مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نگراں اورالمجمع الاسلامی مبارک پور کے بانی ورکن ہیں،آپ اپنے ان تمام عہدوں کےفرائض کو پوری دیانت کےساتھ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ،مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ذریعہ درسی کتب کےحواشی اورتعلیقات کےساتھ از سرنو اشاعت کا عظیم کام آپ ہی کی سرپرستی میں انجام پارہاہے۔
خیرالاذکیاعلامہ محمداحمد مصباحی حفظہ اللہ تعالیٰ تصنیف وتالیف کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں عربی اور اردو زبان میں یکساں عبور حاصل ہے،آپ کی تحریریں تحقیقی ہونے کےساتھ ساتھ ادب کا بھی اعلیٰ شاہکار ہوتی ہیں ،رواں دواں نثرلکھتے ہیں، آپ کے زر نگار قلم سے دس سے زائد کتابیں اردو اورعربی زبان میں معرض وجود میں آچکی ہیں،جن میں ،حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن ،تدوین قرآن ،معین العروض،مواہب الجلیل لتجلیۃ مدارک التنزیل،امام احمدرضا اورتصوف ، امام احمد رضا کی فقہی بصیرت جدالممتار کے آئینے میںخاص طور
سے اہمیت کی حامل ہیں، آپ نے ایک درجن سے زائد کتب کو اپنے حواشی ،تقدیم اورتصحیح کےساتھ المجمع الاسلامی مبارک پور سے شائع کیا،آپ کی تصنیف حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن عرب وعجم میں بہت مقبول ہوئی،مصر کے ایک عالم شیخ خالد ثابت مصری نے متاثرہوکراسے اپنے مطبع دارالمقطم مصرسے شائع کیا،انھوں نے اس کتاب پر تاثر پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگراس کے مصنف مولانامحمداحمد مصباحی کوئی اورکتاب نہ لکھتے تو صرف یہی ان کے لیے کافی ہوتی، اوران کے حق میں نبی کریم ﷺ کی یہ بشارت ثابت ہوتی کہ آخری زمانے میں میری امت کو شدید بلا پہنچے گی، جس سے وہی شخص نجات پائے گا جس نے اللہ کا دین پہچان لیا ،پھر اپنی زبان اوردل سے اس پرجہاد کیا،تووہی ہے جس کے لیے سبقت کرنےوالے انعام ثابت ہوں گے۔
آپ شہزادہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا قادری نوری علیہ الرحمہ سے بیعت وارادت رکھتے ہیں اوراعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ کی تصانیف کی اشاعت اورتسہیل وتخریج سے حد درجہ شغف رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آپ نے فتاویٰ رضویہ کی جلد اول ،سوم،چہارم اورنہم کی عربی وفارسی عبارتوں کا ترجمہ کیا،جدالممتار ،مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید ،اور مجیرمعظم کو پہلی بار اپنے اشاعتی ادارہ المجمع الاسلامی مبارک پور سے شائع کیا،بخاری شریف پر اعلیٰ حضرت کی تعلیقات کو بھی مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پورسے پہلی بار شائع کیا، فکر رضا کی ترسیل واشاعت کے حوالے سے ایک مکمل لائحہ عمل رکھتے ہیں۔
آپ علم وعمل کے ساتھ اپنے اخلاق وکردار کےاعتبار سے بھی اپنی مثال آپ ہیں ،کشادہ قلبی،اعلیٰ ظرفی،خندہ روئی،صبروضبط اورسادگی وتکلفی آپ کی فطرت ہے،قحط الرجال کے اس دور میں آپ کی شخصیت ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم نعمت ہےجس کی جتنی قدرکی جائے کم ہے۔ہم بہت شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہماری دعوت پر طلباکے مسابقےمیں فیصل کی حیثیت سے شرکت کی اورسفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ اپنا قیمتی وقت دے کر ہمارے ادارے کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے شرف یاب کیا،اللہ تعالیٰ آپ کے علم وفضل میں بےپناہ ترقی عطافرمائےاورحاسدین کےحسد سے محفوظ فرمائے،آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین ۔
سید محمدانور چشتی
خادم جامعہ صمدیہ، دارالخیر، پھپھوند شریف ،آستانہ عالیہ صمدیہ مصباحیہ، پھپھوند شریف

(۴)

سپاس نامہ حافظ ملت ایوارڈ
بخدمت گرامی صدرالعلما،عمدۃ المحققین حضرت علامہ محمداحمد مصباحی دام ظلہ العالی
ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
———————————-
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

نہایت ہی مسرت کی بات ہے کہ’’ تنظیم ابناے اشرفیہ‘‘مبارک پورآج ۴۳؍ویں عرس عزیزی کے مبارک موقع پر صدرالعلما،عمدۃ المحققین حضرت علامہ محمداحمد مصباحی دام ظلہ کی گوناگوں دینی وعلمی،تعمیری وتنظیمی،تربیتی واصلاحی اور تدریسی وتصنیفی خدمات کے اعتراف میں’’ حافظ ملت ایوارڈ ‘‘تفویض کررہی ہے۔
آپ کی ولادت ۱۸؍ذی الحجہ ۱۳۷۱ھ مطابق ۹؍ستمبرکو سہ شنبہ کےدن بھیرہ ولیدپور ضلع اعظم گڑھ (حال ضلع مئو) یوپی میں ہوئی ۔آپ کے والد ماجد جناب محمد صابراشرفی مرحوم (متوفیٰ ۱۴۱۱ھ ۱۹۹۰ء)اسلام وسنیت میں بڑے متصلب پابند صوم صلوۃ نہایت سادہ مزاج اورخداترس تھے۔
حضرت صدرالعلما مدظلہ العالی نے ابتدائی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ محترمہ تسلیمہ بنت عبدالرشید بن عبدالصمد (محلہ پورہ دیوان مبارک پور)سے گھر ہی میں حاصل کی ،پھردرجہ سوم تک پرائمری تعلیم مدرسہ اسلامیہ رحیمیہ بھیرہ میں ہوئی، درجہ سوم پڑھنے کے بعد ۸؍اپریل ۱۹۶۲ءمطابق ۴؍ذی قعدہ ۱۳۸۱ھ کو مدرسہ اشرفیہ ضیاءالعلوم خیرآباد ضلع مئو میں داخلہ لیا اورپانچ سال تک وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۰؍شوال ۱۳۸۶ھ مطابق ۲۲؍جنوری ۱۹۶۷ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اور۱۰؍شعبان ۱۳۸۹ھ مطابق ۲۳؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو علما ومشائخ کے ہاتھوں دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
دستار فضیلت کے بعد تدریس کے لیے ایک جگہ آئی والد ماجد نے تدریس کے لیے اجازت دیدی مگر جب آپ کے استاذ گرامی حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کو معلوم ہواتو انھوں نے روک دیا اورفرمایاکہ ’’میں انھیں اورقیمتی بنانا چاہتاہوں‘‘پھر آپ نے تقریباً ایک سال دارالعلوم اشرفیہ ہی میں رہ کر مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،اس مختصر سی مدت میں حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے انھیں اتنا قیمتی بنادیاکہ اب ان کی درس گاہ فیض سے مستفیض ہونے والے بھی قیمتی ہوجاتے ہیں ۔
تعلیم سے فراغت کے بعد دارالعلوم فیضیہ نظامیہ ،بارا ہاٹ اشی پورضلع بھاگل پور بہار،مدرسہ فیض العلوم جمشید پور،دارالعلوم ندائے حق جلال پور، ضلع امبیڈ کر نگر اور مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد گوہنہ ضلع مئو میں تدریسی خدمات انجام دیں، مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدآباد میں ۱۹۷۸ءسے ۱۹۸۶ءتک ۹؍سال صدرالمدرسین کی حیثیت سے نہایت ذمہ داری کے ساتھ تعلیم وتربیت کافریضہ انجام دیا۔پھر ۹؍شوال ۱۴۰۶ھ جون ۱۹۸۶ء کو برصغیر کی سب سے عظیم اور بافیض درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں شیخ الادب والتفسیر کی حیثیت سے تقرر ہوا اور نائب صدرالمدرسین کے منصب پر رہتے ہوئے جامعہ کے نظام تعلیم وامتحان میں ایسی شان دار اورنمایاں تحسین واصلاح فرمائی کہ دینی مدارس کی دنیا میں آپ ایک عظیم ماہر تعلیم اور بے مثال ناظم امتحان کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔
جولائی ۲۰۰۰ءجون ۲۰۱۴ءتک ۱۴؍سال آپ جامعہ اشرفیہ کے صدرالمدرسین کے عہدے پر فائز رہے اور اخلاص وللہیت کے ساتھ شب وروز کی محنت وجانفشانی سے جامعہ کا تعلیمی اور امتحانی نظام اوج ثریا تک پہنچادیا ۔آپ کی صدارت کے زمانے میں جامعہ میں تخصص فی الحدیث ،تخصص فی الادب اور تقابل ادیان جیسے عظیم تعلیمی وتحقیقی شعبوں کا اضافہ ہوا ،اور مجلس برکات جیسا تحقیقی وتصنیفی اور اشاعتی شعبہ قائم ہوا جس سے نئی درسی کتابوں کی تالیف کے ساتھ بہت سی قدیم درسی کتابوں کی تعلیقات ،حواشی اور شرحیں بھی لکھی گئیں،اوراس کے زیر اہتمام اب تک سو سے زائد درسی کتابیں چھپ کر اہل علم سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہیں ۔ یہ سارا کام آپ کی بافیض رہنمائی ،نگرانی،اوراصلاح ونظرثانی کی برکت سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچا۔
آپ کے دور صدارت ہی میں مجلس شرعی جیسے بےمثال علمی فقہی اورتحقیقی شعبے کی نشاۃ ثانیہ بھی ہوئی جس کے زیراہتمام اب تک ۲۴؍فقہی سمینار ہوچکے ہیں ، جن میں اَسّی سے زائد جدید،پیچیدہ اورمشکل فقہی مسائل کے فیصلے ہوچکے ہیں۔
۲۰۱۴ء میں عہدۂ صدارت سے سبک دوشی کے بعد جامعہ کے ذمہ داروں نے ناظم تعلیمات کااہم منصب آپ کو تفویض فرمایاجس کے بجاطور پر آپ حق دار تھے۔
آپ کے عہد صدارت ہی میں ۲۰۰۸ء میں تنظیم المدارس کا قیام عمل میں آیا، جس کا اہم مقصد دینی مدارس کو باہم مربوط کرنا اوریکساں نصاب تعلیم سے جوڑ ناہے ،اسی کے زیر اہتمام ایک نصاب ساز کمیٹی کی تشکیل ہوئی جس نے کامل غوروخوض کے بعد مدارس کے قدیم نصاب میں ضروری اور مفید اصلاح وترمیم کی ، اس کی سرخیل اورروح رواں حضرت علامہ محمداحمد مصباحی مدظلہ ہی تھے ۔
جامعہ اشرفیہ میں تقررسے پہلے ہی آپ نے اپنے مخلص رفقا کےساتھ مل کر المجمع الاسلامی جیسے تحقیقی ،تصنیفی اور اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھی جس سے اب تک درجنوں دینی واسلامی کتابیں شائع ہوچکی ہیں یہ ادارہ تحقیق وتصنیف کا مزاج رکھنے والے نوجوان علما کے لیے علم وتحقیق اور تصنیف و تالیف کےسفر میں سنگ میل ثابت ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تصنیف وتحقیق کی بےمثال صلاحیت عطافرمائی ہے، اب تک آپ کے قلم سے کثیرعلمی وتحقیقی مقالات کےساتھ عربی اور اردو میں درجنوں کتابیں معرض تحریر میں آچکی ہیں،جن میں تدوین قرآن ،امام احمد رضا اور تصوف،تنقید معجزات کا علمی محاسبہ ،امام احمد رضا کی فقہی بصیرت اور حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حدوث الفتن کو علمی دنیا میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی یہ عربی کتاب رضا اکیڈمی ممبئی ،مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور کےساتھ ہی دارالمقطم قاہرہ مصر اور دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان سے بھی چھپ چکی ہے۔
آپ کے اوصاف حمیدہ میں خلوص وایثار،امانت ودیانت،تقویٰ وپرہیز گاری،احساس ذمہ داری ،خوداعتمادی وخود داری،نماز باجماعت کی پابندی، اورادو وظائف اورسنن ونوافل پراستقامت ،کاموں میں سرعت،تحریرمیں فصاحت، زبان وبیان میں بلاغت،تقریرمیں اختصار وجامعیت ،علوم فنون میں مہارت، مسائل میں باریک بینی ونکتہ سنجی،معانی میں گہرائی وگیرائی،ظاہر وباطن میں یکسانیت،دین داروں سے محبت ،بےدینوں سے نفرت،حق گوئی وبےباکی، رعب ودبدبہ ،عالمانہ وقار اورزاہدانہ اوصاف بہت نمایاں ہیں۔لایعنی مصروفیتوں سے اجتناب اورحفظ اوقات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔علم دین کی تعلیم خالصاً لوجہ اللہ دیتے ہیںاورطلبہ میں دینی ،علمی،عملی اورانسانی وقلمی صلاحتیں پیداکرنے میں ممکنہ تدابیر عمل میں لاتے ہیں۔
رب کریم سے دعاہے کہ وہ اپنے محبوبان بارگاہ کےصدقے آپ کو عمر خضر عطافرمائے آپ کا علمی وعملی فیضان اسی طرح جاری وساری رکھے اورآپ کو مزید خدمات جلیلہ مقبولہ کی توفیق عطافرمائے،آمین
عبدالحفیظ عفی عنہ
صدر تنظیم ابناے اشرفیہ وسربراہ اعلیٰ
جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
یکم جمادی الآخرہ ۱۴۳۹ھ ، ۱۸؍فروری ۲۰۱۸ء شب دوشنبہ

اوصاف حمیدہ

آپ کواللہ تعالیٰ نےاپنےخاص فضل وکرم سے اوصاف حمیدہ اور خصائص جمیلہ کادھنی بنایاہے۔ خلوص وایثار،جودوکرم،امانت
ودیانت،تقویٰ وپرہیز گاری،احساس ذمہ داری،خوداعتمادی وخود داری،عہدوپیمان میں پختگی، حفظ اوقات،جماعت کی پابندی، اورادووظائف اورسنن ونوافل پراستقامت،کاموں میں سرعت، تحریر میں فصاحت، زبان وبیان میں بلاغت،تقریرمیں اختصار وجامعیت، علوم وفنون میںمہارت، مسائل میں باریک بینی ونکتہ سنجی،معانی میں گہرائی وگیرائی، ظاہرو باطن میں یکسانیت، دین داروں سےمحبت،بےدینوں سے نفرت، بدمذہبوں سےاجتناب، بزرگوںکا احترام، اکابرکاادب، اصاغر پرشفقت، مقدمات کے فیصلے میں دوربینی، ہمت وشجاعت، حق گوئی وبےباکی، رعب و دبدبہ،عالمانہ وقار،نظم ونسق میں کمال،افہام وتفہیم کا ملکہ،بےلوث خدمات کا جذبہ اور اعمال وکردار کے اعلیٰ نمونےجویہاں دیکھے،کم دیکھنےمیں آئے۔(مولاناعبدالغفاراعظمی مصباحی ،فتنوں کاظہور اوراہل حق کا جہاد ص ۱۳)
(تذکرہ علماے بھیرہ ولید پور ،از مولانا محمد ابولوفا رضوی، صفحہ ۱۱۰ تا ۱۴۱ ملخصاً و تصرفاً)

نوٹ: مزیدتفصیل کے لئے علامہ محمد احمد مصباحی ، احوال وافکار کامطالعہ فرمائیں، جو اُن کے احوال میں ۵۶۰ صفحات پر مشتمل ، مولانا توفیق احسن برکاتی مصباحی مدظلہ العالی کا قلمی شاہکار ہے۔

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضور مفتی اعظم ہند کی مختصر حیات مبارکہ
ولادت:۲۲ ؍ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۷؍جولائی ۱۸۹۳ء ۔ وصال ۱۴؍ محرم ۱۴۰۲ ھ ۱۲ ؍ نومبر۱۹۸۱ ء

[از احمد القادری مصباحی]

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ولادت: آفتابِ علم و معرفت ، ماہتابِ رشد و ہدایت ، واقفِ اسرار شریعت ، دانائے رموز ِحقیقت ، تاجدارِ اہلسنت جامعِ معقول و منقول ، حاویٔ فروع و اصول، شمس العارفین ، نائب سید المرسلین ، متکلم ابجل ، محدث اکمل ، فقیہِ اجل مقتدائے عالم ، شہزادۂ مجدد اعظم، مولانا شاہ مصطفی رضا قادری نوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے ۲۲ ؍ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۷؍جولائی ۱۸۹۳ء بروز جمعہ بوقت صبح صادق، بریلی شریف میں، اس خاکدان ِ گیتی پر قدم رکھا ۔
اسم گرامی: ولادت کے وقت والد ِ ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان مار ہرہ مقدسہ میں جلوہ افروز تھے ،وہیں رات میں خواب دیکھا کہ لڑکا پیدا ہوا ہے خواب ہی میں آل الرحمن نام رکھا ۔ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسین احمد نوری جانشین حضرت شاہ آل رسول احمد مارہروی قدس سِرّہما نے ابو البرکات محی الدین جیلانی نام تجویز فرمایا، محمد کے نا م پر عقیقہ ہوا،ا ور مصطفی رضا عرف قرار پایا۔
دعاے امام:امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے بارگاہ ربُّ العزت میں ایک بار دعا کی تھی پرور دگار عالم ! مجھے ایسافرزند عطا فرما، جو عرصۂ دراز تک تیرے دین متین اور تیرے بندوں کی خدمت کرے ۔ لبہائے امام سے نکلی ہوئی دعا شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی اور مفتی ٔ اعظم ہند کی شکل میں ارشاد و ہدایت کاآفتاب بن کر چمکی۔
تعلیم : بسم اللّٰہ خوانی کی رسم کے بعد امام اہلسنت، محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کاباضابطہ آغاز ہوا،اساتذہ میں مولانا شاہ رحم الٰہی منگلوری اور مولا نا بشیر احمد علی گڑھی علیہما الرحمہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
فتوی نویسی: بعد فراغت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات طیبہ ہی میں فتویٰ نویسی شروع کردی تھی ۔ اس کی ابتدا کاواقعہ قارئین کے لئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ ابھی نوعمری کاعالم تھا کہ ایک دن آپ دارالافتا ء میںپہونچے ،دیکھاکہ حضرت مولانا ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ فتویٰ لکھ رہے ہیں ۔ مراجع کے لئے اٹھ کر فتاویٰ رضویہ، الماری سے نکالنے لگے ۔ فرمایا : کہ کیا فتاوٰی رضویہ دیکھ کر جواب لکھتے ہو۔ مولانا نے فرمایا اچھا تم بغیر دیکھے لکھ دو تو جانیں ۔ آپ نے فوراً لکھ دیا وہ رضاعت کامسئلہ تھا۔ یہ آپ کا پہلاجواب تھاجو اپنی زندگی میں قلم بند فرمایا، اصلاح وتصحیح کے لئے جواب، امام اہلسنت کی خدمت میں پیش کیا گیا، صحتِ جواب پر امام اہلسنت بہت خوش ہوئے اور صح الجواب بعون اللہ العزیز الوہاب ۔ لکھ کر دستخط ثبت فرمایا ۔ یہی نہیں بلکہ انعام کے طور پر ابوالبرکات محی الدین جیلانی اٰآل الرحمن ، محمد عرف مصطفی رضاکی مہر مولانا حافظ یقین الدین علیہ الرحمہ کے بھائی سے بنوا کر عطافرمائی ۔ یہ واقعہ ۱۳۲۸ھ کاہے۔
اس کے بعد بارہ سال تک والد ماجد کی زندگی میں فتویٰ نویسی کرتے رہے جس کا سلسلہ قریباً آخر عمرتک جاری رہا۔
بشارت:حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری علیہ الرحمہ نے مفتیٔ اعظم ہند قدس سرہٗ کی ولادت باسعادت کی خبر پاکر امام اہلسنت سے فرمایا تھا۔ مولانا ۔ جب میں بریلی آئوں گا تو اس بچہ کو ضرور دیکھوں گا ۔ وہ بہت ہی مبارک بچہ ہے۔ چنانچہ جب آپ بریلی شریف رونق افروز ہوئے اس وقت مفتیٔ اعظم ہند علیہ الرحمہ کی عمر صرف چھ ماہ کی تھی خواہش کے مطابق بچہ کو دیکھا، اس نعمت کے حصول پر امامِ اہلسنت کو مبارکباد دی اورفرمایا یہ بچہ دین وملت کی بڑی خدمت کرے گا ،اور مخلوقِ خدا کو، اس کی ذات سے بہت فیض پہونچے گا یہ بچہ ولی ہے۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ انسان دینِ حق پر قائم ہوں گے یہ فیض کا دریا بہائے گا۔ یہ فرماتے ہوئے حضرت نوری میاں نے اپنی مبارک انگلیاں بلند اقبال بچہ کے دہن مبارک میں ڈال کر مرید کیا ’’اور اسی وقت تمام سلاسل کی اجازت وخلافت عطا فرمائی‘‘۔ حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ نے بچپن میں جو پیشن گوئی فرمائی تھی، حرف بحرف ثابت ہوئی۔ آپ نے خدمت خلق کے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے آج کے زمانہ میں اس کی مثال مفقود ہے ۔
ایک واقعہ: برادر بزرگ حضرت مولانا محمد احمد صاحب قبلہ مصباحی آنکھوں دیکھا حال بیان فرماتے ہیں۔
جن دنوں وہ فیض العلوم جمشید پور میں تھے۔ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ ایک بار تشریف لائے واپسی کے وقت علامہ ارشد القادری مد ظلہ العالی نے فون سے ٹرین کا وقت معلوم کیا۔ ٹرین کا وقت ہوچکا تھا۔ اتنے میں ایک آدمی تعویذ کے لئے آگیا۔ علامہ ارشد القادری صاحب نے اسے ڈانٹا۔ مگر حضرت نے منع فرمایا۔ تعویذ لکھنے کے لئے اتر پڑے حضرت علامہ نے عرض کی کہ حضور ٹرین چھوٹ جائے گی۔ آپ نے ارشاد فرمایا چھوٹ جانے دو۔ دوسری ٹرین سے جاؤں گا۔ کل قیامت کے دن اگر خداوند کریم نے پوچھ دیا تو میں کیا جواب دوں گا یہ کہہ کر آپ نے سواری سے سامان اتروالیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر خدمت ِخلق اور خشیتِ الٰہی کا کتنا جذبہ کارفرماتھا۔
بیعت وخلافت: آپ بیعت حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ سے تھے۔ اور خلافت واجازت والد ماجد امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے حاصل تھیں۔ اور۲۵؍صفر المظفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۲۸؍اکتوبر ۱۹۲۱ء جمعہ کوامام اہلسنت کا وصال ہوا ،خلفِ اکبر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا قادری علیہ الرحمہ کومنصب سجاد گی اور خانقاہ رضویہ و منظر اسلام کے تمام امور و فرائض کی ذمہ داری سپر د ہوئی، آپ کے وصال کے بعد امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ کی سجادگی و جانشینی بہ اتفاق آراء حضرت مفتیٔ اعظم علیہ الرحمہ کے سپرد ہوئی، بفضلہ تعالیٰ آخر عمر تک اس منصب پر رونق افروز رہے اور فیض بیکران جاری فرماتے رہے ۔ آپ کے مریدین و خلفاء میں بیشمار علماء کرام و مشائخ عظام ہیں، جو آپ سے بیعت و خلافت سے مستفید ہوئے۔
سفرحرمین طیبین:آپ کئی بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے ۔تیسرےحج سے ذی الحجہ۱۳۹۱ھ مطابق جنوری ۱۹۷۲ء کو مستفید ہوئے اس حج کی خصوصیت یہ ہے کہ آزادی کے بعد فوٹو لازمی ہونے کے باوجود بغیر فوٹوکے حج کی منظوری ملی، جیسا کہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے ذی الحجہ ۱۳۸۶ ھ مارچ ۱۹۶۶ ء میں بغیر فوٹو کے حج کیا تھا ۔
متقی بن کر دکھائے اِس زمانےمیں کوئی ایک میرے مفتی اعظم کا تقوی چھوڑکر (از تاج الشریعہ علیہ الرحمہ)
وصال: اسم رسالت محمد ﷺ کے عدد مبارک کے مطابق ۹۲ سال، اس خاکدان گیتی پر جلوہ افروز رہے۔ آپ کے دور حیات میں ارتداد کی لہر، شدھی تحریک کے نام سےاٹھی، آپ نے اس کا سد باب کیا، خلافت کمیٹی بنی، تحریک ترک موالات، نان کو آپریشن، ایمرجنسی وغیرہ کےمعاملات سامنے آئے، آ پ نے بلا خوف و خطرہر ایک کا شرعی حکم، واضح او ر روشن فرمایا۔ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو، راہِ ہدایت پر لگایا ، بیشمار مریدین و متوسلین و معتقدین چھوڑے، اور بہت سی تصنیفات و تالیفات یادگار چھوڑیں پھر ۱۳؍ محرم ۱۴۰۲ھ کادن گزار کر۱۴؍محرم ۱۴۰۲ھ مطابق ۱۲؍ نومبر ۱۹۸۱ء، رات ایک بج کر چالیس منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ مجدد اعظم امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی۔اللہ عزوجل ان پر بے شمار رحمتوں کا نزول فرمائے۔
تصانیف:
جوتصانیف معلوم ہوسکیںحسب ذیل ہیں۔
(۱)فتاویٰ مصطفویہ، تاریخی نام المکرمۃ النبویۃ فی الفتاوٰی المصطفویۃ (۱۳۲۹ھ)
(۲)وقعات السنان فی حلق المسماۃ بسط البنان (۱۳۳۰ھ)
(۳)ادخال السنان الی حَنَکِ الحَلَقٰی بسط البنان (۱۳۳۲ھ)
(۴)الموت الاحمرعلی کل الجنس الاکفر (۱۳۳۷ھ)
(۵ )طرق الہدی والارشاد الی احکام الامارۃ والجہاد (۱۳۴۱ھ)
(۶) تنویر ا لحجہ بالتوا ء الحجہ
(۷) طرد الشیطان (عمدۃ البیان)
(۸)الحجۃ البا ہرہ
(۹)القول العجیب فی جواز التثویب (۱۳۳۹ھ)
(۱۰)مسائل سماع
(۱۱) سامان بخشش (۱۳۴۷ھ)
(۱۲) اشد العذاب علی عابدالخناس (۱۳۳۰ھ)
(۱۳) الرمح الدیانی علی راس الوسواس ا لشیطانی (۱۳۳۱ھ)
(۱۴) النکۃ علی مراٰۃ کلکتہ (۱۳۳۲ھ)
(۱۵) صلیم الدیان لتقطیع حبا لۃ الشیطان (۱۳۳۲ھ)
(۱۶) سیف القہار علی عبید الکفار (۱۳۳۲ھ)
(۱۷) مقتل کذب وکید (۱۳۳۲ھ)
(۱۸) مقتل اکذب واجہل (۱۳۳۲ھ)
(۱۹) وقایۃ اہل السنۃ عن مکردیوبند والفتنہ (۱۳۲۲ھ)
(۲۰) الٰہی ضرب بہ اہل الحرب (۱۳۳۲ھ)
(۲۱) حجۃ واہرہ بوجوب الحجۃ الحاضرۃ (۱۳۴۲ھ)
(۲۲) القسوۃ علی ادوار الحمر الکفرۃ (۱۳۴۳ھ)
(۲۳) نہایۃ السنان (۱۳۳۲ھ)
(۲۴) شفاء السعی فی جواب سوال بمبئی
(۲۵) داڑھی کا مسئلہ
(۲۶) فصل الخلافۃ (۱۳۴۱ھ)
(۲۷) الکاوی فی العادی والغاوی (۱۳۳۰ھ)
(۲۸) القثم القاصم للداسم القاسم (۱۳۳۰ھ)
(۲۹) نور الفرقان بین جندالالٰہ واحزاب الشیطان(۱۳۳۰ھ)
(۳۰) وہابیہ کی تقیہ بازی۔
تالیفات
(۳۱)ملفوظات اعلیٰ حضرت ۔چار جلدیں
(۳۲) الطاری الداری لہفوات عبدالباری (۱۳۳۹ھ)
(۳۳) نفی العار من معائب المولوی عبدالغفار (۱۳۳۲ھ)
حواشی
(۳۴) حاشیہ فتاوی رضویہ جلد اول
(۳۵) حاشیہ فتاوی رضویہ جلد پنجم
(۳۶) حاشیہ تفسیر احمدی
(۳۷) حاشیہ فتاوی عزیزیہ
(۳۸)کشفِ ضلالِ دیوبند (حواشی وتکمیلات الاستمداد ۱۳۳۷ھ)
خلفاء :مریدین وخلفاء لا تعداد ہیں ۔ ان میں بیشتر علماء ومشائخ ہیں جن کا احصار قریباً ناممکن ہے،چند مشاہیر خلفاء حسب ذیل ہیں ۔
[۱] مفسر اعظم ہند، مولانامحمد ابراہیم رضا قادری، جیلانی میاں، علیہ الرحمہ ،بریلی شریف
[۲] تاج الشریعہ مولانا محمد اختر رضا قادری ،ازہری ( علیہ الرحمہ) بریلی شریف
[۳] غزالی دوراں، علامہ سید احمد سعیدصاحب کاظمی( علیہ الرحمہ) ملتان، پاکستان
[۴] مجاہدِ ملت ،علامہ حبیب الرحمن ( علیہ الرحمہ) رئیس اعظم ،اڑیسہ
[۵] شیر بیشہ اہل سنت ،مولانا حشمت علی خاں علیہ الرحمہ، پیلی بھیت
[۶] رازی زماں، مولانا حاجی مبین الدین ( علیہ الرحمہ) امروہہ ،مرآد اباد
[۷] شہزادۂ صدر الشریعہ ،مولانا عبد المصطفی ازہری( علیہ الرحمہ) کراچی ، پاکستان
[۸] شارح بخاری، مفتی محمد شریف الحق امجدی ( علیہ الرحمہ) گھوسی، مئو
[۹] شمس العلماء ،مولانا قاضی شمس الدین احمد( علیہ الرحمہ) جونپور
[۱۰] محدث اعظم پاکستان، مولانا محمد سردار احمد( علیہ الرحمہ) لائل پور ، پاکستان
[۱۱] خطیب مشرق مولانا مشتاق احمدنظامی( علیہ الرحمہ) الہ آباد
[۱۲] پیر طریقت،مولانا قاری مصلح الدین( علیہ الرحمہ) کراچی، پاکستان
[۱۳] وقار العلما،مولانا مفتی وقار الدین( علیہ الرحمہ) کراچی، پاکستان
[۱۴] استاذ العلماء، مولانا محمدتحسین رضا خاں ( علیہ الرحمہ) بریلی شریف
[۱۵] قائدملت ،مولانا ریحان رضا خاں( علیہ الرحمہ) بریلی شریف
[۱۶] امین ملت، ڈاکٹر سید محمد امین میاں برکا تی، سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ شریف
[۱۷] نبیرۂ اعلی حضرت،مولانا محمد منان رضا خاں ، مہتمم جامعہ نوریہ رضویہ، باقرگنج، بریلی
[۱۸] خطیب الہند، مولانا توصیف رضا خاں، صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العوام، بریلی
[۱۹] مولانا مفتی مجیب اشرف رضوی ( علیہ الرحمہ) مہتمم دارالعلوم امجدیہ ،ناگپور
[۲۰] جانشین حافظ ملت، مولانا عبد الحفیظ عزیزی ، سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور
[۲۱]مفکر اسلام ،حضرت مولانا بدرالقادری، بانی و مہتمم ،اسلامک اکیڈمی ،ہالینڈ
[۲۲]شہزادۂ صدرالشریعہ، مولانا بہاء المصطفٰی امجدی، امام وخطیب مسجد بہاری پور، بریلی
[۲۳] مولانا حافظ مبین الہدی نورانی،( علیہ الرحمہ) بانی دارالعلوم امام حسین، جمشید پور
[۲۴] مولانا مجیب الاسلام نسیم رضوی( علیہ الرحمہ) ادری، ضلع مئو
[۲۵] پیر طریقت، مولانا ڈاکٹر غفران علی صدیقی، نیو جرسی، امریکا
[۲۶] پیر طریقت مولانا سید مبشر علی میاں( علیہ الرحمہ) بہیڑی، بریلی شریف
[۲۷]حضرت مولانا سید عباس علوی مکی( علیہ الرحمہ) مکۃ المکرمہ
[۲۸]حضرت مولانا سید نور محمد مکی( علیہ الرحمہ)
[۲۹]حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم، سمستی پوری، پرنسپل مدرسہ قادریہ، بدایوں
[۳۰] حضرت مولاناسید افضل حسین ، مونگیری ( علیہ الرحمہ) پاکستان
[۳۱] حضرت مولانا فیض احمد اویسی( علیہ الرحمہ) بھاولپور، پاکستان
[۳۲] حضرت مولانا مفتی محمد حسین ( علیہ الرحمہ) سکھر، پاکستان
[۳۳] حضرت مولانا حافظ احسان الحق قادری، فیصل آبادی ( علیہ الرحمہ) پاکستان
[۳۴] حضرت مولانامفتی محمد خلیل برکاتی، حیدرآبادی( علیہ الرحمہ) پاکستان
[۳۵] حضرت مولانا سید زاھد علی قادری فیصل آبادی ،پاکستان
[۳۶]حضرت مولاناغلام رسول رضوی، فیصل آبادی( علیہ الرحمہ) پاکستان
[۳۷]حضرت مولانا مفتی غلام سرور قادری( علیہ الرحمہ) لاہور ،پاکستان
[۳۸] مولانا خادم رسول رضوی، شیخ الحدیث مسعودالعلوم ،بہرائچ
[۳۹]حضرت مولانا ولی النبی قادری ، پاکستان
[۴۰] حضرت مولانا محمد منظور فیضی، علیہ الرحمہ، بھاولپور ، پاکستان، وغیرہم
مشاہیر تلامذہ
چند مشہور شاگردوں کے اسماء گرامی ۔
۱۔ شیربیشۂ اہل سنت ،حضرت علامہ محمد حشمت علی خاں علیہ الرحمہ
۲۔ محدثِ اعظم پاکستان، حضرت علامہ مفتی سردار احمد ( علیہ الرحمہ) فیصل آباد
۳۔ فقیہ عصر، مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خاں( علیہ الرحمہ) بریلی شریف
۴۔ شارح بخاری، علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی ( علیہ الرحمہ) گھوسی
۵۔ محدث ،کبیر، علامہ ضیاء المصطفی قادری، بانی و مہتمم، جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی
۶۔ بلبل ہند ،مفتی محمد رجب علی( علیہ الرحمہ) نانپارہ ، بہرائچ شریف
۷۔ شیخ العلماء، مفتی غلام جیلانی( علیہ الرحمہ) گھوسی
مستفیدین اور درس افتاء کے تلامذہ کی فہرست لمبی ہے ، اس لئے چند مشہور تلامذہ پر اختصار کیا گیا ۔
(مآخذو مراجع: تقدیم فتاوی مصطفویہ، تاجدار اہل سنت،جہان مفتی اعظم ، تذکرہ ٔ اکابرِ اہل سنت پاکستان، و غیرہ)

احمد القادری مصباحی

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

بحرالعلوم علیہ الرحمہ کی یادیں، احمد القادری

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الـحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدالانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہٖ واصحابہ اجمعین

بحرالعلوم کی یادیں اور باتیں
ولادت: ۷؍ربیع الآخر ۱۳۴۴ھ ۲۶؍نومبر ۱۹۲۵ء
وصال: ۱۵ محرم ۱۴۳۴ھ ۲۹؍نومبر ۲۰۱۲ء

[احمد القادری مصباحی]

استاذ گرامی، شیخ الاساتذہ، بحرالعلوم ،حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی مبارکپوری علیہ الرحمۃ والرضوان بےشمار علوم وفنون کے جامع، درس وتدریس کےبادشاہ، فضل وکمال کے شہنشاہ،میدان خطابت کے شہسوار ،تصنیف وتالیف کے سلطان تھے۔ فضائل وکمالات کے آسمان پر متمکن ہوتے ہوئے سادگی، خاک ساری اور تواضع کی زمین پراپنی مثال آپ تھے۔
ایک مدت دراز تک جامعہ اشرفیہ مبارکپورکے مفتی،شیخ الحدیث،صدرالمدرسین اورشیخ الجامعہ رہے۔ حافظ ملت کے بڑے ہی عزیر اور چہیتے شاگرد تھے ،ہرموقع پر حافظ ملت کے ساتھ ساتھ، قدم بہ قدم ،دست وبازو بنے رہے۔دارالعلوم اشرفیہ کو عربی یونیورسٹی کی شکل میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں پیش پیش رہے۔ جامعہ اشرفیہ کادستور مرتب کرنے میں آپ کااہم کردار ہے۔ جس وقت حافظ ملت اوراشرفیہ کے خلاف آندھی طوفان آئے۔ مخالفت کےبادل گرجے، آپ حافظ ملت کے ساتھ جبل مستقیم بن کرڈٹے رہے۔
جب سے میں نے ہوش کی آنکھیں کھولیں، تب سے آپ کوجانتاہوں۔ ہمارے والد مرحوم کا،ان کے والد مرحوم سے دوستانہ تھا۔ طالب علمی میں بحرالعلوم میرابڑا خیال رکھتے،فرماتے تھے کہ تمہارے والد ہمارے والد کے دوستوں میں تھے۔ انجمن اہل سنت والجماعت بھیرہ کےسالانہ جلسہ میں حافظ ملت علیہ الرحمہ اور حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ ایک ساتھ تشریف لاتے اور بیان فرماتے تھے۔ غریب خانہ پر بھی کبھی کبھی تشریف لاتے اورخدمت کاموقع عنایت فرماتے۔ بچپن کی سنی ہوئی ایک تقریر کے الفاظ مجھے اب تک یاد ہیں۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے فرمایا: یہ بحرالعلوم ہیں،بحرالعلوم۔ علم کے سمندر اورعلم کی لائبریری ہیں۔ استاذ کریم کایہ فرمان اپنے عظیم شاگرد کے لیے سند کادرجہ رکھتاہے۔

طریقۂ تعلیم اورپابندی اوقات
درجۂ ثانیہ میں ہماری جماعت کی قلیوبی حضرت بحرالعلوم کے پاس تھی۔ اس میں حضرت کاطریقۂ درس یہ تھا۔ پہلے طلبہ سے عبارت پڑھاتے۔ اس میں افعال آتے توان کاصیغہ باب وغیرہ کی تفصیل پوچھتے، اسم ہوتا، تواس کااعراب، وجوہ اعراب کی قسمیں، لغت وغیرہ کاسوال کرتے۔ پھر طلبہ سے ہی ترجمہ کرواتے۔ اس طریقۂ تعلیم کی بنیاد پرطلبہ کواگلے سبق کی بھرپور تیاری اورکافی مطالعہ کے بعد ان کی درس گاہ میں جانا پڑتاتھا ورنہ عبارت خوانی صحیح نہیں ہوسکتی تھی نہ ہی ترجمہ۔ وہاں ہر غلطی پرتادیب بھی ہوتی تھی۔ اس طرح طلبہ میں مطالعہ اورخود سے عبارت حل کرنے کا ذوق بیدار ہوگیا۔
بخاری شریف بھی ہماری حضرت بحرالعلوم کےپاس تھی یہ پہلی اوردوسری گھنٹی میں ہوا کرتی تھی۔ حضرت وقت کےبڑے پابند تھے سلام سے دس پندرہ منٹ پہلے ہی آجاتے۔ میں نے کبھی ان کودرس گاہ میں لیٹ آتے نہیں دیکھا، بڑے والہانہ انداز میں پڑھاتے۔ دونوں گھنٹیاں پوری کی پوری تدریس میں صرف کرتے۔ اوقات درس میں نہ کسی سے ملاقات کرتے، نہ کسی سے بات، نہ آفس کاکام، نہ طلبہ کی کوئی درخواست لیتے دیتے، نہ کبھی آفس یاکسی دوسری کلاس میں جاکر درس کاناغہ کرتے بلکہ اوقات تعلیم سے زائد پڑھاتے۔موسم گرمامیں جب ایک وقت کامدرسہ ہوتاتو وہ رک جاتے۔ دوپہر کے بعد بھی ہمیں بخاری شریف پڑھاتے۔ اس خارجی وقت کی تعلیم کی بھی ویسی ہی پابندی کرتے،جس کے باعث ہم نے بخاری شریف کی دونوں جلدیں ختم کیں۔ بخاری شریف جب ختم کرنے کا وقت ٓایا،توولی کامل حضرت مولانا مبین الدین امروہوی علیہ الرحمہ کو دعوت دی، جن کو حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ زندہ ولی کہاکرتے تھے۔ ختم بخاری کے لیے بحرالعلوم نے فرمایا کہ میں چاہتاہوں کہ کسی بزرگ سے ختم کرایاجائے۔(حالاں کہ آپ خود بھی بڑے بزرگ تھے یہ آپ کی تواضع اورانکساری تھی)۔
چندہ کرنے میں عزت
اشرفیہ سے فراغت کے بعد تدریس کے لیے میرے لیے جگہ آئی، وہاں جانے سے قبل ملاقات واجازت کے لیے حاضر ہوا۔ باتوں باتوں میں میری زبان سے نکلا ”وہاں چندہ بھی کرناہے“ اس پرفرمایا: ارے یہ توبہت اچھاکام ہے، حافظ ملت بھی چندہ کرتے تھے۔ ہم لوگ بھی چندہ کرتے ہیں، اس میں تو اورعزت ملتی ہے۔ دیکھو ہم جاتے ہیں لوگ عزت سے بٹھاتے ہیں، کھلاتے، پلاتے ہیں اور عزت سے چندہ بھی دیتے ہیں۔ مدارس اسی سے چلتے ہیں اگر چندہ نہ ہوتو یہ مدارس کیسے چلیں گے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے بھی چندہ کیاہے۔ ان کی اثرانگیز باتیں دل نشین ہوگئیں اور آج تیس سال ہونے کے بعد بھی یاد ہیں۔
حرمین طیبین میں جماعت اوربحرالعلوم کی سادگی
ایک بار دوران تعلیم گفتگو میں فرمایا: دیکھو حرمین طیبین میں اپنی الگ نماز پڑھنے اورجماعت کرنے میں کوئی دقت نہیں۔ میں اور قاری یحییٰ صاحب(علیہ الرحمہ) بحری جہاز سے شعبان ہی میں پہنچ گئے تھے۔ روزانہ ایک عمرہ کرتے اورایسے ہی سادگی سے رہتے تھے۔ حرم میں ادھر ادھر کہیں بھی جگہ ملتی اپنی جماعت کرلیتے، کوئی روکتاٹوکتانہیں تھا۔ ان کی نگاہیں صرف ان لوگوں پر ہوتی ہیں جو آن بان سے رہتے ہیں ان کے آگے پیچھے ،دائیں بائیں لوگ عقیدت سے چلتے ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا شخص ہے پھراس پر نظررکھتے ہیں۔ ہم لوگ توکرتا،ٹوپی،تہبند یاپاجامہ میں بڑی سادگی سے رہتے ایسے لوگ توہزاروں پھرتے رہتے ہیں ان کوکون پوچھتاہے۔
جامع الاحادیث بحرالعلوم کی آرزو کی تکمیل
ایک بار حضرت بحرالعلوم مدرسہ فیض العلوم محمدآباد گوہنہ تشریف لائے اس وقت میں وہاں زیر تعلیم تھا، ملاقات کے لیے حاضر ہوا اورحضرت مولانا عارف اللہ صاحب فیضی بھی تھے۔ فتاوی رضویہ شریف کا ذکر چھڑ گیا۔ آپ نے فرمایا:اگر کوئی فتاویٰ رضویہ کی احادیث اکٹھا کردے تویہ ایک بڑا کام ہوجائےگا۔ جب ایک عرصہ کےبعد جامع الاحادیث منظر عام پر آئی تو میں نے اسے آپ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی آرزوؤں کی تکمیل سمجھی۔
تقریر کے خلاف تقریر
جامعہ اشرفیہ میں میرے دوران تدریس سکٹھی مبارک پور میں اصلاحِ معاشرہ کانفرنس منعقد ہوئی اس میں صرف علما، مقررین اور دانشور مدعوتھے۔عوام نہ تھے۔ اس کا موضوع تھا،
معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو؟
ہرشخص اپنی صواب دیدسے رائے پیش کررہاتھا۔ اس درمیان ایک صاحب کھڑے ہوئےاور انھوں نے فرمایا: اب تقریروں سے کچھ ہونے والا نہیں ، اسی موضوع پراپنا پورا بیان دیا، جب وہ تقریر کرکے بیٹھے، توحضرت بحرالعلوم نےبرجستہ فرمایاکہ دیکھیے ! مولانا ،تقریر کےخلاف ایک تقریر کرگئے۔اس پرحاضرین ہنس دیے اوراس ایک ہی جملہ سے ان کی پوری تقریر پرپانی پھر گیا۔
شمس العلوم کی قدرومنزلت
بیرون ہند رہتے مجھے سترہ سال ہوگئے، جب بھی میں ہندوستان جاتا، توپابندی سے حضرت بحرالعلوم سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتا، فتاویٰ رضویہ کےدورانِ اشاعت ایک بار شمس العلوم گھوسی ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا۔ دورانِ گفتگو فرمایا: دیکھیے شمس العلوم کے لوگوں نے مجھے کتنی چھوٹ دےرکھی ہے، بس دو گھنٹیاں بخاری کی پڑھاناہے،اس کے بعد،ان سے کوئی مطلب نہیں کہ میں کیاکرتا ہوں ،سوؤں یاجو چاہوں کروں ،اپنی مرضی، یہ روم بھی دے دیاہے۔تو بجائے سونے کے میں فتاویٰ رضویہ کےکام میں لگ جاتا ہوں اگر انھوں نے مجھے اتنی چھوٹ نہ دی ہوتی توکیسے یہ کام ہوتا۔ پھر دیر تک اپنا طریقۂ کاراور فتاویٰ رضویہ کی کئی فائلیں دکھاتے رہے۔
انجمن اشرفی دارالمطالعہ
یہ دارالعلوم اشرفیہ کے طلبہ کی قدیم انجمن اور لائبریری ہے اس کے زیر اہتمام مبارک پور کاجلوس میلاد النبی پوری شان وشوکت کے ساتھ نکلتاہے۔ اس کے قیام وارتقامیں حضرت کی محنت وجانفشانی کابڑادخل ہے۔
ایک بار گفتگوکےدرمیان مجھ سے فرمایا: اس لائبریری کے قیام کے لیے زمانۂ طالب علمی میں ہم نے بڑی محنتیں کی ہیں، کسی جگہ قلمی نسخہ کا پتا چل جاتا توہم وہاں کا سفر کرتے ،پہلے اس کوحاصل کرنے کی کوشش کرتے ،نہ ملتا توپھر اس کی نقل کرکے لائبریری میں جمع کرتے ،اس طرح لائبریری میں ہم نے بہت سے قلمی نسخےاورنایاب کتابیں جمع کی ہیں۔
اپنے ہاتھ سے کام کی لذت
میرے پڑھنے کے زمانہ میں ایک بار درس گاہ میں فرمایا اپنی محنت اوراپنے ہاتھ سے جوکام ہوتاہے، اس کی لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔
ہم تلسی پور(گونڈہ،یوپی) میں پڑھاتے تھے، اپنے ہاتھ سے لکڑی چیرتے،آگ بناتے،پھر اس پر روٹی پکاتے، آدھی پکی آدھی کچی ،پھر بیٹھ کرکھاتے تواس کامزہ ہی کچھ اور ہوتا۔”ہم“ سے مراد حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ اورحضرت مولانامحمدشفیع مبارک پوری علیہ الرحمہ۔
حضرت نے اس مشقت کو لذت سے تعبیر کیا۔ پریشانیاں اس طرح خندہ پیشانی کےساتھ برداشت کرلینا ہمارے اساتذہ کی شان ہے۔
استاذ الاساتذہ کی آمد
ایک بار حضرت مولانا قاری محمدعثمان اعظمی علیہ الرحمہ (مصنف مصباح التجوید) جامعہ اشرفیہ مبارک پور تشریف لائے ۔ حضرت بحرالعلوم نے ہم تمامی طلبہ کو ہال کمرے میں جمع کرایا۔ پھر خود کھڑے ہوئے اور حضرت قاری صاحب کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا: یہ ہمارے استاذ ہیں، جب ہمارا کوئی بزرگ آتاہے، توہم طلبہ کوجمع کرتے ہیں تاکہ طلبہ ان کی نصیحت سنیں اوراس پر عمل کریں۔
یہ پہلا موقع تھا جومیں نے جاناکہ حضرت قاری صاحب ہمارے شیخ الجامعہ کےاستاذ ہیں۔ حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ علمائے کرام کی بڑی عزت کرتے۔ اپنے سے کم علم اور کم رتبہ کی بھی حوصلہ افزائی کرتے۔ ہم لوگ توادنیٰ شاگرد ٹھہرے، مگر جب کبھی ملاقات کے لیے جاتے بڑی خندہ پیشانی سے ملتے۔ جب تک میں وہاں بیٹھا رہتا پوری طرح متوجہ ہوکر گفتگو فرماتے بغیر ضیافت کے واپس نہیں آنے دیتے۔
فیض الحکمت ترجمہ ہدایۃ الحکمت پر تقریظ جلیل
جن دنوں بھائی جان قبلہ(استاذ گرامی حضرت علامہ محمداحمدمصباحی دامت برکاتہم العالیہ) کے پاس، فیض العلوم میں، ہدایۃ الحکمت پڑھ رہاتھا اس کاترجمہ لکھتا جاتا اوربھائی جان قبلہ اس کی اصلاح بھی فرماتے جاتے۔ اس ترجمہ کےچھپوانے کاوقت آیا تومیں استاذ محترم حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کےپاس(مبارک پوران کےدولت کدہ پر) اسے دکھانے کے لیے حاضر ہوا، حضرت نے فرمایا اسے تھوڑے دنوں میرے پاس رکھ دو تاکہ میں دیکھ لوں، پھر دوبارہ اسے لینے کے لیے حاضر ہوا، تو فرمایاکہ اس کی شرح بھی لکھ دو۔اوراس کاطریقہ بھی بتایا اوردیرتک سمجھا یا، برادر گرامی، حضرت مولانا شکیب ارسلان صاحب وہاں موجود تھے۔وہ میری حمایت میں بولے ایسے ہی چھپ جانےدیجیے۔ یہ سن کر فرمایا: دیکھو دیکھو یہ بزنس مین ہیں، اسی اعتبار سے سوچتے ہیں ،شرح سے کتاب ضخیم ہوجائے گی، قیمت بڑھ جائے گی، طلبہ کم خریدیں گے۔
پھرطباعت کی اجازت عطافرمائی ،اور دوپہر کےکھانے کے لیے روک لیا، کھانا کھلاکر رخصت فرمایا۔اوریہ تقریظِ جلیل لکھ کر عنایت فرمائی۔

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، نحمدہٗ ونصلی علی رسولہِ الکریم

مولوی احمد القادری صاحب مصباحی، ہمارے اشرفیہ کے سعادت مند فاضلین میں سے ہیں۔فلسفہ کی ابتدائی کتاب ہدایۃ الحکمت مولوی الہ آباد کورس میں شامل ہے۔ اور ایک نامانوس فن ہونے کی وجہ سے امتحان دینے والے طلبہ کے لئے پریشانی کا سبب بنی ہوئی تھی، مولانا نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے وقت کی ایک بڑی ضرورت پوری کی ہے، اور مولوی عالم، فاضل کی لائن اختیار کرنے والے ہزاہا ہزار طلبہ کو شکر گزار ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کتاب سے درس نظامیہ کے طلبہ کو بھی بڑی مدد ملے گی۔
دعاء ہے کہ مَولیٰ تبارک َ و َ تعالی ان کی اس کوشش کو کامیاب بنائے اور اس کے نفع کو عام فرمائے۔ آمین
عبد المنان اعظمی
۲؍ شوال ۱۴۰۴ھ
(شیخ الحدیث و صدرالمدرسین ، جامعہ اشرفیہ مبارکپور، اعظم گڑھ، یوپی، ہند)
آخری ملاقات
امسال شوال ۱۴۳۳ھ اگست ۲۰۱۲ء ہندوستان کاسفر ہوا، مدارس عربیہ کھلنے کے بعد دارالعلوم اہل سنت شمس العلوم گھوسی جانا ہوا۔ حضرت بحرالعلوم سے ملاقات کےلیے حاضر ہوا۔ میرے ساتھ مولانا قاری مہتاب عالم صاحب بھی تھے،دیکھتے ہی دوکرسیاں اور منگائیں،دست بوسی کاشرف بخشا اوراپنے قریب بٹھایا، فوراً چائے کاآڈر دیا، میں نے عذر خواہی کی ،مگر منظور نہ ہوئی، میں اسے اپنے لیے سعادت اور اعزاز سمجھ کرخاموش ہوگیا۔
خیریت اورمزاج پرسی کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر بے تکلف گفتگو فرمانے لگے اپنی اور خانگی باتوں کےبعد سنی دارالاشاعت کےقیام اوراس زمانے کی دشواریوں اور کامیابیوں کاتذکرہ فرمایا۔ پھر فتاویٰ رضویہ کے بچے ہوئے نسخوں سے متعلق فرمایا۔ کتاب کابنڈل بنانا،پارسل کرنا، بیچنا مجھ سے کہاں ہوتا، تو میں یہ کرتا ہرسال اپنی زکات سے فتاویٰ رضویہ کے نسخے خریدلیتا اور مستحق طلبہ میں
تقسیم کردیتا۔اس طرح ساری کتابیں نکل گئیں۔اب میں نے سنی دارالاشاعت کاسارا اثاثہ، رقم اورساری چیزیں مولانا محمدحنیف خاں صاحب رضوی کودیدی ہیں۔ انھوں نے تصنیف وتالیف کاادارہ(امام احمدرضا اکیڈمی) بنایاہے اس کے حوالہ کردیں ہیں۔وہ بھی اسی طرح کاادارہ ہے۔دوسرے اکثرادارےتو ذاتی ہیں، قومی چیز تھی ،قومی ادارہ میں دےدی۔
چائے پینے کے بعد دوبارہ دست بوسی کی، اپنے سرپر ان کادست مبارک رکھا اور وہاں سے اجازت لے کررخصت ہوا۔ کیا معلوم تھاکہ یہ ملاقات آخری اور تاریخی بن جائے گی۔

احمدالقادری
اسلامک اکیڈمی امریکہ
۸؍صفر۱۳۳۴ھ، یکم جنوری ۲۰۱۳ء

(مزیدتفصیل کے لئے تجلیات رضا ، امام احمد رضا اکیڈمی ، بریلی شریف کابحرالعلوم نمبرمطالعہ فرمائیں، جو اُن کے احوال میں بارہ سو صفحات پر مشتمل ہے)

الاسلامی.نیٹ
WWW.AL ISLAMI.NET

غوث اعظم اور گیارہویں شریف

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور گیارہویں شریف

(ولادت: ۳۰؍شعبان ۴۷۰ھ، ۱۷ ؍مارچ ۱۰۷۸ء ، وصال: ۱۱؍ربیع الآخر۵۶۱ھ ، ۱۲؍ فروری ۱۱۶۶ء)

غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ ۳۰؍شعبان ۴۷۰ھ میں جیلان میں پیداہوئے۔پیدائشی ولی تھے، ان کے ماں باپ بھی ولی تھے اور نانا بھی ولیِّ کامل تھے۔
ابتدائی تعلیم جیلان میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کےلیے بغداد شریف کاسفر کیا اوربڑے جلیل القدر عالم دین بنے۔ علماےبغدادہی نہیں بلکہ بلادِ اسلامیہ کے علماسے سبقت لےگئے۔ آپ کوتمام علما پر فوقیت حاصل ہوگئی ، سب نے آپ کواپنا مرجع بنالیا۔
اللہ تعالیٰ نےآپ کی مقبولیتِ تامہ، عوام وخواص کے دلوں میں ڈال دی اورآپ کوولایت عظمی اور غوثیت کبریٰ کے درجہ پرفائز کیا۔آپ کی مجلس میں بے شمار لوگ سواروپیدل آتے اورمجلس میں جگہ نہ ملتی تواس کےارد گرد بیٹھ کر وعظ سنتے یہاں تک کہ سننے والوں کی تعداد ستر ہزار کے قریب پہنچ جاتی ۔ چار سو آدمی قلم دوات لے کرمجلسِ وعظ میں بیٹھتے اورجوکچھ سنتے اسے لکھتے رہتے۔ مجلسِ وعظ میں یہود ونصاریٰ آپ کے ہاتھ پراسلام لاتے ،ڈاکو، بدمذہب اور فساق وفجار اپنی بد اعمالیوں سے آپ کےسامنے توبہ کرتے۔ لاکھوں سے زیادہ لوگ آپ کےہاتھ پر تائب ہوئے۔
کرامات:
آپ دودھ پینے کے زمانے میں، جب رمضان آتا تودن میں ماں کا دودھ نہ پیتے، جیلان میں مشہور ہوگیا تھا کہ سادات کے فلاں گھرانے میں ایسا بچہ پیدا ہواہے، جورمضان میں دن کےوقت دودھ نہیں پیتا۔
جب آپ مکتب جاتے فرشتوں کی جماعت ساتھ ہوتی اورجب مکتب پہنچ جاتے توفرشتوں کو بچوں سے یہ کہتے ہوئے آپ خود سنتے اے بچو! اللہ کےولی کےلیے جگہ کشادہ کرو۔
کتنے مُردے آپ کی دعاسے زندہ ہوئے ،بیمار اورکوڑھی شفایاب ہوئے، حاجت مند وں کی حاجتیں پوری ہوئیں۔ دستِ مبارک تو بڑی بات ہے آپ کاقدمِ مبارک جس کی گردن پر پڑگیا وہ اللہ کا ولی بن گیا۔
ارشادات:
آپ نے ارشاد فرمایا: جوشخص خود کو میری طرف منسوب کرے اورمجھ سے عقیدت رکھے توحق تعالیٰ اسے قبول فرمائےگا، اس پر رحمت فرمائےگا،اسے توبہ کی توفیق بخشے گا، اور جنت میں داخل فرمائےگا۔
فرماتے ہیں: قیامت تک میں اپنے مریدوں کی دست گیری کرتارہوں گا۔ فرمایا جوکسی مصیبت میں میرے وسیلے سے امداد چاہے تواس کی مصیبت دور ہو، جوکسی سختی میں میرا نام لے کر پکارے اسے کشادگی ہو اور جومیرے وسیلہ سے اللہ کی بارگاہ میں اپنی مرادیں پیش کرے توپوری ہوں۔ (اخبار الاخیار،از: شیخ عبدالحق محدث دہلوی ملخصاً ص:۳۳ تا ۵۰)
آپ کا وصال ۱۱؍ربیع الآخر۵۶۱ھ بغداد شریف میں ہوا۔ وہیں آپ کامزارِ مبارک، مرجعِ خلائق ہے۔ ماہ ربیع الآخر میں ہرسال وہاں آپ کاعرس پاک بڑی ہی شان وشوکت سے منعقد ہوتاہے۔ انھیں کی یاد میں اس ماہ میں گیارہویں شریف کی جگہ جگہ محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ بعض بزرگان دین ہرماہ چاند کی گیارہویں تاریخ کوغوث پاک کی نیاز کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں چند ایسے علماے کرام کے اقوال تحریر کیے جاتے ہیں جوسبھی مکاتب فکر کے نزدیک مستند اورمسلمہ بزرگ تسلیم کیے جاتے ہیں:
(۱)شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ( ولادت: ۱۱۱۴ھ؍ ۱۷۰۳ء ۔ وصال: ۱۱۷۶ھ ؍ ۱۷۶۲ء) خود گیارہویں شریف کرنے کے قائل تھے اورملفوظاتِ مرزا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ (ولادت:۱۱۱۱ھ شہادت :۱۱۹۵ھ؍۱۷۸۰ء ) میں ،گیارہویںشریف کی فضیلت پر تفصیل سے اُن کا قول نقل کیاگیا ہے۔ (ملفوظاتِ مرزا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ ص ۷۷)
(۲)حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت: ۹۵۸ھ وصال:۱۰۵۲ھ) فرماتے ہیں:بےشک ہمارے شہروں میں سیدناغوث اعظم کی گیارہویں شریف مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی اولاد ومشائخ میں معروف ہے (ماثبت بالسنۃ ،از:شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ)
(۳)شیخ امان اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ (۸۷۶ھ متوفی ۹۹۷ھ) جوبرصغیر کےزبردست ولی گزرے ہیں۔ان کےبارے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ خود غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس کرتے اوراس دن کھاناپکوا کر تقسیم کرتے۔ (اخبار الاخیار،از:شیخ عبدالحق محدث دہلوی،ص:۴۹۸)
(۴)سیدشیخ عبدالوہاب متقی رحمۃ اللہ علیہ(۹۰۰۲ھ م ۱۰۰۱ھ) صاحبِ کرامت بزرگ گزرے ہیں، آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے۔۴۴؍حج کیے،حضور خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین ﷺ کو(خواب یابیداری) میں سو مرتبہ سے زیادہ دیکھا، ایسے جلیل القدر بزرگ بھی غو ث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس کیاکاکرتے تھے۔ (ماثبت بالسنۃ،از: شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ)
چوں کہ گیارہویں شریف کی محفل منعقد کرنا نیک کام ہے، وعظ ونصیحت اورتبلیغِ اسلام کاایک بڑا ذریعہ ہے، اس لیے علماے کرام، سلف صالحین اوراولیاے کاملین اسے کرتے آئے۔جیسے سیرت النبی کےجلسے،دینی اجتماعات، اسلامک کنونشن، کانفرنسیں اورسمینار ہوتے ہیں جن سے عوام کوکچھ سیکھنے کاموقع ملتاہے، اسی طرح گیارہویں شریف کی محفلوں اورتقریروں سے اولیاےکرام کےحالات، ان کی عبادت وریاضت، تقویٰ اورپرہیز گاری کے واقعات سے عبرت ونصیحت حاصل کرنے کاموقع ملتاہے، خیرات وصدقات اورایثار و قربانی کرنے کاجذبہ پیدا ہوتاہے۔
حدیث پاک میں ہے:
مَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةًحَسَنَۃٌ فَلَہٗ اَجْرُھَاوَاجرُ مَنْ عمِلَ بها من بَّعْدِهٖ مِنْ غَيْرِ أن يَنقُصَ من اُجُوْرِهِم شيءٌ۔
جواسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا تواُسے اُس کاثواب ملے گا اوراُن کاثواب بھی اُسے ملے گا جواس کے بعد اس نئے طریقہ پرعمل کریں گے اوراُن عمل کرنےوالوں کےثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی۔(مسلم شریف)

احمدالقادری مصباحی
الاسلامی.نیٹ

www.al islami.net

مجاہد ملت کا سیاسی تدبر، احمد القادری مصباحی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْم

مجاہد ملت کا سیاسی تدبر

(ولادت ۸ ؍ محرم ۱۳۲۲ ھ بمقام دھام نگر، بالیسر اڑیسہ، وصال ۶؍ جمادَی الاولیٰ ۱۴۰۱ھ ۱۳؍ مارچ ۱۹۸۱ء، مزارمبارک، دھام نگر، اڑیسہ)

رئیس التارکین ،حضرت مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن ہاشمی عباسی رضوی علیہ الرحمہ، (رئیس اعظم اڑیسہ )بیک وقت بہت سی خوبیوں کے مالک اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے، بے پناہ جذبۂ خدمت اسلام اور اس پر مر مٹنے کا دل رکھتے تھے۔
خداوند کریم نے اپنے فضل سے کئی ایسی صفتیں آپ کے اندر ودیعت کررکھی تھیں، جن کا اجتماع شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ایک طرف تو وہ وقت کے رئیس اعظم اور کثیر مال ودولت کے مالک تھے، تو دوسری طرف فقر واستغناء اور زہد وتقویٰ میں بے مثل زمانہ ۔ ایک طرف شریعتِ اسلامیہ کے پابند عالم اور مسلمانوں کے مرشدِ روحانی تھے۔ اور دوسری طرف حکومت وسیاست میں بھی ملک وقوم کے عظیم رہنما۔ ایک طرف وہ مدرسوں اور خانقاہوں کے پاکباز علماء ومشائخ کے قائد اعظم تھے، تو دوسری طرف جیلوں کی کوٹھریوں میں بند بھی نظر آتے تھے ، ایک طرف عاجزی وانکساری کا یہ عالم کہ بڑے بڑے علماء، واسلاف تو درکنار چھوٹوں تک کی دست بوسی کرلیا کرتے تھے، تو دوسری طرف جرأت واستقلال کا یہ عالم کہ کسی جابر وظالم حکومت کے سامنے بھی، کبھی سرخم نہیں کیا۔
غرض کہ خداوند ذوالجلال نے ،بے پناہ خوبیاں آپ کے اندر بیک وقت پیدا کردی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ پوری قوم کے لئے سرمایۂ افتخار تھے۔ بہت سے بزرگانِ دین اور علمائے اسلام کی سیرتوں کا آپ نے مطالعہ کیا ہوگا۔ لیکن لباسِ فقیری میں رہ کر سیاسی میدان میں بھی فاروق اعظم (رضی اللہ تعالی ٰعنہ) کی یاد تازہ کرنے والے کم ہی افراد ملیں گے۔
آنے والی سطروں میں ان کے سیاسی تدبرہی پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔
سیاست سے مراد یزید کی سیاست نہیں، چنگیز و ہلاکو، کی سیاست نہیں، ظالم حکمرانوں کی سیاست نہیں، آج کل کی سیاست نہیں،جوتحصیل زر اور محض حکمرانی کے لئے ہوا کرتی ہے۔ بلکہ وہ پاکباز اور سچی سیاست مراد ہے، جسے تاجدار عرب وعجم ﷺ کی عملی زندگی نے پیش فرمائی۔ وہ سیاست،جس کی فاروق اعظم (رضی اللہ تعالی ٰعنہ) نے تدوین کی۔ وہ سیاست ، جس پر چل کرحضرت عمر بن عبدالعزیز (رضی اللہ تعالی ٰعنہ) خلیفۂ راشد کہلائے۔ وہ سیاست، جسے حضرت امام حسین(رضی اللہ تعالی ٰعنہ) نے اپنا کر، کربلا کی سر زمین پر افراد خاندان کے ساتھ اپنا لہو پیش کیا۔ وہ سیاست جس نے صلاح الدین ایوبی (علیہ الرحمہ)کو،ظالم عیسائیوں کے پنجوںسے، بیت المقدس فتح کرنے کو ابھارا تھا۔ وہ سیاست جس نے علامہ فضل حق خیرآبادی (علیہ الرحمہ)کو، انگریزوں کے خلاف عَلمِ جہاد بلند کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ وہ سیاست جس کی بنا پر مولانا عنایت احمد کاکوری (علیہ الرحمہ)نے ،انڈمان کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ وہ سیاست ،جو پوری دنیا کو امن کا پیغام دیتی ہے۔ وہ سیاست ،جسے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی (علیہ الرحمہ)نے عشقِ نبی ﷺ کی روشنائی سے لکھ کر ہمارے سامنے پیش کی۔ وہ سچی سیاست، جس کی بنا پر دنیائے کفر وضلالت، ان کو دشنام طرازیوں سے یاد کیا کرتی ہے۔ وہ سیاست ،جو سارے انسانوں کو، حق کا علمبردار بنادینا چاہتی ہے۔ وہ سیاست جو روئے زمین پر بسنے والوں کو، ظلم وستم سے باز رکھ کر، ایمان داری کے ساتھ ،اتحاد و یکجہتی کا نمونہ پیش کرنے کا حکم دیتی ہے۔ مجاہدِ ملت (علیہ الرحمہ) بھی اسی طرح کی سیاست کے علمبردار تھے۔
اس لحاظ سے یقینا مجاہد ملت (علیہ الرحمہ) ایک بڑے سیاسی مدبر تھے۔ ان کی عمیق فکر ونظر، ماحول کے ہرگردوپیش پررہا کرتی تھی۔ وہ ہر جماعت، ہر تنظیم، اور ہر پارٹی کے دستورِ اساسی پر، نظر رکھتے تھے۔ شریعت وملت کے خلاف ،کسی بھی پارٹی یا تنظیم کی ایک بات بھی، تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ چاہے اس میں ان کا دنیوی کتنا بڑا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی، کبھی اپنی کوئی باطل بات، نہ منواسکی۔
آزادیٔ ہند کے بعد دستور ِہند مرتب کیا گیا۔اس میں اقلیتوں کے تمام حقوق مساوی قرار دئے گئے۔ ہر اہلِ مذہب کو،اپنے مذہب کی ترقی اور اس پر عمل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا۔ یہاں تک کہ دستور ِہند کی رو سے ،ہندوستان کا وزیر ِاعظم یا صدر ہونے کے لئے بھی مذہب کی کوئی پابندی نہیں، کسی بھی مذہب کاہو، وزیرِ اعظمِ ہند یا صدر بن سکتا ہے۔ اگرچہ وہ اقلیت یا پسماندہ طبقہ سے کیوں نہ ہو۔لیکن جب نظر اٹھائی جاتی ہے، تو دستورِ ہند، بالائے طاق نظر آتا ہے۔لوگ اس پر عمل کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ گویا حکومت، ایک خاص فرقہ کی بن کر رہ گئی ہے۔اکثر ملازمتوں اور محکموں میں، مسلمانوں کو، نظر انداز کردیا جارہا ہے۔ اور فسادات کا ،ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ،شروع ہوگیا ہے۔ جس کے ذریعہ سے، مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ، توڑے جانے لگے۔ نہ ان کی عزت وآبرو محفوظ ہے، نہ جان ومال ، حتی کہ مذہب اور مذہبی شعائر پر بھی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ قانون ِ اسلام (مسلم پرسنل لاء) میں تبدیلی کرنے کی جرأت کا مظاہرہ کیا جانے لگا ہے۔ تو کہیں امن وانصاف کا درس دینے والے، قرآن عظیم کے خلاف زہر افشانی کی جانے لگی ہے۔
چوربازاری، فسادات اور رشوتوں کا، ہر طرف راج ہے۔ اس ماحول میں، مجاہدِ ملت (علیہ الرحمہ) نے، ظلم و فسادات کے خلاف آواز اٹھائی۔ حکومت کو جھنجھوڑا۔ارکانِ دولت کو للکارا ،کہ دیکھو تمہاری کوتاہیوں نے ، نوجوانانِ ہند کی ہزاروں لاشوں کو، خاک و خون میں تڑپا دیا۔ فسادات نے، ہزاروں عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنادیا۔ ابھی تمہیں ہوش نہیں؟
اس کی پاداش میںوہ کئی بار جیل گئے۔ لیکن اُس مرد مجاہد نے ہمت نہ ہاری۔ اور جبل ِمستقیم کی طرح ،اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ آخرکار انسدادِ فسادات کی خود تدبیر کی۔ انصاف پسند اہل وطن کو پکارا، جرأت مند قوم کو آواز دی، دیکھتے دیکھتے ہزاروں پروانے ’’خاکسارانِ حق‘‘ کے نام سے ، تیار ہوگئے۔
فسادات کی روک تھام، مظلومین کی مدد کرنا، ان کو ظالموں کے پنجوں سے نجات دلانا، وطن میں عدل وانصاف قائم کرنا، وطن میں فساد کراکر اس کی طاقتوں کو کھوکھلا کرنے والے فاسد مادوں سے وطن کو بچانا ’’خاکسارانِ حق‘‘ کا مقصد زریں ہے۔
ان کا یہ اقدام صرف اسٹیج پر زبانی نہیں رہا۔ بلکہ بہت سے مورچوں پر ’’خاکسارانِ حق‘‘ نے اپنی جرأت و دانشمندی سے فسادات کی روک تھام میں ،بڑا اہم کردار ادا کیا۔ کتنی سلگتی ہوئی چنگاریوں کو بجھایا۔ جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کا، سد باب کیا۔
مجاہدِ ملت (علیہ الرحمہ) کے بڑے بڑے کارنامے اپنی جگہ مسلم، صرف اسی ایک کارنامہ ہی پر غور کیا جائے تو اندازہ لگ جاتا ہے کہ مجاہد ملت (علیہ الرحمہ) کتنے دوراندیش اور مستقبل پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔ ان کے اندر انجام کو بھانپ جانے کا ملکہ تھا۔
کاش! اگر قوم نے ان کا اس میں بھرپور تعاون کیا ہوتا۔ توآج ہندوستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔ اہل ہند اپنی سر بلندی وانصاف پسندی پر فخر کرتے ۔
ذیل میں حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کی تشکیل دی ہوئی تنظیم، تحریکِ خاکسارانِ حق کے اغراض و مقاصد پر، ایک اجمالی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ جس سے حضور مجاہدِ ملت (علیہ الرحمہ) کی بالغ نظری، دور اندیشی اور قوم وملت کے تحفظ کی فکر مندی کا ،اندازہ ہوتا ہے۔
خاکسارانِ حق کے اغراض ومقاصد
(۱)تمام انسانی ضرورتوں کو حتی الوسع پورا کرنا، او رسیاسی، معاشرتی، تعلیمی، اخلاقی اور اقتصادی امور کی ٹھوس خدمت اور حفاظت کرنا۔
(۲) حقیقی جمہوریت کو، عملی شکل دینے کے لئے جد و جہد کرنا۔
(۳) پسماندہ اقوام کو، ان کے حقوق دلانے کے لئے، جد وجہد کرنا۔
(۴) انسانی بنیادوں پر، مساوات قائم کرکے، تعصب و نفرت ختم کرنا۔
(۵) عالمی امن اور انسانی تحفظ کی خاطر، جدوجہد کرنا۔
(۶) شرع مطہر کی روشنی میں، ملک کے آئینی اور حکومت کے تعمیری کاموں میں تعاون کرنا۔
(۷) ملک کے جوان طبقہ کے اخلاق وکردار کو بلند کرکے، ان کی جسمانی طاقت کو مستحکم کرنے ،نیز اطاعت گزارنظم پیدا کرنے کے لئے ،ایک صف میں کھڑا کرکے جسمانی ورزش پر آمادہ کرنا۔
(۸) برائیوں کو روکنا، بھلائیوں کو پھیلانا، مظلومین کی مدد کرنا، عبادت گاہوں اور مقابر کی حفاظت کے لئے، عملی جد و جہد کرنا۔
(۹) تحریک کے غیر مسلم سپاہیوں کو، اسلامی عبادات کے لئے مجبور نہ کیا جائے گا۔ بلکہ ان کو جُوا، شراب، بدکاری، بے حیائی، خود ترک کرنے اور دوسروں کو ترک کرانے کی ترغیب دینا۔ اطاعت ِامیر بہر حال لازمی ہوگی۔
(۱۰) بلا معاوضہ خدمت خلق کرنا۔
چنانچہ تحریک اپنے اغراض و مقاصد کے پیشِ نظر، شاخ در شاخ پھیلتی جار ہی ہے۔ اور حضور مجاہد ملت کے وصال کے بعد، بھی اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔
خاکساران حق کے علاوہ ان کی یادگاریں
آ پ اداروں کے منتظمین سے فرماتے آج زمین خرید لو ایک دن آئے گا پیسے ہوں گے زمین نہیں ملے گی ،چنانچہ انھوں نے خوب ادارے بنوائے، اور متعدد اداروںکے لئے بیش قیمت زمینیں خرید وائیں۔
چند اداروں کے نام
[۱] جامعہ حبیبیہ ، اتر سوئیا، الہ آباد
[۲] مسجد اعظم ، اتر سوئیا، الہ آباد
[۳] مکتبہ حبیبیہ الہ آباد
[۴]حبیب المطابع پریس
[۵]مدرسہ عربیہ غوث اعظم ، پانچپاڑہ، کلکتہ
[۶] اسلامی مرکز ، رانچی
[۷] مدرسہ قادریہ حبیبیہ بھدرک ، اڑیسہ
[۸] مدرسہ قاسمیہ ، دھام نگر ، اڑیسہ
[۹] مدرسہ حبیبیہ ، اڑیسہ
[۱۰] مدرسہ حنفیہ، غوثیہ بنارس

احمد القادری مصباحی

 

شہباز دکن علیہ الرحمہ، از احمد القادری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعزیت نامہ

پیر طریقت ،شہباز دکن ،حضرت مولانا مفتی قاری الحاج الشاہ محمد مجیب علی قادری رضوی نوری
خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، و حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
(ولادت: ۲۲ رجب ۱۳۷۴ ھ مطابق ۱۶ مارچ ۱۹۵۵ء بروز چہارشنبہ ۔ وصال: ۲۵ ذیقعدہ ۱۴۴۲ھ ۷ جولائی ۲۰۲۱ ء بروز چہار شنبہ ،بمقام: حیدآباد، دکن)
قابل صد احترام حضرت مولانا سہیل رضا رضوی صاحب ، مد ظلکم العالی

السلام عليکم و رحمۃ الله و برکاتہ
عزیز مکرم جناب عدنان عامر رضوی صاحب کی معرفت ،مبلغ اسلام، حضرت مولانا مفتی قاری محمد مجیب علی قادری رضوی نوری، علیہ الرحمہ کے وصال پرملال، اور دل کو ہلا دینے والی افسوسناس خبر موصول ہوئی،
انا للہ وانا الیه راجعون ، ہم اللہ کےمال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے (کنزالایمان)
موت العالِم موت العالَم ایک عالم ربانی کی موت، دنیا کی موت ہے۔
بلاشبہ حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ، امام اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہ کےسچے شیدائی، سنتوں کے بڑےپابند،عالم باعمل، عقائد و اعمال میں خوب متصلب، مسلک اعلی حضرت کے ایک بڑے داعی، اور اہل سنت وجماعت کے عظیم خطیب تھے، ملت اسلامیہ کی ترقی کے لئے ایک تڑپتا ہوا دل رکھتے تھے، اور تاحیات اسلام وسنت کی اشاعت کے لئے کوشاں رہے۔
حیدرآباد میں مرکز اہل سنت کا قیام، دارالعلوم فیض رضا، رضا جامع مسجد، مدرسۃ البنات فاطمہ وغیرہ وغیرہ ان کی بے لوث خدمات کا ثبوت اور بڑا کارنامہ ہے۔
حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ کے انتقال پر ہماری طرف سے آپ کو مع جملہ اہل خانہ اور مرکز اہل سنت وجماعت کے تمام ارکان و معانین کو تعزیت پیش ہے،
اللہ تعالی حضرت شہباز دکن علیہ الرحمہ کو غریق رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آپ کو اور تمام اہل خانہ ومتعلقین و مریدین و متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور اس پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ ملت اسلامیہ کو ان کا سچا جانشین اور نعم َالبدل عطا فرمائے۔ آمین ، بجاہ حبیبه سید المرسلین، علیه الصلوة والتسليم

احمد القادری رضوی نوری مصباحی
امام وخطیب نوری مسجدٹیکساس، امریکا
۲۸ ؍ذی قعدہ ۱۴۴۲ ھ

حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ، احمد القادری

مرشد حافظ ملت شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ‘
(ولادت ۲۲؍ ربیع الاخر۶۶ ۲اھ ؍ وصال ۱۱؍ رجب ۱۳۵۵ ھ)
احمد القادری بھیروی مصباحی

حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ ( ۱۳۰۴ ھ۱۸۹۴ء ؍ ۱۹۷۶ ء ۱۳۹۶ ھ)شیخ المشائخ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ ھ ؍ ۱۳۵۵ ھ ) کے دور طالب علمی ہی سے معتقد تھے، اسی عقیدت نے رفتہ رفتہ ترقی کرکے حافظ ملت کو حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہکے سلسلۂ بیعت وارادت میں داخل کردیا۔ اور دارالعلوم معینیہ عثمانیہ، اجمیر شریف کے زمانۂ طالب علمی میں حافظ ملت حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے دست مبارک پر سلسلۂ عالیہ قادریہ منوریہ میں بیعت ہوگئے۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ سے حضور غوث اعظم علیہ الرحمہ تک صرف چار واسطے ہیں (تفصیلی ذکر اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں) قلت وسائط اور علو سند میں دنیا کا کوئی سلسلۂ قادری اس سلسلۃ الذہب کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نے شوال ۱۳۵۲ھ میں دارالعلوم اشرفیہ کو بحیثیت صدرالمدرسین زینت بخشی، مبارکپور میں حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کا ورود مسعود قریباً ہر سال ہوا کرتا۔ حافظ ملت کے قیام مبارکپور کے دوران ایک بار حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کی آمد ہوئی تو انھوں نے حافظِ ملت کو خلافت دینا چاہی حافظ ملت کی منکسر ومتواضع طبیعت اور ’’خود راہیچ مداں‘‘ (اپنے کو کچھ مت سمجھو)والی عادت عرض کر اٹھی، حضور مجھ میں تو کچھ صلاحیت نہیں ہے خلافت کیسے لوں؟ جواباً حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہنے یہ امتیازی تمغہ عطا فرمایا ’’مرد حق را قابلیت شرط نیست‘‘ (مرد حق کے لئے قابلیت شرط نہیں)اور خلافت واجازت سے سرفراز فرمایا۔(بروایت استاذ محترم مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی)
حافظ ملت ہر سال جامع مسجد راجہ مبارک شاہ مبارکپور میں اپنے پیرومرشد علیہ الرحمہ کا عرس منایا کرتے، قرآن خوانی ، ایصال ثواب، اجلاس اور تقسیم تبرک کا اہتمام ہوتا اور آج بھی اسی روایت کے مطابق ۱۱؍رجب المرجب کو دن کے نصف اول میں یہ عرس وہیں منعقد ہوتا ہے جس میں اہل مبارک پور اشرفیہ کے علماء و طلبہ شریک ہوتے ہیں۔
نام ونسب: نام نامی اسم گرامی ’’علی حسین‘‘ کنیت ’’ابو احمد‘‘لقبِ خاندانی، شاہ، پیر ، شیخ المشائخ، اور اعلیٰ حضرت ہے خطاب سجادہ نشین سرکارِ کلاں اور تخلص اشرفی ہے اور جناب ممدوح کا خاندان بھی اشرفی کہلاتا ہے۔
شیخ المشائخ علیہ الرحمہ ۲۲؍ ربیع الاخر۶۶ ۲اھ بروز دو شنبہ بوقت صبح صادق پیدا ہوئے۔
آپ کا نسب: چوبیسویں پشت میں جاکر حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل جاتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے
حضرت مولانا سید شاہ علی حسین
(۱)ابن حاجی سید شاہ سعادت علی (متوفیٰ ۲۲؍ ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ)
(۲) ابن سید شاہ قلندر بخش
(۳)ابن سید شاہ تراب اشرف
(۴)ابن سید شاہ محمد نواز
(۵) ابن سید شاہ محمد غوث
(۶) ابن سید شاہ جمال الدین،
(۷)ابن سید شاہ عزیز الرحمن
(۸)ابن سید شاہ محمد عثمان
(۹) ابن سید شاہ ابوالفتح
(۱۰) ابن سید شاہ محمد
(۱۱) ابن سید شاہ محمد اشرف (متوفی ۹۱۰ھ)
(۱۲) ابن سید شاہ حسن (متوفیٰ۷۹۸ھ)
(۱۳)ابن سید شاہ عبدالرزاق نورالعین قدس سرہم (م ۸۷۲ھ مخدوم آفاق ، تاریخ وفات ہے) آپ حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں جن کی وفات ۸۰۸ھ میں ہوئی اور اشرف المومنین ، مادّۂ وفات ہے۔)
(۱۴)ابن سید عبدالغفور حسن
(۱۵) ابن سید ابوالعباس احمد
(۱۶) ابن سید بدرالدین حسن
(۱۷) ابن سید علاء الدین علی
(۱۸)ابن سید شمس الدین
(۱۹)ابن سید سیف الدین نجی
(۲۰) ابن سید ظہیرالدین احمد
(۲۱) ابن سید ابونصر محمد
(۲۲) ابن سید محمد الدین ابوصالح نصر
(۲۳) ابن قاضی القضاۃ سید تاج الدین خلف اکبر غوث الثقلین ،غیث الملوین
(۲۴) حضرت شیخ سید ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہم (م ۵۶۱ھ)
چونکہ شیخ المشائخ علیہ الرحمہ حضرت نورالعین قدس سرہ کے خلف اکبر سید شاہ حسن قدس سرہ کی اولاد سے ہیں اس لئے آپ کا خاندان سرکار کلاں یا بڑی سرکار سے بھی ملقب ہے۔
حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت سید شاہ سعادت علی علیہ الرحمہ بھی بہت قابل اور باکرامت بزرگ تھے۔ آپ سیدنا عبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمہ کی اولاد سے ہیں۔
جائے پیدائش: ضلع فیض آباد ۔ یوپی (ہندوستان ) کا مشہور قصبہ کچھوچھہ شریف آپ کی جائے ولادت ہے۔ یہ وہ مقدس و پاک سر زمین ہے جسے آج سے صدیوں پیشتر حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جائے قیام بنایا، اور قیامت تک کے لئے اپنا مسکن متعین فرمایا۔ اور اسے تمام اوہام واصنام سے پاک کر کے اپنا فیضان جاری فرمایا۔ جو بعد وفات بھی پورے ملک پر ویسے ہی جاری وساری ہے بلکہ اس سے فزوں ترجو حیات میں تھا۔ اس آستانۂ پاک پر امراضِ روحانی کی طرح آفات جسمانی اور سحر وآسیب سے بھی لوگ شفا یاب ہوتے ہیں۔ یہیں ہر سال ماہ محرم کی اٹھائیسویں تاریخ کو حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کا عرس مبارک بھی ہوتا ہے۔ جس میں ملک سے لاکھوں کی تعداد میں عوام وخواص ، اولیاء وصالحین، علماء ،طلبہ،امراء، وفقراء بھی شریک ہوتے اور فیض پاتے ہیں۔
(اگر چہ اس مبارک عرس میں بھی آج کل عوام کی طرف سےکچھ ایسی مذموم حرکتیں ہونے لگی ہیں جو خلافِ شرع اور سراسر ناجائز ہیں، مگر ان کی وجہ سے نفس عرس ناجائز نہیں ہوجائے گا، جیسے بعض شادی کی محفلوں میں بہت سے ناجائز امور کا ارتکاب ہوتاہے ، ان کی وجہ سے نفس نکاح ناجائز نہیں ہوجاتا )
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ اکثر وبیشتر فرمایا کرتے تھے کہ:
’’جس وقت میں بارگاہ سمنانی میں حاضر ہوا(۱) اس وقت سے اتنا روحانی فیض پہونچا اور پہونچ رہا ہے جس کو بیا ن نہیں کرسکتا ۔
بچپن: حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ بچپن ہی سے نیک سیرت عمدہ خصلت کے حامل اور اپنے تمام ہم عصر بچوں میں ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔
علوم ظاہری کی تکمیل: جب آپ کا سن شریف چار برس چار ماہ چاردن کا ہوا تو معمول خاندان کے مطابق مولانا گل محمد صاحب خلیل آبادی نے جو بہت بڑے اہل دل عارف کامل اور خدا کے مقرب بندے تھے بسم اللہ کرائی۔ اس کے بعد مولانا امانت علی صاحب کچھوچھوی نے فارسی کی درسی کتابیں پڑھائیں۔ پھر مولوی سلامت علی صاحب گورکھپوری اور مولوی قادر بخش صاحب کچھوچھوی سے تعلیم پائی غرض کہ سولہ سال کی قلیل عمر میں تمام علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی۔
بیعت وخلافت: ۱۲۸۲ھ میں اپنے برادر معظم حضرت مولانا شاہ ابو محمد اشرف حسین صاحب علیہ الرحمہ سے بیعت ہوکر خلافت واجازت حاصل کی
عقد مسنون: ۱۲۸۵ ھ میں حضرت سید شاہ حمایت اشرف بسکھاری کی دختر نیک اختر سے آپ کی شادی ہوئی۔
علوم باطنی کی تکمیل: بیعت وخلافت حاصل ہونے کے بعد ۱۲۹۰ھ میں آپ نے کامل ایک سال آستانۂ عالیہ اشرفیہ پر حسب ارشاد مشائخ کرام تارک الدنیا ہوکر چلہ کشی فرمائی، اور منازلِ عرفان اس طرح طے فرمائے کہ آپ کی ذات بابرکات سے آثار جہاں گیری نمودار ہونے لگے، محبوب یزدانی مخدوم سلطان سیداشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز کی دعا اور نظر کرم سے اس خاندان میں بڑے بڑے جلیل القدر بزرگ پیدا ہوئے۔ لیکن ایسا آفتابِ رشدوہدایت طلوع نہیں ہوا جس نے سلسلۂ اشرفیہ کا نام اتنا روشن کیا ہو۔ حضرت شیخ المشائخ کو بلا شبہ سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کا مجدد اعظم کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان وہندوستان ہی نہیں بلکہ بلاد اسلامیہ (شام ، عراق، مصر، حلب وغیرہ) کے طویل سفر فرماکر سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اشاعت فرمائی۔ بے شمار افراد سلسلۂ ارادت میں منسلک ہوئے بتایا جاتا ہے کہ آپ جادۂ شریعت پر بڑی سختی سے گامزن تھے۔ اربابِ حاجت کی حاجت رفع کرنا آپ کا جِبِلّیِ شعار تھا۔ کوئی سائل آپ کے در سے محروم نہیں گیا۔ آپ کا دسترخوان ہمیشہ وسیع رہا۔ آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔
اہل کشف ومشاہدہ اور مشائخ کرام کا بیان ہے کہ آپ ہم شکل محبوب سبحانی تھے، برکات باطنیہ کے علاوہ جمال صورت سے بھی آراستہ تھے، جس کو دیکھ کر مخالفین بھی معتقد ہوجاتے تھے۔ اور ماننا پڑتا تھا کہ

یہی نقشہ ہے ،یہی رنگ ہے، ساماں ہے یہی
یہ جو صورت ہے تری ، صورت جاناں، ہے یہی

’’حضرت شیخ المشائخ‘‘ محدث بریلوی کی نظر میں
اس جگہ امام اہل سنت مجدد دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی ( ۱۲۷۲ ھ ؍ ۱۳۴۰ ھ) اور شیخ المشائخ علیہما الرحمہ کے مابین جو محبت وعقیدت تھی اس کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے صاحبزادہ محدث اعظم ہند سید حسن مثنی انور صاحب ماہنامہ المیزان کچھوچھہ میں رقمطراز ہیں۔
شیخ المشائخ جب شہر بریلی میں رونق افروز ہوئے تو وہیں امام احمد رضا فاضل بریلوی سے ملاقات ہوئی اور پھر سلسلہ دراز ہوتا ہی گیا۔ دونوں بزرگوں نے ایک دوسرے کو بہت قریب سے دیکھا اور مراتب علیا سے واقف ہوئے شیخ المشائخ امام موصوف کے تبحر علمی اور دینی فہم وبصیرت کے بہت معترف تھے۔ اسی طرح امام احمد رضا علیہ الرحمہ حضرت شیخ المشائخ کی مشیخت اور جمال ظاہری وباطنی نیز روحانی کمالات کے دلدادہ تھے۔ (المیزان)
ایک بار شیخ المشائخ ، حضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے اور فاضل بریلوی (رضی اللہ عنہ)بغرض فاتحہ جارہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر شیخ المشائخ پر پڑی دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الہی تھے۔ اسی وقت برجستہ یہ شعر کہا ؎

اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں

اس شعر میں سہ محبوباں سے مراد
(۱)حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء
(۲)حضرت محبوب یزدانی مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی
(۳)حضور غوث اعظم
محبوب سبحانی رضی اللہ عنہم ہیں۔
ایک زمانے میں اس شعر کی مقبولیت علم وادب کی دنیا میں اس قدر تھی کہ اکثر علماء وشعرا نے تضمینیں لکھی تھیں اور فکر وخیال کے مختلف النوع پہلو دکھائے تھے ان میں سے ایک تضمین جو اسی دور میں شائع ہوکر مقبول ہوچکی تھی حضور محدث اعظم ہندقدس سرہ (۱۳۱۱ھ ؍۱۳۸۳ھ) کی ہے اور دوسری تضمین جانشین حضور محدث اعظم ہند مولانا سید محمد مدنی اشرفی جیلانی کے فکر سخن کا نتیجہ ہے ان شعری تحائف سے بطور نمونہ ہدیۂ ناظرین ہے۔
تضمین حضور محدث اعظم ہند قدس سرہ
اے زہے مظہر اخلاق حبیب رحمٰں
اے گلے منظر نورستہ غوث جیلاں
اے خوشازیب وہ جادۂ شاہ سمناں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
مورے داتا مورے مہراج گرو مور میاں
جگ کا دیکھا مدا کچھ اور ہے بتیاں تو نہاں
توری مہما کا بکھانت ہیں رضا شیخ جہاں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
شہزادۂ حضور محدث اعظم ہند ، (شیخ الاسلام)حضرت مولانا سید محمد مدنی اختر اشرفی مصباحی کی تضمین کا آخری بند اور مقطع حاضر خدمت ہے۔
تیرا سر ناز کرے جس پہ کلاہ عرفاں
تیرا در، آکے جہاں خم ہو نعیمؔ ۲؎دوراں
تیرے بازو کہ زمانہ ہے رہین احساں
اشرفی اے ر خت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ وپروردۂ سہ محبوباں
سجادہ نشینی: ۲۸؍ محرم الحرام ۱۲۹۷ھ کو زینتِ سجادہ مشیخت ہوئے اور خرقۂ خاندان جو حضرت مخدوم اشرف قدس سرہ کا عطیہ ہے زیب تن فرمایا۔
زیارت حرمین شریفین: آپ نے چار حج کئے پہلا حج ۱۲۹۳ھ میں ادا کیا، اس حج میں دربار رسالت مآب ﷺ سے بعض نعمتیں خاص طور پر حاصل ہوئیں۔ پھر تیس سال بعد دوسرا حج ۱۳۲۳ھ میں ادا فرمایا، اس میں بعض اذکار واشغال کی اجازت بھی مشائخ حرمین شریفین سے حاصل ہوئی۔ تیسرا حج مبارک چھ سال بعد ۱۳۲۹ ھ میں ادا کیا بعد زیارت مدینہ منورہ طائف شریف ، بیت المقدس ، ودیگر مقامات عالیہ شام، مصر ، عامہ شریف حمص شریف میں حاضر ہوکر وہ وہ نعمتیں حاصل کیں جن کی تفصیل کے لئے ایک لمبی کتاب در کار ہے۔ آخری حج وزیارت سے ۱۳۵۴ھ میں شرف یاب ہوئے۔ اس مرتبہ مذکورہ بالا دیار میں صدہا علماء ومشائخ داخل سلسلہ ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔
اوراد و وظائف: شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے باطنی علوم اپنے برادر بزرگ زائر الحرمین سید شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائے۔ (جن کو علاوہ خاندان اشرفیہ کے تمام مشائخ ہم عصر سے فیض صوری ومعنوی حاصل تھا) شغل وجودیہ اور بعض اذکار مخصوصہ کی تعلیم حضرت سید شاہ عمادالدین اشرف اشرفی عرف لکڑ شاہ کچھوچھوی قدس سرہ سے حاصل کی۔ حضرت لکڑ شاہ صاحب خاندان اشرفیہ میں مشاہیر مشائخ سے گذرے ہیں۔ اسی طرح دیگر اوراد و وظائف کی اجازت اکثر علماء ومشائخ ہند سے حاصل فرمائی۔ چنانچہ حضرت میاں راج شاہ صاحب (ساکن سوندھ شریف ضلع گڑگانواں پنجاب متوفی ۱۲؍ رمضان ۱۳۰۶ھ ) نے سلسلۂ قادریہ زاہدیہ کے ساتھ سلطان الاذکار ودیگر اشغال مخصوصہ کی اجازت دی اور ایک ’’دُوَنّی‘‘ عطا فرمائی۔
سلسلۃ الذہب: مولانا شاہ محمد امیر کابلی نے سلسلۂ قادریہ منوریہ کی اجازت سے نوازا، اس سلسلہ کو سلسلۃ الذہب کہتے ہیں جو عرفی طور سے چار واسطوں سے حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہونچتا ہے یعنی شیخ المشائخ کو حضرت شاہ محمد امیر کابلی سے ان کو حضرت ملا اخون رامپوری سے ان کو حضرت شاہ منورالہ آبادی سے جن کی عمر ساڑھے پانچ سو برس کی ہوئی ان کو حضرت شاہ دولا قدس سرہ سے ان کو حضور غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی سے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
اسی طرح سلسلۂ اویسیہ اشرفیہ کی تعلیم حضرت سید محمد حسن غازی پوری سے حاصل ہوئی ان کو شاہ باسط علی قادری سے ان کو شاہ عبدالعلیم بھیروی سے ان کو شاہ ابوالغوث گرم دیوان شاہ (متولی آستانہ بھیرہ ضلع اعظم گڑھ مدفون لہرا، مبارکپور) علیہ الرحمہ سے ان کو حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ سے ان کو خود حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے۔
خلافت سلسلۂ برکاتیہ: ان کےعلاوہ بہت سے اذکار واشغال کی اجازت حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی، آپ نے پھر کسی کو خلافت و اجازت نہیں بخشی، آپ ان کے خاتم الخلفاء ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر نعمات وبرکات مختلف واسطوں سے آپ کو حاصل ہوئیں ان کی تفصیل بہت طویل ہے مختصر یہ کہ آپ کی ذات جامع صفات وحسناتِ مشائخ کبار واکابر دیار وامصار کی نعمتوں اور سلاسل مختلفہ متعددہ کی برکتوں کا خزینہ ہے۔
ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ
تبلیغ اسلام: آپ نے تبلیغ اسلام کا بہت بڑا کام انجام دیا لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو صراط مستقیم پر گامزن فرمایا اور روحانی فیض پہونچایا۔ آپ کی تقریر نہایت مؤثر ہوتی تھی۔ مواعظ میں جس انداز سے آپ مثنوی پڑھتے وہ بے نظیر تھا۔ ساتھ ہی بہت سی مسجدوں ، اور مدرسوں کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دم تک اس کے تحفظ وبقا کے لئے کوشاں رہے۔ مثلاً مدرسہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد اعظم گڑھ، مدرسہ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ، اسی طرح بہت سے مدارس قائم فرمائے۔یہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مایۂ ناز درسگاہ دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کا سنگ بنیاد انھیں کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا اور پوری عمر دارالعلوم کو اپنی روحانی عظمتوں سے فیض پہونچایا۔اس وقت سے لے کر آخر عمر تک آپ نے دارالعلوم اشرفیہ کی سر پرستی قبول فرمائی۔ اس ادارہ کی تمام خدمات آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔
نمونۂ کلام اشرفی: شیخ المشائخ کا دربار میکدۂ عرفان وآگہی بھی تھا جہاں بادہ گساران طریقت کا ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا۔ متقدمین صوفیہ کی روش پر فارسی، اردو، ہندی، میں فکر سخن بھی فرماتے تھے۔ آپ کے محبوب مرید اور مشہور مبلغ اسلام، میر غلام بھیک نیرنگ، وکیل انبالہ نے دیوان عرفان ترجمان کا مجموعہ بنام تحائف اشرفی ۱۳۳۳ھ میں مرتب کرکے شائع کیا۔ سبحان اللہ کیا کلام عرفان نظام ہے ایک ایک لفظ اثر میں ڈوبا ہوا، زبان شیریں،بیان رنگیں، مگربایں ہمہ تصنع سے مبرا، تکلف سے معرا ہے۔ عندلیبان گلشن قال کے زمزمے کچھ اور ہوتے ہیں بلبلان حال کے چہچہے کچھ اور ، وہاں زیادہ تر قوا ئے عقلیہ سے خطاب ہوتا ہے یہاں سراسر قلب وروح کی جانب توجہ، وہاں اصول بلاغت کی پابندی میںکوہ کندن وکاہ برآوردن ہوتا ہے یہاں باتباع سنت، وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ ، کوئی کہلاتا ہے، تو کہتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں نتیجہ یہ کہ۔؎
شعر می گویم بہ از آب حیات
من ندانم فا علاتن فاعلات
اب یہاں فارسی، اردو، اور ہندی اشعار کے ایک ایک نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔
کلام فارسی
عمر ہا جلوۂ او جست نگاہم پیدا
کرد آئینۂ دل ، صورت ماہم پیدا
کعبہ و دیر زآوار گیم تنگ آمد
نیست در عشق، مگر جائے پنا ہم پیدا
مگذار از رہِ الطاف کہ ایں شیوۂ تست
گرچہ صد فتنہ نمایند گنا ہم پیدا
حال بیتابی دل از من بیمار مپرس
کہ شرر ہا شود از سوزش آہم پیدا
فشم گریاں دل سوزاں رخ زرد وتن زار
در رہِ عشق تو گشتند گو اہم پیدا
اشرفی ذلت ورسوائی کوئے خوباں
کرد در ہر دو جہاں عزت وجا ہم پیدا
کلام اردو
چشم جاناں ہے شبیہِ چشم آہو، ہوٗ بہو
عنبریں ہیں کاکلیں شب رنگ کے موٗ موٗ بمو
مست ہوگا ایک عالم مثل آہوئے ختن
اے صبا مت کر پریشاں بوئے گیسو، مو بسوٗ
عشق سر وقد جاناں میں ہے عاشق کا یہ رنگ
کررہا ہے فاختہ کی مثل کوٗ کوٗ کوٗ بہ کوٗ
قتل کاگر ہے ارادہ دیر کیوں کرتے ہیں آپ
دیکھئے موجود ہے یہ تیغ ابروٗ رو بروٗ
اشرفی اللہ سمجھے ان بتوں کے ظلم سے
آنکھ دکھلانے ہی میں کرتے ہیں جادو دو بدوٗ
کلام ہندی
یہ کلام ہندی مکہ معظمہ میں ۱۲۹۴ھ سفراول میںکہا گیا تھا۔
درشن بنا من کیسے مانے داتا کے گھر جائے من کیسے مانے
نرگن جان پیاہیں چتوت جیا مورا جات لجائے۔ من کیسے مانے
گنونتی درشن مدھ ماتی دھن بوری پچھتائے۔ من کیسے مانے
سائیں مونہہ نراس جن پھیرو اپنے دوار بلائے من کیسے مانے
راہ تمہارا اشرفی جو ہت تمپر دھیان لگائے۔
وفات: ۱۱؍رجب ۱۳۵۵ ھ کو ہزاروں حاضرین آپ کے ساتھ ذکر جہر میں شریک تھے، کہ آپ نے کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے نوے سال کی عمر میں جان ، جان آفریں کے حوالے کردی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مریدین وخلفاء وصال کے وقت آپ کے ۲۳لاکھ مریدین اور ساڑھے تیرہ سو خلفاء تھے۔
مزار مبارک کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد میں حضرت مخدوم علیہ الرحمہ کے روضۂ پاک کے قریب ایک چبوترے پر واقع ہے۔ جہاں اہل دل حاضر ہوکر فیوض وبرکات حاصل کرتے ہیں۔
اولاد وامجاد: اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں اپنے اولیاء کاملین کو ہر قسم کے علم وفضل سے نوازتا ہے، اسی کے ساتھ ان کی ہر طرح سے آزمائش وابتلا فرماتا ہے، کبھی افعال وکردار سے، کبھی مصیبتوں اور مشقتوں میں صبر سے کبھی ازواج و اولاد کی موت سے غرض کہ جس طرح خداوند کریم چاہتا ہے آزماتا ہے۔
اسی طرح شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کو جہاں بہت سی مصیبتوں اور مشقتوں کو برداشت کرنا پڑا ساتھ ہی اپنی پہلی زوجہ محترمہ جو بہت نیک طینت اور پاکیزہ صفات کی حامل تھیں، اور اپنے جوان بیٹے کی موت بھی دیکھنی پڑی مگر آپ کے پائے استقلال ، اور صبر وشکر میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔
سید احمد اشرف علیہ الرحمہ:پہلی بیوی سے ایک فرزند تولدہوئے جن کا نام نامی سید احمد اشرف ہے۔ آپ کی ولادت طیبہ ۴؍شوال المکرم ۱۲۸۶ ھ بروز جمعہ ہوئی، مولانا ابوالمحمود سید شاہ احمد اشرف ، مادہ تاریخ ولادت ہے۔ آپ جہاں ظاہری شکل وصورت میں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے وہیںباطنی کمالات میں بھی انھیں کے جانشین تھے۔۱۳۴۳ ھ میں وصال فرمایا۔ موجودہ سجادہ نشین سرکار کلاں حضرت مولانا سید مختار اشرف صاحب قبلہ انھیں کے صاحب زادے ہیں۔ آپ کے دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ مصطفی اشرف علیہ الرحمہ ہیں۔ آپ ذیقعدہ ۱۳۱۱ ھ میںپیدا ہوئے اور ۱۷؍ربیع الاول ۱۳۹۱ھ میں رحلت فرماگئے حضرت کے دو مشہور صاحبزادے حضرت مولانا سید مجتبیٰ اشرف (۳؎)اور حضرت مولانا سید حامد اشرف صاحبان (۴؎) ہیں، یہ دونوں حضرات حضور حافظ ملت کے ممتاز شاگردوں میں ہیں۔ اول الذکر تبلیغ وارشاد میں ممتاز اور آخرالذکر بمبئی کی سر زمین پر دارالعلوم محمدیہ کے مؤسس ومحرک اور شیخ الحدیث ہیں۔
حضرت شیخ المشائخ اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی شفقتیں جو حضور حافظ ملت پر تھیں اس کا واضح ثبوت آج بھی ان کے شہزادوں میں موجود ہے۔ حافظ ملت عمر بھر اپنے مرشد کامل کے وفادار رہے اور اس خانوادہ ٔمقدسہ کے ایک ایک بچہ سے اپنی گہری وابستگی اور دلی تعلق کا ثبوت موجود ہ دور میں علمائے کچھوچھہ شریف کی نوجوان نسل ہے۔
(بحوالہ صحائف اشرفی ، تحائف اشرفی وغیرہ)
حواشی
(۱ )اس حاضری کی تقریب یوں ہے کہ غالباً ۱۳۹۲ھ ؍۱۹۷۲ء میں قصبہ کچھوچھہ شریف کےکچھ لوگوں نےحافظ ملت علیہ الرحمہ کوایک اجلاس کی دعوت دی، حضرت نےدعوت منظور فرمائی اورکچھوچھہ شریف میں جلسہ کا اعلان ہوگیا، پھرکسی وجہ سے جلسہ منسوخ ہوگیا،منتظمین نےمبارک پور اجلاس کی منسوخی کا ٹیلی گرام کیا مگر حافظ ملت سفرپرتھے اورسفر سے واپسی میں براہ راست کچھوچھہ شریف پہنچ گئے۔مگر منتظمین جلسہ کچھ اونچے لوگوں کےدباؤمیں تھے، تیار نہ ہوئے، بسکھاری میں حضرت مولاناسید ظفرالدین اشرف صاحب،سجادہ نشین ومتولی آستانۂ مخدوم سمنانی کومعلوم ہواتو وہ حضرت کواپنے گھر لے گئے اوردوسرے دن کچھوچھہ شریف میں خاص آستانۂ مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ پر حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی تقریر کرائی اور بعد تقریر ایک صالح مرد حضرت کےدست اقدس پربیعت ہوئے جوآستانہ پاک کی مسجد میں معتکف تھے۔ اس کےبعد حضرت مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ کافیض کچھ اس طرح جاری ہوا کہ حافظ ملت علیہ الرحمہ جہاں پہنچتے بکثرت حضرات داخل سلسلہ ہونے کےلیےٹوٹ پڑتے اورآستانہ کے زینہ پر توبیک وقت سیکڑوں کی تعداد میں لوگ بیعت ہوئے باوجودیکہ لوگوں کواس کےلیے آمادہ بھی نہ کیاجاتا ،بلکہ حضرت تواس طرح کی اپیل کےسخت مخالف تھے، چنانچہ بہار کے کوٹام نامی ایک مقام پر بعض مخلصین نے اجلاس میں حافظ ملت سے مرید ہونے کی طرف لوگوں کومتوجہ کیا اس وقت حافظ ملت اپنی تقریر ختم کرکے قیام گاہ تشریف لے جارہے تھے یہ آواز سنی توراستہ سے واپس ہوئے اورمائک پرآکر بڑے جلال میں ارشاد فرمایاکہ میں کوئی پیشہ ور پیر نہیں، نہ ہی اپنی پیری مریدی کےلیےاس طرح کی اپیل پسند کرتاہوں، یہ میرا کوئی کاروبار نہیں، میرے لیےاس طرح کااعلان ہرگز نہیں ہونا چاہیے مگر فیضان مخدوم سمنانی کو کون روک سکتاہے اسی کوٹام نامی مقام پر قریباً ڈیڑھ سو افراد حافظ ملت علیہ الرحمہ کےدست پاک پر تائب ہوکر داخل سلسلہ ہوئے والحمدللہ رب العالمین۔
(بروایت حضرت مولانامحمداحمد صاحب مصباحی بھیروی)
[مطبوعہ،حافظ ملت نمبر ،ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور، رجب، شعبان، رمضان ۱۳۹۸ ھ جون جولائی اگست ۱۹۷۸ ء]
(۲) نعیم دوراں: صدر الافاضل، حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ (ولادت ۲۱ صفر ۱۳۰۰ھ ، یکم جنوری ۱۸۸۳ء پیر ؍ وفات: ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۶۷ ھ ۲۳ ؍اکتوبر ۱۹۴۸ ء جمعہ)
(۳) حضرت مولانا مجتبیٰ اشرف علیہ الرحمہ ( آپ کی ولادت ، ۲۶؍ ربیع الاخر ۱۳۴۶ھ مطابق ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو کچھوچھہ شریف میں ہوئی۔ اور ۲۱؍ ذی القعدہ ۱۴۱۸ھ مطابق ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۸ء بروز جمعہ ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے)
(۴)حضرت مولانا حامد اشرف علیہ الرحمہ (ولادت ۱۳۴۹ھ ۱۱ جولائی ۱۹۳۰ ء ؍ متوفیٰ ۱۸ ؍ صفر ۱۴۲۵ ھ ۹ ؍اپریل ۲۰۰۴ ء بروز جمعہ)

احمد القادری
الاسلامی۔نیٹ
www.al islami.net (AL ISLAMI.NET)

مینو