نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلیٰ رَسُوْلِہ الْکَرِیم
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِ ھِم یَعنِی یَومُ فِطْرِھِمْ بَاھٰی بِھِمْ مَلَآئِکَتَہُ (مِشکٰوۃ شریف)
عید الفطر کے دن اللہ (ذاکر) بندوں کے ساتھ فرشتوں میں فخر فرماتا ہے۔
عیدکےاحکام وآداب
عیدکےدن اپنے اہل وعیال اور دیگر قرابت داروںکےساتھ بھلائی سے پیش آنا،اورٹوٹےتعلقات کوجوڑناہے کہ عیدکی صبح فرشتے تمام راستوں کےکنارے کھڑے ہوکر مسلمانوں کوگناہوں کی معافی ،رب تعالیٰ کی رضا اوراس کی عطاوبخشش کی خوش خبری سناتے ہیں، عیدکےدن حجامت بنوانا،ناخن ترشوانا،غسل کرنا،مسواک کرنا، نیایادُھلاہوا اچھالباس پہننا،خوشبولگانا،نماز فجر محلےکی مسجد میں اداکرنا،عیدگاہ جلدآنا،نمازعیدکےلیےایک راستے سے آنا اوردوسرےسے واپس جانا، یہ سب باتیں عیدکی سنتیں اور مستحبات سے ہیں۔
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے:

وَکَانَ رَسُوْل اللہ ﷺ إذَاْخَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِفِی طَرِیْقٍ، رَجَعَ فِیْ غَیْرِہِ
(سنن الترمذی، أبواب العیدین، ر۵۴۱،ص:۱۴۲)

”رسول اللہﷺ نماز عیدکے لیے ایک راستے سے جاتے اوردوسرے سے واپس تشریف لاتے“۔
ایک راستے سے جانے اوردوسرے سے واپسی میں بہت سی حکمتیں ہیں(۱) حضور نبی کریم ﷺ ایک راستے سے عید گاہ کوجاتے اوردوسرےسے واپس آتے، تاکہ دونوں راستوں کوبرکت حاصل ہوجائے،(۲)دونوں طرف کےلوگ آپ ﷺ سےبروزِ عیدبھی فیض پائیں۔(۳)ہرطرف کےمنافقین وکفارمسلمانوں کی کثرت کودیکھ کردبے رہیں۔(۴)راستوں میں بھیڑ کم ہو (۵)دونوں راستوں کےفقراپرخیرات ہوجائے۔(۶)اہل قرابت کی قبورجوان راستوں میں واقع ہیں ان کی زیارت ہوجائے۔ (۷) اور دونوں راستے ہماری نماز وایمان کے گواہ بھی بن جائیں۔
(مراءۃ المناجیح، عیدین کی نماز کاباب، پہلی فصل، تحت ر، ۱۴۳۴،۲/۳۵۶ بتصرف)
نمازعیدمسجدمیں ہوچاہےعیدگاہ میں،وہاں تک پیدل جانا(گاڑی میں یاسواری پرجانابھی جائزہے) نماز عیدکےلیے اطمینان و وَقار اورنگاہ کچھ نیچی کیےہوئے جانا، آپس میں ایک دوسرے کومبارک باد دینا، یہ باتیں بھی عید کی سنتوں اور مستحباب میں سے ہیں۔
نماز عیدسے پہلے کچھ کھالینا:
عزیز دوستو! نمازِ عید کوجانے سے پہلے،طاق عدد میں چند کھجوریں کھالینا سنت ہے، ناشتہ بھی کیاجاسکتاہے، کھجوریں نہ ہوں تو کوئی بھی میٹھی چیز کھالینی چاہیے۔حضرت سیدنابریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

کَانَ النَّبِیُّﷺ لَاْیَخْرُجْ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی یَطْعَمَ۔
(سنن الترمذی ابواب العیدین ، ر:۵۴۲ص:۱۴۲)

”عیدالفطرکےدن جب تک حضور نبیِ رحمت ﷺ کچھ کھانہ لیتے،عیدگاہ کوتشریف نہ لےجاتے“۔
اذان اوراقامت کےبغیر عیدین کی نماز:
نماز عیدکےلیے نہ اذان ہوتی ہے، نہ اقامت کہی جاتی ہے، حضرت سیدنا جابر بن سمُرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ العِیْدَیْنِ غَیْرَمَرَّۃٍ وَلَاْمَرَّتَیْنِ،بِغَیْرِأذَانٍ وَلَاْإقَاْمَۃٍ۔
”میں نے بارہا عیدین کی نماز نبیِ کریم ﷺ کےساتھ اذان اوراقامت کے بغیر اداکی“۔
لہٰذاصحابۂ کرام وتابعین عظام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کااسی پر عمل رہا، کہ عیدکی نماز اورنوافل کے لیے اذان نہ دی جائے۔
(سنن الترمذی،ابواب العیدین، ر:۵۳۲،ص ۱۴۰)
عیدکادن عظمت ورفعت کےساتھ ساتھ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کی مہمانی انعام واکرام اورگناہوں کی بخشش کادن بھی ہے، اس دن روزہ رکھناگناہ ہے۔ عیدکےدن خوشی کااظہاراسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے۔اس دن ملائکہ راستوں میں کھڑے آواز دیتے ہیں کہ”اے مسلمانو! آج تمہاری دعو ت کادن ہے“ کیوں کہ کل تک تواللہ تعالیٰ نےتمہیں روزے کاحکم دیاتھا، لہٰذاتم نےروزے رکھے، عبادت کی۔نماز عید کےبعد صدا کی جاتی ہے کہ سن لو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہ معاف فرمادیے ہیں! تم خوشی خوشی اپنے گھروں کولَوٹ جاؤ! کہ آج کادن تمہارے لیے انعام واِکرام کادن ہے۔
( شعب الایمان،۲۳۔ باب فی الصیام، ر:۳۶۹۵/۳ ۱۳۶۲ بتصرف۔)
لہٰذا ہمیں بھی عیدکےدن زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ بجالانے ہیں،ضرورت مندوں کاخیال رکھناہے اورسب کےساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آناہے۔
عیدخوشی وفرحت کادن ہے:
عزیز دوستو! ہمیں اللہ تعالیٰ نے بےشمار انعام واکرام سے نوازا ہے، عیدالفطر پورے جوش وجذبہ سے مَنانی ہے کہ یہ ہماری یک جہتی کی عظیم مثال ہے، جورہتی دنیاتک قائم رہے گی، ان شاء اللہ ۔ مسلمان اسلامی اصول وضوابط کے مطابق عیدکی خوشیاں منائیں گے۔ عید کادن خوشی وفرحت، رشتہ داروں سے حسن سلوک، دوستوں اورپڑوسیوں سے ملاقات اورغریب ومستحقین کی مدد کادن ہے کیوں کہ باہمی میل ملاپ وہم دردی سے محبت بڑھتی ہے، دلوں کی کدورتیں دور ہوتی ہیں، مصافحہ (ہاتھ ملانے) سے گناہ جھڑ تے ہیں، رحمت عالمیاں ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَان إِلَّا غُفِرَلَھُمَا قَبْلَ أَنْ یَفْتَرِقَا
(سنن أبی داؤد،کتاب الادب، باب فی المصافحۃ،ر:۵۲۱۲،ص۷۳۱)

”دومسلمان آپس میں ملتے اورمصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے“۔
عیدکےدن ہرجائز طریقہ سے خوشی کااظہار کرناچاہیے ایک دوسرے کومبارک باد دینا، اورآپس میں مصافحہ ومعانقہ بھی کرناچاہیے کہ مصطفیٰ جان رحمت ﷺ نےمعانقہ کےبارے میں فرمایا:
تَحِیَّۃُ الْأمَمِ وُدُّھُمْ،وَصَالِحٍ وَدَعٍ، وَإِنَّ اَوَّلَ مَنْ عَانَقَ خَلِیْلُ اللہِ إِبْرَاہِیْمُ
مختلف اقوام کاسلام ان کاآپس میں اظہار محبت اوران کی اچھی دوستی ہواکرتی ہے،یقینا سب سے پہلے معانقہ کرنے والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں“۔
لہٰذا عیدکےدن جائز طورپر اظہارِ خوشی، مصافحہ ومعانقہ، رشتہ دار،عزیز واقارب اوردوست واحباب کی دعوت وغیرہ بھی بہترین خوشی ومسرت کااظہار ہے۔
عید کادن خوشی کادن ہے:
عیدکادن خوشی کادن ہے اس دن اعمال صالحہ کی کثرت کے ساتھ ساتھ خوشی کے اظہار کابھی حکم دیاگیاہے۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے، اُس زمانے میں اہلِ مدینہ سال میں ۲؍دن خوشی منایاکرتے تھے۔ مصطفیٰ جان رحمت ﷺ نے فرمایا: مَاھَذَانِ الْیَوْمَانِ؟ یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے عرض کی کہ زمانۂ جاہلیت سے ہم ان دنوں میں خوشی مناتے آئے ہیں فرمایا:

إِنَّ اللہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْراً مِنْھُمَا(۱) یَوْمَ الْأَ ضْحَی(۲) وَیَوْمَ الْفِطْرِ
(سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،ر:۱۱۲۴،ص:۱۷۰)

”اللہ تعالیٰ نے اُن دو دنوں کےبدلے ان سے بہتر دو دن تمھیں عطافرمادیے ہیں،(۱) یوم اضحی(۲) اوریوم فطر“۔
عید کےدن ، دیگر لوگوں کے ساتھ، خصوصاً اپنے اہل وعیال کےساتھ خوشی کااظہار کرنابھی ضروری ہے۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میرے ہاں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اس وقت انصار کی دو بچیاں میرے پاس و ہ اشعار گارہی تھیں، جوانصار نےکہےتھے، حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:کیارسول اللہ ﷺ کے گھر میں گیت گائے جارہے ہیں؟ وہ عید کادن تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

یَاأبَابَکْرٍ إِنَّ لِکُلَّ قَوْمٍ عِیْدًا وَھَذَا عِیْدُنَا
(صحیح البخاری، کتاب العیدین،ر:۹۵۲،ص:۱۵۳)

”اے ابوبکر ! ہرقوم کےلیےایک عید ہوتی ہے اورآج ہماری عید ہے“۔
نماز عید کاطریقہ
پہلی رکعت:
نماز عید کی ادائیگی واجب ہے اوراس کاطریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز عیدالفطرواجب کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اوراللہ اکبر کہہ کرناف کےنیچے باندھ لیں ،پھرسب آہستہ سے ثنا پڑھیںپھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کرتکبیر یعنی”اللہ اکبر“ کہہ کرہاتھ چھوڑدیں،پھر اسی طرح دوسری بار بھی کانوں تک ہاتھ اٹھائیں”اللہ اکبر “ کہہ کر ہاتھ چھوڑدیں، تیسری بار پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور ”اللہ اکبر“ کہہ کر ہاتھ باندھ لیں(یہاں ایک قاعدہ یاد رکھ لیجیے کہ جہاں تکبیر یعنی اللہ اکبر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھتے ہیں اور جہاں کچھ نہیں پڑھنا وہاں ہاتھ چھوڑدیتے ہیں) اب امام صاحب آہستہ سے تعوذوتسمیہ یعنی اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کربلند آواز سے سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں گے۔ مقتدی حضرات اس دوران خاموش رہیں گے کیوں کہ مقتدی پر خاموشی واجب ہے، قراءت مکمل کرنے کےبعد رکوع وسجود کریں گے اور دوسری رکعت کےلیے کھڑے ہوجائیں گے۔
دوسری رکعت:
دوسری رکعت میں پہلےقراءت ہوگی یعنی سورہ فاتحہ وسورت پڑھی جائیں گی،پھر رکوع میں جانے سے پہلے تین تکبیریں ہوں گی جیسے پہلی رکعت میں تھیں، یعنی پہلی دوسری اور تیسری تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دیں گے اور چوتھی تکبیر میں بغیر ہاتھ اٹھائے صرف ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے رکوع میں چلے چائیں گے اور نماز پوری کرکے سلام پھیر دیں گے۔
(بہار شریعت ،حصہ چہارم ،عیدین کابیان ،جلد:۱،ص:۷۸۱،۷۸۲ ملتفطاً بتصرف)
نماز کےاختتام پر دو خطبے پڑھے جائیں گے ،خطبے میں فطرہ کےاحکام بتائے جائیں گے جیسے جمعہ اور نکاح کاخطبہ سننا واجب ہے اسی طرح عیدین کا خطبہ سننا بھی واجب ہے، اس کے بعد دعا ہوگی اورپھر سب لوگ آپس میں عید ملیں گے اورایک دوسرے کومبارک باد پیش کریں گے۔
بہ شکریہ
ادارۂ اھل سنت ، کراچی ، پاکستان
واعظ الجمعہ عیدا لفطر بتصرف
یکم شوال 1442ھجری
13 مئی 2021
الاسلامی.نیٹ
www.alislami.net (AL-ISLAMI.NET)
مزید
مینو